منگل, فروری 19, 2013

پانی کی حفاظت اور ہماری ذمہ داری


 ساری تعريف اس اللہ کے ليے ہے جس نے اپنی کتاب ميں فرمايا :
وجعلنا من الماء کل شیءحی (الانبياء 30 )
 ہم نے پانی سے ہر زندہ چيز کو زندگی بخشا ۔
بندوں پراللہ تعالی کے انعامات ميں سے ايک بيش بہا اور عظيم نعمت پانی ہے جيساکہ اللہ تعالی نے فرمايا :
 افرايتم الماءالذی تشربونءانتم انزلتموہ من المزن ام نحن المنزلون لونشاءجعلناہ اجاجا فلولا تشکرون ﴿ (الواقعة 68-70)
اچھا يہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پيتے ہو اسے بادلوں سے تم نے برسايا يا برسانے والے ہم ہيں ؟ اگر ہم چاہيں تو اسے کڑوا زہر بناکر رکھ ديں، تو پھر تم شکرگذاری کيوں نہيں کرتے-

پانی انسانيت کی ضروريات زندگی ميں سے ايک پيش قيمت چيز ہے جس کا احساس چھوٹا بڑا ہر ايک کرتا ہے، يہ ايسی نعمت ہے جس سے کوئی چيز بے نياز نہيں ہو سکتی خواہ انسان ہو يا حيوان يا نباتات، کھانے کی چيز بنانی ہو يا پينے کی، طہارت حاصل کرنی ہو يا دواوں کی تياری، صنعتی کارو بار ہو يا کاشتکاری سبہوں کے ليے پانی کی ضرورت پڑتی ہے ۔

انسانيت خواہ کتنی ہی ترقی کر لے يا اس کی ترقی رک جائے ليکن حقيقت يہ ہے پانی کی ضرورت روزانہ بڑھتی ہی جارہی ہے اور ہر سو پانی کی حفاظت اور اس کی بچت کے  طريقہء کار پر بحثيں ہو رہی ہيں ۔

پانی ہر ملک کا بنيادی اقتصاد اور اسکی ترقی کی اساس ہوتا ہے، اس کی دستيابی سے انسانيت ترقی کرتی ہے جبکہ اس کی کميابی سے مختلف مشکلات اور پريشانيوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔

آج ہر شخص پانی کا غلط استعمال کر رہا ہے، غسل خانے، پيشاب خانے، رسوئی گھر اور کاشتکاری نيز باغيچوں کی سينچائی وغيرہ ميں پانی کی کھپت زيادہ مقدار ميں ہو رہی ہے ۔
اس ليے ہم پر ضروری ہے کہ ہم يکسو ہو کر پانی کی حفاظت کريں، اسے بيکار برباد نہ کريں، کيوں کہ کسی بھی نعمت کا غلط استعمال غربت و افلاس کامحرک اور زوال نعمت کا سبب بنتا ہے ۔
فضول خرچی کرنے والے کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہيں ہوتا کہ وہ اپنی خواہشات اور جذبات کی تکميل کرلے، نہ اسے اپنے انجام کی فکر ہوتی ہے نہ دوسروں کے انجام کی جب کہ اسلام فضول خرچی سے منع کرتا اور اعتدال و توازن کی تاکيد کرتا ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمايا :

 وکلوا واشربوا ولا تسرفوا انہ لا يحب المسرفين  (الاعراف 31)
 اورکھاؤ اور پيو اورحد سے آگے نہ بڑھو بيشک وہ حد سے آگے بڑھنے والے کو پسند نہيں کرتا ۔
ہمارے ليے اسوہ حسنہ پيارے نبی صلي الله عليه وسلم کی ذات مبارکہ ہونی چاہيے جن کی پاکيزہ زندگی اعتدال وتوازن کا عملی نمونہ تھی، آپ ہر چيز کی بچت کرنے اور کفايت شعار زندگی گذارنے کے عادی تھے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضي الله عنه بيان کرتے ہيں کہ  نبی اکرم صلي الله عليه وسلم حضرت سعد رضي الله عنه کے پاس سے گذرے جب کہ وہ وضو کر رہے تھے ( اور پانی کا استعمال ضرورت سے زيادہ کر رہے تھے ) آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا :
اے سعد ! يہ کيا فضول خرچی ہے ؟ انہوں نے پوچھا : کيا وضو ميں بھی فضول خرچی ہے ؟ آپ  صلي الله عليه وسلم نے فرما يا :
 ہاں کيوں نہيں، گو کہ تم بہتی ندی کے کنارے ہی کيوں نہ ہو۔
اللہ کا لاکھ لاکھ  شکر ہے کہ کويت ميں ملکی وغير ملکی بھائيوں تک پانی آسانی سے پہنچ جا رہا ہے ۔ کويت کا کوئی ايسا گوشہ نہيں جہاں پانی وافر مقدار ميں دستياب نہ ہو ، ايسا حقيقت ميں اللہ تعالی کے فضل وکرم کی بدولت ہی ہو سکا ہے ۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ ہم اس بيش قيمت نعمت کی قدر کرتے جس سے کويت ميں بود وباش اختيار کرنے والا ہر انسان لطف اندوز ہو رہا ہے، ليکن صد حيف ايسا نہ ہو سکا ۔ پانی کو بيکار برباد کرنا ابھی بھی جاری اور عام ہے ۔

آبی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق کويت روزانہ پانی نکالتا ہے اور اسی دن اس کی کھپت بھی ہو جاتی ہے، اگر يہی صورتحال رہی تو آنے والے سالوں ميں پانی کی کمی کا مسئلہ درپيش ہوگا، نتيجة حکومت بھی پانی کی قيمت ميں زيادتی کرنے پر مجبور ہوگی، کيوں کہ اس کے علاوہ ملک کے پاس کوئی دوسرا علاج نہيں ۔ اس ليے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس سنگين صورتحال پرقابو پائيں جو ہماری زندگی اور اس کی دھاراوں کے ليے چيلينج بنی ہوئی ہے۔
اپيل
ہم آئی پی سی کی طرف سے تمام ملکی وغيرملکی بھائيوں سے اپيل کرتے ہيں کہ وہ پانی کی کمی کے سبب پيدا ہونے والے سنگين خطرات کا احساس کريں جو پانی کے وافر مقدار ميں برباد ہونے سے پيدا ہونے والے ہيں ۔ پھر اس گران قدر نعمت کی حفاظت کے تدابير سوچيں اور ذمہ داروں کے تعاون سے اس مسئلے کے حل کی طرف پيش قدمی کريں، کيوں کہ پانی کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے ۔

پانی کی بچت کے ليے کچھ طريقہء کار

(1) کھيتوں اور باغيچوں کی  سينچائی بذريعہ پائپ کرنے کی بجائے بالٹی کا استعمال کريں ، اسی طرح صبح يا شام ميں باغيچے کی سينچائی کرنے سے پانی کی لاگت کم ہوگی، جس سے بہت حد تک پانی کی بچت ہو سکتی ہے

(2) کيا آپ جانتے ہيں کہ گاڑيوں کو بذريعہ پائپ دھونے ميں 300 ليٹر پانی برباد ہوتا ہے ، اسليے گاڑی دھوتے وقت بالٹی يا ڈول کا استعمال کريں ۔

(3) برش کرتے وقت، چہرہ بناتے وقت، برتن دھلتے وقت، يا گرم پانی کے انتظار ميں نل کھلا رکھنے سے بچيں، اسی طرح کام ہونے کے  بعد نل کو اچھی طرح سے بند کرديں، ا گر استعمال کيے گيے پانی کو دوسرے کاموں ميں لانا ممکن ہو تو لا ليں ۔

(4) گرنے والے تھوڑے بوند سے وافر مقدار ميں پانی برباد ہو جاتا ہے، اگرپورے دن پانی کے بوند  گرتے رہيں تو ايک دن ميں تقريبا 27 ليٹر پانی ضائع ہو تا ہے ۔

مکمل تحریر >>

سوموار, فروری 18, 2013

"امی جان صبر کرو کيوں کہ آپ حق پر ہو"

حديث ميں ہے ” اسراء کی شب ميرا گذر ايک ايسی جگہ سے ہوا جہاں ميں نے نہايت اچھی خوشبو پائی : ميں نے جبريل عليه السلام سے دريافت کيا : يہ اچھی خوشبو کس چيز کی ہے ؟ جبريل عليه السلام نے کہا : يہ اس خاتون کی خوشبو ہے جو فرعون کی بيٹی کو کنگها کرتی تھی ۔ ايک دن کنگھا کر رہی تھی کہ دفعتا کنگھی اس کے ہاتھ سے گر گئی، اس نے (کنگھی کو اٹھاتے ہوئے) کہا: بسم اللہ، اللہ کے نام سے فرعون کی بيٹی نے کہا : مرے باپ ؟ (يعنی کيا تم اللہ سے مراد ميرے باپ ہی کو لے رہی ہو يا کسی اور کو ؟ ) خاتون نے کہا : ميری مراد اس رب سے ہے جو ميرا اور تيرے باپ کا رب ہے، فرعون کی بيٹی نے کہا : اچھا تو کيا ميں يہ بات اپنے باپ کے گوش گزار کردوں ؟ خاتون نے کہا : ( کوئی بات نہيں ) کہہ دو ۔ (چنانچہ دختر فرعون نے فرعون سے سارا قصہ سنا ديا ) فرعون نے خاتون سے پوچھا : أو لک رب غيری ؟ کيا ميرے علاوہ بھی تيرا کو ئی رب ہے؟ خاتون نے (برجستہ ) جواب ديا : ميرا اور تيرا پروردگار وہ اللہ ہے جو آسمان پر ہے۔ مومنہ خاتون کا يہ جواب سن کر فرعون آگ بگولا ہوگيا، اور ايک گڈھے ميں تانبا پگھلانے کا حکم ديا، جب تانبہ پگھل کر بالکل سرخ ہو گيا تو اس کی نگاہوں کے سامنے اس کے بچوں کو ايک ايک کر کے اس ميں ڈال ديا، سب سے اخير ميں اس کی باری آئی ، چوں کہ اس کی گود ميں ايک شير خوار بچہ تھا اس ليے ذرا جھجھک محسوس ہوئی، چنانچہ اللہ تعالی نے اسے گويائی عطا فرمادی ، اس نے کہا : يا أماہ اصبری فإنک علی الحق. "امی جان صبر کرو کيوں کہ آپ حق پر ہو"

اس واقعے سے دين پر ثابت قدمی اور استقامت کے سنہرے نتائج  کا پتہ چلتا ہے کہ اگر دين کی راہ ميں جان کا نذرانہ بھی پيش کرنا پڑے تو اسے بھی بلا پس و پيش قبول کر لينا چاہئے ، کيوں کہ بہترين انجام نيکو کاروں کا ہوتا ہے ۔ 
مکمل تحریر >>

بدھ, فروری 06, 2013

ابرص، گنجا اور اندھا كى کہاني


پيارے بچو! آپ کے ابّو امّی کبھی کبھی آپ کو قصے کہانياں ضرور سناتے ہوں گے۔ آئيے آج ہم بھی آپ کو ايک قصہ سناتے ہيں، يہ وہ قصہ ہے جسے پيارے نبی محمد صلي الله عليه وسلم نے ايک دن اپنے ساتھيوں کی مجلس ميں بيان کيا تھا پہلے زمانہ ميں تين آدمی تھے :
1. ابرص:(سفيد داغوں والا، جس کے جسم پرسفيدی ہو)
2. گنجا : (جس کے سرپر بال نہ ہو )
3. اندھا : (جس كوآنكھ سے دكهائي نہ ديتا ہو)
اللہ پاک نے ان تينوں کو آزمانے کا ارادہ فرمايا، چنانچہ اللہ پاک نے ان تينوں کے پاس فرشتہ بھيجا، فرشتہ سب سے پہلے سفيد داغوں والے کے پاس آيا اور اس سے پوچھا : ”تجھے کونسی چيز سب سے زيادہ محبوب ہے ؟ “
اس نے جواب ديا : ” اچھا رنگ خوبصورت جسم اور يہ سفيد داغ مجھ سے دور ہوجائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہيں “
فرشتے نے اس کے سرپر ہاتھ پھيرا تو اللہ کے حکم سے اس کی گھن کھانے والی بيماری دور ہو گئی اور اسے خوبصورت رنگ دے ديا گيا ۔ فرشتے نے اس سے پھر پوچھا: تجھے کونسا مال زيادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : ”اونٹ “
چنانچہ اسے آٹھ دس مہينے کی گابھن اونٹنی دے دی گئی اور فرشتے نے اسے دعا دی کہ اللہ تعالی تيرے ليے اس ميں برکت عطا فرمائے ۔ پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آيا : اس نے گنجے سے پوچھا : ”تجھے کونسی چيز سب سے زيادہ پسند ہے ؟ “
 اس نے کہا : ”ميری خواہش يہ ہے کہ ميرا گنجاپن دور ہو جائے اور ميرے سرميں خوبصورت بال اگ آئيں“ ۔
فرشتے نے اس کے سرپر ہاتھ پھيرا جس سے اس کا گنجاپن دور ہو گيا اور اسے اللہ تعالی کی طرف سے خوبصورت بال عطا کر دئيے گيے ۔ پھر فرشتے نے گنجے سے بھی پوچھا کہ : ”تجھے کون سا مال سب سے زيادہ پسند ہے ؟“ اس نے کہا : ”گائے “۔ چنانچہ فرشتے نے اسے ايک گابھن گائے ديا اور دعا دی کہ ”اللہ تعالی تيرے ليے اس ميں برکت عطا فرمائے “ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آيا : اور پوچھا : ”تجھے کونسی چيز سب سے زيادہ پسند ہے ؟“
اندھے کو کيا چاہئے ؟ دو آنکھ ۔ اس نے کہا: ”ميری خواہش يہ ہے کہ اللہ تعالی ميری بينائی لوٹا دے تاکہ لوگوں کو ديکھ  سکوں “ ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اس کی بينائی لوٹا دی ۔ فرشتے نے اس سے پوچھا : ”تجھے کون سا مال زيادہ پسند ہے ؟ “
اس نے کہا :” بکرياں“ ۔ چنانچہ اسے ايک بکری دے دی گئی
اس طرح ابرص ، گنجے اور اندھے تينوں کے جانوروں نے خوب بچے ديئے ، سفيد داغوں والے کے ہاں ايک وادی اونٹوں کی ہوگئی ۔ گنجے کے ہاں ايک وادی گايوں کی ہوگئی، اور اندھے کے ہاں ايک وادی بکريوں کی ہو گئی ۔
پيارے بچو! جانتے ہيں اس کے بعد کيا ہوا ؟ اللہ پاک جب ديتا ہے تو اس کی چاہت ہوتی ہے کہ بندہ اس کے ديئے ہوئے مال ميں سے غريبوں مسکينوں اور لاچاروں کی بھی مدد کرے۔ آئيے ہم باقی قصہ سنتے ہيں
اللہ تعالی نے ايک عرصہ کے بعد اسی فرشتہ کو ابرص ، گنجے اور اندھے کے پاس بھيجا تاکہ اس کی آزمائش کرے چنانچہ فرشتہ سب سے پہلے سفيد داغوں والے کے پاس اسی کی پہلی شکل ميں آيا : اور کہا
” ميں مسکين آدمی ہوں ، سفر ميں ميرے وسائل ختم ہوگئے ہيں ، آج ميرے وطن پہنچنے کا کوئی وسيلہ نہيں سوائے اللہ کے اور پھر تيرے، اس ليے ميں تجھ سے اللہ کے نام پرايک اونٹ کا سوال کرتا ہوں، وہ اللہ جس نے تجھے اچھا رنگ ، خوبصورت جسم اور مال عطا کيا ہے “
اس نے جواب ديا : ميرے ذمہ پہلے ہی بہت سے حقوق ہيں مجھ سے تيری مدد نہيں ہو سکتی ۔ يہ سن کر فرشتے نے اس سے کہا : ”ميں تجھے پہچانتا ہوں، کيا تو وہی نا ہے جس کے جسموں پر سفيد داغ تھے لوگ تجھ سے گھن کھاتے تھے، تو فقير تھا، اللہ نے تجھے مال سے نواز ديا.... “؟
اس نے کہا: ”بھئی ! يہ مال تو مجھے باپ دادا سے ورثے ميں ملا ہے “
فرشتے نے کہا : ” اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تجھے ويسا ہی کردے جيسا کہ تو تھا ۔ اب فرشتہ گنجے کے پاس اس کی پہلی شکل وصورت ميں آيا اور اس سے بھی وہی کہا کہ ” ميں مسکين آدمی ہوں ، سفر ميں ميرے وسائل ختم ہوگئے ہيں، اس ليے ميں تجھ سے اللہ کے نام پرايک ايک گائے کا سوال کرتا ہوں، وہ اللہ جس نے تجھے خوبصورت بال عطا کيا ہے “
گنجانے وہی جواب ديا جو ابرص (سفيد داغوں والا) نے ديا تھا کہ ميرے پاس پہلے ہی سے بہت سارے حق والے ہيں فرشتے نے اسے احساس دلايا کہ کبھی تو گنجا تھا، لاچار تھا، آج اللہ نے تجھے نعمت دے دی تو اپنی پہلی حالت کو بھول گيا “
 اس نے کہا : ” يہ مال تو مجھے ميرے باپ دادا سے ورثے ميں ملا ہے “
فرشتے نے اسے بھی بددعا دی کہ” اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالی تجھے ويسا ہی کردے جيسا تو پہلے تھا “۔
فرشتہ پھر اندھے کے پاس اس کی پہلی شکل ميں آيا، اوراس سے کہا : ”ميں مسکين اور مسافر آدمی ہوں ميرے وسائل سفر ختم ہوگئے ہيں، اب ميرے ليے وطن پہنچنا، اللہ کی مدد پھر تيری مالی اعانت کے بغير ممکن نہيں، اس ليے ميں تجھ سے اس ذات کے نام سے، جس نے تيری بينائی تجھ پر لوٹادی، ايک بکری کا سوال کرتا ہوں تاکہ اس کے ذريعہ سے ميں منزل مقصود تک پہنچ جاؤں “
اندھے نے کہا: بلاشبہ ميں اندھا تھا، اللہ تعالی نے ميری بينائی بحال کردی ۔ تيرے سامنے بکريوں کا ريوڑ ہے، ان ميں جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے “
يہ سن کر فرشتے نے اسے کہا : ” اپنا مال اپنے پاس ہی رکھ ، تيرا امتحان مقصود تھا، جس ميں توکامياب رہا ، اور اللہ تجھ سے راضی ہوگيا اور تيرے دونوں ساتھی ناکام رہے اوراللہ تعالی ان دونوں سے ناراض ہوگيا“ ۔
بچو! ديکھا آپ نے کہ کيسے اللہ تعالی نے سفيد داغ والے کا داغ ختم کرديا اور اسے ايک گابھن اونٹ ديا جس سے اس کے پاس اونٹ ہی اونٹ ہوگيے، ليکن جب اس نے اللہ پاک کے احسان کو بھلا ديا تواللہ پاک نے اس سے وہ نعمت چھين لی اور جيسا وہ پہلے تھا ويسا ہی بناديا۔ اور گنجے کا گنجاپن دور کرکے اُسے ايک گائے ديا جس سے اس کے پاس ايک وادی گائيں ہوگئيں ليکن جب اس نے بھی ناشکری کی تو اللہ پاک نے اس سے بھی اپنی نعمت چھين لی ليکن جب اندھے نے اللہ کی نعمت کو ياد رکھا تواللہ تعالی اس سے خوش ہوا اور اس کی نعمت کو بدستور بحال رکھا ۔

پيارے بچو! اس قصے سے ہميں سبق ملتا ہے کہ فقيروں کو بہانا بناکردروازے سے بھگانا نہيں چاہيے بلکہ جو ميسر ہو ضرور دينا چاہئے ، کيا خبر کہ کل اللہ پاک ہميں بھی ويسا ہی بنا دے ۔

مکمل تحریر >>

ہوشيار باش !




اگرکسی تاجر کے پاس ايک سامان ايسا ہوجس ميں 100 دينار کا نفع ہو رہا ہو اور دوسرا سامان ايسا ہو جس ميں 1000 دينار کا نفع مل رہا ہو توذرا بتائيں وہ کس سامان کی تجارت پہلے شروع کرے گا ؟ ظاہر ہے دوسرے سامان کی ۔ 
لہذا اگر آپ کسی شخص کو ديکھيں کہ وہ اہم کام چھوڑکرکسی غير اہم کام ميں لگا ہوا ہے تو سمجھ ليں کہ وہ فريب خوردہ ہے، شيطان نے اسے اپنے دام تزوير ميں پھانس ليا ہوا ہے ۔
 ترجيحات  وقت اسی کا نام ہے کہ جس وقت جوکام اہم ہو اسی وقت اسے انجام دياجائے کيوں کہ بعض اوقات ميں کچھ ايسے اعمال ہوتے ہيں جن کی ادائيگی ديگراعما ل کی بنسبت اہم ہوتی ہے چنانچہ جب اذان ہو رہی ہوتو کلمات اذان کودہرانا قرآن کريم کی تلاوت سے افضل ہے، خانہ کعبہ ميں ہوں تو طواف کرنا نفل نماز سے افضل ہے، اور والدين بڑھاپے کی عمرکو پہنچ چکے ہوں توان کے ساتھ  حسن سلوک کرنا جہاد سے افضل ہے ۔
 اس طرح آپ اپنے تئيں ديگر اعمال کی ايک فہرست بنا سکتے ہيں جو اپنے وقت ميں زيادہ اہم ہيں ۔
يہ شيطان کا آخری حربہ ہے جو انسان کے ساتھ استعمال کرتا ہے کيوں کہ شيطان سب سے پہلے يہ چاہتا ہے کہ انسان کو شرک وکفرميں مبتلا کردے، اگر ايسا نہيں کرپاتا تو اسے بدعت ميں پھنسانے کی کوشش کرتا ہے، اگر اس سے عاجز آتا ہے تو کبائر پر اکساتا ہے، اگر اس ميں نا کام ہوتا ہے تو صغائرکا ارتکاب کراتا ہے، اگر ايسا بھی ممکن نہ ہوسکا تو مباح کاموں ميں مشغول کرديتا ہے، اگر اس پربھی قادرنہيں ہوپاتاتو افضل کاموں سے پھير کر غيرافضل کاموں ميں پھنساديتا ہے ۔


 تحرير: طلال الفاخر
ترجمه : صفات عالم 
مکمل تحریر >>

وندے ماترم اسلامی عقیدہ پر کاری ضرب ہے

اسلام کی خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی عقیدہ توحید ہے، خالص توحید کا عقیدہ، جس میں کسی کی ادنی شرکت  گوارا نہیں ہے، اللہ کی ذات کے ساتھ کسی غیر کوشریک کرنا اسلام میں سب سے عظیم گناہ ہے ،اس کی ایسی نزاکت تھی کہ اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم سے ایک دن کسی نے کہا : ماشاء الله وشئت "جو اللہ چاہے اورآپ چاہیں" ۔ توآپ نے فرمایا:کیا تم نے اللہ کے ساتھ مجھے شریک ٹھہرا دیا ، بلکہ کہو صر ف اللہ چاہے، یا اگر کہنا چاہتے ہو تو کہو جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں ۔(نسائى )
اسی عقیدہ توحید کے لیے دنیا بنائی گئی، انسانوں کو پیدا کیا گیا، جنت وجہنم بنائی گئی ، اورانبیاء و رسل بھیجے گئے ،اسی لیے مسلمان ہر دورمیں اس کی حفاظت کرتے کرتے رہے ہیں اورکیوں نہ کریں کہ یہ اسلام کی پہلی بنیاد ہے ۔
آج کل ہندوستان میں وندے ماترم پر گفتگو چل رہی ہے، جو ہندوستان کا ایک مذہبی گیت ہے ،چونکہ یہ گیت اسلامی عقیدہ پر کاری ضرب ہے ،اس لیے اس سلسلے میں ہم گفتگو کرنا چاہیں گے ۔ وندے ماترم بنگلہ زبان کے مشہور ناول نگار بنکِم چندر چٹرجی کی ناول 'آنندمٹھ' میں شامل ہے. بنیادی طور پر یہ ناول اسلام دشمنی پر مبنی ہے ، اور اس میں انگریزوں کو اپنا مسیحا ثابت کیا گیا ہے ، . وندے ماترم ناول کا ایک حصہ ہے. ناول میں مختلف پاٹ یہ گیت "درگا" کے سامنے گاتے ہیں جو ہندو بھائیوں میں ماں کا مقام رکھتی ہے ، اور اس گیت میں بھارت کو "درگا ماں" ثابت کیا گیا ہے.
یہی وجہ ہے کہ آزادی سے پہلے ہی یہ متنازع بن گیا تھا، جواہر لعل نہرو، سبھاش چندربوس اور ڈاکٹر لوہیا جیسے عظیم رہنماوں نے اس گیت کی مخالفت کی تھی، اور جب بھارت کے قومی گیت کے انتخاب کی بات آئی تو ایک گروپ کی کوشش کے باوجود اس گیت کو قومی گیت میں شامل نہیں کیا گیا ، بلکہ بنگلہ شاعر روندرناتھ ٹیگور کے گیت کو بھارت کا قومی گیت بنایا گیا ،جس میں ملک کی تعریف کی گئی ہے اور کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی گئی ہے۔
اگر ایک مسلمان وندے ماترم کے ترجمہ پر ہی غور کر لے تو اسے پتہ چل جائے گا کہ یہ اسلام کے اصل عقیدہ توحید ہی کو گرا دیتا ہے. تو لیجئے وندے ماترم کامستند اردو ترجمہ پیش ہے اس یقین کے ساتھ کہ نقل کفر کفر نہ باشد:
تیری عبادت کرتا ہوں اے میرے اچھے پانی، اچھے پھل، بھینی بھینی خشک جنوبی ہواوں اور شاداب کھیتوں والی میری ماں ، حسین چاندنی سے روشن رات والی، شگفتہ پھولوں والی، گجان درختوں والی ، میٹھی ہنسی، میٹھی زبان والی، خوشی دینے والی، برکت دینے والی ماں، میں تیری عبادت کرتا ہوں اے میری ماں ، تیس کروڑ لوگوں کی پرجوش آوازیں، ساٹھ کروڑ بازو میں سمیٹنے والی تلواریں ، کیا اتنی طاقت کے بعد بھی تو کمزور ہے اے میری ماں ، تو ہی میرے بازو کی قوت ہے، میں تیرے قدم چومتا ہوں اے میری ماں ، تو ہی میرا علم ہے، تو ہی میرا مذہب ہے، تو ہی میرا باطن ہے، تو ہی میرا مقصد ہے ، تو ہی جسم کی روح ہے، تو ہی بازو کی طاقت ہے، تو ہی دلوں کی حقیقت ہے ، تیری ہی محبوب مورتی مندر میں ہے ، تو ہی درگا، دس مسلح ہاتھوں والی، تو ہی کملاہے، تو ہی کنول کے پھولوں کی بہار ہے ، تو ہی پانی ہے، تو ہی علم دینے والی ہے ، میں تیرا غلام ہوں، غلام کا غلام ہوں ، غلام کے غلام کا غلام ہوں ، اچھے پھل والی میری ماں، میں تیرا بندہ ہوں، لہلہاتے کھیتوں والی مقدس موہنی، آراستہ پےراستہ، بڑی قدرت والی قائم و دائم ماں ، میں تیرا بندہ ہوں اے میری ماں میں تیرا غلام ہوں. (یہ اردو ترجمہ، آل انڈیا دینی، تعلیمی کونسل لکھنو کا شائع شدہ ہے(
یہ وندے ماترم کا ترجمہ تھا جسے قومی گیت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے. گیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ ایک مذہبی گیت تو ہو سکتا ہے قومی گیت نہیں ہو سکتا. اس میں صرف - زمین کو درگا ماں مان کر اسے ہر نعمتوں کا سرچشمہ ثابت کیا گیا ہے. علم، اورطاقت، ہر خصوصیت اسی کے ساتھ منسلک کی گئی ہے اور پڑھنے والا اس کے قدموں میں وندنا کے لئے جھکا دیا جاتا ہے بلکہ وہ براہ راست اِس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ میں تیری وندنا کرتا ہوں.
جس گیت میں یہ سب کچھ کہا گیا ہو مسلمان اسے کس طرح پڑھ سکتے ہیں. کوئی بھی مسلمان اسے اچھی طرح جان لینے کے بعد اس کی حمایت نہیں کر سکتا. جن کو پتہ نہیں ہے یا انہوں نے صرف سنی سنائی باتوں پر یقین کر لیا ہے وہی اس کی حمایت کر سکتے ہیں. کیونکہ یہ تو ایک مسلمان کے بنیادی عقیدے کے خلاف ہے. مسلمان اپنے ملک کو عزیز سمجھتا ہے لیکن اس کی پوجا ہرگز نہیں کر سکتا.
اس گیت میں ملک کی مٹی کے لیے گیارہ ایسی خصوصیات ثابت کی گئی ہیں جو اسلامی نظریے سے اللہ کے علاوہ دوسرے کے لئے ثابت نہیں کی جا سکتیں. وہ خصوصیات کچھ یوں ہیں:
 (1) سکھ دینے والی (2) برکت دینے والی (3) تو ہی ہمارے بازو کی طاقت ہے (4) تو ہی میرا علم ہے (5) تو ہی میرا غیب ہے (6) تو ہی میرا مقصد ہے (7) تو ہی جسم کے اندر کی جان ہے (8) دلوں کے اندر تیری ہی حقیقت ہے (9) بڑی طاقت والی (10) قائم و دائم (11) مقدس۔
آپ غور کیجئے کہ اس گیت میں اللہ کے لیے کیا چھوڑا گیا ہے ،ساری صفات کو درگا کے لیے خاص کردیا گیا ہے ۔ کیاایک مسلمان اِسے پڑھ سکتا ہے ۔ ؟
اس گیت میں بار بار وطن کی مٹی کا غلام ہونے کو قبول کیا گیا ہے جبکہ ایک مسلمان صرف اللہ کا غلام ہو سکتا ہے. اسی لئے مسلمانوں کے لئے عبدالنبی (نبی کا غلام)، عبدالرسول (رسول کا غلام) اور عبد المسیح (مسیح کا غلام) نام رکھنا درست نہیں ہے. اس گیت میں مندروں کی ہر مورتی کوخاک وطن کا سرچشمہ کہا گیا ہے. اُسی طرح اس گیت میں خاک وطن کو درگا دیوی اور کملا دیوی سمجھا گیا ہے. اس گیت میں وطن کی مٹی ہی کو دین کہا گیا ہے. اِس گیت میں وطن کی مٹی کے سامنے وندنا کی جاتی ہے یعنی سر جھکا کر، ہاتھ جوڑ کر سلام کیا جاتا ہے.
خلاصہ یہ کہ یہ گیت اسلامی عقیدہ کے خلاف ہے. اس لئے مسلمان کواورمسلم بچوں کو اس کے لئے مجبور نہیں کیا جاناچاہیے ، اِسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ .وندے ماترم کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے ملک سے محبت پر شک کرنا بالکل غلط ہے. تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کس طرح مسلمانوں نے اپنے ملک کی آزادی کے لئے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ملک سے محبت کرنے کی تعلیم ہمیں خود اسلام دیتا ہے. کیونکہ ملک سے محبت فطری جذبہ ہوتا ہے اور اسلام فطری دین ہے جو وطن سے كرنے كى حوصلہ افزائى كرتا ہے.

اللہ کی عبادت میں اس کا کسی کو شریک ٹھہرانا صرف اسلام میں حرام نہیں بلکہ ہندو مذہب میں بھی حرام ہے۔ہندووں کو بھی چاہئے کہ وندے ماترم نہ پڑھیں کیونکہ ہندو مذہب میں بھی توحید کی تعلیم ہے اور زمین کی عبادت سے روکا گیا ہے لیکن اس گیت میں زمین کی عبادت کرنے کی تعلیم دی گئی ہے. "کوئی بھی ملک اللہ تعالی سے عظیم نہیں ہو سکتا، کسی بھی ملک کے لوگوں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے ملک کی عبادت کریں. اس لئے مسلمان ایسا نہیں کر سکتے۔
مکمل تحریر >>