جمعرات, مارچ 06, 2014

بیوی کے تئیں شوہر کے پانچ غلط تصرفات


میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات میں چند تصرفات ایسے سامنے آتے ہیں جن کی وجہ سے ناچاقی پیدا ہوتی ہے ، اختلافات جنم لیتے ہیں اورازدواجی زندگی اجیرن بن جاتی ہے،بسااوقات انہیں تصرفات کی بنیاد پر طلاق کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ ان پانچ تصرفات کا ہم ذیل کے سطور میں تذکرہ کررہے ہیں :

(1) بیوی سے اپنے جذبات کااظہار نہ کرنا :

شوہر ہویا بیوی دونوں کے لیے ضروری ہے کہ ایک دوسرے سے اپنے جذبات کوشیئر کریں ، ازدواجی تعلقات میں خوشگواری لانے کے لیے جذبات کوکلید ی حیثیت حاصل ہے ،بالخصوص بیوی کی نظرمیں جذبات کی بیحد اہمیت ہوتی ہے ،اگربیوی کواحساس ہوکہ شوہر اس کے جذبات کی رعایت نہیں کرتاہے توشوہر کواس کی طرف فوری دھیان دینے کی ضرورت ہے ،اللہ پاک نے شوہر اوربیوی دونوں کی بناوٹ اورطبیعت الگ الگ رکھی ہے، اس لیے کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہمہ وقت دونوں کے جذبات یکساں رہیں، لیکن اگر بیوی کی طرف سے یہ شکایت ہوکہ اس کاشریک حیات اس کے جذبات کی قدر نہیں کرتا ہے توشریک حیات کوچاہیے کہ فورا اپنا جائزہ لیکر خود کو سدھارنے کی کوشش کرے ،ایسی جگہ کچھ لوگ خواہ مخواہ حقائق کا تجزیہ اورمعاملات کی تحلیل کرنے لگتے ہیں جواچھی بات نہیں،جذبات کا تعلق دل سے ہوتا ہے،یہاں منطقی اسلوب کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

(1) کوئی اہم کام بیوی سے مشورہ لیے بغیرکرنا :

بعض دفعہ شوہر کوئی قیمتی سامان خریدتاہے یا کوئی اہم کام کرتا ہے تو وہ بیوی کے معیار کو کم ترسمجھتے ہوئے دانستہ طورپر اس میں بیوی سے مشورہ لینامناسب نہیں سمجھتا اورکبھی غیرشعوری طورپروہ ایسا کرگذرتا ہے، حالاں کہ یہی تصرف بسااوقات بیوی کے لیے ناراضگی کاباعث بن جاتاہے ،کیوں کہ ایسی حالت میں بیوی کواحساس ہوتاہے کہ شوہراسے غیراہم سمجھتا لگتا ہے ۔بیوی کا علمی معیار شوہر سے کم تر ہونا اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ شوہر اس کے جذبات کی قدر نہ کرے ۔اوراگر کسی شوہر کی ایسی سوچ بنتی ہے تو اس کی ازدواجی زندگی کبھی خوشگوار نہیں رہ سکتی ۔

(3)  بیوی کی بات پر کان نہ دھرنا :

 بسااوقات بیوی گھر میں یاگھر سے باہر پیش آنے والے کسی معاملے کے تئیں شوہر کو بتانا چاہتی ہے،تاکہ اس سے اپنے جذبات کو شیئر کرسکے،ایسی حالت میں کچھ شوہر اس کا تجزیہ شروع کردیتے ہیں ، منطقی نقطہ پیش کرنے لگتے ہیں ،اسے غیراہم سمجھ کر خاطر میں نہیں لاتے، حالاں کہ بیوی اس کاحل جاننانہیں چاہتی اسے حل معلوم ہوتا ہے البتہ وہ جذبات کوشیئر کرناچاہتی ہے ۔شوہر کوچاہیے کہ بیوی کی بات کو غیراہم ہونے کے باوجود دھیان سے سنے ۔

(4) جذبات کوچھپانا :

ایک شوہر اپنے جذبات اور احساسات کو کمزور ی کی علامت اورمردانگی کے خلاف سمجھتا ہے ،جس کے باعث اپنے جذبات کو چھپاتا ہے ،یہاں تک کہ قریب ترین انسان بیوی سے بھی شیئرکرنانہیں چاہتا جو اس کی شریک زندگی ہے،حالاں کہ ایسا تصرف خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے نیک فال نہیں بدفال ہے، ازدواجی زندگی میں خوشگوری لانے کے لیے ضروری ہے کہ شوہراپنے دل میں پیداہونے والے خیالات اوراحساسات بیوی سے بیان کرے ۔

(5) دباؤ قائم رکھنے کی عادت 

:کچھ شوہر اپنی بیویوں کو دباکررکھنے کے عادی ہوتے ہیں ،شوہرکویہ سوچنا چاہئے کہ بیوی اس کی خادمہ اورغلام نہیں بلکہ اس کی شریک زندگی ہے ، اس کے ساتھ دوستاتہ رویہ ہوناچاہیے ،ہرمعاملے میں مشورہ ہونا چاہیے،سنجیدہ گفتگواورمذاکرہ سے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہیے،کسی بھی معاملے میں اپنی رائے بیوی پر تھوپنا اور اپنا رعب اوردبدبہ قائم رکھنے کی کوشش کرنا خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے سوہان روح ہے ۔ 
مزید پڑھیں ایک بیوی اپنے شوہر کا دل کیسے جیتے 
مکمل تحریر >>

پیر, دسمبر 09, 2013

بیوی اپنے شوہر کا دل کیسے جیتے ؟

 ایک بیوی اپنے شوہر کا دل کیسے جیتے ؟ یہ ایسا سوال ہے جس کی خوشگوار ازدواجی زندگی کی بحالی کے لیے آج بیحد ضرورت محسوس کی جاتی ہے ۔ تواس سلسلے میں چندگذارشات پیش کى جارہى ہیں امید کہ ان سے خوشگوارازدواجی زندگی گزارنے کی خواہشمند بہنیں فائدہ اٹھا سکیں گی ۔

(1) شوہر کی دوست بن جائیں:

 ایک آدمی اپنی زندگی میں دوست کا ضرورت مند ہوتا ہے، اگر آپ اپنے شوہر کى دوست بن جائیں گی تو دوست کو جو وقت دیاکرتا ہے آپ کو دینے لگے گا، ان کے معاملات اورمشکلات میں شریک رہیں، انہیں احساس دلائیں کہ آپ ان کی خیرخواہ ہیں، اپنی نرمی اور اپنے پيار کا بھی ان کو احساس دلائیں کہ وہی ایک انسان ہیں جن کى آپ كودنیا میں ضرورت اور احتياج  ہے ۔

(2) شوہر کی ماں کی جگہ لیں :

 اگرآپ اپنے شوہر کی ماں کی جگہ لیں گی تو وہ آپ کے لیے باپ ،شوہراوربیٹے کی جگہ لے گا، ان کے لیے اپنے دلى اضطراب کا اظہار کریں،محض اتنا اہتمام کرنا ہی اسے احساس دلائے گا کہ آپ ان کے لیے بے قرار رہتی ہیں، ان کی معمولی پسندکی چیزوں کا بھی اہتمام کریں اوران کے لیے شفقت بهرا دل بن جائیں وہ آپ کی وجہ سے پوری دنیا سے بے نیاز ہوجائے گا ۔

(3) شکوی شکایت سے پرہیز کریں :

مرد کو سب سے زیادہ جس چیز سے چڑھ ہوتی ہے وہ ہے بیجا شکوی شکایت، شکایت سے آپ کی پریشانی دورنہیں ہوسکتی بلکہ مزید اس میں اضافہ ہوگا۔ اورافضل طریقہ یہ ہے کہ آپسی گفتگوکے ذریعہ مشکلات  ختم کیے جائیں، ان سے بحث کرتے وقت ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے بال بال بچیں،  انہيں یہ احساس مت دلائیں کہ وہ آپ کی خواہش کى چیز يں پورا نہیں کرتے، مردکے تشخص کو پامال کرنا بہت آسا ن ہے ليكن  اس کا علاج بہت مشکل ہے ۔

(4) دل کو پاکیزہ رکھیں: 

اس لیے کہ دل کی پاکیزگی نیک بختی کی علامت ہے: اپنی محبت کا شوہر سے اظہار کریں، "میری جان" ، "میرے  دل کی دھڑکن" جیسے الفاظ کابكثرت استعمال کریں، غلطی کافورا ا عتراف کریں، صراحت سے بول دیں کہ" مجھ سے غلطی ہوئی مجھے معاف کریں"، محبت اور اشتیاق کے رسائل کا تبادلہ کریں.

(5) شوہر کا استقبال کریں:

کپڑے اور بدن کی صفائی ، گھر کی سجاوٹ ، اور سامانوں كى ترتيب كا  خاص خیال رکھیں،شوہر کی آمد پر پرتپاک انداز میں ان کا استقبال کریں، ان کے کپڑے اتارنے میں ان کا ساتھ دیں اور ان کا من پسند کھانا  تيار كريں.

مکمل تحریر >>

جمعرات, نومبر 21, 2013

دلوں پر فتح کيسے پائيں؟

ملکوں اور قوموں پر حکمرانی کی بابت تو ہم بار بار سنتے رہتے ہیں لیکن کچھ اللہ کے بندے ایسے ہوتے ہیں جو دلوں پر حکومت کرتے ہیں،اور پہلی ملاقات ہی میں دلوں کوجیت لیتے ہیں۔ ايک داعی کو ميدان دعوت ميں کاميابی کے ليے دلوں کو جيتنے کی ضرورت ہے ،مياں بيوی کوخوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے کے ليے دلوں کو جيتنے کی ضرورت ہے ۔ معاشرہ کو الفت ومحبت کا پيکر بنانے کے ليے دلوں کو جيتنے کی ضرورت ہے، ايک کمپنی کو بہترين کارکردگی کے ليے دلوں کو جيتنے کی ضرورت ہے ، اور ايک حاکم کو ملک کی سلامتی اور استحکام کے ليے دلوں کو جيتنے کی ضرورت ہے - اگر ہم بھی فاتح قلوب بننا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی دلوں پر فتح پانے کے وسائل کواپنی عملی زندگی میں جگہ دینی ہوگی ۔ وہ وسائل کیا ہیں؟ آئيے ہم ان وسائل کی جانکاری حاصل کرتے ہيں جو دلوں پر قابو پانے ميں ہمارے ليے بہترين معاون ہيں ۔

(1) پہلا وسيلہ : پاکيزہ تبسم اور سچی مسکراہٹ:

دلوں کے ليے تبسم کو وہی حيثيت حاصل ہے جو اشيائے خوردنی ميں نمک کو، مسکراہٹ اور شگفتہ روئی نہاں خانہ دل ميں نيک جذ بات کے وجود کا پتہ ديتی ہے ۔ ايسے انسان کا چہرہ گلاب کی طرح کھلا رہتا ہے، اس کی طرف دل خود بخود کھينچتا ہے۔ اور پہلی ملاقات ہی دل پر ايک نقش چھوڑ جاتی ہے ، خوش مزاج چہرے پر تبسم کے پھول کھلتے ہی تنگ دلی وتنگ نظری کے سارے پودے يک قلم مرجھا جاتے ہيں، اور خيابان دل ميں الفت ومحبت کے پودے لہلہانے لگتے  ہيں ۔ تبسم ميں کچھ خرچ نہيں ہوتا تاہم اس کے اثرات  نہايت عجيب اور ديرپا ہوتے ہيں ۔ يہی وجہ ہے کہ جب رحمت عالم صلی الله عليه وسلم کو فاتح عالم بناکر بھيجا گياتو يہ صفت ان ميں کوٹ کوٹ کر بھردی گئی، ہمارے حبيب کو تبسم اس قدر محبوب تھا کہ جس دن آپ کی وفات ہوئی اس دن بھی تبسم فرمايا، مرض الموت کے عالم ميں جبکہ ابوبکررضی الله عنه لوگوں کی امامت کر رہے تھے، گھرکا پردہ اٹھاکر جانثاروں کو ديکھتے ہيں توآپ کے چہرے پر تبسم کھل جاتا ہے (بخاری) ايک جانثار عبداللہ بن حارث رضی الله عنه آپ کی اس صفت کی گواہی ان لفظوں ميں ديتے ہيں :  ”ميں نے رسول اللہ صلی الله عليه وسلم سے زيادہ تبسم فرماتے ہوئے کسی کو نہ ديکھا “ (ترمذی)
ايک دوسرے جانثار جريربن عبداللہ البجلی رضی الله عنه فرماتے ہيں ”جب سے ميں نے اسلام قبول کيا ہے کبھی آپ صلی الله عليه وسلم نے مجھے اپنے پاس داخل ہونے سے نہيں روکا اور جب کبھی ديکھا مسکرائے ....“(سنن ابن ماجہ ) اسی تبسم کی بدولت دنيا آپ کے

زيرنگيں ہوئی اور آپ فاتح عالم بنے
جودلوں کو فتح کرلے وہی فاتحِ زمانہ


 تبسم سے دلوں کے بند دريچے تو کھُل ہی جاتے ہيں تاہم تعليم محمدی کی خصوصيت ديکھو.... کہ اس ميں بھی اجروثواب رکھا گيا ہے :” تيرا اپنے بھائی کے چہرہ پر مسکرانا صدقہ ہے “ (ترمذی) اور يہ تاکيد کی گئی کہ : ”کسی بھی خير
کے کام کو حقير مت سمجھو‘ خواہ تيرا اپنے بھائی کے ساتھ شگفتہ چہرہ کے ساتھ ملنا ہی کيوں نہ ہو “ (مسلم )
عرض کرنا يہ ہے کہ جب تبسم دلوں کا قفل کھولتا ہے، حسد، کينہ کپٹ دور کرتا ہے ، نفسياتی وجسمانی سکون فراہم کرتا ہے ، ذہن کو صيقل کرتا ہے،پھريہ ہمارے حبيب کی سنت ہے ، اس پربے پناہ اجروثواب رکھاگيا ہے، توآخر ہم اس صفت کو اپنانے ميں بخالت کيوں کرتے ہيں ....؟کيا ہم نے دعوت ميں اس نسخے کو آزمايا ....؟ کيا ہم نے اپنے شريک حيات کے ساتھ اس نسخے کو آزمايا ....؟ کيا ہم نے اپنے دوست واحباب کے ساتھ اس نسخے کو آزمايا ....؟ آخر اس ميں ہمارا جاتا کيا ہے ....؟ ذرا اسے آزما کر تو ديکھيں ! کےسا معجزانہ اثر دکھاتا ہے .... ہم پر .... ہمارے معاشرے پر .... اورہماری ازدواجی زندگی پر ....

(2) سلام میں پہل کرنا:

سلام میں پیش قدمی کرنے سے جہاں ایک طرف طبیعت میںانکساری پیدا ہوتی ہے تودوسری طرف مخاطب کے دل پر اُس کا اثرنہایت گہراہوتا ہے بشرطیکہ سلام کے ساتھ گرم جوش مصافحہ بھی پایا جائے ۔
سلام کرنے سے دلوں میں قربت پیدا ہوتی ہے،الفت ومحبت میں اضافہ ہوتا ہے ، بغض وحسد ، کینہ کپٹ ،بدظنی اور دل کی دیگر بیماریاں کافور ہوتی ہیں ۔
 صحيح مسلم میں ارشادِ نبوی ہے ” ....کیامیں تجھے ایک ایسی چیز نہ بتاوں کہ اگر تم اُس پر عمل پیرا ہوجاوتو آپس میں محبت پیدا ہوجائے گی ، وہ ےہ کہ تم باہم سلام پھیلاواور اُس کی اشاعت کرو “ ۔
بسااوقات زمانے سے ایک شخص دوسرے کو دیکھتا آتا ہے لیکن سلام نہ کرنے کے باعث ایک طرح کی دوری بنی رہتی ہے جب ہی سلام کا لفظ زبان سے نکلتا ہے یکایک یہ دوری نزدیکی میں بدل جاتی ہے ۔
دلوں کو جیتنے کے ليے حضورپاک صلى الله عليه وسلم نے اِس وسیلے کا بکثرت استعمال کیا ، يہاں تک کہ جب آپ کا گزر بچوں کے پاس سے ہوتا تو آپ اُن کوبھی سلام کرتے تھے۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے اپنے پہلے خطبہ میں سلام ہی کو فروغ دینے کی دعوت دی تھی کیوںکہ وہاں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل مقصود تھاجس کے افراد الفت ومحبت کی لڑی میں پرو دئيے گيے ہوں ۔
لہذا ا گر آپ دلوں کو جیتنا چاہتے ہیں توسلام میں پیش قدمی کریں، گرمجوشی کے ساتھ مصافحہ ومعانقہ کریں، پھر دیکھیں اُس کا اثر دلوں پر....۔

(3) تحفے تحائف اور ہدیوں کا لین دین:

ہدیوں کا تبادلہ دلوں کی صفائی کا بہترین ذریعہ ہے، اس سے روابط مستحکم ہوتے ہیں ، الفت ومحبت میں اضافہ ہوتا ہے اور دلوں میں نیک جذبات پیدا ہوتےہیں ۔ حضورِ پاک صلى الله عليه وسلم خود ہدیہ دیتے ، ہدیہ قبول کرتے ، اور ہدیہ پیش کرنے والے کو دعا دیتے تھے ۔
یوں تو ہرطبقہ اور ہرمیدان کے لوگوں کو ہدیہ کے ذریعہ رام کیا جا سکتا ہے تاہم جو تعلقات نہایت نازک ہوتے ہیں اور جن کے استحکام کی ہر وقت ضرورت ہے مثلاً میاں بیوی ، والدین، اور رشتے داروں کے تعلقات توانہیں مضبوط کرنے میں ہديہ کلیدی رول ادا کرتا ہے ۔
ہدیہ کا پیمانہ ہمیشہ خلوص پرمبنی ہوتا ہے ، ہدیہ گوکہ معمولی قیمت کا ہو‘ دل پرجادو کا سا اثرکرتا ہے ، لہذا دلوں پر قابو پانے کے ليے ہرشخص کو اِس وسیلے کا استعمال کرنا چاہيے بالخصوص زوجین کے بیچ ہديے کا باہمی تبادلہ ہوتے رہنا چاہيے۔ شوہر بیوی کو ہدیہ پیش کرےاور بیوی شوہرکو ہدیہ دے ، اِس سے ازدواجی زندگی جنت نظیر بنی رہتی ہے۔ اگر بیوی یہ چاہتی ہے کہ شوہر کے دل کی کنجی اس کے ہاتھ میں ہو تو اِس نسخے کو آزماکر ديکھے،شوہرکے پیسے ہی سے ہدیہ خرید کر اُس کے دل پرقابوپا سکتی ہے۔

(4) نرم وسنجیدہ گفتگو:

کسی سے ملیں تو تواضع وانکساری سے ملیں، گفتگو میں سنجیدگی ہو، ناپ تول کر بات کریں، یاوہ گوئی، غیرمفید، اورلایعنی باتوں سے پرہیز کریں ۔ باتوں میں ایسی شیرینی ہو کہ دل پر تیرکا سا کام کرے ۔ مجلسوں اور نشست گاہوں میں بکثرت باتیں کرکے حاضرین پر اپنا رعب ڈالنے اور چھا جانے کی کوشش کر نا معیوب ہے، ایسی حرکت سے دلوں میں بیٹھا وقار بھی جاتا رہتا ہے ۔ اِسی ليے اللہ تعالی نے بندوں کو درست گفتاری کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا :
 وقل لعبادی یقولوا التی ھی أحسن (الإسراء53 )
اور میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بہت ہی اچھی باتیں منہ سے نکالا کریں“ ۔
اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی پوری زندگی خوش گفتاری ونرم گوئی کا نمونہ تھی ، آپ کی نرمی وآسانی ہی کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام آپ پرفریفتہ تھے ، آپ پرجان چھڑکنا اپنی سعادت سمجھتے تھے ، فاتحِ قلوب اورمربی اعظم ا دلوں کوفتح کرنے کا ایسا ملکہ رکھتے تھے کہ ہرملنے والا آپ کی محبت کا اسیر بن جاتا اور آپ کے اصحاب میں ہرایک کو گمان ہوتا کہ سب سے زیادہ آپ مجھ سے ہی محبت کرتے ہیں ۔ حضرت عمروبن عاص رضى الله عنه بکثرت مجلس نبوی میں بيٹھا کرتے تھے، وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم اس توجہ اور خلوص کے ساتھ مجھ سے گفتگو فرماتے اوراِتنا خیال رکھتے کہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ شاید میں اپنی قوم کا سب سے بہتر آدمی ہوں ۔ ایک دن اُن سے رہا نہ گیا اور اپنے حبیب کے سامنے ایک سوال کے ذریعہ اِس محبت کے احساس کو مؤکد کرنا چاہا چنانچہ محب کی زبان گویا ہوئی : من أحب الناس إلیک یا رسول اللہ” اے اللہ کے رسول ! آپ کے نزدیک سب سے محبوب انسان کون ہے “....؟ آپ نے فرمایا : ”عائشہ“ انہوں نے کہا : مردوں میں.... ۔ آپ نے فرمایا: اُس کے باپ ابوبکر ،انہوں نے پوچھا : پھرکون ؟ آپ نے فرمایا : عمر۔ پوچھا : عمر کے بعد.... آپ نے چند دیگر صحابہ کرام کا نام گنایا ۔ کہتے ہیں پھر میں نے وضاحت کے ساتھ حقیقت معلوم کی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے بلا رو رعایت صاف صاف بات کہہ دی ۔ تب مجھے اپنی اِس حرکت پرنہایت شرم آئی اور میں دل ہی دل میں خیال کرنے لگا کہ لیتنی ماسألت ” کاش کہ میں نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا “ ۔ (ترمذی)
ہمیں بھی دلوں کو جیتنے کے ليے خوش گفتاربننا پڑے گا اورگفتگومیں سنجیدگی لانی ہوگی۔ واقعہ یہ ہے کہ کتنے لوگ علم، صلاحیت ، اور تجربہ رکھنے کے باوجود بات کا سلیقہ نہ ہونے کی وجہ سے ملنے والے پر پہلی ملاقات ہی میں غلط چھاپ چھوڑ جاتے ہیں ۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی گفتگو اور اسلوبِ بیان پر سنجیدگی سے غورکریں۔

مکمل تحریر >>

بدھ, اکتوبر 09, 2013

سوئے خاتمہ

چند سالوں قبل کا واقعہ ہے، مکہ مکرمہ سے شائع ہونے والے روزنامہ ”شمس “ میں یہ عبرتناک خبر شائع ہوئی تھی کہ ایک بیس سالہ دوشیزہ ٹیلیویژن پراباحیت پسند پروگرام دیکھتے ہوئے فوت پاگئی ، موت کے بعد ریموٹ اس کے ہاتھ  میں تھا ، اہل خانہ نے اس کے ہاتھ سے ریموٹ چھرانے کی انتھک کوشش کی لیکن چھرانے میں کامیاب نہ ہوسکے، بالآخر اسی حالت میں اس کی تجہیز وتکفین کردی گئی ۔

پرائمری سکول کاایک ٹیچرشرابی تھا اور ہمیشہ شراب کے نشہ میں دھت رہتا تھا ، جب اس پر موت کے آثار طاری ہونے لگے تو اس کی پریشانی دیدنی تھی ، لوگوں نے اس کی پریشانی کو دیکھ  کر زمزم منگوایا تاکہ دنیا سے جاتے وقت اس کے منہ میں آخری قطرہ زمزم کاپڑے ، جب اس کے منہ میں زمزم رکھاجاتا تو فوراً منہ بند کرلیتا ،لوگوں کو تعجب ہوا ، حاضرین میں سے کسی نے کہا :” شراب لاؤ  شراب کا نام سنتے ہی اس نے اپنا منہ کھول دیا ۔ یہ بات کئی بار کہی گئی اور ہربار وہ منہ کھولتا رہا، بالآخر ایسی ہی حالت میں اس کی موت ہوگئی ۔ یہ واقعہ راقم سطور کی بستی میں پیش آیا ۔             


مکمل تحریر >>

جمعرات, ستمبر 05, 2013

سترسالہ ان پڑھ خاتون نے حفظ ِقرآن مکمل کرلیا

سلطنت اردن کی ایک ستر سالہ خاتون ام طٰہ شہر زرقاء میں سلائی کا کام کرتی تھی، پڑھنا لکھنا بالکل نہیں جانتی تھی، ایک دن اس نے اپنے محلے کی ایک چھوٹی بچی سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ لفظ ’’اللہ “ لکھنا سیکھ لوں ، تم مجھے اللہ کا نام لکھنا سکھا دو ۔ چنانچہ بچی نے بوڑھی ماں کو ”اللہ “ لکھنا سکھا دیا ۔ اللہ سیکھتے ہی بڑے شوق سے یہ لفظ پورے قرآن میں ڈھونڈنے لگی، اس کے اندر پڑھنے کا مزید داعیہ پیدا ہوا، چنانچہ اس نے تحفیظ قرآن کے ایک مرکزمیں داخلہ کرا کر قرآن سیکھنا شروع کردیا، یہاں تک کہ ایک دن ناظرہ قرآن پڑھنا سیکھ لیا پھر اس کے اندر حفظ قرآن کا شوق پیدا ہوا چنانچہ چند ہی سال گزرے تھے کہ پورا قرآن بھی حفظ کرلیا ۔
مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 04, 2013

آیت ِقرآنی کا اثر ایک ڈاکو پر

فضیل میں عیاض رحمه الله ایک صوفی باصفا گزرے ہیں ، آپ شروع میں ڈاکے ڈالا کرتے تھے،ایک دن آپ دومنزلہ مکان پر ڈاکہ ڈالنے جارہے تھے کہ اوپر سے آواز آرہی تھی‘ کان لگا کر سنا تو کوئی بزرگ قرآن مجید کی یہ آیت بڑی دل سوزی سے تلاوت کر رہے تھے :
کیا مومنوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے اور جو سچی کتاب اللہ کے ہاں سے اتری ہے، اس کے پڑھنے سے کانپ جائیں “۔ (سورة الحدید ١٦)

قرآن کی یہ آیت کریمہ سنتے ہی ان کے دل پر رقت طاری ہوگئی اور توبہ کرتے ہوئے نیچے اترے اور کہنے لگے کہ ہاں ہاں وقت آچکا ہے ۔ اب وہ وقت آچکا ہے ۔ اسی کے بعد ان کو توبة النصوح حاصل ہوگئی اور ہمیشہ ہمیش کے لیے نہ صرف ڈاکے ڈالنے کے فعل بد سے تائب ہوئے بلکہ تمام معاصی وجرائم سے توبہ کرکے ذکر الہی میں ایسے مشغول ومنہمک ہوگئے کہ دنیا کے نامور اولیاءاللہ میں آپ کا شمار ہوا ۔  (مرأة الجنان 1/416 )  
مکمل تحریر >>

خلوص نیت

امام ماوردی رحمه الله بہت بڑے فقیہ اور عالم گذرے ہیں ، تفسیر اور فقہ میں ان کی متعدد ضخیم تالیفات  ہیں ،البتہ ان کی زندگی میں ان کی کوئی کتاب زیور طباعت سے آراستہ نہ ہوسکی، جب ان کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اپنے ایک معتمد خاص کو بلاکر بتایا کہ فلاں جگہ پر جو کتابیں رکھی ہوئی ہیں سب کی سب میری تصنیف ہیں ،جب میں حالت نزع میں چلا جاؤں تو اپنا ہاتھ  میرے  ہاتھ  پر رکھو اگر میں مٹھی باندھ لوں تو سمجھنا کہ میری تالیفات بارگاہ الہی میں مقبول نہ ٹھہری ہیں ،لہذا ان سب کو رات میں دجلہ میں لے جاکر بہا دینا ۔ اور اگر میں ہاتھ پھیلاؤں تو سمجھنا کہ یہ کتابیں مجھ سے قبول کرلی گئی ہیں اور میں جس خلوص نیت کا متمنی تھا اس میں کامیاب ٹھہرا ہوں ۔ معتمد خاص نے ایسا ہی کیاچنانچہ حالت نزع میں انہوں نے اپنا ہاتھ  پھیلا دیا، تب ان کی ساری کتابیں زیور طباعت سے آراستہ ہوئیں ۔
مکمل تحریر >>

جمعرات, جولائی 04, 2013

باتیں ! جن سے زندگی سنورتی ہے

  • جس نے اپنے نفس کو عزت دیا اس نے اپنے دین کو ذلیل کیا اور جس نے اپنے نفس کو ذلیل کیا اس نے اپنے دین کو عزت بخشا ۔ (مجاہد )
  • جو شخص فضول کاموں میں مشغول ہوا وہ ورع سے محروم ہوگیا (سہل)
  • اہل بدعت کی مجالست اختیارمت کروکیوں کہ ان کی مجالست دلوں کو بیمار کردیتی ہے ۔   (ابن عباس رضي الله عنهما )
  • اللہ اس بندے پر رحم کرے جس نے اپنے نفس کو مخاطب کرکے کہا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اور ایسا کیوں نہ کیا ؟ پھر اسے سخت سست کہا، اوراسے لگام دیتے ہوئے کتاب الہی کا پابند بنا دیا۔ ) مالک بن دینار رحمه الله(
  • اللہ تعالی نے فرشتوں کو عقل سے نوازا شہوت نہ دیا ،جانوروں کو شہوت دی عقل سے محروم رکھا جبکہ ابن آدم کو عقل بھی دی اور شہوت بھی، جس کی عقل اس کی شہوت پر غالب رہی وہ فرشتوں سے جا ملا اور جس کی شہوت اس کی عقل پر غالب رہی وہ جانوروں سے جا ملا -
  • شیطان کہتا ہے : ”تعجب ہے اولادِآدم پر کہ اللہ سے محبت کرنے کے باوجود اس کی نافر مانی کرتی ہے جبکہ مجھ  سے نفرت کرنے کے باوجود میری نافرمانی نہیں کرتی “ اللہ سے دعا کریں کہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنائے جو اللہ سے محبت کرتے ہیں، اس کی نافرمانی نہیں کرتے ۔
مکمل تحریر >>

پیر, فروری 18, 2013

"امی جان صبر کرو کيوں کہ آپ حق پر ہو"

حديث ميں ہے ” اسراء کی شب ميرا گذر ايک ايسی جگہ سے ہوا جہاں ميں نے نہايت اچھی خوشبو پائی : ميں نے جبريل عليه السلام سے دريافت کيا : يہ اچھی خوشبو کس چيز کی ہے ؟ جبريل عليه السلام نے کہا : يہ اس خاتون کی خوشبو ہے جو فرعون کی بيٹی کو کنگها کرتی تھی ۔ ايک دن کنگھا کر رہی تھی کہ دفعتا کنگھی اس کے ہاتھ سے گر گئی، اس نے (کنگھی کو اٹھاتے ہوئے) کہا: بسم اللہ، اللہ کے نام سے فرعون کی بيٹی نے کہا : مرے باپ ؟ (يعنی کيا تم اللہ سے مراد ميرے باپ ہی کو لے رہی ہو يا کسی اور کو ؟ ) خاتون نے کہا : ميری مراد اس رب سے ہے جو ميرا اور تيرے باپ کا رب ہے، فرعون کی بيٹی نے کہا : اچھا تو کيا ميں يہ بات اپنے باپ کے گوش گزار کردوں ؟ خاتون نے کہا : ( کوئی بات نہيں ) کہہ دو ۔ (چنانچہ دختر فرعون نے فرعون سے سارا قصہ سنا ديا ) فرعون نے خاتون سے پوچھا : أو لک رب غيری ؟ کيا ميرے علاوہ بھی تيرا کو ئی رب ہے؟ خاتون نے (برجستہ ) جواب ديا : ميرا اور تيرا پروردگار وہ اللہ ہے جو آسمان پر ہے۔ مومنہ خاتون کا يہ جواب سن کر فرعون آگ بگولا ہوگيا، اور ايک گڈھے ميں تانبا پگھلانے کا حکم ديا، جب تانبہ پگھل کر بالکل سرخ ہو گيا تو اس کی نگاہوں کے سامنے اس کے بچوں کو ايک ايک کر کے اس ميں ڈال ديا، سب سے اخير ميں اس کی باری آئی ، چوں کہ اس کی گود ميں ايک شير خوار بچہ تھا اس ليے ذرا جھجھک محسوس ہوئی، چنانچہ اللہ تعالی نے اسے گويائی عطا فرمادی ، اس نے کہا : يا أماہ اصبری فإنک علی الحق. "امی جان صبر کرو کيوں کہ آپ حق پر ہو"

اس واقعے سے دين پر ثابت قدمی اور استقامت کے سنہرے نتائج  کا پتہ چلتا ہے کہ اگر دين کی راہ ميں جان کا نذرانہ بھی پيش کرنا پڑے تو اسے بھی بلا پس و پيش قبول کر لينا چاہئے ، کيوں کہ بہترين انجام نيکو کاروں کا ہوتا ہے ۔ 
مکمل تحریر >>

بدھ, فروری 06, 2013

ابرص، گنجا اور اندھا كى کہاني


پيارے بچو! آپ کے ابّو امّی کبھی کبھی آپ کو قصے کہانياں ضرور سناتے ہوں گے۔ آئيے آج ہم بھی آپ کو ايک قصہ سناتے ہيں، يہ وہ قصہ ہے جسے پيارے نبی محمد صلي الله عليه وسلم نے ايک دن اپنے ساتھيوں کی مجلس ميں بيان کيا تھا پہلے زمانہ ميں تين آدمی تھے :
1. ابرص:(سفيد داغوں والا، جس کے جسم پرسفيدی ہو)
2. گنجا : (جس کے سرپر بال نہ ہو )
3. اندھا : (جس كوآنكھ سے دكهائي نہ ديتا ہو)
اللہ پاک نے ان تينوں کو آزمانے کا ارادہ فرمايا، چنانچہ اللہ پاک نے ان تينوں کے پاس فرشتہ بھيجا، فرشتہ سب سے پہلے سفيد داغوں والے کے پاس آيا اور اس سے پوچھا : ”تجھے کونسی چيز سب سے زيادہ محبوب ہے ؟ “
اس نے جواب ديا : ” اچھا رنگ خوبصورت جسم اور يہ سفيد داغ مجھ سے دور ہوجائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہيں “
فرشتے نے اس کے سرپر ہاتھ پھيرا تو اللہ کے حکم سے اس کی گھن کھانے والی بيماری دور ہو گئی اور اسے خوبصورت رنگ دے ديا گيا ۔ فرشتے نے اس سے پھر پوچھا: تجھے کونسا مال زيادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : ”اونٹ “
چنانچہ اسے آٹھ دس مہينے کی گابھن اونٹنی دے دی گئی اور فرشتے نے اسے دعا دی کہ اللہ تعالی تيرے ليے اس ميں برکت عطا فرمائے ۔ پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آيا : اس نے گنجے سے پوچھا : ”تجھے کونسی چيز سب سے زيادہ پسند ہے ؟ “
 اس نے کہا : ”ميری خواہش يہ ہے کہ ميرا گنجاپن دور ہو جائے اور ميرے سرميں خوبصورت بال اگ آئيں“ ۔
فرشتے نے اس کے سرپر ہاتھ پھيرا جس سے اس کا گنجاپن دور ہو گيا اور اسے اللہ تعالی کی طرف سے خوبصورت بال عطا کر دئيے گيے ۔ پھر فرشتے نے گنجے سے بھی پوچھا کہ : ”تجھے کون سا مال سب سے زيادہ پسند ہے ؟“ اس نے کہا : ”گائے “۔ چنانچہ فرشتے نے اسے ايک گابھن گائے ديا اور دعا دی کہ ”اللہ تعالی تيرے ليے اس ميں برکت عطا فرمائے “ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آيا : اور پوچھا : ”تجھے کونسی چيز سب سے زيادہ پسند ہے ؟“
اندھے کو کيا چاہئے ؟ دو آنکھ ۔ اس نے کہا: ”ميری خواہش يہ ہے کہ اللہ تعالی ميری بينائی لوٹا دے تاکہ لوگوں کو ديکھ  سکوں “ ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اس کی بينائی لوٹا دی ۔ فرشتے نے اس سے پوچھا : ”تجھے کون سا مال زيادہ پسند ہے ؟ “
اس نے کہا :” بکرياں“ ۔ چنانچہ اسے ايک بکری دے دی گئی
اس طرح ابرص ، گنجے اور اندھے تينوں کے جانوروں نے خوب بچے ديئے ، سفيد داغوں والے کے ہاں ايک وادی اونٹوں کی ہوگئی ۔ گنجے کے ہاں ايک وادی گايوں کی ہوگئی، اور اندھے کے ہاں ايک وادی بکريوں کی ہو گئی ۔
پيارے بچو! جانتے ہيں اس کے بعد کيا ہوا ؟ اللہ پاک جب ديتا ہے تو اس کی چاہت ہوتی ہے کہ بندہ اس کے ديئے ہوئے مال ميں سے غريبوں مسکينوں اور لاچاروں کی بھی مدد کرے۔ آئيے ہم باقی قصہ سنتے ہيں
اللہ تعالی نے ايک عرصہ کے بعد اسی فرشتہ کو ابرص ، گنجے اور اندھے کے پاس بھيجا تاکہ اس کی آزمائش کرے چنانچہ فرشتہ سب سے پہلے سفيد داغوں والے کے پاس اسی کی پہلی شکل ميں آيا : اور کہا
” ميں مسکين آدمی ہوں ، سفر ميں ميرے وسائل ختم ہوگئے ہيں ، آج ميرے وطن پہنچنے کا کوئی وسيلہ نہيں سوائے اللہ کے اور پھر تيرے، اس ليے ميں تجھ سے اللہ کے نام پرايک اونٹ کا سوال کرتا ہوں، وہ اللہ جس نے تجھے اچھا رنگ ، خوبصورت جسم اور مال عطا کيا ہے “
اس نے جواب ديا : ميرے ذمہ پہلے ہی بہت سے حقوق ہيں مجھ سے تيری مدد نہيں ہو سکتی ۔ يہ سن کر فرشتے نے اس سے کہا : ”ميں تجھے پہچانتا ہوں، کيا تو وہی نا ہے جس کے جسموں پر سفيد داغ تھے لوگ تجھ سے گھن کھاتے تھے، تو فقير تھا، اللہ نے تجھے مال سے نواز ديا.... “؟
اس نے کہا: ”بھئی ! يہ مال تو مجھے باپ دادا سے ورثے ميں ملا ہے “
فرشتے نے کہا : ” اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تجھے ويسا ہی کردے جيسا کہ تو تھا ۔ اب فرشتہ گنجے کے پاس اس کی پہلی شکل وصورت ميں آيا اور اس سے بھی وہی کہا کہ ” ميں مسکين آدمی ہوں ، سفر ميں ميرے وسائل ختم ہوگئے ہيں، اس ليے ميں تجھ سے اللہ کے نام پرايک ايک گائے کا سوال کرتا ہوں، وہ اللہ جس نے تجھے خوبصورت بال عطا کيا ہے “
گنجانے وہی جواب ديا جو ابرص (سفيد داغوں والا) نے ديا تھا کہ ميرے پاس پہلے ہی سے بہت سارے حق والے ہيں فرشتے نے اسے احساس دلايا کہ کبھی تو گنجا تھا، لاچار تھا، آج اللہ نے تجھے نعمت دے دی تو اپنی پہلی حالت کو بھول گيا “
 اس نے کہا : ” يہ مال تو مجھے ميرے باپ دادا سے ورثے ميں ملا ہے “
فرشتے نے اسے بھی بددعا دی کہ” اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالی تجھے ويسا ہی کردے جيسا تو پہلے تھا “۔
فرشتہ پھر اندھے کے پاس اس کی پہلی شکل ميں آيا، اوراس سے کہا : ”ميں مسکين اور مسافر آدمی ہوں ميرے وسائل سفر ختم ہوگئے ہيں، اب ميرے ليے وطن پہنچنا، اللہ کی مدد پھر تيری مالی اعانت کے بغير ممکن نہيں، اس ليے ميں تجھ سے اس ذات کے نام سے، جس نے تيری بينائی تجھ پر لوٹادی، ايک بکری کا سوال کرتا ہوں تاکہ اس کے ذريعہ سے ميں منزل مقصود تک پہنچ جاؤں “
اندھے نے کہا: بلاشبہ ميں اندھا تھا، اللہ تعالی نے ميری بينائی بحال کردی ۔ تيرے سامنے بکريوں کا ريوڑ ہے، ان ميں جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے “
يہ سن کر فرشتے نے اسے کہا : ” اپنا مال اپنے پاس ہی رکھ ، تيرا امتحان مقصود تھا، جس ميں توکامياب رہا ، اور اللہ تجھ سے راضی ہوگيا اور تيرے دونوں ساتھی ناکام رہے اوراللہ تعالی ان دونوں سے ناراض ہوگيا“ ۔
بچو! ديکھا آپ نے کہ کيسے اللہ تعالی نے سفيد داغ والے کا داغ ختم کرديا اور اسے ايک گابھن اونٹ ديا جس سے اس کے پاس اونٹ ہی اونٹ ہوگيے، ليکن جب اس نے اللہ پاک کے احسان کو بھلا ديا تواللہ پاک نے اس سے وہ نعمت چھين لی اور جيسا وہ پہلے تھا ويسا ہی بناديا۔ اور گنجے کا گنجاپن دور کرکے اُسے ايک گائے ديا جس سے اس کے پاس ايک وادی گائيں ہوگئيں ليکن جب اس نے بھی ناشکری کی تو اللہ پاک نے اس سے بھی اپنی نعمت چھين لی ليکن جب اندھے نے اللہ کی نعمت کو ياد رکھا تواللہ تعالی اس سے خوش ہوا اور اس کی نعمت کو بدستور بحال رکھا ۔

پيارے بچو! اس قصے سے ہميں سبق ملتا ہے کہ فقيروں کو بہانا بناکردروازے سے بھگانا نہيں چاہيے بلکہ جو ميسر ہو ضرور دينا چاہئے ، کيا خبر کہ کل اللہ پاک ہميں بھی ويسا ہی بنا دے ۔

مکمل تحریر >>

پیر, جنوری 14, 2013

سچائی کا پھل



 پيارے بچو! جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ پاک جھوٹ بولنے والوں سے سخت نفرت کرتے ہيں، اسی ليے تو نيک لوگ اوراچھے بچے ہميشہ سچ بولتے ہےںاورجھوٹ سے دور رہتے ہيں آج ہم آپ کوايسے ہی ايک سچے بچے کی کہانی سنارہے ہيں:
 عبدالقادر نام کا ايک بچہ تھاجو پڑھنے کا بے حد شوقين تھا، اس نے ايک دن اپنی ماں سے کہا کہ ” امی جان ! ہميں پڑھنے کے ليے کہيں باہربھيج دونا“۔ چنانچہ ايک قافلہ بغدادجا رہا تھا، ماں نے بچے کو تيار کيا، زاد سفررکھ ديا، اور چاليس دينار اس کے آستين ميں باندھتے ہوئے تاکيد کی کہ ” بيٹا ! کسی بھی حالت ميں جھوٹ مت بولنا “۔ بچے نے ماں سے وعدہ کيا اور قافلہ کے ساتھ نکل گيا۔ قافلہ صحراء سے گذر رہا تھا کہ چند ڈاکووں نے اسے آگھيرا اور سارے لوگوں کا مال ومتاع اور سامان چھين ليا ۔ ڈاکووں ميں سے ايک نے اس بچے کی طرف ديکھا تواس سے پوچھا: ”کيا تيرے پاس بھی کچھ ہے؟“۔ بچے نے کہا : ”ہاں!ميرے پاس چاليس دينار ہے“ ۔ چور ہنسنے لگا کہ شايد بچہ مزاق کررہا ہے يا پاگل ہے۔ وہ بچے کو اپنے سردار کے پاس لے گيا اورسردارکو بچے کے جواب سے آگاہ کيا۔ سردار نے بچے سے پوچھا : ”تمہارا پيسہ کہاں ہے ؟“۔ بچے نے فوراً آستين سے پيسے نکالا اور سردارکو بتا ديا ۔ ڈاکووں کے سردارکو بہت حيرت ہوئی اس نے کہا: ” آخرتجھے کس چيز نے سچ بولنے پر آمادہ کيا ؟“۔ بچے نے کہا :” ميری ماں نے مجھے سچ بولنے کی تاکيد کی تھی، آخران کی خلاف ورزی کيسے کروں ؟ “ سردار بچہ کی بات سے بہت متاثر ہوا اور کہا : ”بچے ! تم نے اس وجہ سے سچ بولا کہ ماں کی خلاف ورزی نہ ہوجائے ۔ اور ميں روزانہ اللہ کے وعدے کو توڑتا اور اس کی خلاف ورزی کرتاہوں“ پھرڈاکووں کو حکم ديا کہ اہل قافلہ کے سارے سامان لوٹادو۔ اور بچے سے کہا :” ميں تيرے ہاتھ  پرآج ہی ڈکيتی سے توبہ کر تا ہوں“ ۔ چنانچہ باقی ڈاکووں کوبھی اپنے عمل پرشرمندگی ہوئی اور سب نے اسی وقت ڈکيتی سے توبہ کرلی ۔
بچو! جانتے ہو يہ کون عبدالقادر ہيں ؟ يہی شيخ عبدالقادر جيلانی ؒ ہيں جو بہت بڑے عابد وزاہد اورامام گذرے ہيں۔ توپھر آپ بھی عہد کيجئے کہ ہميشہ اپنی زندگی ميں سچ بوليں گے اور جھوٹ سے دور رہيں گے۔


مکمل تحریر >>

جمعرات, دسمبر 06, 2012

پنسل کی مثال


پنسل ساز نے پہلے ہی دن پنسل سے کہا: اس سے قبل کہ میں تجھے بازار میں بھیجوں‘تجھے پانچ باتیں جان لینا ضروری ہے۔ انہیں ہمیشہ یاد رکھنا تاکہ بہتر سے بہتر پنسل بن سکو۔

پہلی بات :

 تم بڑے بڑے کام کرنے پر قادر ہوسکتے ہولیکن ضروری ہے کہ کسی انسان کے ہاتھ میں چلے جاؤ۔

دوسری بات :

 بسااوقات تجھے تراشا جائے گاجس سے تجھے سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ،اگربہتر پنسل بننا ہے تواس عمل سے گزرنا تیرے لیے ضروری ہے۔

تیسری بات:

 کسی طرح کی غلطی ہوجائے تو اس کی اصلاح کی تیرے اندرپوری قوت وطاقت موجود ہے ۔

چوتھی بات: 

تمہارا اہم حصہ وہ ہوگا جو تمہارا باطن ہے ۔

 پانچویں بات :

 تمہارے حالات جیسے بھی ہوں تمہارے لیے لکھنے کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے ۔ اوراپنے پیچھے ہمیشہ’ خوشخط‘ حروف چھوڑو،خواہ حالات کتنے سنگین کیوںنہ ہوں۔
پنسل  نے ان پانچ باتوں کو پوری طرح سمجھ لیا ، اورقلم ساز کے ہدف کا پورا ادارک کرلینے کے بعد دنیا میں جانے کے لیے پنسل کے ڈبہ میں داخل ہوگیا ۔
عزیزقاری ! اب آپ خودکو اس پنسل کی جگہ پر رکھ کر سوچیں ،اورمذکورہ پانچ باتوں کوہمیشہ ذہن نشیں رکھیں، ان شاءاللہ افضل انسان بن سکیں گے ۔

پہلی بات:

آپ اعلی اورعظیم خدمات انجام دینے کے اہل ہوسکتے ہیں لیکن اس وقت جب خودکو اللہ کے تابع کردیں اور مختلف صلاحیتوں کے مالک بن جائیں تاکہ لوگوں کے لیے مرکزتوجہ بن سکیں اوروہ آپ کی طرف قصد کرنے لگیں۔

 دوسری بات :

آپ کو بسااوقات تراشا جائے گا،اوراس میں آپ کو پریشانیاں لاحق ہوں گی لیکن قوی انسان بننے کے لیے آپ کے لیے ایسا عمل نہایت ناگزیر ہے

تیسری بات:

آپ اپنی غلطیوں کی اصلاح پر قادر ہوسکیں گے اور اس کے تناسب سے ترقی کے منازل طے کرسکیں گے ۔

چوتھی بات : 

آپ کا اہم حصہ ہمیشہ وہی ہوگا جو آپ کا باطن ہے ۔

پانچویں بات:

کسی بھی راستے پر چل رہے ہوں اپنا اثر ضرور چھوڑ جائیں اورحالات سے قطع نظر ہمیشہ دین کی خدمت پیش نظر رکھیں ۔
ہم میں سے ہرشخص پنسل کی مانند ہے جسے ایک خاص مقصد،منفرد کام اورعظیم ہدف کے لیے تراشا گیا ہے ۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ غوروفکر سے کام لیں ، اوراللہ رب العالمین سے تعلق مضبوط کرکے،اپنے ذہن ودماغ میں بنیادی اہداف کوپیشِ نظررکھ کر اس دنیا میں زندگی گزاریں ۔
مکمل تحریر >>

بدھ, فروری 08, 2012

شيطان کا فريب


ميں اس بات سے نہيں ڈرتا کہ شيطان ہميں اعلانيہ گناہ پر آمادہ کردے گا بلکہ ڈراس بات کاہے کہ وہ گناہ کو ہمارے سامنے اطاعت کا لبادہ پہناکر پيش کرے گا ۔
٭شيطان تجھے صنف نازک پراکساتا ہے اس کے ساتھ ہمدردی کے راستے سے۔
٭دنيا پر اکساتا ہے دنيا اور اس کی گردشوں سے احتياط برتنے کے راستے سے ۔
٭بُرے لوگوں کی صحبت پر اکساتا ہے ان کی ہدايت کی خواہش کے راستے سے
٭ظالموں کے ساتھ  منافقانہ رويہ اپنانے پراکساتا ہے ان کی اصلاح کی رغبت کے راستے سے ۔
٭اپنے حريف کی عيب جوئی پر اکساتا ہےامربالمعروف اور نہی عن المنکر کےراستے سے ۔
٭اجتماعيت کوپارہ پارہ کرنے پراکساتا ہے اظہارِحق کے راستے سے ۔
٭لوگوں کی اصلاح سے پہلوتہی اختيارکرنے پر اکساتا ہے اپنی اصلاح ميں مشغول ہونے کے راستے سے۔
٭ترکِ عمل پراکساتا ہے قضاء وقدر کوحجت بنانے کے راستے سے ۔
٭ترک علم پر اکساتا ہے عبادت ميں مشغوليت کے راستے سے ۔
٭ترک سنت پر اکساتا ہے صالحين کی اتباع کے راستے سے ۔
٭مطلق العنانی پر اکساتاہے اللہ کے پاس جوابدہی کے احساس کے راستے سے ۔
٭ ظلم پر اکساتا ہے مظلوموں پررحم وکرم کے راستے سے ۔
         
  تحرير: ڈاکٹرمصطفی السباعی 
ترجمه : صفات عالم 
مکمل تحریر >>

جمعہ, جولائی 08, 2011

اپنے بچوں کو وقت کی قیمت کیسے سکھائیں ؟


بچے اگر وقت برباد کرتے ہوں تو انہیں وقت کی قیمت سمجھانے کے لیے اپنے ہاتھ میں ایک دینارلیں،(خیال رہے کہ دینارفرضی ہو اصلی نہ ہو) پھراپنے بچوں کو بلائیں اوران کے سامنے اس میں آگ لگادیں۔ بچے چلائیں گے کہ ”امی! ایسا مت کرو، امی !ایسا کرنا حرام ہے ، آپ دینار کیوں جلارہی ہیں، اس سے مٹھائیاں خرید سکتے تھے ،اچھا کھلونا لے سکتے ہیں،ابو کومعلوم ہوگا تو غصہ ہوں گے ، میں ابو کو بول دوں گا “ ۔ یہ عمل ہی کچھ ایسا ہے کہ آپ کے بچوںاور بچیوں کی پریشانی قابل دید ہوگی ۔ اب آپ ان سے کہیں ” بچو! تم سب کو ایک دینار جلنے پر اتنا افسوس ہے ،لیکن جانتے ہو تم لوگ ٹیلیویژن ،انٹرنیٹ اور کھیلوں میں کتنے دینار ضائع کررہے ہو، کیا معلوم نہیں کہ وقت ضائع کرنے کی وجہ سے تمہارے دینار ضائع ہورہے ہیں ، جانتے ہو ! یہ عمر اللہ کی امانت ہے جس کی بابت کل قیامت کے دن تم سے پوچھ گچھ ہوگی،اس لیے آج سے عہد کروکہ ہم وقت ہرگزبربا د نہ کریں گے۔ ہوم ورک میں لگ جاؤ ، اچھی کتابیں پڑھو، تاکہ اچھا سے اچھا انسان بن سکو “ ۔
مکمل تحریر >>

اتوار, نومبر 15, 2009

کیا آپ ...؟


[1] کیا آپ کی زندگی احساسِ بندگی کے ساتھ گذر رہی ہے ؟
[2] کیا آپ نے سنن ونوافل کے ساتھ تکبیر تحریمہ کا ہتمام کیا ہے ؟
[3] کیا آپ نے نماز کے بعد مسنون اذکاراور مختلف اوقات کی دعاوں کا اہتمام کیا ہے ؟
[4]  کیا آپ نے صلوة اللیل اور صیام تطوع کی کوشش کی ہے ؟
[5]  کیا آپ تدبر کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے ہیں ؟
[6]  کیا آپ نے عدل،احسان اور صلہ رحمی کا اہتمام کیا ہے ؟
[7]  کیا آپ نے غیبت ، بدظنی،استہزاءاور لایعنی باتوں سے پرہیز کیا ہے ؟
[8]  کیا آپ نے ریاکاری ، شہرت پسندی اور کبر سے بچنے کی کوشش کی ہے ؟
[9] کیا آپ نے ذریعہ معاش میں حلال وحرام سے بچنے کی تمیز کی ہے ؟
[10]  کیا آپ نے اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کیا ہے ؟
[11]  کیا آپ نے کسی مصیبت زدہ انسان کی خدمت کی ہے ؟
[12]  کیا آپ نے نیک لوگوں کے ساتھ رہنے اور بُرے ساتھیوںسے بچنے کی کوشش کی ہے ؟
[13]  کیا آپ نے اپنے اہل وعیال اور دینی بھائیوں کی اصلاح کی کوشش کی ہے ؟
[14] کیا آپ نے کسی غیرمسلم بھائی کو اسلام کی دعوت دی ہے ؟
[15] کیا آپ نے دینی معاشرہ کی تشکیل کے ليے اجتماعی جد وجہد میں حصہ لیا ہے ؟
[16] کیا آپ نے ہر عمل کے ساتھ رضائے الہی اور آخرت طلبی کو مدنظر رکھا ہے ؟
[17] کیا آپ نے موت ، قبراور آخرت کو یاد کرکے توبہ واستغفار کیا ہے ؟
[18] کیا آپ ہمیشہ ہدایت واستقامت کے ليے دعا کرتے ہیں ؟ ۔


مکمل تحریر >>

ہفتہ, نومبر 14, 2009

روشنی کی کرن


'' لوگ تنقید کیوں پسند نہیں کرتے ، دراصل تنقید انہیں کوتاہی کا احساس دلاتی ہے اور کوئی آدمی اپنے آپ کو کوتاہ باور نہیں کرناچاہتا ۔ اس لےے تنقید کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ پہلے اس کی خوبیوں کا تذکرہ کریں اور مخاطب کو احساس دلائیں کہ آپ کی نظر اس کے روشن پہلووں پر ہے ، خامیاں خوبیوں کے مقابلے میں نمک کے برابر ہے ۔"

''غلطی کرنے والے کو مریض سمجھیں جسے علاج کی ضرورت ہوتی ہے ، اچھا طبیب وہی ہے جسے مریضوںکی صحت کی فکر ان سے بڑھ کر ہوتی ہے ۔"

"اگرکوئی خیرخواہی کے باوجود غلطی کی اصلاح نہیں کرتا ہے تو اس کا نام دشمنوں کی فہرست میں درج نہ کریں ، حتی الامکان معاملات کو وسیع الظرفی سے لیں ۔ "

"شہد کی مکھی کا طرزعمل اپنائیں جو میٹھے پر بیٹھتی اور کڑوے سے کتراتی ہے ، گھریلو مکھی کی طرح نہ ہو ںجو ہمیشہ زخموں کی تلاش میں رہتی ہے ۔"

 ( زندگى سے لطف اٹهائيے : دكتور محمد العريفي ) 
مکمل تحریر >>