ہفتہ, مئی 10, 2014

بلند ہمتی

صفات عالم محمدزبیرتیمی 


عن حسین بن علی رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ان اللہ تعالی یحب معالی الامور واشرافھا ویکرہ سفسافھا  صحیح الجامع للالبانی ،حدیث رقم 1890
ترجمہ: حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی بلند اورمعززکاموں کو پسند فرماتا ہے اورگھٹیا کاموں کو ناپسند کرتا ہے ۔
تشریح : ایک مومن بلندہمت ہوتا ہے،وہ پست ہمتی سے کوسوں دور رہتا ہے ،اس کی نظر اعلی اوراشرف کاموں پر ہوتی ہے،وہ گھٹیاکاموں کے پیچھے نہیں لگتا، وہ بیکار اور لایعنی کاموں میں اپنے اوقات ضائع نہیںکرتا، وہ کم پر راضی نہیں ہوتا جبکہ زیادہ کا حصول ممکن ہو، ہمارے لیے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اولوالعزمی اوربلندہمتی کا بہتریں نمونہ ہے جنہوں نے کفروشرک کی شب تاریک میں تنہا دعوت کا آغاز کیا تھا ،ہرطرف سے مخالفت ہوئی،ہرطرح سے مشق ستم بنایاگیا لیکن آپ کی ہمت مزید دوبالا ہوتی گئی یہاں تک کہ جان جان آفریں کو سپردکردی ۔
ایک انسان کا حقیقی امتیاز اس میں نہیں ہے کہ اس نے کس قدر عمریںپائیں بلکہ حقیقی امتیاز اس میں ہے کہ اس نے اس مدت میںدین کے لیے کتنا کام کیا اورکس حدتک دین کی خدمت انجام دی۔بندہ مومن کامطمح نظر دنیاکے بجائے آخرت ہوتاہے،اس لیے وہ دنیا کے معاملے میں کم پرقناعت کرسکتا ہے لیکن آخرت کے معاملے میں اس کی نگاہ ہمیشہ بلند ہوتی ہے،یہی وہ نکتہ تھا جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا:” جب تم اللہ پاک سے جنت کاسوال کروتو جنت الفردوس مانگو“….چنانچہ آپ کے عالی ہمت اصحاب نے اس نکتہ کو بخوبی اپنی عملی زندگی میں جگہ دی۔
٭ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ محض ڈھائی سال تک حکومت کرتے ہیں لیکن اس مختصر مدت میں فتنہ ارتداد کی سرکوبی اورقرآن کریم کو یکجا کرکے دوبارہ امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیتے ہیں۔
٭  حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ ساڑھے دس سال کی مدت ِخلافت میںشمال سے لے کر جنوب تک اورمشرق سے لے کر مغرب تک اسلام کا جھنڈا لہرا دیتے ہیں یہاں تک کہ وقت کی دو سپرپاور طاقتیں روم وایران اسلامی خلافت کے زیرنگیں ہوجاتی ہیں۔
٭ سعدبن معاذرضی اللہ عنہ جو 30سال کی عمر میں اسلام قبول کرتے ہیں اور36سال کی عمرمیں وفات پاجاتے ہیں ،محض چھ سال کی مدت میں انہوں نے آخر کونسی نیکی کرلی کہ ان کی موت پرعرش الہی لرزنے لگتا ہے۔
٭ عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے صرف ڈھائی سال تک حکومت کی لیکن اس مدت میں انہوں نے حکومت کے نظم ونسق کوایسا مثالی بنادیا کہ خلفائے راشدین کی یاد تازہ ہونے لگی ۔
جی ہاں! ایک مسلمان اپنی ذات میں ایک انجمن ہے ،اسے انسانوں کے لیے وجودمیں لایاگیا ہے ،اب اگروہ سستی کرنے لگ جائے اورکاہلی کا شکارہوجائے تو انسانیت کی رہبری کون کرے گا ؟ افسوس کہ آج ہماری نئی نسل پست ہمت اور کام چور بنتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے اعلی کردارکے حامل اورنمایاں کارکردگی انجام دینے والے افراد مسلم معاشرے میں کم ہوتے جارہے ہیں۔
آج ضرورت ہے کہ زیر نظر حدیث کے مطابق مسلم معاشرے کے افراد کی ذہن سازی کی جائے تاکہ وہ زندگی کے ہرمیدان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں ۔

مکمل تحریر >>

منگل, اپریل 09, 2013

جمعہ کے روز ہرقدم پر سال بھر روزے اورقیام کا اجر

 فضائل اعمال کی سب سے عظیم حدیث يعنى جمعہ کے روز ہرقدم پر سال بھر روزے اورقیام کا اجر

اوس بن اوس رضى الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللهعليہوسلم نے فرمایا :
جس شخص نے جمعہ کے روز غسل کرایا اورخود غسل کیا، اورنماز کے اول وقت میں مسجد آیا،چل کرآیا سوارنہیں ہوا، امام سے قریب بیٹھ کرغور سے خطبہ سنا اوراس دوران کوئی لغوحرکت نہیں کی تو اسے ہر قدم پرایک سال کے روزوں اورایک سال کے قیام کا ثواب ملے گا “۔( ابوداود:345، ابن ماجہ :1087 و صححہ الألبانى(
امام سخاوی فرماتے ہیں:
”اس حدیث کے علاوہ کوئی اورحدیث نہیں جانتا جو کم عمل پر زیادہ سے زیادہ ثواب عطاکرنے والی ہو“۔
سبحان اللہ ! سال بھر لگاتار روزہ رکھنے اورشب بیداری کرنے کا اجروثواب معمولی ایک قدم پر حاصل ہورہاہے ۔ جی  ہاں! معمولی ایک قدم پر سال بھر عبادت کرنے کا ثواب مل رہا ہے جس کے دن روزہ سے گذرے ہوں اوراس کی راتیں قیام میں گذرری ہوں،کیا کوئی انسان ایک روزکے لیے بھی اس طرح کی عبادت گذاری کی ہمت پاسکتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ چوبیس گھنٹہ تک لگاتا رعبادت میں لگے رہنا ممکن نہیں ۔ جبکہ اللہ رب العالمین اسے معمولی ایک قدم پر ایک دن نہیں بلکہ سال بھر تک ایسی عبادت گذاری کا اجروثواب عطا فرما رہے ہیں۔ توہم مسجد میں آنے کے لیے کتنے قدم رکھتے ہوں گے اس کا اندازہ لگائیں پھر دیکھیں کہ ہم کتنے اجروثواب کے حقدار بنے ہیں ۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے دل کو ٹٹولا اورمن سے پوچھا کہ کیا واقعی ہمارے نامہ اعمال میں یہ ثواب لکھے جارہے ہیں ….؟
مکمل تحریر >>

بدھ, اگست 01, 2012

تین بہترین اموال


’’عن ثوبان رضي الله عنه قال لما نزلت الذین یکنزون الذھب والفضة، کنا مع ألنبی صلي الله عليه وسلم فی بعض أسفارہ فقال بعض أصحابہ نزلت فی الذھب والفضة، لو علمنا أی المال خیر فنتخذہ۔ فقال أفضلہ لسان ذاکر وقلب شاکر وزوجة مؤمنة تعینہ علی إیمانہ ،، ( رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ )

ترجمه :” ثوبان رضي الله عنه سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ( جس کا ترجمہ ہے ) "جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں....“ اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں شریک تھے اس آیت کو سن کر بعض صحابہ کرام نے کہا یہ آیت سونے اور چاندی ( کی مذمت ) میں نازل ہوئی ہے۔ کاش ہمیں پتہ چل جائے کہ کونسا مال بہتر ہے ہم ( سونے چاندی کے بجائے ) وہ مال حاصل کر لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہترین مال وہ زبان ہے جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتی ہے اور وہ دل ہے جو شکر ادا کرتا ہو اور وہ ایمان دار بیوی ہے جو دینی معاملات میں خاوند کی مددگار بنتی ہے۔ “ ( احمد، ترمذی، ابن ماجہ )

تشریح: زیرنظر حدیث میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دینی جذبہ کا ایک نمونہ پیش کیا گیاہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ نفوس قدسیہ نیکیوں کی رسیا تھیں، ان کی ہر وقت یہی کوشش ہوتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح نیکیاں حاصل کر لیں اور ایسا عمل کریں جو دنیا و آخرت کے ليے نفع بخش ہو۔ جب سفر کے دوران ’’ والذین یکنزون الذھب والفضة تا آخر‘‘

سورہ نازل ہوئی تو انہیں فکر لاحق ہوئی کہ سونا چاندی جمع کرنا تو جہنم کی آگ کو دعوت دینا ہے۔ لہٰذا ہمیں کسی ایسے مال کا علم ہو جائے جو ہمارے ليے نفع بخش ہو۔ ہم وہ مال جمع کر لیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن کر فرمایا تین چیزیں بہترین مال ہیں۔

1.   پہلی چیز وہ زبان ہے جس پر ہمیشہ اللہ کا ذکر جاری رہتا ہو۔ اسلام نے زبان کی حفاظت کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی ہے سچی زبان، عمدہ کلام اور خوش گفتاری بہترین مال ہے

2.   دوسری بہترین چیز جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمدہ مال قرار دیا ہے وہ ایسا دل ہے جو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو۔ شکر گزار بندہ ہمیشہ صاف دل والا ہوتا ہے اور جو دل اللہ کی یاد سے غافل ہو وہ شکر ادا نہیں کرتا

3.    تیسری چیز جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمدہ مال قرار دیا وہ ایمان دار بیوی ہے جو نیکی کے کاموں میں اپنے خاوند کا ہاتھ  بٹائے۔ نیک کاموں کی ادائیگی کے ليے اسے فارغ رکھے، ہمیشہ اپنے ہی معاملات میں نہ پھنسائے رکھے بلکہ نیکی کا سبق بھی دے اور نیکی کرنے کے ليے اسے وقت بھی دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ” وہ جوڑا انتہائی خوش بخت جو ایک دوسرے کو نماز کے ليے جگائے اور نیکی میں معاونت کرے۔
اس لیے ہر شخص کو چاہيے کہ زبان کی ایسی تربیت کرے جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے لگے،  دل کی ایسی تربیت کرے جو خوشی وغم ہر حال میں تقدیر الہی پر راضی ہو اور ہمہ وقت شکر الہی کے جذبات سے معمور ہو۔ نیز بیوی کی ایسی تربیت کرے جو دینی معاملات میں اس کی مددگار بن جائے ۔

اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق دے ۔ آمین


مکمل تحریر >>

جمعرات, مارچ 18, 2010

طبع آزاد پر نماز ِفجر بھاری ہے

عن جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ إن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم قال: من صلی الصبح فھو فی ذمة اللہ ....(مسلم )

ترجمہ :حضرت عبداللہ بن جندب رضى الله عنه بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ کی امان میں آجاتاہے.... “۔ ( مسلم) 

تشریح: نماز اسلام کا ستون اور اسکی اساس ہے جو شب وروز میں پانچ بار فرض ہے ، پنجوقتہ نمازوں میں سب سے زیادہ اہمیت نماز فجر کی ہے جس وقت ایک آدمی نیند کی آغوش میں ہوتا ہے،بستر کو چھوڑنا اس پر گراں گزرتاہے ، تاہم ایک بندہ مومن جب اپنے بستر پر جاتا ہے تو اس احساس کے ساتھ کہ اپنے پالنہار کی بندگی کے لیے صبح میں بیدار ہونا ہے چنانچہ اُسے توفیق الہی نصیب ہوتی ہے اور عین اس وقت جبکہ مؤذن”نماز نیند سے بہترہے ‘ نماز نیند سے بہترہے“ کی پکار لگا رہا ہوتا ہے‘ یہ نرم نرم بستر کو بالائے طاق رکھتاہے ،نیند کی لذت اور طبیعت کے آرام کو خیرباد کہتا ہے،باوضومسجد کا رخ کرتا ہے اورجماعت سے نماز ادا کرتا ہے ۔ چنانچہ رحمت الہی اسے ڈھانپ لیتی ہے ،وہ اپنے مالک کی پناہ میں آجاتا ہے اور پورا دن اللہ کی نگہبانی میں گذارتا ہے۔ سبحان اللہ !کیا مقام ہے اس بندہ مومن کا کہ دن کا آغاز اپنے رب کی نگہبانی میں کررہا ہے ، پھروہ تازہ دم ہوتا ہے ، چست اور پاکیزہ طبیعت بن جاتا ہے ۔

اس کے برعکس جوشخص ٹی وی کے فحش پروگراموں کا مشاہدہ کرتے کرتے نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے، نہ اللہ کا نام لیا نہ سوتے وقت کے اذکار کا اہتمام کیا‘ نتیجہ ظاہر ہے کہ شیطان اس پر قابو پا لیتاہے ، تھپکیاں دے دے کر سورج نکلنے تک سلائے رکھتاہے۔ چنانچہ جب وہ طلوع آفتاب کے بعدبیدار ہوتا ہے توخبیث طبیعت اور سست وکاہل بن جاتا ہے ۔اللہ کو بھی اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اوردن بھراللہ کی امان سے محروم رہتا ہے ۔
 اب ہمیں اپنامحاسبہ کرنا ہے کہ ہم کس حد تک نماز فجر کی محافظت کررہے ہیں ،جس نماز سے اللہ کی امان حاصل ہوتی ہے ،طبیعت کو شادابی ملتی ہے ،جس نماز پرجنت میں داخلہ اورجہنم سے نجات موقوف ہے ، جس نماز سے دیدار الہی نصیب ہوگی،ایسی نماز سے اکثریت کی لاپرواہی المیہ نہیں تواورکیاہے....جب انسان کی پکار ہوتی ہے ،اور ڈیوٹی کا وقت آتا ہے تو ہم پوری مستعد ی کے ساتھ سڑکوںپر پر پِل پڑتے ہیںخواہ چاربجے صبح ہی کیوں نہ ہو ،تاہم جب اللہ کی پکار ہوتی ہے تو ہم بے پروا ہ خواب خرگوش میں مست رہتے ہیں ،ایسا کیوں؟
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
 ظاہر ہے کہ یہ فکرآخرت میں کمی کا نتیجہ ہے ،اللہ کی گرفت سے جب انسان مطمئن ہوجاتا ہے تو اس کے احکام کو پامال کرنے میں ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کرتا ، اس لیے سب سے پہلے اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ ہم سے بہت بڑی کوتاہی ہو رہی ہے پھر ہلکی سی عزیمت درکار ہے ،نمازِ فجر کی پابندی آسان ہوجائے گی ۔
 سوتے وقت مسنون اذکار کا اہتمام کرلیں ،سونے سے قبل نمازفجر کے لیے بیداری کا پختہ ارادہ ہو ، رات کو سویرے سونے کی عادت ڈالیں، بیدار کرنے کے لیے الارم گھڑی کا استعمال کریں یا کسی ساتھی کو جگانے کی تاکید کردیں اور گناہوں سے دوری اختیار کریں۔
 اللہ تعالی ہم سب کو نمازِفجر کا پابند بنائے ۔ آمین یا رب العالمین
مکمل تحریر >>

جمعرات, فروری 04, 2010

لذت آہ سحرگا ہی

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ينزل ربنا تبارك وتعالى إلى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر ، فيقول : من يدعوني فأستجيب له ، من يسألني فأعطيه ، من يستغفرني فأغفر له . ( متفق عليه ) 

ترجمہ :
”اللہ تبارک وتعالی ہر شب جب رات کا سہ پہر باقی رہتا ہے تو سماء دنیا پر اُترتا ہے ، اور پکارتا ہے ،کون ہے جو دعا کرے کہ ہم اس کی دعا قبول کریں ، کون ہے جو ہم سے مانگے اور ہم اُسے عطا کریں ، کون ہے جو ہم سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے اور ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں“ ۔ بخاری ومسلم

تشریح :
اگر کسی شہر میں وزیر کا اعلان ہوتا ہے کہ وہ شب میں فلاں وقت سے فلاں وقت تک حاضر ہونے والا ہے جس میں وہ ہم وطنوں کے حاجات کی تکمیل کرے گا اور اُن کے مشکلات حل کرے گا ۔ اگر آپ اس شہر کے باشندہ ہوں تو خدارا مجھے بتائیں کیا آپ وقت مقررہ پر وزیر سے ملنے نہ پہنچ جائیں گے ، کیا آپ کے اندر وزیر سے ملنے کی کھلبلی نہ مچی ہوگی ؟
جی ہاں! ضرور ۔ حالانکہ یہ پکار موقع محل کے اعتبار سے بسااوقات ہوتی ہے ، اور وہ بھی عام نہیں ہوتی ،جبکہ دوسری پکار ہرروز ہوتی ہے ، اور ہرخاص وعام کے لےے ہوتی ہے ، یہ پکار ہمارے رب ذوالجلال کی پکار ہے جو رات کے سہ پہر میں سماءدنیا پر ہوتی ہے ۔ پیش نظر حدیث میں اِسی پکار کی خبر دی گئی ہے ، ظاہر ہے یہ کسی ادیب ، کسی فلسفی ، یا کسی نجومی کے الفاظ نہیں بلکہ اس دانائے راز پیغامبر کے الفاظ ہیں جن کے نطق سے وحی کے مقدس پھول جھڑا کرتے تھے ۔اب ہمیں جواب دیجےے ! کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب شہر میں وزیر کی پکار ہوتی ہے تو ہم راتوں کی نیند قربان کرکے اس کی خدمت میں وقت سے پہلے پہنچ جاتے ہیں جبکہ وہ ہمارے کسی چیز کا مالک نہیں لیکن روزانہ جب ہمارے خالق ومالک کی پکار ہوتی ہے تو ہم خواب خرگوش میں پڑے رہتے ہیں حالانکہ ہماری سعادت ، ہماری شقاوت، ہماری تونگری، ہماری تنگ دستی ، ہماری زندگی اور ہماری موت اُسی کے ہاتھ میں ہے ۔ جب بات یہ ٹھہری تو ہم اپنے رب کی پکار پر لبیک کہیں ، ابھی رمضان کا آخری عشرہ باقی ہے ، رات کے سہ پہر میں بیدار ہوکر اپنے رب کے سامنے گرگرائیں ، روئیں ،اور مغفرت کے طلبگار ہوں، اللہ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونے اور اس کی قربت حاصل کرنے سے بہتر سعادت آخر کیا ہوسکتی ہے ، اےسے وقت میں جبکہ سحر کی بھینی بھینی ہوائیں چل رہی ہوں ، نسیم صبح کے جھونکے عطربیزیاں کررہے ہوں ، ہرسوسناٹا چھایا ہوا ہو ایسے پُرلطف وقت میں رب کریم کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور گرگرانے کی لذت کا کیا کہنا اور پھرایسے وقت میں شب بیداری کامیابی کی کنجی ، محبت الہی کا سبب ، دنیوی واخروی مصالح کے حصول کا ذریعہ اور کمال شخصیت کا راز ہے ، علامہ اقبال نے کہا تھا
 عطار ہو رومی ہورازی ہو غزالی ہو
 کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگا ہی
اس ليے خالق دوجہاں سے شب بیداری کی توفیق کا سوال کرتے ہوئے دعا کریں کہ
پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے

 رونا میرا وضو ہو نالہ میری دعا ہو
مکمل تحریر >>

اتوار, نومبر 15, 2009

حج كى فضيلت

عَن أبِی ھُرَیرَةَ رضي الله عنه سَمِعتُ رَسُولُ اللّٰہِ ُّ صَلٰی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّم یَقُولُ: مَن حَجَّ فَلَم يرفُث وَلَم يَفسُق رَجَعَ کَيومِ وَلَدَتہُ أمُّہ  (رَوَاہُ البُخَارِی وَمُسلِم)

ترجمہ :
 سیدنا ابوہریرہ رضى الله عنه کا بیان ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صَلٰی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّم  کو فرماتے ہوئے سنا ”جس نے حج کیا اور دوران حج اس سے نہ کوئی شہوانی فعل سرزد ہوا اور نہ ہی اس نے فسق وفجور کا ارتکاب کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو کر لوٹا گوياآج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے“ ۔(بخاری ومسلم)
تشریح : پیش نظر حدیث میں حاجی کے ليے اس انعام کا تذکرہ کیا گیا ہے جس سے وہ حج کے بعد سرفراز کیا جاتا ہے ، البتہ انعام کے ليے شرط یہ رکھی گئی ہے کہ حج کے دوران دوباتوں سے دور رہا
٭ شہوانی فعل
٭ فسق وفجور کاارتکاب
قرآن کریم میں بھی حج کی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ فَمَن فَرَضَ فِیھِنَّ الحَجَّ فَلَارَفَثَ وَ لَا فُسُوقَ وَلَاجِدَالَ فِی الحَجِّ کہ حج میں ”رفث ،فسوق اور جدال“ سے اجتناب کیا جائے ۔ 
اب سوال یہ ہے کہ ان امور کاخصوصیت کے ساتھ ذکر کیوں ہوا؟
تواِس کا جواب یہ ہے کہ حج میں ان چیزوں سے اکثر سابقہ پڑتا ہے ، دورانِ حج احرام کی پابندیوں کی وجہ سے عورت کو چہرہ ڈھکنے کی اجازت نہیں ،اس لیے ساری عورتیں اپنا چہرہ کھلا رکھتی ہیں، مناسک ِحج کی ادائیگی کے وقت بسااوقات ٹکڑا جانے کی بھی نوبت آجاتی ہے ، ایسے حال میں اللہ کا ڈر دل میں بیٹھائے رہنا اور کسی عورت پر غلط نگاہ نہ ڈالنا حج کا اہم تقاضا ٹھہرا ۔
پھراس مناسبت سے لڑائی جھگڑے کے اسباب بھی پیدا ہوجاتے ہیں ،مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والوں،مختلف طبائع کے لوگوں اور مختلف تہذیب وثقافت کے حامل اشخاص سے معاملہ کرتے وقت اونچ نیچ کا ہونا یقینی ہے ،بسااوقات آپ نے کوئی کام صحیح سمجھ کر کیا جبکہ وہی کام دوسرے کے مزاج کے خلاف ہوگیا ایسی صورت میں لڑائی جھگڑے کی نوبت آسکتی ہے لیکن آپ نے صبروضبط سے کام لیتے ہوئے اپنے بھائی کی غلطی کومعاف کردی توبڑا اہم کام کیا۔
غرضیکہ ایک حاجی جب ایسے عظیم منسک کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنے آپ کو شہوانی وجنسی فعل، جنگ وجدال اور فسق وفجور کی آلودگیوں سے پاک وصاف رکھتا ہے تو اُس کے حق میں یہ خوش خبری سنائی جارہی ہے کہ جب وہ حج کرکے گھر لوٹتا ہے تو وہ بالکل دودھ کا دھلا ہوجاتا ہے ۔ اس کی حالت نوزائیدہ بچے کی سی ہوتی ہے ۔ گویا وہ نئی زندگی کی شروعات کر رہا ہوتا ہے ۔ظاہر ہے جو شخص گناہوں سے اس طرح پاک ہو جس طرح کہ اپنی پیدائش کے دن تھا آخر اس کے دخولِ جنت میں کونسی چیز مانع ہوسکتی ہے ۔ تب ہی تو فرمایا گیا : اَلحَجُّ المَبرُورُ لَیسَ لَہ جَزَاء اِلّا الجَنَّة (احمد) ” حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں “ ۔
حج مبرور سے مراد وہ حج ہے جس میں گناہ کا کام نہ کیا گیا ہو اور اس کی علامت یہ ہے کہ حج کے بعد حاجی کے اندر نیکیوں کی رغبت پیدا ہوجائے اور وہ بُرائیوں سے کنارہ کش رہنے لگے ۔
اتنی عظیم بشارت کے ہوتے ہوئے اگر حاجی اللہ تعالی کے اِس انعام کا حقدار نہ بن سکے تو واقعی معاملہ قابلِ افسوس ہوگا ، اس ليے حجاجِ بیت اللہ کو چاہےے کہ وہ اپنے حج کو ہرقسم کی آلودگیوں سے پاک وصاف رکھیں ۔


مکمل تحریر >>

ہفتہ, اکتوبر 03, 2009

سود خور ملعون ہے

 ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ رضى الله عنه کابیان ہے کہ:” حضورصلى الله عليه وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے اور اس کی لکھا پڑھی کرنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا ( یہ سب گناہ میں ) برابر ہیں “۔ (مسلم)
تشریح : زیرنظر حدیث میں ایسے لوگوں پر لعنت بھیجی گئی ہے جو سودی کاروبار میں کسی حیثیت سے شریک ہوتے ہیں اور لعنت بھیجنے والے وہ شخص ہیں جو انسان تو کجاجانوروں اور چرند وپرند تک کے ليے رحمت بناکر بھیجے گيے تھے ۔ اور جنکے اخلاق کریمانہ کی گواہی خود خالق کائنات نے دی تھی کہ ” آپ اخلاق کے اعلی معیار پر فائز ہیں “ اس کے باوجود آپ نے ایسے لوگوں پر لعنت بھیجا ۔اس کا رازآخر کیا ہوسکتاہے ؟ 
 اسلام نے اپنا اقتصادی نظام ایک خاص عقیدے پر قائم کیا ہے کہ مال کا مالک اللہ تعالی ہے اور انسان کو اس پر وقتی ملکیت دی گئی ہے۔لہذا وہ اپنے مال میں سے سماج کے ان فقراء و مساکین کا بھی حق نکالے جو معاشی جدوجہد میں پیچھے رہ گےے ہیں، اسی لےے اسلام میں زکاة کی فرضیت عمل میں آئی اور صدقات وخیرات کی ترغیب دی گئی ، جس سے لوگوںمیں ہمدردی وغمخواری کے جذبات پروان چڑھتے ہیں اور معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بنا رہتا ہے ۔ جبکہ سود ‘ سود لینے والے کے اندر خود غرضی وانانیت پیدا کرتی ہے ، چنانچہ وہ اپنی ذات کے علاوہ کسی اور کی فکر نہیں کرتا، اسی طرح سود معاشرے کے افراد میں عداوت ودشمنی پیدا کرتا ہے، جس سے معاشرے میں فساد وبگاڑ جنم لیتا ہے جبکہ اسلام باہم میل محبت اور اتفاق واتحاد پیدا کرنا چاہتا ہے ۔
 اسی وجہ سے قرآن وحدیث میں سودکی اس قدر سخت مذمت بیان کی گئی ہے کہ جسے سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔چنانچہ اللہ اوراسکے رسول نے سود خورسے جنگ کا اعلان کيا ہے :
”اگر تم سودخوری سے باز نہيں آتے تواللہ اور اسکے رسول کی جانب سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے“۔
سودخور سود کی رقم استعمال کرکے گويا اپنی ماں سے زنا کا ارتکاب کرتا ہے۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمايا :
”سود کے تہتر دروازے ہيں ان کا سب سے ہلکا گناہ يہ ہے کہ جيسے کوئی آدمی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرے“ (حاکم)۔
اور مسند احمد کی روايت ميں اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے يہ بھی فرمايا :
 ”سود کا ايک درہم جسے ايک آدمی جانتے بوجھتے کھاتا ہے اللہ تعالی کے نزديک 36 زنا سے بھی بد تر ہے“ ۔
 حضرت ابو ہريرہ رضي الله عنه سے روايت ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا :
”معراج کی رات ميرا گزر ايک ايسی قوم کے پاس سے ہوا جن کے پيٹ گھرکی مانند تھے جس ميں سانپ بھرے تھے اور باہر سے نظر آرہے تھے ۔ ميں نے جبريل امين سے کہا : يہ کون لوگ ہيں ؟ تو جبريل نے جواب ديا : يہ سود خور لوگ ہيں“ ۔ (احمد اور ابن ماجہ )

خلاصہ یہ کہ سود ایک معاشرتی ، سماجی اور دینی جرم ہے جو نہایت خطر ناک ہے ، لوگوں میں عداوت ودشمنی کا سبب بنتاہے اور باہم تعاون وہمدردی کی روح کا خاتمہ کرتا ہے ۔اس لےے مسلمانوں کو چاہيے کہ وہ ایسے اداروں میں کام کرنے سے پرہیز کریں جو سودی کاروبار کرتے ہیں کیونکہ حدیث میں لعنت سودی کاروبار کے گواہ اور لکھنے والے پر بھی کی گئی ہے ۔
مکمل تحریر >>