جمعہ, ستمبر 12, 2014

سورہ كہف كا پیغام


قرآن کی سورہ كہف جسے اگر کوئی ہر جمعہ پڑھتا ہے تو اس کے لئے اگلے جمعہ تک ایک نور روشن کر دیا جاتا ہے،  صحيح الترغيب: 736  
اس سورہ میں بنیادی طور پر چار قصوں اور چار قسم کے فتنوں کا ذکر کیا گیا ہے:
(1) غار والوں کا قصہ جس میں دین کا فتنہ پایا جاتا ہے۔
(2) دو باغ والے کا قصہ جس میں دولت کا فتنہ پایا جاتا ہے۔
(3) موسیؑ اور خضر ؑ کا قصہ جس میں علم کا فتنہ پایا جاتا ہے۔
(4) اور ذوالقرنین کا قصہ جس میں بادشاہت کا فتنہ پایا جاتا ہے. 
پھر قصوں کو بیان کرنے کے معا بعد اس کا علاج بھی بتا دیا گیا ہے، مثلا دین کے فتنے سے بچاؤ اچھی صحبت اختیار کرنے اور یوم آخرت کو یاد رکھنے میں ہے. (آیت 28-29)
مال کے فتنے سے بچاؤ دنیا کی حقیقت کو سمجھنے اور آخرت کو یاد رکھنے میں ہے. (آیت 45-46) 
علم کے فتنے سے بچاؤ عاجزی اختیار کرنے اور اپنے علم پر گھمنڈ کا اظہار نہ کرنے میں ہے. (آیت 69) 
اور بادشاہت کے فتنے سے بچاؤ اخلاص و للہیت اور آخرت کو یاد رکھنے میں ہے. (104-103) 
اور سورہ کے اخیر میں ہر طرح کے فتنوں سے بچاو کا خلاصہ یہ بتایا گیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے اور یہ عبادت آخری رسول محمدﷺ کے طریقے کے مطابق ہو اپنی خواہش اور چاہت کے مطابق نہیں. 
مکمل تحریر >>

ہفتہ, مارچ 22, 2014

قرآن کریم کی عظمت ، خصوصیت اور آفاقیت


دنیا میں ایک ایسی کتاب پائی جاتی ہے جو سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ہے لیکن اس کامصنف کوئی انسان نہیں ،اس کااسلوب انسانی اسلوب سے بالاترہے ۔اوراس کاپیغام سارے انس وجن کے لیے ہے ۔کیاآپ اس کتاب کوجانتے ہیں ؟ یہ کونسی کتاب ہے ؟ یہ دراصل قرآن کریم ہے ، جواللہ کاکلام ہے ،مالک دوجہاں کی بات ہے ،جس کوایسے نبی کے قلب اطہرپراتارا گیا جوانسانیت میں سب سے افضل ہیں ،جسے اتارنے کے لیے ایسے فرشتے کاانتخاب عمل میں آیا جو سیدالملائکہ ہیں ،جس کانزول ایسی سرزمین پرہواجوساری زمینوں سے افضل ہے ۔اورایسے مبارک مہینے میں ہوا جوسارے مہینوں سے افضل ہے اورایسی شب میں ہوا جو ہزارمہینوں سے افضل ہے ۔
قرآن کریم کی عظمت ورفعت کاکیاکہناکہ یہ فائنل اتھارٹی ہے ،اس سے آگے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ،اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن جگہ جگہ اپنی عظمت کااظہار کرتا ہے جیساکہ کہا:
بل ہو قرآن المجید فی لوح محفوظ(سورة البروج 21۔22)
 ”بلکہ یہ قرآن ہے بڑی شان والا، لوح محفوظ میں (لکھا ہوا) “یعنی اس کتاب کاتعلق زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے اورآسمان کی بلندیوں سے ہے ،اسے معمولی کتاب مت سمجھو ۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپناکلام ہمارے ہاتھوں میں دے دی ہو ۔اس کلام کی عظمت یہ ہے کہ اگراسے پہاڑوں پراتاراجاتاتووہ پھٹ جاتے ،شق ہوجاتے، سورہ حشرکی اس آیت پرغورکیجئے :
لوأنزلناھذا القرآن علی جبل لرأیتہ خاشعا متصدعا من خشیة اللہ وتلک الأمثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون (سورة الحشر 22)
” اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وہ پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور وفکر کریں۔“
 قرآن کہتا ہے کہ اگریہ کتاب پہاڑوں پر نازل کی جاتی تویہ شق ہوجاتے ،جھک جاتے ،ان کی بلندیاں باقی نہ رہتیں ۔اب یہی کتاب انسانوں کودی گئی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کی عظمت کوسمجھے ۔
عزیز قاری ! دنیاکی ساری مذہبی کتابوں میں صرف قرآن کریم کویہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہ مکمل طریقہ سے محفوظ ہے ،اس کے الفاظ وہی ہیں ،جواللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے تھے ،اس کے لفظ میں بھی نہ کوئی کمی واقع ہوئی ہے اورنہ زیادتی ہوئی ہے،قاری کوکتاب کھولتے ہی یقین دلایاگیاہے کہ
 ذلک الکتاب لاریب فیہ (سورة البقرہ 1)
اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کو راہ دکھانے والی ہے ۔ دنیاکی یہ واحد کتاب ہے جو اپناآغاز اتنے پرزوردعوے سے کرتی ہے ،اورقاری کو یہ باورکراتی ہے کہ اس کی جملہ تعلیمات خالص علم کی بنیاد پرہے،اس میں ظن وتخمین کاادنی شائبہ بھی نہیں پایاجاتا۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم پرجیسے جیسے قرآن اترتاکاتبین وحی آپ کے اشارے پرفورااسے لکھ لیتے ،پھرآپ اسے سنتے اوراپنے اصحاب کویاد کراتے ،اس طرح آپ کی وفات سے پہلے پہلے قرآن کریم پوری طرح محفوظ کرلیا گیا،تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں جب قرآن کی سرکاری نقلیں اسلام کے مرکزی مقامات پربھیجی گئیں، ان
 میں سے دو نسخے آج بھی موجود ہیں، ایک تاشقند میں اوردوسرے استنبول میں ۔
ہردورمیں قرآن کریم کے لاکھو ں ایڈیشن چھپے ہیں اورآج بھی دنیا کے ہرملک میں چھپ رہے ہیں ،ہندوستان میں چھپ رہے ہیں ،پاکستان میں چھپ رہے ہیں ،عرب میں چھپ رہے ہیں ،امریکہ ویورپ میں چھپ رہے ہیں ،لیکن دنیامیں کہیں بھی چھپنے والے کسی بھی نسخہ میں ایک لفظ بلکہ ایک شوشہ کافرق آپ نہیں پائیں گے ۔
اورایسا کیوں نہ ہوجبکہ خود اللہ رب العالمین نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحافظو ن (سورحجرآیت نمبر9)
 ”ہم ہی نے قرآن کواتاراہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔ اسی لیے ایک عیسائی دانشور مسٹرولیم میورکہتا ہے : ”دنیامیں قرآن کے علاوہ کوئی ایسی مذہبی کتاب نہیں پائی جاتی جس کاحرف اوراسلوب بارہ صدی گذرنے کے باوجودمکمل طریقے سے محفوظ ہو “۔
یہ کتاب انسانی زندگی کے جملہ شعبہ حیات پرروشنی ڈالتی ہے ،اس میں انسانی زندگی کی روحانی ،معاشی،اجتماعی،سیاسی،اورمعاشرتی سارے امور سے متعلق تعلیمات موجود ہیں ، اس میں مواعظ واحکام، اخبار و امثال، انذار و بشارت اورصفات الہیہ کابیان بھی ہے ۔
عزیزقاری! قرآن کریم دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے،روئے زمین پرہرجگہ روزانہ پانچ مرتبہ انفرادی اوراجتمائی نمازوں میں اس کی تلاوت کی جاتی ہے ، اورنمازسے باہر بھی لوگ اجروثواب کے حصول کے لیے اس کی تلاوت کرتے ہیں ، دنیاکی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہ تھی اورنہ آج ہے کہ اتنی ضخیم کتاب ہردورمیں ہزاروں اورلاکھوں افراد کے سینوں میں محفوظ ہو اوراسے بے تکلف ازاول تاآخرسناسکتے ہوں۔آج بھی اسے آٹھ دس سال کے بچے بآسانی یاد کرلیتے ہیں ۔ قرآن کے علاوہ کوئی کتاب نہیں جسے باربار پڑھنے کادل چاہتا ہو ،قرآن کی تلاوت سے شوق تلاوت کومزیدتازیانہ لگتاہے ،تلاوت کرنے والے کو ہربارایک نئی کیفیت ،ایک نئی جاذبیت،ایک نئی چاشنی،ایک نیالطف،ایک نیامزہ اورایک نیاسرورحاصل ہوتاہے ۔جب کہ دوسری کتابوں کے باربارمطالعہ کرنے سے طبیعت میں اکتاہٹ پیداہوجاتی ہے ۔
 قرآن کریم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ پچھلی کتابوں کی تصدیق کرتاہے اوران کتابوں میں جوتبدیلی واقع ہوئی ہے اسے کھول کھول کربیان کرتاہے ۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
 وأنزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب ومھیمنا علیہ (سورہ المائدہ آیت نمبر48)
”اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھی یہ کتاب اتاری ہے جواپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اوران کی محافظ ہے “۔ یعنی ان کتابوں میں جوتبدیلی واقع ہوئی ہے ان کی بھی نشاندہی کرتاہے ،اس لیے قرآن کا فیصلہ ہی ناطق ہوگا اور کیوں نہ ہوجبکہ اس کانزول ہی پوری انسانیت کے لیے ہواہے ،اس کاخطاب پوری انسانیت سے ہے ،قرآن کریم”اے قریش“یا”اے عرب والو!“کہہ کرخطاب نہیں کرتابلکہ ”یا أیھاالناس“ اے انسانو! اے لوگو! کہہ کراپنی دعوت لوگوں کے سامنے پیش کرتاہے ،قرآن کریم جس رب کی طرف بلاتاہے ،وہ سارے جہاں کاپروردگارہے ، قرآن کریم کی پہلی سورہ کی پہلی آیت پرغورکریں :
الحمد للہ رب العالمین (سورة الفاتحة 1)
 ”تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کارب ہے “ خود قرآ ن کریم کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 
تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا(سورہ الفرقان آیت نمبر۔1)
”برکتوں والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پرفرقان نازل کیاتاکہ وہ تمام جہانوں کوڈرانے والاہو“ اورسورہ یوسف آیت نمبر104۔سورہ ص آیت نمبر87۔اورسورہ تکویرآیت نمبر28۔میں فرمان عالی ہے:
 ” إن ھو الا ذکرللعالمین “
یہ قرآن کریم تو پوری دنیا کے لیے نصیحت ہے ۔یہ صرف قرآن کی خوبی ہے کہ اس کاپیغام پوری انسانیت کے لیے ہے ،یہ عرب کے لیے بھی ہے ،عجم کے لیے بھی ،ایران کے لیے بھی ہے،اورہندوستان کے لیے بھی ،روم کے لیے بھی ہے اوریونان کے لیے بھی ،امریکہ کے لیے بھی ہے ،اورافریقہ کے لیے بھی ،یورپ کے لیے ہے اورایشیاکے لیے بھی ،غرضیکہ ہرملک ہرقوم اورہرانسان کے لیے ہے ۔
مکمل تحریر >>

پیر, جنوری 13, 2014

ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے


انسان فطری طور پر کمزورمخلوق ہے، اس کی فطرت میں ایک عظیم ہستی کی کھوج ہوتی ہے جس کے سامنے اپنی پیشانی جھکا سکے ، معاشرے کے رواج اورماں باپ کی غلط تربیت سے جب وہ اس عظیم ہستی کا عرفان حاصل نہیں کرپاتا تو جسے وہ خود سے اوپرسمجھتا ہے اسی کے سامنے اپنى پیشانی خم کرنے لگتا ہے۔
ابھی میں سورہ الحج کی آیت نمبر 73 پر غور کررہا تھا جس میں اللہ تعالی نے اسی قبیل کی ایک مثال بیان کی ہے،آئیے سب سے پہلے آیت کومع ترجمہ پڑھ لیجئے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ   ( سورة الحج 73)
" لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو جن معبودوں کو تم الله کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے، مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور" -  
 اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں انسانی عقل کو خطاب كرتے ہوے كہا ہے کہ جن کی تم پوجا کرتے ہو ان کی تمہارے دلوں میں عزت ہے، ان کے لیے تم اپنی قیمتی سے قیمتی شے قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہو، محض اس لیے کہ تم خود پر ان کا احسان محسوس کرتے ہو یا یہ سمجھتے ہوکہ وہ تمہارے نفع اورنقصان کے مالک ہیں، اور ظاہر ہے کہ تم عام مخلوقات کے جیسےنہیں ، تم انسان ہو، معزز اورمکرم ہو، ساری مخلوق تمہاری خدمت کے لیے مسخر کی گئی ہے ، تمہیں سب پر فضیلت حاصل ہے، تم جس کے سامنے اپنی پیشانی جھکاؤ گے اس کی کم سے کم یہصفت ہونی چاہیے کہ وہ تمہارے لیے ایسی چیز پیدا کرسکے جو تمہیں فائدہ پہنچانے والی ہو یا ایسی چیز کو تم سے دورکرسکے جو تجھے نقصان پہنچانے والی ہو، اب تصور کرو کہ وہ معبود جن کے سامنے تم اپنی پیشانیاں جھکاتے ہو کیا واقعی اس کا حق رکھتے ہیں ، آؤ ذرا اس مثال پر غور کرو، تم تو کسی ایک یا چند معبودوں کی پوجا کرتے ہوگے، بات کسی ایک یا چند معبودوں کی نہیں ہے، اگر وہ سارے معبود جن کی تم پوجا کرتے ہو یا تمہارے علاوہ دنیا میں جن جن کی پوجا کی جاتی ہے ان سب کو ایک میدان میں اکٹھا کرو، پهران سے کہا جائے کہ انسان نہیں ، جانورنہیں بلکہ ايك مکھی بنا کرپیش کردیں، جو ایک معمولی اورحقیر مخلوق ہے جو تمہاری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی، اور اس کے لیے سب ایک دوسرے کی مدد کریں ۔اللہ نے کہا کہ وہ ایسا ہرگز ہرگز نہیں کرسکتے جس کا تمہیں خود علم ہے، بلکہ مکھی بنا لینا تو دور کی بات ہے ان معبودوں پر چڑھائے گئے چڑھاؤں پر جو مکھیاں آکر بیٹھ جاتی ہیں ان کے اندر اتنی بھی طاقت نہیں کہ ان مکھیوں کو وہاں سے بھگا سکیں ۔اب ذرا تصور کرو کہ تمہارے معبود اتنے کمزور ہیں کہ ایک مکھی  بنانے کی طاقت رکھنا تو دورکی بات ہے اپنے کھانوں پر بیٹھی مکھیاں بھی بھگانے کی طاقت نہیں رکھتے تو تمہیں آخر کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ پھراللہ نے کہا کہ واقعی جو مانگنے والا ہے وہ بھی کمزور اورجس سے مانگا جا رہا ہے وہ بھی کمزور، تم اورتمہارے معبود دونوں کمزور ہو-
تم فطری جذبات سے مجبور ہوکر پوجاتو کرتے ہو تاہم جس کی پوجا ہونی چاہیے اسے پہچانتے نہیں، اس لیے ایرے غیرے سب کے سامنے تمہاری پیشانی جھک رہی ہے، اورایسا کرکے تم اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہو ، کہ یہ اپنے خالق ومالک اورمنعم حقیقی سے بغاوت ہے ،اس لیے تمہیں اپنے خالق ومالک کا عرفان حاصل کرنا چاہیے، تمہارا مالک وہ نہیں جس کے لیے تم شب وروز ریاضتیں کررہے ہو بلکہ وہ ہے جو تمہارا خالق ہے، تمہارے آباءواجداد کا خالق ہے ،جس نے تمہیں انمول جسم عطا فرمایا، تم پرہر طرح کی نعمتیں كیں، تمہارے ليےآسمان کو چھت بنایا، زمین کو فرش بنایا، زمین سے غلے اگائے ، انواع و اقسام کى سبزياں ، رنگ برنگ کے پھل پیدا کئے ، جس كى عنایتيں ہر وقت جاری ہیں اورصبح قیامت تک جاری رہیں گی، توپھر تجھے کیسے زیب دیتا ہے کہ اپنے خالق ومالک کو چھوڑ کراپنے جیسی کمزور مخلوق کی پوجا کرو :
فلا تجعلو للہ أندادا وأنتم تعلمون ۔ ( سورہ بقرہ 22)
 ”جب تم یہ سارے احسانات کو جانتے ہو تو پھراللہ کے ساتھ کسی غیر کو شریک مت ٹھہراؤ ۔“ 

مکمل تحریر >>

جمعرات, جولائی 11, 2013

اورتم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر


”جب تک یہ کتاب مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجودرہے گی یورپ مشرق
پرقبضہ نہیں جماسکتا اورنہ وہ بذات خود امن وامان سے رہ سکتا ہے“ ۔
 قرآن کریم رشدوہدایت کا سرچشمہ ،علم ومعرفت کا خزینہ اورجسمانی و روحانی بیماریوں کے لیے شفا،کامل ہے ، انسانیت کی رفعت وبلندی ، عزت وحکومت ،دینوی وآخروی سعادت اورقوم وملت کی تعمیر وترقی قرآن کریم کی اتباع میں مضمر ہے ،جب تک امت مسلمہ اس کتاب سے رہبری اور رہنمائی حاصل کرتی رہی ،دنیاوآخرت میں فوزوفلاح اورسعادت وکامرانی سے ہمکنار ہوئی ،اورجب اس نے اسے پس پشت ڈالا تو انحطاط وتنزلی ،ذلت وپستی اورشقاوت وبدبختی اس کامقدربن گئی ۔علامہ اقبال نے کیا خوب کہاہے ۔
        وہ زمانے میں معززتھے مسلماں ہوکر     
   اورتم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
صدحیف! آج جب ہم قرآن سے مسلمانوں کی بے رخی کودیکھتے ہیں توکلیجہ منہ کوآتاہے ،اکثرلوگوں نے قرآن سے بے تعلقی برت رکھا ہے ، ایک مرتبہ سیف اللہ المسلول خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی کبرسنی میں مصحف اٹھایااور روتے ہوئے گویاہوئے : أشغلنا الجھاد عنک ”اللہ کے راستے میں جہاد نے ہمیں تجھ سے بے پرواہ کردیا“ ۔
عزیزقاری! خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کوجہاد نے قرآن سے بے پرواہ کردیاتھا ،لیکن ہمیں کس چیزنے اس کتاب سے بے پرواہ کررکھاہے ؟ آخری بار ہم نے قرآن کب ختم کیا تھا؟ہماری زندگی میں قرآن کااثرکیوں دکھائی نہیں دیتا؟ شاید ہم ہی ہیں جن کے متعلق سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم بروزقیامت اللہ کی جناب میں شکایت کریں گے:
 وقال الرسول یارب إن قومی اتخذوا ھذا القرآن مھجورا (سورہ الفرقان 30)
”اوررسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کوچھوڑرکھاتھا“چھوڑنے کاکیامفہوم ہے ؟ قرآن کونہ سننا اوراس پر ایمان نہ لانا قرآن کا ہجر ان ہے،اس کے اوامر پرعمل اورنواہی سے اجتناب نہ کرنابھی قرآن کاہجران ہے ، دین کے ا صول وفروع میں اس کونظراندازکرکے کسی اورکتاب کوفیصل بنانا بھی قرآن کاہجران ہے ،اس کوسمجھنا اوراس کے مراد کی جانکاری حاصل نہ کرنی بھی قرآن کاہجران ہے اوردلوں کی مختلف بیماریوں کااس سے علاج نہ کرنا بھی قرآن کاہجران ہے ۔
صد حیف ! آج یہ سارا ہجران ہماری کی زندگی میں پایاجارہا ہے ،جولوگ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں لیکن دین میں مختلف قسم کی بدعات وخرافات کورواج دے رکھا ہے ،وہ فی الواقع قرآن پرایمان نہیں رکھتے ،گو کہ وہ ہزاربار اس کادعوی کریں اورزندگی بھر اس کی تلاوت کرتے رہیں ، جولوگ زنا،سود،قتل ناحق ،چوری ،دھوکہ ،چغلخوری اورفحش کلامی کے عادی ہیں ،آخران کاایمان قرآن پرکہاں ہوا؟جولوگ واجبات کوترک کرتے ہیں ،اورمامورات میں سستی برتتے ہیں، مثلانماز، روزہ، زکاة، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، صلہ رحمی ، اوریتیموں کی رعایت وغیرہ آخریہ قرآن کاہجران نہیں تواورکیاہے؟۔
عجیب بات یہ ہے کہ جتناہم قرآن کریم کی عظمت کاادراک نہ کرسکے اس سے کہیں زیادہ دشمنان اسلام نے اس کی اہمیت کوسمجھا اوراس کے آثارکو ملکوں اورقوموں سے نابودکرنے کی کوشش کی ،کیوں کہ انہیں اس بات کاشدیدخطرہ لاحق تھا ،کہ مبادایہ امت قرآن کی طرف لوٹ آئے ،چنانچہ عہد وکٹوریہ کے وزیراعظم مسٹر گلیڈااسٹون نے قرآن مجید کاایک نسخہ ہاتھوں میں اٹھاکر برطانوی دارالعلوم کے ارکان کوبتایا :
”جب تک یہ کتاب مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجودرہے گی یورپ مشرق پرقبضہ نہیں جماسکتا اورنہ وہ بذات خود امن وامان سے رہ سکتا ہے“ ۔
فرزندان اسلام ! آج زمانہ پکارپکارکربلارہاہے کہ اے اسلام کے سپوتو!لوٹ آؤ اس کتاب کی طرف جس نے قوموں کی تقدیر کوبدلا،گلہ بانوں کو جہاں بان بنایا،ملکوں کوفتح کیا اورانسانی قلوب پرحکمرانی کی ،آؤ اس کتاب کی طرف جس نے صدیوں کے اختلافات کاخاتمہ کیا ، جانی دشمنوں کودوست بنایا، اورپتھردلوں کوموہ لیا، آؤاس کتاب کی طرف جس نے مورتی کے پجاریوں سے توحیدکاڈنکابجوایا،بھٹکے ہوئے آہوں کو حرم کاراستہ دکھایا،اورپیاسی انسانیت کو جام حیات پلایا۔کہاں گئے وہ لوگ جنہوں نے اس کتاب کو آویزہ گوش بنایاتھا؟ کہاں گئے وہ لوگ جن کی راتیں اس کی تلاوت میں بسرہوتی تھیں ؟ کہاں گئے وہ لوگ جن کی آنکھیں تلاوت قرآن سے اشکبار ہوتی تھی ؟
اگر آج بھی امت قرآن کے پرچم تلے اکٹھا ہوجائے اور اسے اپناحرزجان بنالے توعزت وشرف اوراقبال مندی ان کی کنیزبن جائے ،اوران کی سارے مشکلات حل ہوجائیں ۔ صحیح مسلم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
 إن اللہ یر فع بھذا الکتاب أقوما ویضع بہ آخرین (رواه مسلم)
 ”اللہ تعالی اس کتاب کی وجہ سے بہت سے لوگوں کوسرفرازفرمائے گا اوراسی کی وجہ سے دوسروں کو ذلیل کردے گا“۔تاریخ کے اور اق الٹ کردیکھئے تو اس حدیث کاحقیقی منظر آپ کے سامنے آجائے گا ،مسلمانوں کو اللہ تعالی نے ابتدائی چند صدیوں میں ہرجگہ فتح وکامرانی عطاکی کیو ں کہ وہ قرآن کے حامل اورعامل تھے ، اس پرعمل کی برکت سے وہ دین ودنیاکی سعادتوں سے بہرہ ور ہوئے لیکن مسلمانوں نے جب سے قرآن کے احکام وقوانین پرعمل کرنے کواپنی زندگی سے خارج کردیا،تب سے ہی ان پر ذلت ورسوائی کا عذاب مسلط ہے ،آج بھی ہماری عظمت رفتہ کی بحالی ہوسکتی ہے تواسی قرآن کے ذریعہ ۔آج ہر شخص اپنی اپنی سمجھ کے مطابق بہتری اورافضلیت کامعیار بناتا ہے ،لیکن حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان فیض ترجمان نے سب سے بہتر انسان جانتے ہیں کسے بتایاہے ؟ صحیح بخاری میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ ( رواه البخاري في فضائل القرآن باب خيركم من تعلم القرآن وعلمه (5027)
”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جوقرآن سیکھے اوردوسروں کوسکھلائے “ اللہ اکبر !یہ کسی شاعر ،کسی فلسفی ،اورکسی مفکر کی پرواز تخیل نہیں بلکہ اس صادق مصدوق کے الفاظ ہیں جن کے نطق سے وحی کے مقدس پھول جھڑاکرتے تھے ۔جی ہاں !تب ہی تو اللہ والوں نے قرآن کے سیکھنے اورسکھانے میں اپنی زندگی وقف کردی ۔
چنانچہ یہ عبدالرحمن السلمی رحمہ اللہ ہیں جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت سے لے کر حجاج بن یوسف کی امارت تک لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیتے رہے یعنی تقریبا 60سال سے زیادہ عرصہ تک لوگوں کو قرآن کی تعلیم دی ،یہاں تک کہ نہایت ضعیف ہوگئے ، لوگوں نے اس کاسبب جانناچاہاتو آپ نے یہی حدیث سنائی ۔خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جوقرآن سیکھے اوراسے سکھائے “۔پھر کہا : ھذا الذی أقعدنی مقعدی ھذا ” اسی بشارت نے مجھے اتنے دنوں تک یہاں بیٹھائے رکھا“۔(صحیح بخاری )
امام ذہبی رحمہ اللہ سیراعلام النبلاءمیں ان کی بابت لکھتے ہیں ، ان کی موت کے بعد لوگوں نے انہیں خواب میں دیکھا توپوچھا کہ اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ کیسامعاملہ کیا ؟انہوں نے جواب دیا: ”مسلمانوں کے بچوں کو سورہ فاتحہ سکھانے کے باعث اللہ تعالی نے میری مغفرت فرمادی۔“
قرآن کریم کی تلاوت کے اجروثواب کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے ،کہ اس کے ایک حرف پر دس نیکیوں کی بشارت دی گئی ہے ، سنن ترمذی کی ایک روایت میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : 
من قرأ حرفا من کتاب اللہ ،فلہ بہ حسنہ، والحسنة بعشر أمثالھا ،لا أقول الم حرف ولکن الف حرف ،ولام حرف ،ومیم حرف (ترمذی ، فضائل القرآن 2835 وصححہ الالبانی فی صحیح الجامع 4669)
”جس شخص نے اللہ کی کتاب کاایک حرف پڑھا ،اس کے لیے ایک نیکی ہے ، اورایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے،میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے ،بلکہ الف ایک حرف ہے،لام ایک حرف ہے،اورمیم ایک حرف ہے “۔یعنی الم تین حرفوں سے مرکب ہے ،لہذا اس کے پڑھنے والوکو 30نیکیاں ملیں گی۔
اگرآپ چاہتے ہیں کہ روزمحشر جس دن نفسی نفسی کاعالم ہوگا،اس دن آپ کے گناہوں کی معافی کی سفارش کی جائے توقرآن کریم کی تلاوت کریں، صحیح مسلم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
إقرؤوا القرآن فانہ یأتی یوم القیامة شفیعا لأصحابہ  ( رواه مسلم)
”قرآن کثرت سے پڑھا کرو ،اس لئے کہ قیامت والے دن یہ اپنے پڑھنے والے ساتھیوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا“۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ بہشت کے اعلی درجات کے حقدار بنیں توقرآن کریم حفظ کریں اوربکثرت اس کی تلاوت کرتے رہیں ، سنن ابی داؤد اورترمذی کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے :
 یقال لصاحب القرآن اقرأ وارتق ورتل کماکنت ترتل فی الدنیا،فان منزلتک عند آخرآیة تقرأھا ( رواه الترمذي في فضائل القرآن (2838) وقال حسن صحيح ، وأبو داود في الصلاة (1252) ، وأحمد (6508) ، وابن حبان (766) ، وقال الأرناؤط إسناده حسن) 
”روزقیامت قرآن پڑھنے اوراسے حفظ کرنے والوں سے کہا جائے گا کہ ”قرآن پڑھتاجا‘اورچڑھتا جا“اوراس طرح آہستہ آہستہ تلاوت کرجیسے تودنیامیں ترتیل سے پڑھتا تھا ،پس تیرامقام وہ ہوگاجہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہوگی“۔
اگر آپ کاتعلق ایسے لوگوں سے ہے ،جوقرآن اٹک اٹک کرپڑھتے ہیں ،اوراثناءتلاوت جومشقت ہوتی ہے ،اسے برداشت کرتے ہیں ،تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ، رب کریم کافیضان کرم دیکھئے کہ ایسے لوگوں کواس مشقت کی وجہ سے دوگنا اجرملے گا ۔بخاری ومسلم کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
 الذی یقرأ القرآن وھو ماھر بہ مع السفرة الکرام البررة ،والذی یقرأالقرآن ویتتعتع فیہ وھو علیہ شاق لہ أجران۔( رواه البخاري في تفسير القرآن باب عبس وتولى (4937) ، ومسلم في صلاة المسافرين (1329)
”جوشخص قرآن پڑھتا ہے ،اوروہ (صحت کے ساتھ )قرآن پڑھنے میں ماہر ہے ،تووہ قیامت والے دن بزرگ نیکوکارفرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جوقرآن اٹک اٹک کرپڑھتا ہے اوراس کے پڑھنے میں اسے مشقت ہوتی ہے اس کے لیے دوگنااجرہے“۔
ابھی ہم پر رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہے ،اورآپ جانتے ہیں کہ رمضان قرآن کامہینہ ہے ،اسی مہینے میں قرآن کانزول ہوا اور جبریل علیہ السلام رمضان کی ہرشب آپ کے ساتھ قرآن کادوراکرتے تھے ،اورعام دنوں میں قرآن کے ایک حرف پردس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، تورمضان میں اس کے اجروثواب میں سترگنااضافہ کردیاجاتاہے ،اس طرح حساب لگائیں توماہ رمضان میں ایک پارہ ختم کرنے پرتقریبا4ملین نیکیاں ملتی ہیں ۔
اللہ اکبر ! کیااس کے باوجود بھی کوئی انسان ہوگاجویومیہ کم ازکم ایک پارہ بھی قرآن کی تلاوت نہ کرے ؟ اسی لیے اللہ والے اس مہینہ میں تلاوت قرآن کابکثرت اہتمام کرتے تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رمضان میں روزانہ ایک ختم کرتے ،بعض سلف تین دن میں ،بعض سات دن میں اوربعض دس دن میں ایک ختم کرتے تھے ،امام شافعی رحمہ اللہ رمضان میں 60مرتبہ ختم کرتے تھے ۔اورقتادہ رحمہ اللہ ہمیشہ دس دنوں میں ،ماہ رمضان میں تین دنوں میں ،اورعشرہ اواخر میں ہرشب ختم کرتے تھے ،بعض سلف کاحال یہ تھا کہ جب رمضان آتا توحدیث کی خواندگی اوراہل علم کی مجالست ترک کردیتے اورمصحف سے قرآن کریم کی تلاوت میں لگ جاتے تھے ،اسی طرح سفیان ثوری رحمہ اللہ رمضان کی آمد پردیگرعبادتوں سے کنارہ کش ہوکر تلاوت قرآن میں مشغول ہوجاتے تھے ۔
یہاں پر کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیداہوسکتا ہے ،کہ احادیث میںتین دن سے کم میں قرآن ختم کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ، توآخر اللہ والوں نے تین دن سے کم میں قرآن ختم کیسے کیا ؟تواس کاجواب حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے یوں دیاہے ۔
”تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنے کی جوممانعت وارد ہوئی ہے ،اس کامطلب اس پر ہمیشگی برتناہے ،البتہ افضل اوقات مثلا ماہ رمضان اورافضل اماکن مثلامکہ جس میں غیراہل مکہ داخل ہوں توایسی صورت میں زمان و مکان کی فضیلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن مستحب ہے“
لیکن اس کامطلب ہرگزنہیں کہ قرآن ختم کرنے کی فکر میں اسے کاٹ کر پڑھا جائے ،جیساکہ بعض حفاظ کرتے ہیں ،بلکہ یہ تو قرآن پر بہت بڑی زیادتی ہے ،اوراس کی عظمت کونہ سمجھنے کا شاخسانہ ۔سنیں اپنے رب کی :
 لوأنزلناھذا القرآن علی جبل لرأیتہ خاشعا متصدعامن خشیة اللہ (الحشر21)
”اگر ہم قرآن کریم کوکسی پہاڑ پراتارتے توتودیکھتاکہ خوف الہی سے وہ پست ہوکر ریزہ ریزہ ہوجاتا“۔
 اللہ اکبر !قرآن کی بلاغت وفصاحت ،قوت استدلال اورعظمت وشان ایسی کہ انسانی قلوب توکجابلند وبالاپہاڑ بھی اس کی ہیبت سے رائی ہوجائے ۔
لہذا تمام مسلمانو ں سے بالعموم اورحفاظ کرام سے بالخصوص ہماری استدعا ہے ،کہ ہم قرآن کریم کے ساتھ اپنے تعامل پرنظر ثانی کریں ،کتاب اللہ کی بکثرت تلاوت کریں ،اس پرغور کریں ،اس کی آیات سے عبرت ونصیحت حاصل کریں اورامت کے نونہالوں کی اسی منہج پرتربیت کریں ،اللہ ہمیں اس کی توفیق دے ۔ آمین یارب العالمین

مکمل تحریر >>