بدھ, مارچ 01, 2017

ادب کو لازم پکڑیں


ہماری شریعت ہمیں جن امور کی ترغیب دیتی ہے ان میں ایک یہ ہے کہ ہم ادب کو لازم پکڑیں، ادب تین طرح کا ہوتا ہے، اللہ کے ساتھ ادب، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادب اور مخلوق کے ساتھ ادب .
اللہ کے ساتھ ادب یہ ہے کہ اس سے حیا کیا جائے، اس نے جن کاموں کا حکم دیا ہے انہیں کیا جائے اور جن کاموں سے روک دیا ہے ان سے رک جایا جائے، اسی سے مانگا جائے اور اسی سے ڈرا جائے۔ اور جب تک تین چیزیں اس میں جمع نہ ہوجائیں اللہ کے ساتھ ادب مکمل نہیں ہوسکتا، پہلے نمبر پر اللہ تعالی کو اس کے اسماء وصفات کی روشنی میں جانا جائے، اللہ تعالی کے دین اور اس کی شریعت کی جانکاری حاصل کی جائے کہ وہ کس چیز کو پسند کرتا ہے اور کس چیز کو ناپسند کرتا ہے، اور تیسری چیز یہ کہ اپنی طبیعت کو اس بات کے لیے آمادہ کیا جائے کہ حق کو قبول کریں گے اور اس پر عمل کریں گے۔
رسول کے ساتھ ادب یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے، انکے اوامر کی تابعداری کی جائے، ان کی تعلیمات کو قبول کیا جائے اور ان کے حکم کے سامنے کسی کے قول و فعل کو کوئی اہمیت نہ دی جایے۔

اور مخلق کے ساتھ ادب یہ ہے کہ ان کے اختلاف مراتب کے ساتھ بطریق احسن ان سے معاملہ کیا جائے، والدین کے ساتھ ادب، عالم کے ساتھ ادب، اہل وعیال کے ساتھ ادب اور احباب و اخوان کے ساتھ ادب۔ اسی طرح زندگی کے آداب ہیں، کھانے کے آداب، پینے کے آداب، سواری کے آداب، گھر سے نکلنے اور داخل ہونے کے آداب، سونے کے آداب، جاگنے کے آداب، قضائے حاجت کے آداب، گفتگو کے آداب غرضیکہ پورا دین ادب کا نام ہے۔ کیونکہ دین اسلام اپنی محکم تعلیمات اور ٹھوس ارشادات میں بلند آداب پر مشتمل دین ہے۔ 
مکمل تحریر >>

ہفتہ, فروری 04, 2017

کینسر اور اسلامی تعلیمات


آج ہم ایک ایسی خطرناک بیماری کے بارے میں بات کریں گے جو انسانی سماج کی مایوس کن اور لاعلاج بیماری سمجھی جاتی ہے، یہ وہ خطرناک بیماری ہے جسے ہم کینسر کے نام سے جانتے ہیں۔ چار فروری کو پوری دنیا کینسر کا عالمی دن مناتی ہے، اس دن کینسر کے اسباب، اس کی خطرناکی اور اس سے بچنے کے وسائل پر گفتگو کی جاتی ہے، مختلف کانفرنسیز، ورکشاپس، مباحثے اور پروگرامز منعقد ہوتے اور تجاویز پاس کی جاتی ہیں۔ کینسر کیوں ہوتاہے، کینسر کے اسباب کیا ہیں، اس حوالے سے میڈیکل سائنس کی کیا پیش رفت ہے، ان نکات پر ہم گفتگو نہیں کریں گے بلکہ کچھ شرعی تعلیمات  پیش کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ جو لوگ اس بیماری سے محفوظ ہیں ان کے لیے سودمند ہوسکیں اور جو لوگ اس کے شکار ہیں ان کے لیے مشعل راہ بن سکیں۔
کینسر کے مختلف اسباب میں سے ایک سبب ہے موٹاپے پر دھیان نہ دینا اور کھانے پینے میں اعتدال کو ملحوظ نہ رکھنا، اسی لیے اسلام نے ورزش پر ابھارا اور پنجوقتہ نمازیں ورزش کا بہترین ذریعہ ہیں، اسی طرح کم خوری کی تاکید کی، سنن ترمذی کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما ملأ آدميٌّ وعاءً شرًّا من بطنٍ، بحسبِ ابنِ آدمَ أكلاتٍ يُقمنَ صُلبَهُ، فإن كان لا محالةَ : فثلُث لطعامِه، وثُلُثٌ  لشرابِه وثُلُثٌ لنفَسِه ( سنن الترمذي: 2380)
سگریٹ نوشی، نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنا بھی کینسر کا سبب بنتا ہے، اسی لیے اسلام نے نشہ لانے والی ہر شے کو بالکلیہ حرام ٹھہرایا، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے قاعدہ یہ بتایا کہ
 كلُّ مُسكِرٍ خَمرٌ . وَكُلُّ خَمرٍ حرامٌ  (صحیح مسلم: 2003)
ما يُصيبُ المُسلِمَ، مِن نَصَبٍ ولا وَصَبٍ، ولا هَمٍّ ولا حُزْنٍ ولا أذًى ولا غَمٍّ، حتى الشَّوْكَةِ يُشاكُها، إلا كَفَّرَ اللهُ بِها مِن خَطاياهُ ( صحیح البخاری: 5641)
أَبشِري يا أمَّ العلاءِ ! فإنَّ مرضَ المسلمِ يُذهِبُ اللهُ به خطاياه كما تُذهِبُ النَّارُ  خبَثَ الذَّهبِ والفضةِ .( صحیح الترغیب: 3427)
 إنَّ عِظمَ الجزاءِ مع عِظمِ البلاءِ ، وإنَّ اللهَ إذا أحبَّ قومًا ابتَلاهم ، (سنن الترمذي: 2396
 من يُرِدِ اللَّهُ بِه خيرًا يُصِبْ مِنهُ (صحیح البخاری: 5645  (
" إن شئتِ صبرتِ ولكِ الجنةُ . " ( صحیح البخاری: 5652، صحیح مسلم: 2576)
 يودُّ أَهلُ العافيةِ يومَ القيامةِ حينَ يعطى أَهلُ البلاءِ الثَّوابَ لو أنَّ جلودَهم كانت قُرِضَت في الدُّنيا بالمقاريضِ (صحيح الترمذي: 2402)
 "انسان جن برتنوں کو بھرتا ہے ان میں پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں، آدم کی اولاد کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے وہ اپنی پیٹھ سیدھی رکھ سکے، اگر کھانا ہی چاہتا ہے تو ایک تہائی میں کھانا کھائے ایک تہائی میں پانی پئیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رہنے دے"۔
 "ہر نشہ آور شے شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے"۔
غرضیکہ صحتمند اور متوازن عذا کا استعمال نہ کرنا، جسمانی ورزش (exercise) پر دھیان نہ دینا۔ ماحولیاتی آلودگی، اپنوں سے دوری اور ڈپریشن کینسر کا اہم سبب ہے ۔
البتہ جو بھائی یا بہن کینسر کے شکار ہوچکے ہیں، انہیں میڈٰکل علاج کے ساتھ شرعی علاج پر بھی دھیان دینا چاہیے، کیونکہ طبی دواؤں کا اثر کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا لیکن شرعی علاج کا فائدہ بہرحال مل کر رہتا ہے، چاہے جس انداز سے ملے۔ ذیل کے سطور میں اس حوالے سے چند باتیں پیش خدمت ہیں:
روحانی علاج:
اللہ کی ذات سے شفا کا پختہ یقین:
کیونکہ ایمان کا شفا سے گہرا تعلق ہے، ابراہیم علیہ السلام کی زبانی اللہ تعالی نے فرمایا:
وإذا مرضت فهو يشفين  (سورة الشعراء:80)
"جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے وہی شفا دیتا ہے"۔
اس آیت کریمہ میں پورے یقین واعتماد سے ساتھ ابراہیم علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ شفا دینے والی ذات صرف اللہ رب العالمین کی ہے، اس کے علاوہ دنیا کی کوئی ذات شفا نہیں دے سکتی۔ مریض کا جتنا ایمان مضبوط ہوگا اسی کے تناسب سے اس کی بیماری میں کمی آئے گی۔ بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد ہی نہیں بلکہ بیماری کا شکار ہونے سے پہلے بھی بندے کو اللہ کی ذات پر توکل رکھنا چاہیے۔
روحانی علاج میں دوسری چیز دعا ہے، اللہ سے شفا کی دعا کرنا مزمن بیماریوں سے شفایابی کا بہترین وسیلہ ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
 وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمنون : آية 60 )
"تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا"۔ اس طرح جب بندے کا ایمان مضبوط ہوتا ہے پھر دل سے دعا نکلتی ہے تو ایک بندے کو دھیرے دھیرے قوت اور صحت حاصل ہونے لگتی ہے۔
روحانی علاج میں تیسری چیز جھاڑ پھونک کا اہتمام کرنا ہے، اور جھاڑ پھونک میں تین شرطوں کا پایا جانا نہایت ناگزیرہے۔ دم عربی زبان میں ہو یا ایسے کلمات سے ہو جس کا مفہوم سمجھ میں آتا ہو، کلام الہی سے ہو، یا اللہ تعالی کے اسماء وصفات سے ہو اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ جھاڑ پھونک بذات خود اثر انداز نہیں ہوتے بلکہ شفا دینے میں محض اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے آئیڈیل ہیں جنہوں نے مختلف بیماریوں میں جھاڑ پھونک کیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس پر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب آپ مرض الموت میں تھے اور تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ کے ہاتھوں کو آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ اس نیت سے کہ آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ برکت والا تھا۔
 روحانی علاج میں تیسری چیز صدقہ وخیرات کا اہتمام کرنا ہے۔ مریض کے لیے بالخصوص ایسا مریض جس کی بیماری لاعلاج ہو صدقہ اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دَاوُوا مَرضاكُمْ بِالصَّدقة  ( صحیح الجامع: 3358)
"صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو"۔ 
اللہ والوں نے ہردور میں اپنی مصیبت اور بیماری سے نجات کے لیے صدقہ و خیرات کیا ہے اور انہیں اس کے جسمانی اور روحانی فائدے بھی حاصل ہوئے ہیں۔ اس لیےاگر آپ نے ہر طرح کے علاج کا تجربہ کرلیا ہے اورعلاج کرتے کرتے  تھک چکے ہیں تو اب صدقہ کے ذریعہ بھی علاج کا تجربہ کریں۔ آپ نے یوں تو بہت صدقہ کیا ہوگا، لیکن ابھی اس نیت سے صدقہ کریں کہ اللہ پاک ہمیں فلاں بیماری سے نجات دے یا ہمارے رشتے دار کو فلاں بیماری سے عافیت عطا فرما۔ اللہ نے چاہا تو اس کا اثر ضرور دیکھیں گے۔
علاج کی دوسری قسم نفسیاتی علاج ہے۔ مریض کی عیادت کے لیے جانا، اس کے پاس بیٹھنا اور اس کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کرنا عجیب طریقے سے بیماری میں کمی لانے کا سبب بنتا ہے۔ مریض اپنے قریبی رشتے داروں کی دیکھ ریکھ اور نگہداشت کا محتاج ہوتا ہے، اور جب لوگ اس کے پاس عیادت کے لیے جاتے اور اس کے غم میں شریک ہوتے ہیں تو اس کی بیماری ہلکی ہونے لگتی ہے۔ اور اسلام نے بیماروں کی عیادت پر ابھارا ہے اور بیمار پرسی کی بیحد اہمیت بیان کی ہے۔  اسی لیے ایک کمزور حدیث میں آتا ہے جس کا معنی صحیح ہے کہ "جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو کچھ درازیٔ زندگی کی بات کرکے اس کا غم دور کرو  کیونکہ یہ گفتگو تقدیر کو رد نہ کرے گی البتہ اس کا دل خوش ہوجائے گا". (سلسلة الأحاديث الضعيفة :184)
اخیر میں ان بھائیوں اور بہنوں کے نام میرا پیغام ہوگا جو کینسر یا اس جیسی کسی دوسری مایوس کن بیماری میں مبتلا ہیں، دنیا سے ان کی امیدیں کٹ چکی ہیں، موت کو قریب دیکھ رہے ہیں، بیماری کی شختی تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے، ایسے بھائیوں اور بہنوں سے ہم کہیں گے کہ آپ اس بیماری میں اللہ اور اس کے رسول کی بشارت قبول کیجیے، کوئی بھی بیماری ایک بندہ مومن کے لیے بھلائی ہی لاتی ہے۔ صحیح بخاري کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 "مسلمان کو کوئی بھی بیماری، تکلیف، تھکاوٹ، غم، پریشانی یا ایذا وغیرہ لاحق ہو یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھ جائے تو اس کے بدلے اللہ تعالی اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے"۔
 اور سنن ابی داؤد کی روایت ہے، ام العلاء رضي الله عنها بیان کرتی ہیں کہ  اللہ کے رسول میری بیماری کی حالت میں میری عیادت کے لیے آئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا:
 "ام علاء تمہیں بشارت ہو، کیونکہ مسلمان کی بیماری کے سبب اللہ تعالی اس کے گناہوں کو ویسے ہی ختم کردیتا ہے جیسے آگ سونا اور چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے"۔
 کینسر کا مریض تو اللہ کا محبوب ہوتا ہے کیونکہ ہمارے آقا نے فرمایا:
يعنی جتنی بڑی مصيبت ہوگی اُتنا ہی بڑا ثواب ملے گا اور اللہ تعالی بندے سے جس قدر محبت کرتا ہے اسی قدر اسے آزماتا ہے۔
اس لیے ہميں سمجھ لينا چاہيے کہ اللہ تعالی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہميں آزماکراپنا مقرب بنانا چاہتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے مصيبت ميں گرفتار کرديتا ہے۔"
 گويا کہ آپ کا مصيبت سے دوچار ہونا آپ کے لئے نيک فال ہے، حب الہی کی علامت ہے۔ بلکہ اس کے بدلے آپ کے لیے جنت کی بشارت ہے۔ کیا آپ نے اس مرگی کی شکار خاتون کا قصہ نہیں سنا جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اپنی بیماری کی شکایت کرتے ہوئے دعا کی درخواست کی تھی توآپ نے اسے فرمایا:
"اگر تم صبر کرو تو تمہارے لیے جنت ہے"۔
اور صبر کرنے والوں کو بے حساب اجروثواب دیا جائے گا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِساب۔
مریض بھائی اور بہن! اس دھرتی پر پیدا ہونے والے لوگوں میں سب سے افضل انبیاء ہیں ان کو سب سے زیادہ آزمایا گیا، کیوں؟ اس لیے کہ آزمائش کے بعد ہی مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ سنن ترمذی کی یہ حدیث سنئے: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الصالحون ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الرجل على حسب دينه فإن كان في دينه صلباً اشتد به بلاؤه وإن كان في دينه رقة ابتلي على قدر دينه فما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشي على الأرض وما عليه خطيئة۔ ( سنن الترمذی: 2398)  
فرمایا: انبیاء علیہم السلام کی، پھر جو ان سے قریب تر ہو، پھر جو ان سے قریب تر ہو، آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، لہذا اگر وہ اپنے دین میں پختہ ہو تو اس کی آزمائش بھی کڑی ہوتی ہے، اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اسے اس کے دین کی بقدر آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، اور آزمائش بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کو ایسا کرکے چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر ایسی حالت میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں رہتا۔
یاد رکھیں کہ مومن خوشی ہو یا غم ہو ہر حالت میں اپنے رب کے فیصلہ سے راضی رہتا ہے کیونکہ اس کا رب اس کے حق میں غلط فیصلہ کیسے کر سکتا ہے۔ آپ یہاں جن نعمتوں سے محروم ہیں یا جن آزمائشوں کے شکار ہیں کل قیامت کے دن ان کے بدلے ایسا اکرام دیکھیں گے کہ دنیا کے صحتمند لوگ اسے دیکھ کر ترسیں گے کہ کاش ہماری کھال بھی کیجیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 "قیامت کے دن جب مصیبت زدہ ثواب سے نوازے جائیں گے (تو یہ دیکھ کر) صحت اور آرام والے خواہش کریں گے کہ کاش! دنیا میں ان کے چمڑے قینچیوں سے کاٹ دیے جاتے (تاکہ آج وہ بھی بڑے ثواب کے حقدار ہوتے)۔ ''
اس لیے صبر سے کام لیں، بکثرت  دعائیں کریں، فرائض و نوافل کا اہتمام کریں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، اگر ممکن ہوسکتا ہو تو صدقہ و خیرات کریں اور ہر حالت میں اللہ تعالی سے حسن ظن رکھیں۔ و صل اللھم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔ 
مکمل تحریر >>

ہفتہ, اپریل 05, 2014

برے دوستوں کو ڈیلیٹ کیجئے

دوستی انسان کی فطری ضرورت ہے ،مردہو یا عورت ہرایک کو اپنے جنس موافق سے دوستی ہوتی ہے ، ایک مردکے پاس جب دوست ہوتاہے یا ایک عورت کے پاس جب سہیلی ہوتی ہے تووہ آپس میں ایک دوسرے سے اپنے دل کی باتیں کر پاتے ہیں،ان کے ساتھ ان کا بہتر وقت گذرپاتا ہے ۔ کبھی دوستی بالمشافہ ہوتی تھی ،اب بالواسطہ دوستی کی ریت عام ہوچکی  ہے ،فیس بک ،ٹویٹر،اسکائپ اوروائبرجیسے سوشل میڈیا کے ذریعہ دوستی  کوزیادہ فروغ مل رہا ہے ۔  
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک آدمی اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے ،اگراس کا دوست اچھا ہوگا تو وہ بھی اچھا ہوگا اوراگر اس کا دوست برا ہوگا تو وہ بھی برا ہوگا ، اسی لیے کہتے ہیں ”مجھے بتادوکہ تمہارادوست کون ہے میں بتادوںگا کہ تم کون ہو ۔“جی ہاں! ایک آدمی اپنے دوست کے خیال ورجحان اورذوق ومزاج کے مطابق ہوتا ہے ،اس نکتے کی وضاحت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں کردی ہے: الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل (سنن ابی داؤد،سنن ترمذى) ”ایک آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا ایک آدمی کو دیکھ لیناچاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے“ ۔
ایک شرابی سے پوچھیں کہ وہ شراب نوشی کیسے شروع کیا ؟ ایک فحش کار سے پوچھیں کہ اسے فحش کی لت کیسے لگی ، ایک مجرم سے پوچھیں کہ اس کے جیل میں جانے کا سبب کیا بنا ، ایک نشہ خورسے پوچیں کہ اسے نشہ کی عادت کیسے لگی ،سب کا جواب ایک ہی ہوگا کہ بری صحبت نے اسے یہاں تک پہنچایاہے۔
اچھی یا بری صحبت سے سب سے زیادہ متاثر ہمارے بچے ہوتے ہیں کیونکہ بچپن اورنوجوانی کی عمر میں ان کو دوست واحباب سے زیادہ سابقہ پڑتا ہے ،اورواقعہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کوبری صحبت سے بہت کم بچاپاتے ہیں حالانکہ ماہرین کہتے ہیں کہ بچوں پر ان کے ماں باپ ،بڑے بھائی بہنواوررشتے داروں کا اثر صرف چالیس فیصد ہوتا ہے ،60 فیصد اثر اس پر اس کے دوستوں کا ہوتا ہے ۔ دوست اچھا ملا تو بچہ بھی اچھا بنے گااوردوست برا ملا تو بچہ بھی برا بنے گا ۔
کوئی اگر یہ دعوی کرے کہ میں برے لوگوں کے ساتھ ہوں لیکن ان کی برائی کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا ،میں کہتا ہوں وہ جھوٹا ہے ۔ ایسا ہونہیں سکتا کہ ایک آدمی بروں کے ساتھ رہتا ہو اوروہ اچھا سے اچھا بن کر رہے ،اس لیے اگر ہم برے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں تو یہ یاد رکھیں کہ اِس کا انجام ہمیں دنیامیں بھی بھگتنا ہوگا اورآخرت میں تو جہنم کے عذاب کی شکل میں بھگتنے والے ہی ہیں ۔بری صحبت اپناناگویابرے انجام کو اپناناہے ۔ اگر ساتھی اچھا ہوگا تو آخرت میں ہمارا انجام اچھا ہوگا اوراگر ساتھی برا ہوگا تو آخرت میں ہمارا انجام برا ہوگا ۔ توآئیے ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہمارے قارئین میں کتنے بھائی ایسے ہیں جو جرأت سے یہ کہہ سکیں کہ آج سے میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے برے دوستوں سے علیحدگی اختیار کرلوں گا اورکتنی بہنیں ایسی ہیں جو جرأت سے یہ کہہ سکیں کہ میں آج سے میں وعدہ کرتی ہوں کہ بری سہیلیوں سے الگ ہوجاؤں گی ۔
پھرآپ کے لیے اس میں جھجھک کس بات کی جبکہ آپ نے جو غلط سنگت اپنارکھی ہے اس کا مقصد صرف یہی ہے کہ آپ کو سعادت مل سکے ،آپ کو خوشی اورسکون حاصل ہوسکے ،سوال یہ ہے کہ نہیں کیا سعادت برے لوگوں کی صحبت میں ہے ،انٹرنٹ پر فحش مناظر کے مشاہدے میں ہے ، فحش کاری اورشباب وکباب کے اڈے میں ہے ؟ نہیں اور ہرگزنہیں ۔ سعادت کاخالق ہم اورآپ نہیں بلکہ ہمارامالک ہے ،توپھر ہمیں بتائیے کہ کیاوہ چاہے گا کہ سعادت ایسے لوگوں کو دے دے جو اس کے نافرمان ہیں ؟۔ نہیں بلکہ اللہ سعا دت سے ان کو نوازتا ہے جو اس کے فرمانبردار ہیں ۔
پھریہاں محض دنیوی خوشی کا معاملہ نہیں ہے آخرت کی نجات اسی سنگت پرموقوف ہے ، اوریہ اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب آپ بری صحبت چھوڑیں گے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ میں نیک بننا چاہتا ہوں، میں برائی سے کنارہ کش ہونا چاہتا ہوں، میں نمازی بننا چاہتا ہوں،لیکن نہیں بن پاتا ۔ جانتے ہیں کیوں نہیں بن پاتے ؟ ارادہ تو ہے اوردل میں برائی کا احساس بھی ہے تاہم بری صحبت نہیں چھوٹی جس کے باعث نیک اعمال کا انجام دینا یا برائی سے کنارہ کش ہونا ممکن نہیں ہورہا ہے ۔
آپ نے صحیح بخاری کی وہ معروف حدیث ضرور سنی ہوگی کہ سو آدمیوں کا قاتل جب ایک عالم سے مسئلہ پوچھتا ہے کہ کیا میرے لیے توبہ ہے تو عالم جواب دیتا ہے کہ ہاں !تیرے لیے توبہ ہے ،تیری توبہ کے راستے میں آخر کون حائل ہوسکتا ہے ۔البتہ تم جس علاقے میں رہتے ہو اسے چھوڑکرفلاں جگہ چلے جاؤ جہاں نیک لوگ رہتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ رہ کر عبادت کرسکو۔ دیکھا آپ نے ....یہ ہے صحیح رہنمائی اور اچھی صحبت کا اثر ۔ صحبت اچھی ہوگی تو آپ اچھے بن سکیں گے ،صحبت اچھی نہیں ہوگی تو لاکھ چاہنے کے باوجود آپ اچھا نہیں بن سکتے ۔
توآئیے کمر ہمت باندھیے ،کاغذ اورقلم ہاتھ میں لیجئے اوراپنے دوستوں کی لسٹ تیار کیجئے ،ان میں جو فالتو قسم کے دوست ہوں،جو آپ کا وقت برباد کرتے ہوں ، جوآپ کو برائیوں پر آمادہ کرتے ہوں، جو نماز روزے کے پابند نہیں ،ان کو اپنے دوستوں کی لسٹ سے ڈيلیٹ کردیجئے ۔ اورایک دو آدمی سے دوستی رکھئے جو نماز ی ہوں، جو نیک ہوں، جو آپ کو بھلائی کی رغبت دلا سکیں ،جو برائی سے آپ کوروک سکیں ،جو اچھے اخلاق کے پیکر ہوں،جو سمجھدار اور دانا ہوں بیوقوف نہ ہوں ، ایسے لوگوں سے آپ کی دوستی ہوگی تو آپ دنیا میں اچھے راستے پر چلیں گے اورکل قیامت کے دن اللہ پاک کا سایہ نصیب ہوگا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اورسایہ نہ ہوگا ،پھرآخرت کے سارے مراحل آسان ہوتے جائیں گے ۔  

مکمل تحریر >>

پیر, مارچ 31, 2014

زوجین ایک دوسرے کے تئیں اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں

خاندانی نظام کی تشکیل مرداورعورت کے دوجوڑے سے ہوتی ہے،امت کے فعال اورمتحرک افراد یہیں تیار ہوتے ہیں ،اسی لیے شریعت اسلامیہ نے خاوند اوربیوی دونوں کوکچھ حقوق وآداب کامکلف بنایا،بیوی کے کچھ حقوق گنائے گئے توشوہرکے بھی کچھ حقوق طے کیے گئے تاکہ ازدواجی زندگی خوشگوار گذرسکے اوراس پرسکون ماحول میں نئی نسل کی اچھی  تربیت ہوسکے،آئیے ذیل کے سطورمیں ہم ان حقوق پرایک طائرانہ نظرڈالتے ہیں جوشوہر اور بیوی دونوں سے متعلق ہیں۔شوہراوربیوی کے حقوق بعض مشترکہ ہیں اور بعض ہرایک کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں۔

مشترکہ حقوق :

(۱) امانت : شوہر بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے امانت ہوتے ہیں ،ایک دوسرے کےاسرار کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں ،ان کے آپسی راز کسی دوسرے تک کسی صورت میں نہیں پہنچ سکتے، میاں بیوی دونوں کو چاہیے کہ ازدواجی زندگی میں اس پہلو کوپیش نظر رکھیں ۔
(۲) محبت اوررحم دلی کا جذبہ : شوہر بیوی دونوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے محبت اور رحم دلی کے جذبات پائے جاتے ہوں، دونوں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، پاکیزہ رشتہ قائم ہوتے ہی یہ جذبات فطری طورپر میاں بیوی میں پیدا ہوتے ہیں البتہ دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے شریک زندگی کے تئیں ہمہ وقت ان جذبات کو اپنے دل میں بیدار رکھیں ۔
(۳) باہمی اعتماد : شوہر بیوی دونوں ایک دوسرے پر کلی طورپر اعتماد کرتے ہوں،اگر ازدواجی زندگی میں شکوک وشبہات در آئے تو ازدواجی زندگی سوہاں روح بن جاتی ہے جس کا نتیجہ بسااوقات علیحدگی اور طلاق پر منتج ہوتا ہے ۔ 

بیوی کے حقوق :

شوہرپربیوی کے کچھ مالی اور کچھ غیرمالی حقوق لازم ہوتے ہیں، مالی حقوق میں مہر کی ادائیگی ،نان ونفقہ اوررہائش ہے جبکہ غیر مالی حقوق میں عدل وانصاف ،حسن معاشرت اوربیوی سے ہر تکلیف کو دور کرنا ہے ۔ ذیل میں انہیں بیان کیا جارہا ہے :
(۱) مہر کی ادائیگی : مہر اللہ کی طرف سے واجب کیا ہوا حق ہے ،اللہ تعالی نے فرمایا:
وآتوا النساء صدقاتھن نحلة (النساء 4)
 ” اورعورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو “۔البتہ مہر شادی کی صحت کے لیے ضروری نہیں، بغیر مہر کے بھی شادی صحیح ہوگی البتہ بیوی کا یہ حق ہے جس کی ادائیگی ضروری ہے ۔
(۲) نان ونفقہ : جب بیوی شوہر کے گھر آتی ہے تو گویا اس کے لیے خود کو فارغ کرتی ہے،اب شوہر کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اس کے نان ونفقہ کا انتظام کرے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
 وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف ( البقرة 233)
 ”اورجن کے بچے ہیں ان کے ذمہ عورتوں کا روٹی کپڑا اوررہائش دستور کے مطابق ہے“۔
بخاری اورمسلم کی روایت ہے ،حضرت ابوسفیان کی بیوی ہند اللہ کے رسولﷺکی خدمت میں آئی اور کہنے لگی :ابوسفیان بخیل آدمی ہیں وہ اتنا نہیں دیتے جس سے میرے اورمیرے بچے کے لیے کافی ہوسکے ،اگر میں اس کے علم کے بغیر اس کے مال میں سے کچھ لے لوں تو کیا گناہ ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
خذی ما یکفیک وولدک بالمعروف ۔
”اچھے انداز سے لے لے جو تیرے اورتیرے بچے کے لیے کافی ہو “۔
(۳) رہائش : شوہر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق بیوی کو پرسکون رہائش فراہم کرے ۔اللہ تعالی نے فرمایا: أسکنوھن من حیث سکنتم (الطلاق 6) ”تم ان کو اسی جگہ رکھوجہاں تم رہتے ہو“۔
(۴) تعلیم وتربیت : شوہر کی ذمہ داری ہے کہ بیوی کو دین کی تعلیم دے ، اللہ کی توحید ، عبادات ،حلال وحرام اورجائز ناجائز کی تعلیم دے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
 یا أیھا الذین آمنوا قوا أنفسکم وأھلیکم نارا ( سور ہ التحریم 6)
 ”اے ایمان والو! اپنے آپ کو اوراپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ “۔ صحیح مسلم کی روایت ہے ،سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ جب رات میں وتر پڑھتے تو سیدہ عائشة ؓ کو جگاتے اور کہتے کہ عائشہ ! اٹھو اوروتر پڑھ لو ۔
(۵) عزت کی حفاظت : شوہر کے لیے بیوی کی عزت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ،اس لیے شوہر کوغیرت مند بننا چاہیے،شوہر کو چاہیے کہ اپنے قریبی رشتے داروں (بھائی ،بھانجا اوربھتیجا وغیرہ )کو بیوی سے بے تکلف نہ ہونے دے ، بلکہ ان سے پردہ کرنے کی تاکید کرے ۔بخاری اورمسلم کی روایت ہے ،اللہ کے رسولﷺنے فرمایا:
إیاکم والدخول علی النساءقالوا : أرایت الحمو ؟ قال : الحمو الموت ۔
 اپنے آپ کو عورتوں پر داخل ہونے سے بچاؤ،لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مردکے قریبی رشتے داروں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : قریبی رشتے دار تو موت ہے ۔ یعنی ہلاکت کا سبب ہے ۔
عورت کو پردے کا اہتمام کرنے کی تاکیدکرے ،اور پردہ میں چہرہ کا پردہ شامل ہے کیونکہ چہرہ ہی سرچشمہ محاسن ہے ۔عورت کو گھر سے بے فائدہ نہ نکلنے دیں ،ضرورت کے تحت پردے کااہتمام کرتے ہوئے نکلنے میں کوئی حرج کی بات نہیں تاہم بن سنورکر ایسے پروگراموںمیں شرکت کرنا جس میں مردوزن کا اختلاط ہو قطعادرست نہیں ۔
(۶) حسن معاشرت : یہ ہے کہ شوہر معروف طریقے سے بیوی کے ساتھ بودوباش اختیار کرے، اس کے حقوق کشادہ دلی سے اداکرے ، ترش روئی سے پیش نہ آئے ، جب کھاناکھائے تواسے کھلائے ،جب کپڑاپہنے تواسے پہنائے :
وعاشروھن بالمعروف (سورہ النساء19)
”اوران عورتوں کے ساتھ دستور کے مطابق نباہ کرو“ جہاں تک ہوسکے بیوی سے خوش گمان رہے ،اس کے ساتھ نباہ کرنے میں تحمل ،بردباری اورعالی ظرفی کی روش اخیار کرے ۔
حسن معاشرت میں یہ بات داخل ہے کہ اس کی خوبیوں پر نظر رکھی جائے خامیوں کو نظر انداز کیاجائے : اگر اس میں شکل وصورت یاعادت واخلاق یاسلیقہ وہنر کے اعتبار سے کوئی کمزوری بھی ہوتوصبرکے ساتھ اس کوانگیزکرلے ،اوراس کی خوبیوں پر نگاہ رکھتے ہوئے فیاضی،درگذر اورمصالحت سے کام لے ،اسی بات کواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان کیاہے:
 لایفرک مؤمن مومنة إن کرہ منھا خلقا رضی منھا آخر (مسلم )
 ”کوئی مومن اپنى مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے ،اس لیے کہ اگراسے اس کی ایک عادت ناپسند ہے تو دوسری خصلت پسند ہوگی “۔
حسن معاشرت میں یہ بات بھی داخل ہے کہ عورت چونکہ عقل وخرد کے اعتبارسے کمزور اورنہایت ہی جذباتی ہوتی ہے، اس لیے صبروسکون ،رحمت وشفقت اوردل سوزی کے ساتھ اس کوسدھارنے کی کوشش کرنی چائیے بخاری ومسلم میں ارشادنبوی ہے:
"عورتوں کے ساتھ اچھاسلوک کرو ،عورت پسلی سے پیداکی گئی ہے اورپسلیوں میں سب سے زیادہ اوپرکاحصہ ٹیڑھا ہے ،اس کوسیدھا کروگے توٹوٹ جائے گی اوراگر اس کوچھوڑ ے رہو گے تو اس میں کجی ہی رہے گی ،لہذا عورتوں کے ساتھ اچھاسلوک کرو" ۔
حسن معاشرت میں یہ بات داخل ہے کہ بیوی سے عمدہ گفتگو کی جائے ،شیریں لہجے میں بات کی جائے کیونکہ میٹھی بات سے دل کو جیتا جا سکتا ہے، عورت جو بچوں کی تربیت میں تھکتی ہے ،کھانا بنانے میں پریشان ہوتی ہے ، گھر کی صفائی ستھرائی میں وقت لگاتی ہے ، کپڑے صاف کرتی ہے اور ہروقت گھر کی سجاوٹ وبناوٹ میں لگی رہتی ہے ‘ شوہر کے چند میٹھے بول ان کی ساری پریشانیوں کو ختم کرنے کا سبب بنتے ہیں ، اورپھروہ تازہ دم ہوکر اپنے کام میں لگ جاتی ہے ،اس لیے شوہر کو ایسے تعریفی کلمات کہنے میں جھجھک محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔
حسن معاشرت میں یہ بات داخل ہے کہ بیوی کی رائے کا احترام کیاجائے ،اس کی بات پر دھیان دیاجائے ،اس کی با ت غور سے سنی جائے ، کوئی ضروری نہیں کہ اس کی بات میں دم ہو لیکن  انسانی جذبات نہایت حساس ہوتے ہیں جن کی رعایت بیحدضروری ہے ۔بسااوقات بیوی کے مشورہ میں برکت ہوتی ہے اورالجھے مسائل حل ہوجاتے ہیں ۔جیساکہ صلح حدیبیہ کے موقع سے اللہ کے رسول ﷺنے صحابہ کرام کو اپنی قربانی کرنے اورسر حلق کرانے کا حکم دیا تو کسی نے تعمیل نہیں کی البتہ ام سلمہ ؓ کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے خود اپنی قربانی کی اوربال منڈوایا تو یہ دیکھ کر سارے صحابہ اٹھ کھڑے ہوئے اورآپ کی  پیروی میں قربانی کرنے اور بال منڈوانے لگے ۔
حسن معاشرت میں یہ بات داخل ہے کہ  اگرایک سے زائد بیویاں ہیں تو ان سب کے درمیان  عدل وانصاف سے کام لے ،کسی ایک کی طرف جھک کر دوسری پرزیادتی نہ کرے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
من کانت لہ امرأتان فمال إلی أحدھما جاء یوم القیامة وشقہ مائل (ابوداؤد)
 ”جس آدمی کے پاس جوبیویاں ہوں اوراس نے ان کے درمیان انصاف سے کام نہ لیا تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا ۔ “
حسن معاشرت میں یہ بات داخل ہے کہ گھریلو کام کاج میں بیوی کا ساتھ دے ۔ اورکچھ کاموںمیں ہاتھ بٹانے کی کوشش کرے ۔صحیح بخاری کی روایت ہے ،سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے اہل خانہ کی خدمت میں لگے رہتے تھے ،جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے نکل جاتے تھے ۔“
خودرحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے جواپنے اہل وعیال کے لیے سب سے بہترتھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا :
خیرکم خیرکم لأھلہ وأناخیرکم لأھلی (الطبرانی)
 ”تم میں بہتروہ ہے جواپنے اہل کے لیے زیادہ بہترہو ،اورمیں تمہاری نسبت اپنے اہل کے لیے زیادہ بہترہوں “۔
آپ ﷺ اپنی بیویوں سے ہنسی مذاق کرتے تھے ، آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ بھی کیا ،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا برتن سے کوئی چیز نوش فرماتیں تو وہ برتن لے کر وہیں سے منہ لگاکر آپ بھی نوش فرماتے تھے  جہاں سے انہوں نے نوش فرمایا ہوتا تھا ،اسی طرح گوشت والی ہڈی لے کر نوچتیں پھر آپ اسے لیتے اوروہیں منہ رکھ کر نوچ کر کھاتے جہاں سے انہوں نے نوچ کر کھایاتھا ۔ کبھی کبھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیار سے عائش کہہ کر پکارا کرتے تھے ۔ گھر پر ہوتے تواپنی بیویوں کے کام کاج میں لگے ہوتے اورگھر کے کام میں ان کی مدد کرتے جب اذان ہوتی تو نماز کے لیے چلے جاتے تھے ۔
غرضیکہ اللہ کے رسول ﷺکی خانگی زندگی میں ہرمسلمان کے لیے بہترین پیغام ہے،آپ نے سرورکائنات ہوتے ہوئے اپنی بیویوں کے ساتھ حسن معاشرت میں اعلی نمونہ پیش کیا،اس طرح آپ مثالی شوہر بنے۔

شوہر کے حقوق :

جس طرح شوہر پر بیوی کے کچھ حقوق ہیں اسی طرح بیوی پر بھی شوہر کے کچھ حقوق ہیں ،شوہر کے حقوق میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے ۔
(۱) اطاعت اور تابعداری : بیوی نہایت خوش دلی کے ساتھ اپنے خاوند کی اطاعت کرے ،اللہ کی نافرمانی کے سوااپنے شوہرکی ہربات کی تابعداری کرے ۔ مسند احمدکی روایت ہے ،حسین بن محصن رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ان کی پھوپھی نے انہیں بتایا کہ ایک دفعہ کسی کام سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : اے خاتون! کیا تمہارا خاوند ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اسکے لیے کیسی ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں کسی بھی معاملے میں اس کی نافرمانی نہیں کرتی سوائے اس کے کہ کوئی کام میری طاقت سے باہر ہو ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
فأین أنت منہ فإنما ھوجنتک ونارک
 "تم اس سے کہاں ہو کیونکہ بیشک وہ تمہاری جنّت اور جہنم ہے" ۔ یعنی یہ خیال رکھنا کہ تم اسکے حق کی ادائیگی کے معاملے میں کہاں ہو ؟ اگر اس کا حق ٹھیک سے ادا کرو گی تو وہ تمہارے لیے جنّت میں داخلے کا مقام ہے اور اگر نہیں تو وہ تمہارے لیے جہنم میں داخلے کامقام ہے۔
اسی طرح سنن ابن حبان کی ایک روایت میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: اگرعورت پنچوقتہ نمازیں ادا کرتی ہو ، اور رمضان کے روزے رکھتی ہو ، اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو ، اور اپنے خاوند کی اطاعت کرتی ہو ، تو جنّت کے جس دروازے سے چاہے گی جنّت میں داخل ہو جائے گی ۔
بخاری مسلم میں ارشادنبوی ہے :
إذا دعا الرجل امرأتہ إلی فراشہ فلم تأتہ فبات غضبان علیھا لعنتھا الملائکة حتی تصبح 
 ”جب مرد اپنی عورت کواپنے بستر پربلائے وہ نہ جائے اورشوہرناراضگی کی حالت میں رات گزاردے توفرشتے اس عورت پرصبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں ۔
اورترمذی کی روایت میں ہے کہ جس عورت نے بھی اس حالت میں انتقال کیا کہ اس کاشوہر اس سے راضی اورخوش تھا تووہ جنت میں داخل ہوگی ۔اسلام نے شوہرکے حق کواس قدر اہمیت دی ہے کہ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہا ں تک فرمایا: 
لوکنت آمرأحدا أن یسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجہا (ابوداؤد)
 ” اگرمیں کسی کوحکم کرتا کہ وہ کسی کوسجدہ کرے توعورت کوحکم کرتاکہ وہ اپنے خاوند کوسجدہ کرے “۔
اورمسنداحمدکی روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے ،اگراس کی اجازت ہوتی تو بیوی کوحکم دیاجاتاکہ وہ اپنے شوہر کوسجدہ کرے ،شوہرکااپنی بیوی پرعظیم حق ہے ،اتناعظیم حق کہ اگر شوہرکاسارا جسم زخمی ہواوربیوی شوہر کے زخمی جسم کو زبان سے چاٹے تب بھی شوہرکاحق ادانہیں ہوسکتا ۔(اس حدیث کو منذری نے الترغیب والترھیب میں روایت کیا ہے اوراس کی سند جید اوررواة ثقات ہیں)
(۲) اپنے خاوند کے مال ومتاع ،عزت وناموس ،اورگھرکے جملہ امور میں اس کی محافظ بنی رہے:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک بیوی کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
خیرالنساء التی إذا نظرت إلیھا سرتک، وإذا أمرتھا أطاعتک وإذا غبت عنھا حفظتک فی نفسہا ومالک (الطبرانی ) 
”بہترعورت وہ ہے کہ جب تواسے دیکھے تو تجھے خوشی کرے ،جب تواسے حکم کرے توتیری اطاعت کرے ،اورجب تواس سے غائب ہوتواپنے نفس اورتیرے مال کی حفاظت کرے“۔
 اورصحیح بخاری کی روایت ہے ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
..والمرأة راعیة علی بیت زوجھا و مسئولة عن رعیتھا۔
 ”....اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے۔“
 (۳) خاوند کے گھر سے بغیر اس کی اجازت باہر نہ نکلے : اللہ تعالی نے فرمایا:
وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیة الأولی (سورة الاحزاب 33)
اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح بے پردگی کے ساتھ سج دھج کر باہر مت نکلو ۔
 سنن ترمذی کی روایت ہے ،عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عور ت پردے ( میں رکھنے ) والی چیز ہے اور بے شک جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے ۔ اور عورت اپنے گھر میں رہ کر اللہ کے زیادہ قریب ہوتی ہے ۔
(4) خاوند کی اجازت کے بغیر خاوند کے گھر میں کسی کو داخل نہ کرے اسی طرح خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے: یہ خاوند کے حقوق میں سے ایک حق ہے ،لہذا خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا اورکسی کو خاوند کے گھر میں داخل کرنا بیوی کے لیے جائز نہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ
 ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے ، اور نہ ہی کسی کوخاوند کی اجازت کے بغیرخاوند کے گھر میں داخل کرے ۔ “ (بخاری ومسلم)
مکمل تحریر >>