ہفتہ, دسمبر 28, 2013

تین بیماریاں اورتین علاج

جس طرح جسم انسانی کوبیماری لاحق ہوتی ہے تواس کی تشخیص اورعلاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کیاجاتاہے تاکہ جسم انسانی صحیح سالم اورتندرست رہ سکے ،اسی طرح قومیں اورملتیں بھی بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں، آج امت مسلمہ کے بعض افرادکے دلوںمیں مختلف طرح کی بیماریاں سرایت کرچکی ہیں ان کاپتہ لگانابہت ضروری ہے تاکہ ان کامناسب علاج ڈھونڈا جاسکے ،اگربیماری کا سراغ لگانے اوراس کے علاج کی تشخیص کرنے میں ہم سے کوتاہی ہوئی تو یہی بیماری نہایت خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔بیماری کے علاج سے چشم پوشی برتنا ہلاکت اورتباہی کا پیش خیمہ ہے ،اس لیے بیماریوں کا جائزہ لینا اوران کا علاج تشخیص کرنا بہت ضروری ہے ۔سردست ہم تین بیماریوں کا ذکر کریں گے اورپھر ان کاتین علاج بھی بیان کریں گے ۔

عقیدہ کے اثر ات کی کمی:

ہم سب خودکو مسلمان کہتے ہیں ،کلمہ شہادت کا اقرار کرتے ہیں ،اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتے ہیں،لیکن اگرغورکیاجائے تویہ ایمان محض زبانی جمع خرچ ہے ،دعوی کی حد تک ہے ،ہماراعمل اس کے خلاف ہے ،ایمان ہمارے نزدیک ایک نظریاتی چیز بن کررہ چکی ہے ،ایمان کا اثرہماری زندگی میں دکھائی نہیں دیتا ۔ ولاءاوربراءکے مسئلے کو ہی لیجئے ہمیں چاہےے تھا کہ عقیدہ کی بنیاد پر دوستی کریں اورعقیدہ کی بنیاد پر ہی ہماری دشمنی ہو۔ لیکن عملی زندگی میں معاملہ اس کے بالکل اپوزٹ دکھائی دیتا ہے ،ہم اللہ کا انکار کرنے والوں سے دوستی رکھتے ہیں اوراللہ پر ایمان رکھنے والوں سے دشمنی رکھتے ہیں ،ہم نیک لوگوں سے دشمنی رکھتے ہیں،اوربرے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں،اگر کسی کے اندرصحیح ایمان اورصحیح عقیدہ نہیں تواُس کے اندرکوئی بھلائی نہیں ،اُس کا موازنہ صحیح ایمان رکھنے والے سے نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ اس کو آئیڈیل بناکر پیش کیا جائے ۔عقیدہ کے مسائل میں سے قضا اورقدر کے مسئلہ پربھی غورکرکے دیکھ لیجئے ،تقدیر کے مسئلہ پر ایما ن رکھنے سے ہمیں یہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ نے مخلوق کی تقدیرلکھ دی ہے ،ہر چیز کا علم اس کے پاس ہے ،اوراُسی کے مطابق سب کچھ ہوتا ہے ،اس عقیدہ پر ایمان رکھنے سے آدمی اللہ کے ہر فیصلے سے ہروقت راضی رہتا ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ،جونہیں چاہتا وہ نہیں ہوسکتا ،اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہیں سکتا ۔ تقدیر پر ایمان کمزورہونے کی وجہ سے آدمی کسی بھی معاملے میں پریشان ہوجاتا ہے ، روزی روٹی کا مسئلہ ہو ،کسی طرح کی پریشانی آجائے ،تو انسان اس وقت آپے سے باہر ہوجاتا ہے ۔اناپ شناپ بکنے لگتا ہے ،کفریہ کلمات تک بولنے کی جرأت کرجاتا ہے ،کیاہمارا عقیدہ نہیں کہ یہ سب اللہ کافیصلہ ہے ۔اوراسی کے مطابق ہورہا ہے ،توپھرہمیں اللہ کے فیصلے سے راضی رہناچاہیے تھا کہ اس نے جب ہمارے لیے یہ فیصلہ کیا ہے توآخر ہمیں اعتراض کیوں ہے ؟

جذباتیت :

ہم جذباتی مسلمان ہیں ،ہماری اکثریت کے اندرسنجیدگی بہت کم ہوتی ہے ،ہم بہت جلد جذباتیت کے شکار ہوجاتے ہیں ،جذبات میں آکر جو چاہتے ہیں کرگذرتے ہیں پھر بعد میں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے ۔حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ہمیں سنجیدگی کا سبق ملتا ہے ۔کبھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جذباتیت کا اظہار نہیں کیا۔ مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں دیکھئے کیسے آپ اورآپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین صبر وشکیبائی اورتحمل وبردباری کے پیکر بنے رہتے ہیں ،مدینہ کی دس سالہ زندگی میں بھی جذباتیت سے کوسوں دور رہتے ہیں ،پلاننگ کرتے ہیں ،گہرائی سے معاملے کی جانچ کرتے ہیں ،حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں ،پھر اقدام کرتے ہیں ۔جبکہ ہماری جذباتیت کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی شاتم رسول اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارے بیچ جو سب سے بڑا فاسق اورفاجرہوتا ہے وہ سراپا احتجاج بن جاتا ہے اورمجرم کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے مطالبہ کے نام سے ایسی ایسی حرکتیں کرتا ہے جس کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا ۔ظاہر ہے جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی محبت ہوگی وہ قطعا دہشت گردی نہیں مچائے گا ،املاک کو تباہ وبرباد نہ کرے گا بلکہ اس کی زندگی میں اللہ اوراس کے رسول کے احکام کی بالادستی ہوگی ۔ اسی طرح آپ مسلم معاشرے میں کتنے ایسے لوگوں کو دیکھیں گے کہ جنہوں نے کبھی مسجد کا منہ تک نہ دیکھا ہوگا ،جب مسلکی اختلافات پر گفتگو ہورہی ہوگی تواس میں پل پڑیں گے اور اپنے مسلک کو برترثابت کرنے کے لیے جذباتی باتیں کریں گے اور آپ کوباورکرانا چاہیں گے کہ وہ بڑے دیندار اورایمانی غیرت رکھنے والے ہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہوئی کہ ايك مریض جس کا سر کٹا ہوا ہے ڈاکٹرکے پاس آکر کھانسی کے علاج کامطالبہ شروع کردے ،ظاہرہے کہ ایسا انسان عقل کا کورا ہی ہوگا ،غرضیکہ اسلام جذباتی مذہب نہیں بلکہ عمل پرمبنی نظام حیات ہے جو انسان کوایمان کے فوراً بعدعمل کاحکم دیتا اوراسے ایما ن کا لازمی عنصر ٹھہراتا ہے ۔

نفس کی غلامی :

انسان آج اپنی چاہت کو آگے رکھنا چاہتا ہے ،اپنی خواہش کے سامنے ہر ایک کی خواہش کو قربان ہوتا دیکھنا چاہتا ہے ،اپنے آپ کوسپر پاور ثابت کرنا چاہتا ہے ۔اوراپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتا ۔ کسی کی غیبت کرنے سے نہیں چوکتا ،کسی کی عیب جوئی سے باز نہیں آتا ،خواہ مخواہ کسی کی کمی نکالنے میں لگارہتا ہے ۔ اگر کوئی اس کو سمجھائے اوراس کی بری حرکت پرٹوکے تو یہ ضرورکہے گا کہ میرے لیے دعا کیجئے ،لیکن کرے گا وہی جو اسکے نفس کی چاہت ہوگی ۔ وہ نفس کی غلامی میں لگا ہوگا تاہم اللہ سے بڑی بڑی امیدیں باندھے ہوگا ۔حالانکہ اسلام پہلی فرصت میں نفس کی غلامی سے انسان کو آزاد کرتا ہے ، نفس کی غلامی ترک کرنے اوراللہ اوراسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا قلادہ گردن میں ڈالنے کے بعد ہی ایک انسان مسلمان بنتا ہے ۔

بیماریوں كا علاج

امت کی مختلف بیماریوںمیں سے مذکورہ تین بیماریاں ہیں جس کی شکار آج ہماری اکثریت ہے ،اب آئیے ہم ان تین بیماریوں کے علاج کی تشخیص کرتے ہیں لیکن اس سے قبل ذراسنجیدہ ہوکر دل کو ٹٹولیں اورمن سے پوچھیں کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ تنہائی میں رہے ہوں،کسی برائی کا خیال آپ کے دل میں پیدا ہواہو ،اپنے نفس پر قابونہ پاسکے ہوں اور اس برائی کا ارتکاب کرگذرے ہوں....؟ اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ایمان کی کمزوری کی بین دلیل ہے ۔ اورایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہی معاشرے میں اس طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ۔اب آئیے علاج کی طرف :

اچانک موت کے آنے سے ڈریں :

موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ،موت جب آتی ہے تو بتا کرنہیں آتی ،کبھی انسان دنیاکی سرمستیوںمیں لگاہوتا ہے اوراچانک موت کے منہ میں چلاجاتاہے،جب موت کا وقت معلوم نہیں اورہماری زندگی برف کے جیسے پگھل رہی ہے تو پھر ہمیں عمل کی طرف دھیان دینا چاہیے کہ موت کے بعد پھر عمل کاموقع نہیں،موت دیکھنے کے بعد تمنا کریں گے ،آرزوکریں گے : رب ارجعون لعلی أعمل صالحا فیما ترکت "اے میرے رب، مجھے اسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ،امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا"سدھرجاؤں گا ، اب تیری نافرمانی نہیں کروں گا،تیرے حکموں کو پامال نہیں کروں گا ،ہروقت تیرے اشارے پر ناچوں گا،کہاجاے گا:
 کلا إنھا کلمة ھو قائلہا (سورہ المؤمنون 99 ۔100)
" ہرگز نہیں، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے"،مہلت جاتی رہی ،عمل کا وقت نکل چکا ،اب خون کے آنسو روؤ، سرپیٹو،کوئی فائدہ نہیں ۔ ذراتصورکیجئے کہ ہمارے رب نے ہم سب کے لیے اس دارفانی کو امتحان ہال بنایاہے اورسوال بھی آوٹ کردیاہے،سوالات کو چھپا کرنہیں رکھا جوکچھ پوچھا جانے والا ہے اسے کھول کھول کربتادیا....ہمارے بچے سکول میں بھی اپنے کورس کا امتحان دیتے ہیں تو انہیں جوابات بتائے نہیں جاتے ،جبکہ یہاں جوابات بھی بتا دئیے گئے ،توپھر ہمیں سوچناہے کہ کیاپنجوقتہ نمازوں کی پابندی ہورہی ہے ؟کیا ہم فجر کی نمازبا جماعت ادا کر پارہے ہیں ؟کیاہم قرآن کریم کی تلاوت کر رہے ہیں ؟کیاہم اللہ کی نافرمانی سے بچ رہے ہیں ؟کیاہماری زندگی اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق گذررہی ہے ۔ابھی سوچناہے ،اوراپناجائزہ لیناہے کہ موت اچانک آنے والی ہے ۔

فوری سزاسے ڈریں :

جس وقت ہم اللہ کی نظروں کے سامنے اس کی نافرمانی کررہے ہوتے اوراس کے احکامات کو پامال کررہے ہوتے ہیں،اس کے لیے ممکن تھا کہ فورا ہمیں اس کی سزا دے دے ،زمین کو حکم دے اورزمین پھٹ پڑے اورہمیں نگل جائے ،یاہمارے پردے کو فاش کردے اورلوگوںمیں ہماری بے عزتی ہو ،لیکن وہ غفور ہے بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے،حلیم ہے ،بہت زیادہ بردبار ہے، صبورہے ،بہت زیادہ صبر کرنے والا ہے ،اسی کے سامنے اس کی نافرمانی کی جرأت کی ،لیکن اس نے ہمیں فورا سزا نہیں دیا ، بلکہ اس نے ہمارے عیوب پر پردہ ڈال دیا۔ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے پوچھیں کہ ہم نے تنہائی میں لوگوں کی نگاہوں سے چھپ کر گناہوں کے کتنے کام کیا ہے ،لیکن اس کا صبر اوراس کی بردباری دیکھئے کہ اس نے اب تک ہمیں سزانہیں دی ، اب تک ہم بچے ہوئے ہیں ۔ تاہم اس کا نظام ہے کہ جوقومیں اس کے احکام کو پامال کرتی ہیں دیریا سویر کسی نہ کسی صورت میں انہیں اس کا انجام بھگتنا پڑتا ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے :
أفأمن أھل القری أن یأتیھم بأسنا بیاتا وھم نائمون ،أوأمن أھل القری أن یأتیھم بأسنا ضحی وھم یلعبون، أفأمنوا مکر اللہ فلایأمن مکر اللہ الا القوم الخاسروں۔ ( سورة الأعراف آیت نمبر 98 ۔99 )
”کیاپھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اِس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پرہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے جس وقت وہ سوتے ہوں،اورکیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے ،جس وقت کہ وہ اپنے کھیلوںمیں مشغول ہوں،کیا وہ اللہ کی پکڑ سے بے فکر ہوگئے ،اللہ کی پکڑ سے اس کے علاوہ اورکوئی بے فکر نہیں ہوتا مگرجس کی شامت آگئی ہو ۔“
اورسنن ترمذی کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
إن اللہ لیملی الظالم حتی اذا أخذہ لم یفلتہ (سنن ترمذى)
"اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب پکڑتا ہے تو اس کے ہوش ٹھکانے لگ جاتے ہیں "۔

پریشان حالوں سے سبق لیں:

آج عالم اسلام کے مختلف ممالک میں مسلمان کیسی ناگفتہ بہ صورتحال سے گذر رہے ہیںہمیںالیکٹرونک اورپرنٹ میڈیا کے ذریعہ اس کی اطلاع ملتی رہتی ہے ۔سوریا ہو، مصر ہو ،فلسطین ہو ،بورما ہو ....جہاں پر ہر طرح سے لوگ پریشان ہیں ،شام میں شامی پناہ گزیں مسلمان سردی اوربرف باری کی وجہ سے مررہے ہیں، سردی سے متاثر ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ بچوں کی اموات ہورہی ہیں ۔ اُن کے مقابلہ میں اپنی حالت دیکھیں تو ہم نہایت امن وامان سے ہیں ،ہمیں صحت وتندرستی حاصل ہے ،سکون وراحت میسر ہے اوربے نیازی وفارغ البالی حاصل ہے ۔ اگر اللہ چاہتا تو ہمیں بھی انہیں حالات سے دوچار کر سکتا تھا لیکن اللہ نے ہمیں امن وامان اورعافیت سے رکھا جس پرہمیں اللہ کا بیحد شکر گذار ہونا چاہیے ۔

( اس مضمون كے بنيادى نكات شیخ حسین یعقوب کے لکچر سے مستفاد  ہیں )
مکمل تحریر >>

جمعرات, دسمبر 26, 2013

ایک غیرمسلم کی چند غلط فہمیوں کا ازالہ

سوال:

زمین پر سب سے پہلے کون سا دھرم تھا ؟ ايک بچہ كس دھرم پر پیدا ہوتاہے ؟  عیسی علیہ السلام اور محمد  صلىالله عليہ وسلم  دونوں ایک ہی دھرم کے رسول ہیں تو پھر الگ الگ کیوں ہوئے ؟مسلمان کے لیے جمعہ کی نماز اہم کیوں ہے ؟ غیرمسلم مکہ اور مدینہ میں کیوں نہیں داخل ہوسکتا ؟  اگر میں مسلمان ہوجاؤں،قرآن پڑھنے کی خواہش ہواور عربی نہ آتی ہو تو کیا قرآن ہندی زبان میں دستیاب ہے ؟  (دشینت سینگ)

جواب :

سب سے پہلے ہم آپ کے نیک جذبات کی قدر کرتے ہیں کہ آپ کے ذہن میں جو سوالات تھے انہیں آپ نے ہمارے سامنے رکھا ،تاکہ ان کا ازالہ ہوسکے ۔ اس کے لیے ہم آپ کو  THANKSکہتے ہیں ۔ آپ کے سوالات کئی حصوں پر مشتمل ہیں ۔تو آئیے ایک ایک کرکے ہم ان کے جوابات ديتے ہیں ۔امید کہ ہماری باتوں پر دھیان دیں گے ۔

آپ کہتے ہیں کہ زمین پر سب سے پہلا دھرم کونسا ہے ؟

اس نکتہ کو جاننے سے پہلے ذرا پیچھے ہٹ کر غور کرلیں کہ اِس دنیا کو بنانے والا کون ہے ؟اس نے اس دنیا کو کیوں بنایا ؟ اور کیا بنانے کے بعد انسان کو آزاد چھوڑدیا کہ جیسے چاہے جیون بتائے ؟ یہ سب باتیں جب ذہن میں آجائیں گی تو فورا ً  آپ کو سمجھ میں آجائے گا کہ اس دھرتی پر سب سے پہلا دھرم کونسا ہے ؟
 ہم اور آپ اللہ ، گوڈ اور بھگوان ضرور کہتے ہیں پر بہت کم لوگ ہیں جو اسے پہچانتے بھی ہیں ۔ ہم اسے نہ پہچاننے کے کارن ہی الگ الگ دھرموں میں بٹے ہوئے ہیں، قرآن جو فائنل اتھارٹی ہے ،اللہ کا کلام ہے،جو آج تک بالکل محفوظ ہے،اس میں" الاخلاص" نام کی ایک سورہ میں اللہ کا تعارف یوں کرایا گیا ہے :
قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احدا
 اس چھوٹی سی سورہ میں اللہ کے موٹے موٹے پانچ گون بتائے گئے ہیں (۱) سب سے پہلے وہ ایک ہے یعنی اکیلاہے ۔ دوسرا: اس کو کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی، تیسرا : وہ کسی ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوا ۔ چوتھا : اس کے پاس بال بچے نہیں ہیں ۔ پانچواں : اس کا کوئی ساجھی دار نہیں ہے ۔ یہ پانچوں گون اُس اللہ کے ہیں جو عرش پر مستوى ہے ، جو ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے ، جو ساری کائنات پرحكومت كررہا ہے ، جسے نہ نیند آتی ہےاور نہ اونگھ ۔
 اللہ نے اس کائنات کو بنانے کے بعد اس کے ایک چھوٹے سے حصے دھرتی پر انسان کا ایک جوڑا پیداکیا ۔اوراس کو اس دھرتی پر examکے طورپر بسایا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ايك کمپنی کوئی سامان بناتی ہے تو اس کے استعمال کرنے کا طریقہ بھی بتاتی ہے ۔اس لیے کہ جو کوئی چیز بناتا ہے وہی ا سکے استعمال کا صحیح طریقہ بتا سکتا ہے ۔ ویسے ہی اللہ نے انسان کو بنایا تو اسے دنیا میں بسنے کا طریقہ بھی بتادیا ۔الٹ ٹپ نہیں چھوڑا کہ جیسے چاہو جیون بِتاؤ،جیون بِتانے کا طریقہ کیسے بتایا؟ اِس کائنات کے کریئٹر کے تعلق سے یہ تو نہیں سمجھا جاسکتا کہ اِتنی بڑی ذات کسی انسان کے روپ میں آئے۔یا خود اسے دھرتی پر اترنے کی ضرورت پڑے ۔ سچى بات یہ ہے کہ اللہ نے انسان کوصحیح راستہ دکھانے کے لیے ہردور، ہر زمانہ ، ہر دیش اور ہرجگہ اپنے رشی منیوں کوبھیجا جن کو قرآن اور بائبل پرافیٹ، رسول یا میسینجر کہتا ہے ۔ولکل قوم ھاد "ہر قوم میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور آیا"۔ وہ انسا ن ہوتے تھے ، قوم کے پاک لوگوں میں سے ہوتے تھے ،اوران کو اپنے میسیج کی تائید کے لیے کچھ چمتکاریاں بھی دی جاتی تھیں جنہیں ہم معجزہ کہتے ہیں ۔ وہ سب ایک اللہ کی پوجا کی طرف لوگوں کو بلاتے رہے ،یہی وہ پہلا دھرم ہے جو زمین پر انسانوں کے لیے بھیجا گیا ۔ اِس دھرم کو عربی میں اسلام کہتے ہیں ،یہاں آپ کے پہلے سوال کا جواب مل گیا کہ دھرتی پرالگ الگ دھرم نہیں بھیجا گیا بلکہ ایک ہی دھرم بھیجا گیا۔اور سب سے پہلا اورآخری دھرم اسلام ہی ہے، اسی دھرم کے پرچار کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار میسینجر آئے۔ جو لوگوں کو ایک اللہ کی پوجا کی طرف بلاتے رہے ۔

دشینت صاحب کا دوسرا سوال یہ ہے کہ بچہ کس دھرم پر پیدا ہوتا ہے ؟

 جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دل میں صرف ایک اللہ کا تصور ہوتا ہے ،اسی لیے اگر آپ چھوٹے بچے سے پوچھیے ،چاہے وہ کسی بھی دهرم میں پیدا ہوا ہو : اللہ کہاں ہے ؟ تو وہ فورا اشارہ کرے گا ، اوپر کی طرف کہ اللہ آسمان پر ہے - کیونکہ بچے کی فطرت میں  داخل ہے کہ اللہ ایک ہے ،اسی کی پوجا ہونی چاہیے ۔لیکن بچہ جیسا ماحول پاتا ہے اسی ماحول میں خود کو ڈھالتا جاتاہے ۔یہ بات قرآن میں یوں کہی گئی ہے: فطرة اللہ التی فطر الناس علیھا یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ۔ اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم نے اس کو یوں واضح فرمایا: کل مولود یولد علی الفطرة فابواہ یھودانہ او یمجسانہ اوینصرانہ ہربچہ اسلام پر پیدا ہوتا ہے ،اس کے بعد اس کے والدین اُس کو یہودی بنادیتے ہیں ،یا مجوسی بنادیتے ہیں یا عیسائی بنادیتے ہیں ۔

آپ کا تیسرا سوال یہ ہے کہ جب عیسی علیہ السلام اور محمد صلى الله عليہ وسلم دونوں ایک ہی دھرم کے رسول ہیں تو پھر الگ الگ کیوں ہوئے ؟  

عیسی علیہ السلام اور محمد صلىالله عليہ وسلم ہی نہیں بلکہ اِس دھرتی پر جتنے بھی سندیشٹا آئے اُن سب کا دھرم ’اسلام ‘ ہی تھا اور ابھی ہم نے بتایا ہے کہ جوبھی سندیشٹا آئے انسان ہی ہوتے تھے ،پر اُن کو کچھ چمتکاریاں دی جاتی تھیں تاکہ لوگ اُن چمتکاریوں کو دیکھ کراُن پر Faith کریں۔لیکن لوگوں نے جب اُنکو عقیدت بھری نظر وں سے دیکھا تو سوچنے لگے کہ یہ تو بڑے نیک لوگ ہیں،اِن کے ہاتھ پر چمتکاریاں بھی ظاہر ہوتی ہیں ۔اِن کے اندر ضرور ایشوری گون ہے ؟ اِس طرح کچھ لوگوں نے اُن کو سن آف گاڈ مان لیا جیسا کہ آج عیسائی دھرم ہے جو عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ۔ کچھ لوگوں نے سمجھا کہ لگتا ہے کہ یہ ایشور کے روپ میں آئے ہیں ۔اِس لیے اِن کی پوجا ایشور کی پوجا ہے ۔ اِس طرح لو گ اوپر والے ”اللہ “ کو بھول گئے اور جولوگوں کو صحیح راستہ دکھانے والے تھے انہیں کے نام سے دھرم بنالیا بلکہ ایسے ہی لوگوں کی پوجاشروع کردی ۔
یہ میسینجرس تو ایسے ہی تھے جیسے ایک ڈاکیہ ہوتاہے کہ آپ کے پاس آپ کے گھر سے Letter آئے توڈاکیہ آپ کو دینے آتا ہے اور آپ لیٹر لے کر اسے پڑھتے ہیں اور جوکچھ لکھا ہوتا ہے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔اگر لیٹر کو کھول کر نہ پڑھیں اور ڈاکیہ کوہی سب کچھ سمجھ لیں تو اِسے عقلمندی نہیں کہی جاسکتی ۔ بالکل ایسا ہی معاملہ میسینجروں کے ساتھ ہوا ۔ لوگوں نے اپنے اپنے دور کے میسینجروں کو ہی سب کچھ سمجھ لیا اور اُنہیں کے ناموں سے دھرم بناڈالا ۔آج اِس دھرتی پر اِتنے جو دھرم دیکھ رہے ہیں یہ دراصل دھارمک لوگوں کی شان میں غلو کرنے کا ہی نتیجہ ہے - اِس طرح آپ کو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ جب شروع میں دھرم ایک تھا تو آج انيک کیوں ؟
اِس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ جب لوگوں نے الگ الگ دھرم بنا لیے تو اللہ تعالی نے اُن کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیا ، اللہ جو بڑا کریم اور رحمن ورحيم ہے وہ انسانوں کی اِن حالتوں کو جان رہا تھا ۔چنانچہ ساتویں صدی عیسوی میں جب ایک ملک کا دوسرے ملکوں سے تعلق بڑھنے لگا ،دوسری زبانوں کو سیکھنے کا چلن عام ہوگیا۔اور انسان ذہنی بلوغت کی اس منزل پر پہنچ گیا جہاں سے اُس کا علمی فکری اور سائنسی ارتقا شروع ہونے والا تھا۔ایسے وقت میں  اللہ پاک نے عرب کی دھرتی مکہ میں جو پوری دینا کا سینٹر ہے ، آخری نبی محمد صلى اللہ عليہ وسلم کو بھیجا اور فائنل اتھارٹی کے روپ میں اُن پر قرآن اُتارا ۔ اوراِسی کے ساتھ دین کے مکمل ہونے کا اعلان کردیا۔
یہاں پر د وچیزوں کی ضرورت تھی ایک قرآن کی حفاظت جو تھیوری تھا اور دوسرے محمد صلىالله عليہ وسلمکی زندگی کی حفاظت جو لوگوں کے لیے پریکٹیکل لائف کی حیثیت رکھتی تھی ۔
قرآن کو دیکھیے تو وہ ہر طرح کے شک وشبہ سے بالاتر کتا ب ہے اور قاری کو کتاب کھولتے ہی یہ یقین دلایا گیا ہے کہ ذلک الکتاب لاریب فیہ (سورہ بقرہ آیت نمبر 2 ) یعنی یہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب ہے ۔اسمیں کوئی شک نہیں ۔ دنیا کی یہ واحد کتاب ہے جو اپنا آغاز اِتنے پُرزور دعوی سے کرتی ہے کہ اے قاری تم جو کتاب پڑھنے جارہے ہو اس میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ۔پھر اِ س کی عجیب طرح سے حفاظت کا بھی بندوبست کیاگیا ،جیسے جیسے قرآن اُترتا اسے لکھ دیا جاتا تھا ۔ پھر اُسے یاد بھی کرلیا جاتاتھا ۔اِس طرح محمد  صلىالله عليہ وسلم کے زمانے میں ہی پورا قرآن لکھاجاچکا تھا ۔ اورآج تک قرآن کے ایک لفظ میں بھی کوئی ردوبدل نہ ہوسکا ہے اورنہ رہتی دنیا تک ہوسکتا ہے،چاہے آپ دنیا کے کسی بھی کونہ میں جائیں آپ کو قرآن ایک ہی ملے گا جس میں ایک لفظ کا بھی ہیر پھیر نہ پائیں گے ۔
پھرمحمد صلىالله عليہ وسلمکی زندگی کاایک ایک لمحہ،ازپیدائش تاوفات بالکل محفوظ ہے ۔بلکہ آپ نے جو کچھ کہا تھا اور جو کچھ کیا تھا وہ اصل میں قرآن کا Explain ہی تھا اسی کو حدیث کہتے ہیں جو آج Authentic روپ میں بالکل محفوظ ہے ۔ اس طرح آج ایک آدمی قرآن اور حدیث کے ذریعہ اپنے رب کی طرف سے اتارے گئے قانون کوپورے اطمینان اور یقین کے ساتھ اپنا سکتا ہے ۔

دشینت جى ! کہتے ہیں مسلمان کے لیے جمعہ کی نماز کیوں اہم ہے ؟

ایک آدمی جب اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آج سے میں عہد کرتا ہوں کہ صرف ایک اللہ کی پوجا کروں گا اورمیری یہ پوجا یا عبادت آخری نبی محمد صلى اللہ عليہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہوگی ،تو یہ کہنے کے بعد ہی اُس پر کچھ ذمہ داریاں آجاتی ہیں کہ جوکچھ بولا ہے اُس کے مطابق کرکے دکھائے ۔ اِس طرح اُس پر پانچ وقت کی نمازیں فرض ہوجاتی ہیں ،اُن میں سے ہفتہ میں ایک جمعہ کی نماز بھی فرض ہے ۔ اورمسلمان کے نزدیک جمعہ کے دن کی زیادہ اہمیت اس لیے ہے کہ اسے ہفتے کی عید کہا گیا ہے۔اورمسلمانوں کے ہاں عید بھی دوگانہ نماز کے ذریعہ ادا کی جاتی ہے اس لیے اس کی فضیلت بتائی گئی ہے ۔ اُسی طرح محمد صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے ،اسی دن پہلے انسان آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا ۔اسی دن آدم کو زمین پر اُتاراگیا،اِسی دن اُن کی وفات ہوئی اور اسی دن قیامت بھی ہوگی۔انہیں اسباب کی بنیاد پر جمعہ کی نماز کودوسری نمازوں کی بنسبت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

دشینت صاحب کا ايك سوال یہ ہے کہ غیرمسلم مکہ اور مدینہ میں کیوں نہیں داخل ہوسکتے ؟

 اِ س کا مختصر جواب یہ ہے کہ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بھی کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں سب کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ خود آپ کے آفس کى بعض جگہوں پر لکھا ہوتا ہوگا no entry ۔ پردھان منتری کے آفس میں سب داخل نہیں ہوسکتے ۔ وہاں داخل ہونے کے لیے اجازت نامہ چاہیے ۔ بالکل اسی طرح کعبہ میں داخل ہونے کے لیے پرمٹ یا پاسپورٹ چاہیے وہ پرمٹ یا پاسپورٹ کیا ہے ؟ " لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ " اگر آپ آج ہی یہ لفظ دل میں اس کے معنی کو اتارتے ہوئے بول لیتے ہیں تو کورٹ آپ کو ایک پرمٹ دے گا جسے آپ سعودی ایمبسی میں پیش کریں گے اورآپ کے لیے مکہ جانے کا ویزابآسانی نکل جائے گا ۔ پاسپورٹ پر نام بھی چینج کرنے کی ضرورت نہ ہوگی ۔

دشینت صاحب کہتے ہیں اگر میں مسلمان ہوجاوں،قرآن پڑھنے کی خواہش ہواور عربی نہ آتی ہو تو کیا قرآن ہندی زبان میں دستیاب ہے ؟

دشینت جى! آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمان ہونے کے بعدآپ کو قرآن پڑھنے کی ضرورت ہوگی نہیں ایسی بات نہیں ہے ،قرآن آپ کا ہے ،ہم سب کے پیدا کرنے والے کی طرف سے ہمارے نام ایک تحفہ ہے ،ابھی آپ اُس کا مطا لعہ کرسکتے ہیں اورقرآن کا Translation ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ہندی زبان میں بھی ترجمہ قرآن دستياب ہے ،لیکن سوال یہ ہے کہ ہم مسلمان کیوں بنیں ؟ یہ اس لیے کہ آج ہمارے پیدا کرنے والے کا اُتارا ہوا طریقہ صرف قرآن اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتا ہے ۔ آج ہردھرم میں انسانوں کی پوجا ہورہی ہے ، صرف اسلام ایک ایسا دھرم ہے جہاں انسان اپنے رب کی پوجا کرتا ہے ۔جی ہاں اپنے رب کی ،مسلمانوں کے رب کی نہیں ،اسلام ایسا نظام پیش کرتا ہے کہ ساری دنیا کے لوگ ایک ہوجائیں -  وہ کیسے ؟ اسلام کا کہنا ہے کہ دنیا کے سارے انسان ایک ہی اللہ کی مخلوق ہیں،اس لیے سب کے سب اُس کے بندے اور داس ہیں ۔اُسی طرح اسلام سارے انسانوں کو پہلے انسان آدم وحوا کی اولاد قرار دے کر انہیں آپس میں بھائی بھائی بنا دیتا ہے ۔ جن میں نہ کوئی چھوٹا ہے نہ بڑا ، نہ اونچا ہے نہ نیچا ۔غرضیکہ اسلام ہر انسان کا دھرم ہے ،محمد صلى اللہ عليہ وسلم ہرانسان کے لیے آئے ہیں، اورقرآن ہرانسان کی مذہبی کتاب ہے - اس لیے اسلام قبول کرنا دھرم بدلنا نہیں یا مسلمانوں کا دھرم اپنانا نہیں بلکہ اپنے پیدا کرنے والے اللہ کے اتارے ہوئے قانون کی پیروی ہے ۔ جس کو اپنائے بغیر انسان مرنے کے بعد نجات نہیں پاسکتا ۔ قرآن کہتا ہے (سورہ آل عمران سورہ نمبر۳آیت نمر 19) ان الدین عنداللہ الاسلام " بیشک اللہ کے نزدیک صحیح دھرم اسلام ہی ہے" ۔دوسری جگہ قرآن کہتا ہے (سورہ آل عمران سورہ نمبر3 آیت نمبر85 ) ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الآخرة من الخاسرین " جوکوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور دھوم اپنائے گا وہ اُس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ مرنے کے بعد گھاٹا اُٹھانے والوں میں سے ہوگا" ۔
اخیر میں ہم آپ سے یہ گذارش کریں گے کہ مسئلے کی نزاکت کو سمجھیں ،اپنے خالق ومالک کی طرف پلٹیں اوراصل معبودکی پہچان کریں،آپ ایسی گاڑی پر سوار ہیں جواکسیڈنٹ کرجانے والی ہے،اگرکوئی آپ کو اس کی پیشگی اطلاع دے دیتا ہے تو آپ اس کے شکرگذارہوں گے اورفورااس گاڑی سے اترجائیں گے کہ مباداجان چلی جائے ۔ بالکل یہی حال آپ کی مذہبی گاڑی کا ہے ،اس لیے سوچئے سمجھئے اوربلاتاخیر بروقت فیصلہ لیجئے ۔   
مکمل تحریر >>

بدھ, دسمبر 25, 2013

ايك مسلم اور عیسائی کے درمیان مذاکره


مسلم :   کس نے ہمیں اور پوری دنیا کو پیدا کیا ؟
عيسائى :     گاڈ نے
مسلم :    گاڈ کون ہے ؟
عيسائى :   جيسس
مسلم :    کیا ہم آپ کی بات سے یہ سمجھیں کہ جيسس نے اپنی ماں کو بھی پیدا کیا اور ان سے پہلے نبی حضرت موسی علیہ السلام آئے تھے ، ان کو بھی پیدا کیا ؟
عيسائى :    جيسس پرميشور کے بیٹے ہیں .
مسلم :   جب جيسس پرميشور کے بیٹے ہوئے جیسا کہ آپ نے کہا تو کیا آپ کہیں گے کہ ان کو سولی پر چڑھا دیا گیا ؟
عيسائى :  جی ہاں! بالکل .
مسلم :   کیا ہم اس سے یہ نہیں سمجھیں گے کہ خدا اپنے بیٹے کو سولی پر چڑھنے سے بچا نہ سکا .
عيسائى :  خدا نے اپنے بیٹے جيسس کو آدم کی اولاد کے گناہوں کی معافی کے لئے بھیجا تھا . يعنى خدا ہی میری کے رحم میں اترے جس سے جيسس پیدا ہو ئے . سمجه  لیں کہ خدا نے جيسس کی شکل اختیار کر لی .
مسلم :   کیا آپ پرميشور کے بارے میں یہ تصورکریں گے کہ پرميشور خود اپنی ہی بنائی ہوئی کسی عورت کا نطفہ بن جائے ، نو مہینہ تک رحم میں رہے ، خون اور پانی میں ملتا رہے ، پیدا ہونے کے بعد تعلیم وتربيت  حاصل کرے ، پھر بلوغت کو پہنچے اور اپنے ساتھیوں کو مذہب کی تعلیم دے ، پھر یہود اس پر چڑھ دوڑ یں ، اور وہ ان کے درمیان سے  نکل بهاگیں.جیسا کہ آپ کے بائبل میں آیا ہے . پھر وہ ان کی تلاش شروع کر دیں یہاں تک کہ ان کے ایک شاگرد ہی ان کا پتہ بتا دیں. ان کا پتہ ملنے کے بعد ان کو لا کر سولی کی لکڑی پر بٹھا دیا جائے ، انہیں خار دار تاج پہنایا جائے ، پھر ميٹھى اور كھٹی شراب پلائى جائیں، اس کے بعد انہیں سولی پر چڑھا دیا جائے ؟
پھر تین دن کے بعد وہ اپنی قبر سے کھڑے ہوں تاکہ آسمان پر چڑھ کر تخت پر فائز ہو سکیں ؟
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آخر یہ سب پریشانیاں برداشت كرنے کی ضرورت کیوں ؟ کیا آپ اس بات سے مطمئن ہیں کہ آپ ایسے خدا کو مانیں جن کے ساتھ یہودی ظالم اور مجرم اس طرح کا برتاؤ کریں؟
مسلم :   کیا انہوں نے ہی زمين اور آسمان ،  چاند اور سورج اور انس وجن  کو پیدا کیا ؟ اور جب وه تین دن  اپنی قبر میں مدفون  رہے  تو اس وقت کائنات پر حکومت کون کر رہا تھا . ؟ اور جب آپ  كاایمان ہے کہ عیسی خدا ہیں کیونکہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں تو  اس اصول كى بنياد پرآدم علیہ السلام  بدرجہ اولى خدا بننے کا حق  رکھتے ہیں کہ وہ  بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے ، کیا ایسا نہیں ہونا چاہئے ؟
مسلم :    کیا آپ  اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کو سولی پر چڑھا دیا گیا؟
عيسائى :   جی ہاں! بالکل میں اس بات پریقین رکھتا ہوں .
مسلم :    تو پھر پڑھیں لوقا ( Luke )  24: 36-49  اور  سفر التثنيہ ( Deuteronomy )  21: 22-23 میں آیا ہے کہ
(جسے سولى  پرلٹکایا گیا ہو وہ خدا کی طرف سے لعنتى ٹھہرتا ہے )
تو کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ عیسی علیہ السلام جو سولی سے راضی تھے لعنتى ہیں . ؟
عيسائى :   ایسا تو کسی عیسائی نے نہیں کہا .
مسلم :  سنیں اپنے شاؤل کی جس كو آپ پولوس کے نام سے جانتے ہیں جو آپ کے پاس انتہائی مقدس انسان ہے وہ گلاتيو   Galatians   کے پاس اپنے پیغام 3 : 13 میں لکھتا ہے:
(مسیح نے جو ہمارے لئے لعنتى بنا ، ہمیں مول لے کر نظام کى لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے ، جو کوئی كاٹھ پر لٹکایا جاتا ہے وہ  ملعون  ہے ).
مسلم : دیکھیں ہم جيسس سے جتنا محبت کرتے ہیں آپ نہیں کرتے ، ان کى اتنى اہمیت ہے ہمارے پاس کہ اگر کوئی مسلمان ان کا انکار کر دے تو  وه دائره اسلام  سے  خارج ہوجائے گا . اور ہم ان کو ان سارے الزامات اور نقائص سے پاک سمجھتے ہیں جو آپ  ان پر تهوپتے  ہیں .
عيسائى :    مسیح سے متعلق آپ کی باتوں نے مجھے تو حيرت  میں ڈال دیا  ، میں نے کبھی اس طریقے سے غور نہیں کیا تھا ، آپ کی سارى باتیں منطقى ،  دانشورانہ اور مستندلگتى ہیں، میں ضرور آپ کے مذہب پر كشاده  دلى سے غور کروں گا ، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے سردست  اسلام کے بارے میں کچھ کتابیں فراہم کریں .
مسلم :  یہ تو میرے لئے بڑی خوشی اور سعادت کی بات ہوگی ،  بروقت  اس سائٹ کى زيارت كریں:

www.sultan.org
احمد ديدات

ترجمانى: صفات عالم
مکمل تحریر >>

اسلام ایک آفاقی دين ہے


اسلام ایک عالمگیر اور آفاقی دين ہے جس کے مخاطب سارے انس وجن ہیں ،اس کی تعلیمات کسی خاص جگہ ،کسی خاص قوم ،یاکسی خاص زمانے کے لیے نہیں  بلکہ پوری انسانیت کے لیے  ہیں، اورصبح  قیامت تک انسانيت كى  رہنمائی کرتى  رہیں گى۔ اور پیارے نبی صلى الله عليہ وسلم کی بعثت سارے عالم کے لیے ہوئی،آپ کے بعدگذشتہ تمام شریعتوں کو منسوخ کردیا گیا،اب شریعت محمدیہ کے علاوہ اورکوئی شریعت قابل قبول نہیں۔اللہ تعالی نے فرمایا
  انَّ الدِّینَ عِندَ اللّہِ الاسلاَمُ  (آل عمران 19)
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے “۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:  
وَمَن یَبتَغِ غَیرَ الاسلاَمِ دِیناً فَلَن یُقبَلَ مِنہُ وَہُوَ فِی الآخِرَةِ مِنَ الخَاسِرِین  (سورہ آل عمران85 )
جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا متلاشی ہوگا وہ ہرگز مقبول نہیں ہوگا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوںمیں سے ہوگا“۔
قرآن خود اپنا تعارف کراتا ہے:
ھدی للناس (سوره البقرة  185)
"قرآن رہنمائی ہے ساری انسانیت کے لیے" دوسرى جگہ ارشاد ہے:
 إن ھو إلا ذکر للعالمین۔(سوره يوسف 104 سوره ص 87 سوره تكوير27 )
"قرآن نصیحت ہے ساری دنیاوالوں کے لیے"- اسى طرح ارشاد ربانى ہے:
   تبارک الذی نزل الفرقا ن علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا ( سورة الفرقان 1) 
 "برکت و الی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا تاکہ  ساری دنیا کے لیے ڈرانے والا ہو"۔
اورقرآن آخری نبی  رحمت عالم صلى الله عليہ وسلم  کے بارے میں کہتا ہے : 
 وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ(الأنبياء: 107)
اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے 
 دوسرى جگہ ارشاد ربانى ہے:
 وما أرسلناک الا کافة للناس بشیرا ونذیرا ولکن أکثرالناس لایعلمون (سبا28)
”ہم نے آپ کو سارے انسانوں کے لیے خوشخبری دینے والا اورڈرانے والا بناکر بھیجا ہے لیکن اکثرلوگ یہ بات نہیں جانتے ۔
اور  ارشاد الہى ہے:
 قُل يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّه إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (سوره اعراف 158)
"آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا  ہوا  ہوں"-
  خود پیارے نبی صلى الله عليہ وسلم  نے بیان فرمایا :
 والذی نفسی بیدہ لایسمع بی أحد من ھذہ الامة یہودی ولانصرانی فمات ولم یؤمن بالذی أرسلت بہ إلا کان من أصحاب النار(صحیح مسلم )
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری امت میں جو شخص بھی میری بات سن لے ،وہ یہودی ہو یا عیسائی، پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا “۔

اسلام کی آفاقیت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس کے ماننے والوں کی تعداد میں ہمیشہ اضافہ ہورہا ہے ، اسلام کی اشاعت کا راز کسی دورمیں مسلمانوں کی شان وشوکت اور عظمت وسیادت نہیں رہا بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ جب امت شدید ضعف واضمحلال سے دوچار تھی تب بھی اسلام کا قافلہ بڑھتا ہی رہا ۔ ایک برطانوی مورخ آرنلڈٹوئنبی لکھتا ہے:
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جس وقت اسلامی حکومت کا شیرازہ منتشرہو رہا تھا اس وقت اسلام میں جوق درجوق داخل ہونے والوںکی تعداد اس وقت سے کہیں زیادہ تھی جبکہ اسلامی حکومت متحد اورشان وشوکت میں تھی “۔(تاریخ البشریة آرنلد تونبی ط۔ الأھلیہ للنشر والتوزیع بیروت ج 2ص 110)
چنانچہ ساتویں صدی ہجری میں تاتارجیسی خون خوار وخون آشام اورجنگجوقوم نے جب مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت بغدادپرحملہ کیااوراس کی اینٹ سے اینٹ بجادی تومفتوح مسلمان ایسے بے دست وپا اورہراساں ہوگئے کہ ایک تاتاری عورت بھی جب کسی مسلمان کوسڑک سے گذرتے دیکھتی تو کہتی : ابھی انتظارکرومیں تلوار لے کرآتی ہوں،وہ تلوار لے کر آتی اوراس کا سرقلم کردیتی تب تک یہ بے بس مسلمان سہماہوا کھڑا رہتا ۔لیکن دنیا کایہ عجیب معمہ ہے کہ جب انہیں تاتاریوں نے مفتوح اقوام کی صحبت اختیارکی تومفلس اوربے بس مسلمانوں کے اخلاق وکردار سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوگئے چنانچہ علامہ اقبال نے کہا تھا 
ہے عیاں یورش تاتا رکے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے

 تعارفِ اسلام کی راہ میں ہماری کوششوں کادخل ہویا نہ ہو اسلام اپنی فطری تعلیمات کی بنیاد پر ہردورمیں پھیلا ہے اورتاقیام قیامت پھیلتارہے گا، آج مسلمانوں کی اکثریت کی بدعملی اوراسلامی تعلیمات سے دوری کے باوجود پوری دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والامذہب اسلام ہی ہے جوہمارے لیے کھلا پیغام ہے کہ مستقبل اسلام ہی کا ہے ۔
مکمل تحریر >>

سوموار, دسمبر 23, 2013

عظمت اسلام


جب تک مسلم معاشرہ اسلامی تعليمات کومضبوطی سے تھامے رہا ہر طرح کے افتراق وانتشار اورفساد وانارکی سے محفوظ رہا اور اس ميں کسی طرح کی تبديلی در نہ آسکی۔ اسلام کے تابناک ادوار ميں عالم اسلام کی قوت کا رازيہی تھا اورتنزلی کے اس دورميں زبوحالی پرقابو پانے کا رازبھی يہی ہے۔
يہ دھرتی مختلف اصول ونظريات، قوانين ونظم اور تہذيبوں پرمشتمل طرزفکر اورمعاشرے کا تجربہ کرچکی ہے،اب يہ کہنا بالکل سچ ہوگا کہ اسلام کا اجتماعی نظام ان سارے نظاموں ميں جسے انسانيت نے آج تک پرکھاہے افضل ،نماياں ترين اور سعادت بخش ہے ۔اس کی آمدہی اس ليے ہوئی ہے تاکہ زندگی کی قيادت کرے، اس کے باگ وڈور کو تھامے رہے اور انسانيت کے سامنے ايسا لائحہءعمل پيش کرے جس کی روشنی ميں وہ اپنا جادہ ومنزل متعين کرسکيں ۔
اسلام نے اسلامی خاندان اور اسلامی معاشرہ کو نہايت ٹھوس،انصاف پسند،متوازن اورقرارپذيرنظام پر قائم کيا ہے جس کی بنياد فضيلت اور تقوی پر رکھی گئی ہے اوراسے احساسات،جذبات اورخواہشات پرکنٹرول رکھنے کے تمام حفاظتی تدابير فراہم کيا ہے ۔چنانچہ رسول اکرم صلى الله عليہ وسلم  نے نظام اسلامی کی بنياد اخلاق حسنہ کو قرار ديتے ہوئے بايں الفاظ فرمايا: 
 اِنَّمَا بُعِثتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الاخلَاقِ  ( مسند البزار وصححه الألباني في الصحيحة )
 "مجھے اس ليے بھيجا گيا ہے تاکہ مکارم اخلاق کی تکميل کردوں"۔
انسان کا اپنے پروردگار کے ساتھ تعلق
وہ بنياد جس پربندے کا اپنے خالق کے ساتھ تعلق قائم ہوتا ہے وہ کلمہءشہادت" لا الہ الا اللہ ..."ہے جس کا مطلب ہے” اللہ کے علاوہ کوئی معبودبرحق نہيں “۔ اپنے پروردگار کا سچا بندہ وہی ہے جواپنی زندگی کے ہرمعاملات اور حالات ميں اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے،اسی پراعتماد اوربھروسہ کرے،اسی سے خوف کھائے،اور اس کی شريعت کو قائم و نافذ کرنے ميں کوشاں رہے۔
عبادات نفس کوپاکيزہ ومہذب بناتى ہيں ،ہرحالت ميں اللہ کی نگرانی کا احساس انسان کو اس قابل بناتاہے کہ وہ برائيوں سے رک جائے اورنيک اعمال کی بجاآوری ميں جلدی کرے۔
بلکہ عبادات صلہ رحمی،عدل وانصاف،امانت وديانت،ايفائے عہد،سچائی،جودوسخا،ربط باہم،ايثار وقربانی اور ديگر اخلاق حميدہ پرابھارتى ہيں ، چنانچہ جب انسان کا تعلق اپنے پروردگار کے ساتھ منضبط ہوجاتا ہے تو افراداور معاشرہ کے بيچ تعلقات کا وسيع باب کھل جاتاہے اور پورا معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بن جاتا ہے ۔ اور اس تعلق کوبحال کرنے ميں کليدی رول دراصل عبادت اور وحدانيت کا ہوتاہے ۔ ( عربى سے ترجمہ )


مکمل تحریر >>

بدھ, دسمبر 18, 2013

شريعت اسلاميہ پانچ ضرورى مقاصد كو تحفظ فراہم کرتى ہے

اسلام ساری انسانیت کے لیے آیاہے، ہرزمانے کے لیے ہے، اور ہر خطے میں اس کی تعلیمات کے مطابق ایک پرسکون معاشرے کی تشکیل عمل میں آسکتی ہے ۔اسلام انسان کی پانچ بنیادی ضرورتوں کا رکھوالا ہے ۔ بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ اسلام انسانیت کی نجات کا ضامن ہے ، اسلام دین کی حفاظت کرتا ہے، جان کی حفاظت کرتا ہے،عقل کی حفاظت کرتا ہے،عزت کی حفاظت کرتا ہے،اور مال کی حفاظت کرتا ہے ۔ ان پانچ بنیادی ضرورتوں کا تحفظ جو قومیں کرتی ہیں وہ ہردورمیں مہذب اورترقی یافتہ کہلاتی ہیں ۔ اسلامی شریعت میں ان پانچ امور کو کلیات خمسہ،یا مقاصد شریعت کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ شریعت کے یہ پانچ مقاصد اورکلیات ہیں جن کے تحفظ کا اسلام پابند ہے ۔ذیل کے سطورمیں ان پانچ کلیات پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے :

 اسلام دین کو  تحفظ فراہم کرتا ہے:

اسلام انسانی عقائدکو ایمان کے بنیادی ارکان کے ذریعہ دلوںمیں پیوست کرتا ہے ،اوریہ عقائد کوئی موروثی یا تقلیدی نہیں بلکہ معقول اورمنطقی دلائل پرمبنی ہیں، قرآن پاک میں اللہ پاک نے آفاق وانفس کی ایسی کھلی نشانیاں بیان کی ہیں جن کو دیکھ کر ایک بندہ فطری طورپر اللہ کی ذات پر ایمان لانے پرمجبورہوتا ہے اوراس کے قانون کا پابند ہوجاتا ہے ۔ اس پابندی کے لیے اسلام بندے کوعبادات کا ایسا کورس دیتا ہے جن کی بدولت ایمان میں استحکام پیدا ہوتا ہے اوراپنے خالق سے اس کا تعلق مضبوط ہوتا ہے ،اس کے بعد اسلام بندے کو مکلف کرتا ہے کہ وہ جس عقیدے پرایمان لایا ہے اوراس کی تعلیمات کے مطابق زندگی گذاررہا ہے اس کی طرف لوگوں کو دعوت بھی دے ۔
ا سلام کا دعوی ہے کہ یہی دین حق ہے ،اسلام کے علاوہ اورکوئی دین بندے سے قبول نہیں کیاجاسکتا، دنیا کی درستگی اور آخرت کی کامیابی کے لیے اللہ کا اتارا ہوا یہ نظام حیات ہے، اس کے باجود اسے اپنانے اورنہ اپنانے میں انسان کو اختیار دیاگیا، اسلام کسی پر اپنا عقیدہ زبردستی نہیں تھوپتا ،اللہ تعالی نے فرمایا: 
لا إکراہ فی الدین ( سورة البقرہ 256)
"دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیں".
یہ آیت کریمہ اس پس منظر میں نازل ہوئی کہ چند انصاری صحابہ کے بیٹے اب تک یہودی یاعیسائی دين پر تھے انہوں نے اپنے بچوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنا چاہا تو اللہ پاک نے یہ آیت کریمہ نازل فرمادی جس میں ان کو مجبور کرنے سے منع کردیاگیا ۔ اسلام نے غیرمسلموں کو مذہبی آزادی ہی نہیں دی بلکہ ان کے لیے ایسے قوانین دئیے جن کے تناظر میں وہ اپنے مذہبی شعائر کو بحسن وخوبی انجام دے سکتے ہیں ۔ دین کے تحفظ کی خاطر اللہ تعالی نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ غیرمسلموں کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیں مباداکہ وہ جہالت کی بنیاد پر اللہ کو سب وشتم کا نشانہ بنائیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
  وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَيَسُبُّوا اللَّـهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ  ( الأنعام 108 )
”اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں“
لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ جب کوئی پوری قناعت کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے لیے اس بات کی گنجائش نہیں رہتی کہ پھر اس سے پھر جائے، یہ تو بہت بڑی غداری ہے، جب بادشاہ کے ساتھ غداری یا محکمہ افواج کے سربستہ رازوں کے افشا پر ملک موت کی سزا دے سکتا ہے تو جو انسان اللہ کے اتارے ہوئے قانون کا پابند بن کر پھر اس کی اطاعت کا قلادہ گردن سے نکال پھینکتا ہے حالانکہ اسے اپنانے میں اسے اختیار تھا ظاہر ہے ایسے انسان کی سزا موت ہی ہونی چاہیے کہ وہ ایک توخالق کائنات کے ساتھ غداری کررہاہے تودوسری طرف سماج میں فکری انتشارکا باعث اورضعیف الاعتقادلوگوں کے لیے فتنے کا سبب بن رہا ہے، اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من بدل دینہ فاقتلوہ (صحیح بخاری )
 "جو مرتد ہوجائے اسے قتل کردو"۔
غرضیکہ اسلام دین حق ہونے کے باجود ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق چلنے کی اجازت دیتا ہے،اس لیے یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کو برداشت نہیں کرتا۔ سچائی یہ ہے کہ اسلام ہر انسان کو مذہبی تحفظ فراہم کرتا ہے ۔

 اسلام جان کو تحفظ فراہم کرتا ہے:

اسلام کی نظر میں ساری جانیں برابر تحفظ کا حق رکھتی ہیں،کھانا، پینا، لباس وپوشاک اوررہائش یہ انسانی زندگی کی بقا کے وسائل ہیں اسلام انہیں اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ جان کی حفاظت ہوسکے، بلکہ بسااوقات اسلامی حکومت زندگیکے یہ لوازمات فراہم کرنے کی پابند ٹھہرتی ہے، اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جان کی حفاظت کے لیے قضا وکورٹ، حفاظتی دستوں اورمحکمہ افواج کا انتظام کرے، اسلام کو جا ن کی حفاظت اس قدرمطلوب ہے کہ دوسروں پر زیادتی کو حرام ٹھہراتا ہے،چاہے وہ مسلم ہو يا غير مسلم، کسی فرد کے قتل ناحق کو پوری انسانيت کا قتل قرار ديتا ہے :
مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ  ( سورہ مائدہ آيت نمبر 32)
” جو کوئی کسی انسان کو جبکہ اس نے کسی کی جان نہ لی ہو يا زمين ميں فساد برپا نہ کيا ہو، قتل کرے تو گويا اس نے تمام انسانوں کو قتل کرڈالا اور جو کوئی کسی ايک جان کو (ناحق قتل ہونے سے ) بچائے‘ تو گويا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی“ ۔ 
اورصحیح بخاری کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ”جو کوئی اسلامی حکومت ميں رہنے والے غيرمسلم کو قتل کرديتا ہے ‘ وہ جنت کی بو تک نہ پائے گا حالانکہ اس کی بو چالیس سال کی مسافت سے آرہی ہوگی “ ۔
اورایک مومن کی جان کی حرمت کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ سخت ہے ،اسی لیے سنن ترمذی کی روایت ہے ،ابن عمررضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کعبہ کا طواف کررہے تھے اورفرمارہے تھے : 
ما أطيبك وأطيب ريحك ما أعظمك وأعظم حرمتك والذي نفس محمد بيده لحرمة المؤمن أعظم عند الله حرمة منك  ( سنن الترمذى ) 
"کس قدر تو پاکیزہ ہے اورتیری خوشبو پاکیزہ ہے ،کس قدرتو عظیم ہے اورتیری حرمت عظیم ہے ،قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ایک مومن کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ “
اسی لیے ساری مخلوق اگر ایک مومن کے قتل میں شریک ہوجائے تو سب کی سب جہنم کی حقدار ہوگی ، سنن ترمذی کی روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوأن اھل السماءوالأرض اشترکوا فی دم مؤمن لأکبھم اللہ فی النار (سنن الترمذي)
"اگر سارے آسمان اورزمین والے ایک مومن کے قتل میں شریک ہوں تو سب کو اللہ تعالی جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا۔"
اوراگر کسی نے کسی کو ناحق قتل کردیا تو اسلام قصاص کے طورپر اسے بھی قتل کردینے کا حکم دیتا ہے ،کہ اگر قاتل کو مقتول کے بدلے قتل کردیاجائے تو ہزاروں انسانوں کو ڈر لاحق ہوگا اور قتل کی جرأت نہ کرسکیں گے، اس طرح لوگوں کی جانیں محفوظ ہوں گی ،اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا:
 ولکم فی القصاص حیاة یا أولی الألباب  (سورة البقرة 179)
”عقل و خرد رکھنے والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے ۔ “
اور اگر غلطی سے كسى كا قتل ہوجاتا ہے جسے "قتل خطا" كہتےہيںتو ایسی حالت میں مقتول کے ورثاءکے لیے دیت اورکفارہ طے کیاگیا ہے۔

اسلام عقل کو تحفظ فراہم کرتا ہے:

عقل کی بدولت ہی انسان مکلف ٹھہرتا ہے ،اسلام عقل سے کام لینے کی تاکید کرتا ہے،عقل کی مادی اورمعنوی طریقے سے افزائش پر زور دیتا ہے ،عقل کی مادی افزائش یہ ہے کہ بہترین اورصحت بخش غذا کا استعمال کیاجائے اورعقل کی معنوی افزائش یہ ہے کہ علم کے ذریعہ عقل میں وسعت پیدا کی جائے، اسلام نے عقل کو خرافات اوراوہام پرستی سے پاک کیا ،کاہنوں،نجومیوں اور جیوتشیوں کے چکروں سے آزادى عطا كى، پھر ہر اس کام کو حرام ٹھہرایا جو انسانی عقل کو متاثر کرے ،چنانچہ  نشہ آوراشیاء کے استعمال پر روک لگادی گئی۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
 یا أیھا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ ( سورة المائدہ 90)
"اے ایمان والو! بیشک ،شراب ،جوا ،استھان ، اورپانسے کے تیر یہ سب شیطانی کام ہیں اس لیے ان سے بچو۔"
 عربی میں خمر ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو عقل کو ڈھانپ لے ،اس طرح اسلام نے تمام نشہ آور چیزوں کو حرام ٹھہرایاتاکہ عقل کی حفاظت ہوسکے ۔اور اس سلسلے میں ضابطہ یہ بیان کیا کہ کسی چیز کی حرمت کا اعتبار اس میں نشہ کے پائے جانے پر ہوگا چاہے کم مقدارمیں استعمال کرنے کی وجہ سےاس میں نشہ نہ بهى پايا جائے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أسکر کثیرہ فقلیلہ حرام (ترمذی )
”جس چیزکی زیادہ مقدار نشہ لائے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے ۔
اوراگر کوئی شراب پیتا ہے تو شریعت نے اس کے لیے بھی حد کی سزا مقرر کی ہے ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شرابی کو اسی کوڑے مارنے کا حکم صادر فرمایا تھا ۔

اسلام عزت کو تحفظ فراہم کرتاہے :

اللہ نے مردوعورت کوپیدا کیا اورہرایک کے لیے دوسرے میں کشش رکھی تاکہ تخلیق کی بنیادی حکمت پوری ہوسکے تاہم اس تعلق کوبے مہارنہیں چھوڑا کہ بہیمانہ طریقے سے انسان اپنی خواہش پوری کرتا رہے بلکہ شادی کے پاکیزه رشتہ سے وابستہ کردیا، اس کے بعد خوش گوارازدواجی زندگی گذارنے کے لیے ایسی عمدہ اورسنہری تعلیم دی کہ انہیں اپنانے سے میاں بیوی کی ازدواجی زندگی جنت نظیر بنی رہے، اس پاکیزہ رشتے سے گھر کے آنگن میں جو کلیاں کھلیں ان کی بہترین نگہ داشت کے لیے جامع تعلیمات دی گئیں اوراس پر اجروثواب رکھاگیا ،
اسی طرح اسلام نے عزت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے دل میں اللہ کی نگرانی کا احساس پیدا کرنے کے ساتھ زنا کے محرکات پر بھی روک لگادی اورایسے احتیاطی تدابیر تجویز کیے کہ زنا تک پہنچنے کی نوبت ہی نہ آئے ،لیکن چونکہ معاشرے میں بیمار طبیعتیں پائی جاتی ہیں جن کے لیے نصیحتیں بسااوقات کافی نہیں ہوتیں ایسی خبیث طبیعتوں کے لیے سخت سے سخت سزا مقرر کی گئی کہ اگردونوں شادی شدہ ہیں تو دونوں کو رجم کردیاجائے اوراگر غیرشادی شدہ ہیں تو انہیں سو کوڑے مارے جائیں اورایک سال کے لیے ان کو جلا وطن کردیاجائے ۔اوراگر کسی نے پاکدامن مردوخواتین پر زنا کا الزام لگایا اورچارگواہ نہ پیش کرسکے تو عزت کے تحفظ کے لیے اسلام نے حکم دیا کہ الزام لگانے والوں کو اسی اسی کوڑے مارے جائیں ۔

اسلام مال کو تحفظ فراہم کرتا ہے :

ملکیت سے انسان کو فطری محبت ہوتی ہے،اسلام نے اس فطری جذبہ کی قدر کی اوراپنے ماننے والوں کو کسب رزق پر ابھارا، اسے عبادت شمار کیا، کاروبارکی اہمیت بیان کی، اپنی محنت کی کمائی کو سب سے اچھی کمائی قرار دیا، مزدوروں کے حقوق بیان کئے اوران کی مزدوری ان کا پسینہ سوکھنے سے پہلے ادا کرنے کی تاکید کی ، کسب معاش کے لیے حرام ذرائع اختیار کرنے سے روکا اورحلال ذرائع اختیار کرنے کی تاکید کی ۔ اس كى حفاظت كا حكم ديا ، اور اگر کوئی اس کى حفاظتکرتے ہوئے قتل کرديا جائے تو اسے شہادت کا درجہ ديا:  سنن ترمذی كى روايت ہے الله كے رسول صلى الله عليه وسلم  نے فرمايا : 
"من قتل دون مالہ فھو شہيد" (سنن ترمذی) 
"جو اپنے مال کی حفاظت کے سلسلے ميں قتل کرديا جائے وہ شہيد ہے
صحيح مسلم کی روايت ميں ہے کہ ايک  شخص نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے سوال کيا : اے اللہ کے رسول ! اگرکوئی ميرا مال مجھ سے زبردستی لينا چاہے توميں کيا کروں ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : تم اپنا مال اس کے حوالے نہ کرو ،اس نے کہا : اگر وہ مرنے مارنے پر تيار ہوجائے توکيا کيا جائے ؟ آپ نے فرمايا: مقابلہ کرو ۔ اس نے کہا : اگر وہ غالب آجائے اورمجھے قتل کردے تو ؟ آپ نے فرمايا : اس وقت تُو شہيد ہوگا ۔
اسی طرح اسلام نے   مال  كما نے کے ان سارے راستوں کو بند کرديا جن سے کسی کا حق مارا جاتا  ہو،چنانچہ چوری، ڈکيتی ، رشوت ، غصب اورسود وغيره کے ذريعہ مال حاصل کرنے سے منع فرمايا اوراس کی سخت وعيديں بيان فرمائیں۔

مال کے تحفظ کی خاطر اسے غلط راستوں ميں خرچ کرنے سے منع کيا اور ضرورت سے زيادہ خرچ کرنے والوں کے بار ے ميں كہا كہ وه شيطان کے بھائی  ہيں ، الله تعالى كا  ارشاد  ہے:  
ولا تبذر تبذيرا إن المبذرين کانوا إخوان الشياطين... (بنی اسرائيل 72)  
"فضول خرچى اور بيجا خرچ سے بچو، بيجا خرچ کرنے والے شيطانوں کے بھائی ہيں"۔
معاشرے میں جو لوگ معاشی جدوجہد میں پیچھے رہ جاتے ہیں ان کا مالداروں کے مالوںمیں حق رکھا اوران کی اعانت کے لیے زکاة کی شکل میں ایک محدود مقدار نکالنا واجب ٹھہرا یا ،اس کے باوجود اگرکسی نے کسی کا مال چوری کرلیا جس کی کچھ قیمت بنتی ہو تو اسلام نے باضابطہ ایسے خبیث عناصر کے لیے ہاتھ کاٹنے کی سزا تجویز کی تاکہ اس رذیل عادت سے معاشرے کو پاک وصاف رکھا جاسکے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ  ( سورة المائدة 38)
 ”اور چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ دانا و بینا ہے“ (سورہ المائدہ 38)

مکمل تحریر >>