جمعہ, مارچ 11, 2011

IPC کے شب وروز


ڈاکٹر ذاکر نائک کا دعوتی لکچر کویت میں

مارج کے دوسرے ہفتہ میں عالمی شہرت یافتہ داعی  اور اردو وانگریزی چینل پیس ٹی وی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ذاکر نائک وزارة الاوقاف کویت کی خصوصی دعوت پر انٹر ویوکے لیے کویت تشریف لائے تھے ۔ اس مناسبت سے دکن مسلم کمیونٹی کے زیراہتمام گلف یونیورسٹی کے ہال میں تعلیم یافتہ غیرمسلموں کے لیے ڈاکٹر ذاکرنائک کا ایک لکچر رکھا گیا جس میں آپ نے ”قرآن اور جدیدسائنس “ کے موضوع پر لکچر دیا آپ نے فرمایاکہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے بلکہ ہدایت کی کتا ب ہے ، اس کتاب میں چھ ہزار سے زائد آیا ت ہیں جن میں ایک ہزار سے زائد آیات کا تعلق سائنس سے ہے ۔ کائنات کی وسعت پزیری ، فنگرپرنٹ ، پہاڑوں کی تخلیق کی حکمت اور انسانی تخلیق کے مختلف ادوار پر سیر حاصل گفتگو کی اور پروگرام کے اخیر میں حسب معمول غیرمسلموں کے سوالات کے تشفی بخش جوابات دئیے ۔

 شیخ احمد مراد رضا کا لکچر
ماہ گذشتہ IPC نے سعودی عرب میں ایک عرصہ سے مقیم شیخ احمدمراد رضا کے ایک دعوتی لکچر کااہتمام کیا جس سے IPC کے تمام دعاة نے استفادہ کیا ۔ شیخ رضا نے کہا ” دعوت انبیائی کام ہے جسے وظیفہ اورنوکری سمجھ کرنہیں بلکہ اللہ کا کام سمجھ کر اخلاص وللہیت کے ساتھ انجام دینا چاہیے“ ۔ آپ نے دعوت کوکامیاب کرنے کے لیے فرمایا:” سب سے پہلے مخاطب کا دل جیتنے کی ض رورت ہے“۔
آپ نے نومسلموں کے خانگی مسائل اور اپنے رشتے داروں کو اسلام پیش کرنے کے تئیں موجودہ حالات میں پیش آنے والی مشکلات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : ” نومسلموں کو ہمیشہ تاکید کی جائے کہ اپنے قریبی رشتے داروں اورماں باپ کو اسلام کی دعوت پہنچانے میں جلدی نہ کریں بلکہ قبول اسلام کے بعد ان کے سامنے اسلامی اخلاق کااعلی نمونہ پیش کریں اور جب سفرپر جائیں تو ان کے لیے معمول سے زیادہ قیمتی تحفہ وغیرہ لے کرجائیں ، والدہ کے سرکو بوسہ دیں ،ان کا ہاتھ چومیں اور انہیں بتائیں کہ یہ آداب میں نے مسلمانوں سے سیکھے ہیں ۔اس کے بعد انہیں موت کی یاد دلاتے ہوئے توحید ،رسالت اورآخرت کا پیغام سنائیں ان شاءاللہ ہدایت ملے گی اور کسی طرح کے مسائل بھی پیدا نہ ہوں گے “۔
دعاة کے لیے دعوتی ٹریننگ کورس
IPC نے دعاة کے دعوتی تجربات میں جدت لانے کے لیے سعودی عرب کے معروف داعی ڈاکٹر ناجی العرفج کودعوت دے کربلایا اور دعاة کے لیے ایک دعوتی ٹریننگ کورس منعقدکیا۔ آپ نے پاور پوائنٹ کے ذریعہ ”غیرمسلموں کے سامنے اسلام کا تعارف : قدم بقدم “ کے موضوع پر نہایت وقیع اورمعلومات افزا لکچر دیا۔ آپ نے فرمایا:” دعوت کے میدان میںسب سے پہلے مدعو کا دل جیتنے کی ضرورت ہے“،اس ضمن میں آپ نے دلوںپر قابو پانے کے چند وسائل کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کی کہ غیرمسلموں کے سامنے چندمعروف اسماءومصطلحات کی وضاحت ضرورکی جائے مثلاً اسلام میں اللہ کا تصورکیا ہے ؟ محمد صلى الله عليه وسلم  کون ہیں؟ قرآن کیا ہے ؟ مسلم کسے کہتے ہیں ؟ اسلام کیا ہے ؟ وغیرہ
 آپ نے فرمایا کہ غیرمسلم کے سامنے اسلام کے محاسن بیان کیے جائیں اور اس کے جمالیاتی پہلووں پر روشنی ڈالی جائے۔مثلاً (1) اسلام میںتوحید کا تصور اور دیگرادیان سے اس کا موازنہ  (2) سکون وطمانیت (3) مساوات اور عدل وانصاف (4) اعتدال وتوازن (5) اسلامی بھائی چارہ (6) مکارم اخلاق وغیرہ
 آپ نے مزیدفرمایا: مدعو سے کہاجائے کہ اسلام ہر سوال کا تشفی بخش جواب دیتا ہے مثلاً اللہ کون ہے ؟ خالق کون ہے ؟ ہم کیوں پیدا کیے گئے ؟ ہم کس کی عبادت کرتے ہیں ؟ موت کے بعد کیا ہوگا ؟ انسان کا اخروی انجام کیا ہوگا؟۔ وغیرہ
 اسی طرح آپ نے تاکید کی کہ مختصر طورپر مدعو کے سامنے ارکان اسلام اور ارکان ایمان کا تعارف کرایا جائے، نیز غیرمسلموں کی مذہبی کتابوں میں توحید ورسالت اور یوم آخرت کا جو ذکر ہے اورنبی پاک صلى الله عليه وسلم  کی آمد کی پیشین گوئیاں کی گئی ہيں انہیں بھی بیان کیاجائے ۔
اخیر میں آپ نے فرمایا کہ داعی کوچاہیے کہ اپنا تعلق اللہ سے مضبوط رکھے اور مدعو کی ہدایت کے لیے ہمہ وقت دعا گو رہے ۔
کلونجی : طب نبوی اورطب جدید کی روشنی میں
IPC نے الھیئة العالمیة للاعجاز العلمی فی القرآن والسنة کے تعاون سے ڈاکٹر عبدالعزیز الجفری کاایک لکچر رکھا جس سے IPC کے جملہ مرد وخواتین داعیان دین نے استفادہ کیا ۔ آپ نے اپنے لکچر میں کلونجی کے طبی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ آج سے ساڑھے چودہ سوسال پہلے نبی امی صلى الله عليه وسلم  نے فرمایاتھا: علیکم بھذہ الحبة السوداءفان فیھا شفاء لکل داء الا السام (رواہ البخاری )
 ”کلونجی کو(بطور علاج )لازم پکڑوکیونکہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے “۔ آج یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے۔ اوراس پردنیا بھر میں ہزاروں مطالعے اور تحقیقات جاری ہیں۔ آپ نے فرمایا:اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر،ایچ آئی وی ایڈز، ذیا بیطس، بلڈ پریشر اور ہائپر کولیسٹرول وغیرہ کے علاج میں انتہائی مو ثر پایاگیاہے۔ آپ نے فرمایاکہ کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوتِ مدافعت میں زبردست اضافہ دیکھا گیا، اسی طرح کلونجی معدہ اورپیٹ کے امراض ، یادداشت میں کمی، رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ آپ نے یہ بھی کہا : کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل شہد کے ساتھ استعمال کر لیا جائے تو بہت مفید ہے۔ اخیر میں آپ نے فرمایا: کلونجی کے استعمال میں یہ امر پیش نظر رہے کہ یہ طویل عرصہ اور زیادہ مقدار میں استعمال نہ کی جائے کیونکہ اس میں کچھ مادے ایسے بھی ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مضر ہوسکتے ہیں۔
پروگرام کے اخیر میں آپ نے قرآن وحدیث کے سائنسی معجزات سے متعلقہ متعدد ویب سائٹس کے پتے نوٹ کرائے جن میں چند اہم یہ ہیں :
 www.eajaz.org.com   www.elnaggarzr.com
www.drchamsipasha.com
مکمل تحریر >>

بدھ, مارچ 09, 2011

کھلتی کليوں کی حفاظت کيجئے


اگراللہ تعالی نے آپ کو اولاد جيسی نعمت سے مالامال کر رکھاہے،  توآپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے گلشن حيات کے ان کھلتی کليوں کی نگہبانی کريں، ايسی نگہبانی کہ ہميشہ شگفتہ رہيں اور ان ميں کمہلاپن نہ آنے پائے ۔ اگر يہ کلياں آپ کی آنکھوں کے سامنے ہيں تو زہے خوب، تاہم ان کی دينی وروحانی تربيت کی طرف دھيان دينے کی اشد ضرورت ہے، عصری تعليم کے ساتھ  ساتھ ان کے دينی تعليم کا بھی اہتمام ہونا چاہيے ، بفضلہ تعالی کويت کے ہرعلاقے ميں مساجد کے اندر حفظ قرآن کے حلقے پائے جاتے ہيں، جن کی کارگزارياں قابل ستائش ہيں، اور خوش آئند بات يہ ہے کہ بيشتر والدين اپنے بچوں کے تئيں ذمہ داری کا شعور رکھتے ہيں، اور اس کی طرف خاطرخواہ پيش رفت فرمارہے ہيں۔ اللہ تعالی انہيں مزيد بال وپرعطا فرمائے آمين۔ تاہم گھرکا ماحول بھی دينی ہونا چاہيے تاکہ بچوں کی روحانی تربيت ہوتی رہے کيوں کہ آج کے يہی بچے کل کے معمارِقوم وملت بننے والے ہيں۔

اگرآپ کے بچے آپ کی آنکھوں سے دور ہيں تو ان کی تربيت کی ساری ذمہ داری ماں پر عائد ہوتی ہے ،بچوں کی تربيت ميں ماں کا کليدی رول ہوتا ہے، تاہم قدم قدم پر باپ کے سايہ کی ضرورت پڑتی ہے، اگر وطن سے دور ہونے کے باعث بچے آپ کے سايہ شفقت سے محروم ہيں تو کم ازکم فون پر ان سے باتيں کرتے رہيں، انہيں ماں کی اہميت کا احساس دلاتے رہيں، اور ماں کو بھی بچوں کی تربيت پر خصوصی دھيان دلائيں۔
ليکن حقائق يہ بتاتے ہيں کہ بيشتر تارکين وطن اقتصادی حالت اچھی ہونے کے باوجود اپنے بچوں کی تربيت ميں ناکام ثابت ہورہے ہيں، جس کے باعث ان کے بچے زندگی کے ميدان ميں پيچھے رہنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی انحراف کے شکار ہو جاتے ہيں، حالاں کہ ہونا يہ چاہئے تھا کہ اگروہ  وطن سے دور ہيں تو بيوی کو بچے کی دينی تربيت کرنے اور انہيں بُری صحبت سے دور رکھنے کی بار بار تاکيد کرتے رہتے۔
پرديسی بھائی! ماں اگرتعليم يافتہ اور ديندار ہوتو بچوں کی خاطرخواہ تربيت کرسکتی ہے، تاريخ ميں کتنی ايسی مائيں ملتی ہيں جن کی کوششوں سے ان کے بچے کاميابی کے بامِ عروج تک پہنچے۔
سفيان ثوری رحمه الله کی ماں اپنے فقروفاقہ کے باوجود ان کی تعليم کے ليے سوت کات کات کررقم جمع کرتی تھيں تاکہ يکسوئی کے ساتھ علم حاصل کرسکے، گاہے بگاہے نصيحت بھی کرتی تھيں ايک مرتبہ ماں نے فرمايا:
”بيٹا! جب تم دس حرف لکھ  چکوتو يہ غورکروکہ کيا تمہاری خشيت، برد باری اور وقار ميں اضافہ ہوا؟  اگرايسا نہ ہوسکا تو سمجھ لوکہ يہ علم تيرے ليے نقصاندہ ہے، نفع بخش نہيں“۔
اوريہ امام مالک رحمه الله کے استاد ربيعہ الرای رحمه الله ہيں جوابھی بچے تھے تو ان کے والد تيس ہزاردينار انپی بيوی کے پاس چھوڑکرپرديس کسی مہم پر نکل گئے، نيک بيوی ساری رقم ربيعہ کی تعليم وتربيت ميں صرف کرکے انہيں علامہ  زماں بناديتی ہے۔ جب ايک عرصہ کے بعد باپ گھرپہنچتا ہے تو يہ ديکھ  کراللہ کا شکربجالاتاہے کہ بيٹا مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔  

بچپن ميں بچہ کورا کاغذ کی مانند ہوتا ہے جس پر جونقش ڈالا جاتا ہے ثبت ہوجاتا ہے۔  جب ان قيمتی لمحات ميں لاپرواہی برتی جاتی ہے تو بچوں کے اندر شروفساد کا در آنا يقينی ہوجاتا ہے۔  بعض دفعہ بچے جب غلطی کرتے ہيں تو مائيں بچوں کو متنبہ کرنے کی بجائے شاباس کہتی ہيں نتيجة بچہ غلطی کو اچھا سمجھ  کرسرانجام دينے لگتا ہے اور يہی عادت بچے کو جوانی کے بعد غلط راستے پر ڈال ديتی ہے:

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثريا می رود ديوار کج
”اگرمعمار پہلی اينٹ ٹيڑھی رکھ دے تو ثريا تک بھی ديوار چلی جائے ٹيڑھی ہی ہوگی“۔ لہذا والدين کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی علمی وروحانی تربيت کواپنا اوليں فريضہ سمجھيں :
٭  بچپن سے ہی بچوں کے اندر دينی روح پيدا کريں، انہيں شہادتين کی صحيح ادائيگی، اور اس کے معانی ومفاہيم سے آگاہ کريں۔
٭ بچہ ہويا بچی دونوں کے ليے نماز کی تعليم وتربيت کی ابتداء بچپن ہی سے کرديں، بچے جب سات سال کے ہوجائيں توانہيں نماز کا حکم ديں، اور دس سال کے ہوجائيں تو نماز نہ پڑھنے پر ان کی سرزنش کريں، اور ان کا بستر الگ کرديں۔(احمد)
٭ بچوں کو گالی گلوچ، لعن طعن اور فضول وگھٹيا قسم کی باتوں سے خبردار کرتے رہيں اور قولی وعملی اعتبار سے انہيں سچائی کا عادی بنائيں۔
٭ بچی کو بچپن ہی سے اپنے جسم کوڈھانپ کر رکھنے کی تلقين کريں تاکہ بلوغت کی عمرکوپہنچنے تک وہ ساتر لباس پہننے کی عادی ہوچکی ہو۔
٭ اپنی اولاد کے احوال پر باريکی سے نظر رکھيں‘ ان کے دوست کون ہيں؟ ان کے گھر کے باہر کی مصروفيات کيا ہيں؟  ان کے اکثراوقات کن کے ساتھ گذرتے ہيں؟ ان کی آمد و رفت کہاں کہاں ہوتی ہے؟ وغيرہ وغيرہ۔
٭ اپنے بچوں کے ليے نمونہ بنيں اور اپنے گفتار وکردار پر دھيان رکھيں ورنہ:
 إذَا کَا نَ رَبُّ البَيتِ بِالطَّبلِ ضَارِباً
 فَلَا تَلُمِ الاَولَادَ فِيہِ عَلٰی الرَّقصِ
”جب گھرکا مالک طبلہ بجا رہاہو تو اس ميں بچوں کے رقص کرنے پرانہيں ملامت مت کرو“ ۔
کيوں کہ بچوں کی نظرميں اچھائی وہ ہوتی ہے جسے والدين انجام ديتے ہيں اور ہروہ چيز ان کی نگاہ ميں گھٹيا ہوتی ہے جس کے ارتکاب سے وہ احتراز کرتے ہيں۔
مجھے اس مناسبت سے ايک بچے کا وہ جواب ياد آرہا ہے جس نے دروازے پر دستک دينے والے کسی قريبی رشتہ دار کے ليے دروازہ کھولتے ہوئے کہا تھا: 
”چچاجان! ابّوجان نے کہا ہے کہ کہہ دو ابّوگھر پر نہيں ہيں “....۔ 
ديکھا آپ نے !کتنی معصوميت کے ساتھ بچے نے اپنے باپ کے جھوٹ کو رشتے دار کے سامنے ہوبہونقل کرديا اور باپ کی سبکی ہوئی۔

مکمل تحریر >>

منگل, مارچ 08, 2011

محترم عزیز الرحمن صاحب كى الوداعى تقریب میں راقم سطورکے جذبات

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ یہ الوداعی تقریب ہے جو  محترم بھائی عزیز الرحمن صاحب کو اپنے وطن لوٹنے کی مناسبت سے خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد كى گئی ہے ۔ یوں تو آئے دن لوگ كويت آتے ہیں اور ایک مدت گزار کر اپنے وطن لوٹ جاتے ہیں ۔ جنہیں کوئی نہ آتے وقت جانتا ہے نہ جاتے وقت، سوائے ان اشخاص کے جو ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے هو تے هيں ۔ لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو جہاں جاتی ہیں اپنے علم ، اپنے اخلاق ،اپنے کارناموں اور خدمت خلق کی وجہ سے ایک چھاپ چھوڑتی ہیں ۔ ہمارے بزرگ ایسے ہی لوگوں کی فہرست میں آتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ یہی اہل ایمان کی پہچان ہے، کہ وہ جہاں بھی رہے اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے، وہ اپنی ذات میں ایک انجمن بن کے رہے ۔
         جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں            
ادھر ڈوبے اُدھر نکلے ، ادھر ڈوبے ادھر نکلے
 میں محترم بھائی عزیز الرحمن صاحب  سے بہت قریب رہا ہوں، میری اور ان کی ایک ہی سال آئی پی سی میں بحالی ہوئی تھی ،ایک آفس میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ مجھے ان کے ساتھ ایک روم میں رہنے اور ایک ساتھ کھانے پینے کا بھی اتفاق ہوا،اس بیچ میرے لیے وہ بیک وقت ایک مشفق بھائی اور مربی کی حیثیت رکھتے تھے ۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ،خود مجھ پر بھی ان کا اعتماد رہا اسی لیے جب کبھی عربی زبان میں انہیں کسی طرح کی ترجمانی کی ضرورت ہوئی مجھے ہی اس کا شرف حاصل ہوا ۔اب وہ ہم سے جدا  ہورہے ہیں اس طویل عرصہ میں میں نے ان کی زندگی کا بہت قریب سے مطالعہ کیا ہے ، میں نے انہیں عام لوگوں سے تین باتوں میں بالکل مختلف پایا ۔
پہلی بات  یہ کہ میں نے انہیں حسن اخلا ق کا پیکرپایا، بڑے اخلاق مند، ملنسار، ہنس مکھ اور کشادہ طبیعت لگے ، میں نے انہیں علماء کا احترام کرنے میں بھی پیش پیش دیکھا ، تعصب اور تنگ نظری سے بالکل دور ہر عالم دین کی قدر کرتے تهے ، یہ صفت بہت کم ہی لوگوں میں پائی جاتی ہے ۔
 دوسری اہم خوبى  جو میں نے ان کے اندر دیکھی وہ ہے وقت کی پابندی ۔ ہرکام اپنے وقت پر کرنا ، اکثر لوگ اس سلسلے میں کوتاہی برتتے ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ فجر کی نماز کے وقت بیدار ہوتے، مسجد میں نماز کے لیے جاتے، فجر کے بعد چہل قدمی کرتے، فجر کے بعد سونا ان کے معمول میں نہیں تھا ۔ ڈیوٹی کے لیے وقت پر پہنچتے، ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد وقت پر نکلتے ، مجھے یاد نہیں کہ کبھی ان سے ڈیوٹی میں تاخیر ہوئی ہوالا یہ کہ کوئی سخت ضرورت پیش آجائے ۔
تیسری خوبى جو سب سے اہم خوبى ہے جس کی طرف بالعمو م تارکین وطن دھیان نہیں دیتے یا دیتے بھی ہیں تو بہت كم لوگ  كامياب ہو پا تے ہیں، وہ ہے اولاد کی تربیت :آپ نے اپنے بچوں کو عصری تعلیم دلائی ضرور ہے لیکن دینی تعلیم سے سنوارنے کے بعد ….یہی وجہ ہے کہ آج ان کا فرزند عتیق جو اگرچہ ایک انجنیر کی حیثیت سے کویت میں کام کررہا ہے، لیکن اپنے باپ کا سراپا نمونہ دکھے گا ۔ پنج وقتہ نمازوں کا پابند، نیک اور اخلاق مند ہے ۔ الله اسے دين پر ثابت قدم رکھے. آمين . یہ تین صفات خاص طور پر میں نے عزیز بھائی کے اندر پائی ہيں۔

0
مکمل تحریر >>

جمعہ, فروری 18, 2011

معراج کا تحفہ


مکہ کے پرآشوب ماحول میں دعوتِ محمدیہ کی کشتی ہچکولے کھارہی تھی ،محسن انسانیت ہرطرف سے کفارِ قریش کے نرغے میں تھے ، حضرت خدیجہ رضى الله عنها اور ابوطالب کی وفات نے مزید غم والم کو دوآتشہ کردیاتھا۔ ایسے ہمت شکن ماحول میں اللہ تعالی نے اپنے نبی کی دادرسی کی اوراسراءومعراج جیسے عظیم معجزے سے نوازا ۔حضورپاک  صلى الله عليه وسلم کوآپ کے جسم مبارک سمیت بُراق پر سوار کرکے حضرت جبریل  عليه السلام کی معیت میں مسجد حرام سے بیت المقدس تک سیر کرائی گئی ۔ اس کے بعد اسی شب آپ کو بیت المقدس سے آسمانِ دنیا پر،پھر وہاں سے یکے بعد دیگرے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا ،اس کے بعد آپ سدرة المنتہی تک لے جائے گئے ،پھر آپ کے لیے بیت معمور کو ظاہر کیاگیا۔ اس کے بعد حضرت جبریل عليه السلام نے آپ کو مالک عرش بریں کے دربار میں پہنچادیا،آپ اللہ تعالی سے اتنے قریب ہوئے کہ دو کمانوں کے برابریا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت اعلی وارفع اورگرانقدر تحفہ دیا،یعنی پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں،پھر حضرت موسیٰ عليه السلام کے مشورے سے اس میں تخفیف کرایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں باقی رکھیں ، اس کے بعد پکارا گیا : ”اے محمد! میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی،ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر ہوگا “۔ (بخاری 7517 مسلم162)
جو چیز جس قدر اہمیت رکھتی ہے اسی قدر اس کے لیے اہتمام کیاجاتا ہے،ذرا غورکیجئے کہ روزہ کا حکم فرش پر اُترا، زکاةکا حکم فرش پراُترا،حج کاحکم فرش پر اُترا اورشریعت کے سارے احکام فرش پر اُتارے گئے لیکن نماز کا تحفہ دینے کے لیے ربِ کائنات نے اپنے حبیب کو عرش پربلایا۔ کیوں؟ نماز کی عظمت ،اہمیت اورانفرادیت کے اظہار کے لیے کہ یہ ایک مسلمان کی پہچان ،حصولِ جنت کا ذریعہ اوررضائے الٰہی کا وسیلہ ہے ۔
٭نماز کلمہ شہادت کے اقرا ر کے بعد اسلام کا دوسرا بنیادی رکن ہے ،جو امیر وغریب ،بوڑھے اور جوان ، مردوعورت ،بیمار وتندرست سب پر یکساں فرض ہے ۔ کسی بھی حالت میں معاف نہیں ۔ حتی کہ ایک مریض اگر کھڑا ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھے گا،اگر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا تو پہلوپر لیٹ کر پڑھے گا ،اگر اس سے بھی عاجز ہو تو اشارے سے پڑھے گا ۔(بخاری 1057)خلاصہ یہ کہ جب تک عقل ساتھ دے رہی ہوترکِ نماز کسی بھی صورت میں جائز نہیں ۔ ہاں! ایک عذر ہے ،لیکن اللہ تعالیٰ نے اس عذر سے مردوں کو عافیت بخشی ہے اور وہ ہے حیض ونفاس کا خون ۔
وفد طائف کے سردار نے جب قبول اسلام کے وقت اپنے وفد کے ہمراہ آپ ا سے ترکِ نماز کی درخواست کی تھی تو آپ نے انہیں خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا: لاخیر فی دین لیس فیہ رکوع (ابوداؤد2635) ”اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں نماز نہ ہو “۔
 ٭نماز ہمارے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ،جب آپ کو کسی طرح کی پریشانی لاحق ہوتی تونماز کی طرف جلدی کرتے (ابوداؤد 1319) اور سیدنا بلال صسے فرماتے أرحنا بھا یا بلال (رواہ الدارقطنی فی العلل615) ”بلال! اذان دو ،تاکہ نماز کے ذریعہ راحت ملے “
ہمارے آقا نے سخت ترین لمحات میں بھی دشمنوں کے حق میں بددعا نہیں فرمائی ،یہاںتک کہ اہل طائف جنہوں نے آپ کو لہولہان کردیا تھا ،ان کے حق میں بھی ہدایت کے کلمات کہے لیکن غزوہ احزاب میں جب کفارنے آپ کو جنگ میں مشغول کردیا اور آپ بروقت نماز ادا نہ کرسکے تو آپ نے آزردہ خاطری کے سبب ان کے خلاف بددعا فرمائی : ”اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھردے جس طرح انہوں نے ہمیں نماز عصر سے باز رکھا“۔   (بخاری2729 مسلم1002)
 ٭ کوئی ایسی عبادت نہیں جس کی ادائیگی کو ترک کرنے پر بچے کومارنے کا حکم ہوا ہو سوائے نماز کے ۔ چنانچہ پیارے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں نماز کی پابندی نہ کرنے پر ان کی پٹائی کرو“ ۔   ( ابوداؤد 495 وصححہ الالبانی )
 ٭قیامت کے دن حقوق اللہ میں سب سے پہلا سوال نماز کا ہوگا،اگر نماز درست نکلی توسارے اعمال درست اور اگر نماز خراب نکلی تو سارے اعمال بیکار ہوں گے ۔       (ترمذی 2616 وحسنہ الالبانی )
نماز کی اسی اہمیت کے پیش نظر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کو ہمیشہ اور باربا راس کی تاکید کی اوران لوگوں سے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایاجو نماز وں کے لیے حاضر نہیں ہوتے ۔ایک بار آپ نے ارشاد فرمایا کہ” جولوگ جماعت میں حاضر نہیں ہوتے میرا خیال ہے کہ ان کے گھروں کو جلاکر خاکستر کردوں۔“(بخاری 6712-612 مسلم1047 )
حیات مبارکہ کے آخری ایام میں جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم شدید کرب سے دوچار تھے ،لمحہ بہ لمحہ تکلیف بڑھتی جارہی تھی، آپ کو ایسی نازک حالت میں بھی فکر ہے تو بس نماز کی، چنانچہ  اپنے اصحاب کووصیت فرمارہے ہیں: الصلاة الصلاة وما ملکت ایمانکم ”نماز….نماز…. اورتمہارے زیردست“۔(احمد6/290صححہ الالبانی )
حضرت عمر فاروق رضى الله عنه امامت فرمارہے تھے ،آپ پر قاتلانہ حملہ ہوتاہے،عبدالرحمن بن عوف رضى الله عنه کا ہاتھ پکڑکر امامت کے لیے آگے بڑھادیتے ہیں،آپ کو آ غشتہ بخاک وخون گھر لایاگیا،آپ پر غشی طاری ہوگئی تھی ،جب افاقہ ہوا تو سب سے پہلے فرمایا: ھل صلی المسلمون ؟ ”کیامسلمانوں نے نماز پڑھ لی“،حاضرین نے کہا: ہاں! امیرالمو منین مسلمانوں نے نماز پڑھ لی ۔تب آپ نے فرمایا: ھا اللہ لاحظ فی الاسلام لمن ترک الصلاة ”اللہ کی قسم جس نے نماز ترک کردی اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں “۔(رواہ مالک فی المو طا 51وابن ابن شیبة فی الایمان 103)
 پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوناچاہا تو زخم سے خون کے فوارے پھوٹنے لگے ،آپ نے عمامہ منگوایا ،اس سے اپنے سر کو باندھا پھر نماز ادافرمائی ۔ظاہر ہے ایسی زندگی سے کیا فائدہ جس سے احکامِ الٰہی میں کوتاہی آجائے 
اے طائرلاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتا ہی
 آج یہی نماز جو تحفہ معراج تھی ہمارے بیچ ناقدری کی شکار ہے ،اس کی عظمت سے اب تک ہماری اکثریت آگا ہ نہ ہوسکی ہے ،مؤذن پانچ وقت مسجد کے محراب سے نمازکے لیے بلاتا ہے لیکن ہماری اکثریت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی،ہم عشق رسولِ کے دعویدار ضرور ہیں لیکن نماز حو ہمارے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ہمیں اس کی چنداں پرواہ نہیں۔ مساجد کی کمی نہیں لیکن نمازی ندارد
 مسجد تو بنالی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپناپُرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

مکمل تحریر >>