جمعرات, نومبر 15, 2018

بچوں کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ کا معاملہ کیسا ہوتا تھا ؟

اللہ کے رسول ﷺ ساری مخلوق کے لیے رحمت بناکر بھیجے گیے تھے، آپ کا معاملہ سماج کے ہر طبقہ کے ساتھ نہایت عمدہ ہوتا تھا، آپ افضل رسول تھے، آپ بہادر جرنیل تھے،  آپ بہترین شوہر تھے، آپ شفیق باپ تھے، یہاں تک کہ بچوں کے ساتھ بھی آپ کا معاملہ شفقت و رحمت اور مہربانی پر مبنی ہوتا تھا۔
آج  ہم آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے دریچے سے بچوں کے ساتھ آپ کے کریمانہ اخلاق کے چند نمونے پیش کر یں گے جن سے بچوں کے ساتھ آپ کی شفقت اور محبت کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اپنے بیٹے ابراہیم کے ساتھ:
جب آپ ﷺ کے گھر ابراہیم کی پیدائش  ہوئی اور ابو رافع نے آکر آپ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے خوشی سے اسے ایک غلام عنایت فرمایا۔ (الطبقات الكبرى  1 / 135 ) جب صبح ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے گھر آنے والے اس نئے مہمان کی صحابہ کرام کو بشارت دی، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:  ولد لي الليلة غلام فسميته باسم أبي إبراهيم (صحيح مسلم  4 / 1807 )   آج کی رات مجھے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے میں نے اس کا نام اپنے باپ کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کےساتھ ابوسیف کے گھر گئے جو لوہاری کا پیشہ اختیار کرتے تھے اور ان کی بیوی ام سیف (عرب کی روایت کے مطابق) ابراہیم کو دودھ پلا رہی تھی، اللہ کے رسول ﷺ نے ابراہیم کو لیا اسے بوسہ دیا اور چوما۔ پھر دوسری مرتبہ ہم آپ کے ساتھ ابراہیم کے پاس گئے یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم جان کنی کے عالم میں تھے۔ یہ منظر دیکھ کر رحمتِ عالم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
اس وقت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ!ﷺکیا  آپ بھی روتے ہیں؟  آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے!یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے۔ اس کے بعد پھر دوبارہ جب آپ کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہنےلگے  تو آپ کی زبان مبارک پریہ کلمات جاری ہوگئے:اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ‘‘ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلاشبہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں۔ (رواه البخاری:1303، مسلم :2315).
اور صحیح مسلم کی روایت میں انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: والله ما رأيت أحدًا كان أرحم بالعيال من رسول الله صلى الله عليه وسلم (رواه مسلم 2316).  اللہ کی قسم! میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ اپنے اہل وعیال پر رحم وشفقت کرنے والا کسی اور کو نہیں دیکھا۔
اپنے نواسے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کہ ایک دن حسن یا حسین رضی اللہ عنہما  آپ کے پیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے آپ کے شکم مبارک پر پیشاب کرنا شروع کردیا، آپ ﷺ نے فرمایا: لا تزرموا ابنِي أو لا تستعجِلوه فتركه حتىقضى بولَه فدعا بماءٍ فصبَّه عليه (مجمع الزوائد: 1/290)
 میرے بیٹے کو پیشاب کرلینے دو۔ جلدی مت کرو، چنانچہ آپ نے اسے چھوڑ دیا حتی کہ پیشاب سے فارغ ہوگیا، پھر اس کے بعد پانی منگوایا اوراس پر چھینٹ مار دی ۔ 
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی الله عنہما کے لیے اپنی زبان باہر نکالتے، جب بچہ زبان کی سرخی دیکھتا تو وہ خوش ہو جاتا ۔ (السلسلة الصحيحة 1 / 110)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما بھی تھے، ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کندھے پر اور دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے کندھے پر تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اِن سے پیار کرتے اور کبھی اُن سے۔ چنانچہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کو ان سے محبت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَن اَحَبَّہُمَا فَقَد اَحَبَّنِی ، وَمَن اَبغَضَہُمَا فَقَد اَبغَضَنِی (الصحيحة: 2895)  جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔ 
ایک موقع سے آپ نے فرمایا ہُمَا رَیحَانَتَایَ مِنَ الدُّنیَا۔  بے شک حسن اور حسین رضی اللہ عنہما  دنیا میں میرے دوپھول ہیں۔ ( صحیح بخاری: 5994)
سنن ابو داود کی روایت ہے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ  کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اس دوران حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما نمودار ہوئے ، انہوں نے سرخ رنگ کی قمیصیں پہنی ہوئی تھیں اور وہ ان میں بار بار پھسل رہے تھے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے، اپنا خطبہ روک دیا، انہیں اٹھایا اور اپنی گود میں بٹھا لیا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اٹھائے ہوئے منبر پر چڑھے ۔ اس کے بعد فرمایا : اللہ تعالی نے سچ فرمایا ہے کہ

إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ بے شک تمھارے اموال اور تمھاری اولاد آزمائش ہیں ۔“  میں نے انہیں دیکھا تو مجھ سے رہا نہ جا سکا ۔  پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خطبہ مکمل فرمایا ۔ ( سنن ابوداؤد: 1109) عبداللہ بن شداد اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظہر یا عصر کی نماز کے لیے تشریف لائے، آپ نے حسن یا حسین رضی اللہ عنھما کو اٹھا رکھا تھا، آپ آگے بڑھے، انہیں انہیں سامنے رکھ دیا اور اور نماز پڑھانے لگے، نماز کے بیچ آپ نے بہت لمبا سجدہ کیا، میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ بچہ آپ کی پشت مبارک پر ہے، اور آپ سجدے کی حالت میں ہیں،  میں دوبارہ سجدے میں لوٹ گیا، جب رسول ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اثنائے نماز بہت لمبا سجدہ کیا۔ حتی کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ کوئی  معاملہ تو پیش نہیں آگیا  یا  آپ پر وحی  تو نازل نہیں ہو رہی ہے؟  آپ نے فرمایا: ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، بس میرا نواسا میری گردن پر  بیٹھ گیا تھا، میں نےاسے اپنی ضرورت پوری کرنے سے پہلے ہٹانا مناسب نہیں سمجھا ۔ (سنن النسائی: 1140).

اپنی نواسی امامہ بنت ابوالعاص کے ساتھ :
اللہ کے رسول ﷺ اپنی نواسی  امامہ رضی اللہ عنہا پر جو زینب کی بیٹی تھیں بہت شفقت فرماتے تھے،  بسااوقات اسے لے کر مسجد چلے جاتے، اسے اٹھا کر آپ نماز پڑھتے تھے، جب سجدہ کرتے تو زمین پر بٹھا دیتےاور کھڑے ہوتے تواپنے کندھے پر  اٹھا لیتے تھے۔ (صحیح البخاری:516، صحیح مسلم:542).
صحابہ کے بچوں اور بچیوں کے ساتھ :
بلکہ صحابہ کے بچوں اور بچیوں کے ساتھ بھی آپ بڑی شفقت اور پیار کا معاملہ فرماتے تھے۔ جب صحابہ کے بچے پیدا ہوتے تو وہ آپ کی خدمت میں لاتے تھے، آپ اسے گود میں لیتے، اسے بوسہ دیتے اور اس کے لیے برکت کی دعائیں فرماتے تھے۔ صحیح البخاری کی روایت ہے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے ایک لڑکا ہوا، میں اسے لے کر اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں آیا، چنانچہ آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا، کھجور کو چباکر اس کی گھٹی کی، اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر میرے حوالے کردیا۔
ام خالد کے ساتھ:
 ام خالد جلیل القدر صحابی خالد بن سعید بن العاص کی بیٹی ہیں، ان کی ولادت سرزمین حبشہ میں ہوئی، جب وہاں سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ لوٹ کر آئے توایک دن  آپ کی خدمت میں تشریف لائے،  اپنے ساتھ اپنی بیٹی ام خالد کو بھی لے کرآئے تھے۔ اس بچی  ام خالد کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ نے جومعاملہ کیا اسے خود انہوں نے بیان کیا ہےچنانچہ صحیح البخاری کی روایت ہے ۔ وہ خود فرماتی ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آئی، میں نے زرد رنگ کی قمیص زیب تن کر رکھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: " سِنَهْ سِنَهْ " (حدیث کے راوی) عبداللہ  کہتے ہیں کہ حبشی زبان میں خوبصورت کو " سِنَهْ سِنَهْ "  کہاجاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں مہر نبوت سے کھیلنے لگی، میرے باپ نے مجھے ڈانٹا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: " أَبْلِي وَأَخْلِقي، ثُمَّ أَبْلِي وأَخْلِقي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقي ". یہ کپڑا تمہارے بدن پر لمبی مدت تک رہے اور تمہیں لمبی زندگی ملے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ ایک عرصہ تک باحیات رہیں۔ (صحیح البخاری: 3071)
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ: 
صحیح مسلم کی روایت ہے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :  صليتُ مع رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ صلاةَ الأولى . ثم خرج إلى أهلِه وخرجتُ معَه . فاستقبلَه ولدانٌ . فجعل يمسحُ خدَّيْ أحدهم واحدًا واحدًا . قال : وأما أنا فمسح خدِّي . قال فوجدتُ لِيَدِه بردًا أو ريحًا كأنما أخرجها من جؤنةِ عطارٍ (صحيح مسلم:  2329)
میں نےرسول اللہ ﷺ کے ساتھ  ظہرکی نماز پڑھی، پھر آپ  اپنے گھر تشریف لے جانے لگےتو میں بھی آپ کے ساتھ نکلا، چند بچے آپ کے سامنے آئے، آپ نے ہر بچے کے رخسار پر ہاتھ پھیرا،  میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا، میں نے آپ کے ہاتھ میں ایسی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا عطار کے ڈبے سے آپ نے ہاتھ نکالا ہو۔
ابو عمیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ:
بسااوقات آپ ﷺ بچوں سے کھیلتے اور ان سے ہنسی مذاق کرتے تھے: انس رضی اللہ عنہ کے ایک ماں شریک بھائی تھے، ابو عمیر رضی اللہ عنہ، وہ چھوٹے بچے تھے، ان کے پاس ایک پرندہ تھا، جس سے وہ کھیلا کرتے تھے،اچانک وہ پرندہ مر گیا،  انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب بھی آپ ﷺ ہمارے گھر تشریف لاتے تو فرماتے: «يا أبا عمير، ما فعل النُغير (رواه البخاری:6203، ومسلم: 2150). اے ابو عمیر! تیرے نغیر کا کیا ہوا؟ 

محمود بن الربیع  رضی اللہ عنہ  کے ساتھ:
کبھی کبھار اللہ کے رسول ﷺ بچوں سے  اپنے پیار کا اظہار کرنے کے لیے ان کے منہ پر کلی پھینکتے ۔صحیح البخاری کی روایت ہے ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے منہ میں پانی ڈالا اور اپنے منہ سے پانچ سال کے بچے کے منہ پر کلی پھینکا، ایسا آپ نے پیار اور محبت کے اظہار کے لیے کیا۔ یہ صحابی محمود بن الربیع رضی اللہ عنہ ہیں، چنانچہ وہ بڑے ہونے کے بعد لوگوں سے کہا کرتے تھے: عَقَلْتُ من النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم مَجَّةً مَجَّها في وجْهِي، وأنَا ابنُ خمسِ سِنِينَ، من دَلْوٍ .( صحيح البخاري: 77مجھے اچھی طرح سمجھ  ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے برتن سے پانی لے کر میرے چہرے پر کلی پھینکا تھا جبکہ میں اس وقت پانچ سال کا تھا۔  
بچے کو اس کا حق دیا:
اللہ کے رسول ﷺ کی بچوں پر ایسی شفقت تھی کہ آپ یہ بھی گوارہ نہیں کرتے تھے کہ بچوں کا حق مار کر بڑوں کا خیال کرتے ہوئے ان کو  دے دیا جائے۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ واقعہ کے راوی ہیں ،  اللہ کے رسول ﷺ کے پاس پینے کی کوئی چیز پیش کی گئی۔ آپ نے اس سے نوش فرمایا،  آپ کے دائیں جانب ایک بچہ تھا، اورآٓپ کے بائیں جانب عمر رسیدہ افرادتھے،  آپ ﷺ نے اس بچے سے فرمایا: کیا تم اجازت دیتے ہوکہ میں ان کو (پہلے)  دوں؟ بچے نے کہا: اللہ کی قسم میں آپ کی طرف سے ملے حصے پر کسی اور کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ (صحیح البخاری:2605، صحیح مسلم:2030). اس حدیث میں اس بات کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ بچوں کا اہتمام کرتے تھے، انہیں ان کا حق دینے کی تاکید کرتے تھےاور اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ان میں  جرأت کا جذبہ پیدا کرتے تھے۔
 یہودی لڑکے  کے ساتھ : 
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا آپ ﷺ کی خدمت  کرتا تھا، ایک مرتبہ  وہ بیمار ہوگیا، آپ اس کی تیمارداری کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئے، آپ اس کے سر کے پاس بیٹھے، اور فرمایا: اسلام قبول کرلو۔ لڑکا اپنے باپ کی طرف دیکھنے لگا جو اس کے پاس تھا، باپ نے کہا: ابوالقاسم کی بات مان لو۔ چنانچہ اس نے اسلام قبول کرلیا۔اللہ کے نبی ﷺ وہاں سے نکلے تو آپ فرما رہے تھے: «الحمد لله الذي أنقذه من النار» (صحیح البخاری:1356). اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے ذریعہ اسے جہنم سے بچا لیا۔
 بچیوں کی اہمیت:
زمانہ جاہلیت میں لوگ بچیوں کی پیدائش کو عار سمجھتے تھے، لیکن نبی ﷺ نے بچیوں کو ان کا حق دیا، ان کا احترام کیا، اور ان کی تربیت وتعلیم پر خصوصی انعامات کی بشارت سنائی  بلکہ ان کے حسن تربیت کو جنت میں داخلے کا موجب گردانا۔آپ ﷺ نے فرمایا:
«من عال جاريتين حتى تبلغا، جاء يوم القيامة أنا وهو - وضم أصابعه-» (صحیح مسلم:2631). 
جس نے دو بچیوں کو بلوغت تک پوسا پالا، جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو میں اور وہ یوں ہوں گا۔ پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ دو بیٹیاں تھیں، مجھ سے کچھ مانگا، میرے پاس صرف ایک کھجور تھی، میں نے اسے دے دیا، اس نے اسے آدھا آدھا کرکے دونوں بیٹیوں میں بانٹ دیا، اور خود نہ کھائی، پھر کھڑی ہوئی اور چلی گئی، اللہ کے رسول ﷺ جب تشریف لائے تو میں نے ان سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا:
من ابتلي من هذه البنات بشيء فأحسن إليهن كن له ستراً من النار  ( صحیح البخاری: 1418، صحیح مسلم: 2629)
جسے ان بیٹیوں کی وجہ سے کسی طریقے سے آزمایا جائے اور وہ ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے تو یہ ( کل قیامت کے دن) جہنم سے پردہ بنیں گی۔

مکمل تحریر >>

جمعرات, جنوری 23, 2014

رسالت محمدی کی عالم گیریت

 زیرنظرمضمون میں ہماری گفتگو چار نکات پر مشتمل ہوگی جس کی روشنی میں ہرکہہ ومہ یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگاکہ رسالت محمدی ایک عالم گیراور آفاقی دعوت ہے :
پہلا نکتہ : تاریخی حیثیت سے ساتویں صدی عیسوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ۔
دوسرانکتہ : جغرافیائی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے لیے سرزمین مکہ کاانتخاب ۔
تیسرانکتہ : قرآن کریم اوراحادیث نبویہ کی حفاظت کی ضمانت۔
چوتھانکتہ : مذہبی کتابوں میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدکی پیشین گوئیاں ۔
ساتویں صدی عیسوی میں ہی نبی اکرم کی بعثت کیوں ؟
آخرساتویں صدی عیسوی میں ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کیوں ہوئی؟ اس سے پہلے کیوں نہ ہوئی؟ آخرایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاکے بھیجنے کی کیاضرورت تھی ؟ کیوں نا اللہ تعالی نے شروع انسانیت کے وقت ہی رحمت عالم کو پیدا کردیا اورانہیں مکمل ضابطہ حیات دے کربھیج دیا؟ جب آپ اس نکتے پرغور کریں گے توآپ کوخودبخود سمجھ میں آجائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتویں صدی میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ پوری انسانیت کے لیے بھیجے گئے تھے وہ کیسے ؟
 اللہ تعالی کایہ نظام ضرورتھا کہ پوری انسانیت کوایک اللہ،ایک رسول اورایک ہی نظام حیات کے ذریعہ ایک پلیٹ فارم پرجمع کردیاجائے تاکہ سارے بھیدبھاؤ دورہوجائیں لیکن شروع میں ایسا کرنا ممکن نہ تھا ، کیونکہ لوگ دنیا کے مختلف حصوں میں بٹے ہوئے تھے، ان میں آپسی میل جول نہ تھا،ان کی زبانیں بھی الگ الگ تھیں ،اس وقت ایک ملک سے دوسرے میں آمدورفت کے ذرائع بھی محدود تھے،کہیں دوملکوں کے بیچ میں سمندر تھا توکہیں پہاڑ،کہیں چٹیل میدان تھا توکہیں جنگل ،جن کاپارکرنااس وقت کے آدمی کے لیے ممکن نہیں تھا ، ایسی حالت میں ایک ہی نبی کاپوری انسانیت کی ہدایت ورہبری کرنا ممکن نہیں تھا ،اسی لیے اللہ تعالی نے ہرملک اورہرقوم میں الگ الگ نبی اوررسول بھیجا تاکہ لوگوں کی ہدایت کاکام بآسانی ہو سکے ۔
اوردوسری بات یہ ہے کہ اس وقت انسانی عقل بھی محدود تھی ،واقعہ یہ ہے کہ انسانیت کی ترقی اس طرح ہوئی ہے ،جس طرح ایک بچے کی ہوتی ہے کہ بچپن سے سن شعور ، اورسن شعور سے جوانی ،ایسی حالت میں انہیں جامع نظام حیات نہیں دیا جاسکتا تھا،اسی لیے اللہ تعالی نے مریض کی طاقت کے مطابق دوا کاانتخاب کیا اورانسانیت کو اتنے ہی احکامات دیئے جن کی وہ طاقت رکھتی تھی ، یہی پیشین گوئی عیسیٰ علیہ السلام نے کی تھی : ”مجھے تم سے بہت کچھ کہنا ہے مگر ان سب باتوں کو تم برداشت نہ کرسکوگے لیکن جب روح حق آئے گا توتم کوسچا ئی کی راہ دکھائے گا “۔ ( یو حنا باب 16درس 12)
اس تفصیل سے معلوم یہ ہوا کہ انسانیت ساتویں صدی عیسوی سے پہلے تک اس قابل نہیں تھی کہ اسے مکمل نظام حیات دیاجاسکے ۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں حالات سازگارہوچکے تھے ،انسانی عقل ودماغ میں وسعت آچکی تھی،آمد ورفت کے ذرائع بہت حدتک میسر ہوگئے تھے ، مختلف قوموں میں لکھنے پڑھنے اوراجنبی زبانوں کے سیکھنے کارجحان عام ہوگیا تھا ،تجارت اور کاروبار میں ترقی کے ساتھ ساتھ قوموں میں آپسی تعلقات قائم ہوچکے تھے،چین اورجاپان سے لیکر یورپ اورافریقہ کے ممالک تک بری اور بحری سفر وں کی شروعات ہوچکی تھی ، اس طرح وہ دوری اورجدائی جوپہلے قوموں کے بیچ پائی جاتی تھی ،دھیرے دھیرے کم ہوتی گئی اوریہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کی ایک ہی تعلیم اورایک ہی نظام حیات ساری انسانیت کے لیے بھیجا جائے ،کسی شاعرنے کیا خوب کہا ہے:
جب اپنی پوری جوانی پہ آگئی دنیا   

جہاں کے واسطے ایک آخری پیام آیا
جی ہاں ! یہ تھا آخری پیام پوری انسانیت کے نام ۔جواس وقت آیاجبکہ انسانیت اپنی پوری جوانی پہ آچکی تھی ،اب قیامت تک کوئی پیام آنے والا نہیں ہے ۔
جغرافیائی حیثیت سے آپ کی بعثت کے لیے سرزمین مکہ کاانتخاب
 سرزمین مکہ عالمی دعوت کے لیے نہایت موزوں تھی ، اس لیے کہ یہ ملک ایشیا اورافریقہ کے ٹھیک وسط میں واقع ہے، اوریورپ بھی یہاں سے بہت قریب ہے ، اورآج جغرافیائی تحقیق نے یہ ثابت کردیاہے کہ مکہ مکرمہ کرہ ارضی کے بری حصہ کے بالکل وسط میں واقع ہے ، اس تحقیق کاسہرا ایک مسلمان سائنس داں ڈاکٹرحسین کمال الدین کے سرجاتاہے ۔سن 1977عیسوی میں ڈاکٹرحسین کمال الدین نے سمت قبلہ کی تعیین کے لیے ایک کامپس تیارکرنے کے ارادہ سے کرہ ارضی کاایک جدید جغرافیائی نقشہ تیار کیا اورتحقیق شروع کی ، اپنی ابتدائی تحقیق میں پہلی لکیڑ کھینچا ، اوراس پر پانچ براعظموںکا نقشہ بنایاتو غیرارادی طورپر ان کے سامنے یہ تحقیق ظاہر ہوگئی کہ مکہ مکرمہ کرہ ارضی کے بالکل وسط میں واقع ہے ۔
 اورجب یہ بات ثابت ہوگئی کہ مکہ مکرمہ کرہ ارضی کے بری حصہ کے بالکل وسط میں واقع ہے تو اس ناحیہ سے ضرور ت تھی کہ مکہ مکرمہ جیسی مرکزی سرزمین ہی عالمی رسالت کاگہوارہ بنے تاکہ اس کاپیغام پوری دنیا میں بآسانی پھیل سکے ۔
سرزمین مکہ کی دوسری خصوصیت جس کی طرف مولانامودودی رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے کہ عرب ہر طرح کی برائیوں میں لت پت ہونے کے باوجود بہادر تھے ،نڈرتھے ،سخی اوردریادل تھے ،اورعالمی رسالت کی نشرواشاعت کے لیے ایسے ہی لوگوں کی ضرورت تھی، پھران کی زبان بھی عربی تھی جس کے اندر لطافت اور شیرینی کے ساتھ ساتھ ایسی جامعیت پائی جاتی ہے کہ مختلف معانی کوکم سے کم الفاظ میں سمولے ، اورآخری کتاب الہی کے لیے ایسی ہی زبان کی ضرورت تھی ۔
اس سرزمین کی تیسری خصوصیت جس کی طرف ڈاکٹر التفات احمد نے اشارہ کیا ہے کہ اس ملک میں کوئی حکومت نہیں تھی جودعوت اسلامی کی راہ میں مزاحم بنتی، کیوں کہ آپ سے پہلے انبیاءورسل کی تاریخ گواہ ہے کہ جس ملک میں بھی وہ بھیجے گئے ،سب سے پہلے اس ملک کے بادشاہوں نے ان کی مخالفت کی کہ مبادا ان کی حکومت چھن جائے یہاں تک کہ کسی کوقتل کردیاتو کسی کوجلاوطنی پرمجبوری کیا،جب کہ مکہ مکرمہ کی حالت اس کے بالکل برعکس تھی ،پورے مشرق وسطی میں عرب ہی وہ دیش تھا ،جہاںکوئی راجانہیں تھا ،وہاں ہرقبیلے کی اپنی اپنی سر داری تھی ،پھراللہ کی عنایت یہ بھی ہوئی کہ اس نے آپ کومکہ کے سب سے معزز قبیلہ قریش کے سردار عبدالمطلب کے گھر پیدافرمایا کہ اپنے پرائے کوئی آپ کی مخالفت کی جرأت نہ کرسکیں ،اس بنیادپرآخری نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کوپورا موقع مل گیا کہ محض 23سال کی مدت میں پورے عرب میں اسلامی حکومت کی تعمیر کرسکیں، غرضیکہ سرزمین مکہ سے دعوت محمد ی کاآغاز اس کی آفاقیت کی واضح دلیل ہے ۔
کتاب وسنت کی معجزانہ حفاظت
رسالت محمدی کی آفاقیت کی ایک دلیل کتاب وسنت کی معجزانہ حفاظت کااہتمام بھی ہے ،رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کاپیغام پوری انسانیت کے نام تھا ،اس لیے ضرورت تھی کہ آپ کی لائی ہوئی شریعت کی حفاظت کاپورابندوبست کیا جائے ،انبیاورسل کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کے ماننے والوں نے ان کے مرنے کے بعد کلام الہی میں ردوبدل کردیا،خاتم النبیین کی بعثت کے وقت یہ بہت بڑا سوال تھا کہ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والانہیں تھا ،اگر کلام الہی میں تبدیلی واقع ہوگئی تو قیامت تک دنیاتاریکی میں بھٹکتی رہے گی ،ظاہر ہے کہ اس کے لیے زبردست انتظامات کی ضرورت تھی ۔چنانچہ اللہ پاک نے اس سلسلے میں متعددانتظامات کیا:
پہلا انتظام : اب تک رسولوں پرجوکتابیں اتری تھیں وہ صحیفے کی شکل میں بیک وقت اتری تھیں ،لیکن آخری کتاب کے تعلق سے اللہ تعالی نے اس نظام کوبدل دیا اور23سال کی لمبی مدت میں موقع اورمناسبت سے آپ پرقرآن کواتاراتاکہ لوگ اسے بآسانی لکھ لیں ،سمجھ لیں اورسینوں میں محفوظ کرلیں ،اس طرح قرآن کریم حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پوری طرح سے محفوظ کرلیاگیا۔
دوسراانتظام : اس کتاب کی حفاظت انسانوں کے سرنہیں رکھا بلکہ اس کی ذمہ داری خود لے لی چنانچہ فرمایا : انانحن نزلناالذکروانالہ لحافظون (سورہ الحجر 9) ”ہم نے ہی ذکریعنی قرآن کریم کواتاراہے ،اورہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔
تیسرا انتظام :اللہ تعالی نے قرآن کریم کو معجزہ بنادیا: یعنی اللہ تعالی نے اس کاایسااسلوب رکھا کے پوری انسانیت بھی مل کر اس کے اسلوب میں ایک آیت بھی بنانا چاہے تونہ بناسکے ۔
چوتھاانتظام: قرآن کریم کی حفاظت کے ساتھ ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اورآپ کی احادیث کی حفاظت کے لیے بھی ایسے جہابذہ کوپیدافرمایاجنہوں نے اس کام کوبحسن وخوبی انجام دیا، محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن سے لے کر آخری وقت تک جوکچھ کیا اوربولاان کے ساتھیوں نے اسے یادکیااورکچھ لوگوں نے اسے لکھا، پھربعد کی نسلوں تک پہنچایا ،جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے ،پھر سننے والوں نے دوسروں کو سنایا یہاں تک کہ اسے لکھ دیاگیامثلافلان نے فلاں سے کہااورفلاں نے فلاں سے کہاکہ میں نے اپنے کانوں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناہے ،جن لوگوں کے ذریعہ یہ حدیثیں دوسروں تک پہنچتی ہیں انہیں راوی کہتے ہیں ، مورخین نے ان راویوں کے پورے حالات لکھا ہے، اگران میں کوئی جھوٹا تھا یاان کی یاداشت کمزورتھی،ان کے ذریعہ سے بیان کی گئی احادیث کو ردکردیاگیا،اس اہتمام کی بنیاد ی وجہ یہی تھی کہ یہ دین عالم گیر دین تھا جسے قیامت کے دن تک انسانیت کی رہنمائی کافریضہ انجام دینا تھا۔
 مذہبی کتابوں میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدکی پیشین گوئیاں
رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی آفاقیت کی ایک بنیادی دلیل یہ بھی ہے کہ پچھلی کتابوں میں آپ کی آمدکی بشارت دی گئی ہے ،کہیں آپ کے نام کی صراحت کے ساتھ توکہیں آپ کے صفات کاذکرکرکے ۔قرآن کریم نے بھی تورات وانجیل میں آخری نبی کی بشارت کے وجود کی تائیدکی ہے، اللہ تعالی نے فرمایاہے : الذین یتبعون الرسول النبی الأمی الذی یجدونہ مکتوباعندھم فی التوراة والإنجیل ”وہ اس رسول کی اتباع کرتے ہیں ،جونبی امی ہیں جس کے اوصاف کووہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہواپاتے ہیں “ بلکہ خود عیسی علیہ السلام نے آپ کی آمد کی خوش خبری سنائی اورپیشین گوئی کی ہے ،چمانچہ اللہ تعالی نے فرمایا: وإذ قال عیسی ابن مریم یا بنی اسرائیل إنی رسول اللہ إلیکم مصدقا لما بین یدی من التوراة ومبشرا برسول من بعدی اسمہ أحمد اورجب عیسی علیہ السلا م نے کہا ”اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کارسول ہوں “ میں تورات کی تصدیق کرتاہوں جومجھ سے پہلے تھی اورتمہیں ایک رسول کی بشارت دیتاہوں جومیرے بعد آئے گاجس کا احمد ہوگا ۔
(سورہ صف آیت نمبر7) یہی بشارت عیسی علیہ السلام انجیل یوحناباب 16درس 7میں کچھ یوں دیتے ہیں ''میں اب جارہا ہوں،اگرمیں نہیں جاؤں گا تووہ مددگاریعنی فارقلیط نہیں آئے گا، میں چلاگیا تو اسے تمہاری طرف بھیج دوں گا، جب وہ آے گا توسب جہاں والوں کوگناہ پرتنبیہ کرے گا " ۔ انجیل کے اس جملہ میں بالکل واضح اندازمیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی آمدکی خوشخبری دی گئی ہے ،یونانی زبان میں مددگارکی جگہ فاقلیط لفظ کا استعمال ہواہے ،جس کامعنی ہوتاہے احمد یعنی بہت تعریف کیا ہوا، یاقابل تعریف ،اور آپ ہی نے شروفساد کے سمندرمیں تیرتی ہوئی انسانیت کوخدائے واحدپرجمع کیا ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدکی بشارت تورات وانجیل کے علاوہ دیگر قدیم مذہبی کتابوں میں بھی وارد ہوئی ہے ،اگرچہ ان کتابوں کے من عنداللہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ملتی ۔چنانچہ گوتم بدھ نے موت کے وقت اپنے شاگرد ننداکوکان میں ایک نئے بدھ کے آنے کی خبردی تھی جس کانام میتری ہوگا۔ اورمیتری کامعنی ہوتاہے محمد-
ہندومذہب کی کتابوں میں بھی آپ کاذکرملتاہے ،چنانچہ ویدوں میں 31مقامات پرنراشنس کے نام سے نام سے آپ کاتذکرہ کیاگیا ہے ،
نراشنس لفظ نراورآشنس سے مل کربناہے ،نرکامطلب ہوتاہے انسان اورآشنس کامطلب ہوتاہے تعریف کیاہوا،یعنی وہ انسان جس کی تعریف کی گئی ہواوریہی معنی محمد کابھی ہوتاہے ۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ہندومذہب میں کلکی اوتارکی آمدکاانتظارہورہاہے ،جوہندومذہب کے مطابق سب سے آخری اوتار ہوں گے ،ان کے صفات بھی مذہبی کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں ،تحقیق سے پتہ چلتاہے کہ وہ آخری اوتاریانبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ،چنانچہ کلکی اوتارکی تاریخ ولادت کاذکر کلکی پران ادادھیائے 2شلوک 15میں اس طرح آیا ہے :”جس کے جنم لینے سے دکھی مانوتاکاکلیان ہوگا ،اس کاجنم مدھوماس کے شمبھل پکچھ اورربیع فصل میں چندرماکی بارہویں تیتھی کوہوگا ،اورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش بھی 12ربیع الاول کوہوئی ،اور آپ ہی نے سسکتی ہوئی انسانیت کوجام حیات پلایا ،اسی طرح شری مدبھگوت مہاپوران ادھیائے 12۔۔کھنڈ 2-۔اورشلوک 18 میں آپ کی جائے پیدائش اورماں باپ کانام بھی ذکرکیاگیاہے ،چنانچہ کلکی اوتارکی جائے پیدائش شمبھل بتایاگیاہے (شمبھل ) کالفظی معنی ہوتاہے امن وسکون کاگھریعنی دارالامن اورمکہ جہاں آپ کی پیدائش ہوئی اسے عربی میں دارالامن کہاجاتاہے ،۔
کلکی کے باپ کانام (وشنویش) بتایاگیاہے ،وشنویش دولفظوں سے مرکب ہے ،وشنواورویش وشنوکامعنی ہوتاہے اللہ اوریش کامعنی ہوتاہے بندہ یعنی اللہ کابندہ اورمحمدصلی اللہ علیہ وسلم کے باپ کانام بھی عبداللہ تھا جس کامطلب ہوتاہے اللہ کابندہ ۔کلکی ماں کانام سومتی بتایاگیاہے ،جس کامطلب ہوتاہے شانتی اورنرم طبیعت والی اورمحمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ماں کانام آمنہ تھا ،جس کامطلب ہے شانتی والی ۔
ڈاکٹروید پرکاش اپادھیائے نے اپنی کتاب ”کلکی اوتار محمدصلی اللہ علیہ وسلم “ اورڈاکٹر ایم اے شری واستونے اپنی کتاب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوربھارتی دھرم گرنتھ میں،کلکی اوتار اورمحمدصلی اللہ علیہ وسلم کے صفات کاتقابلی مطالعہ کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ آج ہندودھرم میں جس کلکی اوتارکاانتظارکیاجا رہاہے ،وہ آچکے اور وہی محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔
بلکہ ہندو مذہبی کتابوں میں بعض جگہ پرآپ کانام کی صراحت کے ساتھ آپ کی اتباع کولازمی قرار دیاگیاہے ،چنانچہ یجرویدادھیائے 18اشلوک 31میں آیاہے:
" ویداحمدعظیم انسان ہیں ،سورج کے مثل اندھیرے کودورکرنے والے ،انہیں کوجان کرآخرت میں کامیاب ہواجاسکتاہے ،اس کے علاوہ کامیابی تک پہنچنے کاکوئی دوسراراستہ نہیں " ۔
سبحان اللہ ! کس قدرصراحت کے ساتھ آپ کے آنے کی خبردی گئی ہے ،اور آپ کی اطاعت کوہی نجات کاضامن بتایا گیا ہے،غرضیکہ مذہبی کتابوں میں آپ کی آمدکی پیشین گوئی کامطلب اس کے علاوہ اورکچھ نہیں کہ آپ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے ہوئی تھی ، خود اللہ نے کہا:وما ارسلناک الارحمة للعالمین ”ہم نے آپ کوسارے جہاں کے لیے رحمت بناکربھیجاہے“ ۔

مکمل تحریر >>

ہفتہ, جنوری 18, 2014

عالمی ہیرو كون ؟


کیاآپ بتاسکتے ہیں کہ آج تک دنیا میں کوئی ایسا انسان پیدا ہواہے ،جسے عالمی ہیروکہاجاسکے ؟ جس نے انسانیت کوایک مقصد ،ایک نصب العین اورایک پلیٹ فارم پر جمع کیاہو؟ جس نے بلاتفریق رنگ ونسل پوری انسانیت کی خیروبھلائی کاکام کیاہو؟ جس نے ایسانظام پیش کیاہوجو انسانیت کے جملہ شعبہ حیات کوسموئے ہوئے ہو ،اورجس کی تعلیمات کی بنیاد پر ہردورمیں ایک عالمی معاشرہ وجود میں آسکتاہو؟ کیاآپ ایسے کسی عظیم انسان کو جانتے ہیں ؟آئیے !سب سے پہلے ہم غیرمسلموںکی زبانی ہی اس عظیم انسان کی کھوج کرتے ہیں:

تاریخ کے اول انسان جو دینی اوردنیوی سطح پر کامیاب رہے : (ڈاکٹرمائیکل ایچ ہارٹ)

سن 1978 عیسوی میں نیویارک سے ایک کتاب چھپی ہے جس کانام ہے The Hundred ، اس کے مولف ڈاکٹرمائیکل ایچ ہارٹ مذہباًعیسائی ہیں ،انہوں نے اس کتاب میں دنیاپرانقلابی اثرات ڈالنے والی 100ہمہ گیرعالمی شخصیات کا تذکرہ کیا ہے اورعیسائی ہونے کے باوجود پہلے نمبر پرجس شخصیت کورکھاہے ،ان کانام نامی اسم گرامی محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ وہ کہتے ہیں:
 ”ہمارا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کواختیارکرناتاکہ انہیں تاریخ کی انقلابی شخصیات میں پہلے نمبرپررکھوں قارئین کوحیرت میں ڈال سکتاہے ،لیکن حقیقت یہ ہے آپ تاریخ کے محض ایک انسان ہیں ،جوآخری حدتک کامیاب رہے مذہبی سطح پر بھی اوردنیاوی سطح پربھی“ ۔
مزیدلکھتے ہیں:
”کتنے ایسے رسول ،انبیا ءاورحکماءہیں ،جنہوں نے عظیم پیغام کی شروعات کی لیکن اسے مکمل کئے بغیرمرگئے ،جیسے عیسی علیہ السلام عیسائیت کے پرچارمیں یاموسی علیہ السلام یہودیت کے پرچارمیں ،لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم وہ تنہا انسان ہیں جنہو ں نے اپنے دینی پیغام کومکمل کیا ، ان کی زندگی میں تمام قوموں نے ان کی دعوت کواپنایا ،انہوں نے دین کے ساتھ ساتھ ایسی حکومت کی طرح ڈالی جس کے ذریعہ انہوں نے قبائل کو ایک جماعت میں متحد کیا،قوموں کوایک امت میں ضم کیا، انسانی زندگی کے اصول وضوابط وضع کئے ،دنیاوی امورکے قاعدے بنائے اوراسے اس قابل ٹھہرایاکہ پورے عالم کی رہنمائی کرسکے،اس طرح محض آپ ہی کی ایک شخصیت ہے، جس نے دینی اوردنیاوی پیغام کی شروعات کی اوراسے بحسن وخوبی پایہ تکمیل کوپہنچایا“۔
یہ ہے مختصر تبصرہ ڈاکٹرمائیکل ایج ہارٹ کا ،جومذہباعیسائی تھے،اب ہمیں جواب دیجئے کہ آخر کیوں ایک عیسائی مؤلف حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو عالمی ہیرو ماننے پرمجبور ہوا اورآپ کودنیاکی سوانقلاب آفریں شخصیات میں پہلے نمبر پررکھا؟
جی ہاں ! اس لیے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہی نے انسانیت کوایک نصب العین پرجمع کیا،رنگ ونسل کاامتیازمٹایا،انسانی زندگی کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات پیش کیا، آپ محض ایک مذہبی انسان یاسیاسی حکمراں نہیں تھے،بلکہ آپ کاکردار زندگی کے ہرشعبہ میں نمایاں دیکھائی دیتاہے ۔

دنیا کی فکر اورزندگی پر اثر ڈالنے والا ہرمیدان کا عظیم قائد : (راما کرشنا راؤ)

پروفیسر ایس راماکرشنا راؤ کہتے ہیں:

 ”پیغمبر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کئی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں: ” محمدپیغمبر، محمدجنرل ،محمدحاکم ،محمدسپہ سالارجنگ ، محمدتاجر، محمدناصح، محمددانشور، محمدسیاست داں،محمدواعظ،محمدمصلح ،محمدیتیموں کے والی، محمدغلاموں کے محافظ، محمدصنف نازک کے رکھوالے، محمدمنصف، اورمحمدعابدوزاہد، اوران سارے میدانوں میں آپ کی حیثیت ایک عظیم قائد کی نظرآتی ہے ۔“
 یوں تودنیامیں بہت ساری تاریخ سازہستیاں پیداہوئیں لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے جو کارہائے نمایاں انجام دیااس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصرہے،آ پ وہ انسان ہیں ،جن کے جیسے زمین پرکوئی پیدا نہیں ہوا ،صرف تیئس برس کی مدت میں پورے عرب کی کایاپلٹ کررکھ دی ۔ 
وہ بجلی کا کڑکاتھایاصوت ہادی    

عرب کی زمین جس نے ساری ہلادی
پروفیسر راماکرشنا راؤکے بقول :
”آپ کے ذریعہ ایک ایسی ریاست کی تعمیر عمل میں آئی جومراکش سے لے کرانڈیزتک پھیلی اور جس نے تین براعظموں ایشیا افریقہ اوریورپ کی فکراورزندگی پر اپنااثر ڈالا“ ( اسلام کے پیغمبرمحمدصلی اللہ علیہ وسلم )

 انسانیت کانجات دہند ہ : ( برنارڈشا )

جو شخص بھی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی کابے لاگ مطالعہ کرے گاوہ آپ کوعالمی قائدہ ماننے پرمجبور ہوگا تب ہی تو معروف غیرمسلم دانشور برنارڈشانے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو پوری انسانیت کانجات دہندہ بتایاہے ،و ہ لکھتے ہیں :”میں نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کامطالعہ کیاہے، وہ نہایت عظیم انسان تھے ،میری رائے میں انہیں انسانیت کانجات دہند ہ کہنا چاہئے ، مجھے یقین ہے کہ اگر ان کے جیسا انسان موجود ہ دنیا کاحاکم کل ہوتا تو اس کے سارے پیچیدہ مسائل اس طرح حل کردیتاکہ انسا نی دنیا مطلوبہ سکون وشانتی سے مالامال ہوجاتی ۔“یہ ہے اعتراف ‘ایک غیرمسلم دانشور برنارڈشاکا ۔

تاصبح قیامت انسانیت کے لیے فرستادہ رسول:

 آپ ساری انسانیت اورجملہ مخلوق کے لیے رحمت تھے ،آپ کے علاوہ اس دنیامیں جتنے بھی انبیا ورسل آئے سب کواللہ تعالی نے اپنی اپنی قوم کے لیے بھیجاتھا ،نوح علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بھیجے گئے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بھیجے گئے ، حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بھیجے گئے ، حضرت ہود علیہ السلام قوم عاد کے لیے بھیجے گئے ، حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کے لیے بھیجے گئے ، حضرت شعیب علیہ السلام اہل مدین کے لیے بھیجے گئے ، اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام بنواسرائیل کی طرف بھیجے گئے ، خود بائبل اس کی گواہی دیتا ہے :”یسو ع نے کہا ! میں خداکی طرف سے اسرئیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی اور کے پاس نہیں بھیجا گیا“ ( متی باب 15درس 24 )
لیکن قرآن کریم کادعوی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کسی خاص زمانے ،کسی خاص قوم اور کسی خاص خطے کے لیے نہیں ہوئی بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہوئی تھی ، اللہ تعالی کافرمان ہے:
 وما أرسلناک الا کافة للناس بشیراونذیرا ولکن أکثرالناس لایعلمون (سورہ السبا آیت نمبر28)
 ”ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے(جنت کی ) خوشخبریاں سنانے والااور(جہنم سے )ڈرانے والا بناکربھیجاہے ۔ہاں! مگریہ صحیح ہے کہ لوگوں کی اکثریت بے علم ہے“ ۔ مطلب یہ کہ آپ ھادی عالم بن کر آئے ہیں تاہم آج آپ کوایک مخصوص قوم کا پیغمبر سمجھ لیاگیاہے ،اکثر لوگوں کو آپ کی آفاقی دعوت کا علم نہیں ہے ۔ دوسری جگہ فرمان عالی ہے:
قل یا أیھا الناس إنی رسول اللہ إلیکم جمیعا (سورہ الأعراف آیت نمبر 158)
 ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو!میں تم سب کی طرف اللہ کارسول ہوں “کس اللہ کا؟
الذی لہ ملک السماوات والأ رض
 ”وہ اللہ جوآسمان اورزمین کامالک ہے “ اورفرمان ربانی ہے :
 وما أرسلناک إلارحمة للعالمین (سورہ الأنبیا آیت نمبر 107)
”اورہم نے آپ کوتمام جہاں والوں کے لیے رحمت بناکربھیجاہے“۔
جی ہاں ! جس طرح اللہ رب العالمین کی الوہیت اورربوبیت عام ہے ،اسی طرح اللہ رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمة للعالمین فرماکرظاہرکر دیا ہے کہ آپ کی تعلیمات سب کے لیے اورسب کے فائدے کے لیے ہیں ۔بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں کے ساتھ جنوں کے بھی نبی تھے ،آپ کے پیغام کے مخاطب عالم انس وجن ہے، فرمان الہی ہے :
قل أوحی إلی أنہ استمع نفر من الجن فقالوا إناسمعنا قرآناعجبا یھدی الی الرشد فآ منا بہ ولن نشرک بربنا أحدا  (سورہ الجن آیت نمبر 2) 
”(اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اورکہاکہ ہم نے عجیب قرآن سناہے جوراہ راست کی طرف رہنمائی کرتاہے ، ہم اس پر ایمان لاچکے ،اب ہم ہرگز کسی کوبھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے“
مکمل تحریر >>

ہفتہ, جنوری 11, 2014

محبت اوراس کی مانگ

محبت اوراس کی مانگ 
آپ اپنی زندگی میں ’ محبت‘  کا نام بار بار سنتے ہوں گے، محبت کیاہے ؟ محبت آب حیات ہے، روح کی غذا  اورنفس کی قوت ہے ۔محبت سے ہی چہرے روشن ہوتے ہیں، ہونٹوں پر مسکراہٹ کھلتی ہے، جذبات میں ہلچل مچتی  ہے۔ محبت کی بنیاد پر ہی دنیا کا وجود ہے ، محبت سے ہی ایک ماں اپنے بچے کو پالتی ہے، محبت ہی سے بندہ مومن گناہوں سے بچتا ہے، نیکیاں کرتا ہے اور شب دیجورمیں اس کی آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں۔یہ محبت تھی کہ حرام بن ملحان رضى الله عنہ کی زبان سے نکلتا ہے: فزت ورب الکعبة ” رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا“۔ یہ محبت تھی کہ عمیر بن الحمامرضى الله عنہ پکار اٹھتے ہیں: ”اگران کجھوروں کو کھانے میں لگوں تو یہ لمبی زندگی ہوجائے گی ....“ یہ محبت تھی کہ ابراہیم خلیل کے لیے آگ گل گلزار بن جاتی ہے ، یہ محبت تھی کہ موسی کلیم کے لیے سمندر میں راستے بن جاتے ہیں ۔ یہ محبت تھی کہ ہمارے حبیب کے لیے کھجور کے تنے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتے ہیں اورچاند شق ہوجاتا ہے ۔ (1)  غرضیکہ یہ لفظ ہے بہت مختصر لیکن نہایت جامع اور پاکیزہ ہے-

لغوى تحقيق:  

محبت عربی زبان کا لفظ ہے جو حب ّ سے نکلا ہے، اسی سے آتا ہے حب الماء پانی نتھر گیا، پانی کا گدلاپن ختم ہوگیا، پانی صاف ہوگیا ، گویا محبت میں پاکی صفائی اورپاکیزگی کامعنی ہوتاہے۔ اسی طرح عرب کہتے ہیں: حب البعیراونٹ بیٹھ گیا، پرسکون ہوگیا،گویاکہ اِس میں دوام ،استقرار اورہمیشگی کامعنی بھی پایاجاتاہے، اسی سے ’حباب‘ بھی ہے جوپانی کے اوپراٹھتا ہے،گویا اس میں بلندی اور اونچائی کا معنی بھی پایا جاتاہے،گویاکہ محبت کے بغیر انسان میں بلندی نہیں آتی، اسی سے عربی میں ’حب ‘ آتاہے ،جس کے معنی دانہ کے ہوتے ہیں جو زندگی کا سبب ہے،گویاکہ محبت کے بغیر زندگی کا وجودممکن نہیں ہے ۔یہ ہے محبت جس میں پاکیزگی ہوتی ہے، دوام اوراستقرار ہوتا ہے ، بلندی ہوتی ہے ،اوریہ انسان کی بقا کے لیے لازمی عنصر ہے۔ محبت کے اظہار کے لیے ایک اورلفظ استعمال ہوتا ہے عشق جس کے اندرخالص پاکیزگی نہیں ہوتی بلکہ شہوت کا مفہوم بھی پایاجاتاہے۔اسی لیے اس کا استعمال ہم اپنی ماں،بہنوں اوربیٹیوں کے لیے نہیں کرتے، لہذا اللہ اوراس کے رسول کے لیے بھی عشق کا لفظ استعمال نہیں ہوسکتا ۔ قرآن اورحدیث میں کہیں بھی اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عشق کے لفظ کا استعمال نہیں ہوا۔(2) 
اس مختصر سی تمہید کے بعد آج ہم بات کریں گے اس انسان سے محبت کے بارے میں جو انسانیت کی خاطر 23سال تک تڑپتے رہے ،جن سے بہتر انسان نہ اس دنیا میں پیدا ہوا نہ قیامت کی صبح تک پیدا ہوسکتا ہے ، جن پر اللہ تعالی رحمت نازل کرتا ہے ، جن کے لیے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، جن کی عمر کی قسم اللہ نے اپنی کتاب میں اٹھائی ہے ، جن کی زندگی کو اللہ تعالی نے اورآئیڈیل بنا دیاہے ۔جن پر ایمان لانے کا وعدہ اللہ تعالی نے تمام نبیوں سے عالم ارواح میں لیاتھا،جن کے خوش ہونے سے اللہ خوش ہوتا ہے اورجن کے ناراض ہونے سے اللہ ناراض ہوتا ہے ،جن کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اورجن کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے ۔کل قیامت کے دن حشر کے میدان میں سارے انبیاءجب سفارش کرنے سے انکار کردیں گے تو و ہی ہیں جو ہمارے لیے سب سے پہلے اللہ سے سفارش کریں گے اوران کی سفارش سنی جائے گی ۔
 ہمیں اپنی قسمت پر ناز کرنا چاہیے کہ اللہ پاک نے ہمیں ایسے نبی کی امت ہونے کا موقع نصیب فرمایا، مسنداحمد کی روایت ہے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
طوبی لمن رانی وآمن بی وطوبی سبع مرا ت لمن آمن بی ولم یرانی ۔
 خوش خبری ہے اس شخص کے لیے جس نے مجھے دیکھا اورمجھ پر ایمان لایا اورسات مرتبہ خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے مجھے نہیں دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا ۔
میرے بھائیو ! اس انعام کا تقاضا ہے کہ اللہ کے بعد سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی جائے ،اوراگر محبت نہ ہو تواطاعت کیوں کر ہوپائے گی ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:سورہ احزاب 6 النبی اولی بالمومنین من انفسھم نبی کا حق ایمان والوں پرخود ان کی اپنی جانوں سے بڑھ کر ہے ۔ صحیح مسلم کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین
تم میں سے کوئی اس وقت تک مکمل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ ،اولاد اوردوسرے سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔
صحیح بخاری کی روایت ہے حضرت عبداللہ بن ہشام کہتے ہیں :
ہم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا تو عمررضی اللہ عنہ نے کہا: ہے اللہ کے رسول ! آپ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میری جان کے ، آپ نے فرمایا: جی نہیں ! اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہاں تک کہ میں تمہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ انہوں نے کہا: اب اللہ کی قسم آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ۔تب آپ نے فرمایا: الآن یا عمر ”اے عمر ! اب بات بنی ہے “ ۔ یعنی تمہارا ایمان اب مکمل ہوا ہے ۔
پہلے خلیفہ ابوبکررضی اللہ عنہ کو دیکھیے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے جرم میں اتنا پیٹا جاتا ہے کہ بیہوش ہوکرگرجاتے ہیں ،لیکن جب ہوش آتا ہے تو سب سے پہلے ہی پوچھتے ہیں کہ اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کا کیاحال ہے؟اور اس وقت تک دانا پانی منہ میں نہیں ڈالتے جب تک کہ آپ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچانہ دیاجاتا ہے اورآپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیتے ہیں ۔ سبحان اللہ ! جن کی خاطر پیٹے جاتے ہیں ہوش آتے ہی ان ہی کا نام لے رہے ہیں ۔
پھرجب ہجرت کے موقع سے ہمارے حبیب ابوبکررضی اللہ عنہ کے بعد آتے ہیں اوریہ اطلاع دیتے ہیں کہ ابوبکر!تم میرے رفیق سفربننے والے ہو،یہ سننا تھا کہ ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑتے ہیں،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ ماجرا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں، کہتی ہیں:
فرأیت أبا بکر یبکی وما کنت أحسب أن أحدا یبکی من الفرح
"میں نے ابوبکر کودیکھا کہ وہ رورہے ہیں حالانکہ اس سے قبل میں نے کسی کو خوشی سے روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا"۔
 اورسیرت ابن ہشام میں ہے کہ احد کی جنگ میں بنو دینار کی ایک خاتون کے باپ ، شوہر اوربھائی شہید کردئیے جاتے ہیں ،جب ان کوایک ہی بار اپنے باپ ، بھائی اورشوہر کی شہادت کی اطلاع ملتی ہے تو کہتی ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون۔لیکن باربار پوچھتی جارہی ہیں : ہمیں بتاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں ، اسے بتایاجاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ویسے ہی ہیں جیسا کہ تو چاہتی ہے،پھر بھی بے چین ہیں یہاںتک کہ اللہ کے رسول کو دیکھ لیتی ہیں ، جب اس کی نگاہ آپ پرپڑتی ہے تو بول اٹھتی ہیں :
 کل مصیبة بعدک جلل
 ” اے اللہ کے رسول! آپ کے ہوتے ہوئے ساری مصیبتیں آسان ہیں

اب سوال یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا اوراس کی مانگ کیا ہے ؟

(1) دل وجان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتکریم کی جائے :

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ دل وجان سے آپ کی تعظیم وتکریم کی جائے ،آپ کی عزت کی جائے ، یہ عزت ہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوآپ کی زندگی میں آپ کے نام سے پکارنے سے منع کردیاگیا تھا ۔ اسی طرح صحابہ کرام کو آپ کے سامنے اونچی آوازمیں گفتگو کرنے سے روک دیاگیاتھا ، لیکن تعظیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کی شان میں غلو کیاجائے ، اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مشکل دور کرنے والا ،ضروررت پوری کرنے والا ،اور نفع اورنقصان کا مالک ماننا اصل میں اللہ کا حق نبی کو دینا ہے جس سے شرک لازم آتا ہے ۔

(2) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجاجائے:

للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ آپ پر درود وسلام بھیجاجائے،اورہم کیاان پر تو اللہ تعالی اوران کے فرشتے بھی درودبھیجتے ہیں،اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
بے شک اﷲ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود وسلام بھیجو۔( الاحزاب : 56)
صحیح مسلم کی روایت ہے سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں : میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
 ” جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے ، اس پر اﷲ تعالیٰ اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے “۔
امام ابن قیم رحمہ نے 41 ایسی جگہوں کا ذکر کیا ہے جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درودوسلام بھیجنا چاہیے جیسے جمعہ کے دن ،اذان کے بعد ،تشہد کی حالت میں وغیرہ ۔

(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کى اطاعت كى جائے:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تیسراتقاضایہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں کی خبردی ہے ان کی تائید کی جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں کا حکم دیا ہے ان کے مطابق عمل کیا جائے ۔ اور جن باتوں سے روک دیاہے ان سے رک جائے ۔اللہ تعالی نے فرمایا:
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم واللہ غفوررحیم ۔(سورہ آل عمران : 31 )
”آپ کہہ دیجئے کہ اگرتم اللہ سے محبت رکھتے ہو تومیری تابعداری کرو،اس طرح اللہ تم سے محبت کرے گا ، اورتمہارے گناہ معاف فرمادے گا اوراللہ تعالی بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے “۔ لہذ ا جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتا ہو اور آپ کی سنت کی پیروی بھی کرتا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ محبت کے دعوے میں سچا ہے ،اوراگر وہ محبت کا دعوی تو کرتا ہے لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا پابند نہیں تو اس کے متعلق یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ لاکھ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دم بھرے اس کی محبت کا دعوی جھوٹا ہے ۔ سچ کہا کسی شاعر نے
 لوکان حبک صادقا لأطعتہ      إن المحب لمن یحب مطیع
”اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم ان کی اطاعت کرتے ،کیوں کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کی اطاعت کرتا ہے “ ۔

(4) سارے اختلافی مسائل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوحرف اخیر سمجھاجائے :

محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا چوتھا تقاضا یہ ہے کہ سارے اختلافی مسائل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اورآپ کی احادیث کو حرف اخیر سمجھتے ہوئے ان کے سامنے سرٹیک دیاجائے ،ان کے مقابلہ میں کسی کی رائے یا کسی کے مسلک کو کوئی اہمیت نہ دی جائے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
فلا وربک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لایجدوا فی أنفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما (سور ہ نساء: 65 )
” قسم ہے تیرے رب کی ، یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس کے تمام اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں ،پھر جو فیصلہ آپ ان میں کردیں اس سے و ہ دل میں کسی طرح کی تنگی اورناخوشی محسوس نہ کریں اورفرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں “۔
 کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر ان کے سامنے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات سنائیں تو فورا بول پڑیں گے : ”لیکن فلاں امام کا قول تو ایسا ہے “ یہ جملہ بہت خطرناک ہے ،کسی انسان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کا مقابلہ کسی امام کے قول سے کرے ،چاہے وہ چوٹی کا عالم ہی کیوں نہ ہو ۔
رہتے ہوئے مصطفی کا گفتار 

مت دیکھ کسی کا قول وکردار

(5) آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے اہل بیت ،صحابہ اور ازواج مطہرات سے محبت کی جائے:

 محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا پانچواں تقاضا یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت ،آپ کے جملہ صحابہ اورازواج مطہرات سے محبت کی جائے ۔ابوبکررضی اللہ عنہ نے فرمایاتھا:
  أرقبوا محمدا فی أھل بیتہ ( صحيح البخارى)
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوان کے اہل بیت میں تلاش کرو۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
لاتسبوا أصحابى فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه (بخارى ومسلم)
"میرے صحابہ کو برابھلا مت کہو،اگر تم میں کا ایک آدمى احد پہاڑ برابر سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مدیا نصف مد(سونا خرچ کرنے) کے برابر نہیں پہنچ سکتا "۔ 

(6) اللہ کی عبادت ویسے ہی کی جائے جیسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کی یا کرنے کا طریقہ بتایا ہے:

محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا چھٹا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت ویسے ہی کی جائے جیسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کی یا کرنے کا طریقہ بتایا ہے۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں کسی طرح کا اضافہ نہ کیاجائے کیونکہ ہم نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مانا ہے ، اورآپ کے ذریعہ دین مکمل ہوچکا ہے۔ اورشریعت میں کسی بھی عمل کے لیے نیت کا خالص ہونا کافی نہیں ہے بلکہ اس کا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق انجام پانابھی ضروری ہے ۔
 اللہ نے اپنے نبی کو انسانوں کی رہنمائی کے لیے بھیجا تھا ،انہوں نے دین کو پوری طرح پہنچا دیا ،اس میں کسی طرح کی کمی نہیں رہنے دی ، اب اگر کوئی آدمی بعدمیں آکر دین میں نئی چیز داخل کرتا ہے تودین کھلواڑ بن کر رہ جائے گا ۔اوریہی کچھ دوسرے دھرموںمیں دیکھنے کو ملتا ہے ،اللہ نے دین کومحفوظ کردیا ہے ،اس لیے اب اس میں کسی کے لیے کمی بیشی کرنے کی گناجائش نہیں رکھی گئی ، اِسے آپ ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ سرکار نوٹ چھاپتی ہے ،جس پر سرکارکامہر لگاہوتا ہے ،اگرکوئی عام آدمی نقلی مہر بنالے اورنوٹ چھاپ چھاپ کر سرکار کو پیش کرے کہ میں نے بہت سارا نوٹ چھاپ دیاہے تواسے شاباشی نہیں ملے گی بلکہ سرکار اسے دیش دروہی اورغداروطن کی سزا دے گی ۔ ویسے ہی دین کی کوئی بات اسی وقت قبول کی جائے گی جب اس پر اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر لگا ہوا ہو ۔

(1)  یہ فقرہ ڈاکٹر عائض القرنی کے مقالہ سے مستفاد ہے-
(2) یہ فقرہ مولانا جلال الدین قاسمی کے خطاب سے مستفاد ہے۔
مکمل تحریر >>