پیر, نومبر 04, 2013

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا (دوسری قسط )

اسی اثناءمولانا عقیل احمد السلفی مدرسہ میں بحیثیت استاد داخل کئے گئے چناچہ ہم سب ان کے درس میں چلے آئے اس وقت تک ہمیں اردواملا نویسی کا اچھاخاصا تجربہ ہوگیا تھا، اس لیے عربی اورفارسی کی ابتدائی کتابیں شروع کیں اورپوری کتاب انہیں کی زیرنگرانی ختم کیا ، نیزدوسری کتابیں بھی پڑھیں ،اس وقت تک میں بہت بڑاہوگیا تھا استاد محترم صدرمدرس تھے ،انہوں نے میری عمر کی رعایت کی اور ایک درجہ اوپرکردیا،اب ہم سب عربی ادب کے ساتھ ساتھ میزان الصرف ،میزان النحو اور تاریخ کی کتابیں بھی پڑھ رہے تھے ۔
  اس وقت مدرسہ کا تعلیمی نظام بڑااچھا تھا اورمزید اسمیں جدت لانے کی کوشش ہورہی تھی اسلئے ایک کہنہ مشق اورتجربہ کار استاد محترم جناب مصطفے القاسمی مدرسہ میں بحال کئے گئے جو غالباً کٹیہار کے تھے ،انہیںصدر مدرس نامزد کیا گیاتھا،ان کا آناتھا کہ تعلیمی نظام میں چار چاند لگ گیا اور اساتذہ میں بھی جذبہ تدریس دوآتشہ ہوگیا،یوں توان کا قیام مدرسہ میں بہت کم ہی دنوںرہا تاہم اس قلیل عرصے میں ہمیں خاصی معلومات حاصل ہوئی ،ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بچوں سے بالکل بے تکلف ہوکر گفتگو کرتے تھے،انکی توجہ اور ذاتی لگن کا ثمرہ تھا کہ تعلیمی نشاطات میں سرگرمی آئی ،بچوں میں طلب علم کا سلیقہ آیا،انہوں نے صرف تعلیم پر ہی زورنہیں دیا بلکہ بچوں کی تربیت پر خاصا وقت لگایا ،قرآن کو بالتجو ید پڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی ،بچوں سے ہرروزنمازکی پابندی کراتے، ظہر اورعصر کی نمازباضابطہ باجماعت مدرسے میں ہواکرتی تھی جس میں بچوں کی شرکت ضروری تھی،اوردیگراوقات میں گھر پر نمازوں کی پابندی کی تلقین کرتے پھر کل ہوکر نمازمیں سستی برتنے والے بچوں کی سرزنش بھی کرتے تھے ۔
مولانا موصوف نے اپنی تادیبی بھٹی میں تپا کر ہم سبہوں کو نمازکا پابند بنادیا تھا، ہم سب میں نمازوں کی ادائیگی کا اچھا خاصاجذبہ پیدا ہوگیاتھا ،پہلے وقت میں وضو کرکے مسجد چلے جاتے تھے ،اور سنتیں پڑھ کر مسجد میں نماز کا انتظار کرتے رہتے تھے ۔
ایک واقعہ : مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک روز میں پہلی صف میں بڑے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کررہا تھا ،میری عمر اس وقت دس سال سے کم نہ رہی ہوگی ،ایک صاحب آئے اورمجھے کھینچ کر پیچھے کی طرف دھکیل دیا اوروہاں پر خود کھڑے ہوگئے ،انہوں نے ایسا غالبا علاقہ کی روایت کے مطابق کیاتھا اوراسے بہتر سمجھا تھاکہ بچوں کوبڑوں کے ساتھ کھڑا نہیں ہوناچاہیے ۔ لیکن میرے لیے یہ ایسا ماجرا تھا جسے میں شاید زندگی بھر بھول نہ سکوں ، اورمجھے ان صاحب سے دلی طور پر نفرت سی ہوگئی تھی،اس کے بعد میں کبھی بھی ان صاحب سے کھل کر نہ مل سکا کہ بچپن کی دشمنی جو دل میں بیٹھ گئی تھی ۔ اب وہ صاحب وفات پاچکے ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائے ۔
ایک لطیفہ : انہیں دنوں کا ایک واقعہ ہے جو اب تک ذہن میں تازہ ہے گویا آج ہی پیش آیا ہو،واقعہ کی تفصیل كچه یوں ہے: ہم سب بچے تھے ،طفلانہ ذہن تھا ،اوربزرگوں سے سن رکھا تھا کہ بروزقیامت جنتی لوگ اعضائے وضو کی سفیدی سے پہچانے جائیں گے، چنانچہ ایک تویہ شوق اوردوسرا رونمائی کا جذبہ(اللہ بچائے ایسی عادت سے) ہم نے اپنے ساتھیوں سے مقابلہ شروع کردیا کہ دیکھتے ہیں کس کی پیشانی پر نمازکانشان ظاہر ہوتا ہے ۔اس جذبہ نے سجدہ کی حالت میں ہمیں اپنی پیشانیوں کوفرش پر رگڑنے پر مجبور کردیا ، ہم لوگوں نے ریاکاری اور استاد محترم کودکھانے کی خاطر فرش پر اپنی پیشانی کوخو ب خوب رگڑایہاں تک کہ چہرے پر زخم کے نشانات بھی عیاں ہوگئے
   ایک روزاستادمحترم نے ایک لڑکے کے چہرے پریہ نشان دیکھ کر پوچھ دیا: ارے تم نے یہ کیا کر رکھا ہے ؟جی جی جی ........مولوی صاحب ! فلاں بھی ڑگررہا تھا اسلئے میں نے بھی ڑگر لیا ،اب کیاتھا .... مولانانے ہم سب کوبلایا اورسمجھایا کہ دیکھو ”نماز کے اندر ایسا عمل نہیں کرتے ،نماز اللہ کے لیے ادا کی جاتی ہے ،اس میں ریاکاری اوردکھلاوا نہیں ہونا چاہیے ۔ “ اس کے بعد سے ہم سب نے ایسی حرکت پھرکبھی نہیں کی ۔
استاذمحترم کی دوسری خوبی جو میں نے محسوس کی وہ بچوں کی نفسیات کا بہت خیال رکھتے تھے ، جب کبھی کسی طالب کو کاغذ قلم اورکتاب وغیرہ کی خریداری میں سستی کرتے پاتے تو فوراً اسے ڈانٹ نہیں پلاتے بلکہ بلاکر تنہائی میں ان کی معاشی حالت کی بابت دریافت کرتے، ایک روزہم سے بھی مولانانے ہماری نجی زندگی کے سلسلے میں پوچھا ،میں نے من وعن جوہماری حالت تھی استاد محترم کے گوش گزار کردی، میں نے اپنی اقتصادی بدحالی کاایک سبب ان کویہ بھی بتلایا کہ ہمارے دو بڑے بھائی ہیں لیکن دونوں معقول مشاہرہ پانے کے باوجود اپنے گھر سے بالکل بے خبر رہتے ہیں بلکہ منجھلے بھائی کااب تک تو پتہ ہی نہیں چلتا ،میں اپنے جذبات بیان کررہا تھا اور ادھر میرا چہرہ روہانسی بناجارہا تھا ،انہوں نے میری زبان سے نکلی ہوئی آہ کو میری دلی آہ تصور کیا اور بڑی شفقت بھرے لہجے میں سمجھایا :
    ”بیٹا شکستہ خاطر مت ہو ،تم یقین رکھو کہ اللہ سبحانہ تعالی ایک نہ ایک روز تمہاری مصیبت کودور کردیں گے اور آج جوتمہارے سروں پر قلاشی کے بادل منڈلارہے ہیں ان شاءاللہ ایک روزکافور ہوجائیں گے
   ایک روزمجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے پاس کاپی نہیں تھی اور شرم کی وجہ سے نانی جان سے بھی میں عرض نہ کیا تھا چنانچہ ہم مدرسہ گئے استاد محترم نے املاءلکھوانا شروع کیا ، میں اپنی جگہ برساکت وصامت بیٹھارہا، اچانک مولانا کی نظر میری طرف پڑی، پوچھا: ارے تم کیوں نہیں لکھ رہے ہو۔ میں اب بھی خاموش رہا ،میری پیشانی دیکھ کر تاڑ گئے کہ کوئی پریشانی اس کے ساتھ ضرور ہے ، فوراً وہاں سے اٹھے اورمجھے اپنے کمرے میں بلاکر لے گئے اورپوچھا ”بیٹا شرم مت کرنا، بتا تم کیو ں تم غم زدہ لگ رہے ہو ،میں نے اپنے درد کو چھپاتے ہوے ان سے کہا : مولانا بات دراصل یہ ہے کہ دکاندار کے ہاں کاپی نہیں ملی لہذا آپ کے خوف کی وجہ سے ہماری یہ حالت ہو رہی ہے اوردوسری کوئی بات نہیں ہے
 مولانا نے تسلی دیتے ہوئے کہا :کوئی بات نہیں بیٹھو کل خرید لينا، کل بھی ہوگیا لیکن میرے پاس پیسہ کہاں کا تھاکہ کاپی خریدتا؟کل صبح ہوتے ہی پھرمدرسہ حاضرہوا، اب مولانانے دوبارہ کل والی بات چھیڑدی ،مزید یہ کہ ساتھیوں کے بستوں میں کاپیو ں کاطومار دیکھا اورمیرابستہ کاپی سے بالکل خالی، میں اس دن شرم سے پانی پانی ہورہا تھا کہ اگر آج مولانا نے پوچھا تو انہیں کیا جواب دوں گا ،یہ سوچتے سوچتے میری آنکھیں بہہ پڑیں، مولانابوریہ پر ہلکے سے فاصلے میں بیٹھے تھے، وجہ دریافت کی، میں نے اب کی بار بالکل صحیح صحیح بتادیا، ہمیں روم میں لائے اوریہ کہتے ہوئے زبردستی پانچ روپیہ میرے حوالے کیا کہ جاؤ اس سے کاپی خرید لینا ،مجھے استادمحترم کے شدیداصرارپر اسے لینا پڑا۔
    گھر آکر نانی سے اس سلسلے میں کوئی بات نہ کی کیونکہ اگر وہ یہ سرگزشت سن لیتیں تولامحالہ رودیتیں چونکہ وہ ہم سبھوں پر پیسہ خرچ کرنے میں کوئی دریغ نہیں کرتی تھیں ، جب کوئی ضرورت پڑی قرض لے کر بھی اسکی تکمیل کردیتیں لیکن خود مجھے ہی پیسے مانگنے میں شرم محسوس ہوتی تھی۔خلاصہ یہ کہ مولانا خاص طور پر میرے لئے سرتاہا شفقت تھے لیکن صدحیف کہ وہ وہاں طویل عرصہ نہ رہ سکے اورانتظامیہ اوران کے بیچ کچھ آویزش ہونے کی وجہ سے تقریباًایک ڈیڑھ سال ہی میں ہم سبھوں کو داغ مفارقت دے گئے ،انکی جدائی کا اثر تو مجھ پر ذاتی طور پر بہت گہراپڑاکہ ایک اچھے استاذاورمربی کے سایہ سے محروم ہونا پڑا تھا ۔

    ان کے جانے کے بعد چونکہ ہمارا وہ آخری سال تھا اورمیں وہاں چوتھے سال میں قدم رکھا تھا یعنی جب سے میں نے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغازکیاتھااب تک چار سال مکمل ہونے کوتھے ،اس لئے کچھ دن کے لئے پھرمولاناعقیل احمدالسلفی کے زیردرس آگئے، رمضان کی آمدآمد تھی ،ہم ساتھیوں کے ذہن ودماغ میں جامعہ ابن تیمیہ چندنبارہ میں داخلہ لینے کی تمنائیں اٹھکھیلیاں لے رہی تھیں ، جب رمضان کے کچھ دن باقی رہ گئے تو استاد محترم نے ہم ساتھیوں کو وہاں کے لئے کچھ تیاری کرائی،فضیلتہ الشیخ ابوالقیس المدنی جواس وقت جامعہ ابن تیمیہ ہی میں تدریسی فرائض انجام دیتے تھے (اورآج بھی یہ سلسلہ جاری ہے )ان سے ملنے کی تاکید کی ،ہم تمام ساتھی ان سے ملے ،انہوں نے درخواست لکھ کرجمع کرنے کاحکم دیا، چنانچہ استادمحترم نے عربی کی پہلی جماعت میں داخلہ کے لئے ہم سب کی درخواست لکھ دی ، اسے لاکر ہم سبہوں نے مولاناابوالقیس مدنی کے حوالے کر دیا، ابھی دس رمضان گزرابھی نہ تھا کہ ہم سبھوں کامنظوری کارڈبھی آگیاجسے پڑھ کربڑی خوشی ہوئی۔مرورایام کے ساتھ بالآخروہ میعاد بھی آگیا جس کے ہم سب بصداستیاق چشم براہ تھے،میرے ابا جان مجھے سائیکل پر بٹھا کراپنے ضروریاتی سامان کے ساتھ مقررہ دن پر جامعہ ابن تیمیہ لے کر پہنچ گئے۔  (جاری ہے ) 

مکمل تحریر >>

اتوار, ستمبر 08, 2013

ذرا عمررفتہ کو آواز دینا (1)


 کوئی 1996کی بات ہے ، جب جامعہ امام ابن تیمیہ میں عربی کی ساتویں جماعت میں زیرتعلیم تھا ، اورغالباً ششماہی امتحان کی تعطیل تھی، ان دنوں مجھے لکھنے کا بہت شوق تھا، تاہم قلم میں پختگی نہ تھی (اورنہ اب تک آسکی ہے) ایک روز خیال آیا کہ کیوں نا اپنی زندگی کے نشیب وفراز کو قلمبند کروں تاکہ لکھنے کا مشق ہوسکے، چنانچہ ایک پرانی ڈائری جسے بڑے بھائی نے مجھے ہدیہ کیا تھا اسے سیاہ کرنے لگا، چند دنوں یہ سلسلہ جاری رہا پھرٹوٹ گیا، یہاں تک کہ جامعہ امام ابن تیمیہ سے فراغت کے بعد اور مدینہ یونیورسٹی جانے سے قبل چند مہینوں گھر پر رہنے کا اتفاق ہوا تو کبھی کبھی کچھ لکھ دیا ، مقصد اس کے علاوہ اورکچھ نہیں تھا کہ لکھنے کا سلیقہ آجائے ۔ ڈائری گھر میں پڑی رہی، ایک طویل عرصہ کے بعد گذشتہ سال سالانہ تعطیل کے موقع سے گھر جانے کا اتفا ق ہوا اور کسی ضرورت سے پرانے اوراق الٹ رہا تھا کہ اسی میں ڈائری مل گئی ، اپنے ہمراہ کویت لے آیا، جب ڈائری پر سرسری نظر ڈالا تو پرانی یادیں تازہ ہونے لگیں ، اہلیہ نے اپنے شوق سے ڈائری کو ان پیج میں منتقل کردیا، تب خیال آیا کہ الکٹرونک میڈیا کی ڈائری "بلوگ" پر کیوں نا اسے پوسٹ کردیا جائے تاکہ مادہ بھی محفوظ رہے اور میری لا ابالی زندگی میں آوارہ قسم کے طالب علموں کو پیغام بھی مل جائے کہ اک انسان مثبت اورمنفی دونوں رویے سے سیکھتا ہے ، تولیجئے پیش خدمت ہے ڈائری کی پہلی قسط


بچپن کازمانہ واقعی سرمستی اور بے کیفی کازمانہ ہوتا ہے۔ ہرچیز سے بے فکر اور ہر معاملہ سے لا پرواہ۔ نہ سود کی لالچ نہ زیاں کا خوف ، نہ مصیبت کا احساس نہ غم کا سوگ ، نہ اپنوں کا خیال نہ بے گانوں کا دھیان غرضیکہ ہر سود و زیاں سے بے پرواہ ہوکر ایک بچہ اپنی حیات وزیست کی نیا کو رواں دواں رکھتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے کہ ماں کی گود ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ،ےہاں اگر اسے اچھے ڈگر پر کھڑا کیاگیا اور اس کے ذہن وفکر میں اخلاق حسنہ کا رس گھول گھول کر پلایا گیا تو وہ آگے چل کر ہر جگہ کامیاب اورکامران رہے گا۔ اس کے برعکس اگر اسے یہیں پر خود سری کی تعلیم دی گئی اور اس کی تربیت خاطرخواہ طریقے سے نہ کی گئی تو آگے چل کر اس کی پوری زندگی بھی ناتراشیدہ ہوگی، اوربے مہارزندگی گذارنے کا وہ عادی ہو چکا ہوگا ،کیوں کہ
خشت اول چوں نہد معمار کج     تا ثریا می رود دیوار کج
یہ بندہ بھی انہیں تلخ حقائق سے دوچار ہوا ،چونکہ بچپنے کی زندگی غیروں کے سایے میں گزری اور ماں کی ممتا سے محروم رہا ، ہوا یوں کہ راقم السطور کی پیدائش کے سال ہی ماں ماوف العقل ہوگئی (جس میں میرے دادھیالی رشتے داروں کی کارستانی تھی ورنہ والدہ کی ذہانت کی لوگ قسمیں کھاتے تھے،پڑوس کی کتنی خواتین کوآپ نے قرآن پڑھنا سکھایاتھا، اب تک والدہ بچپن میں یادکی ہوئی اسلامی نظمیں بڑے شوق سے پڑھتی ہیں،اللہ انہیں صحتیاب رکھے اوران کی عمردراز فرمائے آمين) اب ایسی نازک حالت میں انہیں کیا پڑی تھی کہ میرا بچہ کہا ں ہے تاہم بھائی بہنوں اور نانا نانی (یغفر اللہ لھما وجعل الجنة مثواھما) کی جانثاری وقربانی کی بدولت اچھے ڈھنگ سے تربیت ہوئی۔نانا جان کو شعورکی حالت میں دیکھنے کا موقع نہ مل سکا تاہم نانی جان کے ظل عاطفت میں رہنے کا بہت موقع ملا، نانی جان ‘ والدہ صاحبہ اوربھائیوں بہنوں کا بہت خیال کرتی تھی ، زندگی کا قافلہ جادہ پیما ں رہا، جب سن شعور کو پہنچا اور رطب ویابس میں تمیز کرنے کے قابل ہوا تو بڑے بھائی کی تربیت بھی نصیب ہوئی ، اس وقت وہ مدرسہ مدنی بسہیا شیخ میں زیر تعلیم تھے۔ چونکہ ہم سب ابھی بچے تھے ، جس کے باعث مجھے مدرسہ لے کر تونہیں جاتے تھے البتہ مجھے یاد آتا ہے کہ گھر پر ہی بھائی جان اپنی نگرانی میں پڑھایا کرتے تھے اور ہم سب خوب چلا چلا کر الف با کی رٹ لگا تے تھے۔ لیکن ہم جس ماحول میں پرورش پا رہے تھے وہ تھا نہایت کندہ ناتراش ، جہالت کا آئینہ دار، اورگنوار بچوں سے اٹا ہوا سماج ، جہاں دیکھیں وہاں عورتیں بکواس میں لگی ہوئی ہیں، جہاں جائیں وہاں بچے گالم گلوچ کر رہے ہیں ، ہر جگہ شتر بے مہار کی طرح بھٹکتے پھر رہے ہیں ، اور ایک بچہ پر ماحول کا خاصا اثر پڑتا ہے، اس وجہ سے مجھے بھی ان بچوں کی صحبت سے یارا نہ رہا اور بھائی جان کی عقابی نگا ہ کے باوجود ہم نے پڑھائی سے بالکل کناہ کشی اختیار کرلی۔ اور انہیں شرارت پسند بچوں کی صحبت میں پورا دن گزار دیا کرتاتھا ، بھائی جان میری شرست دیکھ کر آگ بگولا ہوجایا کرتے اور فوراً ڈانٹ پلاتے ، گاہے بگاہے گوشمالی بھی کرتے تھے ، لیکن بچہ بچپن میں ہر طرح کی فکر سے بے نیاز ہوتا ہے ، اس لیے مجھے کیاپڑی تھی بھائی جان کی سزا کی ، بس ایک ڈنڈا کھا لیا اور وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے

جب کان پکڑ کر کسرت کر وایا گیا :
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے جو اب تک ذہن میں پیوست ہے کہ مدرسہ نہ جانے کے جرم میں بھائی جان نے کان پکڑکر کسرت کروایا تھا اور دائیں ہاتھ پر تھوک کر اسے چاٹنے پر مجبور کیا تھا تاہم میری طبیعت گوارہ نہ کی بالآخر انہوں نے معاف کر دیا۔ اس وقت مجھے احساس توضرور ہوا اور سبکی بھی ہوئی لیکن سر پر چونکہ خودسری کا عفریت سوار تھا اس لیے دوڑا دوڑا فوراً  گھر آیا اور ٹسوے بہاتا اماں کو شکایت کردی ،اب اماں کو اتنا سننا تھا کہ چراغ پا ہوگئیں اور لگیں بھائی جا ن کو کڑوی کسیلی سنانے۔ اس وقت دل ہی دل خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا کہ چلئے ہم نے بدلہ چکا لیا
لیکن اب جب کہ بھائی جان نے ماں کی جلی کٹی سن لی تھیں تواب انہیں کیا سروکار تھا مجھ سے، شاید اسی روزانہوں نے کان پکڑکر توبہ کر لیا تھاکہ اب ہم اسے بالکل نہ چھیڑیں گے ،،اورہوابھی ایسا ہی اس کے بعد سے وہ ہم سے کوئی تعرض نہیں کرتے تھے، اب ہمیں کھیلنے کودنے کاخوب خوب موقع ملا، صرف بیکاراورشریر بچوں کی صحبت میں رہتا، اورادھر ادھر بھٹکتا رہتا ،کبھی اس کوگالی دیا توکبھی اس کو دوچار سنایا، بس ہمارا یہی کام رہ گیا تھا ،اس طرح کرتے کرتے زندگی کا اچھا خاصا وقت گزرگیا اورہم نے اب تک عقل کے ناخن نہیں لیا، اوریوںہی شریر بچوں کی صحبت میں مستی کے ساتھ اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کرتا رہا۔

امید کی کرن !
ادھر میں مستقبل کی فکر سے بے پرواہ اپنی ہنستی کھیلتی زندگی کے سنہرے ایام کولاشعوری میں مقتل بنانے میں کوشاں تھا اورادھر قدرت کی دور بیں نگاہیں کچھ دوسرا ہی تماشہ دکھانا چاہتی تھیں ،چنانچہ مایوسیوں کی اندوہناک تاریکی میں امید کی روشن کرن طلوع ہوئی اورقدرت نے ایک فرشتہ صفت انسان کو میری بہی خواہی کے لئے ایستادہ کیا جس نے ہمدردی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے بڑی شفقت سے مجھے لاکر اپنے علاقے کی معروف ومشہور اورتاریخی بستی اموامدینة الشیخ کی ایک علمی درسگاہ میں ماہر اساتذہ کے ظل عاطفت میں کردیا ،لیکن چونکہ وہ مدرسہ مکتب کی شکل کا تھا اوراس میں رہائش کا معقول انتطام نہیں تھا اس لئے ہم نانی کے ہاں رہتے اورصبح شام مدرسہ آکراپنے مشفق اساتذہ کرام کے خوان علم سے خوشہ چینی کرتے ، شروع میں ہمیں جن اساتذہ سے مستفید ہونے کا زریں موقع ملاان میں سرفہرست جناب مولانا غفاراحمد ، جناب مولانا بشیر احمد ،جناب مولانا حیات اللہ السلفی، جناب ماسٹرعباس صاحب ،مولانا عقیل احمد السلفی حفظھم اللہ قابل ذکر ہیں ان میں موخر الذکر کا تو میری تربیت اورمیرے نوک وپلک کو سدھارنے میں کلیدی رول رہا ہے جن کے احسان کا بدلہ چکانے سے بہر حال میں قاصر ہوں ،جب مدرسہ ربانیہ میں میرا داخلہ ہوا تو اس وقت میں پڑھنے میں سب سے پیچھے اورعمر میں سب سے بڑا تھا، اس لئے بچوں کی جو سب سے ابتدائی کتاب ، الف با ہوتی ہے جو ”بغدادی شریف “کے نام سے مشہور ہے اس کو چھوڑ کر میں نے ”یسرنالقران “ ہی سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا ،میرے بڑاپن کے سبب اساتذہ بھی میرا خیال کرتے تھے ۔

 ایک مضحکہ خیز معاملہ اورسلسلہ تعلیم کا انقطاع :
یوں تو ہمیں خود اپنے بڑاپن کا احساس تھا جس کی وجہ کر توجہ اور محنت سے اپنا سبق یاد کرلیاکرتا لیکن ساتھیوں کی صحبت میں تعلیم کے دوران کچھ گفتگو بھی کرلیا کرتا چنانچہ ایک مرتبہ ایسا ہی ہوا، ہم لوگ خمیدہ سر گفتگو میں محو تھے کہ حافظ ریاض صاحب کی نظرہم سبہوں پر پڑگئی ،فورا ڈنڈا ہاتھ میں لئے آئے اور دو تین ڈنڈا زور زورسے دے مارا جس سے میں ماہی بے آب کی طرح تڑپتا رہ گیا ،لیکن ہماری کیا جرأت تھی ان کے سامنے اپنی بے قصوری واضح کرنے کی کہ ان کا رعب بچوں کے ذہن ودماغ پر اس طرح طاری تھا کہ کوئی اف بھی نہ کرسکتا تھا البتہ بچپن کی شرارت کہیے کہ ان کی عدم موجودگی میں انکے خلاف میری زبان سے کچھ برے کلمات نکل پڑے (اس غلطی کا مجھے آج تک احساس ہے ) ہمارے ساتھیو ں میں ایک شریر لڑکا تھا جس نے قسم دلائی کہ اللہ کی قسم! میں حافظ صاحب کو اس کی شکایت کرکے رہوں گا،اب ہمارے دل میں جو خوف سمایا وہ نہایت ہی پریشان کن اور سیماب دش ثابت ہوا نتیجتا چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی بوریا بستر لئے نانی کے گھر جانے کی بجائے اپنے گھر بھاگ آیا ،اس کے بعد میرے ذہن میں خلجانی کیفیت طاری ہوئی اورپڑھائی سے ہمارا دھیان جاتا رہا ،اور پھروہی رفتار ے بے ڈھنگی جوپہلے تھی وہ اب بھی ہے کاسماں طاری ہوگیا ۔

ماموں کی بسہیاآمد:
لیکن چونکہ ہمارے ماموں کے دل میں ہم لوگوں کے تئیں ہمدردی کاجذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اوروہ ہم لوگوں کوضائع ہونے دینا نہیں چاہتے تھے اس وجہ سے وہ پھر دوبارہ ہمیں اموا لے جانے کے لیے بسہیا تشریف لائے ، اور وہاں لے جانے کے لیے اصرار کیا ، شفقت بھرے لہجے میں سمجھایا، لیکن میں تھاکہ ماننے کو تیار نہیں ، پھربھی ماموں کے شدید اصرار پر بادل نخواستہ تیار ہوا، اور دوبارہ مدرسہ ربانیہ میں آکر علم کی بکھری ہوئی موتیوں کو چشم خانہ سے چننے لگا۔اب جبکہ مجھے ہر طرح سے لاچار ہونا پڑا تھا اور ہر ڈگرپر میری گرفت کی گئی تھی،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے اندر خود بخودپڑھنے کاجذ بہ کروٹیں لینے لگااور میری طبیعت کا رجحان تعلیم کی طرف حد سے زیادہ ہوگیا، اس کے بعد سے نہ مجھے کسی نے پڑھنے کی تاکید کی، نہ کبھی اس کی طرف دھیان دلایا ، بس اپنے تئیں میں ہمیشہ کتابوں کاکیڑا بنا رہا ،صبح سات بجے سے چار بجے تک تو مدرسہ ہی میں گزراوقات کرتا ،پھرچھٹی ہونے پر گھرآکر قلم کاپی لے کر بیٹھ جاتا جس کے لئے نانی گاہے بگاہے فہمائش بھی کرتیں ، لیکن میں اپنے معمول سے باز نہ آتا،  البتہ بخودخود طبیعت میں اکتاہٹ محسوس ہوتی تو کہیں ٹہلنے نکل جایاکرتاتھا۔
  مزید برآں رات میں بھی ماموں جان کی نگرانی میں ہم سب تھوری دیر پڑھاکرتے تھے ، اور جیسا کہ میں نے پہلے ہی عرض کیا ہے کہ مجھے اپنے بڑاپن کا بے حد احساس تھا اسلئے اساتذہ بھی میری خاص رعایت کرتے تھے چناچہ اساتذہ کرام کی توجہ ولگن اور محبت وشفقت نے میری زندگی کے لیے مہمیزکاکام کیا اوربہت کم ہی دنوں میں ناظرہ قرآن مجید سے فراغت حاصل کرلی، اس کے بعد اردو کی ابتدائی کتاب مولوی غفاراحمدصاحب رحمه الله کے پاس پڑھی، ابھی ہم سب انہیں کے درس میں تھے کہ مولانا حیات اللہ السلفی کی بحالی عمل میں آئی چناچہ ہم سب اب انہیں کی تحویل میں کردیئے گئے ،ان کی مشفقانہ تربیت نے ہم سب میں پڑھنے کا شعور پیدا کیا ، اب ہم سب اردو ہندی انگریزی اورفارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھ رہے تھے ۔ 
  چونکہ مولانا موصوف تعلیمی نظام میں سدھار لانا چاہتے تھے اسلئے انہوں نے تعلیم میں جدت لانے کے لیے درجات کے حساب سے تعلیم کو جاری کیا ،مزید یہ کہ شب میں مسجد کے اندر پڑھانے کامنظم بندوبست کیا، جسمیں گزشتہ اسباق کا اعادہ اوردعاخوانی ہواکرتی تھی ، اس کی نگرانی دوتین اساتذہ کرتے تھے ان میں سرفہرست مولانا حیات اللہ السلفی ، اور مولوی بشیرصاحب ہوتے تھے، لیکن موخر الذکرکسی مدرسہ کے فارغ التحصیل اور سند یافتہ نہیں تھے اسلئے ان میں پھر پڑھنے کا جذبہ بیدار ہوا تاہم عمرزیادہ ہونے کی وجہ سے کسی مدرسہ میں داخلہ لینے سے توقاصر رہے البتہ خوشخط اچھی تھی، اس لیے پٹنہ کتابت سیکھنے چلے گئے ،ان کی جگہ ان کے والد کی بحالی عمل میں آئی جوگورنمنٹ رٹائرڈ ماسٹر تھے، تدریسی میدان میں خاصا تجربہ رکھتے تھے اور بچوں کے دلوں کو اپیل کرنے کا انداز نہایت اچھا تھا،جب وہ ہم سب کو اردو املا کراتے تو گاہے بگاہے معمولی پیسے کاانعام بھی رکھتے تھے،اللہ کی شان کہ ہر بار میں ہی بازی لے جاتا ۔ایک مرتبہ انہوں نے ایک لفظ ”جھنجھپٹ جھنجھال پور“ بولا اورصحیح لکھنے پر دس روپیہ کا انعام رکھا ، سارے ساتھیوں نے بصدشوق لکھنا شروع کیا لیکن سب میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور نکلا، تاہم میرا لکھاہوا صحیح نکلا بالآخرمیں نے انعام حاصل کر لیا ،ان سے میری مراد استادمحترم عین الحق صاحب ہیں،(پتہ نہیں ابھی باحیات ہیں یااللہ کوپیارے ہوگئے ،اگرباحیات ہوں گے تو اللہ ان کوصحت وتندرستی سے نوازے اور زندگی دراز کرے اوراگر وفات پاچکے ہوں گے تو اللہ ان کی قبر کو نورسے بھر دے اورجنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔آمين) استاد محترم کی یہ خوبی کہیں یا خامی کہ وہ اچھے بچوں کی ذہانت کی تعریف ان کے سامنے نہیں کرتے تھے ، خود ناچیزکے تیئں اپنے دل میں حسن ظن رکھنے کے باوجود زبان پر کبھی تعریفی کلمات نہیں لاتے اورہمیشہ کوستے ہی رہتے لیکن دوسروں کے سامنے ان کا ریویو اس کے بالکل برعکس رہا ،اس موقع سے غالب کا وہ شعر ذہن میں آرہا ہے :     
دوسروں کے سامنے میری ذہانت کا بیاں      اور میرے سامنے میری شکایت ہائے ہائے
بہر حال انکے زیر شفقت بالخصوص ہم نے بہت کچھ حاصل کیا لیکن وہ معمر ہونے کی وجہ سے تادیر نہ رہ سکے اورتقریبا دوسال میں ہم سب کو داغ مفارقت دے گئے ۔  
                                                  ( جارى )  
مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 14, 2011

ميرے بارے میں


میری ابتدائی تعلیم علاقے کے مکتب مدرسہ ربانیہ اموامدینة الشیخ میں ہوئی ،وہاں سے بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد علامہ ڈاکٹرمحمد لقمان سلفی حفظہ اللہ کے قائم کردہ ہندوستان کے معروف ادارہ جامعہ امام ابن تیمیہ مدینة السلام چندنبارہ مشرقی چمپارن میں مسلسل آٹھ سال تک تعلیم حاصل کیا ، وہاں سے فراغت کے بعد چھ ماہ تک مدرسہ احمدیہ آرہ میں تدریسی خدمت انجام دیا، اور چھ ماہ مادرعلمی جامعہ ابن تیمیہ میں بھی بحیثیت مدرس رہا،اسی اثناءجامعة الامام البخاری کشن گنج میں مدنیہ يونيورسٹى کے زیراہتمام ہندوستانی مدارس کے فارغین کے ليے منعقدہ ٹریننگ کورس میں حصہ لیا ،جس میں اچھے نمبرات حاصل کرنے کی بنیاد پر مدینہ یونیورسٹی میں اعلی تعلیم کے ليےمنظوری مل گئی ۔ چنانچہ مدینہ یونیورسٹی كےشریعہ فيكلٹى سے چارسالہ کورس کیا۔ پھر 2003 کے اواخر میں کویت کے معروف دعوتی ادارہ لجنة التعریف بالاسلام میں بحیثیت داعی کام کرنے لگا، جوسلسلہ تا ہنوز جاری ہے ۔ یہاں کی ذمہ داریاں کچھ اس طرح ہیں 
(۱) غیرمسلموں میں دعوت 
(۲) نومسلموں کی تربیت 
(۳) اسلامی کتابیں ،کیسٹس اور ویڈیوزتیارکرنا 
(۴) ماہنامہ ”مصباح“ کی ادارت 
(۵) ”ہندودھرم کا تعارف ،عقائد ، اور اسلوب دعوت “ پر کتاب کی تالیف 
(۶) ریڈیوکویت پر ہفتہ وار 50 منٹ کا دینی پروگرام
 (۷) ہندی،اردو،اور عربی بلوگز لكهنا ۔
اللہ تعالی ہم سب سے اخلاص كے ساته اپنے دین کا کام لیتا رہے ، اور حسن خاتمہ سے نوازے آمین یا رب العالمین

مکمل تحریر >>