جمعہ, اکتوبر 18, 2013

مکہ مکرمہ سے متعلق چند سائنسی انکشافات


اسلام کے جملہ احکام کو اپنی محدود عقل کے پيمانہ سے ناپنا صحيح نہيں ہے ، ”ہر حکم اور ہر مسئلہ کا محسوس ومادی فائدہ اگر انسان کے علم ميں نہ آئے تو بھی سمع وطاعت کے جذبہ ميں فرق نہيں آنا چاہئے کيوں کہ ہر جگہ عقل کی غلامی بہتر نہيں“ علامہ اقبال نے کہا تھا 
اچھا ہے دل کے ساتھ عقلرہے پاسبان 
  ليکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

البتہ يہ ايک اٹل حقيقت ہے کہ اللہ تعالی کا کوئی بھی حکم مصلحت سے خالی نہيں ہوتا۔ يہ الگ بات ہے کہ ہماری کوتاہ بيں نگاہيں اس کی تہہ تک نہ پہنچ سکيں۔ تو آئيے آج ہم جديد انکشافات کی روشنی ميں مکہ مکرمہ کی جغرافيائی حيثيت اور مقامات مقدسہ سے متعلق بعض سائنسی حقائق کی معلومات حاصل کرتے ہيں ۔

مکہ مکرمہ مرکز عالم ہے:

اس وقت دنيا محو حيرت رہ گئی جب 1977 عيسوی ميں ايک جديد سائنسی انکشاف سامنے آيا کہ مکہ مکرمہ کرہارضی کے بری حصہ کے بالکل وسط ميں واقع ہے ۔ اس تحقيق کا سہرا ايک مسلمان سائنسداں ڈاکٹر حسين کمال الدين کے سر جاتا ہے ۔ جب انہوں نے تحقيق کاآغازکيا تو ان کا مقصد بالکل مختلف تھا، وہ ايک ايسا وسيلہ تيار کرنے کی فکرميں تھے جودنيا کے ہر کونے ميں سمت ِقبلہ کی تعيين ميں معاون بن سکے۔ اس غرض سے انہوں نے کرہارضی کا ايک جديد جغرافيائی نقشہ تيارکيا اور تحقيق شروع کی، اپنی ابتدائی تحقيق ميں پہلی لکير کھينچی اور اس پر پانچ براعظموں کا نقشہ بنايا ،پھرہاتھ ميں پرکار لے کر اس کے ايک کنارہ کو مکہ مکرمہ کے نقشے پررکھا اور دوسرے کنارے کو سارے براعظموں کے اطراف گھمايا تو غيرارادی طورپر يہ نئی تحقيق ان کے سامنے آگئی کہ سطح زمين کا خشک حصہ مکہ مکرمہ کے اردگرد نہايت منظم انداز ميں بنٹاہواہے اور مکہ مکرمہ ان سب کے وسط ميں واقع ہے۔ پھرانہوں نے عالم قديم يعنی امريکہ اور آسٹريليا کے پتہ لگنے سے قبل کا نقشہ بھی تيار کيا اور دوبارہ کھوج شروع کی توا س ميں بھی اس نتيجے پر پہنچے کہ مکہ مکرمہ عالم قديم ميں بھی سطح ارضی کے بالکل وسط ميں واقع تھا۔
محترم قارئين! يہيں پرہميں يہ نکتہ سمجھ ميں آتا ہے کہ اسلام چوں کہ آفاقی مذہب ہے ،محمد صلي الله عليه وسلم کی بعثت پوری انسانيت کے ليے ہوئی ہے، اورقرآن جملہ بنی نوع انسان کی ہدايت کا سرچشمہ ہے اسليے ضرورت تھی کہ

٭ مکہ مکرمہ جيسی سرزمين ہی عالمی رسالت کا گہوارہ بنے تاکہ يہ عالمی پےغام پوری دنيا ميں بآسانی پھيل سکے۔

٭کعبہ ہی سارے مسلمانوں کا قبلہ بنے تاکہ ہرچہار جانب سے مسلمان نمازميں اس مرکزی مقام کی طرف منہ کرکے اتحاد کا ثبوت ديں۔

٭حج کا سالانہ اجتماع اس مرکزی جگہ پرہو تاکہ دنيا کے کونہ کونہ سے حجاج کرام کے قافلے اپنے مرکزی مقام پر اکٹھا ہوکر اجتماعيت کا ثبوت فراہم کريں۔

مکہ مکرمہ مقناطيسی سرزمين:

مکہ مکرمہ کے تعلق سے دوسرا سائنسی انکشاف يہ سامنے آياہے کہ کرہارضی ميں سب سے زيادہ کشش، جاذبيت، اور مقناطيسيت رکھنے والی سرزمين مکہ مکرمہ ہی ہے ۔ يہ تحقيق ايک امريکی سائنسداں کی ہے جوبيسويں صدی کے وسط ميں منظرعام پر آئی ۔ اس نے علم ٹوبوگرافی ميں مذہبی قصد سے بالاتر ہوکرکرہارضی ميں سب سے زيادہ کشش رکھنے والی سرزمين کی کھوج شروع کی اوراپنی لےبارٹری ميں شب وروز ايک کرنے کے بعداس نتيجے پر پہنچا کہ سطح ارضی پر سب سے زيادہ کشش رکھنے والی سرزمين مکہ مکرمہ ہی ہے۔

اور يہ فطری کشش دراصل باری تعالی کے اس ارشاد کی تصديق کرتی ہے- واذجعلنا البيت مثابة للنَّاس وأمنًا (البقرہ 125) ”اور ہم نے بيت اللہ کو لوگوں کے ليے مرکز اور امن وامان کی جگہ بنائی “۔ مثابة کا ايک معنی ہوتا ہے بار بار لوٹ کر آنے کی جگہ، يہ ايسا شوق ہے جس کی کبھی تسکين نہيں ہوتی بلکہ روز افزوں رہتا ہے ۔

اور امن کی جگہ کامطلب يہ ہے مکہ ميں داخل ہونے والا شخص اپنے اندر نہايت سکون ،سکينت اورامن وراحت کا احساس پاتا ہے ۔ (تفسيراحسن البيان98)

 آب زمزم ايک معجزہ:

مکہ مکرمہ کی سرزمين ميں آب زمزم کا وجود قدرت کے محيرالعقول ونادر وناياب اشياء ميں سے ايک ہے ۔ ذرا ديکھئے تو سہی ! ننھے اسماعيل کی پياس بجھانے کے ليے ايسی سرزمين پر چشمہ پھوٹ رہا ہے جو صحرائی اور ريگستانی علاقوں کا مرکزی حصہ ہے، جہاں بارش، نہروں اور چشموں کا دور دور تک وجود نہيں آخر ايسی جگہ سے چشمہ کا پھوٹنا معجزہ نہيں تو اور کيا ہے ؟ ۔

جی ہاں! يہ فيضان رب تھا کہ جس وقت يہ چشمہ پھوٹا اس وقت سے آج تک تقريبا تين ہزار سال کا عرصہ گذر چکا ليکن نہ پانی ميں کوئی کمی واقع ہوئی ہے نہ مجمع عوام ميں، حالاںکہ شب وروز لاکھوں لوگ اس چھوٹے چشمے سے سيراب ہو رہے ہيں ۔ ايک منٹ ميں تقريبا ساڑھے اٹھارہ ليٹر پانی اس چشمہ سے نکلتا ہے، مکہ اور مدينہ کے لوگ آب زمزم کا خوب خوب استعمال کرتے ہيں، موسم حج ميں حجاج کرام اس سے خود مستفيد ہوتے ہيں، اور اپنے رشتے داروں اور ملاقاتيوں کے ليے بھی لے کر جاتے ہيں، ايام حج کے بعد عمرہ کرنے والوں کا بھی ايک ہجوم رہتا ہے جو اسے خود استعمال کرتے ہيں اور اپنے ہمراہ لے کر بھی جاتے ہيں ليکن پھر بھی يہ چشمہ ربانی جوں کاتوں رواںدواں ہے ۔

خوش آئندبات يہ ہے کہ جب آب زمزم کی جانچ کی گئی تو وہ جراثيمی مادوں سے سوفيصد خالی پايا گيا حالاں کہ عام پانی جراثيمی مادوں سے بالکل خالی نہيں ہوتا۔
 اسی طرح مکہ کے ديگر پانيوں کے بمقابل آب زمزم ميں نفع بخش اور ذائب مادے آٹھ گنا زيادہ پائے جاتے ہيں ۔ چنانچہ ايک ليٹر آب زمزم ميں نفع بخش ذائب مادوں کا تناسب دو ہزار ملی گرام ہوتا ہے جب کہ مکہ کے ديگر چشموں کے ايک ليٹر پانی ميں صرف 260 ملی گرام نفع بخش مادے پائے جاتے ہيں۔
يہ ہے آب زمزم ! تمام پانيوں کا سردار، سب سے اعلی، سب سے بہتراورقابل احترام، جوہرمرض وغرض کے ليے مفيدہے ۔ حضور اکرم صلي الله عليه وسلم کا ارشاد ہے
ماء زمزم لما شُرِب لہ. (الترغيب والترھيب للمنذری۔ صحيح ) آب زمزم ہر مقصد کے ليے مفيد ہے ۔

خانہ کعبہ اورحجراسود:

مکہ مکرمہ کی تاريخی يادگار ميں سے ايک خانہ کعبہ کا وجود اور اس ميں حجراسود کا نصب ہونا بھی ہے ، حجر اسود کے تعلق سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے نبی امی صلي الله عليه وسلم نے فرمايا تھا : نزل الحجرُ الاسودُ من الجنَّة (ترمذی :حسن صحيح) ”حجراسود جنت سے اترا ہے“۔ اورآج سائنس نے تحقيق کرکے ثابت کرديا کہ واقعی يہ پتھر جنتی پتھر ہے ۔ اس تحقيق کا سہرا برطانيہ کے ايک سائنس داں ريچرڈ ڈيبرٹن کے سرجاتا ہے، جس نے خفيہ طورپرخود کومسلم ظاہر کرتے ہوئے حجاز کا سفرکيا، وہ عربی زبان کا جانکارتھا، جب مکہ پہنچا تو خانہ کعبہ ميں داخل ہوا اور حجر اسود کا ايک ٹکڑا حاصل کرنے ميں کامياب ہوگيا، اسے اپنے ساتھ لندن لايا اور جيولوجی کی ليبارٹری ميں اس پر تجربہ شروع کرديا ۔ تحقيق کے بعد اس نتيجہ پر پہنچا کہ حجراسود زمينی پتھر نہيں بلکہ آسمان سے اتراہوا پتھر ہے اور اس نے اپنی کتاب ”مکہ اور مدينہ کا سفر“ ميں اس حقيقت کا انکشاف کيا جو 1956 عيسوی ميں انگريزی زبان ميں لندن سے شائع ہوئی۔

( تفصيل کےليے ديکھئے مرکز) وذَکِرکويت کی طرف سے شائع شدہ اشتہار www.wathakker.com)


مکمل تحریر >>

بدھ, اکتوبر 16, 2013

لفظ عشق كا الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال


سوال:

کیا لفظ عشق اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے ؟
جواب :

اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن اورحدیث میں جو لفظ استعمال کیاگیا ہے وہ محبت ہے نہ کہ عشق، عشق کے لفظ میں شہوت کا مفہوم بھی پایاجاتا ہے، اسی لیے ہم اسے اپنی ماں ، بہن اور بیٹی کے لیے استعمال نہیں کرتے تو پھر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال کرناکیوں کر صحیح ہوسکتاہے، اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمکے لیے کتاب وسنت میںمحبت کالفظ استعمال ہوا ہے ، اس لیے ہمیںاسی پراکتفا کرنا چاہیے۔
رہی وہ حدیث جس میں آیا ہے کہ من عشق وکتم وعف ومات فھو شہید ”جس نے عشق کیا ،اسے چھپایا،پاکباز رہا ، اورمرگیا وہ شہید ہے“۔تو یہ حدیث موضوع ہے ۔(سلسلہ الاحادیث الضعیفة والموضوعة للالبانی 1 / 587)
مکمل تحریر >>

طہارت حاصل کیسے کریں ؟

نماز کے لیے وضو شرط ہے ،بغیر وضو کے نماز قبول نہیں ہوتی ،اور وضو کے لیے پانی کا پاک ہونا ضروری ہے ۔ پانی کی دو حالت ہوسکتی ہے ، یا تو وہ پاک ہوگا یا ناپاک ہوگا ۔ اسلام کی نظر میں پاک پانی ہر وہ پانی ہے جس میں کسی طرح کی گندگی نہ گری ہو ،اورناپاک پانی ہر وہ پانی ہے جس میں کسی طرح کی ناپاک چیز گر گئی ہو اور اس کا رنگ ،بو یا مزہ بدل گیا ہو ۔اورشریعت میں ناپاکی بھی تین طرح کی ہوتی ہے،کچھ ناپاکی سخت ہوتی ہے ،کچھ درمیانی تو کچھ ہلکی۔سخت ناپاکی جیسے کتے کا برتن میں منہ ڈال دینا ،اس کی وجہ سے برتن ناپاک ہوجاتا ہے اورسات باردھوئے بغیر پاک نہیں ہوتا ،اُس میں بھی پہلی بارمٹی سے ،کیونکہ اس کے منہ میں ایسا کیڑا ہوتا ہے جسے مٹی ہی ختم کرسکتی ہے۔ درمیانی ناپاکی جیسے پیشاب پاخانہ اور خون وغیرہ ۔ ہلکی ناپاکی جیسے دودھ پیتا بچہ اگر بدن پر پیشاب کردے تو کپڑے کو دھونا ضروری نہیں بلکہ اس پر پانی کا چھڑک دینا کافی ہے ،لیکن اگر دودھ پیتی بچی نے پیشاب کیا تو دھونا ضروری ہے۔
نمازکے لیے تین چیزوں کا پاک ہونا ضروری ہے : بدن کا پاک ہونا ،کپڑے کا پاک ہونا اورنماز کی جگہ کا پاک ہونا، کپڑے اورجگہ کی طہارت پیشاب اورپائخانہ جیسی گندگیوں سے پاکی حاصل کرنے سے ہوتی ہے۔جبکہ بدن کی طہارت دوچیزوںمیں سے کسی ایک سے حاصل ہوتی ہے غسل اوروضو ۔

موجبات غسل:

 غسل چند چیزوں سے ضروری ہوجاتاہے۔جیسے ایک غیرمسلم جب اسلام قبول کرے،جب مردوعورت وظیفہ زوجیت ادا کریں،نیندکی حالت میں احتلام ہوجائے،عورت کے ماہواری کے ایام پورے ہوں،بچے کی پیدائش کے بعد عورت کوجوخون آتاہے اس کے رک جانے کے بعد،اُسی طرح لذت سے منی کا نکلنا ۔ اِن حالات میں غسل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

غسل کا طریقہ :

اب سوال یہ ہے کہ غسل کیسے کیاجائے ؟ حمام میں داخل ہونے کی دعاءپڑھ لیں: بسم اللہ اعوذباللہ من الخبث و الخبائث ، پھر بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ اور نجاست کو دھوئيں،اورہاتھ کو اچھی طرح سے دھولیں، پھروضوکریں جس طرح نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے۔ پھر سر پر تین مرتبہ پانی بہائیں۔پھر باقی تمام بدن پر پانی بہائیں۔ پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف۔ یہ رہا غسل کا طریقہ ، اگر آپ نے غسل سے پہلے ہی وضو کی نیت کرلی تھی توآپ کا غسل کے ساتھ وضو بھی ہوگیا ،اسی سے آپ نماز ادا کرسکتے ہیں ،سیدہ عائشہ رضى الله عنها فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۔ لیکن اگر دل میں وضوکی نیت نہ کی تھی تو وضوکرنا ہوگا ۔

وضو کی فضیلت :

احادیث میں وضوکی بہت فضیلت آئی ہے،صحیح مسلم کی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
”جب کوئی مومن یا مسلمان وضو کرتے ہوئے اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے تمام صغیرہ گناہ دھل جاتے ہیں جو اس نے اپنی آنکھوں سے کئے ہوتے ہیں، اور جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں سے ہونے والے گناہ پانی کے ساتھ ہی یا آخری قطرے کے ساتھ گرجاتے ہیں، اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے ساتھ سرزد ہونے والے صغیرہ گناہ ‘جن کے لئے وہ چل کرگیا ہو‘ پانی کے ساتھ یا پانی کا آخری قطرہ گرنے کے ساتھ ہی جھڑ جاتے ہیں‘ حتی کہ وہ صغیرہ گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے “۔(مسلم )
 اوربخاری ومسلم کی روایت میں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”قیامت کے روز میری امت کو بلایا جائے گا تو انکے وضو والے اعضاءچمکتے ہونگے “۔
 وضو کےلئے پانی کا طاہر اور مطہر ہونا ضروری ہے‘ یعنی وہ پانی پاک ہو اور دوسری چیز کو پاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو‘ جیسا کہ عام پانی ہوتا ہے ۔لیکن پٹرول ، دودھ ‘شربت ‘ لسّی وغیرہ کے ساتھ وضو نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ خود تو پاک ہیں لیکن ان میں کسی دوسری چیز کو پاک کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ۔

وضوکے فرائض :

وضومیں چھ اہم کام کرنے ضروری ہیں: چہرے کو دھونا،دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا ،پورے سر کا مسح کرنا،دونوں پیروں کو ٹخنوںسمیت دھونا ،ترتیب کا خیال رکھنا ،اورموالات یعنی ایک عضوکو دھونے کے بعد دوسرے عضوکو دھونا اوربیچ میں دیر نہ کرنا ۔

وضو کا طریقہ :

 (1)  سب سے پہلے دل ميں وضو کی نيت کريں اور  نيت کا تعلق دل سے ہے۔ ارشاد نبوی ہے
إنما الاعمال بالنيات ”اعمال کا دارو مدار نيت پر ہے“۔ (بخاری ،مسلم ) وضوسے پہلے مسواک کرنا ممکن ہوتو ضرور کرلیں .
(2) پھر بسم اللہ کہتے ہوئے وضو شروع کريں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ۔ لاصلاة  لمن لا وضو لہ ولا وضو لمن لم يذکرإسم اللہ عليہ۔” جس نے وضو نہيں کيا اس کی نماز نہيں اور جس نے (وضو سے پہلے ) اللہ کا نام نہيں ليا اس کا وضو نہيں“۔ (سنن ترمذی )
(3) پانی سے دونوں ہاتھ ہتھيلی سميت تين مرتبہ دھوئيں اور انگليوں کے بيچ خلال کر ليں ۔
(4) اپنے ہاتھ  سے پانی لے کر منہ ميں رکھيں اور اچھی طرح سے تين بار کلی کر ليں ۔ اثناء وضو مسواک کرنا بھی مستحب ہے ۔
(5) تين بار ناک ميں پانی ڈاليں اور ناک کی غلاظت کو صاف کر ليں، سنت کا طريقہ يہ ہے کہ دائيں ہاتھ سے ناک ميں پانی ڈالا جائے اور بائيں ہاتھ سے ناک کو صاف کيا جائے ۔
(6) پھر تين بار اپنے چہرے کو لمبائی ميں پيشانی سميت داڑھی کے نچلے حصے تک اور چوڑائی ميں ايک کان سے دوسرے کان تک دھوئيں ۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو پانی سے اس کا خلال کرليں اور خلال کرنے کا طريقہ يہ ہے کہ پانی سے تر انگلياں داڑھی ميں پھير لی جائيں ۔
(7) داياں ہاتھ  کہنيوں سميت تين بار دھوئيں پھر باياں ہاتھ بھی تين بار دھوئيں، مستحب يہ ہے کہ اعضاء وضو بحسن وخوبی پانی سے مل ليے جائيں ۔
(8) پھر اس کے بعد سر کا مسح کريں،  وہ اس طرح کہ دونوں ہاتھوں کو تر کر کے سر کے اگلے حصہ سے شروع کر کے پيچھے کو لے جائيں پھر پيچھے سے اسی جگہ لے آئيں جہاں سے شروع کيا تھا ، پھر کانوں کا مسح ايک بار کريں ۔
1۔سر اور کانوں کا مسح ایک ہی بار کیا جائے گا ۔2۔کانوں کے مسح کے لئے نیا پانی لینا ضروری نہیں ہے کیونکہ کان سر ہی کا حصہ ہیں ۔3۔ گر دن کا مسح کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے اس بارے ميں جو روایت مشہور ہے وہ ضعیف ہے۔
(9) اپنے دائيں  پير کو ٹخنہ سميت تين بار دھوئيں، ٹخنے سے اوپر دھلنا بھی مستحب ہے، اور پير کی انگليوں کے درميان خلال کريں ۔
(10) وضو سے فارغ ہونے کے بعد يہ دعا پڑھنا مسنون ہے:
 أشھد أن لا إلہ الا اللہ وحدہ لا شريک لہ ، وأشھد أن محمدا عبدہ و رسولہ، اللھم اجعلنی من التوابين واجعلنی من المتطھرين (ترمذی )
ميں گواہی ديتا ہوں کے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہيں، وہ اکيلا ہے، اس کا کوئی شريک نہيں، اور ميں گواہی ديتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہيں ۔ اے اللہ تو مجھے توبہ کرنے والوں ميں سے بنا اور پاک رہنے والوں ميں سے ۔
صحیح مسلم کی روایت ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب کوئی اچھی طرح وضو کرے پھر (مذكوره) دعا پڑھے تو اسکے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئے جاتے ہیں جس سے چاہے داخل ہو جائے “  
اور اسی طرح یہ دعا بھی پڑھنی چاہئیے : 
اَللّٰھُمَّ اجعَلنِی مِنَ التَّوَّابِینَ وَاجعَلنِی مِنَ المُتَطَھِّرِین (ترمذی )
ترجمہ :” اے اللہ !مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں میں کر “۔
۱ ۔ وضو کے بعد دعا پڑھتے ہوئے آسمان کی طرف منہ اٹھانا اور انگلی کا اشارہ کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ 
۲۔اسی طرح ہر عضو کو دھوتے وقت مخصوص دعائیں پڑھنا بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہيں ۔

نواقض وضو:

کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے :جیسے
۱۔پیشاب یا پائخانے کے راستے سے کسی چیز کا نکلنا ۔مثلابول وبراز ‘منی مذی ‘ودی اور ہوا وغیرہ ۔
۲۔اسی طرح گہری نیند ‘ یعنی ایسی نیند جس میں انسان کا اپنے اعضاءپر کنٹرول اور اختیار نہ رہے ۔
۳۔جنون ‘ بے ہوشی یا نشے کی حالت میں وضو باقی نہیں رہتا ۔
۴۔کپڑے کے بغیر شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔
۵۔اونٹ کا گوشت کھانے سے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا :کیا ہم بکری کا گوشت کھانے سے وضو کریں ؟تو آپ نے فرمایا :”اگر چاہیں توکر لیں اور چاہیں تو نہ کریں“پھر صحابی ؓنے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے ؟تو فرمایا :”وضو کریں“۔
۶۔حیض ‘ نفاس ‘استحاضہ اور لیکوریا سے ۔بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔اِن ساری چیزوں سے وضو اور تیمم دونوں ٹوٹ جاتا ہے ،البتہ تیمم کے ٹوٹنے کے لیے ایک اضافی چیز یہ بھی ہے کہ پانی مل جائے ےا اس کے استعمال پر قدرت حاصل ہوجائے ۔
سلس البول اور تبخیر کے دائمی مریض وغیرہ کے لئے نماز کے لئے ایک مرتبہ وضو کرلینا ہی کافی ہوگا ‘نیز قئے ‘ نکسیر اور خون وپیپ اگر سبیلین کے علاوہ کسی جگہ سے خارج ہوں تو ان سے وضو نہیں ٹوٹتا ‘کیونکہ اس سلسلے کی تمام روایات سخت ضعیف ہیں ۔

خواتین کى طہارت :

خواتین کے تعلق سے یہ بات عرض کرنا مناسب ہے کہ اگر وہ ایام مخصوص میں ہوں یا نفاس کے ایام سے گذر رہی ہوں تو ان حالات میں اُن پر کچھ چیزیں حرام ہوجاتی ہیں جیسے وہ نماز نہیں پڑھ سکتیں ،روزے نہیں رکھ سکتیں ،البتہ بعد میں اُن پر نماز کی قضاتونہیں ہے لیکن روزوں کی قضا ہے ،کعبہ کا طواف نہیں کرسکتیں ،مسجد میں بیٹھ نہیں سکتیں چاہے دینی حلقہ میں بیٹھنا ہی کیوں نا ہو۔ قرآن کو چھو نہیں سکتیں ،لیکن جزدان کے اوپر سے یا موزہ وغیرہ پہن کر اُسے چھوسکتی ہیں ،تلاوت نہیں کرسکتیں ۔ ہاں! اگر کوئی خاتون قرآن حفظ کئے ہوئی ہے اوراُسے بھول جانے کا اندیشہ ہے یا وہ بچیوں کو پڑھاتی ہے تو ایسی صورت میں علماءنے اجازت دیا ہے کہ اُن کے لیے قرآن کو چھوئے بغیر پڑھنا جائز ہے ۔یہ رخصت خاص ہے ایسی حالات کی خواتین کے لیے دوسرے لوگ جن کو غسل کی ضرورت ہے بغیر طہارت حاصل کیے قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتے ۔


مکمل تحریر >>

بچوں کو دین پر قائم کیسے رکھا جاسکتا ہے ؟

سوال:

زمانہ بہت بُرا ہوگیا ہے، دنیا میں طرح طرح کے فتنے پیدا ہو رہے ہیں، ایسے حالات میں بچوں کو دین پر قائم کیسے رکھا جاسکتا ہے ۔

جواب:

سوال بہت اچھا ہے، اس سے آپ کی دینی حمیت جھلکتی ہے، اوراس بات کا اندازہ لگتا ہے کہ آپ اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں فکرمند ہیں، اورہرمسلمان کے اندر ایسی فکرمندی ہونی چاہیے۔ لیکن آپ نے جو یہ کہا کہ زمانہ بہت بُرا ہوگیا ہے، عقیدے کے ناحیہ سے جب ہم اس لفظ پر غورکرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایسا نہیں کہنا چاہیے ۔ زمانہ برا نہیں ہوتا لوگ برے ہوتے ہیں،چونکہ جوکام بھی زمانہ میں ہورہا ہے، اورجو تبدیلی بھی آرہی ہے اسے پیدا کرنے والا اللہ تعالی ہے، اب اگر ہم نے زمانہ کو برا کہا تو گویا ہم نے اللہ تعالی کو برا کہا، زمانہ کو گالی دی تو گویا ہم نے اللہ تعالی کو گالی دی، اسی لیے صحیح بخاری اورمسلم کی روایت میں ایک حدیث قدسی آئی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ اللہ تعالی فرماتاہے :
یوذینی ابن آدم یسب ألدھر وأنا الدھر بیدی إلامر أقلب اللیل والنھار
ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے، وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اورمیں ہی صاحب زمانہ ہوں، میرے ہاتھ میں معاملات ہیں، میں رات اوردن کو بدلتا ہوں۔
اس لیے عام طورپر جو یہ کہہ دیاجاتا ہے کہ زمانہ برا ہوگیا ہے، وقت خراب ہوگیا ہے، یہ سب غلط ہے ایسا نہیں کہنا چاہیے ۔ ہاں ! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف احادیث میں لوگوں کے حالات کے اندر تبدیلی کی خبر دی ہے، قیامت کی نشانیاں بیان کی ہیں، تو اصل میں یہ لوگوں کے حالات میں تبدیلی کی خبر ہے، زمانے کو برا بھلا کہنا نہیں ہے ۔ یہ رہی پہلی بات ….رہا بھائی کا سوال کہ شہوات اور شبہات کے اس ماحول میں بچوں کودین پر کیسے قائم رکھا جائے ؟
اس تعلق سے چند گزارشات پیش کی جارہی ہیں اگر ان کو سامنے رکھاجائے تو ہمارے بچے ان شاءاللہ ہرطرح کے فتنے سے محفوظ رہیں گے ۔

گھر میں دینی ماحول ہو:

سب سے پہلی بات تو یہ کہ گھر میں دینی ماحول ہو، بچے ماں باپ کو وہ اسلام کا نمونہ دیکھتے ہوں، اگر گھرمیں ایمانیات کاماحول نہیں ہے، گھروں سے ہروقت موسیقی اورگانے کی آواز آتی رہتی ہے تو ظاہر ہے ایسے گھر کے بچے کسی صورت میں دینی جذبہ رکھنے والے نہیں بن سکتے ۔

گھر میں ایک اسلامی لائبریری ہو:

 جس میں بچوں کے لیے دینی کتابیں، کیسٹیں اورویڈیوز رکھے گئے ہوں، ماں باپ بچوں کو انہیں دیکھنے،سننے اورپڑھنے پرابھارتے ہوں، بلکہ خود بیٹھ کر ان کے ساتھ کچھ باتیں سنتے، دیکھتے اورپڑھتے ہوں۔

گھرمیں نیک لوگوں اورعلماء کو دعوت دی جاتی ہو:

 بچوں کو ان سے استفادہ کرنے پر ابھارا جاتا ہو، بچوں کو قرآن سکھانے کا اہتمام کیاجاتا ہو۔ دینی کتابوں خاص کر قرآن اور حدیث اور سیرت رسول سے سوالات کرکے ان کی معلومات میں اضافہ کرنے کی کوشش ہوتی ہو۔

 ماں باپ بچوں کے احوال پر نظر رکھتے ہوں:

مائیں اپنی بچیوں کے ساتھ  نماز ادا کرتی ہوں اور باپ بچوں کو لے کر مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے جاتے ہوں۔ ماں باپ بچوں کے احوال پر باریکی سے نظر رکھتے ہوں، ان کے دوست یا ان کی سہیلیاں کون ہیں، ماں باپ کو ان کے بارے میں پوری معلومات ہونی چاہیے ،ان کے بچے کن کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اورکھیلتے ہیں اس کی پوری خبر ہونی چاہیے والدین کے پاس ….ان کے بستوں، الماریوں، بستروں اورتکیہ کے نیچے کیا ہے ….ایسا تو نہیں کہ ان کی ملاقات بد کردار بچوں سے ہورہی ہے، ایسا تو نہیں کہ مخرب اخلاق فلموں اور سگریٹ نوشی کے وہ عادی ہوتے جارہے ہیں ۔ جب ماں باپ بچوں سے قریب ہوں گے تو ان کی نفسیات کو سمجھ سکیں گے ۔
مکمل تحریر >>

سوموار, اکتوبر 14, 2013

حج ميں توحيد کے مظاہر قدم بقدم


دين کی ايک بنياد ايسی ہے جس پر دنيا وآخرت کی بھلائی قائم ہے ،جس کے ليے اللہ تعالی نے زمين وآسمان کی تخليق فرمائی،انبياءورسل کو بھيجا ، کتابيں اتاری ، دنيا وآخرت بنائی ،جن وانس کو پيدا کيا ، اور جنت و جہنم بنايا ۔ يہ وہ عظيم بنياد ہے کہ جس نے اسے قائم کيا دنيا وآخرت ميں کامياب وکامران رہا ، اور جس نے اسے ضائع کر ديا دنيا وآخرت ميں ناکام ونامراد رہا ۔ جانتے ہيں يہ بنياد کيا ہے ؟ اسے ہم توحيد کہتے ہيں ، ايمان کہتے ہيں ، يقين کہتے ہيں، احسان کہتے ہيں ، يہ دراصل کلمہ لا الہ الا اللہ ہے، آج ایمانیات کے باب کو اس قدرمعمولی سمجھ لیا گیا ہے کہ جس کسی نے کلمہ شہادت کی گواہی دے لی ،سمجھو‘کہ وہ مومن کامل بن گیا۔ اب اُسے اِس کی طرف ادنی التفات کی ضرورت نہیں رہی ‘ حالانکہ يہ ہر چيز کی بنياد ہے ،ہرفضيلت کا سرچشمہ ہے ، جس کا ايک غيرمسلم جب زبان ودل سے اقرار کرتا ہے تووہ فوراً اہل ايمان کے زمرے ميں داخل ہوجاتا ہے ۔دنيا کی ہرچيزميں اس کلمے کی جلوہ گری ہے ، رات ودن کا آنا جانا، صبح وشام کی آمد ورفت،سورج اورچاند کا طلوع وغروب اس کلمے کی تصديق کرتاہے،زمين وآسمان، اشجار واحجار، جنگل وپہاڑ، اور حيوانات ونباتات سب اس کلمے پر گواہ ہيں۔
اسلام کے ارکان اربعہ کا دار ومدار بھی اسی کلمے پر ہے ۔ نماز تکبير تحريمہ سے لے کر سلام پھيرنے تک کلمہ توحيد کے ارد گرد گھومتی ہے ،قيام،قعود ،رکوع ،سجدہ ،اور تشہدہرجگہ ايک اللہ کی حمد ثنا بيان کی جاتی اور ايک اللہ سے مانگا جاتا ہے ۔ زکاة ميں بھی اس کلمے کی بالا دستی پائی جاتی ہے کيوں کہ زکاة نکالنے والے کے ذہن ودماغ ميں يہ بات رچی بسی ہوتی ہے کہ مال اللہ تعالی کا عطيہ ہے ، اللہ تعالی نے آج اسے اس کا مالک بنايا ہے ، اور بے نيازی عطا کی ہے تو دوسرے غريب و مسکين کو بھی اس ميں سے ملنا چاہيے اس طرح وہ زکا ة نکال کر اللہ کی وحدانيت کو ثابت کرتا ہے ۔
روزہ ميں بھی کلمہ شہادت کا پورا عکس دکھائی ديتا ہے ۔ آخر ايک انسان سامان خوردونوش رکھتے ہوئے بھوک اور پياس کيوں برداشت کرتا ہے ؟ دن بھرجائز شہوت پر بھی کنٹرول کيوں رکھتا ہے ؟ يہ اللہ کی عظمت اور اس کی توحيد کا احساس نہيں تو اور کيا ہے ؟
اب آئيے حج کی طرف جسے اللہ تعالی نے بندہ مومن پر زندگی ميں ايک مرتبہ فرض کيا ہے ۔ اس فريضے کی بنياد ہی توحيد پر ہے ، حج شروع سے اخير تک کلمہ توحيد کے اردگرد گھومتا ہے ۔اس کے ايک ايک قدم پر توحيد کا جلوہ دکھائی ديتا ہے۔چوں کہ ابھی ہم حج کے ايام سے گذر رہے ہيں ، دنيا کے کونے کونے سے حجاج کرام کا قافلہ فريضہ حج کی ادائيگی کے ليے جماعت در جماعت اور فوج در فوج خانہ کعبہ پہنچ رہاہے ۔ اس مناسبت سے ضرورت محسوس ہوئی کہ عازمين حج اور ديگر سامعين کے سامنے حج ميں وحدانيت کے کچھ مظاہر پيش کروں تاکہ غيرقوموں کے حج اور اسلامی حج کے بيچ جوبنيادی فرق ہے وہ روز روشن کی طرح عياں ہوجائے ۔

وطن سے نکلتے وقت :

جب عازمين حج اپنے گھر سے نکلتے ہيں،اپنے وطن اور اہل خانہ سے جدا ہوتے ہيں،توان کے سامنے بچوں کی محبت آرے آتی ہے،بيوی کی محبت آرے آتی ہے، وطن اور جائدادواملاک کی محبت آرے آتی ہے ليکن وہ کسی کی پرواہ نہيں کرتے ،اپنا قيمتی مال خرچ کرتے ہيں ، سفرکی صعوبتيں برداشت کرتے ہيں، ان ميں نحيف ولاغر اور کمزور مردوخواتين بھی ہوتے ہيں جن کا جسم توکمزور ہوتا ہے ليکن ہمتيں بلند ہوتی ہيں ، کتنے مالدار اور صاحب حيثيت جنہوں نے کبھی اجنبيت اختيار نہيں کی ليکن حج کے نشہ ميں وطن اور اہل وعيال کو خيرباد کررہے ہيں ۔ کيوں ؟ ظاہر ہے اس کا حقيقی محرک دراصل ايمان ہے ، توحيد ہے ، اللہ کی سچی محبت ہے جس کے سامنے ساری محبتيں ہيچ ہيں ۔

لباس احرام زيب تن کرتے وقت:

جب حاجی ميقات پہنچنے کے بعد حج کے منسک ميں داخل ہونے کے ليے اپنے عام کپڑے اتار کر غسل کرتا ہے، اور بغير سلا ہوا دوکپڑا ايک چادر اور ايک تہبند زيب تن کرتا ہے تواس کے ذہن ودماغ ميں موت کی ياد تازہ ہو جاتی ہے کہ ايک دن ہميں مرنا ہے،موت کا جام پينا ہے ۔ لوگ ہمارے کپڑے اتار کر اسی طرح نہلائيں گے اور ايسے ہی کپڑے ميں لپيٹ کر قبر کے حوالے کر ديں گے ۔

تلبيہ:

جب حاجی حج کے احرام ميں داخل ہونے کے ليے تلبيہ بولتا ہے تو اس ميں پوری طرح توحيد کا اعلان کرتا اور شرک سے براءت کا اظہار کرتا ہے:
 لبيک اللھم لبيک لبيک لا شريک لک لبيک ان الحمد والنعمة لک والملک لاشريک لک.
"ميں حاضرہوں، اے اللہ ميں حاضرہوں، ميں حاضرہوں، تيراکوئی شريک نہيں، ميں حاضر ہوں، بيشک ہرقسم کی تعريف تيرے ليےاور ہرنعمت تيری دی ہوئی ہے اور تيری ہی بادشاہی ہے، تيرا کوئی شريک نہيں ہے" ۔
اسے وہ ہانکے پکارے بولتا ہے اور اس کے مفہوم کو اپنے ذہن ودماغ ميں بيٹھائے رہتا ہے کہ اے اللہ ہم حاضر ہيں ، تيری پکار پر لبيک کہتے ہيں، جس طرح توبخشش وعنايت، احسان وکرم، اور ملکيت وبادشاہت ميں يکتا ہے اسی طرح عبادت ميں بھی يکتا ہے، تيراکوئی ساجھی نہيں، تيرے علاوہ ہم کسی کو نہيں پکارتے، تيرے علاوہ ہم کسی پر اعتماد نہيں کرتے، تيرے علاوہ ہم کسی کو حاجت روا ومشکل کشا نہيں سمجھتے ۔
غرضيکہ ايک حاجی ہر وقت اور ہرآن مئے توحيد ميں مست رہتا ہے اورمحض اللہ تعالی کونفع ونقصان کا مالک سمجھتاہے ۔
يہ تلبيہ ہمارے سرکار نے اپنی امت کوسکھايا ہے جس کے لفظ لفظ سے توحيد خالص کی بو ٹپکتی ہے کيوں کہ آپ کی بعثت کا مقصد ہی توحيد کی طرف دعوت اور شرک سے بيزاری کا اعلان تھا ورنہ بعثت سے پہلے بھی کفار ومشرکين حج کيا کرتے تھے اور تلبيہ بھی پکارا کرتے تھے ۔ ان کا تلبيہ کيا تھا ؟سنئے ان کا   تلبيہ :
لبيک لا شريک لک إلا شريکاً ھو لک تملکہ وما ملک
" اے اللہ ! ميں حاضر ہوں، تيرا کوئی شريک نہيں،سوائے اس شريک کے جس کا تو مالک ہے وہ مالک نہيں" ۔
يعنی وہ بھی مانتے تھے کہ اللہ تعالی ہی خالق ومالک ہے ، وہی روزی ديتا ہے ، وہی مارتا اور جلاتا ہے ، وہی ساری کائنات پر حکمرانی کر رہا ہے اور يہ بھی سمجھتے تھے کہ يہ شرکاء بھی پورا اختيار نہيں رکھتے ،ان کا بھی مالک اللہ تعالی ہی ہے ، ليکن چوں کہ وہ اللہ کے قريبی ہيں ،اللہ ان سے راضی ہے ،ہم گنہگار ہيں ،عاصی ہيں لہذا ان کی کچھ عبادتيں کرلينے سے ہميں بروزقيامت ان کی سفارش نصيب ہوگی، وہ ہمارے سفارشی بن جائيں گے:
 ما نعبدھم الا ليقربونا إلی اللہ زلفا (الزمر3
" ہم ان کی عبادت صرف اس ليے کرتے ہيں تاکہ وہ ہميں اللہ کے زيادہ قريب کرديں "۔
اور اللہ تعالی نے (سورہ يونس آيت نمبر 18 ميں ان کی زبانی فرمايا ﴾ ھؤلاء شفعاءنا عند اللہ . " يہ تو اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہيں"۔
چنانچہ وہ حج وعمرہ ميں کچھ اسی طرح کا تلبيہ پکارا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ميں حاضر ہوں، تيرا کوئی شريک نہيں، سوائے اس شريک کے جس کا تو مالک ہے وہ مالک نہيں۔ 
صحيح مسلم کی روايت ہے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم جب کفارومشرکين کو تلبيہ ميں لاشريک لک الا شريکا ھو لک تملکہ وما ملک يعنی تيرا کوئی شريک نہيں، سوائے اس شريک کے جس کا تو مالک ہے وہ مالک نہيں کا اضافہ کرتے ہوئے سنتے تو کہتے :
ويلکم قد قد تيری ہلاکت ہو بس کرو بس کرو
 يعنی لاشريک لک پر غيراللہ کااضافہ کيوں کرتے ہو؟ جب تم اللہ تعالی ہی کو خالق ومالک اور رازق مانتے ہو تو خالص اسی کی عبادت کيوں نہيں کرتے ؟ اس کے ساتھ غيروں کو شريک کيوں ٹھہراتے ہو ؟ پتہ يہ چلا کہ ايمان کے ليے ضروری ہے کہ ايک بندہ صرف اللہ تعالی کے ليے عبادت کے سارے اقسام بجا لائے ، نماز ،روزے ،حج ،قربانی،دعا، نذر ونياز، رکوع اور سجدہ سب خالص اللہ کے ليے ہونے چاہئے ۔
اور يہی تلبيہ کا پيغام ہے ، تلبيہ محض الفاظ کا باربار اعادہ نہيں بلکہ اس کے معانی بھی حاجی کے ذہن ودماغ ميں رچے بسے ہونے چاہئے تاکہ جس چيز کی وہ بار بار گواہی دے رہا ہے عمل بھی اس کے مطابق ڈھل جائے ۔چنانچہ اللہ کے علاوہ کسی سے نہ مانگے ، اللہ کے علاوہ کسی سے مدد طلب نہ کرے ، اللہ کے علاوہ کسی کو مشکل کشا اور حاجت روا نہ سمجھے ۔ جب ايک حاجی کہتا ہے ” لا شريک لک “ کہ اے اللہ تيرا کوئی شريک نہيں ۔ تو اسے چاہيے کہ وہ شرک کی حقيقت کو جانتا ہو، اس کی خطرناکی سے آگاہ ہو ، کيوں کہ اسلام  ميں سب سے عظيم گناہ يہی ہے ۔ يہ وہ عمل ہے جو انسان کے تمام اعمال کو اکارت کر ديتاہے۔ سورہ انعام کے دسويں رکوع ميں اللہ تعالی نے اٹھارہ جليل القدرانبياء کرام کے نام لے لے کر ان کے مقام و مرتبہ کو بيان فرمايا اس کے بعد آيت نمبر89 ميں سبہوں کو ملاکر فرمايا :
 ولو أشرکوا لحبط عنھم ما کانوا يعملون.
اگر ان انبياء نے بھی شرک کيا ہوتا تو ان کے بھی اعمال اکارت و ضائع ہو جاتے ۔ اور سورہ زمر آيت نمبر 65 ميں اللہ تعالی نے سيد الرسل ، سرکار دوعالم صلى الله عليه وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمايا:
لئن اشرکت ليحبطن عملک ولتکونن من الخاسرين.
" اگر آپ بھی شرک کريں تو يقينا آپ کا سارا عمل بھی ضائع ہو جائے گا اور آپ خسارہ پانے والوں ميں سے ہو جائيں گے"۔ 

ذرا غور کيجئے! شرک کے معاملہ ميں جب انبياء ورسل کو اس طرح خطاب کيا گيا تو ان کے سامنے ہم کس کھيت کی مولی ہيں، ہميں تواور زيادہ شرک کی خطرناکی سے آگاہ رہنا چاہئے ايسا نہ ہو کہ ہمارے اعمال اکارت ہو جائيں بالخصوص حجاج کرام کو اس کی طرف خاص دھيان دينے کی ضرورت ہے جو نہايت غطيم منسک کی ادائيگی کے ليے حرمين کی زيار ت کرتے ہيں ۔ يہ موحدين کے پيشوا ابراہيم خليل اللہ ہيں جو شرک سے اللہ کی پناہ مانگتے ہيں واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام اے اللہ مجھے اور ميری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھنا ۔ جب ابراہيم عليہ السلام اپنے اور اپنی اولاد پر بت پرستی کا خوف کھاتے ہيں تو ہميں کس قدر خوف کھانا چاہئے اس کا اندازہ آپ خو د لگا سکتے ہيں ۔ اسی ليے ابراہيم التيمی ؒ کہتے ہيں:
 ومن يأمن من البلاء بعد ابراہيم
" آخر ابراہيم عليہ السلام کے بعد ابتلا سے کون محفوظ رہ سکتا ہے؟" ۔

اللہ تعالی نے آيات حج کے سياق ميں يہ آيت بھی ذکر کی ہے: 
 ومن يشرک باللہ فکأنما خر من السماءفتخطفہ الطير أو تھوی بہ الريح فی مکان سحيق (الحج 31)
اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے توگويا وہ آسمان سے گر پڑا (يعنی اب اس کی کوئی حيثيت نہيں رہی ) پھر اسے پرندے اچک لے جائيں يا ہوا اسے کسی دور دراز جگہ لے جاکر پھينک دے ۔ ہاں! توميں عرض يہ کر رہا تھا کہ تلبيہ ميں جو توحيد کا اعلان اور شرک سے برات کا اظہار ہے ضرورت ہے اسے سمجھنے اور اس کے مفہوم کو ذہن ميں بيٹھانے کی ضروت ہے ۔

بيت اللہ کا طواف :

 جب حاجی مکہ مکرمہ پہنچتا ہے اور حرم پاک کی سرزمين پر قدم رکھنے کے بعد خانہ کعبہ پر اس کی پہلی نظر پڑتی ہے تو وہ دنيا وما فيہا سے بے خبر ہو جاتا ہے ،مقصد کی برآری پر اس کی آنکھيں ڈبڈبا اٹھتی ہيں ۔ يہ ايک فطری جذبہ اور والہانہ تعلق ہے جو ہر مسلمان کے دل ميں پيدا ہوتا ہے
اس اہم فطری لگاؤکے ساتھ  ساتھ  حاجی کو چاہئے کہ جب وہ خانہ کعبہ کے پاس آئے تو اس کے ذہن ودماغ ميں اللہ کی عظمت وجلال کے نقوش بيٹھ جائيں اورموسس کعبہ ابراہيم عليہ السلام کی سيرت اس کے ذہن کے پر دے پر مرتسم ہوجائے جو موحدين کے پيشوا تھے ، جنہوں خالص توحيد پر اس کی بنياد ڈالی تھی ، تاکہ اس ميں صرف ايک اللہ کی عبادت کی جائے اور تعمير مکمل ہونے کے بعد نہايت عاجزی و انکساری سے دعا کی تھی واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام بارالہا ! مجھے اور ميری اولاد کو بت پرستی سے بچانا ۔۔۔ ايک مسلمان خانہ کعبہ کی عبادت اسليے نہيں کرتا کہ يہ دھرتی کی کوئی قديم تعمير ہے يا يہ تاريخی يادگار ہے،يا اسے ابراہيم واسماعيل عليہما السلام نے تعمير کيا تھا ، يا وہ نفع ونقصان کا مالک ہے خانہ کعبہ کے طواف ميں ايسی کوئی بات نہيں پائی جاتی بلکہ مسلمان اس کا طواف اسليے کرتے ہيں کہ اللہ تعالی نے انہيں ايسا کرنے کا حکم ديا ہے اور اسے حج وعمرہ کا رکن ٹھہرايا ہے وليطوفوا بالبيت العتيق اور چاہئے کہ بيت اللہ کا طواف کريں ،اسی طرح رکن يمانی کا استلام کرنے اور حجر اسود کو بوسہ دينے ميں بھی متابعت واطاعت ہی کا جذبہ پايا جاتا ہے ورنہ ايک مسلمان کا ايمان ہے کہ اس کے اندر نہ نفع پہنچانے کی طاقت ہے اور نہ نقصان پہنچانے کی صلاحيت ۔ اسی مفہوم کو خليفہ ثانی عمر فاروق رضي الله عنه نے بيان کيا تھا جب کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے تھے:
 إنی أعلم أنک حجرلاتضر ولا تنفع ولولا أنی رأيت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم يقبلک ما قبلتک.
" ميں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان ،اگر ميں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بوسہ ليتے ہوئے نہ ديکھا ہوتا توميں تجھے بوسہ نہ ديتا" ۔
جہاں تک ابو سعيد کے طريق سے يہ جو روايت بيان کی جاتی ہے کہ جب خليفہ ثانی نے يہ بات کہی تو حضرت علی رضي الله عنه نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ”اميرالمومنين يہ تو نفع ونقصان کا مالک ہے “ تو يہ روايت حضرت علی رضي الله عنه سے ثابت نہيں کيوں کہ اس روايت ميں ابو ہارون العبدی ہے جسے محدثين نے کذاب اور متروک الحديث کہا ہے حماد بن زيد کہتے ہيں ”ابوہارون العبدی کذاب تھا صبح ميں کچھ بولتا اور شام ميں کچھ اور“ اور جوزجانی نے کہا کہ” وہ نہايت جھوٹا اور بہتان باز تھا“ ۔
يہاں پر ايک مسلمان کو سب سے بڑا سبق يہ ملتا ہے کہ خانہ کعبہ کے طواف ،حجراسود کے بوسہ اوررکن يمانی کے استلام کے علاوہ کسی دوسرے مقام کانہ طواف ہوسکتا ہے ،نہ کسی دوسرے مقام کو بوسہ ليا جاسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے مقام کا استلام کيا جا سکتا ہے ۔ کيوں کہ شريعت نے ہميں ان مقامات کے علاوہ کسی دوسرے مقام کا طواف کرنے، بوسہ لينے يا استلام کرنے کی اجازت نہيں دی اور يہاں بھی ايک مسلمان محض اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے جذبہ سے ايسا کرتا ہے نفع کی اميديانقصان کے ڈر سے نہيں۔ گوياکہ خانہ کعبہ ،حجر اسود اور رکن يمانی کے علاوہ دنيا کے کسی بھی جگہ کا طواف کرنا،يا بوسہ لينا يا استلام کرنا صحيح نہيں بلکہ خود خانہ کعبہ کی چادر کو چومنا، يا مقام ابراہيم کا بوسہ لينا ، يا روضہ اقدس کو چومنا،يا مسجد نبوی کے در ديوار کا بوسہ لينايہ سب کے سب غلط ہے۔
مولانا احمد رضا خان بريلوی عفااللہ عنہ نے بھی ان امور سے منع کيا ہے چنانچہ وہ انوار البشارات فی مسائل الحج والزيارات (مطبوعہ مکتبہ رضويہ اکرام باغ کراچی ) ص 29 پر فرماتے ہيں خبردار جالی شريف کو بوسہ دينے ہاتھ لگانے سے بچو کيوں کہ خلاف ادب ہے بلکہ چار ہاتھ فاصلہ سے زيادہ قريب نہ جاؤاور احکام شريعت حصہ سوم ميں فرماتے ہيں” بلاشبہ غير کعبہ معظمہ کا طواف تعظيمی ناجائز ہے اور غيرخدا کو سجدہ ہماری شريعت ميں حرام ہے “ (بحوالہ تعليمات شاہ احمد رضا خان بريلوی ص 19 ازمولانا محمد حنيف يزدانی ، طبع مکتبہ نذيريہ ،لاہور)

طواف کی دو رکعات:

جب حاجی طواف مکمل کرلے تو اسے حکم ہے کہ مقام ابراہيم کے پاس طواف کی دو رکعت ادا کرے پہلی رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعدسورہ الکافرون اور دوسری رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص کی تلاوت کرے ۔ ان آيات پر غور کرنے سے بھی ہميں حج ميں توحيد کے واضح مظاہر ديکھنے کو ملتے ہيں يہ تين سورتيں دراصل توحيد کا خلاصہ ہيں ، سورہ فاتحہ ميں توحيد کے تينوں اقسام ربوبيت ، الوہيت اور اسماءو صفات شامل ہيں ۔ اور سورہ الکافرون ميں شرک سے برات کا اظہار اور توحيد خالص کا اعلان ہے اور سورہ اخلاص ميں اللہ تعالی کو صفات کاملہ سے متصف کيا گيا ہے اور شرکت وہمسری اور اولاد وغيرہ سے اس کی ذات کو منزہ رکھا گيا ہے ۔ چنانچہ سنن ابی داؤد ميں حضرت جابر رضي الله عنه کا بيان ہے کہ فقرافيھما بالتوحيد يعنی آپ صلى الله عليه وسلم نے ان دو رکعتوں ميں توحيد کی آيتيں تلاوت فرمائی ۔

صفا ومروہ کی سعی :

جب حاجی صفا و مروہ کی سعی کرنے جاتا ہے تو وہاں وحدانيت کے مظاہر کھل کر سامنے آتے ہيں ، ايک حاجی کا دھيان فوراً ابراہيم اور ہاجرہ عليہما السلام کے قصے کی طرف چلا جاتا ہے جس ميں توکل ہے ، حسن ظن ہے اور اللہ تعالی سے استعانت ہے جب حاجی اس قصے پر غور کرتا ہے تو اس کا تعلق اللہ تعالی سے مضبوط ہونے لگتا ہے اور وہ توکل واعتماد کا چٹان بن جاتا ہے ۔
آئيے ذرا قصے پر غور کرتے ہيں ۔جب حضرت ہاجرہ عليہا السلام کے بطن سے اسماعيل عليہ السلام کی ولادت ہوئی، واللہ تعالی نے حضرت ابراہيم عليہ السلام کی دوسری آزمائش شروع کردی ،حکم ہوا کہ اپنی شريک حيات اور اپنے بيٹے کو مکہ چھوڑ آو۔ وہ مکہ جو چٹيل ميدان تھا ،بے آب وگياہ سرزمين تھی ، جہاں آدمی اور آدم زاد کا دور دور تک پتہ نہ تھا ، حکم کی تعميل ميں ہاجرہ اور اسماعيل کو مکہ لاتے ہيں اور خانہ کعبہ کے قريب ٹھہراتے ہيں ،کچھ کھجور اور پانی رکھ ديتے ہيں اور پيچھے کی طرف چلنے کے ليے مڑتے ہيں ۔عجيب ماجرا ہے ايک عورت اپنے ننھے بچے کے ساتھ بے آب وگياہ سرزمين ميں جہاں ہو کا عالم ہے تن تنہا رہے ، شوہر کا پيچھا کرنے لگتی ہيں ابراہيم ! ہم ماں بيٹے کو اس سنسان وادی ميں چھوڑکر آپ کدھر جا رہے ہيں ؟ بار بار کہتی جا رہی ہيں اور ابراہيم ہيں کہ لوٹ کر ديکھ نہيں رہے ہيں ، جدائی کے غم سے دل توپھٹا جا رہا تھا ليکن حکم تھا اللہ تھا مڑکرديکھيں تو کيسے ديکھيں ؟ بالآخر پوچھتی ہيں : کيا يہ اللہ کا حکم ہے ؟ آپ نے فرمايا : ہاں ۔ تب ہاجرہ توکل واعتماد اور صبر کی پيکر بن کر گويا ہوتی ہيں : اذن لا يضيعنا تب تو اللہ تعالی ہميں ضائع نہ ہونے دے گا ۔ سبحان اللہ ! کيسا يقين تھا ہاجرہ کا اللہ پر ، اور کيسی تربيت کی تھی ابراہيم عليہ السلام نے اپنی بيوی کی کہ جب اللہ کاواسطہ ديا جاتا ہے توساری بے چينی جاتی رہتی ہے ۔ حاجی بھائيو! حج ميں ہميں يہی سبق ملتا ہے کہ اللہ پر ہمارا پختہ يقين ہوجائے ، اس کے د امن ميں پناہ لی ہے تو دنيا کی کوئی طاقت ہميں نقصان نہيں پہنچا سکتی ۔ اس طرح حضرت ہاجرہ عليہا السلام اسماعيل عليہ السلام کے ساتھ مکہ کی اس غيرآباد اور سنسان جگہ پر رہنے لگیں، کچھ دن بيتا ہی تھا کہ کھجور اور پانی ختم ہو گيا ،پياس سے ہونٹ خشک ہونے لگا ، ننھا اسماعيل بھی پياس کی شدت سے بلکنے لگا ، دوڑکر کر سامنے کے قريبی پہاڑ صفا پر چڑھتی ہيں کہ کہيں کوئی چشمہ دکھائی دے يا کوئی انسان مل جائے ليکن ہر طرف ہو کا عالم ہے دوڑ کر مروہ کی طرف جاتی ہيں ، بدحواسی کا عالم ہے ، کبھی بچہ کی طرف ديکھتی ہيں، کبھی صفا پر چڑھتی ہيں ،اور کبھی مروہ پر چڑھتی ہيں اس طرح سات چکر لگ جاتا ہے اور انہيں ہوش نہيں ۔اسی وقت بحکم الہی جبريل امين آتے ہيں ،اور اپنی پنڈلی زمين پر مارتے ہيں جس سے پانی کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے خود پيتی ہيں اور ننھے اسماعيل کو پلاتی ہيں ۔

يوم عرفہ کی دعاء:

حج ميں توحيد کے مظاہر ميں سے ايک مظہر يوم عرفہ کی وہ مشہور دعا ہے جس کا حاجی عرفہ کے دن بکثرت اہتمام کرتے ہيں ۔ ترمذی کی روايت کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما کا بيان ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمايا :
" بہترين دعا وہ ہے جو يوم عرفہ ميں مانگی جائے ، ميں نے اور مجھ سے پہلے انبياء نے جو دعائيں کی ہيں ان ميں سے افضل دعا يہ ہے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شريک لہ ،لہ الملک ولہ الحمدوھوعلی کل شيیءقدير اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہيں اور اس کا کوئی شريک نہيں ،سارے جہاں کی بادشاہی اور ہر قسم کی تعريف اسی کے ليے ہے اور وہ ہر چيز پر قدرت رکھتا ہے" ۔
اس دعا کی شروعات کلمہ طيبہ لا الہ الا اللہ سے ہوتی ہے ، جس کو زبان سے بولے بغير ايک انسان مسلمان نہيں ہو سکتا ليکن افسوس کہ سارے مسلمان اس کلمہ کا ورد کرتے ہيں تاہم کتنے لوگ اس کے معنی سے بھی ناواقف ہےںاور کچھ لوگ اس کے معنی سے واقف توہيں پراس کے مطابق ان کی زندگی گذر نہيں رہی ہے کلمہ طيبہ کا سيدھا سادھا مطلب ہوتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں،يعنی عبادت کی حقدارصرف اللہ رب العالمين کی ذات ہے ، عبادت کيا ہے ؟ نماز ،روزہ ،حج ،قربانی، دعا، نذر ونياز ، رکوع اور سجدہ يہ سب عبادات کے زمرے ميں آتے ہيں جواللہ رب العالمين کے ليے خاص ہونے چاہيے  

دعا ميں توحيد کے مظاہر :

سفرحج ميں حجاج کرام جس چيز کا سب سے زيادہ اہتمام کرتے ہيں وہ دعا ہے ۔ ذرا اللہ کے ان مہمانوں پرنظر دوراؤجو دنيا کے مختلف خطے سے آئے ہيں، مختلف بولياں بولنے والے ہيں،مختلف لہجے استعمال کرنے والے ہيں،ليکن جب سب ايک ہی وقت ميں اللہ تعالی کے سامنے ہاتھ اٹھاتے ہيں تو اللہ تعالی سب کی زبان بيک وقت سن ليتا ہے،اس پر زبانيں مختلف نہيں ہوتيں ،مانگنے والے مختلف ہوتے ہيں ،سوالات بھی مختلف ہوتے ہيں ، اورزبانيں بھی مختلف ہوتی ہيں ليکن وہ سب کی سنتا اور سب کو عنايت کرتا ہے ۔ تاريک رات ميں چيونٹی کی آہٹ کو سنتا ہے ۔ جنگل ميں ايک پتے گرتے ہيں ان سے بھی و ہ واقف ہے ، سمندر کی تاريکی ميں چھوٹی سی چھوٹی مچھلی کو وہی خوراک پہنچا رہا ہے ۔ سيدہ عائشہ صديقہ رضي الله عنها کہتی ہيں :خولہ بنت صامت دربار نبوت ميں اپنے شوہر کے تعلق سے کچھ بحث وتکرار کر رہی تھيں ، ميں پردے کی اوٹ ميں تھی ہميں اس کی بعض باتيں سننے ميں نہيں آرہی تھیںليکن اللہ تعالی نے فورا ساتوں آسمان کے اوپر سے خولہ کی بات سن لی اور يہ آيت نازل فرمائی قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا (المجادلة ۱) يقينا اللہ تعالی نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے ميں تکرار کر رہی تھی ۔
يہ تويہ ہے اللہ تعالی دلوں کے بھيد کو بھی جانتا ہے ، ہميں ضرورت پيش آنے سے پہلے ہماری ضرورت کو جان ليتا ہے ، جب ہم مانگنے کا ارادہ کرتے ہيں تو وہ ہمارے ارادے سے واقف ہوجاتا ہے ۔ اور حج کا سفر ہميں يہی پيغام ديتا ہے کہ ہميں جو کچھ مانگنا ہو اللہ تعالی سے مانگيں، مدد طلب کرنی ہوتو اللہ تعالی سے مدد طلب کريں: قل من بيدہ ملکوت کل شيئیا(المومنون88
اے (محمد صلى الله عليه وسلم) آپ کہہ ديجئے کس کے ہاتھ ميں ہرچيز کی بادشاہت ہے"  
فسبحان الذی بيدہ ملکوت کل شئيی (يسن 83) 
"پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ ميں ہر چيز کی بادشاہت ہے" ۔

رحمت باری تعالی مظاہرہ

ايک حاجی منسک حج ميں اللہ تعالی کی بے پناہ رحمتوں کا بھی مشاہدہ کرتا ہے ۔ايک انسان زندگی بھر گناہوں ميں ڈوبا رہا ،ساٹھ اور ستر سال کی عمر ہو گئی ہے اب جبکہ اسے اللہ کی عظمت کااحساس ہوا ، اس کی گرفت کاڈر لاحق ہوا توتوبہ کی اور حج کو چلا گيا ذرا غور کرو ايسے شخص کو کيسا انعام ربانی حاصل ہوتا ہے:
 من حج فلم يرفث ولم يفسق رجع کيوم ولدتہ أمہ (بخاری مسلم)
" جس نے حج کيا اور دوران حج اس سے نہ کوئی شہوانی فعل سرزد ہوا اور نہ ہی اس نے فسق وفجور کا ارتکاب کيا وہ گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو کر لوٹا گويا آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم ديا ہے" ۔
بلکہ عرفہ کا دن آتا ہے تو اللہ تعالی سماء دنيا پر اترتا ہے اور فرشتوں کو فخريہ کہتا ہے:
 أنظروا إلی عبادی أتونی شعثا غبرا ضاجين من کل فج عميق أشھدکم أنی قد غفرت لهم (ابن خزيمہ).
" ميرے بندوں کو ديکھو وہ کس طرح گرد آلود وپراگندہ بال ہوکر مجھے پکارتے ہوئے دوردراز سے ميرے ليے آئے ہيں ميں تمہيں گواہ بناکر کہتا ہوں کہ ميں نے ان سب کو بخش ديا" ۔
اس کی رحمت ديکھو کہ وہ گناہوں کو معاف ہی نہيں کرتا بلکہ انہيں نےکيوں ميں تبديل کرديتا ہے ۔

يوم النحرکی يادگار:

10ذی الحجہ يعنی يوم النحر کو جو عام لوگوں کے ليے عيد کا دن ہوتا ہے حجاج کرام وحدانيت کے بے پناہ مظاہرکا مشاہدہ کرتے ہيں آج کے دن حجا ج کرام جمرات کو کنکرياں مارنے کے ليے منی آتے ہيں، ان کے ساتھ سات کنکرياں ہوتی ہيں، يہيں ہدی کا جانور بھی ذبح کرتے ہيں ايسے لمحات ميں ان کا ذہن توحيد کے پيشوا ابراہيم عليہ السلام کی موحدانہ زندگی کی طرف چلا جاتاچاہئے۔ وہ ابراہيم جنہوں نے کفروشرک سے اٹے سماج کو توحيد خالص کا پيغام سنايا ، جس کے پاداش ميں دہکتی ہوئی آگ ميں ڈالے گيے ليکن آگ ابراہيم کے ليے گل گلزار بن گئی، توحيد کا پيغام سنانے کے جرم ميں باپ نے رشتہ کاٹ ليا اور گھر سے بے گھر کر ديا ، سالوں تک جلاوطنی کی زندگی گذاری، مصر ميں پہنچے تو وہاں کمبخت بادشاہ نے آپ کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی ليکن وہ خائب وخاسر رہا اور ہاجرہ کی شکل ميں ايک لونڈی بھی نوازا، ابراہيم عليہ السلام اب تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے، دعا کی ، اللہ تعالی نے اسے قبوليت بخشی اور حضرت ہاجرہ کے بطن سے ننھا اسماعيل پيدا ہوا ،يہاں بھی ايک آزمائش ہوئی کہ ہاجرہ اور ننھے اسماعيل کو مکہ کی بے آب وگيا ہ سرزمين ميں بساآوچنانچہ حکم کی تعميل کی گئی اوريہيں اللہ تعالی نے ہاجرہ واسماعيل کے ليے آب زمزم جاری کيا ، مرور ايام کے ساتھ جب اسماعيل چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو اللہ تعالی کی طرف سے آخری آزمائش آئی کہ اپنے لخت جگر کو اللہ کی راہ ميں قربان کردو ، بيٹے کے پاس آتے ہيں اور خواب کاتذکرہ کرتے ہيں يا بنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری بيٹے ! ميں نے خواب ميں ديکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہاہوں بتاوتيری کيا رائے ہے ۔ ديکھئے پاکيزہ ذريت کيسی ہوتی ہے ؟ اللہ تعالی توحيد پرستوں کی ذريت کو کس قدر نيک اور صالح بناتا ہے ۔ وفاشعار بيٹا جواب ديتا ہے يا ابت افعل ما تومر ابوجان ! آپ کو جس کام کا حکم ملا ہے کر گذرئيے ۔ اس ميں پس وپيش نہ کيجئے ، ہم پراعتماد کيجئے:
ستجدنی إن شاءللہ من الصابرين.
 " ہميں ان شاءاللہ آپ صبر کرنے والوں ميں سے پائيں گے"۔

آج ذی الحجہ کی دسويں تاريخ ہے ابراہيم عليہ السلام اسماعيل کوليے منی کی سرزمين ميں پہنچتے ہيں ، شيطان آج کے دن متحرک اور فعال ہوجا رہا ہے ، کبھی ابراہيم کو ورغلاتا ہے، کبھی ہاجرہ کو ورغلاتا ہے، اور کبھی اسماعيل کے ذہن ميں شبہ ڈالتا ہے جب ہر طرف سے منہ کی کھانا پڑتی ہے تو زبردستی شيطان جمرات کے پاس کھڑا ہوکر رکاوٹ بن جاتا ہے، جبريل امين آتے ہيں اور ابراہيم عليہ السلام کو بتاتے ہيں کہ سات کنکرياں اٹھائيے اور شيطان کو مارئيے چنانچہ ابراہيم عليہ السلام ايسا ہی کرتے ہيں اور شيطان ذليل وخوار ہوکر بھاگتا ہے ۔چنانچہ حجاج کرام جمرات کوکنکرياں مار کراسی سنت کو تازہ کرتے ہيں ۔
 بہرکيف جب ابراہيم عليہ السلام منی کی سرزمين ميں پہنچ جاتے ہيں تو وفاشعار بيٹا عرض کرتا ہے، ابوجان! آپ ذبح کرنے سے پہلے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ ليجئے ايسا نہ ہوکہ شفقت پدری کا غلبہ آجائے اورآپ حکم الہی کی تعميل ميں ناکام ہوجائيں چنانچہ ابراہيم عليہ السلام پوری تياری کے ساتھ چھری ہاتھ ميں ليتے ہيں اور اسماعيل کو لٹاکر گردن پر چھری پھيرديتے ہيں ليکن چھری بھی تو اللہ کے حکم کے تابع ہے گردن پرحرف آئے تو کيسے ؟ پکار آئی:
 فلما أسلما وتلہ للجبين وناديناہ أن يا ابراہيم قد صدقت الرؤيا إنا کذلک نجزی المحسنين (الصافات 105-103)
غرض جب دونوں مطيع ہوگيے اورباپ نے بيٹے کو پيشانی کے بل گراديا تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہيم ! يقينا تونے اپنے خواب کو سچا کر دکھايا بيشک ہم نيکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا ديتے ہيں ۔ بہرکيف حجاج کرام کوچاہئے کہ جمرات کو کنکرياں مارتے اور ہدی کے جانور ذبح کرتے ہوئے اس قصے کواپنے ذہن ودماغ ميں تازہ رکھيں۔

قربانی:

آج کے دن يعنی دسويں ذی الحجہ کو حجاج کرام جمرہ عقبہ کو کنکری مارنے کے بعد قربانی کريں گے ، قربانی کے اندر بھی وحدانيت کے مظاہر کھل کر سامنے آتے ہيں ، يہ خون بھی خالق ارض وسما کے نام پر بہانا ہے، کسی درخت ،پتھر،بت ، ولی ، يا فقير کے نام پر نہيں چنانچہ جب بندہ اللہ کا نام ليکر جانور کے گردن پر چھری پھيرتا ہے تو خون گرنے سے پہلے اللہ رب العزت کی بارگاہ ميں قبوليت حاصل کر ليتا ہے:
 قل ان صلاتی ونسکی ومحيای ومماتی للہ رب العالمين (الانعام 162)
" آپ فرماديجئے کہ باليقين ميری نماز اور ميری قربانی،اور ميراجينا اور ميرا مرنا يہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جوسارے جہاں کا مالک ہے"-

فصل لربک وانحر (الکوثر2) " پس اپنے رب کےليے نماز پڑھ اور قربانی کر"۔

پتہ يہ چلا کہ ذبح ايک عبادت ہے جو خالص اللہ رب العالمين کے نام سے ہونی چاہئے صحيح مسلم ميں حضرت علی رضي الله عنه سے روايت ہے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمايا:
 لعن اللہ من ذبح لغيراللہ.
 ”اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جس نے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر جانور ذبح کيا “۔
غيراللہ کے نام سے جوبھی خون بہايا جائے يہ شرک ہے خواہ ايک مکھی کا بھينٹ چڑھانا ہی کيوں نہ ہو چنانچہ امام احمد نے کتاب الزھد ميں اور ابونعيم نے حليہ الاولياء ميں سلمان فارسی سے موقوفا روايت کيا ہے کہ
” ايک شخص ايک مکھی کے سبب جنت ميں داخل ہوا اور ايک شخص مکھی کے سبب جہنم رسيد ہوا “ لوگوں نے پوچھا : يہ کيسے ہوا ؟ فرمايا : تمہارے پہلے لوگوں ميں سے دو شخص کا گذر ايسے لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے پاس ايک بت تھاجو کوئی وہاں سے گذرتا ان کے بت کے ليے کچھ نہ کچھ بھينٹ چڑھا۔ چنانچہ لوگوں نے ان ميں سے ايک سے کہا : کچھ بھينٹ چڑھاؤ، اس نے جواب ديا : ميرے پاس کچھ بھی نہيں ہے ۔ لوگوں نے کہا : کچھ نہ کچھ چڑھا ايک مکھی ہی سہی ۔ چنانچہ اس نے ايک مکھی چڑھا دی اور گذرگيا جس کے باعث وہ جہنم رسيد ہوا اور دوسرے شخص سے لوگوں نے کہا : کچھ بھينٹ چڑھاؤ۔ اس نے جواب ديا : ميں اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر کوئی چيز قطعا بھينٹ نہيں چڑھا سکتے جس سے انہوں نے ان کا سرقلم کرديا چنانچہ وہ جنت ميں گيا. ( يہ روايت ضعيف  ہے) 
بہرکيف حج ميں وحدانيت کی يہ چند مثاليں تھيں جنہيں ہم نے اختصار سے پيش کيا ہے اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہيں کہ حج کا يہ عظيم منسک بھی ہميں ہر ہر قدم پر وحدانيت کی تعليم ديتا ہے اور کيوں نہ دے جبکہ يہی ہماری تخليق کا مقصد ہے ۔ لہذا ضرورت ہے کہ ہم حج اورديگر عبادات ميں اس پہلو کو ہمہ وقت سامنے رکھيں کيوں کہ يہی وہ بنيادی نکتہ ہے جو ہماری عبادات کو غيرقوموں کی عبادات سے مميز کرتا ہے ۔

مکمل تحریر >>