منگل, جنوری 01, 2019

موسم سرما



امام حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا بات ہے کہ تہجد گذاروں کے چہرے منور ہوتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: لأنَّهم خلوا بالرحمن فأعطاهم من نوره "اس لیے کہ انہوں نے رحمن سے خلوت اختیار کی تو اللہ نے ان کو اپنے نور میں سے عطا فرما دیا"۔
مشہور تابعی طاووس بن کیسان رحمہ اللہ رات کے تیسرے پہر ایک آدمی سے ملاقات کے لیے اس کے گھر آئے، اور اس کے دروازے کو دستک دیا: اہل خانہ نے اطلاع دی کہ ابھی وہ سو رہے ہیں۔ امام طاؤوس رحمہ اللہ کو بہت تعجب ہوا کہ وہ ایسے وقت میں وہ کیسے سو رہے ہیں، کیا کوئی انسان ایسے وقت میں سوتا ہے؟
عزیز قاری! ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ گھنٹوں جاگ کر عبادت کریں، اذان فجر سے پانچ دس منٹ پہلے تیار ہوجائیں، کچھ نمازیں پڑھ لیں، دعائیں کرلیں، کہ یہ وقت پانے کا وقت ہے، حاصل کرنے کا وقت ہے۔ کیونکہ ایسے وقت ہمارا رب سمائے دنیا پر اتر کر پکار رہا ہوتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ ہم اسے عنایت کریں، ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں، ہے کوئی اپنے گناہوں کی معافی چاہنے والا کہ ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں۔ ( بخاری مسلم (

مکمل تحریر >>

ہفتہ, جون 28, 2014

رمضان کا پیغام رجوع الی اللہ


ماہ شعبان ختم ہونے کوہے اوررمضان کی آمدآمدہے ،وہ رمضان جس کے لیے اللہ والے چھ مہینہ پہلے سے تیاری کرتے تھے ،وہ رمضان جس کے لیے صالحین آنکھیں بچھائے رکھتے تھے ،کیوں کہ یہ مہینہ نہایت بابرکت مہینہ ہے ،یہ مہینہ سارے مہینوں کا سردارہے ،جس میں قرآن کا نزول ہوا ،جوروزہ اورقیام کامہینہ ہے ،جس میں بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ،جہنم کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں ،اورسرکش شیاطین قیدکردیئے جاتے ہیں ۔جس کی ہر رات اعلان ہوتا ہے کہ” اے بھلائی کے چاہنے والے آگے بڑھ اور اے برائی کے چاہنے والے پیچھے ہٹ “۔ اوراس کی ہررات اللہ تعالی گردنوں کو جہنم سے آزادی عطا کرتا ہے ۔ (ترمذی ، ابن ماجہ )
یہ مہینہ مغفرت ورحمت اورجہنم سے آزادی کامہینہ ہے ،یہ مہینہ صبروشکیبائی ،مواسات اورغمخواری کامہینہ ہے ،یہ وہ مہینہ ہے جس میں درجات بلند ہوتے ہیں ،نیکیوں کااجروثواب بڑھادیاجاتاہے ،اورگناہوں کاحوصلہ شکنی ہوتی ہے، اس مہینہ میں ایک ایسی رات ہے جوہزارراتوں سے بہتر ہے ،جواس کے خیرسے محروم رہا وہ واقعی محروم ہے ۔(نسائی ، بیہقی ، حسنہ الالبانی )
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ ہم نے اس بابرکت وباعظمت مہینے کے لیے کیاتیاری کررکھی ہے ؟کیاہم نے اس بابرکت مہینے کی آمدسے پہلے اپنے دلوں کاجائزہ لیا؟کیاہم نے اپنے نفس کااحتساب کیا ؟کیاہم نے اپنے آپ پر غور کیاکہ ہم کس حال میں ہیں ؟ اورکیاکررہے ہیں ؟ ایساتونہیں کہ ہم گناہوں میں ملوث ہیں ؟ ایساتونہیں کہ ہم احکام الہی سے بغاوت کررہے ہیں ؟ آخرہم رمضان سے پہلے اپنے مال کاجائزہ کیوں نہیں لیتے کہ وہ حرام کاہے یاحلال کا ؟ اپنی زبان کی خبر کیوں نہیں لیتے کہ اس کا کیسے استعمال ہورہا ہے ؟اپنے کان کی تفتیش کیوں نہیں کرلیتے کہ وہ جائزسنتاہے یاناجائز ؟اپنی نگاہوں کا محاسبہ کیوں نہیں کرلیتے کہ وہ حلال کی طرف دیکھتی ہے یاحرام کی طرف ،
کیاہم نے رمضان کی آمد سے پہلے غور کیا کہ ہمارے تعلقات دوسروں کے ساتھ کیسے ہیں ؟ہم اپنے اہل وعیال کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں ؟ہم اپنے والدین کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں ؟ ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں ؟ہم اپنے تابع کام کرنے والوں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں ؟ کیا ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات ایسے ہی ہیں جیسے اللہ تعالی کوپسند ہے ؟
آج المیہ تویہ ہے کہ رمضان کی آمد سے قبل ایک تاجر اپنے خام مال فروخت کرنے کی تیاری کرتاہے،ایک ملازم اپنی ملازمت میں تن آسانی کے وسائل ڈھونڈتا ہے ،اورایک شہوت پرست شہوت رانی کے اسباب اختیارکرتاہے ،رمضان کایہ بابرکت مہینہ ایک نعمت غیر مترقیہ ہے ،یہ ہمیں پیغام دے رہاہے کہ اے اولاد آدم غفلت سے بازآجاؤ ،اپنی فطرت کی طرف لوٹ آؤ،اب بھی سنبھل جاؤ،اورگناہوں سے توبہ کرلو۔
ظالم ابھی ہے فرصت توبہ نہ دیرکر
وہ بھی گرانہیں جوگراپھر سنبھل گیا
اللہ کی ذات توغفورالرحیم ہے ،وہ توبہ کرنے والوں کوپسند کرتا ہے :ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطہرین(سورة البقرة 222)”بلا شبہ اللہ تعالی زیادہ سے زیادہ توبہ کرنے والوں اورپاک صاف رہنے والوں کوپسند کرتاہے“۔
اللہ تعالی کی شان کریمی دیکھئے کہ اس نے اپنانام ہی” التواب “یعنی بندوں کی توبہ قبول کرنے والا بتایاہے ،چنانچہ فرمایا: واناالتواب الرحیم(سورة البقرة 160) ”اورمیں توبہ قبول کرنے والااوررحم کرم کرنے والاہوں “۔
وہ چوبیس گھنٹے اپنے بندوں کی توبہ کامنتظررہتاہے ،اورصبح وشام اپناہاتھ پھیلاتاہے ،تاکہ معافی کے طلبگار توبہ کرلیں، صحیح مسلم کی روایت ہے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان اللہ یبسط یدہ باللیل لیتوب مسیءالنھار، ویبسط یدہ بالنھار لیتوب مسیءاللیل حتی تطلع الشمس من مغربہا”اللہ تعالی رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو برائی کرنے والا(رات کو)توبہ کرلے اوردن کوپھیلاتاہے تاکہ کوگناہ کاارتکاب کرنے والا (دن کو)توبہ کرلے (یہ سلسلہ اس وقت تک جاریرہے گا )جب تک سورج غروب سے طلوع نہ ہو “۔(صحیح مسلم 2759)
وہ اپنے گنہگار بندوں کو رحمت وشفقت بھرے لہجے میں پکارتاہے : قل یعبادی الذین أسرفواعلی أنفسھم لا تقنطوا من رحمة اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا انہ ھوالغفورالرحیم وأنیبوا الی ربکم وأسلموا  لہ من قبل أن یاتیکم العذاب ثم لاتنصرون(الزمر53 54)
 ”اے میرے وہ بندو!جواپنی جانوں پر زیادتی کربیٹھے ہو ،اللہ کی رحمت سے ہرگزمایوس نہ ہونا ،یقینااللہ تمہارے سارے گناہ معاف فرمادے گا،وہ بہت ہی معاف فرمانے والا اورنہایت مہربان ہے،اورتم اپنے رب کی طرف رجوع ہوجاؤاوراس کی فرمانبرداری بجالاؤ اس سے پہلے کہ تم پر کوئی عذاب آجائے اورپھرتم کہیں سے مددنہ پاسکو“۔
رب کریم کی رحمت انسانی تصورسے بالاترہے ،سمندرکے چھاگ سے زیادہ گناہ کرنے والا بھی جب اپنے گناہوں پر شرمسار ہوکر اس کے سامنے جھکتاہے تواللہ تعالی اس کی بات سنتاہے اوراسے اپنے دامن رحمت میں پناہ دیتاہے ۔
سنن ترمذی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : قال اللہ تعالی یاابن آدم انک مادعوتنی ورجوتنی غفرت لک علی ماکان منک ولا أبالی، یاابن آدم لوبلغث ذنوبک عنان السما ، ثم استغفرتنی غفرت لک ولاابالی، یاابن آدم ،انک لوأتیتنی بقراب الارض خطایاثم لقیتنی لاتشرک بی شیئا لأتیتک بقرابھا مغفرة (ترمذی 3540 والجامع الصغیر 6065 ) ”اللہ تعالی فرماتاہے ،اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتارہے گا اورمجھ سے امید وابستہ رکھے گا تو توجس حالت پر بھی ہوگا میں تجھے معاف کرتا رہوں گا اورمیں کوئی پرواہ نہیں کروں گا ،اے ابن آدم !اگرتیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے معافی طلب کر تو میں تجھے بخش دوں گا اورمیں کوئی پرواہ نہیں کروں گا ،اے ابن آدم !اگرتوزمین بھر گناہوں کے ساتھ میرے پاس آئے ،پھرتومجھے اس حال میں ملے کہ تونے میرے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرایاہو ،تومیں بھی اتنی مغفرت کے ساتھ تجھے ملوں گا جس سے زمین بھرجائے “۔
اورپچھلی قوم کاوہ شخص جس نے ننانوے خون کیاتھا ،پھرراہب کوقتل کرکے سوافرادکا قاتل بن چکا تھا ،اس کے پاس کوئی بھی نیک عمل نہیں تھا لیکن تائب ہوکر نیک لوگوں کی بستی میں جارہاتھا تاکہ ان کے ساتھ عبادت میں لگ سکے ،راستے میں موت کاپیغام آپہنچا ،رحمت اورعذاب کے فرشتے باہم جھگڑنے لگے کہ ہم روح قبض کریں گے تو ہم روح قبض کریں گے لیکن صرف احساس گناہ اورغلطی پر شرمسار ی کے باعث رحمت الہی کامستحق ٹھہرا اوررحمت کے فرشتے نے اس کی روح قبض کی ۔(صحیح مسلم 2766)
توبہ کادروازہ کھلاہے اللہ تعالی کے سامنے اپنے گناہوں کااعتراف کیجئے صرف اسی کے سامنے اپنی عاجزی ،بے کسی اورخطا کاری کااظہار کیجئے کیوں کہ فوزوفلاح کاایک ہی دروازہ ہے ،جواس دروازے سے دھتکاراگیاوہ ہمیشہ کے لیے ذلیل اورمحروم ہوگیا،پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سرورکائنات ہوتے ہوئے بھی اسی درکے بھکاری تھے ،انہیں جوعظیم مرتبہ ملاتھا اسی درسے ملاتھا ،ذراانہىں دیکھئے تو سہی کیافرمارہے ہیں :یاایھاالناس توبوالی اللہ واستغفروہ فانی أتوب الی اللہ وأستغفرہ فی کل یوم مائة مرة (مسلم 2702) ”اے لوگو! اللہ کی طرف توبہ کرواوراس سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرومیں بارگاہ الہی میں روزانہ سومرتبہ توبہ کرتاہوں “۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ تعالی اپنے بندے پرجس قدر رحیم وشفیق ہے اس قدر ایک ماں بھی اپنے بچے پررحیم وشفیق نہیں ہوتی ،آپ کے توبہ واستغفار سے اللہ تعالی کو جوخوشی نصیب ہوگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کیفیت کوایک مثال کے ذریعہ واضح کردیا ہے ،ایک شخص لق ودق صحرامیں اونٹ پرسوارہوکر سفرکررہاہو ،کچھ دیرکے لیے ایک درخت کے نیچے آرام کی خاطر لیٹ جاتا ہے ،نیندسے بیدارہوتاہے کہ اونٹ جس پر اس کے خوردونوش کاسامان لداہواتھا غائب ہوچکاہے ،وہ شخص چاروں طرف اس بے آب وگیاہ صحرامیں اونٹ کوڈھونڈڈھونڈ کرمایوس ہوجاتاہے ،پھروہ زندگی سے بے آس ہوکر کسی درخت کے نیچے موت کے انتظار میں لیٹ رہتاہے ،وہ شخص اسی فکرمیں تھا کہ اچانک اونٹ آپہنچتا ہے جس پر ساراسامان لداہواہے ،اب تصور توکرىں کہ اس کو کیسی خوشی نصیب ہوگی ۔(صحیح مسلم 2747 صحیح الجامع 5030)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مثال دیکر فرمایاکہ بندہ جب توبہ کرتاہے تواللہ تعالی کواس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی خوشی زندگی سے مایوس اس شخص کواپنااونٹ دیکھ کر اورپاکرہوسکتی تھی ۔
لہذا ہمارے وہ بھائی اوربہن جواب تک گناہوں کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ،توبہ واستغفار کے ذریعہ رمضان کااستقبال کریں ،سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی کے خواہاں ہوں ،سارے گناہوں سے چھٹکاراحاصل کریں ،جس کاطریقہ یہ ہے کہ تنہائی میں بیٹھ کرکاغذاورقلم ہاتھ میں لیں ،اپنے سارے گناہوں کودرج کریں ،پہلے کبیرہ گناہوں کی فہرست بنائیں ،اس کے بعد صغیرہ گناہوں کی ،تاکہ آپ کوحقیقی معنوں میں اندازہ ہوجائے کہ آپ کتنے گناہوں میں ملوث ہیں ،پھرپہلے کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ کی کی نشاندہی کریں اوراس گناہ کے اسباب کی تشخیص کریں کہ آخرکونسی چیزاس گناہ کے ارتکاب کاباعث بن رہی ہے ،ایساتونہیں کہ اس کاسبب فرصت وبیکاری ہے یانفسانی خواہشات یا برے دوستوں کی رفاقت،یاشیطانی وساوس ،ان اسباب میں سے جوسبب بھی آپ کے گناہ میں ملوث ہونے کاباعث بن رہاہوسب سے پہلے اس سے چھٹکاراحاصل کرنے کی کوشش کریں ،اوراس گناہ کاکوئی متبادل مباح وسیلہ بھی اختیار کریں پھرگناہ سے رہائی پانے کی مدت کابھی تعین کرلیں، اس طرح آپ دھیرے دھیرے حسب ترتیب سارے گناہوں سے چھٹکاراحاصل کرسکتے ہیں ۔
مکمل تحریر >>

ہفتہ, دسمبر 28, 2013

تین بیماریاں اورتین علاج

جس طرح جسم انسانی کوبیماری لاحق ہوتی ہے تواس کی تشخیص اورعلاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کیاجاتاہے تاکہ جسم انسانی صحیح سالم اورتندرست رہ سکے ،اسی طرح قومیں اورملتیں بھی بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں، آج امت مسلمہ کے بعض افرادکے دلوںمیں مختلف طرح کی بیماریاں سرایت کرچکی ہیں ان کاپتہ لگانابہت ضروری ہے تاکہ ان کامناسب علاج ڈھونڈا جاسکے ،اگربیماری کا سراغ لگانے اوراس کے علاج کی تشخیص کرنے میں ہم سے کوتاہی ہوئی تو یہی بیماری نہایت خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔بیماری کے علاج سے چشم پوشی برتنا ہلاکت اورتباہی کا پیش خیمہ ہے ،اس لیے بیماریوں کا جائزہ لینا اوران کا علاج تشخیص کرنا بہت ضروری ہے ۔سردست ہم تین بیماریوں کا ذکر کریں گے اورپھر ان کاتین علاج بھی بیان کریں گے ۔

عقیدہ کے اثر ات کی کمی:

ہم سب خودکو مسلمان کہتے ہیں ،کلمہ شہادت کا اقرار کرتے ہیں ،اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتے ہیں،لیکن اگرغورکیاجائے تویہ ایمان محض زبانی جمع خرچ ہے ،دعوی کی حد تک ہے ،ہماراعمل اس کے خلاف ہے ،ایمان ہمارے نزدیک ایک نظریاتی چیز بن کررہ چکی ہے ،ایمان کا اثرہماری زندگی میں دکھائی نہیں دیتا ۔ ولاءاوربراءکے مسئلے کو ہی لیجئے ہمیں چاہےے تھا کہ عقیدہ کی بنیاد پر دوستی کریں اورعقیدہ کی بنیاد پر ہی ہماری دشمنی ہو۔ لیکن عملی زندگی میں معاملہ اس کے بالکل اپوزٹ دکھائی دیتا ہے ،ہم اللہ کا انکار کرنے والوں سے دوستی رکھتے ہیں اوراللہ پر ایمان رکھنے والوں سے دشمنی رکھتے ہیں ،ہم نیک لوگوں سے دشمنی رکھتے ہیں،اوربرے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں،اگر کسی کے اندرصحیح ایمان اورصحیح عقیدہ نہیں تواُس کے اندرکوئی بھلائی نہیں ،اُس کا موازنہ صحیح ایمان رکھنے والے سے نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ اس کو آئیڈیل بناکر پیش کیا جائے ۔عقیدہ کے مسائل میں سے قضا اورقدر کے مسئلہ پربھی غورکرکے دیکھ لیجئے ،تقدیر کے مسئلہ پر ایما ن رکھنے سے ہمیں یہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ نے مخلوق کی تقدیرلکھ دی ہے ،ہر چیز کا علم اس کے پاس ہے ،اوراُسی کے مطابق سب کچھ ہوتا ہے ،اس عقیدہ پر ایمان رکھنے سے آدمی اللہ کے ہر فیصلے سے ہروقت راضی رہتا ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ،جونہیں چاہتا وہ نہیں ہوسکتا ،اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہیں سکتا ۔ تقدیر پر ایمان کمزورہونے کی وجہ سے آدمی کسی بھی معاملے میں پریشان ہوجاتا ہے ، روزی روٹی کا مسئلہ ہو ،کسی طرح کی پریشانی آجائے ،تو انسان اس وقت آپے سے باہر ہوجاتا ہے ۔اناپ شناپ بکنے لگتا ہے ،کفریہ کلمات تک بولنے کی جرأت کرجاتا ہے ،کیاہمارا عقیدہ نہیں کہ یہ سب اللہ کافیصلہ ہے ۔اوراسی کے مطابق ہورہا ہے ،توپھرہمیں اللہ کے فیصلے سے راضی رہناچاہیے تھا کہ اس نے جب ہمارے لیے یہ فیصلہ کیا ہے توآخر ہمیں اعتراض کیوں ہے ؟

جذباتیت :

ہم جذباتی مسلمان ہیں ،ہماری اکثریت کے اندرسنجیدگی بہت کم ہوتی ہے ،ہم بہت جلد جذباتیت کے شکار ہوجاتے ہیں ،جذبات میں آکر جو چاہتے ہیں کرگذرتے ہیں پھر بعد میں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے ۔حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ہمیں سنجیدگی کا سبق ملتا ہے ۔کبھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جذباتیت کا اظہار نہیں کیا۔ مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں دیکھئے کیسے آپ اورآپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین صبر وشکیبائی اورتحمل وبردباری کے پیکر بنے رہتے ہیں ،مدینہ کی دس سالہ زندگی میں بھی جذباتیت سے کوسوں دور رہتے ہیں ،پلاننگ کرتے ہیں ،گہرائی سے معاملے کی جانچ کرتے ہیں ،حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں ،پھر اقدام کرتے ہیں ۔جبکہ ہماری جذباتیت کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی شاتم رسول اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارے بیچ جو سب سے بڑا فاسق اورفاجرہوتا ہے وہ سراپا احتجاج بن جاتا ہے اورمجرم کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے مطالبہ کے نام سے ایسی ایسی حرکتیں کرتا ہے جس کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا ۔ظاہر ہے جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی محبت ہوگی وہ قطعا دہشت گردی نہیں مچائے گا ،املاک کو تباہ وبرباد نہ کرے گا بلکہ اس کی زندگی میں اللہ اوراس کے رسول کے احکام کی بالادستی ہوگی ۔ اسی طرح آپ مسلم معاشرے میں کتنے ایسے لوگوں کو دیکھیں گے کہ جنہوں نے کبھی مسجد کا منہ تک نہ دیکھا ہوگا ،جب مسلکی اختلافات پر گفتگو ہورہی ہوگی تواس میں پل پڑیں گے اور اپنے مسلک کو برترثابت کرنے کے لیے جذباتی باتیں کریں گے اور آپ کوباورکرانا چاہیں گے کہ وہ بڑے دیندار اورایمانی غیرت رکھنے والے ہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہوئی کہ ايك مریض جس کا سر کٹا ہوا ہے ڈاکٹرکے پاس آکر کھانسی کے علاج کامطالبہ شروع کردے ،ظاہرہے کہ ایسا انسان عقل کا کورا ہی ہوگا ،غرضیکہ اسلام جذباتی مذہب نہیں بلکہ عمل پرمبنی نظام حیات ہے جو انسان کوایمان کے فوراً بعدعمل کاحکم دیتا اوراسے ایما ن کا لازمی عنصر ٹھہراتا ہے ۔

نفس کی غلامی :

انسان آج اپنی چاہت کو آگے رکھنا چاہتا ہے ،اپنی خواہش کے سامنے ہر ایک کی خواہش کو قربان ہوتا دیکھنا چاہتا ہے ،اپنے آپ کوسپر پاور ثابت کرنا چاہتا ہے ۔اوراپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتا ۔ کسی کی غیبت کرنے سے نہیں چوکتا ،کسی کی عیب جوئی سے باز نہیں آتا ،خواہ مخواہ کسی کی کمی نکالنے میں لگارہتا ہے ۔ اگر کوئی اس کو سمجھائے اوراس کی بری حرکت پرٹوکے تو یہ ضرورکہے گا کہ میرے لیے دعا کیجئے ،لیکن کرے گا وہی جو اسکے نفس کی چاہت ہوگی ۔ وہ نفس کی غلامی میں لگا ہوگا تاہم اللہ سے بڑی بڑی امیدیں باندھے ہوگا ۔حالانکہ اسلام پہلی فرصت میں نفس کی غلامی سے انسان کو آزاد کرتا ہے ، نفس کی غلامی ترک کرنے اوراللہ اوراسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا قلادہ گردن میں ڈالنے کے بعد ہی ایک انسان مسلمان بنتا ہے ۔

بیماریوں كا علاج

امت کی مختلف بیماریوںمیں سے مذکورہ تین بیماریاں ہیں جس کی شکار آج ہماری اکثریت ہے ،اب آئیے ہم ان تین بیماریوں کے علاج کی تشخیص کرتے ہیں لیکن اس سے قبل ذراسنجیدہ ہوکر دل کو ٹٹولیں اورمن سے پوچھیں کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ تنہائی میں رہے ہوں،کسی برائی کا خیال آپ کے دل میں پیدا ہواہو ،اپنے نفس پر قابونہ پاسکے ہوں اور اس برائی کا ارتکاب کرگذرے ہوں....؟ اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ایمان کی کمزوری کی بین دلیل ہے ۔ اورایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہی معاشرے میں اس طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ۔اب آئیے علاج کی طرف :

اچانک موت کے آنے سے ڈریں :

موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ،موت جب آتی ہے تو بتا کرنہیں آتی ،کبھی انسان دنیاکی سرمستیوںمیں لگاہوتا ہے اوراچانک موت کے منہ میں چلاجاتاہے،جب موت کا وقت معلوم نہیں اورہماری زندگی برف کے جیسے پگھل رہی ہے تو پھر ہمیں عمل کی طرف دھیان دینا چاہیے کہ موت کے بعد پھر عمل کاموقع نہیں،موت دیکھنے کے بعد تمنا کریں گے ،آرزوکریں گے : رب ارجعون لعلی أعمل صالحا فیما ترکت "اے میرے رب، مجھے اسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ،امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا"سدھرجاؤں گا ، اب تیری نافرمانی نہیں کروں گا،تیرے حکموں کو پامال نہیں کروں گا ،ہروقت تیرے اشارے پر ناچوں گا،کہاجاے گا:
 کلا إنھا کلمة ھو قائلہا (سورہ المؤمنون 99 ۔100)
" ہرگز نہیں، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے"،مہلت جاتی رہی ،عمل کا وقت نکل چکا ،اب خون کے آنسو روؤ، سرپیٹو،کوئی فائدہ نہیں ۔ ذراتصورکیجئے کہ ہمارے رب نے ہم سب کے لیے اس دارفانی کو امتحان ہال بنایاہے اورسوال بھی آوٹ کردیاہے،سوالات کو چھپا کرنہیں رکھا جوکچھ پوچھا جانے والا ہے اسے کھول کھول کربتادیا....ہمارے بچے سکول میں بھی اپنے کورس کا امتحان دیتے ہیں تو انہیں جوابات بتائے نہیں جاتے ،جبکہ یہاں جوابات بھی بتا دئیے گئے ،توپھر ہمیں سوچناہے کہ کیاپنجوقتہ نمازوں کی پابندی ہورہی ہے ؟کیا ہم فجر کی نمازبا جماعت ادا کر پارہے ہیں ؟کیاہم قرآن کریم کی تلاوت کر رہے ہیں ؟کیاہم اللہ کی نافرمانی سے بچ رہے ہیں ؟کیاہماری زندگی اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق گذررہی ہے ۔ابھی سوچناہے ،اوراپناجائزہ لیناہے کہ موت اچانک آنے والی ہے ۔

فوری سزاسے ڈریں :

جس وقت ہم اللہ کی نظروں کے سامنے اس کی نافرمانی کررہے ہوتے اوراس کے احکامات کو پامال کررہے ہوتے ہیں،اس کے لیے ممکن تھا کہ فورا ہمیں اس کی سزا دے دے ،زمین کو حکم دے اورزمین پھٹ پڑے اورہمیں نگل جائے ،یاہمارے پردے کو فاش کردے اورلوگوںمیں ہماری بے عزتی ہو ،لیکن وہ غفور ہے بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے،حلیم ہے ،بہت زیادہ بردبار ہے، صبورہے ،بہت زیادہ صبر کرنے والا ہے ،اسی کے سامنے اس کی نافرمانی کی جرأت کی ،لیکن اس نے ہمیں فورا سزا نہیں دیا ، بلکہ اس نے ہمارے عیوب پر پردہ ڈال دیا۔ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے پوچھیں کہ ہم نے تنہائی میں لوگوں کی نگاہوں سے چھپ کر گناہوں کے کتنے کام کیا ہے ،لیکن اس کا صبر اوراس کی بردباری دیکھئے کہ اس نے اب تک ہمیں سزانہیں دی ، اب تک ہم بچے ہوئے ہیں ۔ تاہم اس کا نظام ہے کہ جوقومیں اس کے احکام کو پامال کرتی ہیں دیریا سویر کسی نہ کسی صورت میں انہیں اس کا انجام بھگتنا پڑتا ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے :
أفأمن أھل القری أن یأتیھم بأسنا بیاتا وھم نائمون ،أوأمن أھل القری أن یأتیھم بأسنا ضحی وھم یلعبون، أفأمنوا مکر اللہ فلایأمن مکر اللہ الا القوم الخاسروں۔ ( سورة الأعراف آیت نمبر 98 ۔99 )
”کیاپھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اِس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پرہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے جس وقت وہ سوتے ہوں،اورکیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے ،جس وقت کہ وہ اپنے کھیلوںمیں مشغول ہوں،کیا وہ اللہ کی پکڑ سے بے فکر ہوگئے ،اللہ کی پکڑ سے اس کے علاوہ اورکوئی بے فکر نہیں ہوتا مگرجس کی شامت آگئی ہو ۔“
اورسنن ترمذی کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
إن اللہ لیملی الظالم حتی اذا أخذہ لم یفلتہ (سنن ترمذى)
"اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب پکڑتا ہے تو اس کے ہوش ٹھکانے لگ جاتے ہیں "۔

پریشان حالوں سے سبق لیں:

آج عالم اسلام کے مختلف ممالک میں مسلمان کیسی ناگفتہ بہ صورتحال سے گذر رہے ہیںہمیںالیکٹرونک اورپرنٹ میڈیا کے ذریعہ اس کی اطلاع ملتی رہتی ہے ۔سوریا ہو، مصر ہو ،فلسطین ہو ،بورما ہو ....جہاں پر ہر طرح سے لوگ پریشان ہیں ،شام میں شامی پناہ گزیں مسلمان سردی اوربرف باری کی وجہ سے مررہے ہیں، سردی سے متاثر ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ بچوں کی اموات ہورہی ہیں ۔ اُن کے مقابلہ میں اپنی حالت دیکھیں تو ہم نہایت امن وامان سے ہیں ،ہمیں صحت وتندرستی حاصل ہے ،سکون وراحت میسر ہے اوربے نیازی وفارغ البالی حاصل ہے ۔ اگر اللہ چاہتا تو ہمیں بھی انہیں حالات سے دوچار کر سکتا تھا لیکن اللہ نے ہمیں امن وامان اورعافیت سے رکھا جس پرہمیں اللہ کا بیحد شکر گذار ہونا چاہیے ۔

( اس مضمون كے بنيادى نكات شیخ حسین یعقوب کے لکچر سے مستفاد  ہیں )
مکمل تحریر >>

منگل, دسمبر 10, 2013

ہماری عبادتیں بے اثر کیوں؟

ہم نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں،زکاة دیتے ہیں ، حج کرتے ہیں ، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، ذکرکا اہتمام کرتے ہیں، قربانیاں کرتے ہیں،لیکن ان تمام عبادات کا ہمارى اكثريت پر کوئی اثر ظاہر نہیں ہو پاتا ….سوال یہ ہے کہ کیایہ عبادتیں الل ٹپ ہیں ؟ اِن کا کوئی فائدہ نہیں ؟اِن کا ہماری زندگی سے کوئی تعلق نہیں؟ جى نہیں آخر خالق کائنات کا  عطا کیا ہوا نظام حکمت سے خالی کیسے ہو سکتا ہے؟   یہ عبادتیں نہایت گہرا اثر رکھتی ہیں، اللہ پاک کو ہماری عبادتوں کی ضرورت نہیں، وہ تو ہماری بھلائی چاہتا تھا ،اسی لیے اس نے ہم پر کچھ عبادتیں لازم کیں اور کچھ عبادتیں اختیاری رکھیں، تاکہ ان کا ہماری زندگی پر اثر ظاہر ہو.

 عبادتوں كےاثرات:

نماز کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: 
 وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ( سورة العنكبوت 45)
اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ گویا کہ نماز کی فرضیت کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہر طرح کی بے حیائی اور بُری باتوں سے رک جائے.
زکاة کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے :
 خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا (سورة التوبة 103) 
آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں  گویا  زکاة  اس لیے فرض کی گئی ہے کہ اس سے ہمارے اندر پاکیزگی آئے اور ہمارا تزکیہ ہو .
روزے کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 183) 
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے ….مقصد کیا ہے؟ تاکہ تمہارے اندر اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے ، تقوی کی صفت پیدا ہوجائے ۔ گویا کہ روزہ کی فرضیت اس لیے ہوئی ہے تاکہ زندگی کے ہر موڑ پر ہمارے اندر اللہ کی نگرانی کا احساس پیدا ہوجائے ۔
حج کے بارے میں فرمایا گیا:
 الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ( البقرة 197)
”جو شخص ان دنوں میں حج کرے اسے چاہیے کہ نہ تو بے حیائی کا کام کرے نہ فسق وفجورکا ارتکاب کرے اورنہ جھگڑے لڑائی کرے “۔ گویا حج انسان کو تیار کرتا ہے کہ اس کے اندر شہوت پر کنٹرل ہوجائے ،اس کے اندرگناہوں سے نفرت آجائے اوراس کی زبان محفوظ ہوجائے ۔
قرآن کودیکھئے توقرآن خوداپنا تعارف کراتا ہے کہ 
ھدی للناس (البقرة 185) 
سارے انسانوں کے لیے ہدایت ہے، اوربالخصوص ھدی للمتقین (سورة البقرة 2) پرہیزگاروں کو راه دکھانے والی ہے
 إِنَّ هَـٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ (سورة الإسراء 9)  
یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا  ہے: 
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ  (الإسراء 82)
 ”ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے جس میں شفا ہے اور مومنوں کے لیے رحمت وبرکت ہے“ ۔ 
ذکر کو دیکھئے قرآن کہتا ہے
  الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّـهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ( الرعد 28)
جو لوگ ایمان ﻻئے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے“ ۔
اور الله کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمايا: 
مَثَلُ الذي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لا يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِمتفقٌ عليه) 
جو اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو اللہ کا ذکر نہیں کرتا ان کی مثال مردہ اور زندہ کی سی ہے ۔

ہماری عبادتیں ان اثرات سے خالی کیوں؟:

جب عبادتیں اس قدر اثر رکھتی ہیں تو آخر ہماری عبادتیں ان اثرات سے خالی کیوں ہیں ؟ اگرہم اس کے اسباب کا خلاصہ کرناچاہیں تو  کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے اندر دو چیزوںمیں کمی پائی جاتی ہے، وہ دو چیزیں ہیں : عبادت کس کی ؟ اور عبادت کس طرح ؟ اسی دونکتے کو ہم تفصیل سے بیان کرنے کی کوشش کریں گے ۔عبادت کس کی ؟ ظاہر ہے ہمارا جواب یہی ہوگا کہ عبادت صرف اللہ کی ہونی چاہیے ؟ لیکن عملاً بہت کم لوگ اِسے برتتے ہیں ۔ ہمارے عملوں میں اخلاص کی کمی ہوتی ہے، ریاونمود کا عمل دخل ہوتا ہے :
 وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ  ( سورة البينة 5)  
اور ان لوگوں یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت خالص یکسوہوکر کریں ۔ جب اخلاص ہی نہ ہو تو ہمارے اعمال قابل قبول کیسے ہوں گے ؟ اورجب قابل قبول ہی نہ ہوں گے تو ان کے اثرات ہماری زندگی پر کیسے پڑیں گے ۔
یہ تو اخلاص کے اندر کمی کی بات ہوئی جبکہ کتنے لوگ ہیں جو دن ڈھارے اپنے دعوی کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہیں :گواہی تو دی کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے، سورہ فاتحہ کے اندر بار بار اس کی رٹ بھی لگا رہے ہیں:
  إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ  ( سورة الفاتحة 5)
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مددطلب کرتے ہیں ۔ 
اور جو لوگ خالص ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کی اكثريت  کا دل بیمار ہوچکا ہے،جسم انسانی میں دل سب سے اشرف، برتر اورافضل عضو ہے، بلکہ سارے اعضاء کا بادشاہ ہے ،اگر یہ ٹھیک رہا تو سارا جسم ٹھیک اور اگر یہ خراب ہوگیا تو سارا جسم خراب ، بخاری ومسلم کی روایت ہے
 ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله ، وإذا فسدت فسد الجسد كله ، ألا وهي القلب  رواه البخاري ومسلم.
"جسم میں گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جو اگر ٹھیک رہا تو سارا جسم ٹھیک رہتا ہے اور اگر خراب ہو گیا تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے، سنو! یہ دل ہے."
 اوردل تین طرح کا ہوتا ہے(1)صحتمنددل (2)مردہ دل (3) اوربیمار دل - اور دل کی بیماری کی چند علامتیں ہوتی ہیں جن میں چند  یہ ہیں:

دنیا میں کثرت انہماک : 

دنیا میں اس قدر مشغول ہوجانا کہ ہر چیز میں اپنا مفاد دیکھنا ،دنیا کو حاصل کرنے میں رات دن ایک کرنا اور آخرت سے بے پرواہ ہوجانا ،  یہ بڑا خطرناک مسئلہ ہے ،اسلام رہبانیت کا قائل نہیں اور نہ ہی پاکیزہ روزی کمانے سے روكتا ہے بلکہ اسلام تو اس کی ہمت افزائی کرتا ہے ، ليكن ساری کوشش دنیا ہی کے لیے نہیں ہونی چاہیے، کتنے لوگ جہاں بھی رہیں ان کے ذہن میں دنیا کا ہی بھوت سوار رہتا ہے ۔ اس طرح دنیا میں کثرت انہماک كى وجہ سے ان كا دل تنگ ہوجاتا ہے ۔اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم  نے فرمایا:
 ما ذئبان جائعان أرسلا فی غنم بأفسد لھا من حرص المرءعلی المال والشرف لدینہ ( ترمذى)
"دو بھوکے بھیڑیے بکر ی کے ریوڑ میں چھوڑے جائیں تو وہ جتنا بکریوں کو نقصان پہنچائیں گے اس سے کہیں زیادہ مال  اور عہدہ کی لالچ انسان کے دين کو نقصان پہنچاتا ہے".

قرآن سے بے توجہی  : 

دل جب بیمار ہوجاتا ہے تو قرآن میں دل نہیں لگتا ، قرآن تبدیلی لانے والی کتاب ہے ،قرآن انقلابی کتاب ہے، انسانی دل پرقرآن کا عجیب اثر ہوتا ہے -طفیل بن عمروالدوسی، حبشہ کا بادشاہ اصحمہ اورعمربن خطاب کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کو قرآن نے ہی بدلا تھا۔کچھ لوگ قرآن کو پڑھتے تو ہیں لیکن سمجھتے نہیں -حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے :
 إن من کان قبلکم رأوا  القرآن رسائل من ربھم فکانوا یتدبرونھا باللیل ویتفقدونھا بالنھار  
" تم سے پہلے کے لوگوں نے قرآن کو اپنے رب کا پیغام سمجھا تھا چنانچہ وہ رات میں اس پر غور کرتے تھے اور دن میں اس کے مسائل کی چھان بين کرتے تھے"

شہوات میں پڑنا

شراب وکباب اور عورت ،شیطان کا بہت مضبوط ہتھیار ہے، ہمارے دشمن کواس کا اچھی طرح احساس ہے، اسی لیے اس نے شروع سے ہی اس سلسلے میں زبردست پلاننگ کی ہے ۔ 

 بُری صحبت 

صحبت کا انسان پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے ، آدمى اچھے لوگوں کے ساتھ آدمی اچھا بنتا ہے اور بُرے لوگوں کے ساتھ بُرا بنتا ہے ۔

عبادت کا ناقص تصور

ہم نے محض یہ سمجھا کہ بعض رکعات ادا کرلینے کا نام عبادت ہے ، اسی لیے نماز اداکرتے وقت ہم سچے مسلمان دکھائی دیتے ہیں اور جب نماز سے فارغ ہوتے ہیں تو جھوٹ، فراڈ ،غیبت، حرام خوری، رشوت خوری اور جوابازی میں لگ جاتے ہیں۔ 

مکمل تحریر >>

پیر, نومبر 25, 2013

نگرانی کرنے والا کون ؟


اس دنيا کوجس قادر مطلق نے رچايا ہے، اورقسم قسم کی مخلوقات سے اسے زينت بخشی ہے وہ اس کی نگرانی بھی کر رہا ہے، اس ذات واحد کی نگاہ جملہ مخلوقات پر ہر وقت، ہر آن، اور ہر لمحہ رہتی ہے ، ديوار کی اوٹ ميں کيا ہے؟ اسے انسان نہيں جانتا ۔ ليکن اللہ تعالی کی ذات عالم الغيب ہے ، اسکی نظر ہر چھوٹی بڑی چيز پر ہے ، وہ دلوں کے بھيد اور آنکھوں کی خيانت سے بخوبی آگاہ ہے ، انسانی قلوب ميں پيدا ہونے ہونے والے احساسات و کيفيات کو بھی جانتا ہے:
 يعلم خائنة الأعين وما تخفی الصدور (المؤمن 20)
" اللہ تعالی آنکھوں کی خيانت کو اور سينوں کی پوشيدہ باتوں کو بھی خوب جانتا ہے" ۔
اس کا ارشاد ہے:
لاجرم أن اللہ يعلم مايسرون ومايعلنون (النحل 19)
"بے شک اللہ تعالی ہر اس چيز کو جسے وہ لوگ چھپاتے ہيں اور جسے ظاہر کرتے ہيں بخوبی جانتا ہے" ۔ اس وحدہ لاشريک لہ کا فرمان ہے:
 واعلموا أن اللہ يعلم ما فی أنفسکم فاحذروہ (البقرہ 235)
"اور يقين کرو کہ اللہ تعالی تمہارے دلوں کی باتيں جانتا ہے، پس اسی سے ڈرو"۔
اس ذات باری کا اعلان ہے:
 ان اللہ کان عليکم رقيبا . ( النساء 1)
"بےشک اللہ تعالی تمہاری نگرانی کر رہا ہے" 
نيز ارشاد عالی ہے:
وما تکون فی شأن وما تتلو منہ من قرآن ولا تعملون من عمل إلا کنا عليکم شھودا إذ تفيضون فيہ (يونس 61)
"اور تم جس حال ميں ہوتے ہو اور قرآن پڑھتے ہو اور جو بھی عمل کرتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہيں جب تم اس ميں مشغول ہوتے ہو۔" 
ايک شخص بند کمرے ميں بيٹھا يہ سوچ رہا ہو کہ يہاں کوئی نہيں آ سکتا آسانی سے جو چاہو کرلو، ليکن وہيں يہ آواز سنتا ہے:
إنہ عليم بذات الصدور ألا يعلم من خلق وھواللطيف الخبير (الملک 14)
" وہ تو سينوں کی پوشيدگيوں کو بھی بخوبی جانتا ہے ، کيا وہی نہ جانے جس نے پيدا کيا پھر وہ باريک بيں اور باخبر بھی ہو" ۔

لہذا اے حرمات الہی کی پامالی کرنے والو! بند کمروں ميں، تاريکيوں ميں، تنہائيوں ميں، اور بيابانوں ميں جہاں چرند و پرند کا بھی بسيرا نہيں ہوتا، کبھی اپنے دل سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ کبھی سوچا کہ اللہ تعالی تمہاری ايک ايک حرکت کو ديکھ رہا ہے ، حقير مخلوق سے شرماتے ہو ليکن خالق دو جہاں سے شرم نہيں آتى۔ 

ايک مرتبہ كا واقعہ ہے امير المؤمنين عمر فاروق رضى الله عنه ايک شب حسب معمول رعايا کی خبر گيری کے ليے نکلتے ہيں، تھکاوٹ کے باعث ديوار کا سہارا ليا تاکہ آرام کر سکيں ، اسی اثنا ايک خاتون کی آواز آئی جو اپنی بيٹی سے کہہ رہی تھی:
” بيٹی! اٹھو اور دودھ ميں پانی ملادو تاکہ فروخت کے وقت زيادہ ہو جائے“
بيٹی نے جواب ديا: ا مير المؤمنين کے منادی نے اعلان کيا ہے کہ دودھ ميں پانی نہ ملايا جائے.
ماں نے کہا : بيٹی ! اٹھو ابھی تو ايسی جگہ پر ہے جہاں نہ تو تمہيں عمر فاروق  رضى الله عنه ديکھ رہے ہيں نہ ان کے منادی.
بيٹی نے ترکی بترکی جواب ديا:
أی أماہ فأين اللہ؟
 امی جان ہميں عمر تو نہيں ديکھ رہے ہيں ليکن اللہ کہاں گيا ؟ وہ تو ہميں ديکھ رہا ہے.
اللہ اکبر! يہ دراصل اللہ تعالی کی ہمہ وقت نگرانی کا بھرپوراحساس تھا جس نے بچی کو دودھ ميں پانی ملانے سے روکا ۔

اسی طرح کا ايک واقعہ عبداللہ بن دينار سے منقول ہے کہتے ہيں کہ ميں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی معيت ميں مکہ کے سفر پر روانہ ہوا، راستہ ميں ايک جگہ آرام کے ليے فروکش ہوئے، دامن کوہ سے ايک چرواہا ہمارے پاس آيا، عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سے بطور امتحان کہا: اے چرواہے! ہميں اپنی بکريوں ميں سے ايک بکری فروخت کردو ۔ چرواہے نے جواب ديا : ميں غلام ہوں امير المؤمنين رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے مالك سے کہہ دينا کہ اسے بھيڑيا کھا گيا ہے، غلام نے جواب ديا: اللہ تو ديکھ رہا ہے۔ يہ جواب سن کر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ اور صبح چرواہے کے سردار سے ملے اور اسے خريد کر آزاد کر ديا۔
حقيقت يہ ہے کہ اللہ والوں کے دلوں ميں ہر وقت اور ہر آن اللہ تعالی کی معيت کا احساس رہتا ہے، ظاہر ہے کہ وہ بچی جس نے اپنی ماں کو اللہ کی نگرانی کا احساس دلايا، اور وہ غلام جس نے اپنے سردار کے غائبانہ ميں بھی اللہ کی معيت کو اپنے دل ميں تروتازہ رکھا، يہ دراصل اس ذات وحدہ لاشريک لہ کی ہمہ وقت نگرانی کا ہی آئينہ دار تھا ۔ اگر ايسا ہی خوف ہر انسان کے اندر پيدا ہوجائے تو کيا ايک گناہ کے ارتکاب کا بھی تصور کيا جا سکتا ہے؟ نہيں اور ہر گز نہيں. 

اللہ تعالی کی نگرانی کے احساس سے متعلق ايک تيسرا واقعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہی كا ہے، ايک مرتبہ لوگوں کے احوال معلوم کرنے کے ليے بستيوں ميں گشت لگا رہے تھے کہ آپ کا گذر ايک ايسی خاتون سے ہوا جس کا خاوند اللہ کے راستے ميں جہاد پر چند مہينوں سے گيا ہواتھا، يہ خاتون تين طرح کی تاريکی ميں ہے، خاوند سے دوری کی تاريکی، رات کی تاريکی اور گھر کی تاريکی ۔ ايسی حالت ميں اپنے دلی احساسات کو شعرى جامہ پہناتے ہوئے کہتی جارہی ہے: 
         تطاول ھذا الليل وازور جانبہ   و أرقنی أن لا حبيب ألاعبہ          فواللہ لولا اللہ لارب غيرہ    لحرک من ہذا السرير جوانبہ
" شب دراز ہو رہی ہے اوراس کے گوشے لمبے ہورہے ہیں اورمجھے یہ بات پریشان کررہی ہے کہ کوئی حبیب نہیں کہ اس سے دل لگی کرسکوں، اللہ کی قسم !اگراللہ نہ ہوتا جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں (یعنی اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا) تو کب اس چارپائی کے گوشے ہل چکے ہوتے ۔ (یعنی شوہر کی خیانت ہوچکی ہوتی )" 
ذرا تصورکریں رات کی تاريکی ہے، شوہر بھی غير موجود ہے ، ساری انسانيت خوابيدہ ہے، کوئی انسان ديکھنے والا بھی نہيں ہے ليکن ايک ذات ہے جو اس کی نگرانی کر رہی ہے، اسی کی نگرانی کا خوف شوہر کی خيانت سے مانع ہے، اسی کی معيت کا احساس اسے عفت و عصمت کا پيکر بنائے ہوا ہے:
ألم تر أن اللہ يعلم ما فی السماوات ومافی الأرض ما يکون من نجوی ثلاثة إلا ھو رابعھم ولا خمسة إلا ھو سادسھم ولا أدنی من ذلک ولا أکثر إلا ھو معھم أينما کانوا، ثم ينبئھم بما عملوا يوم القيامة إن اللہ بکل شيیءعليم. ( سورة المجادلة 7) 
" کيا تونے نہيں ديکھا کہ اللہ تعالی آسمانوں کی اور زمين کی ہر چيز سے واقف ہے ۔ تين آدميوں کی سرگوشی نہيں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے ، اور نہ پانچ کی مگر ان کا چھٹا وہ ہوتا ہے، اور نہ اس سے کم کی نہ زيادہ کی ، مگر وہ ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی ہوں پھر قيامت کے دن انہيں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا ، بيشک اللہ تعالی ہر چيز سے واقف ہے"-  

آيت کا مفہوم يہ ہے کہ ہم جہاں کہيں بھی ہوں اللہ تعالی سے چھپے نہيں رہ سکتے ، خلوت ميں ہوں يا جلوت ميں، شہروں ميں ہوں يا جنگل ميں، آباديوں ميں ہوں يا بيابانوں ميں جہاں کہيں بھی ہوں اللہ تعالی کی نگرانی ہمارے ساتھ ہے۔ ہمارا عقيدہ ہے کہ اللہ تعالی عرش پر مستوی ہے ليکن اس کی نگاہ سے ايک مخلوق بھی اوجھل نہيں۔
اللہ کی نگرانی کا احساس رکھنے والے بيشمار ايسے اشخاص گذرے ہيں جن کے سنہرے کردار سے تاريخ کے صفحات درخشاں اور تابندہ ہيں۔ آئيےميں آپ کو تاريخ کے دريچے سے ايک واقعہ سناؤں: 
 نوح بن مريم نام کا ايک شخص تھا،جو ايک دولتمند، صاحب ثروت، شريف النسب اور ديندار آدمی تھا ، اس کے پاس ايک غلام تھا جس کا نام مبارک تھا، جو غريب ضرور تھا تاہم حسن اخلاق کا پيکر اور نہايت تقوی شعار تھا ، مالک نے اسے اپنے باغيچے ميں بھيجا اور کہا کہ باغيچے کے پھلوں کی رکھوالی کرنا اور ہمارے آنے تک اس کی ديکھ بھال کرتے رہنا ۔ حسب فرمائش غلام باغيچے کی ديکھ بھال کے ليے چلا گيا، دو ماہ تک باغيچے ميں رہا۔ دو ماہ بعد جب مالک آيا تو باغيچے ميں ايک درخت کے سائے کے پاس آرام کرنے کے ليے بيٹھا اور اپنے خادم سے کہا : مبارک انگور کا ايک گچھا لاؤ ، مبارک گيا اور ايک گچھا لاکر مالک کی خدمت ميں پيش کيا جو کھٹا تھا، کہا دوسرا گچھا لاؤ يہ کھٹا ہے، دوسرا گچھا لايا ليکن وہ بھی کھٹا نکلا ۔ کہا : تيسرا گچھا لاؤ ، چنانچہ تيسرا گچھا لايا، تاہم وہ بھی کھٹا نکلا ، اب مالک غصے سے مخاطب ہوا:
 ” مبارک ميں تم سے پکے انگور کا گچھا مانگ رہا ہوں اور تم کچے انگور کا گچھا لاکر دے رہے ہو ۔ کيا تم کھٹے ميٹھے کی پہچان نہيں کرتے “ 
خادم نے جواب ديا : اگرچکھتا تب تو کھٹے ميٹھے کی پہچان ہوتى، الله كى قسم آپ نے مجھے انگور کھانے کے ليے نہيں بھيجا تھا بلکہ  باغيچے  کی حفاظت اور نگرانی کے ليے بھيجا تھا، اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں ميں نے  باغيچے  کا ايک انگور بھی نہيں چکھا ،  الله كى قسم نہ آپ ديکھ رہے تھے نہ کائنات کی کوئی چيز ديکھ رہی تھی تاہم وہ ذات ضرور ديکھ ديکھ رہی تھی جس سے آسمان و زمين کی کوئی شے پوشسدہ نہيں ۔ 
اس كى يہ ديانت دارى سن كر وہ اس کے اخلاق سے بہت متاثر ہوا، اور اس کے زہد و تقوی کا قائل ہوکر بول اٹھا : ابھی ميں تم سے ايک مشورہ لينا چاہتا ہوں ، ميری لڑکی کا پيغام نکاح فلاں فلاں جگہ سے آيا ہے جو صاحب ثروت، صاحب حيثيت اور بلند حسب ونسب کے ہيں، ان ميں کس کو اپنی بيٹی کے ليے بطور شوہر اختيار کروں۔ مبارک نے کہا: زمانہ جاہليت ميں لوگ حسب ونسب اورخاندان کی بنياد پر شادی کرتے تھے، يہود مال کی بنياد پر شادی کرتے ہيں ، نصاری حسن و جمال کی بنياد پر شادی کرتے ہيں، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک ميں دين اور اخلاق کی بنياد پر شادی ہوتی تھی جبکہ ہمارے زمانہ ميں ثروت اور حيثيت کی بنياد پر شادی ہوتی ہے، اور آدمی جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ اس کا حشر ہوگا ۔ اور جس نے کسی قوم سے مشابہت اختيار کی وہ اسی ميں سے ہے. 
اللہ اکبر! يہ کتنی قيمتى نصيحت تھی؟ يہ کتنا گرانقدرمشورہ تھا ؟ جی ہاں! يہ ايک خيرخواہ کی نصيحت تھی جو گو کہ مفلس تھا، ليکن تھا صالح، نيک اور ديندار، اس مالك نے سوچا، غور کيا ، نظر دوڑائى تاہم مبارک سے بہتر انسان کسی کو نہ پايا، تب اس نے مبارک سے کہا : أنت حر لوجه الله " تم اللہ کے ليے آزاد ہو." 

عزيز قارى! ايک مالک اپنے غلام کو آزادی کا پروانہ عطا کر رہا ہے ۔ صرف اس کی تقوی شعاری اور اللہ کی نگرانی کا احساس رکهنے كے باعث، پھر جانتے هيں آزادی کے بعد کيا ہوا ؟ اس نے اپنے آزاد غلام سے کہا : ميں نے غور کيا تو پايا کہ تم ہی ميری صاحبزادی سے شادی کرنے کا زيادہ حق ركهتے ہو، لہذا ميں اپنی صاحبزادی پر تمہارا معاملہ پيش کرتا ہوں ، وہ گيے، اپنی صاحبزادی کے اوپر مبارک کے معاملے کو پيش کيا اور کہا کہ ميں نے غور کيا تو ايسا ايسا معلوم ہوا ہے لہذا ميری رائے ہے کہ مبارک سے شادی کرلو ۔ صاحبزادی بولی : کيا آپ اسے ميرے ليے پسند کرتے ہيں ، باپ نے کہا : ہاں! تو لڑکی بولی : ميں بھی اس سے راضی ہوں۔
چنانچہ مبارک سے يہ شادی نہايت مبارک ثابت ہوئی ۔ جی ہاں! نہايت مبارک ۔ يہ عورت حاملہ ہوئی اور ايک بچہ جنی جس کا نام عبد اللہ رکھا گيا ۔ جنہيں تاريخ عبد اللہ بن مبارک رحمه الله کے نام سے جانتی ہے ۔

عزيز قارى! جس شخص کے اندر اللہ تعالی کی ہمہ وقت نگرانی کا احساس بيدار ہو جائے ، وہ خلوت ميں محارم الہی کو پامال نہيں کر سکتا، تنہائی ميں منہيات کا ارتکاب نہيں کرسکتا۔ آخر حضرت يوسف عليہ السلام کو عزيز مصر كى بيوى سے کس چيز نے روکا ؟ ظاہر ہے کہ اللہ کی نگرانی کا احساس اور اس کی گرفت کا ڈر تها ۔ کہتے ہيں کہ زليخہ جب حضرت يوسف عليہ السلام کو خلوت ميں لے گئی تو اپنے بت پڑ پردہ ڈال ديا : يوسف عليہ السلام نے کہا: تو اس پتھر کا لحاظ کر رہی ہے اور ميں بادشاہ جبار کا لحاظ کيوں نا کروں۔ 
  اذا ما خلوت الدھر يوما فلا تقل   خلوت ولکن قل علی رقيب 
  ولا تحسبن اللہ يغفل ساعة     ولا أن ما تخفی عليہ يغيب
"جب تو کبھی کسی جگہ اکيلا ہو تو يہ نہ کہنا کہ ميں اکيلا ہوں ، بلکہ کہو : ميرے اوپر نگہبان ہے۔ اور نہ يہ سمجھ کہ اللہ ايک لمحہ بھی غافل ہے ۔ اور نہ يہ کہ جو تو اس سے چھپاتا ہے وہ چيز اس سے غائب ہے ۔"
حقيقت يہ ہے کہ تنہائی ميں اللہ کی ياد کا آنا اور اس کے ڈر سے آنسو ؤوں کا بہنا کمال شخصيت کا راز اور خوف الهى کا غماز ہے اور ايسے ہی لوگوں کو قيامت کے دن عرش الہی کے سايے کی بشارت دی گئی ہے جس دن اللہ کے سايہ کے علاوہ اور کوئی سايہ نہ ہوگا:
 ورجل ذکر اللہ خاليا ففاضت عيناہ ( البخارى)
اور ايسا آدمی جس نے اللہ کو تنہائی ميں ياد کيا اور اس کی آنکھ سے آنسو بہہ پڑے ۔
عزيز قارى! یہ تو رہی تنہائی میں اللہ کی نگرانی کا احساس رکھنے والے اورخوف الہی سے لرزنے والے اہل ایمان کے سبق آموز واقعات کی ایک جھلک ، ليکن صد حيف ہمارے سماج ميں ايسے لوگوں کی کمی نہيں جو مجمع ميں تو نيکی اور پرہيزگاری کا اظہار کرتے ہيں، ليکن تنہائی ميں ساری پرہيزگاری جاتی رہتی ہے، جلوت ميں احکام الہی کی پاسداری ہو رہی ہے تو خلوت ميں احکام الہی کی پامالی ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ايسے ہی لوگوں کے بارے ميں ارشاد فرمايا : 
ليأتين أقوام يوم القيامة معھم أعمال کجبال تھامة بيض يجعلھا اللہ هباء منثورا
 بروزقيامت کچھ جماعتيں ايسی آئيں گی جن کے پاس تہامہ کے پہاڑوں جيسے اعمال ہوں گے تاہم اللہ تعالی انہيں خش وخاشاک کی مانند کر دے گا ۔ حضرت ثوبان رضى الله عنه نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دريافت کيا : من هم يا رسول اللہ "وہ کون ايسے بد نصيب ہوں گے يا رسول اللہ"  ہميں ان کی صفت بتائيے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا :
ألا إنھم يصلون کما تصلون ويصومون کما تصومون و يأخذون من الليل کماتأخذون ولکنھم قوم اذا خلوا بمحارم اللہ انتھکوھا ۔ (ابن ماجه )
وہ نماز پڑھتے ہوں گے جس طرح تم نماز پڑھتے ہو ، وہ روزہ رکھتے ہوں گے جس طرح تم روزہ رکھتے ہو، وہ قيام الليل کرتے ہوں گے جس طرح تم قيام الليل کرتے ہو۔ تاہم وہ ايسی قوم ہوں گے کہ جب خلوت ميں ہوں تو محارم الہی کا ارتکاب کر بيٹھيں۔ 
جب اللہ کی نگرانی کا یہ احساس ذہنوں سے اوجھل ہوتا ہے تو انسان بلاجھجھک محارم الہی کو پامال کرنے لگتا ہے، لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوکر اپنے گھروں میں بیٹھا فحش فلمیں دیکھتا ہے ،حرام طریقے سے لوگوں کا مال اینٹھتا ہے ، اگر ایسے انسان کے پاس دل بیدار ہوتا تو سمجھ سکتا تھا کہ معمولی پانی کے قطرہ سے پیدا ہونے والے انسان سے شرم کھاتا ہے لیکن خالق ارض وسما کی آنکھوں کے سامنے ایسی ہی حرکت بڑی ڈھٹائی سے کرتا ہے اوراسے ذرا برابر شرم نہیں آتی ۔ 

( افادات : ڈاكٹرعلى القرني حفظه الله  )

مکمل تحریر >>