منگل, فروری 25, 2014

ھلا فبرایر : کویت کے نيشنل ڈے اور آزادی کى پُرمسرت اور تاریخی يادگار

25 اور 26 فروری کویت کے نيشنل ڈے اور آزادی کا پُرمسرت اور تاریخی دن ہے، جسے اہل کویت ”ہلا فبرایر“ کے نام سے یاد کرتے ہيں ۔ کویت میں فروری کے آغاز سے ہی اس کی تیاریاں بڑے شدومد سے ہونے لگتی ہیں ۔ سیمینارز ہوتے ہیں، تقریبات کی تیاریاں ہوتی ہیں، تجارتی مراکز اور سرکاری دفاتر کو سجایا جاتا ہے اور ہر شخص کے چہرے پر خوشیاں مچل رہی ہوتی ہیں -

تاریخ کے مختلف ادوار میں کویت کی ثروت پر قبضہ جمانے کی کوششیں کی گئیں، اپنوں اور بیگانوں دونوں نے دست درازیاں کیں ، کبھی سلطنت عثمانیہ نے حرص وطمع کے پھن پھیلائے تو کبھی مغربی حکومتوں کے منہ میں پانی آیا، سب سے اخیرمیں اسی قبیل کی جارحانہ کاروائی 23 سال پہلے کی گئی تھی، جس میں اہل کویت نے بے پناہ قربانیاں پیش کیں،جان ومال کی ہلاکتیں بھی ہوئیں بالآخر دشمنوں کو منہ کی کھانا پڑی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج یہ ملک آزاد وخودمختارہے، خیرکے کاموں میں ہراول دستہ شمار کیا جاتا ہے، اور ہم تارکین وطن اس ملک کی پُرامن فضا میں رہ کر اپنی معاشی حالت کومستحکم کر رہے ہیں، اس ملک سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ہم اہل کویت کی خوشی کواپنی خوشی سمجھیں اوران کے غم کواپنا غم خیال کریں ۔
 اس سنہری موقع پر ہم اپنی طرف سے کچھ عرض کرنے کی بجائے امیرکویت کا پیغام پیش کردینا کافی سمجھتے ہیں جسے انہوں نے اہل وطن کے نام دیے ہیں :

”کویت کے قومی تہوار اور یوم آزادی کا سالانہ جشن ایک بار پھر لوٹ کر آگیا ہے....جوبہارِ آزادی کی یاد تازہ کرتا ہے ۔ محبوب وطن سے محبت ووفاداری کی تجدید کرتا ہے ، اہل کویت کا اپنے امیر اور اپنی حکومت کے اردگرد ایک ہاتھ.... ایک دل.... ایک نبض.... اور ایک آواز.... بن کر” کویت کا نام اور اس کی پکار“ لگاتے ہوئے اکٹھا ہونے کی تاکید کرتا ہے ۔

ابھی کویت 53واں قومی تہوارمنانے جا رہاہے، عراقی ظالم وجابراورڈکٹیٹرسے کویت کی آزادی کی 23ویں یادگار کا دن بھی یہی ہے۔ کویت نے عزت مآب شیخ عبداللہ السالم ؒکے عہد حکومت مورخہ19 جون 1961 میں آزادی حاصل کی ، کویت نے بریطانیہ سے درخواست کی کہ 23جنوری 1899میں کئے گئے ان کے آپسی عہدوپیمان کو ختم کردے، اس طرح دونوں ممالک کے مابین نئے عہدوپیمان کے مطابق کویت اندرونی وبیرونی معاملات میں پوری طرح آزاد ہوگیا اور یہ اعلان کردیا گیا کہ ”کویت مکمل قیادت کی حامل مستقل حکومت ہے “ ، عزت مآب شیخ عبداللہ السالم ؒ نے 1950 میں حکومت کا باگ وڈور سنبھالا، جس دن عہدہ امارت سنبھالا تھا وہ فروری کی 25 تاریخ تھی اس طرح اتفاقاً دونوں یادگاریں ایک ہی دن اکٹھا ہوگئیں ، تب سے اب تک کویت اپنا سالانہ قومی تہوار25 فروری کو مناتا آرہا ہے ۔

کویت کی آزادی ....عروج وترقی کے نئے مرحلے کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی ،صبح آزادی کے طلوع ہونے کے دن سے ہی کویت نے عصری تعلیم اورمختلف علوم وفنون کواپنا شعاربنایا، اور کویت کے حکام آل صباح کی دانشمندانہ قیادت میں ہم وطنوں کی تعمیروترقی ،خوشحالی وفارغ البالی اور پُرامن زندگی کے لیے بیداری اور ہمہ جہت ترقی کی راہ اپنائی اور اسی راستے پر تاہنوز گامزن ہیں۔

آزادی کے بعد نظام حکومت کا پہلاتنظیمی ڈھانچہ یوں تیار ہوا کہ اہلِ وطن میں سے ”تاسیسی کمیٹی“ تشکیل دینے کے لیے الیکشن کرایا جائے تاکہ مختلف شعبہ زندگی سے متعلق جمہوری نظام اور منظم آئین پر مشتمل کویت کا مستقل دستور بنایا جاسکے ۔اس سلسلے میں عزت مآب اعلی حضرت شیخ عبداللہ السالم رحمہ اللہ نے 26 اگست 1961 میں شاہی فرمان جاری کیا ۔ 20 جنوری 1962 میں عزت مآب اعلی حضرت نے کانفرس کی پہلی نشست کا افتتاح کیا ۔ اور 11 نومبر 1962 میں اس دستور کی تصدیق کی جسے تاسیسی کمیٹی نے پاس کیا تھا اور اسی کے ذریعہ کویت میں نظام حکومت کی تحدید یوں ہوئی کہ :
٭ یہاں کا نظام حکومت ”جمہوری“ ہوگا
٭ اقتدار قوم کی ہوگی جو جملہ اختیارات کے مالک ہوں گے
٭ کویت موروثی حکومت ہے جو شیخ مبارک الصباح رحمہ اللہ کی ذریت میں رہے گی “۔

قومی تہوار اور جشن آزادی کے اس مبارک موقع سے ہم تمام اہل کویت کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں، ملک میں امن وامان کی بحالی ، داخلی وخارجی سلامتی ، اور امیرکویت عزت مآب شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح حفظہ اللہ کی دانشمندانہ قیادت میں کویت کی تعمیروترقی اورخوشحالی وشادابی کے لیے دعاگو ہیں ۔ رہے نام اللہ کا
مکمل تحریر >>

جمعہ, فروری 14, 2014

یوم عاشقاں اورمسلم نوجوان

 آج فروری کی14  تاریخ ہے ، 14فروری کا دن عالمی سطح پر ’یوم عاشقان ‘ کے طورپر منایاجاتا ہے ۔ جسے ویلنٹائن ڈے بھی کہتے ہیں ۔ اِس دن نوجوان لڑکے اورلڑکیاں گلابی پھولوں،عشقیہ کارڈوں، سرخ چاکلیٹ اورمبارکبادی کے کلمات کاآپس میں تبادلہ کرتے ہیں ۔ اس دن اسلام اورمذہب تو دور کی بات ہے انسانیت سے گری ہوئی حرکتیں ہوتی ہیں ۔ عفت کا خون ہوتا ہے ، اور دو عشق کرنے والے کھلے طورپر بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
اگر ویلٹائن ڈے کی تاریخ پر غور کریں تو آپ کو پتہ چلے گاکہ اِس دن سے دو قوموں بت پرست رومیوں اور عیسائی سنٹ ویلٹائن کی یادیں وابستہ ہیں۔ بت پرست رومی اس دن کوSpiritual Love Day یعنی اپنے خداؤں سے روحانی محبت کے نام پر مناتے تھے ۔ اورجب انہیں رومیوں نے عیسائیت اختیارکرلیا تو سنٹ ویلنٹائن کی نسبت سے اس دن کو منانے لگے ،جس کا تعلق عشق ومحبت سے ہے۔شہنشاہ کلاوڈیس نے اسے کسی جرم کے پاداش میں پابند سلاسل کردیاتھا، وہاں جیلر کی بیٹی سے اسے عشق ہوگیا، اس طرح  لڑکی اور اس کی فیملی کے متعدد افراد نے عیسائیت قبول کرلیا تھا ،بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کوموت کی سزا دے دی ،یہ 270 عیسوی کا واقعہ ہے ۔اسی کے بعدنوجوان لڑکوںاورلڑکیوں نے اس دن کو یادگار کے طورپرمناناشروع کردیا، لیکن سترھویں اور اٹھارھویں صدی عیسوی میں اِسے عروج حاصل ہو ا ،اوراب حالت یہ ہوچکی ہے کہ پوری دنیا میں یہ وائرس پھیل چکا ہے اور عشق ومحبت کے اسیرنوجوان لڑکے اورلڑکیاں اس دن شرم وحیا کو بالائے طاق رکھ کر غیرت کا خون کرتے ہیں ۔
اگرغیرقومیں اس وائرس کا شکار ہیں توہمیں اس پراس قدرافسوس نہیں کہ وہ اس سے بڑھ کراپنے خالق ومالک کا عرفان نہیں رکھتیں لیکن اگرمسلم نوجوان لڑکے اورلڑکیاں ایسے دن منائیں تو یقینا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ذراغورکریں آپ جس دین کے ماننے والے ہیں وہ ایک آفاقی دین ہے ۔ جسے اللہ نے آپ کو عطا کیا ہے ۔ اگر وہ چاہتا تو آپ کو کسی غیرمسلم گھرانے میں پیدا کرسکتا تھا ،لیکن اس نے آپ کو مسلمان بنایا ،اورنجات پانے والا عظیم دین عطا کیا ۔ کیاآپ جانتے نہیں کہ اس دین میں اس طرح کی بے حیائی کی گنجائش نہیں ؟ کیاآپ جانتے نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
من تشبہ بقوم فھو منھم (أبوداؤد  3512)
” جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے“ ۔ مسلمان کی اپنی ایک امتیازی شان اور پہچان ہونی چاہیے۔مسلمانوں کے ہاں سال میں صرف دوعیدیں ہیں تیسری کوئی عید نہیں ۔ آپ اس دین کے ماننے والے ہیں جس میں عورت اورمرد دونوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیاہے ۔(سورة النور 30-31) آپ اس دین کے ماننے والے ہیں جس میں اجنبی عورتوں سے خلوت اختیار کرنے سے روکا گیاہے ۔(بخارى) آپ اس دین کے ماننے والے ہیں جس میں عورت کواجنبی مردسے بات کرتے وقت دبی زبان بھی استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔(سورة الأحزاب 32) آپ اس دین کے ماننے والے ہیں جس میں حیا کی بے پناہ اہمیت ہے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 اذا لم تستحی فاصنع ما شئنت (بخارى )
” اگر تم حیا نہیں کرتے تو جوچاہو کرو“۔ ایسا پاکیزہ دین ہمیں اِس بات کی کیسے اجازت دے سکتاہے کہ اجنبی لڑکی اورلڑکیاں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوں، عشق ومحبت کی باتیں کریں اور عفت وعصمت کا خون تک کربیٹھیں ؟
پیارے بھائی! ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کہ کیا کوئی ادنی غیرت رکھنے والا انسان بھی اپنی بہن اوربیٹی کے لیے پسند کرے گا کہ اسے محبت کے کارڈ یا سرخ گلدستے پیش کئے جائیں اوراس سے اجنبی لڑکے بغل گیرہوں؟یقینا آپ کا جواب ہوگا کہ کوئی باغیرت انسان ایسا پسند نہیں کرے گا،توظاہر ہے کہ وہ بھی تو کسی کی بہن اوربیٹی ہے ۔
یہاں پرکسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتاہے کہ کیا اسلام محبت کے خلاف ہے ۔ جی نہیں،اسلام محبت کے خلاف نہیں ۔بلکہ محبت کرنے پر ابھارتا ہے ۔ لیکن یہ محبت جائز اورفطری ہونی چاہیے ۔ ناجائز اور غیرفطری محبت نہیں ۔ محبت کرنی ہے تو اللہ سے کریں :
والذین آمنوا أشد حبا للہ (سورة البقرة : 165)
” ایمان والے اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہوتے ہیں“ ۔ محبت کرنی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کریں :
النبی أولی بالمومنین من أنفسھم (سورة الأحزاب : 6)
 ”نبی مومنوں کی نظر میں ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں“ ۔ محبت کرنی ہے تو اپنے ماں باپ سے کریں ، بہن بھائیو ں سے کریں ،رشتے داروں سے کریں کہ اسلام صلہ رحمی پر ابھارتا ہے ۔ محبت کرنی ہے تو شادی کے رشتے میں بندھنے کے بعد بیوی سے کریں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
 لم يرللمتحابین مثل النکاح ( ابن ماجہ، صحیح الجامع 5200)
نکاح کرنے والے جوڑے کے درمیان جو محبت ہوتی ہے اس جیسی محبت کسی اور جوڑے میں نہیں دیکھی گئی۔“
 اوراس نبی کا اسوہ ہمارے سامنے ہے جواپنے ازواج مطہرات کے لیے لوگوںمیں سب سے بہتر تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دیکھیں کہ برتن سے جہاں منہ رکھ کر پانی پیتی ہیں وہیں منہ رکھ کر آپ بھی پیتے ہیں ۔جہاں سے ہڈی چباتی ہیں وہیں سے آپ بھی چباتے ہیں ، ایک ساتھ غسل کرتے ہیں اورجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمروبن عاص رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول! آپ کی نظر میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ تو آپ بلاجھجھک کہتے ہیں : عائشہ ۔ (ترمذی)
اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے سنہرا اصول یہ دیا کہ خوبیوں پر نظر رکھی جائے اورخامیوں کونظرانداز کیاجائے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کوئی مومن اپنی بیوی سے بغض نہ رکھے اگر اس کی ایک عادت ناپسند ہے تو دوسری عادت پسند ہوگی “ (مسلم )
اسلام تو اس سے بڑھ کرایک آفاقی محبت کا تصور دیتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے کا مسلمان ہو دین کے ناطے آپ کا بھائی ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مثل المومنین فی توادھم وتراحمہم وتعاطفہم کمثل الجسد الواحد اذا اشتکی منہ عضو تداعی لہ سائر الجسد بالسہر والحمی (بخاری ومسلم )
”مسلمانوں کی مثال آپسی محبت ،رحم دلی اور خیر خواہی میں ایک جسم کی مانند ہے کہ اس کے کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم بخار اور بے خوابی کا شکار ہوجاتا ہے“ ۔
اس تفصیل سے یہ بات دو اور دوچار کے جیسے عیاں ہوگئی کہ اسلام محبت کے خلاف نہیں بلکہ محبت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،اوراسلام کی ساری تعلیمات محبت کی آئینہ دار ہیں ۔ البتہ اسلام عاشقی اورناجائز محبت کے خلاف ضرورہے ۔
 اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کے موقع سے ایک مسلمان کا کیا کردار ہونا چاہیے ؟ تو یاد رکھیں اس موقع سے ہرمسلمان کے لیے بحیثیت مسلمان تین کام کرنے کے ہیں:
(۱) ایسی مجلسوں اورتقریبات سے خودکو دوررکھیں اورنہ ان کے لیے کسی طرح کا تعاون پیش کریں کہ یہ شر اورسرکشی میں تعاون ہوگا ۔
 (۲) ویلنٹائن ڈے کی مبارکبادی کسی صورت میں قبول نہ کریں ۔
 (۳) جو لوگ نادانی میں ایسی بیماری کے شکار ہوچکے ہیں ان کو سمجھائیں اور ان کے سامنے ویلنٹائن ڈے حقیت کھول کھول کر بیان کریں ۔ 
مکمل تحریر >>

سوموار, فروری 10, 2014

ڈاکٹر معراج عالم تیمی کے والد گرامی جناب انفاق صاحب انتقال فرما گئے

السلام ایجوکیشنل اینڈویلفیر فاؤنڈیشن پٹنہ کے جنرل سکریٹری ہمارے مربی اور مشفق بھائی ڈاکٹر معراج عالم تیمی مدنی کے والدگرامی قدر جناب انفاق صاحب کا آج صبح اچانک انتقال ہوگیا ، سینہ میں ہلکا سادردمحسوس ہوا اور کچھ دیر کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ،انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس گھرکے ہر فردسے ہمارا اتنا قریبی تعلق تھا کہ ہم خود کو لواحقین میں محسوس کررہے ہیں اور یہ دل خراش خبر سن کر جذبات سے بے قابو ہوتے جارہے ہیں۔لیکن موت سے کس کو رستگاری ہے ، آج وہ کل ہماری باری ہے ۔ اس موقع سے ہم پورے اہل خانہ بالخصوص بڑے بھائی جمال الدین مدنی ، استاذقارى نثار رحمانى، برادرم ڈاکٹر معراج عالم مدنی ،ہم سبق سراج الدین تیمی ، عزیز ی اعجاز الدین اور اکرم جمال تیمی سے کہیں گے :
أعظم اللہ أجرکم ، صبرسے کام لیں، اللہ کے فیصلے سے راضی رہيں، یہ دنیا کی ریت ہے، یہاں کوئی ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا-
اللہ پاک موصوف کی مغفرت فرمائے اور ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ۔آمین
مکمل تحریر >>

ہفتہ, فروری 01, 2014

حق کا متلاشی : سلمان فارسی رضی اللہ عنہ



 حق اورسچائی کی تلاش ہر انسان کی ذمہ داری ہے، اللہ پاک نے انسان کو عقل سلیم کی دولت سے مالامال اسی لیے کیاہے کہ اس کی بدولت انسان حق کی پہچان کرسکے ،یوں تو انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے تاہم تربیت اور ماحول کا اس پر اثر ضرورپڑتا ہے، انسان جس ماحول میں آنکھیں کھولتا ہے وہاں کی ریتی رواج کو بہتر سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ بسااوقات سچائی اس کے خلاف ہوتی ہے ، وہ یہ سوچتا ہے کہ ہمارے آباء واجداد جو کام کرتے آئے ہیں وہ آخر غلط کیسے ہوسکتا ہے ۔ یہیں سے انحراف شروع ہوتاہے، لیکن سلیم طبیعتیں حق کی متلاشی ہوتی ہیں، رسم ورواج کی پابند نہیں ہوتیں ۔
ذیل کے سطورمیں ایک ایسے ہی حق کے جویا کی کہانی پیش خدمت ہے جنہوں نے تلاش حق کی راہ میں ماں پاب کے دین کو رکاوٹ بننے نہیں دیا، اورہرطرح کی قربانیاں پیش کیں بالآخر حق کو پانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ کہانی اس انسان کی کہانی ہے جو عربی نہیں لیکن صحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضیاب ہوئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اہل بیت کی طرف منسوب کیا ،صحابہ میں سب سے لمبی عمر پائی ، حضرت علی رضى الله عنه نے انہیں امت محمدیہ کا لقمان حکیم کہا ، جنہوں نے ساٹھ حدیثیں بیان کیں ، جنہوں نے خندک کی جنگ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خندک کھودنے کا مشورہ دیا ۔  یہ ہیں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ۔
اس کہانی کوجب بھی میں نے پڑھا ہے بے قابوہوگیا ہوں اورآنکھیں بہنے لگی ہیں ۔ہماری خواہش ہوگی کہ دل اوردماغ حاضر کرکے اسے بغور پڑھیں ۔اس قصہ کوامام مسلم اورامام احمد نے بیان کیا ہے، تولیجئے ان کا قصہ انہیں کی زبانی پڑھئے، وہ کہتے ہیں:

میں پارسی مذہب پر تھا، میرا تعلق اصفہان کی ایک بستی جیّ سے تھا ، میرے والدگاؤں کے بہت بڑے زمیندار تھے، میں ان کی نظرمیں بیحد محبوب تھا ،مجھ سے ان کو ایسی محبت تھی کہ انہوں نے مجھے گھر میں روک رکھا تھا جیسے دوشیزائیں روک کررکھی جاتی ہیں ۔  میں نے مجوسی مذہب کے حصول میں محنت کی حتی کہ ہمہ وقت آگ سلگائے رکھتا اور ایک لمحہ کے لیے بھی اسے گل ہونے نہ دیتا ، میرے والد کی ایک بہت بڑی جاگیر تھی ، ایک دن وہ کسی تعمیر میں مشغول ہوگئے اورمجھ سے کہا کہ : بیٹے ! میں آج کسی کام میں مشغول ہوگیا ہوں تم جاؤکھیت کی دیکھ ریکھ کرنا ، میں کھیت کی طرف نکلا ، راستے میں میرا گذر عیسائیوں کے ایک چرچ سے ہوا ،میں نے اس میں ان کی عبادت کی آوازیں سنیں، مجھے اس سے قبل لوگوں کے معاملات سے واقفیت نہیں تھی کہ میرے باپ نے مجھے گھر میں قید کر رکھا تھا ، میں جب ان کے پاس سے گذرا اوران کی آوازیں سنیں تو اندر داخل ہوا کہ دیکھوں وہ کیا کرتے ہیں ، جب میں نے انہیں دیکھا تو ان کی نماز مجھے پسند آگئی ،اوران کے تئیں میری دلچسپی بڑھتی گئی، میں نے کہا : اللہ کی قسم! یہ اس دین سے بہتر ہے جس پر ہم لوگ ہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے پاس بیٹھا رہا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، میں نے اپنے باپ کے کھیت کو بھی چھوڑدیا اور وہاں نہ جاسکا۔  میں نے ان سے پوچھا : اس دین کی بنیاد کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : شام میں ۔
پھر میں اپنے باپ کے پاس پہچا ،اس سے پیشتروہ مجھے تلاشنے کے لیے ایک آدمی بھیج چکے تھے تاہم میں ان کے کام پرتو تھانہیں کہ ملتا ،جب گھر آیا تو والد نے مجھ سے پوچھا : بیٹے : کہاں تھے ؟ کیا میں نے تمہیں کھیت کے کام پر نہیں بھیجا تھا ؟ میں نے کہا : ابوجان !بات یہ ہے کہ میرا گذر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو چرچ میں عبادت کررہے تھے ،میں نے ان کے دین میں جو کچھ دیکھا ہے مجھے بہت پسند آیا ، اورمیں ان کے پاس مسلسل رہا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا ۔ میرے والدنے کہا: بیٹے ! ان کے دین میں کوئی بھلائی نہیں ، تمہارا اورتمہارے آباء واجداد کا دین ان کے دین سے بہت بہتر ہے ۔  میں نے کہا : ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے ۔ یہ سن کر انہیں خوف لاحق ہوگیا اورانہوں نے میرے پیروںمیں زنجیریں ڈال دیں ،اورگھر میں مجھے قید کردیا ۔  میں نے عیسائیوں کے پاس آدمی بھیجا اوران سے کہا کہ اگر تمہارے پاس شام کا کوئی تجارتی قافلہ آئے تو مجھے ان کی بابت بتانا، چنانچہ ایک بار ان کے پاس شام سے عیسائیوں کا ایک قافلہ آیا تو انہوں نے مجھے اطلاع دی، میں نے ان سے کہا : جب وہ ضرورت پوری کرلیں اوراپنے ملک لوٹنے کا ارادہ کریں تو ہمیں مطلع کرنا۔  جب انہوں نے اپنے ملک لوٹنے کا ارادہ کیا تو میں نے پیر سے آہنی زنجیریں اتاریں اوران کے ہمراہ نکل پڑا ،یہاں تک کہ شام پہنچ گیا ۔ شام پہنچنے کے بعد میں نے لوگوں سے پوچھا :مجھے بتاؤ  كہ اس دین کے لوگوںمیں افضل آدمی کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ : چرچ کا فلاں پادری ، میں اس کے پاس آیا اوراس سے کہا : میں اس دین سے رغبت رکھتا ہوں،اورمیری خواہش ہے کہ آپ کے ہمراہ رہ کر چرچ کی خدمت کروں، آپ سے سیکھوں اورآپ کے ساتھ نماز پڑھوں۔ اس نے کہا: میرے پاس آجاؤ اور میں ان کے پاس رہنے لگا ۔ تاہم پادری برا انسان تھا ، لوگوں کو صدقہ کا حکم دیتا اوراس کی ترغیب دلاتا، جب لوگ اس کے پاس مال جمع کرتے تو اسے اپنے لیے سمیٹ لیتا اورغرباء و مساکین کواس میں سے بالکل نہ دیتا تھا ۔ یہاں تک کہ اس نے سونے کے سات بڑے مٹکے جمع کرلیا تھا، میں اس کا یہ عمل دیکھ کرا سے سخت ناپسند کرنے لگا ، پھر وہ کچھ دنوں کے بعد مرگیا ،لوگ اسے دفن کرنے کے لیے اکٹھا ہوئے تو میں نے ان سے کہا : یہ براانسان تھا ،تم کو صدقے کا حکم دیتا اوراس پر تمہیں ابھارتا تھا ،جب تم اس کے پاس صدقے لے کر آتے تو وہ انہیں اپنے لیے جمع کرلیتا تھا اورمساکین کو کچھ بھی نہ دیتا تھا ،لوگوں نے کہا : تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ میں نے کہا : میں تمہیں اس کے خزانے کا پتہ بتاتا ہوں، انہوں نے کہا کہ بتاؤ، چنانچہ میں انہیں لے کر گیا اورخزانے کی جگہ بتادی ،انہوں نے وہاں سے سات مٹکے سونے اورچاندی کے نکالے ،جب انہوں نے اسے دیکھا تو کہنے لگے : واللہ ! اسے ہم ہرگز دفن نہ کریں گے، پھر انہوں نے اسے سولی پر لٹکاکر سنگسار کردیا ۔
اس کے بعدایک دوسرے آدمی کو اس کی جگہ پر رکھا ، میں نے دیکھا کہ وہ سب سے افضل انسان ہے ،پانچ وقت کی نمازیں پڑھتا ، دنیاکے معاملے میں زہداختیار کرتا ، آخرت کا رسیا بنا رہتا اور رات دن عبادت میں لگا رہتا تھا، میں اس سے بہت محبت کرنے لگا، اس سے قبل میں نے ویسے کسی سے محبت نہیں کیا تھا ، میں ایک زمانہ تک اس کے پاس ٹھہرا رہا ، پھر اس کی وفات کا وقت قریب آگیا تو میں نے اس سے کہا : اے فلاں! میں آپ کے ساتھ تھا اورآپ سے بیحد محبت کرتا تھا ،اس سے پیشتر میں نے آپ سے زیادہ کسی سے محبت نہیں کی،آپ کی وفات قریب ہے،اب آپ مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کرتے ہیں اورکیا حکم فرماتے ہیں ؟ اس نے کہا : بیٹے! اللہ کی قسم ! میں جس مشن پر ہوں میں نہیں جانتا کہ لوگ اس پرآج قائم ہیں، اچھے لوگ گذر گئے، لوگوں نے دین عیسوی میں تبدیلی کر پیدا کردی  اور اکثرتعلیمات کو چھوڑ بیٹھے البتہ موصل میں ایک آدمی ہے جو میرے مشن پرقائم ہے اس کے پاس چلے جاؤ۔
جب وہ مرگئے اوراس کی تدفین ہوگئی تو میں موصل کے پادری کے پاس چلا گیا، وہاں جاکر میں نے اس سے کہا : اے فلاں! فلاں نے اپنی مو ت کے وقت مجھے وصیت کی تھی کہ میں آپ کی صحبت اختیار کروں، اورانہوں نے یہ اطلاع دی تھی کہ آپ ان کی مشن پرقائم ہیں ۔ انہوں نے کہا : میرے پاس ٹھہرو، چنانچہ میں ان کے پاس ٹھہر گیا، میں نے اس کو بھی بہتر آدمی پایا ،لیکن کچھ دنوں کے بعد وہ بھی مرگیا، جب اس کی موت کا وقت قریب ہوا تو میں نے کہا : اے فلاں! فلاں نے مجھے آپ کے پاس آنے کے وصیت کی تھی، ابھی آپ کے پاس پیام اجل آچکا ہے،تو آپ مجھے کس کے پاس جانے کا صلاح دیتے اورکیاحکم فرماتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : بیٹے ! میں کسی ایسے آدمی کو نہیں جانتا جو ہمارے مشن پر قائم ہو سوائے نصیبین کے فلاں آدمی کے، لہذا تم اس کے پاس چلے جانا۔ جب وہ مرگیا اوراس کی تدفین ہوچکی تو میں نصیبین کے پادری کے پاس چلاآیا اوراپنے بارے میں اور پہلے پادری نے جوکچھ کہاتھا اس سے متعلق بتایا تو اس نے کہاکہ میرے پاس ٹھہر جاؤ ، چنانچہ میں اس کے پاس ٹھہر گیا ، میں نے اسے بھی پہلے دونوں پادریوں جیسے پایا ، میں نے ایک بہترانسان کے پاس قیام کیا، لیکن کچھ دنوں بعد اسے بھی موت آگئی ،موت سے پہلے میں نے اس سے کہا : اے فلاں ! فلاں نے آپ کے پاس مجھے آنے کی وصیت کی تھی اب آپ اپنے بعدمجھے کس کے پاس جانے كى وصیت کرتے ہیں، اورکیا حکم فرماتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: بیٹا ! اللہ کی قسم کوئی آدمی ایسا باقی نہیں رہا  جو ہمارے مشن پر ہو سوائے عموریہ میں ایک آدمی کے جو ہمارے مشن پر قائم ہے اگر چاہوتو اس کے پاس چلے جاؤ۔
جب  وہ مرگئے اوران کی تدفین ہوچکی تو میں عموریہ کے پادری کے پاس آیا اوراپنے متعلق بتایا تو  اس نے مجھے کہا کہ میرے پاس ٹھہر جاؤ، چنانچہ میں اس کے پاس ٹھہر گیا ، وہ بھی اپنے پہلے ساتھیوں کے جیسے تھا ،  وہاں میں نے کچھ کاروبار کیا حتی کہ میرے پاس بہت سی بکریاں اورگائیں ہوگئیں ،پھر اس کا اجل بھی آپہنچا ، تو  میں نے اس سے کہا : اے فلاں میں فلاں کے ساتھ تھا ،اس نے مجھے فلاں کے پاس بھیجا ، پھر فلاں نے مجھے فلاں کے پاس بھیجا ، پھر فلاں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ، اب آپ مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کرتے اورکیا حکم فرماتے ہیں ؟ اس نے کہا : بیٹا ! اللہ کی قسم میں کسی ایسے آدمی کو نہیں جانتا  جو ہمارے مشن پر قائم ہواوراس کے پاس جانے کی میں تجھے وصیت کروں،البتہ ابھی آخری نبی کے آنے کا  زمانہ قریب ہوچکا ہے جو دین ابراہیمی کے ساتھ بھیجے جائیں گے ، عرب کی سرزمین میں آئیں گے ،وہ سیاہ رنگ کے پتھر والی سرزمین ہوگی اوروہاں کھجور کی کھیتی ہوتی ہوگی ،اس کے ساتھ کھلی نشانیاں ہوں گی ،  وہ ہدیہ کھائیں گے، صدقہ نہیں کھائیں گے ، ان کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی ۔ اگر اس سرزمین میں پہنچ سکتے ہوتو پہنچ جاؤ۔
جب وہ مرگیا اوراس کی تدفین ہوچکی تو میں عموریہ میں ایک مدت تک ٹھہرا رہا ، پھر بنو کلب کاایک تجارتی قافلہ عرب جارہاتھا  تو میں نے ان سے کہا : تم مجھے اپنے ساتھ عرب کی سرزمین پر پہنچا  دو  میں تمہیں یہ بکریاں اور گائیں دے دوں گا ،انہوں نے حامی بھرلی، میں نے انہیں ساری بکریاں اورگائیں دے دیں ،اوروہ مجھے اپنے ساتھ لے آئے ،جب وادی القری پہنچے تو انہوں نے مجھ پر ظلم کیا اور ایک یہودی سے مجھے بیچ دیا ، اب میں یہودی کا غلام بن گیا ،البتہ جب میں نے کھجور دیکھا  تو مجھے امید ہونے لگی کہ شایدیہ وہی سرزمین ہے جس کی بابت  ہمارے (عموریہ کے پادری ) ساتھی نے پیشین گوئی کی ہے ۔میں اسی یہودی کے پاس تھا کہ ایک دن اس یہودی کا بھتیجاآیا جو مدینہ میں بنوقریظہ سے تعلق رکھتا تھا ،اس نے مجھے اپنے چچا سے خریدلیا ،اورمدینہ لے کر آگیا ،اللہ کی قسم جب میں نے مدینہ کو دیکھا تو اپنے ساتھی کی پیشین گوئی کے بالکل موافق پایا ،وہاں میں ٹھہر گیا ،ادھر اللہ تعالی نے اپنے رسول کو مبعوث فرمایااورآپ مکہ میں سالوں تک ٹھہرے رہے تاہم میں نے آپ کا نام تک نہیں  سنا کہ میں غلامی کے باعث مشغول تھا، پھر آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔ ایک دن میں اپنے  مالک کی کھجور کے درختوںمیں لگاکوئی کام کررہا تھا ،اورمیرا مالک وہیں کھڑا تھا ،کہ اسی اثناءاس کا عم زادہ آیا اور اس کے پاس ٹھہر کر کہنے لگا : نبوقیلہ کی تباہی آگئی ،اللہ کی قسم یہ لوگ قباءمیں ایک آدمی پر اکٹھا ہورہے ہیں جو آج مکہ سے آیاہے جودعوی کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ۔ یہ سنکر میں جذبات سے بے قابوہوگیا اورمجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنے مالک پر گر جاؤں گا ،میں کھجورکے درخت سے فورا اترا اوراس کے عم زادے سے کہنے لگا : کیا کہہ رہے ہو تم؟ یہ دیکھ کر میرا مالک مجھ پر غصہ ہوا اورایک طمانچہ لگادیا ،اورکہا : چلو جاؤ،  اپنا  کام کرو ،تم کو اس سے کیا مطلب ۔ میں نے کہا : کوئی بات نہیں ،میں تو صرف اس کی بات کی تصدیق چاہتا تھا ۔ میں نے اس دن شام میں کچھ کھجوریں جمع کیں اورانهیں لے کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ،اس وقت آپ قباءمیں تشریف رکھتے تھے، میں آپ کے پاس آیا ، اورآپ سے کہا : مجھے اطلا ع ملی ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اورآپ کے ہمراہ آپ کے اصحاب حاجت مند ہیں، میرے پاس کچھ کھجورصدقہ کی تھی،میں نے سمجھاکہ دوسروں کی بنسبت آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔میں نے اسے آپ کے قریب کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کھاؤ  “تاہم آپ نے ہاتھ روک لیا ، تناول نہیں فرمایا۔  میں نے اپنے دل میں کہا: یہ پہلی نشانی ہوئی – پھر میں آپ کے پاس سے آگیا .
دوسرے دن کچھ کھجوریں جمع کیا ،جب تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آچکے تھے ،میں مدینہ میں آپ کے پاس آیا اورآپ سے کہا : میں نے دیکھاکہ آپ صدقہ نہیں کھاتے تویہ ہدیہ ہے جسے میں آپ کے لیے لے کرآیا ہوں،قبول فرمائیں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایااوراپنے اصحاب کو حکم فرمایا،چنانچہ انہوں نے بھی اس سے کھایا۔ میں نے دل میں کہا : یہ دوسر ی نشانی پوری ہوئی ۔
پھر میں تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام بقیع میں اپنے کسی ساتھی کے جنازے میں شریک تھے، آپ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے تھے ،آپ پردوچار تھی، ایک پہن رکھی تھی اوردوسری اوڑھ رکھی تھی، میں نے آپ کو سلام کیا ،پھر آپ کے پیچھے سے آپ کی مہر نبوت کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا جس کے متعلق میرے ساتھی نے بتایاتھا ،جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیچھے میں دیکھا کہ تو سمجھ گئے کہ شاید مجھے جو چیزبتائی گئی ہے اس کی تحقیق چاہتا ہوں، چنانچہ آپ نے اپنی چادر اپنی پیٹھ سے ہٹادی ۔ میں نے مہرنبوت کو دیکھتے ہی آپ کو پہچان لیا ،اورلپک کر اسے بوسہ لینے لگا اوررونے لگا ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادھر گھمو،سامنے آؤ ،میں گھمااورسامنے آیا اورآپ کو اپناسارا قصہ کہہ سنایا، آپ کو میرا قصہ بہت پسندآیا ،اور فرمایاکہ صحابہ کرام کو بھی یہ قصہ سناؤ۔ پھر میں غلامی کی وجہ سے مشغول ہوگیا،یہاں تک کہ بدراوراحد کی جنگ میں شریک نہ ہوسکا ۔
ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: سلمان ! اپنے مالک سے مکاتبت کرلو ،( مخصوص رقم کے عوض آزادی کے لیے مالک سے معاہدہ کرنے کومکاتبت کہتے ہیں) ،چنانچہ میں نے اپنے  مالک سے تین سوکھجورکے پودے لگانے اورچالیس اوقیہ سونا  پر مکاتبت کرلیا ،  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، چنانچہ سب نے میری مدد کی ،کوئی تیس پودےلارہا ہے تو کوئی بیس پودے لارہا ہے ،کوئی پچیس پودے لارہا ہے ،توکوئی دس پودے لارہا ہے۔ غرضیکہ جس سے جتنا  ہوسکا  لاکر پیش کردیا ،یہاں تک کہ تین سو پودے جمع ہوگئے ،اس کے بعد اللہ کے رسول اپنے صحابہ کے ساتھ کھیت میں جاتے ہیں اوراپنے ہاتھ سے اسے لگاتے ہیں ۔ اللہ کی شان کے سارے پودے کامیاب نکل گئے، پھر ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مرغی کے انڈے کے برابر سونے کا ڈھیلا آیا ،آپ نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اوران کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ جاؤ اپنے  مالک کو وزن کرا دو ۔ اسے لے کر گئے اور وزن کرایا  تو سونے کا  وہ  ڈھیلا چالیس اوقیہ سے زیادہ ہوا اور اس طرح حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے یہودی کی غلامی سے آزادی حاصل کرلی ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے  ہیں کہ اس کے بعد میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق میں شریک ہوا ، پھر کوئی جنگ فوت نہ ہوئی ۔
عزیزقاری ! یہ ہیں حق کے متلاشی سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جو حق کی کھوج میں ماں باپ کی محبت کو خیرباد کہتے ہیں،عیش وآرام کی زندگی کو بالائے طاق رکھتے ہیں، ہمت اس قدر بلند ہے کہ اعلی صفات کے حامل مربی کے پاس رہنا پسند کرتے ہیں،اوراس کے لیے مختلف جگہوں کی خاک چھانتے ہیں،اسی راہ کی تلاش میں غلامی کی زنجیر میں جکڑ دئیے جاتے ہیں ،لیکن ہمت نہیں ہارتے ،بالآخر گوہر مطلوب ملتا ہے ، اورشرف صحابیت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔آج کتنے ایسے لوگ ہیں جو ایرے غیرے نتھوخیرے کے پیچھے چل کراپنے ایمان کو برباد کررہے ہیں ،انہیں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی زندگی سے سبق حاصل کرتے ہوئے کتاب وسنت کا گہرا علم رکھنے والے عالم سے رجوع کرنا چاہیے اورتلاش حق کی راہ میں خاندانی روایت کو حائل نہیں ہونے دیناچاہیے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق دے ، اوراللہ کی رحمت ہو سلمان فارسی رضی اللہ عنہ پر .
  
مکمل تحریر >>