ہفتہ, جنوری 30, 2010

ہم نئے سال کا استقبال کیسے کریں؟

رپورٹ: محمد خالد اعظمی

گذشتہ دنوں انڈین مسلم ایسوسی ایشن نے وزارة الاوقاف والشئوون الاسلامیہ کے تعاون سے ہجری سال کی مناسبت سے مسجد العدسانی مالیہ میں ” ہم نئے سال کا استقبال کیسے کریں؟“ کے موضوع پرایک دینی پروگرام کا نظم کیا ،اس پروگرام میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ، پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن اور اس کے ترجمہ سے ہوا ، اس کے بعد مولانا صفات عالم مدنی داعی لجنة التعریف بالاسلام نے ”ماہ محرم کی اہمیت وفضیلت“ پر روشنی ڈالی، ،انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک سال کو الوداع کیا ہے اور دوسرے سال میں قدم رکھا ہے ، تو یہ محض ایک سال کا جانا اور دوسرے سال کا آنا نہیں ہے بلکہ ہماری زندگی سے ایک سال کم ہوا ہے ، ہم ایک سال دنیا سے دور اور آخرت سے قریب ہوئے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ سال کے شروع میں اپنے آپ کا جائزہ لیں،اپنے نفس کا محاسبہ کریں کہ ہم کہاں ہیں، کیا کررہے ہیں اور کیا کرنا چاہیے
مولانا مدنی نے محرم کی اہمیت کے متعلق بھی اپنی باتیں رکھیں،انہوں نے حدیث کی روشنی میں بتایاکہ رمضان کے بعدسب سے افضل روزے محرم کے روزے ہیں، ساتھ ہی عاشورا ءکی تاریخ کے بارے میں بتایاکہ اسی دن اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون سے نجات دی تھی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق آب کیا تھا ، اسی کے شکرانہ کے طور پر موسی علیہ السلام ہرسال دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں ، لہذا محمد صلى الله عليه وسلم نے خود روزہ رکھا اوراس دن روزہ رکھنے کی تاکید کی ۔ مولانا مدنی نے عاشوراء کے روزہ کے فوائد بتاتے ہوئے یہ حدیث ذکرکی کہ اللہ تعالی اس سے ایک سال پہلے کے گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے ۔

نظامت کے فرائض برادر نعمان عبد الصمد نے انجام دیئے ۔ دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا ، اور اخیر میں شرکاء کے لیے عشائیہ کا اہتمام بھی تھا۔
مکمل تحریر >>

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

یہ جنوری 2010ءکا شمارہ ہے ،اس کاپہلا شمارہ نومبر 2008میں منظرعام پر آیا تھا، اس طرح اب تک ہم15شمارے آپ تک پہنچا چکے ہیں ، اس رسالے کا اجراءمحض اس لیے عمل میں آیاتھا تاکہ کویت کی سرزمین پر تارکین وطن کو دینی غذا فراہم کی جا سکے ۔ مختلف دعوتی ،تربیتی اور اصلاحی موضوعات کے ذریعہ ان کے دینی ذوق کوپروان چڑھایاجا سکے ۔چنانچہ اجراءکی تجویز عمل میں آنے کے بعدیہ فیصلہ ہوا کہ یہ رسالہ بیس صفحات پر مشتمل ہوگا، دس ہزار کی تعداد میں چھپے گا ،اوراسکی مفت تقسیم عمل میں آئے گی۔چونکہ دیارغیرمیںدینی مجلے کا اجراءاردو داں حلقے کے لیے نیک فال کی حیثیت رکھتا تھا، اسی لیے اس وقت ہم نے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کیا حالانکہ ہمارایہ کام ipc کی دعوتی ذمہ داریوں کے سامنے ثانوی حیثیت رکھتا تھا ، مزیدیہ کہ ہمارے پاس مستقل اردو شعبہ بھی نہیںتھا،اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ساراکام مسلم کمیونٹی کے تعاون سے انجام دینا ہے ۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ مجلے کی تیاری سے لے کر قارئین تک اُسے پہنچانے میں بے شمارافرادکی ضرورت تھی ، اس کاصحیح اندازہ اسی کو ہوسکتا ہے جس نے عملی طور پراِسے برتاہو، لیکن جب احباب کو اطلاع ہوئی توسب نے اس عمل کی ستائش کی،اور ہرطرح کے تعاون کا وعدہ دیا۔پہلے شمارہ کے منظرعام پر آتے ہی ہمیں اندازہ ہوگیا کہ ہمارے پاس مخلص احباب کی خاصی تعدادموجود ہے جو بے لوث خدمات انجام دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ قارئین کی طرف سے بھی حوصلہ افزائی کے کلمات، دعاؤں اور تحسین پرمبنی خطوط موصول ہوئے جس سے ہمت کو مہمیزلگا۔

مادیت کے اس دور میں جہاں ہر چیز کی پیمائش مادی پیمانے سے ہوتی ہے ہمیں ایسے مخلص احباب ملے جنہوں نے ہر قدم پر اپنا تعاون پیش کیا اور ان شاءاللہ آئندہ بھی پیش کرتے رہیں گے ، ان کے لیے شکریہ کے رسمی الفاظ کافی نہیں تاہم پیارے نبی اکا فرمان ہے ”جو لوگوںکاشکریہ ادانہیں کرسکتا وہ اللہ کا بھی شکرگزارنہیں بن سکتا “ اس لیے آج ہم اپنے ان سارے محسنین ،معاونین ،اور کرم فرماؤں کو تجلیات کے اس کالم میں یا دکرنا چاہیںگے جنہوں نے مجلہ کے تئیں کسی طرح کی قربانی پیش کی ہے۔ پاکستانی کمیونٹی میں اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے احباب بے لوث قربانی پیش کرتے ہیں،تو ہندوستانی کمیونٹی میں ائی ایم اے اور اس کے نوجوانوں کی شاخ یوتھ وینگ اسی طرح کڑپہ اسلامی سوسائٹی کے احباب کا تعاون ہر قدم پر ساتھ رہتاہے ۔کسی مادی فائدہ کے بغیردس ہزار افراد تک رسالے کو پہنچانے کا جنون اسی کو سوار ہوسکتا ہے جس نے اپنی زندگی کا مقصد دین الہی کی سرفرازی بنا لی ہو۔ اس مدت میں ہم نے اپنے احباب کو پایا کہ بار بار فون کرکے تازہ شمارے کی آمد کی خبر لےتے ہیں ، اپنے کندھوں پر کارٹون لاد کر ہمارے قارئین تک پہنچاتے ہیں،حالانکہ ان کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں، کاموں کا ہجوم ہوتا ہے ، ڈیوٹی کے تقاضے ہوتے ہیں ۔ اظہار نعمت کے طور پر ہمیں کہنے دیا جائے کہ ہمیں جو معاونین اور احباب ملے ہیںخواہ وہ ipc میں ہوں یا ipc سے باہر ہوں وہ سب نہایت خلیق ، ملنسار ، ایثار وقربانی کے پیکر ،تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے ہیں۔

هم ا پنے قابل احترام اہل قلم کے بھی بےحدسپاس گزارہیںجو اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجوداپنی نگارشات ہمیں نوازتے رہتے ہیں،ہم اپنی ادارتی کمیٹی کی طرف سے ان سب کو ایک بار پھر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،اور رب ذوالجلال سے دعا گوہیںکہ بارالہا ! تو ان کی قربانیوں کا بہترین بدلہ عطا فرما،ان کی آل واولاد کی حفاظت فرما، اور انہیں خوش اور شادآباد رکھ ۔ آمین .

عزیز قاری ! اس تحریر سے ہمارامقصود آپ تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ مادیت کے اس دور میں بھی ہماری قوم بیدار ہے ، دین کی بے لوث خدمت کا جذبہ رکھتی ہے، دین کے لیے ہرطرح کی قربانی پیش کرسکتی ہے۔ ہرکلمہ گو مسلمان کو ایسا ہی ہونا چاہیے ، مسلمان ہونا ایک حرکت ہے ، ایک تحریک ہے ،ایک جوش اورولولہ ہے ۔ آسان پسندی ، عیش کوشی اور بے مقصدیت مسلمان کا شیوہ نہیں ،ہمیں آپ سب کے مفید مشوروں کی ضرورت ہے ، آپ کے قلمی تعاون کی ضرورت ہے ، اور ایسے افراد کی بھی ضرورت ہے جو کویت کے ہرگوشہ میں یہ رسالہ اردو کے شائقین تک پہنچا سکیں۔
مکمل تحریر >>

جمعرات, جنوری 07, 2010

دامن عفت داغدار نہ ہوجائے


آج ہرطرف بے پردگی اور عريانيت کی نمائش ہو رہی ہے اباحيت پسندی، جنسی انارکی اورمردوزن کا بے باکانہ اختلاط عام ہے۔  ايسے پُرفتن دورميں ايک مومن صادق بالخصوص اہل خانہ سے دور تارک وطن کواپنی عزت وآبرو کے حفاظت کی سخت ضرورت ہے ۔     
اس مناسبت سے ہم آپ کی خدمت ميں اللہ والوں کی عفت وپاک دامنی کی ايک جھلک پيش کريں گے، وہ اللہ والے جو چند لمحوں کے شہوات کو ٹھکرا کر دائمی نعمتوں سے مالا مال ہوئے،  وہ اللہ والے جن کے حسن وجمال پر فريفتہ دوشيزائيں ان کی محفل سے عابدہ وزاہدہ بن کر نکليں، وہ اللہ والے جنہوں نے حوروں کی طلب ميں حسن کی پريوں کو بے نيازی سے لات مار ديا۔ واقعہ يہ ہے کہ اللہ والوں کی زندگی کے سنہرے واقعات تفريح طبع يا تسلی کے ليے بيان نہيں کيے جاتے بلکہ ان ميں لوگوں کے ليے پندو نصيحت اورعبرت کا پيغام ہوتا ہے ۔ توآئيے! ايسی ہی عفت شعار نفوس قدسيہ کے چند واقعات پڑھتے ہيں تاکہ ان کے تناظرميں ہم اپنے ايمان کا جائزہ لے سکيں کہ ہماری عملی زندگی ميں ان واقعات کا کس قدرعمل دخل ہے۔

عفت يوسفی:

سب سے پہلے ہم آپ کی خدمت ميں يوسف عليه السلام كى عفت كاقصہ پيش کرنا چاہيں گے جس ميں ديارِغيرميں رہنے والوں کے ليے درس ہے، عبرت ہے ، نصيحت ہے ۔ حضرت يوسف عليہ السلام اپنے والد حضرت يعقوب ؑکے زيرشفقت پل رہے تھے، ان کے گيارہ بھائی ان کی طرف باپ کے شدت ميلان کو ديکھ  کران سے خار کھانے لگے ۔  چنانچہ ايک دن منصوبہ بند طريقے سے 11 بھائی حضرت يوسف عليہ السلام کوايک جنگل ميں لے گيے اورگہرے کنويں ميں ڈال ديا تاکہ : نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ليکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، کنواں کے پاس سے ايک قافلہ کا گذرہوا،  شدت پياس سے بے تاب قافلہ جب کنويں کے پاس آکرکنويں ميں اپنا ڈول ڈالاتوايک خوبرونوجوان کو پاکر ان کے خوشی کی انتہا نہ رہی ۔ انہيں فروخت کے ليے بازارِ مصرميں لائے، حسن وجمال اورشرافت وکمال کا پيکربچہ عزيزمصر کے حصہ آيا، عزيز مصر لاولد تھا، انہيں خوشی خوشی گھرلايا اوربيوی کو ان کے ساتھ اچھابرتاؤ اورنيک سلوک کی تاکيد کی۔ يوسف عليه السلام عزيز مصر کے گھر پرورش پا رہے تھے، ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور تسکين قلب کا سامان تھے، مرورايام کے ساتھ  حضرت يوسف عليه السلام جوان ہوئے، حسن وجمال ميں مزيد نکھار آيا تو عزيز مصر کی بيوی زليخہ ان پر فريفتہ ہوگئی، شيطان نے زليخہ کو يوسف کے ساتھ  بد کاری کرنے پر آمادہ کيا، جب بدی کی گود ميں سُلانے کے تمام حربے نا کام ہوئے تواس نے عزيز مصر کے باہر نکلتے ہی ايک منصوبہ بند حکمت عملی اپنائی تاکہ اپنے مقصد ميں کامياب ہوسکے ۔ جانتے ہيں کيا کيا؟  گھر کے سارے دروازوں کو اچھی طرح سے بند کرديا اور زيب وزينت سے آراستہ ہوکر صريح الفاظ ميں يوسف عليه السلام کو فحش کاری کی دعوت دی :
 ”اس عورت نے جس کے گھر ميں يوسف عليه السلام تھے، يوسف عليه السلام کو بہلانا پھسلانا شروع کيا کہ وہ اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازے بند کرکے کہنے لگی : لو! آجاؤ “ (يوسف 23) 
يوسف عليه السلام جوانی کے دہليز پرقدم رکھ  چکے تھے اورجوانی ظاہرہے ديوانی ہوتی ہے۔ غيرشادی شدہ تھے اوراس مدت ميں انسان کے اندر بے راہ روی کے امکا نات زيادہ ہوتے ہيں، ديارغيرميں تھے، اہل خانہ کی صحبت سے محروم تھے،  اور زرخريد غلام بھی تھے۔ اور سب سے بڑی بات يہ کہ بادشاہ لاولد تھاجس سے يوسف عليه السلام کے دل ميں طبعی طورپراقبال مندی کی کلياں کھلتی رہی ہوں گی۔ دوسری جانب زليخہ ملکہ مصرہے، حسن وجمال کی پری ہے، سج دھج کر آفت برسا رہی ہے اوردھمکی آميز کلمات بھی استعمال کررہی ہے ۔ ليکن پھربھی يوسف عليه السلام عفت وحيا کے پيکر بن جاتے ہيں، زليخا کی زينت وزيبائش کی کوئی پرواہ نہيں کرتے، اس کے مرتبے اور حسن وجمال کی طرف دھيان نہيں ديتے بلکہ اللہ تعالی کی نگرانی اور اس کی مراقبت کو ذہن ميں تازہ رکھتے ہوئے کہتے ہيں:
 ” اللہ کی پناہ ! وہ ميرا رب ہے، اس نے مجھے بہت اچھی طرح رکھا ہے، بے انصافی کرنے والوں کا بھلا نہيں ہوتا “ (يوسف 23) 
يعنی اللہ کی پناہ اس بات سے کہ ميں تيری دعوت گناہ پرلبيک کہوں گو کہ تونے سارے دروازے بند کرديا ہے تاہم اللہ کے دروازے کو بند نہ کرسکی ہے جو آنکھوں کی خيانت اور دلوں کے بھيد سے بھی آگاہ ہے۔ جب يوسف عليه السلام نے ديکھا کہ زليخہ اپنی آتش شہوت کو بجھانے کے ليے مصر ہے اور مزيد پيش قدمی کر رہی ہے تو وہ باہر نکلنے کے ليے دروازے کی طرف دوڑے، حسن يوسف پرفريفتہ عورت بھی تيزی سے دوڑی اور ان کے قميض کو زور سے پکڑا جس سے قميض پھٹ گيا۔ اسی اثناءعزيز مصرپہنچ جاتا ہے، چہرے کی کيفيت تاڑ کراُس پر حيرت واستعجاب کا سماں بندھ  جاتا ہے، اس کے سمند غيرت کو تازيانہ لگتا ہے.... ليکن ماجرا کيا ہے ؟ پتہ نہيں....اس کی شريک حيات نے خيانت کی يا اس خوبرو نوجوان نے ؟ .... قبل اس کے کہ حقيقت دريافت کرے، زليخہ پيکرِ عصمت بن جاتی ہے، شہوت کے شيش محل کو چکنا چور ہوتا ديکھ  کر تمام ترملزم حضرت يوسف عليه السلام کو قرار ديتی ہے اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ  سزا کی تجويز بھی کرتی ہے: 
”جوشخص تيری بيوی کے ساتھ  بُرا ارادہ کرے، بس اس کی سزا يہی ہے کہ اسے قيد کرديا جائے يا اور کوئی درد ناک سزا دی جائے “۔
 تفصيل کا موقع نہيں کہنا يہ ہے کہ باوجود اس کے کہ يوسف عليه السلام کی پاک دامنی ظاہر ہوگئی تھی، عزيزمصر نے چند مصلحتوں کی خاطر آپ کو حوالہ  زنداں کرديا۔ ايک زمانہ بعد بادشاہ کے ايک خواب کی تعبير بتانے پر بادشاہ نے انہيں اپنے دربار ميں پيش ہونے کا حکم دياليکن يوسف عليه السلام نے نکلنے سے پہلے اپنے کردار کی رفعت اور پاک دامنی کے اثبات کا مطالبہ کيا کہ مجھ  پرعائد کيے گيے الزام کی حقيقت کوپہلے واضح کيا جائے۔ چنانچہ زليخہ گويا ہوئی :
 ”ميں نے ہی اسے ورغلايا تھا اور يقيناً وہ سچوں ميں سے ہے“ (يوسف 51) 
اس طرح جب يوسف عليه السلام کی پاک دامنی نکھرکرسامنے آجاتی ہے تواب جيل سے نکلتے ہيں اور بادشاہ کے دربارميں پہنچتے ہيں چنانچہ بادشاہ آپ کی قدرکرتا ہے اور وزيرخزانہ کے منصب پرفائز کرديتا ہے۔

جی ہاں ! ايسا ہی بدلہ ملا کرتا ہے عفت شعاروں اور پاک دامنوں کو .... عفت وعصمت کی راہ ميں ايک شخص نے جس قدر بھی پريشانيا ں جھيلی ہو ايک دن اس پر اللہ کی رحمت ضرور سايہ فگن ہوتی ہے۔ دوستو! عزت وآبروايک گنج گرانمايہ ہے، جب دامن عصمت پردھبہ لگ جاتاہے تو سب سے پہلے ايک شخص اللہ کی نظر سے گرجاتاہے پھراہل دنيا اسے حقير سمجھنے لگتے ہيں اور اس کی جگہ نسائی ہوتی ہے ۔ لہذا وقتی لذت اور عارضی خواہش کے پيچھے اپنی عزت کو داغدار نہ کريں اورابن سماک رحمه الله کی يہ وصيت ہمہ وقت ياد رکھيں:
”اگرچاہوتوميں تجھے تيری بيماری سے باخبرکردوں اور ا گر چا ہو تو اس بيماری کی دوا بتادوں: تيری بيماری تيری خواہشات ہيں اوراس بيماری کی دوا خواہشات پر کنٹرول رکھنا ہے“ ۔

ميں مسلمان ہوچکا ہوں:

حضرت ابومرثد غنوی  مشہورصحابی ہيں، اسلام سے قبل عناق نام کی ايک عورت کے ساتھ ان کی شناسائی تھی، ہجرتِ مدينہ کے بعد ايک بار آپ مکہ تشريف لے گيے تھے ،آپ جس نخلستان سے گذر رہے تھے، اتفاقا اسی نخلستان سے عناق بھی گذر رہی تھی، رات کا وقت تھا، چاندنی رات تھی،  ہرطرف سناٹا چھايا ہوا تھا ۔ عناق، ابومرثد پر نظرپڑتے ہی خوشی سے لوٹنے لگی، کہا: خوش آمديد،ايک عرصہ کے بعد تم سے ملاقات ہوئی ہے، خوب گذرے گی آج کی رات.... ذرا غور کےجيے !ايک حسين وجميل عورت خود کو پيش کر رہی ہے جہاں هو کا عالم ہے اور اسلام سے قبل شناسائی بھی ہے ۔ ليکن اس کی دعوتِ گناہ پرکيسے دھيان دياجائے جبکہ اسلام کو گلے لگا چکے ہيں، پوری بے نيازی سے جواب ملتا ہے : ” ميں مسلمان ہوچکا ہوں، اسلام ميں زنا کی سخت مذمت ہے، اس ليے مجھ  سے اس فعل کی قطعی اميد نہ رکھو....“ ۔

 سيل اشک رواں ہوگيا:

ربيع بن خثيم مشہورتابعی ہيں، عنفوان شباب ہی سے ان کی عفت وپاکدامنی کے چرچے تھے، جس کے باعث بدچلن نوجوان ان سے خار کھاتے تھے۔ نوجوانوں نے ايک مرتبہ کسی حسين وجميل بازاری عورت کو ان کی عفت کا امتحان لينے کے ليے ان کے پيچھے لگاديا، عورت مسجد کے دروازے پر انتظار کرتی رہی، جب مسجد سے نکلے تو وہ کچھ  پوچھنے کے انداز ميں آپ سے قريب ہوئی اور اپنے چہرے سے پردہ اٹھايا، ناز وادا سے بھانپ گيے کہ يہ عورت بدطينت ہے ۔ اوردفعتا آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگيے۔ عورت نے رونے کا سبب پوچھا، توآپ نے فرمايا:
 ”اس حسين چہرے پر رو رہا ہوں جو گمراہی کے راستے پر لے جانے والا ہے اور آخرت ميں يہی چہرہ  بوسيدہ کھوپڑی نظرآئے گا“ ۔ يہ جواب سنتے ہی عورت کے بدن پر رعشہ طاری ہوگيا، فورا فعل بد سے تائب ہوئی اور زمانے کی عابدہ وزاہدہ بن گئی ۔

اللہ کی نگرانی کا احساس:

بنواسرائيل ميں کفل نام کا ايک شخص تھا،  وہ بُرائيوں کے ارتکاب ميں بے باک تھا، ايک مرتبہ کسی عورت کوشديد ضرورت لاحق ہوئی تو کفل نے اسے 60 دينار اس شرط پرديا کہ وہ اس کے ساتھ بد فعلی کرے گا ۔ جب کفل نے خاتون کے ساتھ  بد فعلی کا ارادہ کيا تو وہ کانپ اٹھی اور اس کی آنکھيں بہنے لگيں ۔ کفل نے پوچھا: کيوں رو رہی ہو ؟ خاتون نے جواب ديا :” اس ليے کہ ميں نے يہ کام کبھی نہيں کيا، آج ضرورت نے ہميں اس کام پر مجبورکيا ہے“ ۔ کفل بيحد پشيمان ہوا، اس نے کہا : تواللہ کے ڈر سے رو رہی ہے حالاں کہ اللہ کا ڈر رکھنے کا زيادہ حقدارميں ہو ں،  بخدا ميں آج کے بعد کبھی اللہ کی نافرمانی نہ کروں گا اور ہاں جو کچھ رقم ميں نے تجھے دی ہے وہ تيری ہے ۔ اسی رات کفل کی موت ہوگئی، صبح لوگوں نے ديکھا کہ اس کے دروازے پر لکھا ہوا ہے :
 اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَد غَفَرَلِلکِفل
 ”اللہ تعالی نے کفل کی بخشش فرمادی “۔
لوگوں کو اس کے معاملے پر بڑا تعجب ہوا کہ ايسے نافرمان انسان کی مغفرت کيسے ہوگئی ۔ (سنن ترمذی )

مشک کی خوشبو پھوٹنے لگی:

بسااوقات ايک شخص کو عفت اختيار کرنے کی وجہ سے تکاليف وشدائد کا آلہ کاربننا پڑتاہے ليکن اس کے ذريعہ اللہ تعالی بندے کے ايمان کی آزمائش کرتا ہے، اگر اس نے صبروشکيبائی کا دامن تھامے ہوئے عفت وپاک دامنی اختيار کی تواللہ تعالی اسے دنياہی ميں بہتر بدلہ عطاکرتا ہے اورآخرت ميں انعامات ربانی کا حقدارتو ہوگا ہی ....تاريخ ميں ايک نام ابوبکر مسکی آتا ہے ۔ مسک کے معنی خوشبو کے ہوتے ہيں کيوں کہ ہميشہ ان کے بدن سے خوشبو پھوٹتی رہتی تھی۔ ايک مرتبہ ان سے کسی نے پوچھا : ”کيا بات ہے کہ ہميشہ آپ کے بدن سے خوشبو پھوٹتی رہتی ہے ؟“ آپ نے جواب ديا: بخدا ميں نے کئی سال سے مشک استعمال نہيں کيا تاہم ميں تجھے اس خوشبو کی حقيقت بتائے ديتا ہوں ”ايک مرتبہ کا واقعہ ہے ايک عورت نے حيلہ بہانا کرکے مجھے اپنے گھر ميں داخل کرليا اور دروازہ بند کرکے لگاوٹ ومحبت کی باتيں کرتی ہوئی فحش کاری کی دعوت دينے لگی ، ميں بہت پريشان ہوا ، بھاگنے کے سارے راستے مسدود تھے ۔ ميرے ذہن ميں ايک ترکيب سوجھی : ميں نے عورت سے کہا : مجھے طہارت کی ضرورت ہے، چنانچہ عورت نے مجھے بيت الخلا کا راستہ بتا ديا : ميں جب اندر داخل ہوا توبيت الخلاء سے فضلات اٹھايا اور پورے بدن پرمَل ليا ، پھراسی شکل ميں عورت کے پاس پہنچا ۔ جب اس نے مجھے اس حالت ميں ديکھا تو حيرت زدہ رہ گئی اور پاگل سمجھ  کر مجھے باہر نکال ديا ۔ ميں فوراً گھر لوٹا اور غسل کرکے کپڑے بدل ليا ۔ جب ميں رات ميں سويا تو خواب ميں ديکھتا ہوں کہ ايک آدمی مجھے کہہ رہا ہے تونے ايسا کام کيا کہ ويسا تيرے علاوہ کسی نے نہيں کيا ، ہم ضرور تيری بو کو دنيا وآخرت دونوں جگہ معطر رکھيں گے ۔ جب ميں صبح بيدا ر ہوا تو مشک کی بو ميرے جسم سے پھوٹ رہی تھی اور اب تک وہ سلسلہ جاری ہے“ ۔

سبحان اللہ ! کيا مقام ہے عفت کا کہ آخرت سے پہلے دنيا ہی ميں اس کا بہترين بدلہ مل رہا ہے ....توپھروقتی لذت کے پيچھے سرپٹ دوڑنے سے کيا فائدہ جس کا انجام ہے ذہنی تناؤ .... دل کی تنگی.... قلق واضطراب.... اور شقاوت وبدبختی۔ سعادت‘ عشق ومحبت کی داستانوں ميں نہيں، رقص وسرود کی محفلوں ميں نہيں، آلات جديدہ کے فحش پروگراموں ميں نہيں، اگر سعادت ہے تو عفت وعصمت ميں، ذکرالہی ميں، اطاعت الہی ميں ۔
توآئيے! ہم عفت وعصمت کوبحال رکھنے کے ليے اپنی ايمانی تربيت کريں، ہمارا تعلق اپنے خالق ومالک سے مضبوط ہو، ہمارے ذہن ودماغ ميں ہميشہ رچا بسا رہے کہ اللہ تعالی ہمارے ظاہر وباطن سے آگاہ ہے ، وہ آنکھوں کی خيانت اور سينوں کی پوشيدہ باتوں کو خوب جانتا ہے ۔ نفلی روزوں کا اہتمام، قرآن کريم کی تلاوت، نيک لوگوں کی صحبت اور عفت شعاروں کی زندگی کا مطالعہ کرکے ہم بآسانی اپنی عفت وعصمت کی حفاظت کر سکتے ہيں ۔



مکمل تحریر >>

سوموار, جنوری 04, 2010

اچهے لوگوں كے ساته رہائش گاہ اختيار كريں




آپ ترک وطن کی زندگی گزار رہے ہيں جہاں آپ کو امن وراحت کی سانس لےنے کے ليے مامون رہائش گاہ کی ضرورت ہے۔آپ کی رہائش گاہ ايسی ہونی چاہيےجس ميں رہنے والے نيک اور صالح ہوں، حسن اخلاق کے پيکر ہوں، جنہيں آپ مساجد ميں پائيں گے، دينی مجالس ميں پائيں گے، چہرے کی نورانيت سے پہچانيں گے،اس کے برعکس اگر آپ نے ايسی رہائش گاہ اختيار کی جہاں لوگ بُرائيوں کے رسيا ہيں توشدہ شدہ آپ بھی ان کے ماحول ميں ڈھل جائيں گے اور آپ کو اس کاشعوربھی نہ ہوگا کيوں کہ انسانی زندگی پرصحبت کے نہايت گہرے اثرات پڑتے ہيں نيک لوگوں کی صحبت سے انسان نيک بنتا ہے اور بُرے لوگوں کی صحبت سے بُرا بنتا ہے۔ اسی حقيقت کو اللہ کے رسول صلي الله عليه وسلم نے يوں بيان کيا ہے ”انسان اپنے دوست کے طريقوں پر ہوتا ہے اس ليے ہر آدمی کو غور کر لينا چاہيے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے “ (ترمذی) ايک دوسری جگہ اللہ کے رسول صلي الله عليه وسلم نے اچھے اور بُرے دوست کی کيفيت کو ايک بليغ تمثيل ميں يوں بيان کيا ہے :” اچھے اور بُرے ہم نشيں کی مثال عطرفروش اور لوہار کی بھٹی کی سی ہے اگر عطرفروش کی صحبت اختيار کروگے تو وہ تمہيں کوئی عطر تحفةً دے سکتا ہے يا پھر تم خود ہی اس سے کوئی عطر خريد سکتے ہو، يا پھر کم ازکم وہاں کی عمدہ خوشبو سے تو ضرور محظوظ ہوگے اور بھٹی دھونکنے والا يا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا يا تم اس سے ناخوشگوار بُو پاو گے “ (بخاری ومسلم )ديکھا آپ نے ....کتنے اچھوتے انداز اور عمدہ پيرائے ميں اللہ کے رسول صلي الله عليه وسلم نے نيک وبد دوست کی تمثيل بيان کی ہے۔ نيک اور صالح ہم نشيں کو عطر فروش سے تشبيہ دی گئی کيوں کہ نيک دوست يا تو وہ چيز سکھاتا ہے جو دين ودنيا دونوں کے ليے سود مند ہوتی ہے يا نصيحت وخير خواہی سے نوازتا ہے، يا کسی گناہ سے ڈراتا ہے، يا اطاعت کی ترغيب ديتا ہے، اگر کچھ  بھی نہيں تو اس کی ہمنشينی بُرائيوں اور معاصی کے ارتکاب سے ضرور روک ديتی ہے جبکہ بُرے دوست کو لوہار کی بھٹی سے تشبيہ دی گئی کيوں کہ بُرا دوست ياتو معاصی کا آلہ  کار بنا ديتا ہے يا نيکيوں کی راہ ميں مزاحم بنتا ہے۔ اسی ليے اسلام نے دوستی کا معيار ايمان و تقوی قرار ديا ہے۔ اللہ کے رسول صلي الله عليه وسلم فرماتے ہيں:
’’ تم مومن ہی کو دوست بناؤ اور تمہارا کھانا صرف پرہيز گار ہی کھائے “ ۔ (ترمذی) لہذا آپ کو ايسے نيک دوست کی تلاش کرنی چاہيے جو ديارِ غير ميں آپ کے احساس اجنبيت کو دور کر سکے، اہل خانہ سے جدائی کا متبادل بنے، خير کی طرف راغب کرے اور شر سے دور رکھے۔ ميرے پاس ايک صاحب آتے ہيں جو وطن سے آئے تھے تو دين سے ان کا کوئی تعلق نہيں تھا بلکہ بے شمار بُرائيوں ميں لت پت تھے ليکن يہاں آنے کے بعد نيک ساتھيوں کی صحبت ملی تو ماشاء اللہ ابھی پنج وقتہ نمازوں کے پابند ہيں، دينی غيرت و حميت رکھتے ہيں اور دعوت وتبليغ ميں ہمہ تن سرگرم رہتے ہيں ۔ ايک سروے کے مطابق ہمارے ہاں ipc ميں حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں کی اکثريت ايسے اشخاص کی ہوتی ہے جو حسن اخلاق اور نيک برتاو سے متاثر ہوکر اسلام کو گلے لگاتے ہيں۔ آئے دن ايسی پاکيزہ طبيعتيں اپنے ساتھ  کسی غيرمسلم کو لے کر آتی ہيں اور جب يہ شخص کلمہ  شہادت پڑھ کر اپنے رب کاہورہا ہوتا ہے اوراسے حياتِ نو مل رہی ہوتی ہے تو اس وقت ہمارے ساتھی کی دلی کيفيت ديکھنے کو بنتی ہے، کتنے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتے ہيں ۔ جی ہاں ! اِسی کوکہاجاتاہے خوشی کے آنسو،  جس کا منظرديکھنا ہے تو آپ بنفس نفيس ipcکی کسی شاخ ميں جاکر ديکھ سکتے ہيں، ظاہرہے يہ صحبت صالح ہی کاثمرہ اور اس کی برکت ہے کہ تن مردہ کو زندگی مل جاتی اورہدايت نصيب ہوتی ہے اس کے برعکس صحبت بد کے نتيجہ ميں ايک شخص بسا اوقات مجرموں کی صف ميں لاکھڑا کياجاتا ہے۔ ہم ہفتہ ميں ايک بار کويت کے مرکزی جيل کا دورہ کرتے ہيں جہاں کچھ  لوگ ايسے بھی ملتے ہيں جو مجرم نہيں تھے تاہم مجرموں کے ساتھ  رہائش پزير تھے بالآخر تفتيش ميں پھنس گيے اور آج سالوں سے بيوی بچوں سے دور جيل کی کوٹھريوں ميں سزا بھگت رہے ہيں۔ ايسے لوگ اپنا درد  دل سناتے ہوئے کہتے ہيں کہ بھئی ميں نے تو غلطی نہيں کی تھی، آخر مجھے يرغمال کيوں بنايا گيا....! ؟ ايسے لوگوں کی غلطی محض يہ ہے کہ انہوں نے بُرے لوگوں کی صحبت اختيارکی حالاں کہ اگرجرائم پيشہ لوگوں کے ساتھ نشست و برخاست نہ کرتے تو ہرگز ايسی نوبت نہ آتی۔ لہذا ہم سب کے ليے اس ميں درس ہے، عبرت ہے، نصيحت ہے کہ نيک لوگوں کی صحبت اختيار کريں اور بُرے لوگوں کی صحبت سے بال بال پرہيزکريں ۔

اگرآپ کفيل کے گھرميں ہيں:

اگر آپ کفيل کے گھرميں ہيں تو مندرجہ ذيل چند امور کا خيال رکھيں:

٭ ممکنہ حد تک کفيل کے اوامر کی اطاعت کريں، کويتی معاشرہ کے عادات و روايات کا پاس ولحاظ رکھيں، مرد وزن کے اختلاط اور بُرے ساتھيوں کے ساتھ  نشست و برخاست سے بالکليہ احتراز کريں ۔

٭ بڑوں کا احترام کريں، چھوٹوں کے ساتھ محبت سے پيش آئيں، مہمانوں کی آمد پر ان کا پُرتپاک استقبال کريں اورچہرے پرہروقت مسکراہٹ کھلا رکھيں۔

٭ گھرکے جملہ املاک کی حفاظت کريں اور انہيں استعمال کرنے سے پہلے افراد خانہ سے اجازت حاصل کرليں-

٭ گھرميں جب اہل خانہ تنہا ہوں يا ان کے آرام کرنے کا وقت ہو توگھرميں داخل ہونے سے پہلے دروازے پر دستک دينا نہ بھوليں۔  نظريں چُرا کر اندرون خانہ جھانکنا اسلامی تعليمات کے منافی ہے گوکہ دروازے کھلے ہوں۔

٭ کسی بھی شحض کو گھرميں داخل ہونے کی قطعااجازت نہ ديں الا يہ کہ اہل خانہ موجود ہوں اور وقت مناسب ہو۔

ديارِغير کے اصول وقوانين کا پاس ولحاظ کريں:

آپ نے رزق حلال کی طلب ميں اپنے محبوب وطن کو خيرباد کيا ہے اور ايسے ملک ميں تشريف لائے ہيں جہاں کی تہذيب و ثقافت الگ ہے، جہاں کے اصول وقوانين مختلف ہيں، جہاں مختلف ملکوں، تہذيبوں اور زبانوں کا گہوارہ پايا جاتا ہے۔  کوئی ضروری نہيں کہ سارے لوگ آپ کے معيارپر پورا اتريں اورآپ کی ہر فکر سے ہم آہنگ ہوں، لہذا ہرايک سے معاملہ کرتے وقت ان کے مزاج وطبائع، ملکی خصائص اورطبعی رجحانات کو سامنے رکھيں۔ ديارِغير کے اصول وقوانين کا پاس ولحاظ کريں اورايسے کاموں اور پيشوں سے بالکل دور رہيں جوحکومت کے آئين کے خلاف ہوں اورآپ قانونی گرفت ميں آسکتے ہوں۔

مکمل تحریر >>