ہفتہ, نومبر 24, 2018

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مثالی زندگی کے دو نمونے


جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو مدینہ میں پہلے پہلے جہاں مسجد نبوی کی تعمیر کی وہیں  انصار اور مہاجرین کے بیچ مواخات یعنی آپسی بھائی چارہ قائم کیا، چنانچہ عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ جو مکہ سے آئے تھے، سعد بن ربیع  رضی اللہ عنہ کے بھائی بنا دئیے گئے جو مدینہ کے تھے۔اس نسبت سے دونوں دینی بھائی ٹھہرے، اب کیا تھا؟ سعد  رضی اللہ عنہ نے کہا، بھائی! میں مدینہ میں سب سے زیادہ مال دار آدمی ہوں۔ میرے دو باغ اور دو بیویاں ہیں۔ جو باغ تمہیں اچھا لگتا ہے ، تمہارے لیے چھوڑ دیتا ہوں اور جوبیوی تم کو پسند آتی ہے ،میں اسے طلاق دے کر تمھیں سونپ دیتا ہوں۔ ابن عوف  رضی اللہ عنہ نے جواب دیا،  بارک اللہ لک فی أھلک ومالک دلونی علی السوق.اﷲ تمہارے اہل و عیال اور مال و دولت میں خوب برکت دے ۔ مجھےبازار کا راستہ  بتا دو، یہاں قریبی بازار کون سا ہے؟ سعد  رضی اللہ عنہ نے کہا، بازار قینقاع۔ صبح سویرے عبدالرحمان  رضی اللہ عنہ نے بازارکارخ کیا۔ کچھ گھی اور پنیر لے کر  بیچنے لگے،  اسی طرح تجارت کرتے کچھ دیر گزری تھی کہ ان کا شمار مدینہ کے متمول افراد میں ہونے لگا، اس قدر غلہ اور سامان تجارت ہو گیا کہ اسے ڈھونے کے لیے کئی سو اونٹوں کی ضرورت پڑتی۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ: میں کوئی پتھر بھی اٹھاتا تو میرے لیےسونا چاندی بن جاتا تھا۔ ایک دن خدمت نبوی میں حاضر ہوئے تو ان کے کپڑوں پر زعفران کا داغ لگا تھا۔
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، خیر تو ہے؟ انھوں نے بتایا: یا رسول اللہ میں نے شادی کر لی ہے ۔
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، بیوی کو مہر میں کیا دیا ہے؟ عبدالرحمان  رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کھجور کی ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا، ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أولم ولوبشاۃ ولیمہ ضرور کرو،چاہے ایک بکری ہی  سہی۔یہ ہے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک واقعہ جسے میں نے آپ کے سامنے اس لیے پیش کیا ہے تاکہ ہم اس کی روشنی میں اپنے مسلم سماج کی دو خطرناک بیماریوں کا صحیح علاج ڈھونڈ سکیں۔مسلم سماج کی پہلی بیماری ہے: بيکاری ،کام چوری، تن آسانی اور دوسروں کے لقموں پر پلنے کی عادت۔

اور دوسری بیماری ہے شادی بیاہ میں فضول خرچی، اسراف، جہیز کی لعنت، جس کی وجہ سے شادی  رحمت بننے کی بجائے زحمت بن گئی ہے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مکہ سے آئے تھے،  ساری جائیداد چھوڑ کے آئے تھے، نہتے تھے، دستگیری کے محتاج تھے، اور بہتر سے بہتر آفر بھی مل رہا تھا، بیٹھے بیٹھے بیوی ہوجاتی ، دولت مل جاتی اورشرافت کی زندگی جی لیتے، لیکن انہوں نے اس آفر کو لاد مار دیا، اپنے بھائی کو دعا دی اور محنت کرکے کمانے میں لگ گئے،  یہی ہے ایک مسلمان کا شیوہ۔ اس دھرتی پر انسانيت کی سب سے افضل جماعت انبياءعليہم السلام ہيں، ان پاکيزہ نفوس نے اپنے ہاتھ کی کمائی پر گذربسر کيا،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن ميں چند سکوں کے عوض اہل مکہ کی بکرياں چرائی اور بڑے ہوئے تو نبوت سے پہلے تجارت کی ۔آپ نے اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ تجارتی سفر کيا ۔ حضرت خديجہ ؓ کا تجارتی مال لےکر شام گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدينہ ميں باضابطہ ايک منڈی کھولی ۔جس کی ديکھ ريکھ کرنے کے لئے مستقل وہاں جايا کرتے تھے۔

 
آپ نے فرمايا : جو اپنے قوت بازو سے کما کر کھا ليتے ہوں وہ سب سے زيادہ پاکيزہ  روزی ہے ۔ اور آپ نے سچی تجارت کرنے والوں کے متعلق فرماياالتاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشھداء (ترمذیسچا امانت دار تاجر قيامت کے دن نبيوں ،صديقوں اور شہيدوں کے ساتھ اٹھايا جائے گا ۔ سبحان اللہ ۔ يہ ہے اسلام کی عظمت کہ دنيا کماؤاور جنت بناؤ، دنيا ميں روزی ملی اور آخرت ميں جنت ملی بلکہ انبياء وشہداءکی رفاقت بھی نصيب ہوئی۔اسلام ميں کوئی بھی پيشہ معيوب نہيں ہے بشرطيکہ جائز ہو،۔تاريخ بتاتی ہے کہ انبياء کرام اور علمائے امت ميں کوئی لوہار تھا، کوئی بڑھئی تھا، کوئی درزی تھا، کوئی بزاز تھا، کوئی موچی تھا اور کوئی کسان تھا  امام اعظم ابوحنيفہ رحمہ اللہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے ، امام بخاری رحمہ اللہ بھی کپڑوں کی تجارت کرتے تھے، امام قدوری رحمہ اللہ برتنوں کی تجارت کرتے تھے ۔آج مسلمانوں کی اکثريت اکثر کاموں کو اپنی شان کے خلاف سمجھتی ہے۔ سبزياں بيچ نہيں سکتے، غلے کا کارو بار کر نہيں سکتے، منڈيوں ميں سامان لے کر جا نہيں سکتے ۔خدارا ہميں بتاؤ اگرسارے انبياء نے بکرياں چرائی تو کيا ان کی شان ميں کمی آگئی ؟ حضرت يحيی عليہ السلام نے موچی کا کام کيا تو کيا ان کا مقام گھٹ گيا ؟ حضرت ابراہيم عليه السلام حضرت ابوبکرصديق رضى الله عنه ، امام اعظم ابوحنيفہ رحمہ اللہ اورامام بخاری رحمہ اللہ نے کپڑے کی تجارت کی، بزازی کا کام کيا توکيا ان کی عظمت کو بٹا لگ گيا ؟ نہيں اور ہرگز نہيں ۔ بلکہ وہ آسمان عظمت کے روشن ستارہ تھے اور رہيں گے ۔ ليکن کيا ہم اس قسم کا پيشہ اختيار کرنے والوں کو کمتر جان کر انبياء کرام اور صحابہ کی سنت پر تيشہ زنی نہيں کر رہے ہيں ؟ نہ جانے مسلم سماج ميں اس طرح کا تصور کہا ں سے آگيا کہ فلاںکام ہمارے لائق نہيں تو فلاں پيشہ غيرقوموں کا ہے ؟ نتيجہ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے اندربيکاری اور کام چوری آگئی۔آج بھی ہماری عظمت لوٹ سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لقمہ پر پلنا چھوڑ دیں، بیکاری چھوڑ دیں، محنت کریں، کاروبار کی طرف دھیان دیں، کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے پلاننگ کریں، آمدنی کم ہو لیکن پھر بھی محنت جاری رکھیں، دکان ہے تو صبح سویرے کھولیں، کاروبار میں جھوٹ نہ بولیں، دھوکہ نہ دیں، عجیب طریقے سے ہمارا کام آگے بڑھے گا۔

دوسری خطرناک بیماری جو ہمارے مسلم سماج میں پائی جاتی ہے وہ ہے شادی بیاہ میں فضول خرچی، اسراف، جہیز کی لعنت، جس کی وجہ سے شادی  رحمت بننے کی بجائے زحمت بن گئی ہے۔  حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کتنی سادگی سے شادی کرتے ہیں کہ مدینہ کی چھوٹی سی بستی میں شادی کرلیتے ہیں، لیکن تاجدار مدینہ کو خبر دینا ضروری نہیں سمجھتے، اور جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں تو بتانا بھی ضروری نہیں سمجھتے یہاں تک کہ کچھ زردی دیکھ کر پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی ہے تو بتایا کہ ہاں یا رسول اللہ، آپ نے یہ سن کر انہیں طعنہ نہیں دیا کہ تم نے شادی کرلی اور پوچھا بھی نہیں، بلکہ صرف اتنا مشورہ دیا کہ ولیمہ کرلو اگرچہ ایک بکری ہی سہی۔ جی ہاں! یہ ہے شرعی شادی، ایسی ہی شادیاں ہوتی تھیں، تب شادی رحمت تھی، زحمت نہیں، انہوں نے اپنے حبیب سے سن رکھا تھا: أعظم النکاح برکۃ أیسرہ مؤنۃ برکت کے اعتبار سے سب سے بہتر شادی وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔

یہ جلیل  القدر تابعی امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہیں جو مدینہ کے تھے، جن کے علم  کی مدینہ میں شہرت تھی، ان کی ایک نیک سیرت بیٹی تھی، بادشاہ  وقت عبدالملک بن مروان  نے  اپنے  بیٹے ولید کے لیے ان سے رشتہ مانگا تھا، لیکن سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے شادی کرنے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے عبدالملک بن مروان نے ان پر زیادتی بھی کی ۔  اور ایک نہایت غریب  لڑکے سے اس کی شادی کردی ، جس کا قصہ یہ ہے کہ عبداللہ بن وداعہ نام کا ایک طالب علم امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے درس میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ چند روز غائب رہا،پھر ایک دن جب سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے درس میں حاضر ہوا تو انہوں نے غائب ہونے کی وجہ دریافت کی ، اس نے کہا کہ میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا تھا جس کے باعث میں چند دنوں حاضر نہ ہو سکا، امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ نےاس سے تنہائی میں دریافت کیا کہ کیا تم نے شادی کرلی ۔اس نے کہا : مجھ غریب سے کون شادی کرے گا۔ امام سعید بن مسیب نے اپنی فاضلہ بیٹی کی اسی طالب علم سے شادی کردی،  پھر اسی دن شام میں اپنی بیٹی کو لیے اپنے داماد  کے گھر پہنچ  گئے ، اور دروازے پر دستک دی ، دروازہ کھولا گیا تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ تھے ، انہوں نے کہا کہ میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ رات تم تنہا گذارو، یہ لو تیری بیوی ہے۔ یہ بیٹی کوئی معمولی بیٹی نہیں تھی، ا س قد رعلمی بصیرت رکھتی تھی کہ جب شوہر شب زفاف منانے کے بعد صبح  سویرے سعید بن المسیب کے پاس پڑھنے کے لیے جانے کا ارادہ کیا تو بیوی نے کہا: آپ یہیں بیٹھیں، سعید بن مسیب کا پورا علم لے کر  آئی  ہوں، میں آپ کو سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا علم سکھاؤں گی۔حالاں کہ اس وقت مدینہ میں ان سے بڑا عالم کوئی نہیں تھا، اور بعض صحابہ کی موجودگی میں وہ  درس  دیا کرتے  تھے، اور ان کی بیٹی نے ان کے سارے علم کو حاصل کرلیا تھا ، اللہ اکبر یہی  وہ  فاضلہ خاتون  ہیں، جن کے یہ الفاظ سونے کے پانی  سے لکھے جانے کہ قابل ہیں، کہتی ہیں:جس قدر میں اپنے شوہر کی عزت کرتی  اور ان سے ڈرتی ہوں اس قدر تم  میں کا کوئی  بادشاہ  کی بھی عزت نہیں کرتا  اور ڈرتا  ہوگا۔سبحان اللہ! یہ تھا معیار ان کے بیچ شادی کا۔ لیکن آج شادی  کے حوالہ سے مسلمانوں میں پایا جانے والا بگاڑ اب ساری حدوں کو پار کرتا جارہا ہے، پانی اب سرسے اونچا ہوچکا ہے، اس سلسلہ میں فوری انسدادی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو مسلم سماج تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ جہیز کی لعنت کے سبب ملت کی ہزاروں بیٹیاں جوانی کی عمریں پار کررہی ہیں، ہزاروں غریب خاندان جہیز نہ دے سکنے کے سبب زندگی کے سکون سے محروم ہیں، جس گھر میں جوان بیٹیاں موجود ہیں، وہاں کے سرپرستوں کی رات کی نیندیں اُڑ چکی ہیں، بہت سی غربت کی ماری بچیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ فرار ہورہی ہیں اور اپنے دین وایمان کا سودا کررہی ہیں، بعض لڑکیاں شادی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے مایوس ہوکر خود کشی کرلیتی ہیں، جہیز کم لانے کی جرم میں سیکڑوں نئی نویلی دلہنوں کو جلایا جاچکا ہے، شادی مشکل ہونے کی وجہ سے زنا آسان ہو گیا ہے، سماج میں فحاشی اور بے حیائی پھیلتی جا رہی ہے۔

میرے بھائیو! جہیز کا مطالبہ در اصل مہذب انداز میں بھیک مانگنا ہے۔ جہیز حرام ہے، اور ہمارے نبی نے فرمایا: جو گوشت حرام مال سے پلے اس کے لیے جہنم بہتر ہے، جہیز رشوت خوری ہے اور ہمارے نبی نے فرمایا: رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں ملعون ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ جہیز کا بائکاٹ کیا جائے، جہیز لینے والوں سے تعلق کاٹ لیا جائے، ان کی شادیاں میں شرکت نہ کی جائے، ان کا نکاح نہ پڑھایا جائے، ہمارے نوجوان عہد کریں کہ سادگی سے شادی کریں گے، شادی میں دین واخلاق کو بنیاد بنائیں گے۔ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا دعوی کام نہیں چلے گا، اسلام کی تعلیمات کو زندگی میں اتارنا ہوگا۔ جہیز کی لعنت کی وجہ سے ہم لڑکیوں کو ان کے حق وراثت سے بھی محروم کر رہے ہیں جو ہمارے سماج کا ایک تیسرا ناسور ہے۔

لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔ جی ہاں! جیسے اللہ نے لڑکوں کو حق دیا ہے ویسے ہی لڑکیوں کو دیا ہے، آپ کون ہوتے ہیں یہ حصہ دبا دینے والے۔

مکمل تحریر >>

پیر, جولائی 16, 2018

ہماری اصل بیماری کیا ہے؟


 ہمارے آقا رحمت دو عالم ﷺ ہماری بھلائی اور خیر خواہی کے ہمیشہ حریص رہتے تھے، دن رات ٓیہی فکر ستا رہی ہوتی کہ کیسے ہماری امت دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوجائے، چنانچہ جب وحی اترتی اور کوئی پریشان کن معاملہ ہوتا تو اسی وقت منبر پر چڑھتے اور صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے حالات کی نزاکت بیان کرتے تھے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے، چنانچہ وہ فرماتی ہیں کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کے چہرے سے بھانپ لیا کہ کوئی خاص بات ضرور ہے، آپ نے وضو کیا، کسی سے کوئی بات نہیں کی اور (گھر سے) نکل گیے، (مسجد گیے) میں نے دیوار سے کان لگا لیا کہ آپ جو کچھ فرمانا چاہتے ہیں اسے سن سکوں۔ آپ منبر پر بیٹھے، اور اللہ تعالی کی حمد وثنا کے بعد فرمایا:

يا أيُّها النَّاسُ إنَّ اللهَ تبارَك تعالى يقولُ لكم: مُرُوابالمعروفِ وانهَوْا عن المنكَرِ قبْلَ أنْ تدعوني فلا أجيبَكم وتسألوني فلا أُعطيَكم وتستنصروني فلا أنصرَكم

  "اے لوگو! اللہ تعالی تمہیں فرماتا ہے کہ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں، مجھ سے سوال کرو اور میں تمہارا سوال پورا نہ کروں اور تم مجھ سے مدد مانگو اور میں تمہاری مدد نہ کروں"۔
 آپ ﷺ نے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں فرمایا اور منبر سے اتر آئے۔ (صحيح ابن حبان: 290)

محترم بھائیو! ذرا تصور کرو کہ آپ ﷺ گھبرائے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے تاکہ صحابہ کو خطاب فرمائیں، لیکن آپ نے لمبی چوڑی تقریر نہیں کی بلکہ محض اللہ رب کا ایک پیغام سنا دیا کہ اگر تم بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑ دوگے تو تمہارے رب کا دروازہ تمہارے چہرے پر بند کردیا جائے گا، اب تم لاکھ دعا کرو، مانگو، سوال کرو لیکن تمہاری دعا اور سوال پر دھیان نہیں دیا جائے گا اور تمہاری کوئی مدد نہ ہوسکے گی۔ تو بھائیو اور بہنو! ہمیں سمجھ میں آیا کہ ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہو رہی ہیں اور ہماری اصل بیماری کیا ہے؟




مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 03, 2014

سستی اور کسلمندی کا علاج کیوں اور کیسے ؟

سستی اور کسلمندی انسانی سماج کا ایک ایسا مرض ہے جس کے آج زیادہ تر لوگ شکار ہیں. یہ بیماری کسی بھی انسان کے لئے محبوب نہیں ہو سکتی بالخصوص  جبکہ سستی اپنی حد کو پار کر جائے. اگر جسم میں کبھی کبھار سستی آ جاتی ہے تویہ کوئی عیب کی بات نہیں کہ فطری معاملہ ہے کہ جسم کو کبھی کبھی آرام کی ضرورت پڑتی ہے. لیکن عیب کی بات یہ ہے کہ سستی ایک انسان کی شناخت ہی بن جائے. اس سے انسان کی شخصیت متاثر ہوتا ہے اور جب وہ آہستہ آہستہ کاہلی کا عادی بنتا جاتا ہے تو پھر اس کے لئے اس سے چھٹكاڑا پانا بھی بڑا مشکل ہو جاتا ہے.
سست شخص کبھی بھی خود کو کسی مشکل کام کے لئے تیار نہیں کرتا، وہ بہانہ بناتا رہتا ہے کہ یہ کام ہم سے نہیں ہو سکتا، یہ بہت مشکل ہے اور ایسا میں نے کبھی نہیں کیا وغیرہ.
اب سوال یہ ہے کہ کاہلی کا علاج کیوں کر ممکن ہے. اور وہ کون سے وسائل ہیں جن کو اپنا کر ہم سستی سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں؟ آئیے ذیل میں ہم ان کی معلومات حاصل کرتے ہیں:
(1) خود کا سست ہونا قبول کریں:
اگر آپ سستی سے نجات حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تو سب سے پہلے آپ کو ماننا پڑے گا کہ واقعی آپ سست ہیں. پہلا قدم یہ ہے کہ آپ سست ہونے کا اعتراف کریں تاکہ اس کا علاج ڈھونڈ سکیں.
(2) سستی کی وجہ تلاش کریں:
آپ کو خود سے پوچھنا ہے کہ آپ سست کیوں ہیں. کسلمندی کے کچھ ایسے اسباب ہوں گے جنہیں خود آپ ہی جان سکتے ہیں. کھلے دل سے اس کے اسباب کا پتہ لگائیں پھر اس کا علاج شروع کر دیں. آپ کو سوچنا چاہئے کہ سستی کی وجہ کتنے موقع کو آپ نے کھو دیا، اگر اس وقت سستی نہ کی ہوتی تو کس قدر قابل رشک زندگی گزار رہے ہوتے. واضح ہے کہ اس کے لئے آپ جن برے عادات کے عادی ہیں انہیں چھوڑنا ہوگا۔
(3) خود میں عزم پیدا کریں:
آپ کے اندر عزم آجانا چاہئے، زندگی میں اپنا ایک مقصد طے کریں اور اسے حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہیں. اس کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے اپنے لئے چھوٹے چھوٹے اہداف طے کریں، جیسے کوئی کتاب اتنے دنوں میں پڑھ لینا. قرآن کی کوئی چھوٹی سی سورہ یاد کرنا وغیرہ. جب آپ اسے عملی شکل دینے جائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا ہوں انہیں فوری طور اپنے من سے Delete کر دیں. ایک عربی شاعر کہتا ہے:
اذا كنت ذا رأى فكن ذا عزيمة
فإن فساد الرأى أن تترددا
اگر تمہارے پاس کوئی خیال یا مقصد ہے تو عزم رکھنے والے بنو کیوں کہ خیال میں بگاڑ تب آتا ہے جب انسان تذبذب میں پڑ جاتاہے.
(4) اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو لگام دیں:
جو کوئی بھی اپنا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا اور اپنے اہداف کو پانا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو لگام دے، اپنے نفس پر کنٹرول کرے، اگر کسی نے نفس کو بہلانے کی کوشش نہیں کی تو سستی اس کی شناخت بنتی جائے گی. عربی کی ایک کہاوت ہے:
النفس كالطفل إن تهمله شب على
حب الرضاع وإن تفطمه ينفطم
نفس شیرخوار بچے کی طرح ہے کہ اگر تم اس کے تئیں کوتاہی کروگے تو وہ جوان ہو جائے گا پر دودھ پینے کی خواہش نہیں جائے گی، اور اگر اس کا دودھ چھڑاو تو دودھ چھوڑ دے گا.
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے نفس کو لگام دینے کے لئے کوشاں ہوتے ہیں انہیں اللہ کی توفیق بھی ملتی ہے. اللہ نے فرمایا:
والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا (سورة العنكبوت 69 )
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہمارے راستے میں مل کر کوشش کی، ہم انہیں ضرور اپنے راستے دکھائیں گے.   
(5) خورد ونوش میں توازن اپنائيے:
 کبھی کبھی خورد ونوش کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنا بھی سستی کی وجہ بنتا ہے. اس لئے خورد ونوش میں توازن اپنايے، تلي ہوئی اشیاء کی مقدار زیادہ نہ کریں، اور ہمیشہ کھانا محدود مقدار میں لیں، کیوں کہ پیٹ بھرنے سے جسم بھاری ہوتا ہے اور جب جسم بھاری ہوگا تو طبعی معاملہ ہے کہ سستی آئے گی.
(6) سونے میں سیرابی حاصل کریں:
24 گھنٹے میں 8 گھنٹے مسلسل سونے کی عادت ڈالیں، اگر اس سے زیادہ ہوا پھر بھی سستی آئے گی اور اگر اس سے کم ہوا تب بھی بدن میں کسلمندی چھائی رہے گی، سونے جاگنے میں توازن اپنانے کی ضرورت ہے. فجر کے بعد کچھ  وقت نکال کر ہری سبزی پر ٹہلنے کی عادت ڈالیں.
(7) اپنے کاموں کی ایک فہرست بنالیں:
 اپنے کاموں کی ترجیحی بنیادوں پر ایک فہرست بنا لیں، وہ لسٹ آپکے جیب میں ہو یا ٹیبل پر جہاں بار بار اپني نظر جاتی ہو اور آپ اسے دیکھتے ہوں۔
(8) خود کی ایمانی تربیت کریں:
اگر آپ اللہ والوں کی زندگی کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ راتوں کو بہت کم سوتے تھے لیکن اس کے باوجود دن میں بالکل چست رہتے تھے، وجہ یہ تھی کہ ان کا تعلق اپنے رب سے نہایت گہرا اور پختہ تھا، اس لئے اللہ سے آپ کا تعلق مضبوط ہونا چاہئے، اس کے لئے کچھ کام کرنے ضروری ہیں:
ذکر کا اهتمام : سستی اور کاہلی کو دور کرنے میں صبح و شام کے اذکار کلیدی رول ادا کرتے ہیں.
وضو کا خیال رکھیں: اور ہر نماز کے لئے اگر ممکن ہو سکے تو تازہ وضو کریں اور وضو کے بعد دو رکعت نمازپڑھ لیں، اس سے شیطان کا دباؤ کمزور ہوگا.
پانچ وقت کی نمازوں کی مسجد میں حاضر ہوکر اپنے وقت پر پابندی: خاص طور پر فجر کے بعد کا وقت برکت اور بھلائی کا وقت ہے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کو صبح میں برکت دی گئی ہے. صبح کی نماز کے بعد تازہ ہوا لینے سے بہت سے امراض سے نجات ملتی ہے اور بدن میں چستي آتی ہے.
شب بیداری کی عادت ڈالیں کہ رات میں جگ کر نماز پڑھنا جہاں اللہ سے قربت کی علامت ہے تو دوسری طرف یہ جسم سے بیماریوں کو دور کرتا ہے.
اللہ تعالی سے عاجزی اور محبت کے ساتھ دعا کریں کہ اے اللہ ہمیں سستی اور کوتاہی سے بچالے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سستی اور کسلمندی دور کرنے کے لیے ہمیں یہ دعا بھی سكھا دي ہے:
اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، وأعوذ بك من العجز والكسل، وأعوذ بك من الجبن والبخل، وأعوذ بك من غلبة الدين، وقهر الرجال،
اے اللہ، میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر اور دكھ سے، لاچاری اور سستی، بذدلي اور کنجوسی سے، اور لوگوں کے تسلط اور غلبہ سے.
مکمل تحریر >>

ہفتہ, اپریل 05, 2014

برے دوستوں کو ڈیلیٹ کیجئے

دوستی انسان کی فطری ضرورت ہے ،مردہو یا عورت ہرایک کو اپنے جنس موافق سے دوستی ہوتی ہے ، ایک مردکے پاس جب دوست ہوتاہے یا ایک عورت کے پاس جب سہیلی ہوتی ہے تووہ آپس میں ایک دوسرے سے اپنے دل کی باتیں کر پاتے ہیں،ان کے ساتھ ان کا بہتر وقت گذرپاتا ہے ۔ کبھی دوستی بالمشافہ ہوتی تھی ،اب بالواسطہ دوستی کی ریت عام ہوچکی  ہے ،فیس بک ،ٹویٹر،اسکائپ اوروائبرجیسے سوشل میڈیا کے ذریعہ دوستی  کوزیادہ فروغ مل رہا ہے ۔  
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک آدمی اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے ،اگراس کا دوست اچھا ہوگا تو وہ بھی اچھا ہوگا اوراگر اس کا دوست برا ہوگا تو وہ بھی برا ہوگا ، اسی لیے کہتے ہیں ”مجھے بتادوکہ تمہارادوست کون ہے میں بتادوںگا کہ تم کون ہو ۔“جی ہاں! ایک آدمی اپنے دوست کے خیال ورجحان اورذوق ومزاج کے مطابق ہوتا ہے ،اس نکتے کی وضاحت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں کردی ہے: الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل (سنن ابی داؤد،سنن ترمذى) ”ایک آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا ایک آدمی کو دیکھ لیناچاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے“ ۔
ایک شرابی سے پوچھیں کہ وہ شراب نوشی کیسے شروع کیا ؟ ایک فحش کار سے پوچھیں کہ اسے فحش کی لت کیسے لگی ، ایک مجرم سے پوچھیں کہ اس کے جیل میں جانے کا سبب کیا بنا ، ایک نشہ خورسے پوچیں کہ اسے نشہ کی عادت کیسے لگی ،سب کا جواب ایک ہی ہوگا کہ بری صحبت نے اسے یہاں تک پہنچایاہے۔
اچھی یا بری صحبت سے سب سے زیادہ متاثر ہمارے بچے ہوتے ہیں کیونکہ بچپن اورنوجوانی کی عمر میں ان کو دوست واحباب سے زیادہ سابقہ پڑتا ہے ،اورواقعہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کوبری صحبت سے بہت کم بچاپاتے ہیں حالانکہ ماہرین کہتے ہیں کہ بچوں پر ان کے ماں باپ ،بڑے بھائی بہنواوررشتے داروں کا اثر صرف چالیس فیصد ہوتا ہے ،60 فیصد اثر اس پر اس کے دوستوں کا ہوتا ہے ۔ دوست اچھا ملا تو بچہ بھی اچھا بنے گااوردوست برا ملا تو بچہ بھی برا بنے گا ۔
کوئی اگر یہ دعوی کرے کہ میں برے لوگوں کے ساتھ ہوں لیکن ان کی برائی کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا ،میں کہتا ہوں وہ جھوٹا ہے ۔ ایسا ہونہیں سکتا کہ ایک آدمی بروں کے ساتھ رہتا ہو اوروہ اچھا سے اچھا بن کر رہے ،اس لیے اگر ہم برے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں تو یہ یاد رکھیں کہ اِس کا انجام ہمیں دنیامیں بھی بھگتنا ہوگا اورآخرت میں تو جہنم کے عذاب کی شکل میں بھگتنے والے ہی ہیں ۔بری صحبت اپناناگویابرے انجام کو اپناناہے ۔ اگر ساتھی اچھا ہوگا تو آخرت میں ہمارا انجام اچھا ہوگا اوراگر ساتھی برا ہوگا تو آخرت میں ہمارا انجام برا ہوگا ۔ توآئیے ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہمارے قارئین میں کتنے بھائی ایسے ہیں جو جرأت سے یہ کہہ سکیں کہ آج سے میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے برے دوستوں سے علیحدگی اختیار کرلوں گا اورکتنی بہنیں ایسی ہیں جو جرأت سے یہ کہہ سکیں کہ میں آج سے میں وعدہ کرتی ہوں کہ بری سہیلیوں سے الگ ہوجاؤں گی ۔
پھرآپ کے لیے اس میں جھجھک کس بات کی جبکہ آپ نے جو غلط سنگت اپنارکھی ہے اس کا مقصد صرف یہی ہے کہ آپ کو سعادت مل سکے ،آپ کو خوشی اورسکون حاصل ہوسکے ،سوال یہ ہے کہ نہیں کیا سعادت برے لوگوں کی صحبت میں ہے ،انٹرنٹ پر فحش مناظر کے مشاہدے میں ہے ، فحش کاری اورشباب وکباب کے اڈے میں ہے ؟ نہیں اور ہرگزنہیں ۔ سعادت کاخالق ہم اورآپ نہیں بلکہ ہمارامالک ہے ،توپھر ہمیں بتائیے کہ کیاوہ چاہے گا کہ سعادت ایسے لوگوں کو دے دے جو اس کے نافرمان ہیں ؟۔ نہیں بلکہ اللہ سعا دت سے ان کو نوازتا ہے جو اس کے فرمانبردار ہیں ۔
پھریہاں محض دنیوی خوشی کا معاملہ نہیں ہے آخرت کی نجات اسی سنگت پرموقوف ہے ، اوریہ اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب آپ بری صحبت چھوڑیں گے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ میں نیک بننا چاہتا ہوں، میں برائی سے کنارہ کش ہونا چاہتا ہوں، میں نمازی بننا چاہتا ہوں،لیکن نہیں بن پاتا ۔ جانتے ہیں کیوں نہیں بن پاتے ؟ ارادہ تو ہے اوردل میں برائی کا احساس بھی ہے تاہم بری صحبت نہیں چھوٹی جس کے باعث نیک اعمال کا انجام دینا یا برائی سے کنارہ کش ہونا ممکن نہیں ہورہا ہے ۔
آپ نے صحیح بخاری کی وہ معروف حدیث ضرور سنی ہوگی کہ سو آدمیوں کا قاتل جب ایک عالم سے مسئلہ پوچھتا ہے کہ کیا میرے لیے توبہ ہے تو عالم جواب دیتا ہے کہ ہاں !تیرے لیے توبہ ہے ،تیری توبہ کے راستے میں آخر کون حائل ہوسکتا ہے ۔البتہ تم جس علاقے میں رہتے ہو اسے چھوڑکرفلاں جگہ چلے جاؤ جہاں نیک لوگ رہتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ رہ کر عبادت کرسکو۔ دیکھا آپ نے ....یہ ہے صحیح رہنمائی اور اچھی صحبت کا اثر ۔ صحبت اچھی ہوگی تو آپ اچھے بن سکیں گے ،صحبت اچھی نہیں ہوگی تو لاکھ چاہنے کے باوجود آپ اچھا نہیں بن سکتے ۔
توآئیے کمر ہمت باندھیے ،کاغذ اورقلم ہاتھ میں لیجئے اوراپنے دوستوں کی لسٹ تیار کیجئے ،ان میں جو فالتو قسم کے دوست ہوں،جو آپ کا وقت برباد کرتے ہوں ، جوآپ کو برائیوں پر آمادہ کرتے ہوں، جو نماز روزے کے پابند نہیں ،ان کو اپنے دوستوں کی لسٹ سے ڈيلیٹ کردیجئے ۔ اورایک دو آدمی سے دوستی رکھئے جو نماز ی ہوں، جو نیک ہوں، جو آپ کو بھلائی کی رغبت دلا سکیں ،جو برائی سے آپ کوروک سکیں ،جو اچھے اخلاق کے پیکر ہوں،جو سمجھدار اور دانا ہوں بیوقوف نہ ہوں ، ایسے لوگوں سے آپ کی دوستی ہوگی تو آپ دنیا میں اچھے راستے پر چلیں گے اورکل قیامت کے دن اللہ پاک کا سایہ نصیب ہوگا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اورسایہ نہ ہوگا ،پھرآخرت کے سارے مراحل آسان ہوتے جائیں گے ۔  

مکمل تحریر >>

پیر, مارچ 31, 2014

زوجین ایک دوسرے کے تئیں اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں

خاندانی نظام کی تشکیل مرداورعورت کے دوجوڑے سے ہوتی ہے،امت کے فعال اورمتحرک افراد یہیں تیار ہوتے ہیں ،اسی لیے شریعت اسلامیہ نے خاوند اوربیوی دونوں کوکچھ حقوق وآداب کامکلف بنایا،بیوی کے کچھ حقوق گنائے گئے توشوہرکے بھی کچھ حقوق طے کیے گئے تاکہ ازدواجی زندگی خوشگوار گذرسکے اوراس پرسکون ماحول میں نئی نسل کی اچھی  تربیت ہوسکے،آئیے ذیل کے سطورمیں ہم ان حقوق پرایک طائرانہ نظرڈالتے ہیں جوشوہر اور بیوی دونوں سے متعلق ہیں۔شوہراوربیوی کے حقوق بعض مشترکہ ہیں اور بعض ہرایک کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں۔

مشترکہ حقوق :

(۱) امانت : شوہر بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے امانت ہوتے ہیں ،ایک دوسرے کےاسرار کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں ،ان کے آپسی راز کسی دوسرے تک کسی صورت میں نہیں پہنچ سکتے، میاں بیوی دونوں کو چاہیے کہ ازدواجی زندگی میں اس پہلو کوپیش نظر رکھیں ۔
(۲) محبت اوررحم دلی کا جذبہ : شوہر بیوی دونوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے محبت اور رحم دلی کے جذبات پائے جاتے ہوں، دونوں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، پاکیزہ رشتہ قائم ہوتے ہی یہ جذبات فطری طورپر میاں بیوی میں پیدا ہوتے ہیں البتہ دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے شریک زندگی کے تئیں ہمہ وقت ان جذبات کو اپنے دل میں بیدار رکھیں ۔
(۳) باہمی اعتماد : شوہر بیوی دونوں ایک دوسرے پر کلی طورپر اعتماد کرتے ہوں،اگر ازدواجی زندگی میں شکوک وشبہات در آئے تو ازدواجی زندگی سوہاں روح بن جاتی ہے جس کا نتیجہ بسااوقات علیحدگی اور طلاق پر منتج ہوتا ہے ۔ 

بیوی کے حقوق :

شوہرپربیوی کے کچھ مالی اور کچھ غیرمالی حقوق لازم ہوتے ہیں، مالی حقوق میں مہر کی ادائیگی ،نان ونفقہ اوررہائش ہے جبکہ غیر مالی حقوق میں عدل وانصاف ،حسن معاشرت اوربیوی سے ہر تکلیف کو دور کرنا ہے ۔ ذیل میں انہیں بیان کیا جارہا ہے :
(۱) مہر کی ادائیگی : مہر اللہ کی طرف سے واجب کیا ہوا حق ہے ،اللہ تعالی نے فرمایا:
وآتوا النساء صدقاتھن نحلة (النساء 4)
 ” اورعورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو “۔البتہ مہر شادی کی صحت کے لیے ضروری نہیں، بغیر مہر کے بھی شادی صحیح ہوگی البتہ بیوی کا یہ حق ہے جس کی ادائیگی ضروری ہے ۔
(۲) نان ونفقہ : جب بیوی شوہر کے گھر آتی ہے تو گویا اس کے لیے خود کو فارغ کرتی ہے،اب شوہر کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اس کے نان ونفقہ کا انتظام کرے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
 وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف ( البقرة 233)
 ”اورجن کے بچے ہیں ان کے ذمہ عورتوں کا روٹی کپڑا اوررہائش دستور کے مطابق ہے“۔
بخاری اورمسلم کی روایت ہے ،حضرت ابوسفیان کی بیوی ہند اللہ کے رسولﷺکی خدمت میں آئی اور کہنے لگی :ابوسفیان بخیل آدمی ہیں وہ اتنا نہیں دیتے جس سے میرے اورمیرے بچے کے لیے کافی ہوسکے ،اگر میں اس کے علم کے بغیر اس کے مال میں سے کچھ لے لوں تو کیا گناہ ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
خذی ما یکفیک وولدک بالمعروف ۔
”اچھے انداز سے لے لے جو تیرے اورتیرے بچے کے لیے کافی ہو “۔
(۳) رہائش : شوہر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق بیوی کو پرسکون رہائش فراہم کرے ۔اللہ تعالی نے فرمایا: أسکنوھن من حیث سکنتم (الطلاق 6) ”تم ان کو اسی جگہ رکھوجہاں تم رہتے ہو“۔
(۴) تعلیم وتربیت : شوہر کی ذمہ داری ہے کہ بیوی کو دین کی تعلیم دے ، اللہ کی توحید ، عبادات ،حلال وحرام اورجائز ناجائز کی تعلیم دے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
 یا أیھا الذین آمنوا قوا أنفسکم وأھلیکم نارا ( سور ہ التحریم 6)
 ”اے ایمان والو! اپنے آپ کو اوراپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ “۔ صحیح مسلم کی روایت ہے ،سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ جب رات میں وتر پڑھتے تو سیدہ عائشة ؓ کو جگاتے اور کہتے کہ عائشہ ! اٹھو اوروتر پڑھ لو ۔
(۵) عزت کی حفاظت : شوہر کے لیے بیوی کی عزت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ،اس لیے شوہر کوغیرت مند بننا چاہیے،شوہر کو چاہیے کہ اپنے قریبی رشتے داروں (بھائی ،بھانجا اوربھتیجا وغیرہ )کو بیوی سے بے تکلف نہ ہونے دے ، بلکہ ان سے پردہ کرنے کی تاکید کرے ۔بخاری اورمسلم کی روایت ہے ،اللہ کے رسولﷺنے فرمایا:
إیاکم والدخول علی النساءقالوا : أرایت الحمو ؟ قال : الحمو الموت ۔
 اپنے آپ کو عورتوں پر داخل ہونے سے بچاؤ،لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مردکے قریبی رشتے داروں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : قریبی رشتے دار تو موت ہے ۔ یعنی ہلاکت کا سبب ہے ۔
عورت کو پردے کا اہتمام کرنے کی تاکیدکرے ،اور پردہ میں چہرہ کا پردہ شامل ہے کیونکہ چہرہ ہی سرچشمہ محاسن ہے ۔عورت کو گھر سے بے فائدہ نہ نکلنے دیں ،ضرورت کے تحت پردے کااہتمام کرتے ہوئے نکلنے میں کوئی حرج کی بات نہیں تاہم بن سنورکر ایسے پروگراموںمیں شرکت کرنا جس میں مردوزن کا اختلاط ہو قطعادرست نہیں ۔
(۶) حسن معاشرت : یہ ہے کہ شوہر معروف طریقے سے بیوی کے ساتھ بودوباش اختیار کرے، اس کے حقوق کشادہ دلی سے اداکرے ، ترش روئی سے پیش نہ آئے ، جب کھاناکھائے تواسے کھلائے ،جب کپڑاپہنے تواسے پہنائے :
وعاشروھن بالمعروف (سورہ النساء19)
”اوران عورتوں کے ساتھ دستور کے مطابق نباہ کرو“ جہاں تک ہوسکے بیوی سے خوش گمان رہے ،اس کے ساتھ نباہ کرنے میں تحمل ،بردباری اورعالی ظرفی کی روش اخیار کرے ۔
حسن معاشرت میں یہ بات داخل ہے کہ اس کی خوبیوں پر نظر رکھی جائے خامیوں کو نظر انداز کیاجائے : اگر اس میں شکل وصورت یاعادت واخلاق یاسلیقہ وہنر کے اعتبار سے کوئی کمزوری بھی ہوتوصبرکے ساتھ اس کوانگیزکرلے ،اوراس کی خوبیوں پر نگاہ رکھتے ہوئے فیاضی،درگذر اورمصالحت سے کام لے ،اسی بات کواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان کیاہے:
 لایفرک مؤمن مومنة إن کرہ منھا خلقا رضی منھا آخر (مسلم )
 ”کوئی مومن اپنى مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے ،اس لیے کہ اگراسے اس کی ایک عادت ناپسند ہے تو دوسری خصلت پسند ہوگی “۔
حسن معاشرت میں یہ بات بھی داخل ہے کہ عورت چونکہ عقل وخرد کے اعتبارسے کمزور اورنہایت ہی جذباتی ہوتی ہے، اس لیے صبروسکون ،رحمت وشفقت اوردل سوزی کے ساتھ اس کوسدھارنے کی کوشش کرنی چائیے بخاری ومسلم میں ارشادنبوی ہے:
"عورتوں کے ساتھ اچھاسلوک کرو ،عورت پسلی سے پیداکی گئی ہے اورپسلیوں میں سب سے زیادہ اوپرکاحصہ ٹیڑھا ہے ،اس کوسیدھا کروگے توٹوٹ جائے گی اوراگر اس کوچھوڑ ے رہو گے تو اس میں کجی ہی رہے گی ،لہذا عورتوں کے ساتھ اچھاسلوک کرو" ۔
حسن معاشرت میں یہ بات داخل ہے کہ بیوی سے عمدہ گفتگو کی جائے ،شیریں لہجے میں بات کی جائے کیونکہ میٹھی بات سے دل کو جیتا جا سکتا ہے، عورت جو بچوں کی تربیت میں تھکتی ہے ،کھانا بنانے میں پریشان ہوتی ہے ، گھر کی صفائی ستھرائی میں وقت لگاتی ہے ، کپڑے صاف کرتی ہے اور ہروقت گھر کی سجاوٹ وبناوٹ میں لگی رہتی ہے ‘ شوہر کے چند میٹھے بول ان کی ساری پریشانیوں کو ختم کرنے کا سبب بنتے ہیں ، اورپھروہ تازہ دم ہوکر اپنے کام میں لگ جاتی ہے ،اس لیے شوہر کو ایسے تعریفی کلمات کہنے میں جھجھک محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔
حسن معاشرت میں یہ بات داخل ہے کہ بیوی کی رائے کا احترام کیاجائے ،اس کی بات پر دھیان دیاجائے ،اس کی با ت غور سے سنی جائے ، کوئی ضروری نہیں کہ اس کی بات میں دم ہو لیکن  انسانی جذبات نہایت حساس ہوتے ہیں جن کی رعایت بیحدضروری ہے ۔بسااوقات بیوی کے مشورہ میں برکت ہوتی ہے اورالجھے مسائل حل ہوجاتے ہیں ۔جیساکہ صلح حدیبیہ کے موقع سے اللہ کے رسول ﷺنے صحابہ کرام کو اپنی قربانی کرنے اورسر حلق کرانے کا حکم دیا تو کسی نے تعمیل نہیں کی البتہ ام سلمہ ؓ کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے خود اپنی قربانی کی اوربال منڈوایا تو یہ دیکھ کر سارے صحابہ اٹھ کھڑے ہوئے اورآپ کی  پیروی میں قربانی کرنے اور بال منڈوانے لگے ۔
حسن معاشرت میں یہ بات داخل ہے کہ  اگرایک سے زائد بیویاں ہیں تو ان سب کے درمیان  عدل وانصاف سے کام لے ،کسی ایک کی طرف جھک کر دوسری پرزیادتی نہ کرے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
من کانت لہ امرأتان فمال إلی أحدھما جاء یوم القیامة وشقہ مائل (ابوداؤد)
 ”جس آدمی کے پاس جوبیویاں ہوں اوراس نے ان کے درمیان انصاف سے کام نہ لیا تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا ۔ “
حسن معاشرت میں یہ بات داخل ہے کہ گھریلو کام کاج میں بیوی کا ساتھ دے ۔ اورکچھ کاموںمیں ہاتھ بٹانے کی کوشش کرے ۔صحیح بخاری کی روایت ہے ،سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے اہل خانہ کی خدمت میں لگے رہتے تھے ،جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے نکل جاتے تھے ۔“
خودرحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے جواپنے اہل وعیال کے لیے سب سے بہترتھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا :
خیرکم خیرکم لأھلہ وأناخیرکم لأھلی (الطبرانی)
 ”تم میں بہتروہ ہے جواپنے اہل کے لیے زیادہ بہترہو ،اورمیں تمہاری نسبت اپنے اہل کے لیے زیادہ بہترہوں “۔
آپ ﷺ اپنی بیویوں سے ہنسی مذاق کرتے تھے ، آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ بھی کیا ،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا برتن سے کوئی چیز نوش فرماتیں تو وہ برتن لے کر وہیں سے منہ لگاکر آپ بھی نوش فرماتے تھے  جہاں سے انہوں نے نوش فرمایا ہوتا تھا ،اسی طرح گوشت والی ہڈی لے کر نوچتیں پھر آپ اسے لیتے اوروہیں منہ رکھ کر نوچ کر کھاتے جہاں سے انہوں نے نوچ کر کھایاتھا ۔ کبھی کبھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیار سے عائش کہہ کر پکارا کرتے تھے ۔ گھر پر ہوتے تواپنی بیویوں کے کام کاج میں لگے ہوتے اورگھر کے کام میں ان کی مدد کرتے جب اذان ہوتی تو نماز کے لیے چلے جاتے تھے ۔
غرضیکہ اللہ کے رسول ﷺکی خانگی زندگی میں ہرمسلمان کے لیے بہترین پیغام ہے،آپ نے سرورکائنات ہوتے ہوئے اپنی بیویوں کے ساتھ حسن معاشرت میں اعلی نمونہ پیش کیا،اس طرح آپ مثالی شوہر بنے۔

شوہر کے حقوق :

جس طرح شوہر پر بیوی کے کچھ حقوق ہیں اسی طرح بیوی پر بھی شوہر کے کچھ حقوق ہیں ،شوہر کے حقوق میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے ۔
(۱) اطاعت اور تابعداری : بیوی نہایت خوش دلی کے ساتھ اپنے خاوند کی اطاعت کرے ،اللہ کی نافرمانی کے سوااپنے شوہرکی ہربات کی تابعداری کرے ۔ مسند احمدکی روایت ہے ،حسین بن محصن رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ان کی پھوپھی نے انہیں بتایا کہ ایک دفعہ کسی کام سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : اے خاتون! کیا تمہارا خاوند ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اسکے لیے کیسی ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں کسی بھی معاملے میں اس کی نافرمانی نہیں کرتی سوائے اس کے کہ کوئی کام میری طاقت سے باہر ہو ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
فأین أنت منہ فإنما ھوجنتک ونارک
 "تم اس سے کہاں ہو کیونکہ بیشک وہ تمہاری جنّت اور جہنم ہے" ۔ یعنی یہ خیال رکھنا کہ تم اسکے حق کی ادائیگی کے معاملے میں کہاں ہو ؟ اگر اس کا حق ٹھیک سے ادا کرو گی تو وہ تمہارے لیے جنّت میں داخلے کا مقام ہے اور اگر نہیں تو وہ تمہارے لیے جہنم میں داخلے کامقام ہے۔
اسی طرح سنن ابن حبان کی ایک روایت میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: اگرعورت پنچوقتہ نمازیں ادا کرتی ہو ، اور رمضان کے روزے رکھتی ہو ، اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو ، اور اپنے خاوند کی اطاعت کرتی ہو ، تو جنّت کے جس دروازے سے چاہے گی جنّت میں داخل ہو جائے گی ۔
بخاری مسلم میں ارشادنبوی ہے :
إذا دعا الرجل امرأتہ إلی فراشہ فلم تأتہ فبات غضبان علیھا لعنتھا الملائکة حتی تصبح 
 ”جب مرد اپنی عورت کواپنے بستر پربلائے وہ نہ جائے اورشوہرناراضگی کی حالت میں رات گزاردے توفرشتے اس عورت پرصبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں ۔
اورترمذی کی روایت میں ہے کہ جس عورت نے بھی اس حالت میں انتقال کیا کہ اس کاشوہر اس سے راضی اورخوش تھا تووہ جنت میں داخل ہوگی ۔اسلام نے شوہرکے حق کواس قدر اہمیت دی ہے کہ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہا ں تک فرمایا: 
لوکنت آمرأحدا أن یسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجہا (ابوداؤد)
 ” اگرمیں کسی کوحکم کرتا کہ وہ کسی کوسجدہ کرے توعورت کوحکم کرتاکہ وہ اپنے خاوند کوسجدہ کرے “۔
اورمسنداحمدکی روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے ،اگراس کی اجازت ہوتی تو بیوی کوحکم دیاجاتاکہ وہ اپنے شوہر کوسجدہ کرے ،شوہرکااپنی بیوی پرعظیم حق ہے ،اتناعظیم حق کہ اگر شوہرکاسارا جسم زخمی ہواوربیوی شوہر کے زخمی جسم کو زبان سے چاٹے تب بھی شوہرکاحق ادانہیں ہوسکتا ۔(اس حدیث کو منذری نے الترغیب والترھیب میں روایت کیا ہے اوراس کی سند جید اوررواة ثقات ہیں)
(۲) اپنے خاوند کے مال ومتاع ،عزت وناموس ،اورگھرکے جملہ امور میں اس کی محافظ بنی رہے:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک بیوی کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
خیرالنساء التی إذا نظرت إلیھا سرتک، وإذا أمرتھا أطاعتک وإذا غبت عنھا حفظتک فی نفسہا ومالک (الطبرانی ) 
”بہترعورت وہ ہے کہ جب تواسے دیکھے تو تجھے خوشی کرے ،جب تواسے حکم کرے توتیری اطاعت کرے ،اورجب تواس سے غائب ہوتواپنے نفس اورتیرے مال کی حفاظت کرے“۔
 اورصحیح بخاری کی روایت ہے ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
..والمرأة راعیة علی بیت زوجھا و مسئولة عن رعیتھا۔
 ”....اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے۔“
 (۳) خاوند کے گھر سے بغیر اس کی اجازت باہر نہ نکلے : اللہ تعالی نے فرمایا:
وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیة الأولی (سورة الاحزاب 33)
اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح بے پردگی کے ساتھ سج دھج کر باہر مت نکلو ۔
 سنن ترمذی کی روایت ہے ،عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عور ت پردے ( میں رکھنے ) والی چیز ہے اور بے شک جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے ۔ اور عورت اپنے گھر میں رہ کر اللہ کے زیادہ قریب ہوتی ہے ۔
(4) خاوند کی اجازت کے بغیر خاوند کے گھر میں کسی کو داخل نہ کرے اسی طرح خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے: یہ خاوند کے حقوق میں سے ایک حق ہے ،لہذا خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا اورکسی کو خاوند کے گھر میں داخل کرنا بیوی کے لیے جائز نہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ
 ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے ، اور نہ ہی کسی کوخاوند کی اجازت کے بغیرخاوند کے گھر میں داخل کرے ۔ “ (بخاری ومسلم)
مکمل تحریر >>