پیر, جنوری 13, 2014

ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے


انسان فطری طور پر کمزورمخلوق ہے، اس کی فطرت میں ایک عظیم ہستی کی کھوج ہوتی ہے جس کے سامنے اپنی پیشانی جھکا سکے ، معاشرے کے رواج اورماں باپ کی غلط تربیت سے جب وہ اس عظیم ہستی کا عرفان حاصل نہیں کرپاتا تو جسے وہ خود سے اوپرسمجھتا ہے اسی کے سامنے اپنى پیشانی خم کرنے لگتا ہے۔
ابھی میں سورہ الحج کی آیت نمبر 73 پر غور کررہا تھا جس میں اللہ تعالی نے اسی قبیل کی ایک مثال بیان کی ہے،آئیے سب سے پہلے آیت کومع ترجمہ پڑھ لیجئے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ   ( سورة الحج 73)
" لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو جن معبودوں کو تم الله کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے، مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور" -  
 اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں انسانی عقل کو خطاب كرتے ہوے كہا ہے کہ جن کی تم پوجا کرتے ہو ان کی تمہارے دلوں میں عزت ہے، ان کے لیے تم اپنی قیمتی سے قیمتی شے قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہو، محض اس لیے کہ تم خود پر ان کا احسان محسوس کرتے ہو یا یہ سمجھتے ہوکہ وہ تمہارے نفع اورنقصان کے مالک ہیں، اور ظاہر ہے کہ تم عام مخلوقات کے جیسےنہیں ، تم انسان ہو، معزز اورمکرم ہو، ساری مخلوق تمہاری خدمت کے لیے مسخر کی گئی ہے ، تمہیں سب پر فضیلت حاصل ہے، تم جس کے سامنے اپنی پیشانی جھکاؤ گے اس کی کم سے کم یہصفت ہونی چاہیے کہ وہ تمہارے لیے ایسی چیز پیدا کرسکے جو تمہیں فائدہ پہنچانے والی ہو یا ایسی چیز کو تم سے دورکرسکے جو تجھے نقصان پہنچانے والی ہو، اب تصور کرو کہ وہ معبود جن کے سامنے تم اپنی پیشانیاں جھکاتے ہو کیا واقعی اس کا حق رکھتے ہیں ، آؤ ذرا اس مثال پر غور کرو، تم تو کسی ایک یا چند معبودوں کی پوجا کرتے ہوگے، بات کسی ایک یا چند معبودوں کی نہیں ہے، اگر وہ سارے معبود جن کی تم پوجا کرتے ہو یا تمہارے علاوہ دنیا میں جن جن کی پوجا کی جاتی ہے ان سب کو ایک میدان میں اکٹھا کرو، پهران سے کہا جائے کہ انسان نہیں ، جانورنہیں بلکہ ايك مکھی بنا کرپیش کردیں، جو ایک معمولی اورحقیر مخلوق ہے جو تمہاری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی، اور اس کے لیے سب ایک دوسرے کی مدد کریں ۔اللہ نے کہا کہ وہ ایسا ہرگز ہرگز نہیں کرسکتے جس کا تمہیں خود علم ہے، بلکہ مکھی بنا لینا تو دور کی بات ہے ان معبودوں پر چڑھائے گئے چڑھاؤں پر جو مکھیاں آکر بیٹھ جاتی ہیں ان کے اندر اتنی بھی طاقت نہیں کہ ان مکھیوں کو وہاں سے بھگا سکیں ۔اب ذرا تصور کرو کہ تمہارے معبود اتنے کمزور ہیں کہ ایک مکھی  بنانے کی طاقت رکھنا تو دورکی بات ہے اپنے کھانوں پر بیٹھی مکھیاں بھی بھگانے کی طاقت نہیں رکھتے تو تمہیں آخر کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ پھراللہ نے کہا کہ واقعی جو مانگنے والا ہے وہ بھی کمزور اورجس سے مانگا جا رہا ہے وہ بھی کمزور، تم اورتمہارے معبود دونوں کمزور ہو-
تم فطری جذبات سے مجبور ہوکر پوجاتو کرتے ہو تاہم جس کی پوجا ہونی چاہیے اسے پہچانتے نہیں، اس لیے ایرے غیرے سب کے سامنے تمہاری پیشانی جھک رہی ہے، اورایسا کرکے تم اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہو ، کہ یہ اپنے خالق ومالک اورمنعم حقیقی سے بغاوت ہے ،اس لیے تمہیں اپنے خالق ومالک کا عرفان حاصل کرنا چاہیے، تمہارا مالک وہ نہیں جس کے لیے تم شب وروز ریاضتیں کررہے ہو بلکہ وہ ہے جو تمہارا خالق ہے، تمہارے آباءواجداد کا خالق ہے ،جس نے تمہیں انمول جسم عطا فرمایا، تم پرہر طرح کی نعمتیں كیں، تمہارے ليےآسمان کو چھت بنایا، زمین کو فرش بنایا، زمین سے غلے اگائے ، انواع و اقسام کى سبزياں ، رنگ برنگ کے پھل پیدا کئے ، جس كى عنایتيں ہر وقت جاری ہیں اورصبح قیامت تک جاری رہیں گی، توپھر تجھے کیسے زیب دیتا ہے کہ اپنے خالق ومالک کو چھوڑ کراپنے جیسی کمزور مخلوق کی پوجا کرو :
فلا تجعلو للہ أندادا وأنتم تعلمون ۔ ( سورہ بقرہ 22)
 ”جب تم یہ سارے احسانات کو جانتے ہو تو پھراللہ کے ساتھ کسی غیر کو شریک مت ٹھہراؤ ۔“ 

مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 04, 2013

ہدایت نئی زندگی ہے


  أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ             ﴿الأنعام: 122                   
ترجمہ:
”کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح ان سے نہ نکلتا ہو؟ کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں“ ۔
تشریح: 
زیر نظر آیت کریمہ میں اللہ پاک نے کافراورمومن کی مثال بیان کرتے ہوئے کافرکومردہ اورمومن کو زندہ قراردیاہے ۔ جو اللہ کی ذات کا عرفان نہیں رکھتے ، توحید کی نعمت سے محروم ہیں ایسے لوگ گو زمین پر چلتے پھرتے ہیں،کھاتے پیتے ہیں ، ہنستے کھیلتے ہیں، دنیا کے ظاہری امورکا گہرا علم رکھتے ہیں ، چاندستاروں تک کی تسخیر کررہے ہیں‘ لیکن اس کے باوجود ان کے پاس زندگی نہیں ہے، وہ زندگی کی نعمت سے محروم ہیں،ان کی زندگی چوپایوں کی سی ہے بلکہ چوپايوں سے بھی بدتر ہیں۔ (الفرقان 44) ایک انسان زندگی اسی وقت حاصل کرسکتا ہے جب وہ اللہ کی ذات کا عرفان حاصل کرلے اورخالص ایک اللہ کے سامنے اپنی پیشانی خم کردے ۔گویاکہ اللہ اوراس کے رسول کی صحیح معرفت ہی اصل زندگی ہے ۔اللہ پاک نے فرمایا:
” اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے“۔ (الانفال 24) ۔
اسی لیے اللہ پاک نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر وحی کو روح سے تعبیر کیا ہے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا:
” اور اسی طرح (اے محمد ) ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے(جوقرآن ہے ) “۔(سورة الشوری 52)
 اللہ پاک نے اس آیت میں وحی کو روح کا نام دیاہے کیونکہ اسی کے ذریعہ زندگی ملتی ہے۔آج اس دنیا میں کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس قابلیت ہے، دولت اورشہرت ہے لیکن وہ زندہ ہوکر بھی مردہ ہیں کہ وہ اسلام کی نعمت سے محروم ہیں جو اصل زندگی ہے ۔ اسی لیے جن لوگوں کو اللہ پاک ہدایت نصیب فرماتا ہے اصل میں انہیں نئی زندگی ملتی ہے ۔اورجن کویہ نئی زندگی مل گئی ان کی خوش نصیبی کا کیا کہنا کہ وہ مردوں کی صفوں سے نکل گئے ، اب انہیں اسلام کاایساچمکتا ہوا نور مل چکا ہے جس کی روشنی میں وہ زندگی کی راہ طے کرتے ہیں ۔آخر ایسے لوگوں کا مقابلہ ان گم گشتہ راہوں سے کیسے ہوسکتا ہے جو جہالت وضلالت کی تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ پاک نے فرمایا:
 ”اِن دونوں فریقوں(مومن وکافر) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی اندھا بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا ہو ، کیا یہ دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تم (اِس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے؟“ (سورة ھود : 24)
جی ہاں! جس طرح اندھا بہرا دیکھنے اورسننے والے کے جیسے نہیں ہوسکتا اسی طرح جسے اللہ پاک نے ہدایت نصیب فرمادی، اسے شعوری زندگی مل ہوچکی ہے ، اب ایسا مومن ضلالت وگمراہی کی تاریکیوںمیں ٹامک ٹوئیے مارنے والوں کے جیسے کیسے ہوسکتا ہے ؟ ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ شیطان نے کفارومشرکین کے اعمال کو ان کے سامنے خوشنما بنادیاہے جس کی وجہ سے وہ اس وہم میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ ہمارے اعمال اہل ایمان سے اچھے ہیں ۔


مکمل تحریر >>

بدھ, اپریل 03, 2013

جنت کے وارث



والذین ہُم لأمانَاتہم وعَہدہم راعُون، والذین ہُم علی صلواتہم یُحافظون أولئک ہم الوارثون، الذین یرِثون الفردوس ہُم فیہا خالدُون ( المومنون ۸۔۱۱ )

ترجمہ : جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرتے ہیں، جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں، یہی وارث ہیں جو فردوس کے وارث ہوں گے ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔

تشریح : سورة المومنون کی ابتدائی دس آیات میں جنت کے وارث ہونے والوں کے آٹھ  صفات بیان کيے گيے ہیں(1) نمازوں میں خشوع وخضوع (2) لغویات سے پرہیز (3) زکاة کی ادائیگی (4) شرمگاہو ں کی حفاظت (5) امانتوں کا پاس ولحاظ (6) ایفاے عہد (7) نمازوں کی نگہبانی ۔
 پھربتایا گیاکہ ان مذ کورہ صفات کے حامل مومن ہی فلاح یاب ہوں گے، جو بہشت کی پرکیف نعمتوں کے حقدار بنیں گے ۔ جنت بھی جنت الفردوس  جو جنت کا اعلی حصہ ہے جہاں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں ۔
زیرنظر آیات میں ادائیگی امانت، ایفاے عہد اور نمازوں کی محافظت جيسے تین اہم صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ امانت کی ادائیگی اور وعدے کا لحاظ رکھنا مومنوں کی خاص علامت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو امانت دار نہیں اس کے دین کا کوئی اعتبار نہیں اور جو وعدہ کر کے پورا نہیں کرتا اس کا ایمان قابل قبول نہیں۔  مومن کی یہ خوبی ہے کہ جب اس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتا خواہ اس میں اس کا کتنا بھی نقصان ہو جائے۔ امانت صرف رقم یا کوئی چیز ہی نہیں ہوتی بلکہ بات اور مجلس بھی امانت ہوتی ہے۔ لہٰذا اللہ کا قرب اور کامیابی حاصل کرنے کے ليے امانت اور وعدے کا لحاظ کیاجائے۔ امانت میں خیانت اور وعدہ پورا نہ کرنا منافق کی علامت ہے۔
مومن جس سے جو بھی وعدہ کرتا ہے اسے پورا کرتا ہے اس ليے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ وعدے پورے کرو۔ امانت اور وعدے کی پاسداری کے ساتھ  ساتھ  مومن اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ نماز کی حفاظت کا مفہوم یہ ہے کہ پانچوں نمازیں مقررہ اوقات پر سنت نبوی کے مطابق ادا کرنا ، جو اپنی نمازوں کی حفاظت نہیں کرتے۔ ان کے ليے اللہ نے جہنم کی ویل وادی میں داخلے کی خبر دی ہے یا انہیں ہلاکت سے ڈرایا ہے۔ امانت میں خیانت نہ کرنے والے اور اپنے کيے ہوئے وعدے کا پاس کرنے والے جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ان کے ليے جنت میں داخلے کی بشارت کے ساتھ ساتھ یہ خوشخبری بھی دی جا رہی ہے کہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جن کا تصور بھی ذہن میں نہیں آیا۔ اس مقام پر ہمیشہ رہنا بڑی ہی سعادت کی بات ہے۔

لیکن افسوس کہ آج یہ صفات مسلمانوں کی اکثریت سے عنقا نظر آتی ہیں، کہاں گئی امانت کی ادائیگی ؟ کہاں گیا ایفاے عہد؟ اور کہاں گئی نمازوں کی محافظت؟  کسی سے امانت لے لی اور ٹال مٹول کرتے رہے، کسی سے معاملہ کرلیا اور نظرانداز کرتے رہے،  وعدہ کرلیا اور وعدہ خلافی میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی ۔ ہم تو مسلمان ہیں نا ....ہماری ایک پہچان ہونی چاہيے، ہمیں دوسروں کے ليے نمونہ بننا چاہيے، آج غیرمسلم ہمیں معاملات میں کوتا ہ سمجھ  کر ہی اسلام سے متعلق شک میں مبتلا ہیں، اسلام مکمل نظام حیات ہے، اسے پوری طرح زندگی میں اتارنے کی ضرورت ہے ،


مکمل تحریر >>

جمعرات, اپریل 12, 2012

بے حیائی کوپھیلانے والے مجرم ہیں

 إن الذين يحبون أن تشيع الفاحشة في الذين آمنوا لهم عذاب أليم في الدنيا والآخرةِ وَاللَّہُ یَعلَمُ وَا َنتُم  لَا تَعلَمُونَ   (سورة النور 19)

ترجمہ :

 ”جولوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا اورآخرت میں دردناک عذاب ہیں ۔اللہ سب کچھ جانتا ہے اورتم کچھ بھی نہیں جانتے ۔“

تشریح : 

مسلم معاشرے میں ہمیشہ نیک عادات کا چلن ہونا چاہیے تاکہ معاشرہ پاکیزہ رجحانات کا حامل بن سکے ،جھوٹی خبر کی اشاعت،بے حیائی کی طرف دعوت اور معاشرے میں بُرے رجحانات کی تبلیغ اس قدر مذموم حرکت ہے کہ اللہ رب العالمین نے ایسے لوگوں کو دنیا اورآخرت میں دردناک عذاب کی دھمکی دی ہے۔ ظاہر ہے کہ معاشرے میں جب برے رجحانات عام ہوں گے تو معاشرہ انارکی کا شکار ہوگا، برائیاں سر چڑھ کر بولیں گی ،بے حیائی اور بدکاری کادوردورہ ہوگا اور اس طرح پورا معاشرہ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا ۔

آیت کے ظاہری الفاظ فحش پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں :
٭ جو لوگ پاک دامن مردوں اور عورتوں کی عفت داغدارکرنے کے لیے ان پر تہمت لگاتے ہیں۔
 ٭ جولوگ جنسی انارکی کو ہوا دینے کے لیے بدکاریوں کے اڈے قائم کرتے ہیں ۔
٭ جو لوگ شہوات کو بھڑکانے والے قصے ،کہانیوں، گانوں اور کھیل تماشوں پر مشتمل پروگرام تیار کرتے ،اس قبیل کے         رسالے اور لٹریچر شائع کرتے ہیں ۔
٭ جو لوگ کلبوں اور ہوٹلوں میں رقص وسرود کی محفلیں سجاتے اور مخلوط تفریحات کا انتظام کرتے ہیں۔
٭ جو لوگ اخبارات ،ریڈیو، ٹی وی اورفلمی ڈراموں کے ذریعہ بے حیائی پھیلارہے ہیں اورگھر گھر اسے پہنچارہے ہیں۔
٭ جو لوگ اپنے گھروں میں ٹی وی لاکر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے اہل خانہ اس سے بے حیائی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
٭ جو لوگ اپنی دکانوں میں فحش لٹریچر، مخرب اخلاق رسالے ،سی ڈیز ،ویڈیوز ، اورنشہ آوراشیاءفروخت کرتے ہیں ۔
قرآن کے مطابق یہ سارے لوگ مجرم ہیں اوریہ سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جن کو آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی سزا ملنی چاہیے کہ ان کی بے حیائی خود ان تک محدودنہیں بلکہ یہ مسلم معاشرے میں بھی بدکاری اوربداخلاقی کوفروغ دینے کا موجب بن رہی ہے۔
پھر اللہ رب العالمین نے بیان فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ اس طرح کی حرکت کے اثرات معاشرے میں کہاں کہاں پہنچتے ہیں، انفرادی اوراجتماعی زندگی میں کتنے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں،کتنے گھر وں میں بداخلاقی کا چلن ہوتا ہے ،کتنے گھر برباد ہوتے ہیں اس کا صحیح اندازہ اللہ تعالی ہی کو ہے ۔ اس لیے اللہ تعالی پر اعتماد کرو اور جن برائیوں کی وہ نشاندہی کررہا ہے ان سے خود بچو اور مسلم معاشرے کو بچانے کی کوشش کروکہ یہ ظاہر میں تو معمولی برائی لگتی ہے لیکن اس کے اثرات نہایت خطرناک ہیں۔


مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 07, 2011

تفسیر آیت الکرسی


 اللّہُ لاَ اله اَّلا ہُوَ الحَیُّ الَیُّومُ لاَ تَاخذُہُ سِنَة وَلاَ نَومّ لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الاَرضِ مَن ذَا الَّذِی یَشَفعُ عِندَہُ َّ الا باِذنہِ یَعلَمُ مَا بَینَ اَیدِیہِم َومَا خَلفَہُم وَلاَ یُحِیطُونَ بِشَیءٍ مِّن عِلمِہِ  الا بِمَا شَاء وَسِعَ کُرسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالارضَ وَلاَ یَودُہُ حِفظُہُمَا وَہُوَ العَلِیُّ العَظِيم (سورة البقرة 255  )
ترجمہ: 
"اللہ ہی معبودبرحق ہے جس کے سوا کوئی معبودنہیں،جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے،جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند،اس کی ملکیت میں زمین وآسمان کی تمام چیزیں ہیں، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے،وہ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے اورجو اس کے پیچھے ہے اوروہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے، مگرجتنا وہ چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے،وہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اورنہ اکتاتا ہے، وہ تو بہت بلنداوربہت بڑا ہے۔") سورة البقرة255 (

تشریح: 
قرآن کریم کی ساری آیات میں سب سے بہتر،سب سے عظیم اور سب سے افضل آیت ’آیت الکرسی‘ ہے۔ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا :”ابوالمنذر! کیاتم جانتے ہو کہ قرآن کریم کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے ؟“ کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ اور اسکے رسول زیادہ علم رکھتے ہیں ۔آپ نے پھر پوچھا:”ابوالمنذر!کیاتم جانتے ہو کہ قرآن کریم کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے ؟کہتے ہیں ،میں نے کہا: اللّہُ لا اله الا هو الحي القيوم تواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اورفرمایا: ”ابوالمنذر! تجھے علم مبارک ہو “۔(مسلم)
جوشخص فرض نماز کے بعد اس کی تلاوت کرتاہے وہ دوسری نماز تک اللہ کے حفظ وامان میں آجاتاہے،بلکہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کا مستحق بن جاتاہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من قرأ آیة الکرسی دبرکل صلاة مکتوبة لم یمنعہ من دخول الجنة الا أن یموت ”جس نے ہرنماز کے بعد آیت الکرسی پڑھا اسے جنت میں داخل ہونے سے موت ہی روک سکتی ہے ( نسائی ،وصححہ الالبانی فی صحیح الترغیب والترہیب 1595 )

یہ آیت جن وشیاطین کے شر کے سامنے ڈھال کی سی حیثیت رکھتی ہے ،شیخ الاسلام ابن تیمیة نے فرمایاکہ ”آیة الکرسی جادوگروں کے جادو اور شعبدہ بازوں کی شعبدہ بازی کے ابطال کے لیے مجرب نسخہ ہے “۔جوشخص اس آیت کا اہتمام کرتاہے شیطان کے شرسے دور ہو جاتا ہے اور اللہ کے حفظ وامان میں آجاتا ہے ،صحیح بخاری میں ابوہریرہ  رضى الله عنه کی مشہور روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوصدقہ فطر کی نگرانی پر مامورکیا تھا ،ان کے پاس رات میں لگاتار تین روز تک ایک شخص آتا رہا اور صدقہ فطر سے چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا،لیکن ہررات اس نے اپنے فقروفاقہ کی شکایت کی تو ابوہریرہ ؓنے اس پررحم کھاتے ہوئے معاف کر دیا،تیسرے روز اس نے ایک نسخہ بتایاکہ جب تم بستر پرسونے کے لیے جاؤ توآیت الکرسی پڑھ لو ،صبح تک اللہ کی طرف سے تیری حفاظت ہوتی رہے گی اورشیطان تیرے قریب نہ آسکے گا ۔ ابوہریرہ رضى الله عنه نے جب یہ ماجر ا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أما إنہ قدصدقک وھوکذوب ” اس نے تجھ سے سچ کہا لیکن وہ جھوٹاہے“ پھر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تین روزتک تمہارے پاس جوشخص آتارہا وہ دراصل شیطان تھا ۔(بخاری ) گویاشیطان نے اعتراف کیا کہ اللہ کی جناب میں اس کے شر سے پناہ حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ آیت الکرسی ہے۔

اس آیت کریمہ کی اس قدر اہمیت وفضیلت اسی لیے ہے کہ یہ اللہ تعالی کی قدرت وعظمت،اس کی وحدانیت اور صفات جلال پر مبنی نہایت جامع آیت ہے ، شرح صحیح مسلم میں امام نووی رحمہ الله نے فرمایا: ”علماءکہتے ہیں کہ آیت الکرسی دوسری آیتوں سے ممتازاس لیے ہے کہ یہ اسماءوصفات کے بنیادی اصول الوہیت ،وحدانیت ،زندگی ،علم ،ملک،قدرت اورارادہ پر مشتمل ہے ،اوریہ سات چیزیں اسماءوصفات کی اساس ہیں۔“ اسی بنیادپر اس کو پڑھنے ،صبح وشام کے اوقات میں اسے اپنا وظیفہ بنانے،سوتے وقت اور پنجوقتہ نمازوں کے بعد اس کا اہتمام کرنے کی بیحد ترغیب دلائی گئی ہے ۔

 آیت الکرسی میں اللہ گکی ذات وصفات اورجلالت شان کا مکمل تعارف آگیا ہے ، آیت کا آغاز لفظ ’اللہ‘سے ہوا جس کا اطلاق اللہ کے علاوہ کسی اورکے لیے نہیں ہوسکتا،وہی اللہ عبادت کا مستحق ہے اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہیں کی جاسکتی،اورعبادت ہروہ ظاہری وباطنی اقوال وافعال ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتاہے مثلاً نماز،روزہ ،حج ، زکاة،دعا،استغاثہ،رکوع،سجدہ،قربانی، نذرونیاز وغیرہ جنہیں صرف اللہ گکے لیے انجام دینا ضروری ہے ۔ اسکے علاوہ کسی اورکی عبادت نہیںکی جاسکتی،اسکے علاوہ کسی اورکو مشکل کشااورحاجت رواسمجھانہیں جاسکتا۔یہی وہ پیغام ہے جس سے نبی پاک ا اپنی دعوت کا آغاز کرتے ہیں اوراپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات تک اسکی یاددہانی کراتے ہیں : ”یہودیوں اور عیسائیوں پر اللہ کی لعنت ہوکہ انہوںنے اپنے انبیاءکی قبروںکو سجدہ گاہ بنالیا“۔(بخاری ومسلم)
 اللہ ہی ہماری عبادت کا مستحق کیوں ہے؟ اس لیے کہ وہ خالق ہے،مالک ہے،رازق ہے،ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا،اس کی زندگی ازلی ہے،جس کی نہ ابتداءہے نہ انتہاہے ،ہر چیز سے بے نیاز ہے ، اورہر مخلوق اس کی محتاج ہے،جن وانس اورفرشتے ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتے،جن وانس کی فرمانبرداری سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا اوران کی نافرمانی سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہوسکتا،ہر طرح کے کمال سے متصف ہے،یہ اس کا کمال ہے کہ اُسے نہ کبھی اونگھ آتی ہے اورنہ نیند ،جسے اونگھ اورنیندآتی ہو اسے تھکاوٹ لاحق ہوتی ہے،بیماری اورموت سے دوچار ہوتا ہے اوراللہ کی ذات ایسے نقص سے بالاتر ہے۔زمین وآسمان میں جتنی چیزیں ہیں خواہ عاقل ہوںجیسے فرشتے،انسان اورجن یا غیرعاقل جیسے حیوانات،نباتات اورجمادات‘ سبہوں کو اسی نے پیدا کیا ،ہر ایک کو شمار کرر کھا ہے اور ان سب کاحقیقی مالک ہے۔ اس کی کمال عظمت ہے کہ اس کے سامنے اس کی اجازت کے بغیرکسی کو کسی کی سفارش کرنے کی جرات نہ ہوگی،اوراجازت کے بعد بھی سفارش ایسے ہی لوگوں کی کرسکتے ہیں جن کے عمل سے اللہ راضی ہوحتی کہ ہمارے حبیب ابھی ایسے ہی لوگوں کی سفارش کریں گے جو موحدین میں سے ہوں۔ وہی ماضی مستقبل اورحال کا علم رکھتا ہے ،ساری مخلوق کی حرکات وسکنات سے آگاہ ہے ،جنگل میں ایک پتا گرتا ہے اسے بھی وہ جان رہا ہے ،اورسمندرمیں مچھلیاں کیاکرتی ہیں اس پر بھی وہ نگاہ رکھے ہوا ہے ،وہ آنکھوں کی خیانت اوردلوں کے بھید سے بھی آگاہ ہے ۔ بندوں کو اتنا ہی علم حاصل ہوسکتا ہے جتنا وہ انہیں عطا کردے ،ہرطرح کی ایجادات واکتشافات اللہ کے عطا کردہ علم ہی کی رہین منت ہیں۔ اس کی کرسی آسمان وزمین کا احاطہ کئے ہوئی ہے ،اورآسمان وزمین کی اس قدرعظمت کے باوجودوہ اس کی حفاظت سے نہ تھکتاہے اورنہ اکتاتا ہے، اس کی ذات بہت بلنداوربہت بڑی ہے۔

اس آیت پر غورکرنے سے بندے کا ایمان تازہ ہوتا ہے،اس کا یقین مضبوط ہوتا ہے،اپنے رب سے اس کا تعلق مستحکم ہوتا ہے۔وہ ہمیشہ خودکواللہ کے علم اوراس کی نگرانی میں پاتا ہے،اس طرح اس کے اندردین پراستقامت اورثبات قدمی پیدا ہوتی ہے ۔
مکمل تحریر >>

جمعہ, جون 24, 2011

ہمارے باڈی گارڈ

لَہُ مُعَقِّبَات مِّن بَینِ یَدَیہِ وَمِن خَلفِہِ یَحفَظُونَہُ مِن أ َمرِ اللّہِ  (سورة الرعد 11)

ترجمہ :

 ” اللہ کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے انسان کی حفاظت ونگرانی کرتے ہیں“۔

تشریح : 

اللہ پاک کابے انتہا کرم اوراحسان ہے کہ اس نے قطرہ  آب سے لے کر دنیامیں آنکھیں کھولنے تک اور دنیامیں آنکھیں کھولنے کے بعد سے لے کر آخرت سدھارنے تک ہماری حفاظت کا منظم بندوبست فرمایا۔وہ ہروقت ،ہرآن اورہرلمحہ ہماری حفاظت کررہا ہے ۔ ہم اس قدرعاجز ہیں کہ خود اپنے نفس کے مالک نہیں،اس کی تدبیر ہم خود نہیں کرسکتے بلکہ معمولی ایک عضو کو سنبھالنے کی ذمہ داری لینے سے بھی قاصر ہیں، ہماری یہ آنکھ جس سے ہم دیکھتے ہیں اگراس کے نظام کی ذمہ داری خودہم پر ڈال دی جاتی تواس کی تدبیرمیں لگ کردنیا کی ساری چیزوں کو فراموش کرجاتے پھربھی معمولی ایک عضو کے نظام کو ٹھیک ٹھاک نہیں چلاسکتے تھے۔ لیکن باری تعالی نے ہمارے جسموں کے سارے نظام کی حفاظت اپنے ذمہ لے لی ،پھر ہرطرح کی آفات سے ہماری حفاظت بھی فرمارہا ہے ۔ یہی نہیںبلکہ اپنی مخلوقات میں سے فرشتوں کوہماری حفاظت پرمامور فرمادیاہے۔ حافظ ابن کثیر رحمه الله  فرماتے ہیں” جس طرح اللہ پاک نے بندوں کے اچھے برے اعمال نوٹ کرنے کے لیے ان کے دائیں بائیں کندھوں پر دوفرشتے مقررکردئیے ہیں،اسی طرح ان کی حفاظت اور نگرانی کے لیے ان کے آگے اور پیچھے دوفرشتوں کو مقررکردیا ہے جو انہیں حوادث اور شروروفتن سے محفوظ رکھتے ہیں “۔ مجاہد رحمه الله کہتے ہیں : 
”ہربندے پر فرشتے مقررہیں جو سوتے جاگتے ہروقت جنوں،انسانوں اور موذی جانوروں سے اس کی حفاظت کرتے ہیں ،جب کوئی شے اسے نقصان پہنچانے کے لیے آتی ہے تو فرشتہ کہتا ہے ”پیچھے ہٹ جا“ بجز اس کے کہ جس کافیصلہ اللہ پاک نے کردیا ہو تو وہ ہوکر رہتاہے“۔
اللہ پاک کی عمومی حفاظت تو ہرمتنفس کو حاصل ہے البتہ اس کی خصوصی حفاظت جس کی طرف آیت بالا میں اشارہ کیا گیا ہے اسی شخص کو حاصل ہوتی ہے جس کے حق میں اللہ پاک کا حکم ہو، ظاہر ہے اللہ کا حکم ایسے ہی لوگوں کے حق میں ہوگا جو ا س کے اوامر کی حفاظت کرتے ہوں گے ۔ اللہ کے نبی ا نے اپنے عم زادے حضرت ابن عباس ص کویہی نصیحت کی تھی جبکہ وہ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے: اِحفَظِ اللّٰہَ یَحفَظکَ….(سنن ترمذی ) ”اللہ کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا “ ۔
جس قدرہم اسلامی احکام کی پابندی کریں گے اسی قدر ہماری سیکوریٹی اور حفاظت سخت کردی جاے گی ۔ جب ایک آدمی نمازِ فجر کی باجماعت ادائیگی کرلیتا ہے تو وہ اللہ کی حفاظت میں آجاتا ہے(صحیح مسلم) جب ایک بندہ اپنے گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے:
 بِسمِ اللّٰہِ تَوَکَّلتُ عَلٰی اللّٰہِ وَلَاحَولَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ
تو اس سے کہا جاتا ہے: ”تمہارے لیے اللہ کافی ہے، تجھے ہدایت دی گئی اورتم بچالیے گئے “تب شیطان کفِ افسوس ملتے ہوے کہتا ہے : ”اس شخص کا تم کیا کرسکتے ہو جس کے لیے اللہ کافی ہوگیا ہو ،جسے ہدایت مل گئی ہو اور جو حفاظت میں آگیا ہو“ ۔ (سنن ابی داؤد)جو شخص سوتے وقت آیت الکرسی کی تلاوت کرلیتاہے اس پر اللہ کی طرف سے سیکوریٹی مقرر کردی جاتی ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آتا ۔ (صحیح بخاری )

لیکن جب انسان نے اللہ پاک اور فرشتوں کی سیکوریٹی کو نظر انداز کیا تو درگاہوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہوا ۔ کاہنوں ،نجومیوں اور جیوتشیوں کے دامِ تزویرمیں پھنسا۔خرقے ‘دھاگے ‘ اور تعویز گنڈوں کا سہارا لیا۔اس طرح ان غیرشرعی ذرائع حفظ وامان میں پھنس کرذہنی الجھن اورپریشانی مول لینے کے ساتھ ساتھ اپنے ایمان کوبھی داغدار کر بیٹھا۔

مکمل تحریر >>

جمعہ, اکتوبر 01, 2010

مجلس کا سب سے لذیذ گوشت

وَلَا یَغتَب بَّعضُکُم بَعضاً اَیُحِبُّ اَحَدُکُم ان یَاکُلَ لَحمَ اَخِیہِ مَیتاً فَکَرِہتُمُوہُ وَاتَّقُوا اللَّہَ اِنَّ اللَّہَ تَوَّاب رَّحِیم ( الحجرات 12 )

ترجمہ: اور تم میں سے بعض بعض کی غیبت نہ کرے ،کیا تم میں سے کوئی اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ تمہیں تو گھن آئے گی۔ اللہ سے ڈروبیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
تشریح : زیرنظر آیت کریمہ میں اللہ پاک نے زبان کی آفات میں سے ایک خطرناک آفت غیبت سے منع کیا ہے ۔ غیبت کیا ہے ؟ ایک مرتبہ نبی پاک صلى الله عليه وسلم  نے اپنے اصحاب سے پوچھا: تم جانتے ہو غیبت کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس انداز میں ذکر کرنا جو اسے برا لگے، لوگوں نے پوچھا : اگرمیرے بھائی میں وہ عیب ہے جو میں بیان کررہاہوں تو؟ آپ نے فرمایا:اگراس کے اندر واقعتاً وہ عیب پایا جاتا ہے تب ہی توغیبت ہے ، اگراس کے اندر وہ عیب پایا ہی نہیں جاتا تب تویہ بہتان ہے“۔ (مسلم)
مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ پاک نے غیبت سے روکتے ہوئے اس کی قباحت اس انداز میں بیان کی ہے جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ،ایک ایسے انسان کا تصور جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہو، مردارکاگوشت کھاناخود ہی گھناونی بات ہے جس سے ہر انسانی طبیعت نفرت کرتی ہے ، پھر گوشت بھی کسی مردار جانور کا نہیں بلکہ انسان کا اور انسان بھی کوئی غیر نہیں بلکہ اپنا بھائی ، تصور کریں کہ کسی کاسگا بھائی اسکے سامنے مرا پڑا ہو اوروہ اس کے گوشت کو نوچ نوچ کرکھا رہا ہو ‘ دل دہلا دینے والی مثال بیان کرکے اللہ تعالی نے اس جرم کی قباحت کی طرف اشارہ کیا ہے   
لیکن صد حیف آج ہماری مجلسو ں کا سب سے لذیذ گوشت یہی سمجھا جاتا ہے ،مزے لے لے کر اپنے سگے اورمردہ بھائی کا گوشت نوچ نوچ کرکھاتے اور ڈکار لگاتے ہیں، ہمیں اس میں اتنا لطف ملتاہے کہ باربارکھانے کے باوجود طبیعت نہیں اکتاتی،منہ سے مردے کا خون ٹپک رہا ہوتا ہے ، گھناونی بدبو آرہی ہوتی ہے لیکن خمارایسا کہ اترنے کانام نہیں لیتا۔ العیاذ باللہ ۔ اورظاہر ہے جس کی دنیا میں ایسا ذائقہ دار گوشت کھانے کی عادت بن گئی ہو ‘آخرت میں اس سے کیونکرمحروم رکھا جائے گا لیکن وہاں تو کوئی انسان ملے گا نہیں کہ اس پر حملہ کرے ، اس لیے اپنا ہی چہرہ نوچتا پھرے گا اس حدیث پرغورکیجیے :
”معراج کی شب میرا گذر ایک ایسی قوم سے ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے ، میں نے جبریل امین سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے اور ان کی غیبت کرتے تھے “۔(ابوداود)
حضرت صفیہ رضي الله عنها  پست قد تھیں ،ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضي الل عنها  نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے کہہ دیاکہ صفیہ میں سے فلاں فلاں چیز آپ کے لیے کافی ہے۔( مراد قد کا چھوٹا ہونا ہے)نبی کریم نے فرمایا: 
لقد قلت کلمة لو مزجت بماء البحر لمزحتہ۔ (ترمذی)
”تونے ایسی بات کہہ دی کہ اگر اسے سمندرکے پانی میں ملادیا جائے توساراپانی گدلا ہوجائے “۔
توآئیے آج ہی سے یہ عہد کریں کہ ہم سب کسی صورت میں اپنے مردہ بھائی گا گوشت نہ کھائیں گے یعنی کسی کی غیبت ہرگز نہ کریں گے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے ۔ آمین یا رب العالمین
مکمل تحریر >>

جمعرات, مارچ 18, 2010

انسان خسارے میں ہے

والعصر إن الإنسان لفي خسر إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر  (سورة العصر)

ترجمہ :زمانے کی قسم !بے شک انسان گھاٹے میں ہے ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک کام کیے اور ایک دوسرے کو ( ایمان اور عمل صالح کی ) نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی “ ۔

تشریح : یہ سورہ بے پناہ اہمیت کی حامل اور عظمت والی سورہ ہے ۔ امام شافعی رحمه الله  فرماتے ہیں” اگر لوگ اس سورہ کوبغورپڑھیں اور سمجھیں تو ان کے لیے یہی سورہ کافی ہے“۔
 امام ابن قیم رحمه الله  مفتاح دار السعادة میں اس سورہ کی تشریح کرتے ہوے فرماتے ہیں :
 ” یہ سورہ چار باتوں پر مشتمل ہے ۔ سب سے پہلی بات علم ، جس سے حق کی معرفت حاصل ہوتی ہے ، مومن جانتا ہے کہ اللہ حق ہے ، اس کا وعدہ حق ہے ، اس کا رسول حق ہے ، اس کی ملاقات حق ہے ، فرشتے حق ہیں، انبیاءحق ہیں، جنت حق ہے، جہنم حق ہے ، پھر اس کے مطابق عمل کرتا ہے پھر لوگوں کو اس کی طرف بلاتا ہے اور علم عمل اور تعلیم پر صبر کرتا ہے ۔ یہ (علم ،عمل،تعلیم اورصبر) چارچیزیں ہوئیں ‘ جب انسان ان کو مکمل کرلیتا ہے تو وہ اپنی ذات کی تکمیل کرلیتا اور دوسروں کوبھی مکمل کرنے والا بن جاتا ہے “۔
 چنانچہ اللہ پاک نے اس سورہ میں زمانے کی قسم کھاکر کہاکہ اس دنیا میں سارے انسان گھاٹے ،خسارے اور ٹوٹے میں ہيں۔ زمانہ تین طرح کا ہوتا ہے ماضی حال اور مستقبل ‘ گویا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ سارے انسان خسارے میں تھے ،خسارے میں ہیں اور خسارے میں رہیں گے ۔ تاہم اس خسارے اور گھاٹے سے صرف وہی لوگ محفوظ ہیں جو ان چار صفات کے حامل ہیں۔
 (۱) (۲) اللہ پر پختہ ایمان ، اوراس ایمان کے مطابق عمل صالح : ایمان کے ساتھ عمل ہرانسان سے مطلوب ہے ، ایمان اور عمل دونوں کا بہت گہرا تعلق ہے ،ایمان کی تصدیق عمل ہی کرتا ہے،اور عمل کی قبولیت کے لیے ایمان لازم ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں مختلف مقامات پر دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا ہے جیسے ” جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کیا، وہی لوگ جنتی ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے“ ( البقرة : ۲۸) اس معنی کی متعدد آیات آئی ہیں-
 عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی     
یہ خاکی اپنی فطرت میںنہ نوری ہے نہ ناری ہے
 (۳)حق کی وصیت :ایمان وعمل کے بعد اس امت کی بنیادی صفت ایمان وعمل کی طرف دعوت ہے،اوراسی بنیاد پر اس امت کو خیرامت کا لقب دیا گیا ہے کہ یہ امت محض اپنی اصلاح پراکتفانہیں کرتی بلکہ افراد اورمعاشرے کی اصلاح کی بھی فکرمند ہوتی اوراس کے لیے بے چین رہتی ہے۔ ( آل عمران :110 )
 (۴)صبر کی وصیت : دعوت واصلاح کا کام بڑا صبرآزماہوتا ہے ،اس راہ میں پھولوں کی سیج نہیں بچھائی جاتی بلکہ کانٹوں سے مقابلہ کرنا پڑتاہے ،اس لیے دعوت کی راہ میں آنے والی مصیبتوں اورپریشانیوں کوخندہ پیشانی سے انگیز کرنابندہ  مومن سے مطلوب ہے ۔ جس شخص کے اندر یہ چار صفات پیدا ہوگئے حقیقت میں وہی کامیاب ہے ۔
مکمل تحریر >>

اتوار, نومبر 15, 2009

حج كى فرضيت

وَلِلّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیتِ مَنِ استَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلاً وَمَن کَفَرَ فاِنَّ اللہ غَنِیّ عَنِ العَالَمِینَ (سورہ آل عمران ۷۹)

ترجمہ : اللہ تعالی نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالی ( اُس سے بلکہ ) تمام دنیا سے بے پرواہ ہے “۔

تشریح : حج اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے بنیادی رکن ہے جس کی فرضیت ۹ھ میں ہوی، اور اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے 10 ھ میں ایک ہی حج (حجة الوداع) کیا جبکہ چار عمرے کيے۔
حج کن پر فرض ہے ؟  اس کے شرائط کیا ہیں ؟ مذکورہ آیت میں اسی کا بیان ہے ۔شیخ صالح الفوزان اس ضمن میں لکھتے ہیں:
”اس آیت کریمہ سے کلمہ  عَلَی سے حج کی فرضیت واضح ہوتی ہے ۔ نیز آیت کے آخری کلمات وَمَن کَفَرَ فَانَّ اللہ غَنِیّ عَنِ العَالَمِینَ میں تارک حج کو کافر قرار دیا گیا ہے ۔ اس سے بھی حج کی فرضیت اور اس کی تاکید خوب واضح ہوتی ہے ....بنا بریں جو شخص حج کی فرضیت کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ بالاجماع کافر ہے “ (فقہی احکام ومسائل (الملخص الفقہی  )
آیت کریمہ میں فرضیت حج کے لےے استطاعت کی شرط رکھی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ :
٭مسلمان آزاد،عاقل اور بالغ ہو ۔
٭آدمی کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ بیت اللہ تک آنے جانے کا اور وہاں کے قیام وطعام کا خرچ برداشت کرسکے ۔ حضرت انس رضى الله عنه کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم سے پوچھا گیا کہ استطاعت کا کیا مفہوم ہے تو آپ نے فرمایا: ”سفرخرچ اور سواری “ (دارقطنی)
٭راستہ پُرامن ہو اور جان ومال کا خطرہ نہ ہو ۔ (الفتح الربانی ۱۱۲۴۔۳۴)
٭عورت کے ليے ضروری ہے کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو مثلاً شوہر ، باپ،بیٹا،چچا،ماموں وغیرہ۔ ”کسی مومنہ عورت کے ليے جائز نہیں کہ وہ محرم کے بغیر ایک دن رات کا سفر کرے “(مسلم)
جس شخص کے اندر مذکورہ بالا شرائط پائے جارہے ہوں اس پرزندگی میں ایک مرتبہ حج فرض ہے ۔
اگر کسی کو مالی استطاعت تو حاصل ہو البتہ جسمانی طور پر مجبور ہو تو اُس کے لےے ضروری ہے کہ کسی کو اپنی طرف سے حج کرنے کے لےے روانہ کرے ، اِسی کو حجِ بدل کہتے ہیں۔سیدنا ابن عباس ص کا بیان ہے کہ حجة الوداع کے موقع سے قبیلہ خثعم کی ایک خاتون نے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم سے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے باپ پر حج فرض ہوچکا ہے لیکن وہ اس قدر بوڑھا ہے کہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا کیا میں اس کی طرف سے حج کروں ؟ آپ ا نے فرمایا: ”ہاں“۔(بخاری مسلم)
اور جب قدرت حاصل ہوجائے تو حج فوراً کرلینا چاہےے اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہےے ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے :
  جس شخص کا حج کرنے کا ارادہ ہو وہ جلدی حج کرلے ‘کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ بیمار پڑجائے یا اس کی کوئی چیز گم ہوجاے “ (مسنداحمد)
جس نے استطاعت کے باوجود حج نہیں کیا اس کے تعلق سے بہت سخت وعیدیں آئی ہیں ۔ حضرت علی رضى الله عنه فرماتے ہیں کہ:
” جس نے قدرت رکھنے کے باوجود حج نہیں کیا اس کے لےے برابر ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر“ ۔ (مناسک الحج لابن باز)

اور حضرت عمر رضى الله عنه کہاکرتے تھے کہ:
”   میں نے ارادہ کیا کہ ان شہروں میں اپنے آدمی بھیجوں جو پتہ لگائیں کہ جن لوگوں پر حج فرض ہے اور انہوں نے حج نہیں کیا ہے اُن پرغیرمسلموں سے لیاجانے والاٹیکس ( جزیہ) نافذ کردوں، وہ مسلمان نہیں، وہ مسلمان نہیں“ ۔ (سنن سعیدبن منصور)
مکمل تحریر >>

ہفتہ, اکتوبر 03, 2009

مال واولاد : متاع فریب ہے

الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا ﴿الكهف: ٤٦﴾

ترجمہ : ”مال واولاد تو دنیا کی ہی زینت ہے البتہ باقی رہنے والی نیکیاں ثواب اور اچھی توقع کے ليے بہت بہتر ہیں“ ۔ (سورة كهف 46)

تشریح:
 اس آیت کریمہ میں ان اہل دنیا کا رد ہے جو اپنے مال ودولت ، آل واولاد اور قبیلہ وخاندان پر فخر کرتے ہیں اللہ تعالی نے ایسے لوگوں سے فرمایا کہ تم ان چیزوں پر فخر مت کرو ، یہ تو دنیائے فانی کی عارضی زینت ہیں ۔ آخرت میں یہ چیزیں کچھ کام نہیں آئیں گی اسی ليے آگے فرمایا کہ آخرت میں کام آنے والے عمل تو وہ ہیں جو باقی رہنے والے ہیں ۔ باقیات صالحات( باقی رہنے والی نیکیاں) کون سی یا کون کون سی ہیں ؟

 کسی نے نماز کو ، کسی نے تحمید وتسبیح اور تکبیر وتہلیل کو اور کسی نے بعض اور اعمال خیر کو اس کا مصداق قرار دیاہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ عام ہے اور تمام نیکیوں کو شامل ہے ۔ تمام فرائض وواجبات اور سنن ونوافل سب باقیات صالحات ہیں بلکہ منہیات سے اجتناب بھی ایک عمل صالح ہے جس پر عند اللہ اجر وثواب کی امید ہے (تفسیراحسن البیان )
مشرکین مکہ کے اصحاب جاہ ومرتبہ عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس وغیرہ اپنے مال ودولت ، آل واولاد اور خاندانی وجاہت کے سامنے نہتے مسلمانوں کو حقیر سمجھتے اور ان پر اپنا رعب داب بیٹھانے کی کوشش کرتے تھے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے اُن کی اس خام خیالی کا بھانڈا پھوڑ دیا کہ تم جو نہتے مسلمان سلمان فارسی ، خباب بن ارت اور صہیب رومی وغیرہ پر نظر حقارت ڈالتے ہواور دنیاوی جاہ ومنصب کے گھمنڈ میں مبتلا ہو گيےہو سمجھ لو کہ یہ دنیاوی زینتیں متاع فریب ، وقتی اور چند روزہ ہیں،یہ چیزیں تم کو آخرت میں کچھ کام نہ دیں گیں ۔ آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو مال ودولت کے نشہ میں غرباءومساکین کو خاطر میں نہیں لاتے او ران کو حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اللہ تعالی نے يہی حقیقت سمجھانے کے ليےسورہ کہف میں ایک باغ والے کا قصہ بیان کیا ہے جس میں مست مئے پندار ہوکر متکبرانہ دعوی کرنے والوں کے لےے عبرت ونصیحت کا سامان ہے ،
 قصہ کچھ یوں ہے :
دو ساتھی تھے جن میں سے ایک کو اللہ پاک نے انگوروں کے دو باغ دے رکھا تھا ، باغ ہرے بھرے اور شاداب تھے اور پھلوں سے لدے تھے جبکہ اس کا ساتھی تہی دست تھا ، ایک دن باغ والے نے اپنے ساتھی کے اوپر فخر جتاتے ہوئے کہا کہ ”میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور جتھے کے اعتبار سے بھی زیادہ مضبوط ہوں “ پھرڈھٹائی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر قیامت ہوئی بھی تو وہاں بھی حسن انجام میرا مقدر ہوگا ۔ اس کے مومن ساتھی نے اُس کی متکبرانہ باتیں سن کر اُسے نصیحت کی کہ تم اللہ کی ناشکری کیوں کر رہے ہو ، تجھے تو ماشاءاللہ لاقوة الا باللہ کہنا چاہےے تھا ، اگرمجھے مال واولاد میں اپنے سے کم دیکھ رہے ہو ، بہت ممکن ہے کہ میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے بھی بہتر دے اور اس پر آسمانی عذاب بھیج دے تو یہ چٹیل اور چکنا میدان بن جائے چنانچہ ہوا ایسا ہی کہ اس کا سارا کا سارا باغ ہلاکت کی نظر ہوگیا اور وہ کفِ افسوس ملتا رہ گیا ۔
 بہرکیف! انسان کو مال ودولت ، آل واولاد ، اور قبیلہ وخاندان پر فخر نہیں کرنا چاہےے ، کیونکہ یہ چیزیں دنیائے فانی کی متاع فریب ہیں ، آخرت میں جو چیزکام آنے والی ہے وہ ہے اللہ اور اسکے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنا ۔ 


مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 16, 2009

امانت مں خيانت

وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ( آل عمران 161) 

ترجمہ :
جو شخص خيانت کرے گا وہ خيانت کردہ چيز کو قيامت کے دن لے کر آئے گا پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ديا جائے گااور وہ ظلم نہ کيے جائيں گے“( آل عمران)

تشريح:
 اگر کسی کو امانت کا مال سونپا گيا ہے تواس کا فرض بنتا ہے کہ مال کو صحيح مصرف ميں استعمال کرے ،اگر اس نے غلط سلط حساب کر کے امانت ميں خيانت کی تو اُسے ياد رکھنا چاہيے کہ کل قيامت کے دن خيانت کردہ چيزوں کو اپنے کمر اور پيٹھ پر لادے ہوئے اللہ کے دربار ميں حاضر ہوگا ۔

 اس سلسلے ميں بخاری ومسلم کی ايک طويل حديث ہے جس ميں آيا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ايک دن وعظ فرمايا اوراس ميں خيانت کا ذکر خصوصيت سے کيا نيزاس کی شناعت بيان کرتے ہوئے فرمايا کہ جس نے دنيا ميں جو کچھ خيانت کی ہوگی ‘ اسے اپنے گردن ميں لادے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوگا، آپ سے سفارش کی درخواست کرتے ہوئے کہے گا يارسول اللہ ! ميری امداد فرمائيے۔ آپ اس وقت صاف جواب دے ديں گے لَا املِکُ لَکَ شيئا قد أبلغتك ميں تيرے ليے کسی چيز کا مالک نہيں ہوں‘ نہ تيری امداد کر سکتا ہوں ، دنيا ميں ميں نے تجھے يہ بات پہنچا دی تھی۔
اور صحيح بخاری کی روايت ہے ايک مرتبہ آپ کے ايک خادم نے غنيمت سے ايک چادر چرالی تھی ، جہاد ميں تير لگنے سے شہيد ہو گيا ، لوگوں نے اس کی شہادت پر مبارکباد دی کہ جنت مبارک ہو يعنی شہيد ہو گيا جنت ميں جائے گا ۔

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا :
” ہرگز نہيں خدا کی قسم ! جس چادر کو خيبر کی جنگ ميں اس نے چراياہے اور وہ تقسيم نہيں ہوئی تھی وہ چادر اس غلام پر دوزخ کی آگ بھڑکا رہی ہے“ ۔
يعنی ايک چادر کی خيانت کی وجہ سے وہ دوزخ ميں گيا ۔ جب لوگوں نے يہ وعيد سنی تو ڈر کے مارے ايک صاحب اٹھے اور چمڑے کے ايک يا دو تسمے لاکر آپ کی خدمت ميں پيش کردی آپ نے فرمايا : ”يہ ايک يا دو آگ کے تسمے ہيں“ ۔
آج مسلم معاشرے ميں خيانتيں بالکل عام ہوتی جا رہی ہيں، آج کتنے ايسے لوگ ہيں جو اپنے بھائيوں کو دھوکہ دے کر ان سے پيسے اينٹھتے ہيں ۔ آج کتنے ايسے لوگ ہيں جو قرض کے بہانے دوسروں سے پيسے ليتے ہيں اور فرار ہوجاتے ہيں کيا ہميں اللہ کا ڈر نہيں ؟ يہ نہ سمجھيں کہ جےسے چاہيں پيسے بٹور ليں اس کی کوئی پوچھ گچھ ہونے والی نہيں ؟ جن جن لوگوں کو چکما دے کر ان کا مال کھائے تھے کل قيامت کے دن سارے لوگ دعويدار بن کر ہمارے سامنے آئيں گے ، اس دن پيسے تو ہوں گے نہيں کہ دعوےداروں کو چکا سکيں تاہم نيکياں ہوں گی ، چنانچہ ہماری ايک ايک نيکی دعويداروں کو دے دی جائے گی ، جب نيکياں ختم ہو جائيں گی اور دعويدار باقی رہ جائيں گے تو دعويداروں کے گناہوں کو لے کرہمارے سر پر تھوپ ديا جائے گا ۔ پہاڑوں جيسی نيکياں لے کر آئے تھے ليکن ابھی گناہوں کا پتلہ بن کر رہ گئے چنانچہ فرشتے کو حکم ہوگا کہ اسے دبوچ کر جہنم کی کھائی ميں پھينک دو.... يہی ہے حقيقی افلاس ۔
مکمل تحریر >>