جمعرات, مئی 10, 2012

محترم جناب شیخ عبدالمنان سلفی صاحب كے نام

 گرامی قدر محترم جناب شیخ عبدالمنان سلفی صاحب
 ایڈیٹرماہنامہ السراج حفظکم اللہ ورعاكم

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
امید کہ حالات بخیر ہوں گے

یہ بڑےاعزاز کی بات ہے کہ آپ نے مجهے یاد فرمایا۔اور ميرے تئيں ا پنى نيك خواہشات كا اظہار فرمايا،  ذره نوازى كا بہت بہت شكريہ.


يہ ميرے ليے سعادت كى بات ہوگى كہ ماہنامہ "السراج" ميں ميرے مضامين شائع ہوں ليكن اس كے ليے مستقل مزاجى دركار هے جو فى الحال مجهے دستياب نہيں، میں آپ جیسے ہى باہمت مشائخ کو نمونہ بنانے کی کوشش کرتا ہوں، مجهے بهى آپ سے الله كى خاطرمحبت ہے، ہم الله پاک سے دعا كرتے ہیں كہ وه ذات بارى آپ كو اپنا محبوب بنائے جس كى خاطر آپ نے مجه سے محبت كى ہے. میں ذاتى طور پر آپ کی تحریر کو بے حد پسند کرتا ہوں۔ ان شاءاللہ رابطے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ ماشاء اللہ نیٹ سے بھی آپ کا تعلق ہے، جو ہمارى خوشی کو مزيد دوبالا كرتى ہے ۔ اللہ پاک آپ سے زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت لیتا رہے ، والد محترم کو صحت وعافیت سے رکھے اور آپ پر ان کا سایہ تا دیر قائم رکھے ۔ آمین ۔ 
والسلام
مکمل تحریر >>

بدھ, مئی 09, 2012

یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی


ابھی ہم حج کے ایام سے گذررہے ہیں ،اور عازمین حج کے قافلے دنیا کے کونے کونے سے بیت اللہ کی طرف رواں دواں ہیں ،کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو حج کی سعادت نصیب ہورہی ہے، ایک ارب 60کروڑ سے زائدمسلمانوں میں سے تقریباً 20لاکھ مسلمان ہی ہر سال حج پرجانے کا شرف حاصل کرپاتے ہیں ، ہرمسلمان کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ اسے ضیوف الرحمن میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہو، اسے طواف کعبہ ، صفا ومروہ کی سعی، وقوف عرفہ، اوررمی جمرات کا موقع ملے، وہ ان لوگوںمیں شامل ہوجائے جن کی عرفات میں گردنیں آزاد ہوتی ہیں، وہ ان لوگوں جیسے بن جائے جو گناہوں سے پاک وصاف ہوکر گھر لوٹتے ہیں۔ وہ اللہ جو اپنے بندوں سے اتنا پیارکرتا ہے جتنا ایک ماںبھی اپنے شیرخواربچے سے پیارنہیں کرتی، آخراس رحیم وکریم ذات کے تئیں یہ کیسے خیال کیا جاسکتا تھا کہ وہ ان بندوں کو حج کے ثواب سے محروم رکھتا جو مالی کمزوری کے باعث حج کے لیے نہ جاسکتے ہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ تعالی نے ایسے ہی نیک بندوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے انہیں کچھ ایسے اعمال دئیے جن کی وہ بجاآوری کرکے اپنے وطن میں ہوتے ہوئے حج کا اجروثواب حاصل کرسکتے ہیں۔یہ کوئی نئے اعمال نہیں ہیں بلکہ وہی عبادات ہیں جن کوہم میں سے اکثر لوگ شب وروز کی زندگی میں انجام دیتے ہیں، البتہ ان کی انجام دہی کے وقت ذہن ودماغ میں ان کے بے پناہ اجروثواب کا احساس پیدا نہ ہونے کے باعث ہم ان کا کماحقہ اہتمام نہیں کرپاتے ،لیکن جب سال میں خیرکے مواسم آتے ہیں تو ان میں اپنے اندرشعوری ایمان پیداکرنے اوران کا خیروخوبی سے استقبال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ دلوں کا تزکیہ ہوسکے ،گناہوں سے سچی توبہ کرسکیں اور نیکیوں سے دامن مرادبھرسکیں، آپ جانتے ہیں کہ ابھی ہمارے سروں پر ذو الحجہ کامہینہ سایہ فگن ہے،جس کا پہلا عشرہ سال کے سارے دنوںمیں علی الاطلاق سب سے افضل اورسب سے عظیم ہے،جس میں نیک اعمال اللہ سبحانہ تعالی کو اس قدرمحبوب ہیں کہ اللہ کی راہ میں جہادبھی ان دنوں کی نیکیوں کے ہم مثل نہیں سوائے اس مجاہد کہ جو جان ومال لے کرنکلا اورشہادت سے ہمکنارہوا (بخاری)، اللہ پاک نے جس کی عظمت کی قسم کھائی ہے اورپیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’افضل ایام الدنیا‘ ’اعظم الایام‘ ’احب الی اللہ ‘ کے الفاظ میں اس کے فضائل بیان کئے ہیں ،یہاں تک کہ علمائے اسلام کے درمیان یہ بحث چھڑی کہ عشرہ ذی الحجہ افضل ہے یا رمضان کا آخری عشرہ ؟ ان ایام میں افضل کون ہیں ان کی تحدیدبروقت ہمارا مدعا نہیں ہم تومحض یہ احساس پیدا کرناچاہتے ہیں کہ ابھی ہم جن دنوں سے گذر رہے ہیں وہ بڑے افضل ایام ہیں
لیکن افسوس کہ عشرہ ذی الحجہ کے تئیں ہمارے معاشرے میںاب تک صحیح شعورپیدا نہ ہوسکا ہے ، اور ہماری اکثریت ان دنوں سے خاطرخواہ استفادہ نہیں کرپاتی ہے،جس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ پاک نے ان دنوںمیں عام لوگوں پر کوئی خاص عبادتیں فرض نہیں کی ہیں بلکہ بندے کے اختیارمیں چھوڑدیاہے کہ مختلف اعمال صالحہ کی انجام دہی کرکے ان ایام کے برکات سے مستفیدہوں،اوردوسری بنیادی وجہ ائمہ مساجد،خطبائے کرام اور داعیان عظام کی ان دنوں کے تئیں بے توجہی ہے کہ وہ حج وقربانی کے فلسفہ اورمسائل پر گفتگو تو کرتے ہیں تاہم ان ایام کے فضائل پر لب کشائی نہیں کرتے ۔مثال کے طورپر ماہ رمضان کولیجئے کہ ہمارا ذہن اسکے استقبال کے لیے اس لیے تیار ہوتاہے کہ مسلم معاشرہ اس ماہ مبارک کے تئیں باشعور ہے ، خطباء ومقررین بھی عوام کے سامنے ان ایام کے فضائل بیان کرتے ہیں اورخوداللہ پاک نے ان دنوں میں روزے فرض کئے ہیں جن کی وجہ سے روحانیت کا ماحول خودبخود بن جاتاہے۔ آج ضرورت ہے کہ اس طرح کے مواسم خیرجو ہماری بے توجہی کا شکار ہیں انہیں مسلم معاشرے میںعام کیا جائے،اس مناسبت سے خاص تربیتی کورسیز رکھے جائیں، لوگوں کے سامنے عشرہ ذی الحجہ کے فضائل بیان کئے جائیں،معاشرے میں عملی بیداری لانے کی سنجیدہ کوشش کی جائے، ایک دوسرے کو ان دنوںکا خاص اہتمام کرنے کی نصیحت کی جائے، ہرآدمی اپنے اپنے گھر میں بچوں اوراہل خانہ کو ان دنوںکی اہمیت بتائے اورایمانی تربیت کا روحانی ماحول بنائے تاکہ سنت کا احیاءہو اوربدعت کا استیصال ہوسکے ۔
ہاں تو اگر ہمیں حج پر جانے کی سعادت حاصل نہ ہوسکی ہے تو آئیے ایسے افضل ایام میں چند آسان عبادات کی جانکاری حاصل کرتے ہیں جن کوانجام دے کر ہم سفر کئے بغیر، وقت اورمحنت صرف کئے بغیرحج کا ثواب حاصل کر سکتے ہیں، تولیجئے ذیل کے سطورمیں ایسے ہی چنداعمال کی نشاندہی کی جارہی ہے، البتہ خیال رہے کہ ان اعمال کی بجاآوری سے حج کاثواب ضرورملے گاتاہم فریضہ حج ساقط نہیں ہوسکتا:
` اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے باجماعت نمازفجر ادافرمائی، پھربیٹھ کر ذکرمیں لگارہا یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہوگیا، پھردو رکعت نمازاداکرلی تو اسے ایک حج اور عمرے کا مکمل ثواب ملے گا “۔ (رواہ الترمذی وحسنہ الالبانی فی الصحیحة 3403)
`اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوشخص فرض نماز کی باجماعت ادائیگی کے لیے چل کرگیایہ حج کے جیسے ہے “۔  (ابوداود وحسنہ الالبانی فی صحیح ابی داود 567)
 خواتین بھی مردوںکونمازباجماعت کی ترغیب دلاکر اس اجر کی حقداربن سکتی ہیں کہ خیرکی رہنمائی کرنے والے کو انجام دینے والے کا سااجر ملتا ہے ۔
` فقرائے مہاجرین نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکر عرض کیاکہ اہل ثروت حج وعمرہ کرتے ہیں اورہم حج وعمرہ نہیں کرسکتے جس سے وہ اجروثواب میں ہم پر فوقیت لے جاتے ہیں،آپ نے حل بتایا کہ جوشخص ہرنماز کے بعد 33مرتبہ سبحان اللہ 33مرتبہ الحمدللہ اور33مرتبہ اللہ اکبرکہہ لے اسے حج کرنے والے کا ثواب ملے گا “  (اخرجہ الالبانی فی صحیح الجامع 2626)
`اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوشخص مسجد گیاوہ کوئی اچھی بات سیکھنا چاہتا یا سکھانے کا ارادہ رکھتا ہے تواسے ایک مکمل حج کرنے والے حاجی کا ثواب ملتا ہے “۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر وھوفی صحیح الترغیب والترھیب 86وقال عنہ الالبانی :حسن صحیح )
یہ ہیں چند ایسے اعمال جن کوانجام دے کر ایک آدمی اہل خانہ کے بیچ وطن میں رہتے ہوئے حج کا ثواب حاصل کرسکتا ہے، توپھر دیرکس بات کی، عظمت وفضیلت والے ان ایام کوغنیمت جانیں اور ان میں اپنے وطن میں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حج وعمرہ کا اجروثواب حاصل کرنے کی کوشش کریں کہ
 یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جوبڑھ کر خوداٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

مکمل تحریر >>

ابراہیم بھائی کے قبولِ اسلام کی کہانی خود ان کی زبانی

میرا قدیم نام تھوماس ادموند پاول اور اسلامی نام ابراہیم ہے ۔ میں عیسائی دھرم سے تعلق رکھتا تھا ۔ میرے اہل خانہ شروع سے کٹر عیسائی ہيں اور ہرہفتہ پابندی سے چرچ کی زیارت کرتے ہيں، میں خود ”کراس“ پکڑنے میں پیش پیش رہتاتھا۔ اس کے باوجود میں روایتی انداز کا عیسائی تھا، کبھی بائبل کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ جب بغرض روزگار کویت آیا تویہاں ایک عیسائی دوست کے ساتھ  میری نشست وبرخاست ہونے لگی، وہ عیسائیت سے متعلق کافی معلومات رکھتا تھا، اور ہروقت بائبل کے حوالے سے بات کرتا تھاجس سے میرے دل میں بھی بائبل کے مطالعہ کا شوق جاگا۔ چنانچہ میں نے بائبل کا ایک نسخہ حاصل کیا اور مطالعہ کرنے بیٹھا، نہ جانے کیا ہوا کہ بائبل کے مطالعہ میں میرا دل نہ لگا اورمیرے اندر عجیب طرح کی بے چینی پیدا ہونے لگی، میں نے اسی وقت بائبل کوبند کردیا۔ جب میں نے اپنے عیسائی دوست سے اس معاملہ میں بات کی تو اس نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ” تم نے بائبل پہلی بار پڑھی ہے اس لیے تیرا دل اس میں نہیں لگ رہا ہے، دھیرے دھیرے جب معمول بن جائے گا تو اس کے مطالعہ میں لطف محسوس کروگے۔ ویسے بھی عیسائیت سب سے اچھا اور قدیم مذہب ہے“۔
تہوارمیں دوستوں کے مابین کیک اور مٹھائیاں تقسیم کرنا میرامعمول بن گیاتھا، حسب عادت ایک تہوار کی مناسبت سے ہم سب مل کرکیک کھارہے تھے، وہاں میرا ایک مسلم دوست بھی موجود تھا، اس کی ایک بات پر میں چونک پڑا ، اس نے کہا کہ  عيسي عليه السلام اللہ کے بیٹانہیں تھے بلکہ ایک نبی اور اللہ کے رسول تھے۔ اس بات پر ہم دونوں میں کافی نوک جھوک اور بحث وتکرار ہوئی، میں اس وقت عیسائیت کی کوئی خاص معلومات نہیں رکھتا تھا، اس ليے مجھے جواب دینے میں جھجھک محسوس ضرور ہوئی تاہم اسی وقت میں نے یہ عزم کرلیا کہ عیسائیت اور اسلامی تعلیمات کاگہرائی سے مطالعہ کروں گا تاکہ اس کی باتوں کا ٹھوس جواب دے سکوں اور اس پر واضح کر دوں کہ عیسائیت ہی سچا اور حق مذہب ہے۔ چنانچہ پھرمیں ایک نئے جوش و ولولہ کے ساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کیا ۔ میں نے اس ميں بہت سی وہ باتیں پائیں جن پر مسلمان عمل پیرا ہیں لیکن عیسائی ان اعمال سے کوسوں دور ہيں۔ مثلاً ہاجرہ اور اسماعیل علیھماالسلام کے واقعہ کے ضمن میں چشمہ زمزم کا پھوٹنا، ہاجرہ علیہا السلام کا صفا و مروہ پردوڑلگانا، شراب ، خنزیر‘قمار بازی کی حرمت، بت پرستی کی مذمت اور توحید کا اثبات پایا۔ دوران مطالعہ خاص کر جس چیزپرمیری نظرٹکی وہ ہے عیسی علیه السلام کا فرمان:
 ” مجھے جانا ہوگا کیوں کہ میرے بعد ایک نبی آئےگا وہ آپ لوگوں کو سیدھا راستہ دیکھا ئےگا “
 ( To Lays English Version, New Testament, chapter John )
ان باتوں نے میرے ذہن ودماغ میں ہلچل مچادی، اوربے شمار سوالات اور شبہات کو جنم دیا ۔ اسی اثناء ہندوستان سے ایک بڑا پادری کویت آیاتھا، میں نے موقعہ کو غنیمت جانااور اس کے سامنے اپنے اشکالات رکھے، لیکن اس کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں تھا، ایک مبہم سا جواب ملا کہ دوسرے پادری سے پوچھ کر جواب دوںگا۔ لیکن جواب ندارد۔
میرا مسلم دوست مجھے بعض اسلامی تعلیمات سے آشنا کراتا رہا مزید کچھ  کتابیں دیں جنہیں کافی دلچسپی سے پڑھا ۔ اسلامی تعلیمات میرے تن بدن میں سرایت کرنے لگیں تھیں، پھر مجھے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ ملا جسے پوری لگن سے پڑھا، جوں جوں قرآن شریف کا مطالعہ کرتا جارہا تھا میرا دل ایمان کی حلاوت سے لبریزہوتا جارہاتھا ۔ وہ تمام سوالات و شبہات جو بائبل کے مطالعہ کے دوران میرے ذہن میں گردش کررہے تھے اس کا اطمینان بخش جواب مجھے قرآن میں مل چکاتھا۔ اب میں چرچ سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کردیا، اس کے بعد صحیح البخاری کے انگریزی ترجمہ کا مطالعہ بھی کیا ۔ اب حق سے  راہِ فراراختیار کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ گئی تھی۔  نور ایمان سے میرا دل منور ہوچکا تھا ، عیسی عليه السلام کا صاف وشفاف تصور میرے ذہن میں اپنی جگہ بنا چکا تھا۔ مریم علیہا السلام کے حقیقی مقام ۔ جو قرآن نے انہيں عطاکیا ہے۔ سے واقف ہوچکاتھا، اور فرسودہ عیسائی نظریات کی حقیقت مجھ  پر عیاں ہو چکی تھی۔ چرچ کی دیوار میرے ذہن وجسم سے منہدم ہو چکی تھی ۔ چنانچہ میں نے قبول اسلام سے پہلے ہی نماز کی دعائیں ازبر کرلیں اور اپنے روم میں ہی نماز کی لذت سے روح وجسم کی تشنگی کو بجھانے لگا ۔ پھر ایک دینی محفل میں مولانا صفات عالم کے سامنے دخول اسلام کا اعلان کیا“۔ الحمدُللہ علی نعمة الاسلام


مکمل تحریر >>