منگل, جنوری 01, 2019

موسم سرما



امام حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا بات ہے کہ تہجد گذاروں کے چہرے منور ہوتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: لأنَّهم خلوا بالرحمن فأعطاهم من نوره "اس لیے کہ انہوں نے رحمن سے خلوت اختیار کی تو اللہ نے ان کو اپنے نور میں سے عطا فرما دیا"۔
مشہور تابعی طاووس بن کیسان رحمہ اللہ رات کے تیسرے پہر ایک آدمی سے ملاقات کے لیے اس کے گھر آئے، اور اس کے دروازے کو دستک دیا: اہل خانہ نے اطلاع دی کہ ابھی وہ سو رہے ہیں۔ امام طاؤوس رحمہ اللہ کو بہت تعجب ہوا کہ وہ ایسے وقت میں وہ کیسے سو رہے ہیں، کیا کوئی انسان ایسے وقت میں سوتا ہے؟
عزیز قاری! ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ گھنٹوں جاگ کر عبادت کریں، اذان فجر سے پانچ دس منٹ پہلے تیار ہوجائیں، کچھ نمازیں پڑھ لیں، دعائیں کرلیں، کہ یہ وقت پانے کا وقت ہے، حاصل کرنے کا وقت ہے۔ کیونکہ ایسے وقت ہمارا رب سمائے دنیا پر اتر کر پکار رہا ہوتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ ہم اسے عنایت کریں، ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں، ہے کوئی اپنے گناہوں کی معافی چاہنے والا کہ ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں۔ ( بخاری مسلم (

مکمل تحریر >>

پیر, جولائی 16, 2018

وہ بھی گرا نہیں، جو گرا، پھر سنبھل گیا



یہ دھرتی اللہ کی گراں قدر نعمت ہے جس پر ہم رہتے، بستے اور زندگی گذارتے ہیں، اللہ تعالی نے اسے ہمارے تابع اور مسخر کیا اور اس کی تہہ سے مختلف قسم کے خزانے اور نوع بنوع پیداوار نکالے تاکہ وہ ہمارے لیے سامان زیست بن سکیں۔ پھر اسے ہموار بنایا اور اس کے شکم میں کوہساروں کو جمادیا تاکہ ہم اس کی چھاتی پر بآسانی عمارت بنا کر پر لطف زندگی گذار سکیں۔ پھر اس دھرتی پر انسانوں کو خلافت کی ذمہ داری سونپی اور زندگی گذارنے کا سسٹم  دیا تاکہ انسان دھرتی کو اس کے خالق کی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ لیکن جب انسان نے اللہ کے قانون سے منہ موڑا، بغاوت پر اتر آئے اور من مانی کرنے لگے تو اللہ تعالی نے اس دھرتی  کے مکینوں کو طوفان، زلزلوں، گرجدار چینخ، بستیوں کا الٹ دینا، زمین میں دھنسا دینا جیسے آفات بھیج کر دنیا کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا،  مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے۔
آج بھی انسان اس دھرتی کے قانون کو پامال کر رہا ہے، اس کے خالق سے لاپرواہی برت رکھی ہے اور دھرتی کو فتنہ و فساد کی آماجگاہ بنا رکھا ہے، جس کی وجہ سے زلزلوں کی کثرت ہے، دن بدن طوفان آرہے ہیں، قتل وخونریزی عام ہے،  گلوبل وارمنگ نے ایسی تباہی مچا رکھی ہے کہ دھرتی پر جینا مشکل ہو رہا ہے، ان دنوں گرمی میں ایسی حدت آئی ہے کہ صرف ہندوستان میں دو ہزار سے زائد لوگ گرمی کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوچکے ہیں۔ اوریہ سب  انسانوں کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، انسان جب نظام الہی  کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالی کبھی کبھی اس دھرتی کو حکم دیتا ہے کہ حرکت کر،  بھونچال مچادے اور زلزلے پیدا کر، یہ در اصل  الٹی میٹم ہوتا ہے، تنبیہ ہوتی ہے تاکہ انسان سنبھل جائے، سدھر جائے اور اپنے احوال کی اصلاح کرلے، جی ہاں! یہ آفتیں اور بلائیں جہاں اللہ کی نافرمانی، منکرات کے ظہور اور قانوں الہی سے پہلو تہی برتنے کا نتیجہ ہیں تو دوسری طرف قرب قیامت کی نشانی بھی ہیں۔ سچ فرمایا صادق و مصدوق ﷺ نے: 
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا، زلزلوں کی کثرت ہوگی، زمانے قریب ہوجائیں گے، فتنوں کا ظہور ہوگا، قتل وغارت گری عام ہوگی اورمال کی بہتات اور فراوانی ہوگی۔ (صحیح البخاری: 1036)
اس حدیث کے تناظر میں جب آپ دنیا کے حالات کا جائزہ لیں گے تو پتہ چلے گا کہ واقعی قیامت قریب ہے کہ آج علم کی کمی پائی جاتی ہے اور جہالت کی بالادستی ہے، زلزلے بکثرت آرہے ہیں،  زمانے سمٹ رہے ہیں اور وقت بہت تیزی سے بھاگ رہا ہے، نت نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں، قتل وخونریزی اس قدر عام ہے کہ گاجر اور مولی کے جیسے انسانوں کو ذبح کیا جا رہا ہے،جانوروں کی قیمت ہے لیکن خون مسلم کی ارزانی ہے۔  اور مال کی بہتات اور فراوانی ایسی ہے کہ اسراف اور فضول خرچی گویا ہماری زندگی کی پہچان بن چکی ہے۔ حقیقت ہے کہ  قیامت کا زمانہ جتنا قریب ہوتا جائے گا مختلف قسم کے فتنے ابھر کر سامنے آئیں گے۔ اور آج ہمارے زمانے  میں یہ فتنے کھل کر سامنے آرہے ہیں جس میں حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھا جانے لگا ہے، ظالم کو ظلم سے روکنے اور مظلوم کی مدد کو زیادتی کا نام دیا جاتا ہے۔
جب فتنے سر اٹھا رہے ہوں تو ایسے حالات میں ایک مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، آج کتنے ایسے لوگ ہیں جو شرک میں مبتلا ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو بدعات و خرافات میں پھنسے ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو نماز سے غافل ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو زنا میں ملوث ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو فحاشی کے رسیا، سودی کاروبار کے دلدادہ اور رشوت کے لین دین میں پیش پیش ہیں۔ کیا ایسے لوگ اللہ کے عذاب سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اس کا عذاب اچانک ان پر رات کے وقت آجائے جب کہ وہ نیند میں مست خرام ہوں؟ یا دن میں آ پڑے جب کہ وہ کھیل کود اور موج مستی میں لگے ہوئے؟ جولوگ الٹی میٹم پانے کے باوجود اللہ کی طرف نہیں لپکتے تو اللہ تعالی کے ہاں ایسے لوگوں کی ہلاکت یقینی ہوجاتی ہے۔
 اسی طرح فتنوں کی بالادستی میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ دین پر ثبات قدمی کے وسائل کو پیش نظر رکھیں جن کی بدولت اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ابھی رمضان کا مبارک مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے، رحمت، مغفرت، جہنم سے آزادی اور ہمدردی و غم خواری کا تحفہ لیے ہوئے رمضان المبارک کا مہینہ دھوم دھام سے آیا ہے، وہ مہینہ کے جس کے لیے عرش سے فرش تک اہتمام ہوتا ہے، وہ مہینہ جو روحانی کائنات کا موسم بہار ہے۔ ہم کس قدر خوش قسمت ہیں کہ یہ موسم بہار ایک بار پھر ہماری زندگی میں عود کر آیا ہے۔ تو آئیے اس ماہ مبارک کا خیر وخوبی سے استقبال کیجیے، اس کے ایک ایک لمحے سے فائدہ اٹھائیے ،  توبہ و استغفار ،انابت الی اللہ ،نالہ نیم شبی  کے ذریعہ اپنے رب کو راضی کیجیے۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق بخشے آمین۔

صفات عالم محمد زبیر تیمی    


مکمل تحریر >>

اتوار, مارچ 16, 2014

اردو کوبچائیں اوراس کے دینی کردار کو بحال رکھیں


انسان کے افکاروخیالات کی ترجمانی اس کی زبان یاقلم کرتی ہے ،اور افکاروخیالات کی صحیح ترجمانی کے لیے فکر میں وسعت اورگہرائی کی ضرورت ہوتی ہے ، اورفکر میں وسعت اورگہرائی مطالعہ کے ذریعہ آتی ہے۔ جس کا مطالعہ جتنا گہرا ہوتا ہے اسی قدر اس کی فکر وسیع ہوتی ہے ،اورمطالعہ کا ذوق بہت حد تک ماحول اور خاندانی نشوونما کی مرہون منت ہے، برصغیر کے جو تارکین وطن کویت میں مقیم ہیں ا ن کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانیوں میں جنوب ہندکے تمل ناڈو ،اورکیرلا کے لوگوںمیں مطالعہ کا ذوق زیادہ پایا جاتا ہے، بنگالی اورنیپالی کمیونٹی کے اکثر افراد معمولی ملازمت کرنے کے باوجود اپنی زبان کی خدمت میں آئے دن کوشاں رہتے ہیں ،ان زبانوں میں کویت سے متعدد رسائل اورجرائد شائع ہو رہے ہیں ، ان کے جاننے والے اپنی زبان کے مطالعہ سے بیحد دلچسپی رکھتے ہیں، پیسے خرچ کرکے کتابیں اوررسائل خریدتے ہیں، کویت اوردیگرخلیجی ممالک سے ملیالی زبان میں ایک روزنامہ بھی نشر ہوتا ہے جسے ہرملیالی صبح سویرے پڑھنے کے لیے بیتاب رہتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اردوداں طبقہ کویت میں اپنی اکثریت رکھنے کے باوجود مطالعہ کا کوئی خاص جذبہ نہیں رکھتا ،کویت میں سب سے زیادہ اردوادب کی کمیٹیاں پائی جاتی ہیں ،اصحاب ذوق پائے جاتے ہیں ، شعراء کی محفلیں سجائی جاتی ہیں ،اس کے باوجود اردوداں افرادمیں مطالعہ کا جذبہ بیدار نہیں ہوپا رہا ہے ۔ ’میرے پاس ٹائم نہیں‘ ، ’ پڑھنے کا موقع نہیں ملتا ‘ ،’ مطالعہ کے لیے وقت نہیں‘ یہ اوراس طرح کی باتیں بالعموم اردوداں طبقہ کی طرف سے سننے کوملتی ہیں، بسااوقات ایسی باتیں سن کربہت کوفت ہوتی ہے، حالانکہ ہمارے اچھے خاصے اوقات بے فائدہ گفتگو میں صرف ہوتے ہیں، ٹیلیویژن پر فلموں کے مشاہدے اورسوشل میڈیا میں ٹائم پاس کرنے میں لگتے ہیں، اردو کے ساتھ ہماری ستم ظریفی کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ کویت  میں اردوداں کی اچھی خاصی تعداد ہونے کے باوجود  یہاں سے کوئی روزنامہ نہیں نکل رہا ہے ،کبھی کویت سے’ کویت ٹائمز‘ کا اردو اور ملیالم ایڈیشن نکلا کرتا تھا جب ’کویت ٹائمز‘ کے ذمہ داران نے دونوں زبانوں کو بند کیا  تو ملیالی طبقہ نے ہزاروں تبصر ے ارسال کیے اوردوبارہ اسے جاری کرنے کا مطالبہ کیا لیکن اردو داں طبقہ نے یہاں بھی اپنی سردمہری کا مظاہرہ کیا،اورادارہ تک اپنی چاہت پہنچانے سے بھی قاصر رہے ۔
کویت کا اردوداں حلقہ خواہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والا ہو یا پاکستان سے دونوں کی صورتحال تقریباً ایک ہے ، بات کویت کی حد تک نہیں ہے بلکہ ہم اپنے ملکوں میں رہ کر بھی اردوسے تعلق رکھنے کے باوجود اردو پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، بہت کم گھروں میں اردو اخبارات آتے ہیں، دیہی علاقوں کا جائزہ لیں تو تعجب ہوگا کہ کتنے خوشحال اور کھاتے پیتے گھرانے ہیں جن کے پاس شہری سہولتیں دستیاب ہوتی ہیں پھر بھی ان کو اپنے گھروں میں روزنامے اور ماہنامے منگوانے کی فکر نہیں ہوتی ، سکول کے ٹیچرس، سرکاری دفاتر کے ملازمین اورکاروباری پیشے سے جڑے مسلمان سب کی یہی حالت ہے کہ پڑھنے اورمطالعہ کرنے کا جذبہ نہیں رکھتے ، اورجب وہ مطالعہ کے شوقین نہیں توپھر ان کے بچوں میں مطالعہ کا ذوق کیوں کرپیدا ہوسکتا ہے ، جبکہ غیرمسلموں کے اندر اب تک یہ ذوق برقرار ہے ،آج بھی دیہی علاقوں میں ان کے گھر گھر  روزنامے پہنچ رہے ہیں ،اوروہ تازہ بہ تازہ ملکی اوربین الاقوامی خبروں سے باخبر رہتے ہیں ۔
ایک طرف تو اردوداں طبقہ کی  اکثریت کے اندر سے مطالعہ کی روح نکلتی جارہی ہے تو دوسری طرف ہمارے دشمنان اردو میڈیا کومسموم کرنے پرتلے ہوئے ہیں، ہندوستانی میڈیا کا جائزہ لیں تو خواہ الیکٹرونک میڈیا ہویا پرنٹ میڈیا دونوں پر متعصب تنظیموں کی اجارہ داری ہے،الیکٹرونک میڈیا تقریباً کلی طورپر ان کے قبضہ میں ہے ،پرنٹ میڈیا میں اردواخبارات کچھ حد تک مسلمانوں کی نمائندگی کرتے اورمسلمانوں کے مسائل کی ترجمانی میں اپنا کردار ادا کرتے تھے لیکن افسوس کہ ان کا کردار بھی آئے دن کمزور ہوتا جارہا ہے ، اوررفتہ رفتہ یہ بھی غیرمسلموں کے قبضہ میں چلے جارہے ہیں۔ ہندوستان کی اکثر ریاستوں میں ہندی روزنامہ "دینک جاگرن" نے اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے ،جو اسلام دشمنی اورتعصب وتنگ نظری کوفروغ دینے میں مشہورہے، آرایس ایس نے دوقدم آگے بڑھاتے ہوئے مسلمانوں کا بھارتی کرن کرنے کے ارادہ سے" مسلم راشٹریہ منچ" قائم کیا ہے جس کے زیراہتمام اردو روزنامہ ''پیغام مادر وطن" نکل رہا ہے اور اب ان کا ارادہ لوک سبھا چناؤ سے قبل " پیغام ٹی وی چینل"  لانچ کرنے کا ہے ،اس سے پیشترانہوں نےممبئی سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ ’انقلاب‘ کو بھی خرید لیا ہے اور اسے پورے ہندوستان میں فروغ دینے کے لیے پلاننگ کررہے ہیں، طرفہ تماشا یہ کہ بعض دیہی علاقوں میں’ انقلاب‘ کے علاوہ دوسراکوئی اردو روزنامہ دستیاب نہیں ہوتا ، مجبوری میں اخبارپڑھنے کے شائقین روزنامہ’ انقلاب‘ خریدتے ہیں۔ یہ کسی قوم  کی پستی اورزوال کی واضح علامت ہے کہ اسے فکری غذا کے لیے غیرقوموں پر منحصر ہونا پڑے ۔ بلکہ ہمیں کہنے دیا جائے کہ آرایس ایس نے منظم پلاننگ کے ساتھ ان اخبارات کے ذریعہ فکری جنگ چھیڑ رکھی ہےجس میں وہ کلی طور پر کامیاب ہیں، اس کا اندازہ ان تمام احباب کوبخوبی ہوگا جو مذکورہ اخبارات کا پابندی سے مطالعہ کرتے ہیں۔
چونکہ مسلمانوں میں اردوسے جذباتی عقیدت پائی جاتی ہے ،اسی لیے جب کچھ لوگ دینی کتابیں ہندوستان کی ریاستی زبانوں میں دیکھتے ہیں تو سیخ پا ہوجاتے ہیں،ان کا خیال ہوتاہے کہ دینی کتابیں اردو زبان میں ہی نشر ہونی چاہئیں۔ دشمن کو مسلمانوں کی اس عقیدت کااحساس ہے ، لہذا وہ ان کی زبان میں ان کوفکری غذا دینے کی منظم پلاننگ کررہے ہیں ۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی بستی میں ایک مسلم نوجوان کواردوزبان میں عیسائی نشریہ سنتے ہوئے دیکھا ، میرے سوال پر اس نے کہا کہ میں یہ پروگرام بہت شوق سے سنتا ہوں کیونکہ یہ لوگ نہایت عمدہ  اسلوب میں انبیاء ورسل کے قصے بیان کرتے ہیں ، میں نے پروگرام سنا تو پتہ چلا کہ پروگرام عیسائی مشینریز کا ہے اورپروگرامر اردوزبان میں بائیبل کی سلجھے اندازمیں تشریح کررہا ہے ۔
 غرضیکہ د شمن ہر چہارجانب سے مسلح ہوکر قوم مسلم پر حملہ آور ہے اب انہوں نے اپنے مسموم  نظریات کوپھیلانے کے لیے ہماری مادری زبان کا استعمال شروع کردیا ہے ، ایسی  صورتحال میں  ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود اردو زبان کی حفاظت کریں ، اردوزبان میں زیادہ سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کریں، اردو زبان کی بقا کم ازکم برصغیر کے اردوداں طبقہ کے ملی تشخص کی بقا ہے، آج ملت کے ارباب حل وعقد کو نہایت دوراندیشی اور گہری بصیرت سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔اللہ ہمارا حامی وناصر ہو ۔ 
مکمل تحریر >>

بدھ, مارچ 12, 2014

سوشل میڈیا کا استعمال خیر کے فروغ میں کریں

                         
جدید ٹکنالوجی کے اس دورمیں سوشل میڈیا آپسی رابطے کا مؤثرترین ذریعہ بن چکا ہے، آج جملہ ذرائع ابلاغ میں سوشل میڈیا  کا استعمال سب سے زیادہ ہورہا ہے،ایک آدمی اپنے گھر بیٹھے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چند سیکنڈوں میں اپنا پیغام پہنچاسکتا ہے ۔ پوری دنیا سے میل جول رکھ سکتا ہے ، موبائل میں بآسانی نیٹ کی سہولت دستیاب ہونے کے باعث پڑھے لکھے لوگ تو کجا ان پڑھ بھی سوشل میڈیا  کا استعمال کرنے لگے ہیں، ہرطبقہ کے لوگ یہاں پر اپنا اچھا خاصا وقت صرف کررہے ہیں، صبح ہوکہ شام ہروقت ان  کا دھیان سوشل میڈیا  میں لگا  رہتا ہے، بالخصوص نوجوان نسل کے ذہن ودماغ پرسوشل میڈیا جنون کی حد تک حاوی ہوچکاہے، دن بھر کی لاکھ تھکاوٹ اورتکان ہو جب تک نوجوان سوشل میڈیا پر اپنا کچھ وقت بتا نہیں لیتا اسے نیند نہیں آسکتی ۔
 سوشل میڈیا پرصارفین کی بہتات کو دیکھتے ہوئے ہر فکر کے حاملین نے اپنی فکر کوپھیلانے کے لیے سوشل میڈیا  کا استعمال شروع کردیا ہے ،کبھی تاجروں کو الیکٹرونک اورپرنٹ میڈیا میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی تھی ابھی نہایت کم لاگت میں سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں ، باطل مذاہب اورگمراہ فرقوں نے سوشل میڈیا کے سہارے دین کے بازارمیں کھوٹے سکوں کو خوب خوب رائج کیا ہے اورکر رہے ہیں ، یہود ونصاری اورمتعصب ہندو تنظیموں نے اسلام کے خلاف شبہات پھیلانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کی  ہے، ان کی شرارت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کی نئی نسل کے بیچ اس طرح کے شبہات پھیلاتے  رہتے ہیں تاکہ ان کو اسلام سے بدظن کرسکیں ۔ فیس بک ، ٹیوٹر ، یوٹیوب اوربلاگ جیسے سوشل میڈیا کو انہوں نے شبہات سے بھر رکھا ہے ۔ فحش کے پجاریوں نے بے حیائی، فحاشی، عریانیت اوررقص وسرور کے وہ گل کھلارکھے ہیں کہ گمان ہونے لگتاہے وہ انسان نہیں جانوروں سے بدترکوئی مخلوق ہیں، تفریح کے نام پرمسلمانوں کی نئی نسل کو بدلنے کی منظم پلاننگ ہوچکی ہے۔ صلیبی جنگوں میں جب نصاری کو منہ کی کھانا پڑی تو انہوں نے عسکری جنگ کی بجائے فکری جنگ کے لیے پلاننگ شروع کردی،اس مقصد کو بروئے کارلانے کے لیے انہوں نے مستشرقین کی ایک کھیپ تیار کی ۔آج شبہات اورشہوات کی جو آندھی چل رہی ہے انہیں مستشرقین کی دسیسہ کاریوں کا شاخسانہ ہے۔
ایسے حالات میں سوشل میڈیا کی خطرناکی پر آنسو بہانا ،اسے برائیوں کا سرچشمہ قرار دینا اوراس سے پیچھا چھڑانے کی نصیحت کرنا دوراندیشی کی علامت قطعاً نہیں ہوسکتی ۔ ہم لاکھ سر پیٹیں لیکن ہماری نئی نسل اس سے دورنہیں ہوسکتی ، یہ بات صحیح ہے کہ مسلم نوجوانوں کی اکثریت سوشل میڈیا کا غلط استعمال کررہی ہے ، یہ ٹائم پاس کا ایک ذریعہ بن چکا ہے ،اس سے بچوں کا کیرئیر خراب ہورہا ہے ، معاشرے میں بے حیائی فروغ پارہی ہے،یہ ایک طرح کا خمارہے جو چڑھتا ہے توبآسانی نہیں اترتا اورجب ہوش آتا ہے تو اچھا خاصا وقت نکل چکا ہوتا ہے۔ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ اوراس کا تدارک کیوں کر ممکن ہے ،یہ ہمارا موضوع بحث نہیں ،سردست آج ہمیں یہ غورکرنا  اور سوچنا ہے کہ جب ہر فکر کے حاملین سوشل میڈیا کو استعمال کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل  کررہے ہیں تو آفاقی دین کے حاملین  نےاپنے دین کے محاسن اورآفاقیت کو فروغ دینے میں کیا کردار ادا کياہے، ہمیں سوشل میڈیا  كو دعوت کے فروغ کے لیے نعمت غیرمترقبہ سمجھنا چاہیےتھا ، شر کا مقابلہ خیر سے کرتے ہوئے اس کا استعمال خیرکے فروغ اوردعوت کے کاموںمیں کرنا چاہیے تھا ، اسلام کی عالمگیریت اورآفاقیت سے غیرمسلموں کومتعارف کرانا چاہیے تھا۔ بلاشبہ وہ سارے بھائی اوربہن قابل مبارک باد ہیں جو سوشل میڈیا  کااستعمال خیرکے فروغ میں کررہے ہیں ، ایسے لوگوں کو دیکھ کر آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلکتے ہیں ،اوران کے حق میں زبان سے دعائیں نکلتی ہیں لیکن افسوس کہ ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔
انسان کی تحریروتقریر اورحرکت وعمل اس کی فکر اورسوچ کا آئینہ دار ہوتی ہے۔برتن میں جو ہوتا ہے وہی چھلکتا ہے، نیک طبیعتیں اچھے اثرات چھوڑتی ہیں اوربری طبیعتیں برائی سے پہچانی جاتی ہیں،حتی کہ موت کے بعد بھی برائی سے ان کی پہچان ہوتی ہے ۔ پچھلے دنوں فیس بک پر راقم سطورکی پہنچ ایک ایسے وال تک ہوئی جس پرفحش تصاویر نشر تھیں اوربے حیائی کی طرف دعوت دی گئی تھی حالانکہ اکاونٹ ہولڈرمہینوں پہلے دارفانی سے رخصت ہوچکا ہے ،قبرکی گودمیں اپنے کئے کا بدلہ پارہا ہے، تاہم اس کا وال ہے جو اس کی سوچ اورفکر کی ترجمانی کررہا ہے۔ جی ہاں! ہم دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن ہماری یادیں خیروشر کی شکل میں جاوداں ہوتی ہیں اورانہیں کے ذریعہ ہم جانے پہچانے جاتے ہیں،توپھرکیا ہم چاہیں گے کہ دنیا سے چلے جائیں اورہماری یہ لاابالی باتیں ہماری سوچ کی پہچان کراتی رہیں؟

اس لیے جن احباب نے اب تک سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی تفریح کے لیے کیا ہے،ان کوچاہیے کہ اپنی زندگی میں وقت کی قدرو قیمت کو سمجھیں، اپنے ذہن ودماغ میں اسلام کی عظمت اورآفاقیت کو بٹھائیں، دعوت کے فروغ میں سوشل میڈیا کے کلیدی رول کوپیش نظر رکھیں اوراس کے لیے منظم پلاننگ کریں ،اگر ہمارے اندر دعوتی شعور آگیا تو فی الواقع سوشل میڈیا کے ذریعہ دعوت کا  کام اعلی پیمانے پر ہوسکتا ہے ۔ اگراللہ پاک نے آپ کوتحریری اورتقریری صلاحیت دے رکھی ہے تو سوشل میڈیا  کااستعمال کرکے تعارف اسلام پر مبنی صفحہ کھولیں، خود سے اسلام کا تعارف کرائیں، دوتین منٹوں پر مشتمل آڈیوز اور ویڈیوز ریکارڈ کرکے انہیں اپلوڈ کریں ، اس سلسلے میں تجربہ کار دعاة سے رہنمائی حاصل کریں ، اگر تقریری یاتحریری قابلیت نہیں تو جولوگ سوشل میڈیا پردعوتی کام کررہے ہیں ان کے دعوتی مواد کو شیئر کریں ان پرستائشی تبصرے اور ہمت افزائی کے کلمات لکھیں ، اپنے وال پرمستند دعوتی ویب سائٹس کے لنکس شیئرکریں ،منتخب قرآنی آیات اوراحادیث نبویہ پوسٹ کریں ۔ غرضیکہ آج سوشل میڈیا  کا شعور رکھنے والا ہرمسلمان اسے استعمال کرکے دین کی تبلیغ کرسکتا ہے ۔تو آئیے ہم عہد کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ہم خیر کے ہرکارہ بنیں گے ،بھلائی کو فروغ دیں گے ،اور برائی پر ہرممکن روک لگانے کی کوشش کریں گے ۔اللہ ہمارا حامی وناصر ہو ۔رہے نام اللہ کا 
                                                         صفات عالم محمد زبیر تیمی
Safatalam12@yahoo.co.in                                                  

مکمل تحریر >>

منگل, فروری 25, 2014

ھلا فبرایر : کویت کے نيشنل ڈے اور آزادی کى پُرمسرت اور تاریخی يادگار

25 اور 26 فروری کویت کے نيشنل ڈے اور آزادی کا پُرمسرت اور تاریخی دن ہے، جسے اہل کویت ”ہلا فبرایر“ کے نام سے یاد کرتے ہيں ۔ کویت میں فروری کے آغاز سے ہی اس کی تیاریاں بڑے شدومد سے ہونے لگتی ہیں ۔ سیمینارز ہوتے ہیں، تقریبات کی تیاریاں ہوتی ہیں، تجارتی مراکز اور سرکاری دفاتر کو سجایا جاتا ہے اور ہر شخص کے چہرے پر خوشیاں مچل رہی ہوتی ہیں -

تاریخ کے مختلف ادوار میں کویت کی ثروت پر قبضہ جمانے کی کوششیں کی گئیں، اپنوں اور بیگانوں دونوں نے دست درازیاں کیں ، کبھی سلطنت عثمانیہ نے حرص وطمع کے پھن پھیلائے تو کبھی مغربی حکومتوں کے منہ میں پانی آیا، سب سے اخیرمیں اسی قبیل کی جارحانہ کاروائی 23 سال پہلے کی گئی تھی، جس میں اہل کویت نے بے پناہ قربانیاں پیش کیں،جان ومال کی ہلاکتیں بھی ہوئیں بالآخر دشمنوں کو منہ کی کھانا پڑی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج یہ ملک آزاد وخودمختارہے، خیرکے کاموں میں ہراول دستہ شمار کیا جاتا ہے، اور ہم تارکین وطن اس ملک کی پُرامن فضا میں رہ کر اپنی معاشی حالت کومستحکم کر رہے ہیں، اس ملک سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ہم اہل کویت کی خوشی کواپنی خوشی سمجھیں اوران کے غم کواپنا غم خیال کریں ۔
 اس سنہری موقع پر ہم اپنی طرف سے کچھ عرض کرنے کی بجائے امیرکویت کا پیغام پیش کردینا کافی سمجھتے ہیں جسے انہوں نے اہل وطن کے نام دیے ہیں :

”کویت کے قومی تہوار اور یوم آزادی کا سالانہ جشن ایک بار پھر لوٹ کر آگیا ہے....جوبہارِ آزادی کی یاد تازہ کرتا ہے ۔ محبوب وطن سے محبت ووفاداری کی تجدید کرتا ہے ، اہل کویت کا اپنے امیر اور اپنی حکومت کے اردگرد ایک ہاتھ.... ایک دل.... ایک نبض.... اور ایک آواز.... بن کر” کویت کا نام اور اس کی پکار“ لگاتے ہوئے اکٹھا ہونے کی تاکید کرتا ہے ۔

ابھی کویت 53واں قومی تہوارمنانے جا رہاہے، عراقی ظالم وجابراورڈکٹیٹرسے کویت کی آزادی کی 23ویں یادگار کا دن بھی یہی ہے۔ کویت نے عزت مآب شیخ عبداللہ السالم ؒکے عہد حکومت مورخہ19 جون 1961 میں آزادی حاصل کی ، کویت نے بریطانیہ سے درخواست کی کہ 23جنوری 1899میں کئے گئے ان کے آپسی عہدوپیمان کو ختم کردے، اس طرح دونوں ممالک کے مابین نئے عہدوپیمان کے مطابق کویت اندرونی وبیرونی معاملات میں پوری طرح آزاد ہوگیا اور یہ اعلان کردیا گیا کہ ”کویت مکمل قیادت کی حامل مستقل حکومت ہے “ ، عزت مآب شیخ عبداللہ السالم ؒ نے 1950 میں حکومت کا باگ وڈور سنبھالا، جس دن عہدہ امارت سنبھالا تھا وہ فروری کی 25 تاریخ تھی اس طرح اتفاقاً دونوں یادگاریں ایک ہی دن اکٹھا ہوگئیں ، تب سے اب تک کویت اپنا سالانہ قومی تہوار25 فروری کو مناتا آرہا ہے ۔

کویت کی آزادی ....عروج وترقی کے نئے مرحلے کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی ،صبح آزادی کے طلوع ہونے کے دن سے ہی کویت نے عصری تعلیم اورمختلف علوم وفنون کواپنا شعاربنایا، اور کویت کے حکام آل صباح کی دانشمندانہ قیادت میں ہم وطنوں کی تعمیروترقی ،خوشحالی وفارغ البالی اور پُرامن زندگی کے لیے بیداری اور ہمہ جہت ترقی کی راہ اپنائی اور اسی راستے پر تاہنوز گامزن ہیں۔

آزادی کے بعد نظام حکومت کا پہلاتنظیمی ڈھانچہ یوں تیار ہوا کہ اہلِ وطن میں سے ”تاسیسی کمیٹی“ تشکیل دینے کے لیے الیکشن کرایا جائے تاکہ مختلف شعبہ زندگی سے متعلق جمہوری نظام اور منظم آئین پر مشتمل کویت کا مستقل دستور بنایا جاسکے ۔اس سلسلے میں عزت مآب اعلی حضرت شیخ عبداللہ السالم رحمہ اللہ نے 26 اگست 1961 میں شاہی فرمان جاری کیا ۔ 20 جنوری 1962 میں عزت مآب اعلی حضرت نے کانفرس کی پہلی نشست کا افتتاح کیا ۔ اور 11 نومبر 1962 میں اس دستور کی تصدیق کی جسے تاسیسی کمیٹی نے پاس کیا تھا اور اسی کے ذریعہ کویت میں نظام حکومت کی تحدید یوں ہوئی کہ :
٭ یہاں کا نظام حکومت ”جمہوری“ ہوگا
٭ اقتدار قوم کی ہوگی جو جملہ اختیارات کے مالک ہوں گے
٭ کویت موروثی حکومت ہے جو شیخ مبارک الصباح رحمہ اللہ کی ذریت میں رہے گی “۔

قومی تہوار اور جشن آزادی کے اس مبارک موقع سے ہم تمام اہل کویت کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں، ملک میں امن وامان کی بحالی ، داخلی وخارجی سلامتی ، اور امیرکویت عزت مآب شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح حفظہ اللہ کی دانشمندانہ قیادت میں کویت کی تعمیروترقی اورخوشحالی وشادابی کے لیے دعاگو ہیں ۔ رہے نام اللہ کا
مکمل تحریر >>

پیر, نومبر 18, 2013

علم از سامان حفظ ِزندگی است


علم زندگی کی حفاظت کا سامان اور شرافت کی کلید ہے، اس سے انسان کے اندراخلاقی قدریں پیدا ہوتی ہیں اوراسے جینے کا سلیقہ آتا ہے ،انسان نے اس دنیا میں جوبھی تخلیق پیش کی ہے علم کی بنیاد پرکی ہے ،ہردورمیں قوموں کی امامت انہیں لوگوںکے ہاتھوںمیں رہی ہے جو علم کے تاجدار سمجھے گئے ہیں،جبکہ جہالت گنوارپن کی علامت ہے اورجاہل قومیں ہمیشہ غلامانہ سوچ کی حامل رہی ہیں ،علم وفن سے محروم قوم کی حیثیت مٹی کے ڈھیر کی ہے جسے قدموںکے نیچے بچھایاجاتا اورہمیشہ پاؤں سے رونداجاتاہے، جہالت ہر برائی کا سرچشمہ اورعلم ہر بھلائی کا منبع ہے ،معاشرے میں جو برائیاں سراٹھاتیںاورپنپتی ہیں ان کے پیچھے جہالت کی کارفرمائی ہوتی ہے اورمعاشرے سے جن برائیوںکا خاتمہ ہوتا ہے ان کے پیچھے علم کی بالادستی ہوتی ہے ۔آپ تصورکریںکہ آ ج سے ساڑھے چودہ سوسال پہلے جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز فرمایاگیا اورآپ پر غارحرامیں پہلی وحی اتری تو اس وقت جزیرة العرب میں شرک عام تھا، بے حیائی کا غلبہ تھا ،ظلم وزیادتی سرچڑھ کربول رہی تھی اورلوگ انسانیت کی سطح سے بہت نیچے جاچکے تھے،حق تویہ تھاکہ پہلی وحی میں شرک کی تردید کی گئی ہوتی ، ظلم وزیادتی اوربے حیائی سے روکاگیاہوتا لیکن پہلی وحی کا آغاز’اقرأ سے ہوتاہے جس میں علم پرابھاراگیاتھا ،لکھنے اورپڑھنے کی ترغیب دلائی گئی تھی، کیونکہ علم روشنی ہے جس سے جہالت کی تاریکی دور ہوتی ہے ، جب علم کی روشنی پھیلے گی تو جہالت کی اندھیر گھٹائیں خود بخود چھٹ جائیں گی ۔
علم کی اہمیت کا احساس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنازیادہ تھا کہ آپ نے مدینہ پہنچتے ہی مسجد نبوی کی تعمیرکی تواس کے ایک حصے میں تعلیم گاہ بھی بنائی جس میںاصحاب صفہ کی تعلیم اوررہائش کا بندوبست تھا ،غزوہ بدر کے موقع سے اسیران بدرمیںجوپڑھے لکھے لوگ تھے ان کی رہائی کا فدیہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طے کیاکہ دس مسلمانوںکو لکھنا پڑھنا سکھادیں ۔
اسلام دین فطرت ہے جوعلم کی حوصلہ افزائی اورجہالت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے،اوردین کے بنیادی علم کے حصول کوہرمسلمان مرداورعورت کا واجبی فریضہ ٹھہراتا ہے۔کیوںکہ اسی کے ذریعہ انسان اپنے خالق ومالک کا عرفان حاصل کرتا ہے اوراس کے حق کی کماحقہ ادائیگی کرسکتا ہے ،اللہ کی ایک صفت العلیم ہے ،یعنی سب کچھ جاننے والی ذات ،آدم علیہ السلام کوفرشتوںپر علم کی بدولت برتری حاصل ہوئی ، یہ علم ہے جسے سیکھنے کے لیے آدمی نکلتا ہے تواس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیاجاتاہے ، فرشتے اس کے راستے میں پر بچھاتے ہیں ،عالم کے لیے زمین وآسمان کی ساری مخلوق یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی دعا کرتی ہیں ۔اس سے بڑھ کر عظمت ،فضیلت اوربرتری اورکیاہوگی کہ ہمارے لیے فرشتے جو نورانی مخلوق ہیں پر بچھادیں اور سمندرکی مچھلیاں بھی دعا گوہوں۔علم کی اسی اہمیت کی بنیادپر اللہ پاک نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اس میں اضافہ کی دعا کرتے رہیں، اسلام قول وعمل سے پہلے علم سیکھنے کا حکم دیتا ہے ، اورمعبودبرحق کی گواہی دینے سے پہلے اس کا عرفان حاصل کرنا لازمی ٹھہراتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مسلمان جاہل نہیں ہوسکتا ۔
اسلام نے دینی اوردنیاوی علم میں تفریق نہیں کی ،اسلام اپنے ماننے والوں کوہر نفع بخش علم سیکھنے پر ابھارتا ہے، قرآن کریم میں آفاق وانفس پر باربارتدبر اورتفکر کرنے اورکائنات کے سربستہ اسرارکو معلوم کرنے کی دعوت دی گئی ہے، علم کی یہی اہمیت تھی کہ مسلمانوں نے اسے سیکھنے اورسکھانے میں ریکارڈ قائم کردیا۔دین اوردنیا کے سارے علوم میں درک حاصل کیا ، مسلمانوں نے دینی اوردنیوی دونوں میدانوںمیں انسانیت کی رہنمائی کاشرف حاصل کیا، جہاں تاریخ میںامام ابن تیمیہ ،امام ذہبی ،اورامام بخاری کی دینی خدمات ناقابل فراموش ہیں توجابربن حیان ،ابن ہیثم اورابن سینا کی سائنسی اورطبی خدمات درخشاںاورتابندہ ہیں۔تاریخ شاہد ہے کہ جب امریکہ اپنے تاریک دورسے گذررہا تھا اس وقت غرناطہ ، اسپین اور بغداد میںمسلمانوں کے علم کی طوطی بولتی تھی۔یورپ کا ایک تاریک دوروہ گذراہے جس میں مذہب کی بالادستی تھی،عیسائی راہبوںاورپادریوں نے جدیدعلوم کی سخت مخالفت کی تھی اورجن لوگوں نے سائنسی تحقیق کی جرأت کی انہیں عبرتناک سزائیں دی گئیں، لیکن اسلام اورمسلمانوں نے کبھی علم کو مذہب کے خلاف نہیں سمجھا ،دنیا کی تاریخ میں مسلمانوں نے علم کے میدان میں جس قدرمحنت کی کسی قوم نے نہیں کیا ،آج یورپ میں جو سائنسی سیلاب آیا ہے،یہ دراصل مسلمانوں کے سائنسی ارتقاءکی رہین منت ہے ۔ اسی طرح اسلامی لائبریریوںمیںاسلامی کتابوں کے جو حیرت انگیز ذخیرے پائے جاتے ہیں یہ انہیں علماءکی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔
لیکن افسوس کہ جس قوم کوپڑھنے کی سب سے زیادہ تاکید کی گئی تھی ،جس قوم کے ہاتھوںمیںقلم تھمایاگیاتھا ،جس قوم کے مذہب نے اپنے ماننے والوںکو ہر نفع بخش علم پر ابھاراتھا،جس قوم کی پہچان علم سے ہوتی تھی آج وہ قوم علم کے میدان میں ساری دنیا سے پیچھے ہے ۔لیکن جس قوم کا دین اس کی تحقیق کی راہ میں مزاحم ہوا ، اس نے اپنے دھرم کی پرواہ کیے بغیرجرأت تحقیق کی اورمسلم سائنس دانوں کے علم سے خوشہ چینی کرکے اپنی پہچان بنائی اورپوری دنیا پراپنی سیاسی اوراقتصادی بالادستی حاصل کرنے میں بالآخرکامیابی حاصل کرلی ۔یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہمارے آباءنے علم کے موتی چنے تھے لیکن آج وہ اغیارکی جھولی میں چلے گئے ،صدیاں گذرگئیں اورہم سائنس وطب کے میدان میں کوئی سنجیدہ کام نہ کرسکے ،اس علمی افلاس پر جتنا سردھنا جائے کم ہے،اقبال نے اسی کا رونا رویاتھا
یہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباءکی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
 سائنس اورٹکنالوجی کے میدان میں مسلمان ادبار کا شکارتو ہیں ہی دینی علوم میں میں بھی ان کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے ،آج قوم کے تین چارفیصد بچے جو دینی مدارس میں زیر تعلیم ہیں،ہرسال ہزاروں کی تعداد میں فارغ ہوتے ہیں لیکن نہ جانے انہیں زمین نگل جاتی ہے یا آسمان اچک لیتی ہے ، مساجدکے منبرومحراب کے لیے قابل ائمہ وخطباءنہیں ملتے، مسندتدریس سنبھالنے کے لیے لائق اساتذہ نہیں ملتے ، دعوتی کام کے لیے تجربہ کاردعاة کی کمی ہے ۔قوم کے خواص کی جب یہ صورتحال ہوگی توعوام کی حالت کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے ۔ہمارے بیچ جولوگ تعلیم یافتہ سمجھے جاتے ہیںان کا علم سے لگاؤ بہت کم دکھائی دیتا ہے ،جس ملازمت سے جڑے ہوتے ہیں ان میںآگے بڑھنے اورجدت لانے کے لیے فکرمندنہیں ہوتے ، ان کے نزدیک علم میں اضافہ کے لیے کسی طرح کی سنجیدہ کوشش بیکار معلوم ہوتی ہے۔جب صورتحال ایسی ہوگی تو اس قوم کا مقدرزوال کے علاوہ اور کیا ہوسکتاہے ۔ اللہ تعالی ہمارا حامی وناصر ہو۔
مکمل تحریر >>

منگل, نومبر 05, 2013

حقیقت خرافات میں کھوگئی


حقیقت اور خرافات دوالگ الگ اورمتضاد چیزیں ہیں جن کا بیک وقت ایک ساتھ اکٹھا ہونا اجتماع ضدین ہے ۔ البتہ حق وباطل کی معرکہ آرائی میں وقتی طورپر حقیقت خرافات میں کھوجاتی ہے ۔ ایسا ہردورمیں ہوتا آیا ہے اور آج بھی ہورہا ہے ، اسلام سب سے پہلا مذہب ہے اوراس کی سب سے پہلی دعوت توحید ہے اس کے باوجود شیاطین جن وانس نے ہردورمیں انسانوں کو شرک کا آلہ کاربنائے رکھا اورحقیقت خرافات میں کھوتی رہی، اسی حقیقت کی دبیز تہہ سے پردہ اٹھانے کے لیے ہردورمیں انبیائے کرام مبعوث کئے گئے ۔لاکھوں انبیائے کرام کی دعوت کے باوجود رحمت عالم صلى الله عليه وسلم کی بعثت کے وقت ساراعالم کفروبت پرستی سے جوجھ رہا تھا محض اس بنیاد پر کہ حقیقت خرافات میں کھوچکی تھی ،ہمارے آقا نے اپنی نبوت کی23سالہ زندگی میں حقیقت اورخرافات کا ایسا واضح تصور پیش کردیا کہ اس کی رات بھی دن کی مانند ہوگئی لیکن بُرا ہوجہالت اورہوائے نفس کا کہ مرورایام کے ساتھ یہ امت اپنے نبی کی تعلیمات سے دور ہوتی گئی ، امت کا ایک بڑاطبقہ گمراہی کا شکار ہوگیا پھر حقیقت کی جگہ پر خرافات کوفروغ ملنے لگا اورروایات کی گرم بازاری ہوگئی۔ آج برصغیرپاک وہند میں ایسے بے شمار اعمال وتصورات پائے جاتے ہیں جوحقیقت میں ایجاد بندہ ہیں لیکن دین کے نام پر مسلم معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں۔
 محرم الحرام کا یہ مہینہ جس سے ابھی ہم گذر رہے ہیں ،بے انتہا اہمیت کاحامل مہینہ ہے،یہ مہینہ ان چارحرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جس میں بالخصوص اللہ پاک نے اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے منع کیا ہے ،سورة التوبةآیت نمبر36 میں اللہ پاک نے فرمایا: فلاتظلموا فیہن أنفسکم ”ان( چارمہینوں:ذوالقعدہ ،ذوالحجہ ،محرم اوررجب )میں اپنے نفس پر ظلم مت کرو“۔ظلم توویسے بھی سال کے بارہ مہینوںمیں حرام ہے ، لیکن ان چارمہینوںمیں ظلم کی حرمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ ان چارمہینوں کی حرمت کا خیال رکھتے تھے اوراِن میں قتل وقتال سے بچتے تھے ۔اس لیے محرم کے مہینے میں خاص طورپر گناہوں سے بچنا چاہیے اورنیکیوں کے کام زیادہ سے زیادہ کرنے چاہئیں ۔خاص طورپر ان دنوںمیں روزوں کا اہتمام زیادہ کرنا چاہیے کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أفضل الصیام بعدرمضان شھر اللہ المحرم (مسلم 1136) رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہ محرم کے روزے ہیں ۔ پتہ یہ چلا کہ اس مہینے میں نفلی روزوں کا اہتمام زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے ۔ خاص طورپر عاشوراءکے دن یعنی دس محرم کو روزہ ضرور رکھنا چاہیے ۔کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب تک مکہ میں رہے اس دن کا روزہ رکھتے رہے ،جب مدینہ آئے تو خود رکھا اورصحابہ کرام کو بھی رکھنے کا حکم دیا ،لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اختیار دے دیا کہ جو چاہے رکھے جوچاہے نہ رکھے ۔ (صحیح بخاری 2001،2003 صحیح مسلم : 1125) 
آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اس دن کا روزہ کیوں رکھاجاتا ہے ؟ تو اس سلسلے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی یوم عاشوراءکا روزہ رکھتے ہیں،آپ نے ان سے پوچھا: تم اس دن کاروزہ کیوں رکھتے ہو؟انہوں نے کہا: ھذا یوم عظیم أنجی اللہ فیہ موسی وقومہ وأغرق فرعون وقومہ فصامہ موسی شکرا فنحن نصومہ ”یہ عظیم دن ہے ،اس میں اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام اوران کی قوم کو نجات دی اورفرعون اوراس کی قوم کو غرق کیا چنانچہ موسی علیہ السلام نے شکرانے کے طورپر اس دن کاروزہ رکھا اس لیے ہم بھی اس دن کاروزہ رکھتے ہیں ۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فنحن أحق وأولی بموسی منکم '' تب تو ہم موسی علیہ السلام کا زیادہ حق رکھتے ہیں اورہم ان سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہیں ۔" پھر آپ نے خود اس دن کا روزہ رکھا اورصحابہ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔(صحیح بخاری : 2004 صحیح مسلم 1130) اورجب اس کی اہمیت کی بابت پوچھا گیا توآپ نے فرمایا: یکفر السنة الماضیة ( صحیح مسلم 1162)کہ پچھلے ایک سال کا گناہ معاف کردیاجاتا ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اخیر وقت تک عاشورہ کا روزہ رکھتے رہے ،البتہ وفات سے ایک سال پہلے آپ سے کہا گیاکہ اسی دن یہودونصاری بھی روزہ رکھتے ہیں توآپ نے فرمایا: فاذا کان العام المقبل ان شاءاللہ صمنا الیوم التاسع (صحیح مسلم1134 ) جب آئندہ سال آئے گا تو ہم ( دس محرم کے ساتھ) نو محرم کا بھی روزہ رکھیں گے ۔لیکن محرم تک آپ باحیات نہ رہ سکے ،اورربیع الاول ہی میں دنیا سے چلے گئے ۔اس لیے دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ بھی رکھنا چاہیے ۔ 
غرضیکہ ماہ محرم میں ہمارے حبیب کی سنت یہ ہے کہ بکثرت روزے کا اہتما م کیاجائے خاص طورپر عاشوراءکے دن اس تاریخی واقعے کو تازہ کرتے ہوئے روزے رکھے جائیں جس دن اہل حق فتح وکامرانی سے سرخروہوئے اوراہل باطل کی شب تاریک کا خاتمہ ہوا، جس دن موسی علیہ السلام کوفرعون کے چنگل سے نجات ملی تھی اورفرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت دریائے نیل میں غرقاب ہوکرہمیشہ کے لیے عبرت کاسامان بنا تھا ، چنانچہ ہردورمیں اللہ والوں نے اس دن روزہ رکھنے کا اہتمام کیا یہی حقیقت ہے عاشورہ کی اوربس۔ 
لیکن اللہ کی مشیت ہوئی کہ سن 61 ھ میں عاشورہ ہی کے دن ایک جگرخراش اوردل دوز حادثہ پیش آیا یعنی جگرگوشہ بتول اورنواسہ رسول سیدنا حسین  رضى الله عنه میدان کربلا میں شہید ہوکر زندہ وجاوید بن گئے ۔  یہیں سے تاریخ نے ایسا رخ بدلا کہ پچھلی ساری حقیقتیں ذہنوں سے اوجھل ہوگئیں اوراس امت کا ایک طبقہ روایات میں کھوکر رہ گیا ، چنانچہ اگرایک طرف قاتلان حسین رضى الله عنه نے اچھے ملبوسات زیب تن کرنے ، اچھے کھانے پکانے اورسرمہ لگانے کی بدعت ایجاد کی تودوسری طرف سیدناحسین رضى الله عنه سے محبت کا دعوی کرنے والوں نے اس دن کو رنج والم کا دن قرار دیا ۔ بدقسمتی سے اہل سنت کے جاہل عوام میں یہ تصورات نفوذ کرگئے ، اب ان میں کا ایک طبقہ عاشورہ کے سلسلے میں نبوی طریقہ کو فراموش کرکے بدعی طریقہ کا قائل اورعامل ہے حالانکہ سنت کا طریقہ یہ تھا کہ اس دن روزے رکھے جائیں
حقیقت خرافات میں کھوگئی     یہ امت روایات میں کھوگئی
اہل بیت سے محبت ایمان کی علامت ہے ، اورشہادت حسین  رضى الله عنه کے دردناک اورکربناک واقعے کوسن کرامت مسلمہ کا ہرفرد بے چین اورمضطرب ہوجاتا ہے ، آنکھیں اشک بار اور دل بے قرار ہوجاتا ہے لیکن ایک مسلم پر لاکھ پریشانیاں آجائیں وہ شرعی حدود کو تجاوز نہیں کرسکتا ،شریعت نے مصیبت کے وقت صبر کرنے کا حکم دیا ہے اورسینہ کوبی اورماتم وشیون سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیس منا من لطم الخدودوشق الجیوب ودعا بدعوی الجاھلیة (صحیح البخاری 1294) ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے رخساروں پر طمانچے مارے ،گریبانوںکو چاک کرے اورجاہلیت کی پکار پکارے ،یعنی واویلا کرے اورمصیبت میں موت کوپکارے “  پھرشریعت نے میت پر سوگ منانے کی مدت تین دن ہی رکھی ہے ، سوائے اس عورت کے جس کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہو، کیونکہ وہ چارمہینے اوردس دن سوگ منائے گی ۔(بخاری ومسلم) حالانکہ شہادت حسین کوایک زمانہ بیت گیا آخر اب تک نوحہ کرنا اورماتم منایا کیوں کر درست ہوسکتا ہے ؟ اورتاریخ میں محض شہادت حسین کا ہی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ ان سے پہلے بھی سیدنا حسین رضى الله عنه کے ابّاشیرخدا علی رضى الله عنه نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کردئے گئے جوسب کے نزدیک حضرت حسین رضى الله عنه سے افضل تھے ، ان سے پہلے تیسرے خلیفہ عثمان ذوالنورین رضى الله عنه کی شہادت کا المناک واقعہ پیش آیا جو حضرت علی رضى الله عنه سے بہرحال افضل تھے، ان سے پہلے خسر رسول حضرت عمرفاروق رضى الله عنه کی شہادت کا عظیم سانحہ اسی محرم کی یکم تاریخ کوپیش آیا لیکن ان سب کے یوم شہادت کوماتم کا دن نہیں بنایاگیا ۔
زندہ قومیں ہمیشہ اپنے نئے سال کا استقبال عزم اورحوصلہ کے ساتھ کرتی ہیں، اپنی غلطیوں پر رونے اورماتم کرنے کی بجائے ہمت اور استقلال کے ساتھ آنے والے سال کے لیے پلاننگ کرتی ہیں۔ یہی دانشمندانہ قدم ہے ورنہ ماضی کی غلطیوں پر آنسو بہانا اورسال کا آغاز ہی نوحہ وماتم سے کرنا شکست خوردہ قوموں کی پہچان ہے ۔ افسوس کہ اہل سنت کی ایک اچھی خاصی تعداد اس دن روزہ رکھنے کی بجائے تعزیہ داری اورنوحہ خوانی کرتی اوراس طرح کے جلوسوں میں تماشہ بیں کی حیثیت سے شریک ہوتی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہمارے خطباء اور واعظین عوام الناس کے سامنے اس مناسبت سے موسیٰ علیہ السلام اورفرعون کا واقعہ بیان کریں، ہجرت مصطفی اوراس سے حاصل ہونے والے اسباق پر گفتگوکریں، محرم الحرام کی فضیلت پر روشنی ڈالیں اورواقعہ کربلا میں جو رنگ آمیزی کی گئی ہے اس کی حقیقت سے لوگوں کوآگاہ کریں تاکہ حقیقت بے غبار ہوکرسب کے سامنے آسکے۔
 صفات عالم محمدزبیرتیمی
safatalam12@yahoo.co.in

مکمل تحریر >>

ہفتہ, جولائی 27, 2013

کتاب ِامن کے تئیں مغرب کا طرزعمل اسلام دشمنی کا شاخسانہ


ابھی ہمارے سروں پر رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہے ،اس مہينے کو اس اعتبار سے بے انتہا فضیلت حاصل ہے کہ اسی ماہ مبارک میں رشد وہدایت کا سرچشمہ،علوم ومعارف کا خزینہ اور روحانی وجسمانی بیماریوں کا علاج قرآن کریم نازل ہوا جو فائنل اتھارٹی ہے ،جس کا تعلق زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے بلکہ آسمان کی بلندیوں سے ہے ،یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ اللہ پاک نے اپنا کلام ہمارے ہاتھوں میں دے دی ہے ، جس کی عظمت کا کیا کہنا کہ اگر اسے پہاڑوں پر اتاردیا جاتا تو پہاڑاس کی ہیبت سے رائی ہوجاتے، دنیا کی یہ واحد کتاب ہے جو اپنا آغاز پرزور دعوے سے کرتی ہے کہ یہ کتاب” لاریب“ ہے اوراس کی جملہ تعلیمات خالص علم کی بنیاد پر ہیں ۔
انسانیت کی رفعت وبلندی، عزت وسطوت ،اور دنیوی واخروی فلاح قرآن کی اتباع میں مضمر ہے ، یہ کوئی مجنون کی برنہیں بلکہ زمینی حقائق ہیںکہ اس کتاب نے عرب کی غیرمہذب، بادیہ پیما اور بوریہ نشینوں کو انسانیت کی معراج تک پہنچایا چنانچہ جہانگیری وجہاںبانی ان کے قدم چومنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام کا پرچم چہاردانگ عالم میں لہرانے لگا لیکن جب امت مسلمہ نے قرآنی تعلیمات سے کنارہ کشی اختیار کی ذلت ومسکنت اس کا مقدر بن گئی ،عالمی، ملکی،اور قومی ہر سطح پر ان کی ساکھ گھٹ گئی ، علامہ اقبال جب ایک ماہر طبیب کی حیثیت سے زوال امت کے اسباب کی تشخیص پر آئے تو اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کی واحد وجہ ان کا تارک قرآن ہونا ہے چنانچہ بانگ دراکی نظم جواب شکوہ میں فرماتے ہیں
حیدری فقر ہے نہ دولت عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے
وہ زمانے میں معززتھے مسلماں ہوکر
اور تم خار ہوئے تارک قرآن ہوکر
جی ہاں! آج ہم خوار ہورہے ہیں تو محض اس لیے کہ ہم نے قرآن کے پیغام سے منہ موڑ لیا ہے ، کیا یہ المیہ نہیں کہ آج ہم میں سے بیشتر لوگ قرآن پڑھنا نہیں جانتے ، اور جو لوگ پڑھنا بھی جانتے ہیں انہوں نے اسے اپنی طاقچوں کی زینت بنارکھا ہے، اور جولوگ پڑھتے بھی ہیں تو ان کا پڑھنا محض تبرک کی خاطر ہوتا ہے ،یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے کہ دنیا کی ہر کتاب سمجھ کر پڑھی جاتی ہے لیکن خالق ارض وسما کے کلام کے ساتھ ہمارا معاملہ بالکل الٹا ہوتا ہے،ہماری اکثریت کو کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ انسانیت کے نام آنے والے کلام ربانی کے پیغام کو جانیں اور اسے اپنی عملی زندگی میں جگہ دیں ۔ ظاہر ہے کہ جب ہم نے ہی کلام الہی سے پہلو تہی اختیار کی ہے تو غیر تو غیر ہیں ....لیکن پھر بھی دشمنان اسلام نے قرآن کی عظمت کا ادراک ہم سے کہیں زیادہ کیا اور اس کے آثار کو ملکوں اور قوموں سے نابود کرنے کی کوشش کی کیونکہ انہیں اس بات کا شدید خطرہ لاحق تھا کہ مبادا یہ امت قرآن کی طرف لوٹ آئے چنانچہ عہد وکٹوریہ کے وزیر اعظم مسٹر گلیڈ اسٹون نے قرآن مجید کا ایک نسخہ ہاتھوں میں اٹھاکر برطانوی دارالعلوم کے ارکان کو بتایا کہ ” جب تک یہ کتاب مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود رہے گی یورپ مشرق پر قبضہ نہیں جماسکتا اور نہ وہ بذات خود امن وامان سے رہ سکتا ہے“ ۔
چنانچہ اسی ذہنیت کے زیر اثر ان کی نارواکوششیں مختلف رنگ وروپ میں گل کھلاتی رہتی ہیں اسی سلسلے کی ایک کڑی حالیہ دنوں منظر عام پر آئی ہے ، 11 ستمبر کے حادثے کو لے کر اگلے ماہ کی اسی تاریخ کو فلوریڈا کے ایک عیسائی چرچ نے قرآن کریم کا نسخہ نذر آتش کرنے  کا منصوبہ بنایا ہے اور میڈیا کے ذریعہ اس خبر کی اعلی پیمانے پر تشہیر کی جا رہی ہے ۔
حالانکہ قرآن کا ادنی طالب علم جانتا ہے کہ یہ کتاب امن کا علمبردار ہے، جس کتاب کی تعلیم یہ ہے کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اور ایک انسان کو بچانا ساری انسانیت کو بچانا ہے (المائدہ 32) آخر وہ دہشت گردی کی تعلیم کیوںکر دے سکتی ہے ۔
جس کتاب کا اعلان ہے کہ مذہب کے معاملے میں کوئی جبرواکراہ نہیں (البقرہ 256) آخر وہ کتاب تشدد پر کیسے ابھار سکتی ہے ۔ جس کتاب نے لکم دینکم ولی دین (الکافرون 6) کے ذریعہ ہرمذہب کے مانے والوں کو اپنے مذہب اور طریقہ کے مطابق زندگی گزارنے کا اختیار دیا ہے آخر وہ تنگ نظری کی داعی کیوں کر ہوسکتی ہے ۔ جس کتاب نے کسی مذہب کی عبادت گاہ کو منہدم کرنے یا اس پر غاصبانہ تسلط جمانے کو نا پسند کیا ہے  (الحج40) آخر وہ ناروا داری کی تعلیم کیوں کر دے سکتی ہے ۔ جس کتاب نے امن وامان سے رہنے والے غیرمسلموں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور عدل وانصاف روا رکھنے کی تاکید کی ہے (الممتحنة 8) آخر وہ قطع تعلق کی دعوت کیوں کر دے سکتی ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر مغرب کو اپنے دل کا بھڑاس نکالنے کے لیے قرآن کریم کا نسخہ ہی کیوں نظر آیا ، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قرآن ہی ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔ یہ کتاب ہی آج مردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونک رہی ہے ، کیونکہ قرآن  ھدی للناس  (البقرہ 185) یعنی تمام انسانیت کے لیے رشد وہدایت کا سرچشمہ ہے اور اس کا اعجازمحض یہ نہیں ہے کہ یہ تا صبح قیامت ساری انسانیت کے لیے چیلنج ہے بلکہ اس کا سب سے بڑا اعجاز یہ ہے کہ اس کے اندر انسانیت کو بدلنے کی پوری صلاحیت موجود ہے ۔ آخر عمرفاروق رضى الله عنه جیسا سخت مزاج انسان کيوں کرپروانہ اسلام میں داخل ہوا ؟ ولید بن مغیرہ جیسا کٹر دشمن رسول کیوںکر قرآن پاک کے کلام الہی ہونے کا برملا اعلان کیا ، قبیلہ دوس کا طفیل بن عمروکیوں کر اسلام کی دولت سے مالا مال ہوا، حبش کا نجاشی بادشاہ کیوں کرقرآن کی حقانیت کا معترف ہوا ،یہ قرآن کا جادوئی اثر ہے جس نے پتھر دلوں کو موم بنا دیا اور آج بھی بنا رہا ہے اسی لیے دشمنان اسلام بوکھلاہٹ میں اس کتاب پر طرح طرح کا الزام ڈال رہے ہیں ،کبھی اسے انسانی کلام باور کرانے کی کوشش کرتے ہیںتو کبھی اس پر دقیانوسیت کالیبل چسپاں کرنے کی ناروا جسارت کرتے ہیںتو اب اسے تشدد کا داعی اور پیغامبر ثابت کرنے جرأت کی جا رہی ہے ۔
لہذا یہ ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کے ساتھ اپنے طرزعمل پر نظر ثانی کریں، ساری انسانیت کی ہدایت کا ضامن کلام الہی ان کے ہاتھوں میں موجود  ہے ، گم کردہ راہ انسانیت کی رہبری اسی کتاب سے ہوسکتی ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان قرآن کی تعلیمات کو گھر گھر عام کریں، اسکے نہج پر اپنے گھر ،خاندان اور معاشرہ کی تربیت کریں،دنیا کی زندہ زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم غیرمسلموں تک پہنچائیں ، قرآن کے تعارف پر مشتمل کتابچے تقسیم کیے جائیں،ظلمت ِ شب کومٹا نا ہے تو قرآن کی شمع جلانی ہوگی ،اسی کی روشنی میں انسانیت اپنی راہ طے کر سکتی ہے 
 مسلمانو! اٹھو قرآن کی عظمت کو چمکاؤ
  جہانِ بے اماں کو عافیت کے راز سمجھاو
 زمانہ آج بھی قرآن ہی سے فیض پائے گا
مٹے گی ظلمتِ شب اور سورج جگمگائے گا
مکمل تحریر >>

جمعرات, جولائی 25, 2013

آؤسجدے میں گریں اورلوح جبیں تازہ کریں


ابھی ہم سب رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں داخل ہونے والے ہیں ،یہ عشرہ پورے رمضان کا خلاصہ ہے ،اس کے دن روزہ رکھنے کے اوراس کی راتیں عبادت کرنے کی ہیں ،اس عشرے میں ہی وہ رات آتی ہے جسے قرآن مجید نے ہزار مہینوں سے افضل قراردیاہے ،جودراصل ایک طویل زندگی پانے والے انسان کی مدت عمر ہے ،جس میں فرشتے جبریل امین کی معیت میں قطار اندر قطارنازل ہوتے ہیں ،جس میں پورے سال کے لیے اجل اوررزق کے فیصلے ہوتے ہیں،جوطلوع فجر تک خیروسلامتی اور برکت کی رات ہوتی ہے ۔ یہ رات امت محمدیہ پر خالق کائنات کی طرف سے ہونے والی خصوصی عنایات میں سے عظیم عنایت ہے ،جس خوش نصیب کواس رات میں شب بیداری کی توفیق مل گئی گویا اس نے تراسی برس چارماہ سے زائد کا زمانہ کامل عبادت میں گذارا۔ہمارے حبیب کی زبانی جو اس شب کے برکات سے فیضیاب ہوا وہ واقعی کامیاب ہے اورجس نے کوتاہی کی وہ سب سے بڑا محروم انسان ہے۔ اس عشرے کا پیغام رجو ع الی اللہ،توبہ وانابت ،گریہ وزاری، نالہ نیم شبی اورآہ سحرگاہی ہے ۔ان دنوںمیں ایک مومن کے شب وروزکے معمولات بالکل بدل جانے چاہئیں کہ یہی سنت حبیب ہے ،اعتکاف کرنا چاہیے ،شب بیداری کرنی چاہیے اوراپنے تمام اہل خانہ کوبیدار رکھنا چاہیے ۔
صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہا نے جب ہمارے آقا سے اس رات کا وظیفہ پوچھا توآپ نے فرمایاتھا: یوںپڑھا کرو: اللھم انک عفوتحب العفو فاعفعنی ”اے اللہ! تومعاف کرنے والا ہے ،معافی کو پسند کرتا ہے ،پس تومجھے معاف کردے “۔گویا ان راتوںمیں بکثرت دعا اوراستغفار کا اہتمام کرناچاہیے۔
عزیز قاری ! دنیاکا یہ دستورہے کہ جب کسی کو کوئی ضرورت پیش آتی ہے تواس کی تکمیل کے لیے ایسے لوگوں کے پاس جاتا ہے جن سے اس کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں ،لیکن کبھی تو اس کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور کبھی نامراد لوٹتا ہے البتہ جس ذات نے انسان کوبنایاہے ،اس پر اپنی بے پناہ نعمتیں کی ہیں اس کا دروازہ ہروقت ،ہرآن اور ہرلمحہ کھلا ہوا ہے ۔وہ کمالِ شفقت سے اپنے بندوں کوبلاتا ہے اِدھر اُدھر مت جاؤ ،دردرکی ٹھوکریں مت کھاؤ ادعونی اَستجب لکم ''ہم سے مانگوہم تمہیں دیں گے" ،ہمیں پکاروہم تمہاری پکار سنیں گے ،وہ ذات غنی ہے ، اس کے دربارسے کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا ،اس کے خزانے میں کسی چیز کی کمی نہیں ،اگرشروع انسانیت سے قیامت تک کے انس وجن ایک کھلے میدان میں جمع ہوکر اس سے اپنی مرادیں مانگیں ،اورہرایک کواس کے سوال کے مطابق عطاکردے تو اس سے اس کے خزانے میں اتنی ہی کمی ہوگی جتنی کمی سوئی کوسمندر میں ڈال کرنکالنے سے سمندرکے پانی میں ہوتی ہے ۔دنیاوالے مانگنے سے ناخوش ہوتے ہیں لیکن اس کی شان کریمی دیکھو کہ جواس سے مانگتا ہے اس سے خوش ہوتاہے اورجو اس سے نہیں مانگتا اس سے ناخوش ۔ ایک بندہ جب تواضع وانکساری سے اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تواسے شرم آتی ہے کہ اپنے بندے کو خالی ہاتھ کیسے لوٹائے کیونکہ وہ بے پناہ حیاوکرم والا ہے ۔
وہ سمندر کی تہہ سے پکارنے والوں کی پکار کوبھی سنتا ہے ،خلوت میں اللہ کے ڈر سے گرنے والے آنسوؤں پر بھی نظر رکھتا ہے ،مظلوم کے نہاں خانہ دل سے نکلنے والی فریادکوبھی سنتا ہے اورشب دیجورمیں گریہ وزاری کرنے والے کی گریہ پر بھی دھیان رکھتا ہے۔ اس نے آدم علیہ السلام کی پکارسنی ہے ، ابراہیم علیہ السلام اورزکریا علیہ السلام کوبڑھاپے میں اولاد سے نوازاہے ،نوح علیہ السلام کی دعا قبول کی ہے ،ایوب علیہ السلام کی فریادرسی کی ہے ،یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی ہے، اپنے حبیب کی سنی ہے ،صدیق کی سنی ہے ،شہداءوصالحین کی سنی ہے ۔
  کہاں ہیں وہ مظلوم جن پر دنیا والوں نے ظلم کیا ہے ،کہاں ہیں وہ ضرورتمند جنہیں دنیا نے دھتکارا ہے ،کہاں ہیں وہ پریشان حال ،دل شکستہ اور بے کس جس نے ہرجگہ کی خاک چھانی ہے اللہ کا دروازہ ہروقت کھلا ہے ،اس کی باران رحمت ہمیشہ برستی ہے ،اس کے ہاں دعائیں رائیگاں نہیں ہوتیں ،وہ تو رات کے سہہ پہر میں سمائے دنیاپر اُتر کر اعلان کرتا ہے : ”ہے کوئی جو مجھے پکارے میں اس کی پکار سنوں، ہے کوئی جو مجھ سے مانگے میں اس کو دوں،ہے کوئی جو مجھ سے مغفرت طلب کرے کہ اسے معاف کردوں؟ “ مانگنے کا سب سے مناسب وقت آچکا ہے ،جس سے بھی کسی طرح کی کوتا ہی ہوئی ہے اس عشرے میں کمرہمت باندھ لے، روئے ،گڑگڑائے،آنسو بہائے کہ اگر صبح کا بھولا ہوا شام گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے 
       سرکشی نے کردئیے دھندلے نقوش بندگی
 آؤ سجدے میں گریں اورلوح جبیں تازہ کریں
                     صفات عالم محمد زبیر تیمی                             
 safatalam12@yahoo.co.in 

مکمل تحریر >>

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں


 ان دنوں عالم اسلام جن نازک صورتحال سے گذررہا ہے وہ جگ ظاہر ہے، پاکستان میں بم دھماکے ،ڈرون حملے اورقتل وخونریزی کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے، رمضان کے مبارک دنوںمیں بھی خون مسلم کی ارزانی ہے ، اورہندوستان میں ہندوؤں کی متعصب تنظیموں کی پشت پناہی میں مسلم نوجوانوں کاانکاونٹر اورانہیں جیلوں کی سلاخوںمیں ڈالے جانے کا سلسلہ بھی تھمتا نظر نہیں آرہا ہے۔آرایس ایس اوراس کی ذیلی تنظیمیں ہندوستان کے کونے کونے میں فرقہ وارانہ فسادات کراکر2014ءکے انتخاب کی تیاری میں مصروف ہیں، اپنی خبیثانہ ذہنیت اورشاطرانہ چال سے بڑا سے بڑا جرم کرتی ہیں اورالزام مسلمانوں کے سر ڈالتی ہیں ۔ فلسطین میں مسلسل اسرائیلی دہشت گردی جاری ہے،اوررمضان کے آغازسے ہی یہود کی سرکشی میں تیزی آچکی ہے ،قبلہ اول کی بنیادوںمیں کھدائی اس قدر کی جاچکی ہے کہ اندیشہ ہے کہ مسجداقصی کا ایک حصہ کسی بھی وقت زمین بوس ہوجائے ،عراق میں آئے دن قتل عام ہورہا ہے، سوریا میں نصیری حکومت اہل سنت کا صفایاکرنے پرکمربستہ ہے، مصرمیںتین دہائی تک ظالم وجابر ڈکٹیٹرحکومت کے ظلم وجبر سے تنگ آنے کے بعدانقلاب آیااورعوامی انتخاب کے ذریعہ جوحکومت بنی اس سے قوم کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی نظرآرہی تھیں لیکن دشمن گھات میں لگا تھا ، دسیسہ کاریاں کامیاب ہوئیں اوراس حکومت کا بھی تختہ پلٹ دیاگیا،ابھی مصرمیں فوج کی حکومت ہے،ڈاکٹرمرسی کے حامیوں کااحتجاج تاہنوز جاری ہے۔یہ ہیں وہ ناگفتہ بہ حالات جن سے قوم مسلم ان دنوں گذر رہی ہے ۔
 ہمیں سردست مصرکی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرنی ہے ، یہ زمینی حقائق ہیں کہ جس دن اخوان المسلمون کی حکومت بنی ہے اسی دن سے ڈاکٹرمرسی اسلام دشمن عناصر کے حلق کا کانٹا بن گئے،سیکولرمیڈیا ان کی معمولی کوتاہی کو پہاڑ بناکر پیش کرتا رہا ہے ، سیسی کوفوج کے کمانڈر کی حیثیت سے خودڈاکٹرمرسی نے نامزدکیا تھا تاہم فوج کا ہمیشہ حکومت کے ساتھ سوتیلاپن کا رویہ رہا ،ادھر مخالفین موقع کی تلاش میں تھے چنانچہ ملک شام کے موجودہ پس منظر میں گذشتہ ماہ جب ڈاکٹرمرسی نے عالم اسلام کے170 سرکردہ علمائے کرام ، دانشوران اورمفکرین کی ایک میٹنگ بلائی ،جس میں سب نے شام کے خلاف متفقہ قرارداد پاس کیا کہ سوریا میں علویوں کے خلاف جہاد وقت کا تقاضا ہے ۔پھرڈاکٹرمرسی نے اسی مجلس میں نہایت جرأت کے ساتھ بشار حکومت سے اپنے تمام تر سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ، اسی کے کچھ دنوں بعد چندغیرتمند نوجوانوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اورصحابہ کرام ؓکی اہانت کرنے والے چاررافضیوں کو کیفر کردار تک پہنچایا ،اس طرح کے واقعات نے دشمن کو موقع بہم پہنچایا،چنانچہ ان کے دلوںمیں اسلام دشمنی کا پکتا ہوا لاوا پھوٹ پڑا، اور جمہوری طرزپر منتخب حکومت کے خلاف سراپااحتجاج بن گئے ،مارچ شروع کردیا ،مظاہرے کئے بالآخر دشمن کی سوچی سمجھی پالیسی کامیاب ہوئی اورجس کی لاٹھی اس کی بھینس کے تحت ڈاکٹرمرسی کومعزول کردیا گیا ،ابھی ڈاکٹر مرسی فوج کے قبضہ میں ہیں ،کہاں ہیں اب تک اس کی کوئی اطلاع نہ مل سکی ہے ، اخوان المسلمین کے سرکردہ لیڈران بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیے گئے ہیں، ڈاکٹرمرسی کے حامیوں کا مظاہرہ تاہنوز جاری ہے، 8جولائی کے مظاہرہ میں فوج نے مظاہرین پر نمازفجرکی حالت میں گولی چلادی جس میں سترسے زائدلوگ شہید ہوئے،اور تقریباً روزانہ مظاہرے ہورہے ہیں اوران میںمردوخواتین کا خون ہورہا ہے ۔
 اگر اس حادثے پر سنجیدگی سے غورکیا جائے تو اس میں یہودونصاری کی ملی بھگت اور اسلام دشمن عناصر کی کارستانی واضح طورپرنظرآئے گی ، لیکن پھر بھی اس حوالے سے مسلمانوںکی جماعتیں دو گروہوں میں بٹ چکی ہیں ، ایک طرف مرسی کے مؤیدین ہیں تو دوسری طرف مرسی کے مخالفین ہیں ، میں نہ تو مرسی کی تائیدکرنے بیٹھا ہوں نا ان کے مخالفین کوکوسنامیرا مقصد ہے تاہم اس طرح کے حادثے میں ملت کے آپسی اتحادکا فقدان امت مسلمہ لیے نیک فال ہرگزنہیں ہے،بلکہ خطرے کی گھنٹی ہے، ہمیں ڈاکٹر مرسی سے اختلاف ہوسکتا ہے ،ان کے نظریہ سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن جب اسلام کا نام لینے کی بنیاد پرکسی خاص جماعت کویرغمال بنایا جارہا ہو اوردشمن طاقتیں اس کا صفایہ کرنے پر تلی ہوں ایسے حالات میں عالم اسلام کا تحفظ برتنایا ان سے بے رخی اختیار کرنا یاان کے مقابلہ میں دشمن کا ساتھ دینا بزدلی کی علامت ہے اورمستقبل میں اس کا انجام بہرصورت بہتر نہیں ہوگا۔
 امت مسلمہ کے موجودہ حالات اس بات کے متقاضی تھے کہ ہم اپنے سارے اختلافات کوپس پشت ڈال کر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہوتے، وحدت ویگانگت میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوتے کہ دشمن کو ہماری قوت وطاقت کاصحیح اندازہ ہوتالیکن ہم ہیں کہ اپنے ہی بھائیو ں کو دشمن کا لقمہ تر بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ دشمنوں نے ہردورمیں ’پھوٹ ڈالو اورحکومت کرو‘ کے اصول کے تحت ہمیں اپنا یرغمال بنایاہے،ہماری سادہ لوحی اور اوروں کی عیاری سے ہر دورمیں ہمیں زک پہنچا ہے، ہمارا دشمن عیاری کی آخری حد پار کرچکا ہے ،وہ ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے انسانیت سے گری ہوئی حرکتیں کرنے کے لیے بھی ہمہ وقت تیار ہے،مسلمانوں کے بیچ فرقہ وارانہ فسادات کرانے اورمختلف فرقوں کو آپس میں لڑانے کے لیے عالمی سطح پر منصوبہ بندی ہورہی ہے ، اس کے لیے بجٹ خاص کیاجارہا ہے اورہم ہیں کہ ہوش کے ناخن لینے کے لیے تیار نہیں ، مسلکی اختلافات میں الجھ کرہم نے انہیں اساس دین سمجھ رکھا ہے،اورہمارے اندر سے دین کی آفاقیت کا شعور نکلتا جارہا ہے۔ہمارے پاس چوٹی کے علماءپائے جاتے ہیں لیکن صدحیف کہ ان میں سے اکثر کی صلاحیتیں منفی شعور کو فروغ دینے میں صرف ہورہی ہیں، اس لیے اب ہمیں خواب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا ،ہمیں اپنے دشمن کی سازش کو سمجھنا ہوگااور اپنی صفوںمیں اتحاد پیدا کرنی ہوگا ۔
توآئیے ہم عہد کرتے ہیں کہ رمضان کے بابرکت ایام میں اپنے احوال کا جائزہ لیں گے رب کائنات سے لو لگائیں گے،اپنی کوتاہیوں پرنادم اورپشیمان ہوں گے ،اس کی جناب میں گڑگڑائیں گے،اورپھرقوم مسلم کے اتحاد کے لیے سنجیدہ کوشش شروع کردیں گے ۔
                                                           اللہ تعالی ہمارا حامی وناصر ہو ۔

  
مکمل تحریر >>