بدھ, اپریل 10, 2019

چاند اورسورج گرہن کی نماز کیا ہے اور کیسے پڑھی جاتی ہے؟



چاند اورسورج گرہن کی نماز کیا ہے اور کیسے پڑھی جاتی ہے؟
جواب
سورج گرہن کو کسوف الشمس کہتے ہیں اور چاند گرہن کو خسوف القمر کہتے ہیں، اور دونوں ایک ہی نماز ہے، چاند یا سورج کا گرہن اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالی بندوں کو ڈراتا ہے، اور یہ لوگوں پر اللہ کے عذاب کے نازل ہونے کا سبب بن سکتا ہے، ایسے حالات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے كہ فاذا رایتم منھا شیئا فصلوا وادعواللہ حتی یکشفها بكم "جب تم ایسا ہوتے ہوئے دیکھو تو اُس وقت تک نماز اداکرواور اللہ تعالی سے دعا کرتے رہو جب تک کہ گرہن ختم نہ ہوجائے" ۔
چاند اورسورج گرہن کی نماز کا طریقہ بخاری اورمسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوگیا توآپ مسجد میں تشریف لائے، لوگوں نےآپ کے پیچھے صفیں بنائیں، آپ نے تکبیرکہی اورلمبی قراءت کی، پھر اللہ اکبر کہا اورلمبارکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے، اورسجدہ نہ کیا بلکہ قراءت شروع کی جو پہلی رکعت کی بنسبت کچھ کم تھی، پھر تکبیر کہی اورلمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع کی نسبت چھوٹا تھا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہا، پھر سجدہ کیا پھر دوسری رکعت بھی اُسی طرح ادا کی، آپ نے دو رکعتوں والی نماز چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ مکمل کی، نماز سے فارغ ہونے تک سورج صاف ہوچکا تھا۔
یہ ہے چاند یا سورج گرہن کی نمازکا طریقہ جو جماعت سے دو رکعت ادا کی جائے گی لیکن ہر رکعت میں ضرورت کے مطابق دو یا تین رکوع اور اسی طرح قراءت ہوگی، اس کے بعد سجدہ کیا جائے گا۔ چاند یا سور ج گرہن کی نماز ادا کرلینے کے بعد امام کو چاہیے کہ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرے، ان کی غفلت اورلاپرواہی پر تنبیہ کرے اوردعا واستغفار کا حکم دے۔

مکمل تحریر >>

کیا اچانک موت سے پناہ مانگنا چاہیے؟


کیا یہ صحیح ہے کہ ایک بندے کو ہمیشہ اللہ کی جناب میں اچانک موت سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے؟
جواب: اچانک موت اللہ کی تقدیر سے ہوتی ہے، یہ کوئی برے خاتمہ کی پہچان نہیں اور نہ حسن خاتمہ کی علامت ہے، اگر اچانک موت واقع ہوئی اور بندہ نیک تھا تو اس کے لیے خیر کی امید کی جانی چاہیے اور اگر کوئی بندہ برا تھا اور اس کی اچانک موت ہوئی ہے تو گویا اللہ نے اسے توبہ کی توفیق دئیے بغیر دنیا سے اٹھا لیا۔
اچانک موت قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس حوالے سے بعض آثار وارد ہیں جن کو امام البانی نے " السلسلة الصحيحة (5/370) میں حسن قرار دیا ہے۔
البتہ اچانک موت سے پناہ مانگنے کی حوالے سے اللہ کے رسول ﷺ سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے۔ ہاں! ایک بندہ کو چاہیے کہ اللہ کے رسول ﷺ جیسے دعا کرتے تھے ویسے دعا کرتا رہے، اور آپ ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے:
 اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ (مسلم: 2739 (
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، تیری نعمت کے زوال ( چھن جانے سے)، تیری دی ہوئی عافیت کے ختم ہو جانے سے، تیرے اچانک انتقام سے، اور تیری ہر طرح کی ناراضگی سے۔

مکمل تحریر >>

جمعرات, جنوری 02, 2014

جمعہ کے دن کا جمعہ نام کیسے پڑا ؟

سوال: 

جمعہ کے دن کا جمعہ نام کیسے پڑا   اور جمعہ کے دن کی اہمیت کیا ہے ؟  (ایوب پٹیل -  فروانیہ)

جواب: 

جمعہ کا نام جمعہ کیسے پڑا،  اس سلسلے میں متعدداقوال ہیں ۔جمعہ کے لغوی معنی اکٹھا ہونے کے ہیں ،بعض کہتے ہیں کہ چونکہ زمانہ جاہلیت میں جمعہ کے دن کو عروبہ کہتے تھے ۔جب جمعہ کی فرضیت ہوئی اور صحابہ کرام نماز جمعہ کے لیے اکٹھا ہوئے تو لوگوں نے  اس  دن کو جمعہ کے نام سے موسوم کردیا ۔ بعض کہتے ہیں کہ جمعہ کو جمعہ اس لیے کہتے ہیں کہ لوگ اس دن نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں ۔
اسلام میں جمعہ کے دن کی بہت فضیلت ہے ۔اور جمعہ عیدیں سے بھی افضل ہے ۔ اللہ کے رسول نے فرمایا : خیریوم طلعت فیہ الشمس یوم الجمعة  "سب سے بہتر دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں بتایا گیا ہے:
" جمعہ کا دن سارے دنوں کا  سردار اور اللہ کے نزدیک عظیم دن ہے ۔یہ دن اللہ کے نزدیک عیداور بقرہ عید کے دن سے بھی افضل ہے ۔اس میں پانچ خصلتیں پائی جاتی ہیں ،اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے ، اسی دن زمین پر اتارے گئے ،اسی دن آدم علیہ السلام وفات پائے ، اور اس دن ایک ایسی ساعت ہے جس میں ایک آدمی حرام کے علاوہ جو کچھ مانگتا ہے اللہ پاک اسے عطا کرتے ہیں ۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی ....حدیث کے اخیر میں ہے:
ما من ملک مقرب و لا أرض ولا ریاح و لا بحر و لا شجر ، إلا وھن یشفقن من یوم الجمعة
 " جمعہ کے دن کی ہیبت سے مقرب فرشتے، زمین ، ہوائیں ،سمندر ، پہاڑ، اور درخت سب کے سب کانپتے ہیں" ۔ 
(علامہ البانى رحمہ الله نے اسے صحيح الترغيب 695، صحيح سنن ابن ماجہ اور  صحيح الجامع 4043، میں  حسن قرار  ديا  تها پهر  رجوع  كرليا  اور "السلسلة الضعيفة" نمبر 3726 اور  ضعيف الترغيب 424 میں اسے ضعيف قرار ديا  ہے ۔)
مکمل تحریر >>

رضاعی بھائی بہن کی آپس میں شادی حرام ہے

 سوال:

 ایک لڑکا اور لڑکی نے كسى عورت کا دودھ پیا ہے ،کیا  وہ  دونوں  اب آپس میں شادی کے رشتے سے منسلک ہوسکتے ہیں جبکہ  عورت دونوں کی حقیقی ماں نہیں ہے ۔ (وقاص- كويت )

جواب :

حرمت جس طرح نسب اور مصاہرت سے  ثابت ہوتی ہے، اسی طرح رضاعت (دود ھ پینے ) سے بھی ثابت ہوتی ہے ، چونکہ دونوں  نے ایک ہی عورت کا دودھ پیا ہے اس ليے دونوں رضاعی بھائی بہن ثابت ہوئے اور اللہ تعالی نے محرمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: 
 وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ  ( سورة النساء 23)
 یعنی دودھ شریک بہنیں تم پر حرام ہیں یعنی ان سے شادی نہیں کرسکتے ۔ اور پیارے نبی نے فرمایا
يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة (بخارى ومسلم)  
جو حرمت نسب سے ثابت ہوتی ہے وہی رضاعت سے بھی ثابت ہوتی ہے ۔ لہذا دونوں کی آپس میں قطعاً شادی نہیں ہوسکتی ۔ 
مکمل تحریر >>

بدھ, جنوری 01, 2014

فوت شدگان كى طرف سے فاتحہ یا چالیسواں ،یا دسواں یا ساتواں كر نے كا كيا حكم ہے؟

سوال: 

فوت شدگان كى طرف سے  فاتحہ یا چالیسواں ،یا دسواں یا ساتواں كر نے كا كيا حكم ہے؟

 جواب:

اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں آپ کے کتنے عزیز کی وفات ہوئی، آپ کی ہردلعزیز بیوی خدیجہ رضى الله عنها بھی فوت پائیں ۔ لیکن آپ نے ان کا فاتحہ یا چالیسواں ،یا دسواں یا ساتواں نہیں کیا ۔ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے زندگی کے سارے شعبے میں ہماری رہنمائی کردی ۔لیکن اِس سلسلے میں ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے ۔ اب بتائیں کہ کیا یہ چیزیں اِتنی بڑی تھیں کہ قرآن وحدیث میں نہیں آسکتی تھیں ؟ اس لیے اصولی بات یہی ہے کہ 
من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد (متفق عليه)
 " جس نے میری شریعت میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے" ۔ یہ بخاری ومسلم کی روایت ہے اور صحیح مسلم میں یوں ہے: 
من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھو رد (رواه مسلم)
"جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہماری شریعت کے مطابق نہیں وہ مردود ہے" ۔ اس لیے ہمیں وہی کرنا چاہیے جو پیارے نبی صلى الله عليه وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے کیا ہے
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ  يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَاللَّـهَ كَثِيرًا  ( الأحزاب: 21)  
" در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے ."
مکمل تحریر >>

میرے والد مجھ سے زیادہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں

سوال:  

میری تنخواہ  کم  ہے لیکن میرے والد مجھ سے زیادہ  رقم  کا مطالبہ کرتے ہیں ،میں کیا  کروں؟  (تبریز احمد اعظمی)

جواب:  

ماں باپ کا ہم پر بہت بڑا حق ہے ،اللہ کے نبی نے ایک شخص سے تو یہاں تک کہا تھا کہ:
 أنت ومالک لأبیک (رواه ابن ماجه واحمد )
 "تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کاہے "۔ لیکن یہ اس بات سے مانع نہیں کہ آپ جو کچھ کمارہے ہیں اس میں سے کچھ اپنے پاس بھی رکھیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کی ضروریا ت کا بھی خیال کریں ۔ آپ یہاں کیسی پریشانیاں جھیل کر کمارہے ہیں والدصاحب کو اس  کا  احساس دلائیں اور پیار  سے ان کو سمجھائیں ،کبھی کبھی غلط فہمیاں ہوتی ہیں ،جب دورہوجائیں گی تو زیادہ پیسے کا مطالبہ نہ کریں گے ،لیکن ہرحالت میں ان کے جذبات کا خیال کریں ، ان کا دل نہ ٹوٹنے پائے ۔ 
مکمل تحریر >>

جمعرات, دسمبر 26, 2013

ایک غیرمسلم کی چند غلط فہمیوں کا ازالہ

سوال:

زمین پر سب سے پہلے کون سا دھرم تھا ؟ ايک بچہ كس دھرم پر پیدا ہوتاہے ؟  عیسی علیہ السلام اور محمد  صلىالله عليہ وسلم  دونوں ایک ہی دھرم کے رسول ہیں تو پھر الگ الگ کیوں ہوئے ؟مسلمان کے لیے جمعہ کی نماز اہم کیوں ہے ؟ غیرمسلم مکہ اور مدینہ میں کیوں نہیں داخل ہوسکتا ؟  اگر میں مسلمان ہوجاؤں،قرآن پڑھنے کی خواہش ہواور عربی نہ آتی ہو تو کیا قرآن ہندی زبان میں دستیاب ہے ؟  (دشینت سینگ)

جواب :

سب سے پہلے ہم آپ کے نیک جذبات کی قدر کرتے ہیں کہ آپ کے ذہن میں جو سوالات تھے انہیں آپ نے ہمارے سامنے رکھا ،تاکہ ان کا ازالہ ہوسکے ۔ اس کے لیے ہم آپ کو  THANKSکہتے ہیں ۔ آپ کے سوالات کئی حصوں پر مشتمل ہیں ۔تو آئیے ایک ایک کرکے ہم ان کے جوابات ديتے ہیں ۔امید کہ ہماری باتوں پر دھیان دیں گے ۔

آپ کہتے ہیں کہ زمین پر سب سے پہلا دھرم کونسا ہے ؟

اس نکتہ کو جاننے سے پہلے ذرا پیچھے ہٹ کر غور کرلیں کہ اِس دنیا کو بنانے والا کون ہے ؟اس نے اس دنیا کو کیوں بنایا ؟ اور کیا بنانے کے بعد انسان کو آزاد چھوڑدیا کہ جیسے چاہے جیون بتائے ؟ یہ سب باتیں جب ذہن میں آجائیں گی تو فورا ً  آپ کو سمجھ میں آجائے گا کہ اس دھرتی پر سب سے پہلا دھرم کونسا ہے ؟
 ہم اور آپ اللہ ، گوڈ اور بھگوان ضرور کہتے ہیں پر بہت کم لوگ ہیں جو اسے پہچانتے بھی ہیں ۔ ہم اسے نہ پہچاننے کے کارن ہی الگ الگ دھرموں میں بٹے ہوئے ہیں، قرآن جو فائنل اتھارٹی ہے ،اللہ کا کلام ہے،جو آج تک بالکل محفوظ ہے،اس میں" الاخلاص" نام کی ایک سورہ میں اللہ کا تعارف یوں کرایا گیا ہے :
قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احدا
 اس چھوٹی سی سورہ میں اللہ کے موٹے موٹے پانچ گون بتائے گئے ہیں (۱) سب سے پہلے وہ ایک ہے یعنی اکیلاہے ۔ دوسرا: اس کو کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی، تیسرا : وہ کسی ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوا ۔ چوتھا : اس کے پاس بال بچے نہیں ہیں ۔ پانچواں : اس کا کوئی ساجھی دار نہیں ہے ۔ یہ پانچوں گون اُس اللہ کے ہیں جو عرش پر مستوى ہے ، جو ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے ، جو ساری کائنات پرحكومت كررہا ہے ، جسے نہ نیند آتی ہےاور نہ اونگھ ۔
 اللہ نے اس کائنات کو بنانے کے بعد اس کے ایک چھوٹے سے حصے دھرتی پر انسان کا ایک جوڑا پیداکیا ۔اوراس کو اس دھرتی پر examکے طورپر بسایا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ايك کمپنی کوئی سامان بناتی ہے تو اس کے استعمال کرنے کا طریقہ بھی بتاتی ہے ۔اس لیے کہ جو کوئی چیز بناتا ہے وہی ا سکے استعمال کا صحیح طریقہ بتا سکتا ہے ۔ ویسے ہی اللہ نے انسان کو بنایا تو اسے دنیا میں بسنے کا طریقہ بھی بتادیا ۔الٹ ٹپ نہیں چھوڑا کہ جیسے چاہو جیون بِتاؤ،جیون بِتانے کا طریقہ کیسے بتایا؟ اِس کائنات کے کریئٹر کے تعلق سے یہ تو نہیں سمجھا جاسکتا کہ اِتنی بڑی ذات کسی انسان کے روپ میں آئے۔یا خود اسے دھرتی پر اترنے کی ضرورت پڑے ۔ سچى بات یہ ہے کہ اللہ نے انسان کوصحیح راستہ دکھانے کے لیے ہردور، ہر زمانہ ، ہر دیش اور ہرجگہ اپنے رشی منیوں کوبھیجا جن کو قرآن اور بائبل پرافیٹ، رسول یا میسینجر کہتا ہے ۔ولکل قوم ھاد "ہر قوم میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور آیا"۔ وہ انسا ن ہوتے تھے ، قوم کے پاک لوگوں میں سے ہوتے تھے ،اوران کو اپنے میسیج کی تائید کے لیے کچھ چمتکاریاں بھی دی جاتی تھیں جنہیں ہم معجزہ کہتے ہیں ۔ وہ سب ایک اللہ کی پوجا کی طرف لوگوں کو بلاتے رہے ،یہی وہ پہلا دھرم ہے جو زمین پر انسانوں کے لیے بھیجا گیا ۔ اِس دھرم کو عربی میں اسلام کہتے ہیں ،یہاں آپ کے پہلے سوال کا جواب مل گیا کہ دھرتی پرالگ الگ دھرم نہیں بھیجا گیا بلکہ ایک ہی دھرم بھیجا گیا۔اور سب سے پہلا اورآخری دھرم اسلام ہی ہے، اسی دھرم کے پرچار کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار میسینجر آئے۔ جو لوگوں کو ایک اللہ کی پوجا کی طرف بلاتے رہے ۔

دشینت صاحب کا دوسرا سوال یہ ہے کہ بچہ کس دھرم پر پیدا ہوتا ہے ؟

 جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دل میں صرف ایک اللہ کا تصور ہوتا ہے ،اسی لیے اگر آپ چھوٹے بچے سے پوچھیے ،چاہے وہ کسی بھی دهرم میں پیدا ہوا ہو : اللہ کہاں ہے ؟ تو وہ فورا اشارہ کرے گا ، اوپر کی طرف کہ اللہ آسمان پر ہے - کیونکہ بچے کی فطرت میں  داخل ہے کہ اللہ ایک ہے ،اسی کی پوجا ہونی چاہیے ۔لیکن بچہ جیسا ماحول پاتا ہے اسی ماحول میں خود کو ڈھالتا جاتاہے ۔یہ بات قرآن میں یوں کہی گئی ہے: فطرة اللہ التی فطر الناس علیھا یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ۔ اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم نے اس کو یوں واضح فرمایا: کل مولود یولد علی الفطرة فابواہ یھودانہ او یمجسانہ اوینصرانہ ہربچہ اسلام پر پیدا ہوتا ہے ،اس کے بعد اس کے والدین اُس کو یہودی بنادیتے ہیں ،یا مجوسی بنادیتے ہیں یا عیسائی بنادیتے ہیں ۔

آپ کا تیسرا سوال یہ ہے کہ جب عیسی علیہ السلام اور محمد صلى الله عليہ وسلم دونوں ایک ہی دھرم کے رسول ہیں تو پھر الگ الگ کیوں ہوئے ؟  

عیسی علیہ السلام اور محمد صلىالله عليہ وسلم ہی نہیں بلکہ اِس دھرتی پر جتنے بھی سندیشٹا آئے اُن سب کا دھرم ’اسلام ‘ ہی تھا اور ابھی ہم نے بتایا ہے کہ جوبھی سندیشٹا آئے انسان ہی ہوتے تھے ،پر اُن کو کچھ چمتکاریاں دی جاتی تھیں تاکہ لوگ اُن چمتکاریوں کو دیکھ کراُن پر Faith کریں۔لیکن لوگوں نے جب اُنکو عقیدت بھری نظر وں سے دیکھا تو سوچنے لگے کہ یہ تو بڑے نیک لوگ ہیں،اِن کے ہاتھ پر چمتکاریاں بھی ظاہر ہوتی ہیں ۔اِن کے اندر ضرور ایشوری گون ہے ؟ اِس طرح کچھ لوگوں نے اُن کو سن آف گاڈ مان لیا جیسا کہ آج عیسائی دھرم ہے جو عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ۔ کچھ لوگوں نے سمجھا کہ لگتا ہے کہ یہ ایشور کے روپ میں آئے ہیں ۔اِس لیے اِن کی پوجا ایشور کی پوجا ہے ۔ اِس طرح لو گ اوپر والے ”اللہ “ کو بھول گئے اور جولوگوں کو صحیح راستہ دکھانے والے تھے انہیں کے نام سے دھرم بنالیا بلکہ ایسے ہی لوگوں کی پوجاشروع کردی ۔
یہ میسینجرس تو ایسے ہی تھے جیسے ایک ڈاکیہ ہوتاہے کہ آپ کے پاس آپ کے گھر سے Letter آئے توڈاکیہ آپ کو دینے آتا ہے اور آپ لیٹر لے کر اسے پڑھتے ہیں اور جوکچھ لکھا ہوتا ہے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔اگر لیٹر کو کھول کر نہ پڑھیں اور ڈاکیہ کوہی سب کچھ سمجھ لیں تو اِسے عقلمندی نہیں کہی جاسکتی ۔ بالکل ایسا ہی معاملہ میسینجروں کے ساتھ ہوا ۔ لوگوں نے اپنے اپنے دور کے میسینجروں کو ہی سب کچھ سمجھ لیا اور اُنہیں کے ناموں سے دھرم بناڈالا ۔آج اِس دھرتی پر اِتنے جو دھرم دیکھ رہے ہیں یہ دراصل دھارمک لوگوں کی شان میں غلو کرنے کا ہی نتیجہ ہے - اِس طرح آپ کو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ جب شروع میں دھرم ایک تھا تو آج انيک کیوں ؟
اِس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ جب لوگوں نے الگ الگ دھرم بنا لیے تو اللہ تعالی نے اُن کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیا ، اللہ جو بڑا کریم اور رحمن ورحيم ہے وہ انسانوں کی اِن حالتوں کو جان رہا تھا ۔چنانچہ ساتویں صدی عیسوی میں جب ایک ملک کا دوسرے ملکوں سے تعلق بڑھنے لگا ،دوسری زبانوں کو سیکھنے کا چلن عام ہوگیا۔اور انسان ذہنی بلوغت کی اس منزل پر پہنچ گیا جہاں سے اُس کا علمی فکری اور سائنسی ارتقا شروع ہونے والا تھا۔ایسے وقت میں  اللہ پاک نے عرب کی دھرتی مکہ میں جو پوری دینا کا سینٹر ہے ، آخری نبی محمد صلى اللہ عليہ وسلم کو بھیجا اور فائنل اتھارٹی کے روپ میں اُن پر قرآن اُتارا ۔ اوراِسی کے ساتھ دین کے مکمل ہونے کا اعلان کردیا۔
یہاں پر د وچیزوں کی ضرورت تھی ایک قرآن کی حفاظت جو تھیوری تھا اور دوسرے محمد صلىالله عليہ وسلمکی زندگی کی حفاظت جو لوگوں کے لیے پریکٹیکل لائف کی حیثیت رکھتی تھی ۔
قرآن کو دیکھیے تو وہ ہر طرح کے شک وشبہ سے بالاتر کتا ب ہے اور قاری کو کتاب کھولتے ہی یہ یقین دلایا گیا ہے کہ ذلک الکتاب لاریب فیہ (سورہ بقرہ آیت نمبر 2 ) یعنی یہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب ہے ۔اسمیں کوئی شک نہیں ۔ دنیا کی یہ واحد کتاب ہے جو اپنا آغاز اِتنے پُرزور دعوی سے کرتی ہے کہ اے قاری تم جو کتاب پڑھنے جارہے ہو اس میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ۔پھر اِ س کی عجیب طرح سے حفاظت کا بھی بندوبست کیاگیا ،جیسے جیسے قرآن اُترتا اسے لکھ دیا جاتا تھا ۔ پھر اُسے یاد بھی کرلیا جاتاتھا ۔اِس طرح محمد  صلىالله عليہ وسلم کے زمانے میں ہی پورا قرآن لکھاجاچکا تھا ۔ اورآج تک قرآن کے ایک لفظ میں بھی کوئی ردوبدل نہ ہوسکا ہے اورنہ رہتی دنیا تک ہوسکتا ہے،چاہے آپ دنیا کے کسی بھی کونہ میں جائیں آپ کو قرآن ایک ہی ملے گا جس میں ایک لفظ کا بھی ہیر پھیر نہ پائیں گے ۔
پھرمحمد صلىالله عليہ وسلمکی زندگی کاایک ایک لمحہ،ازپیدائش تاوفات بالکل محفوظ ہے ۔بلکہ آپ نے جو کچھ کہا تھا اور جو کچھ کیا تھا وہ اصل میں قرآن کا Explain ہی تھا اسی کو حدیث کہتے ہیں جو آج Authentic روپ میں بالکل محفوظ ہے ۔ اس طرح آج ایک آدمی قرآن اور حدیث کے ذریعہ اپنے رب کی طرف سے اتارے گئے قانون کوپورے اطمینان اور یقین کے ساتھ اپنا سکتا ہے ۔

دشینت جى ! کہتے ہیں مسلمان کے لیے جمعہ کی نماز کیوں اہم ہے ؟

ایک آدمی جب اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آج سے میں عہد کرتا ہوں کہ صرف ایک اللہ کی پوجا کروں گا اورمیری یہ پوجا یا عبادت آخری نبی محمد صلى اللہ عليہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہوگی ،تو یہ کہنے کے بعد ہی اُس پر کچھ ذمہ داریاں آجاتی ہیں کہ جوکچھ بولا ہے اُس کے مطابق کرکے دکھائے ۔ اِس طرح اُس پر پانچ وقت کی نمازیں فرض ہوجاتی ہیں ،اُن میں سے ہفتہ میں ایک جمعہ کی نماز بھی فرض ہے ۔ اورمسلمان کے نزدیک جمعہ کے دن کی زیادہ اہمیت اس لیے ہے کہ اسے ہفتے کی عید کہا گیا ہے۔اورمسلمانوں کے ہاں عید بھی دوگانہ نماز کے ذریعہ ادا کی جاتی ہے اس لیے اس کی فضیلت بتائی گئی ہے ۔ اُسی طرح محمد صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے ،اسی دن پہلے انسان آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا ۔اسی دن آدم کو زمین پر اُتاراگیا،اِسی دن اُن کی وفات ہوئی اور اسی دن قیامت بھی ہوگی۔انہیں اسباب کی بنیاد پر جمعہ کی نماز کودوسری نمازوں کی بنسبت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

دشینت صاحب کا ايك سوال یہ ہے کہ غیرمسلم مکہ اور مدینہ میں کیوں نہیں داخل ہوسکتے ؟

 اِ س کا مختصر جواب یہ ہے کہ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بھی کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں سب کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ خود آپ کے آفس کى بعض جگہوں پر لکھا ہوتا ہوگا no entry ۔ پردھان منتری کے آفس میں سب داخل نہیں ہوسکتے ۔ وہاں داخل ہونے کے لیے اجازت نامہ چاہیے ۔ بالکل اسی طرح کعبہ میں داخل ہونے کے لیے پرمٹ یا پاسپورٹ چاہیے وہ پرمٹ یا پاسپورٹ کیا ہے ؟ " لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ " اگر آپ آج ہی یہ لفظ دل میں اس کے معنی کو اتارتے ہوئے بول لیتے ہیں تو کورٹ آپ کو ایک پرمٹ دے گا جسے آپ سعودی ایمبسی میں پیش کریں گے اورآپ کے لیے مکہ جانے کا ویزابآسانی نکل جائے گا ۔ پاسپورٹ پر نام بھی چینج کرنے کی ضرورت نہ ہوگی ۔

دشینت صاحب کہتے ہیں اگر میں مسلمان ہوجاوں،قرآن پڑھنے کی خواہش ہواور عربی نہ آتی ہو تو کیا قرآن ہندی زبان میں دستیاب ہے ؟

دشینت جى! آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمان ہونے کے بعدآپ کو قرآن پڑھنے کی ضرورت ہوگی نہیں ایسی بات نہیں ہے ،قرآن آپ کا ہے ،ہم سب کے پیدا کرنے والے کی طرف سے ہمارے نام ایک تحفہ ہے ،ابھی آپ اُس کا مطا لعہ کرسکتے ہیں اورقرآن کا Translation ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ہندی زبان میں بھی ترجمہ قرآن دستياب ہے ،لیکن سوال یہ ہے کہ ہم مسلمان کیوں بنیں ؟ یہ اس لیے کہ آج ہمارے پیدا کرنے والے کا اُتارا ہوا طریقہ صرف قرآن اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتا ہے ۔ آج ہردھرم میں انسانوں کی پوجا ہورہی ہے ، صرف اسلام ایک ایسا دھرم ہے جہاں انسان اپنے رب کی پوجا کرتا ہے ۔جی ہاں اپنے رب کی ،مسلمانوں کے رب کی نہیں ،اسلام ایسا نظام پیش کرتا ہے کہ ساری دنیا کے لوگ ایک ہوجائیں -  وہ کیسے ؟ اسلام کا کہنا ہے کہ دنیا کے سارے انسان ایک ہی اللہ کی مخلوق ہیں،اس لیے سب کے سب اُس کے بندے اور داس ہیں ۔اُسی طرح اسلام سارے انسانوں کو پہلے انسان آدم وحوا کی اولاد قرار دے کر انہیں آپس میں بھائی بھائی بنا دیتا ہے ۔ جن میں نہ کوئی چھوٹا ہے نہ بڑا ، نہ اونچا ہے نہ نیچا ۔غرضیکہ اسلام ہر انسان کا دھرم ہے ،محمد صلى اللہ عليہ وسلم ہرانسان کے لیے آئے ہیں، اورقرآن ہرانسان کی مذہبی کتاب ہے - اس لیے اسلام قبول کرنا دھرم بدلنا نہیں یا مسلمانوں کا دھرم اپنانا نہیں بلکہ اپنے پیدا کرنے والے اللہ کے اتارے ہوئے قانون کی پیروی ہے ۔ جس کو اپنائے بغیر انسان مرنے کے بعد نجات نہیں پاسکتا ۔ قرآن کہتا ہے (سورہ آل عمران سورہ نمبر۳آیت نمر 19) ان الدین عنداللہ الاسلام " بیشک اللہ کے نزدیک صحیح دھرم اسلام ہی ہے" ۔دوسری جگہ قرآن کہتا ہے (سورہ آل عمران سورہ نمبر3 آیت نمبر85 ) ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الآخرة من الخاسرین " جوکوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور دھوم اپنائے گا وہ اُس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ مرنے کے بعد گھاٹا اُٹھانے والوں میں سے ہوگا" ۔
اخیر میں ہم آپ سے یہ گذارش کریں گے کہ مسئلے کی نزاکت کو سمجھیں ،اپنے خالق ومالک کی طرف پلٹیں اوراصل معبودکی پہچان کریں،آپ ایسی گاڑی پر سوار ہیں جواکسیڈنٹ کرجانے والی ہے،اگرکوئی آپ کو اس کی پیشگی اطلاع دے دیتا ہے تو آپ اس کے شکرگذارہوں گے اورفورااس گاڑی سے اترجائیں گے کہ مباداجان چلی جائے ۔ بالکل یہی حال آپ کی مذہبی گاڑی کا ہے ،اس لیے سوچئے سمجھئے اوربلاتاخیر بروقت فیصلہ لیجئے ۔   
مکمل تحریر >>

ہفتہ, نومبر 30, 2013

کیا واقعی نظر لگ جانا حق ہے ؟

 سوال:

کیا واقعی نظر لگ جانا حق ہے، اور اس كا علاج كيا  ہو سكتاہے، میں اپنے دوست کے گھر گیاتھا تو ا ن کی شکایت ہے کہ میرے ان کے گھر جانے کی وجہ سے ان کا بیٹا بیمار ہوگیا ہے ؟

جواب: 


آپ کے سوال میں دو باتیں ہیں :

پہلی بات :


نظر لگنے کے تعلق سے ہے : تو سلسلے میں عرض یہ ہے کہ نظر کا لگ جانا واقعی حق ہے ، اور ایسا کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے، یعنی کسی کی نظر کسی کو لگ سکتی ہے، اسی لیے اسلام نے ہمیں اس بات کی تاکید کی ہے کہ اگر ہم کوئی چیز دیکھیں جو ہمیں بھلی معلوم ہورہی ہے تو اس وقت ہمیں چاہیے کہ ماشاءاللہ کہیں ….یہ ہے اسلامی تعلیم نظر بد کے اثر سے بچنے کے لیے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحیح مسلم کی روایت ہے :
النظر حق ولوکان شی ء سابق القدر سبقتہ وإذا استغسلتم فاغسلوا (مسلم) 
"نظر لگ جانا حق ہے ،اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جانے والی ہوتی تو نظر لے جاتی ۔ اورجب تم سے علاج کے طور پرغسل کرنے کا مطالبہ کیاجائے تو تم غسل کرکے پانی دے دو۔ تاکہ اسے بیمار کے بدن پر بہا دیا جائے"۔
صحیح حدیث میں آتا ہے، ایک دن کی بات ہے ،حضرت عامر بن ربیعہ ؓ سہل بن حنیف ؓ کے پاس سے گذرے ،اس وقت وہ غسل کررہے تھے ،انہوں نے جب ان کو ننگے بدن دیکھا تو بول اٹھے، ایسا جسم تو میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا ۔ یہ کہنے کے بعد وہ وہاں سے نکلے اور یہ ادھرزمین پر گر گئے ، لوگ انہیں اٹھا کر لائے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ماجرا بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تمہیں کس پر شک ہے، لوگوں نے کہا : عامر بن ربیعہ پر ۔ تب آپ نے فرمایا:
علام یقتل أحدکم أخاہ فإذا رأی أحدکم من أخیہ ما یعجبہ فلیدع لہ بالبرکة ( رواه ابن ماجه ) 
"ایسا کیا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے، جب تم کسی کے اندر کوئی چیز دیکھو جو تمہیں بھلی لگے تو تمہیں چاہیے کہ اُس کے لیے برکت کی دعا کرو"۔ پھر آپ نے اسے غسل کرنے کا حکم دیا اوریہ پانی اس پر انڈیل دیاگیا ۔ ( ابن ماجہ
اس سے پتہ چلا کہ نظر لگنا حق ہے، اورجب ہم کسی کو کسی خوبی میں دیکھیں تو ماشاءاللہ کہیں ۔ اگر نظر لگ جاتی ہے تو جس پر شک ہے اس سے گذارش کی جائے کہ وہ غسل کرکے پانی دے، جس کا طریقہ یہ ہو کہ اپنے اعضاء کوکسی ٹب میں دھوئے اور ٹب  كا پانی  بیمار کے پورے بدن پر بہادیاجائے ۔
یہ تو ہوا اس وقت جبکہ جس کی نظرلگی ہے اس کا پتہ چل جائے، اگر اس کا پتہ نہ چل سکے تو کیا کیا جائے گا….؟  سورہ قلم کی آخری آیت: 

وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ (القلم: 51)

" اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے.
سورہ تبارک کی پہلی چار آیتیں:
تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ﴿٢ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَـٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ ﴿٣ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ ﴿٤ 
" بہت بابرکت ہے وه (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے (1) جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے (2) جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (تو اے دیکھنے والے) اللہ رحمٰن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے (3) پھر دوہرا کر دو دو بار دیکھ لے تیری نگاه تیری طرف ذلیل (و عاجز) ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی (4)."
سورہ یوسف کی آیت:
 وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّـهِ مِن شَيْءٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ﴿يوسف: 67﴾
"اور (یعقوب علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو! تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا۔ میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے۔ میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے ."
یہ آیات پڑھ کر مریض پر دم کریں.
اسی طرح  أعوذ بكلمات الله التامَّات من شرِّ ما خلَق. پڑھیں
 اور یہ دعا بھی پڑھیں:
اللَّهُمَّ أَذْهِبْ البَأْسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ فَأَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا "رواه الترمذي ان شاء الله شفاء ملے گى.

دوسرى بات :

اس سلسلے میں ہمارے معاشرے میں لوگ افراط کے بھی شکار ہیں، کچھ بھی ہوا  فوراً اپنے دوستوں پر  شک کی سوئی گھما دیتے ہیں ، جس سے اختلافات ہوتے ہیں، ناچاقیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ اورتعلقات خراب ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم کہیں گے کہ خواہ مخوا ہ اپنے دوستوں پر شک نہیں کرنا چاہیے ۔ ہاں! اگر آپ نے دیکھا کہ آپ کے دوست کو آپ کی کوئی چیز بھلی لگی اور انہوں نے دعا نہیں دی، ماشاءاللہ نہیں کہا ….اورکچھ شکایت ہوگئی ہے تو دوستانہ انداز میں ان سے گذارش کی جاسکتی ہے جس سے اختلاف نہ ہو ۔ بدظنی نہ پھیلے ۔اسى طرح اگر کسی معقول وجہ کی بنیاد پر آپ کا  دوست آپ پر شک کرتا ہے تو آپ کو چاہیے کہ اس کی بات دل پر نہ لیں اور غسل کرکے پانی اس کے حوالے کر دیں تاکہ بچے کی شکایت دور ہو سکے-

مکمل تحریر >>

کیا داڑھی رکھنا سنت ہے ؟ اور کتنی بار ڈاڑھی رکھ کر نکال سکتے ہیں

سوال:  

مولاناصاحب ! کیا داڑھی رکھنا سنت ہے ؟ اور کتنی بار ڈاڑھی رکھ کر نکال سکتے ہیں ؟ (عبدالغوث- سالمیہ، كويت)

جواب:

سب سے پہلے اِن کے نام عبدالغوث پر غور کرتے ہیں ۔ غوث اللہ تعالی کے اسمائے حسنی میں سے نہیں ہے ۔ اور عبد کی اضافت اللہ تعالی کے اسمائے حسنی کی طرف ہی ہوسکتی ہے ۔ اس لیے خود کو عبدالغوث نہ کہیں ۔ ایک آدمی کسی انسان کا بندہ نہیں ہوسکتا وہ اللہ تعالی کا ہی بندہ ہوسکتا ہے ۔ لہذا آپ عبدالمقیت یا عبدالحفیظ وغیرہ نام رکھ لیں ۔ عبدالغوث نام غلط ہے ۔
رہا آپ کا سوال کہ کیا داڑھی رکھنا سنت ہے ؟ تو داڑھی رکھنا سنت ہی نہیں بلکہ فرض ہے۔اور اس سلسلے میں ائمہ اربعہ یعنی چاروں فقہی مکاتب فکر کے ائمہ کا اتفاق ہے کہ داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
خالفواالمشرکین واعفوا اللحی واحفوا الشوارب ( بخارى ومسلم)
"مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچ کاٹو" ۔ اس حدیث میں امر ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے ۔

اس لیے یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کتنی بار داڑھی رکھ کر نکال سکتے ہیں۔یہ کوئی اختیاری چیز نہیں ہے یا ایسا نہیں ہے کہ  ایک دو مرتبہ کاٹنے کی چھوٹ دی گئی ہو ۔اگر اس طرح کی کوئی بات ہوتی تب پوچھا جاسکتا تھا کہ داڑھی کتنی بار رکھ کر نکال سکتے ہیں۔اس لیے جو لوگ داڑھی نہیں رکھتے ہیں انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ داڑھی رکھیں کیونکہ اس سے اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہے ۔اور جن لوگوں نے داڑھی رکھ کر کاٹ لیا ہے اُنہیں توبہ کرنی چاہیے ۔سچى بات یہ ہے کہ اصل زینت داڑھی رکھنے میں ہے نہ کہ  شیو کرنے میں۔ داڑھی کے ذریعہ چہرے کی خوبصورتی نکھرتی ہے ۔ 
مکمل تحریر >>

میں ہربار توبہ کرتا ہوں لیکن پھر بہک جاتا ہوں

 سوال : 

مولانا صاحب ! آپ کا پروگرام مجھے بہت اچھا لگتا ہے میں بڑی پابندی سے ہرجمعہ آپ کا پروگرام سنتاہوں،میری عمر 26 سال کی ہے،ابھی میری شادی نہيں ہوئی ہے ،میں جہاں کام کرتا ہوں وہاں لڑکیاں بھی کام کرتی ہیں ،ایک مرتبہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ،میں ان میں سے ایک لڑکی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کربیٹھا۔ میں ہربار توبہ کرتا ہوں لیکن پھر بہک جاتا ہوں ۔ میں پہلے بہت خوش رہتا تھا لیکن  اب میں بہت پریشان رہنے لگا ہوں ۔کوئی ایسی دعا بتائیے کہ میرا خیال اس طرف نہ جائے اور میں پہلے کی طرح خوش رہ سکوں؟ ( علی ۔ حولی، كويت )

جواب:

اسلام میں زنا کار کی سزا یہ ہے کہ اگر مردوعورت دونوں شادی شدہ ہیں تو ان کو سنگسار کردیا جائے گا اور اگر شادی شدہ نہیں تو سوکوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کر دیا جائے گا ۔اس سے آپ زنا کی سنگینی اور خطرناکی کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔
 آپ کو جو پریشانی لاحق ہے یہ دراصل اللہ کے غضب کو دعوت دینے کی بنیاد پر ہے، الله تعالى نے فرمايا:
 وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا ( طه 124)
 "جس نے میری یاد سے اعراض کیا اس کا گذران تنگی والا ہوگا".  اور گناہوں کے انسانی زندگی پربڑے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔اور یہ بات بهى یاد رکھیں کہ "جیسی کرنی ویسی بھرنی "، جیسے آپ دوسری لڑکیوں کے ساتھ کریں گے ویسا ہی آپ کی عزت کے ساتھ یا آپ کے اہل وعیال کے ساتھ کیا جائے گا ۔ کیا آپ اپنی بہن کے لیے یہ پسند کریں گے کہ کوئی لڑکا اس کے جسم کے ساتھ کھیلے ، ظاہر ہے آپ کی غیرت برداشت نہ کرے گی تو  ذرا  تصور کیجئے کہ آخر جس سے آپ نے منہ کالا کیا ہے وہ بھی تو کسی کی بہن ہے ،اس کے لیے آپ نے ایسا کیسے گوارا کرلیا ۔ آپ کی بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو غلطی کا احساس ہے تب ہی تو ہم سے رابطہ  کیا ہے ۔ اس لیے
  • پہلی فرصت میں توبہ کریں،اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ،اور یا درکھیں کہ توبہ کی قبولیت کی شرط یہ ہے کہ بندہ گناہ سے بالکل کنارہ کش ہوجائے ،اپنے عمل پر نادم ہو، اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پورا عزم رکھے۔ 
  • دوسرے مرحلہ میں  ایسی بدكارلڑکی سے بالكليہ تعلق ختم کرلیں،یا کم ازکم اس سے پیار ومحبت کی باتیں بالکل نہ کریں، اللہ کی نگرانی کوذہن میں طاری رکھیں اور یہ بھی سوچیں کہ آپ جس وقت اس لڑکی سے ہم آغوش ہو رہے ہوتے ہیں اس وقت اللہ پاک آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے پھرفرشتے آپ کی ایک ایک حرکت کی ریكارڈ تیار کررہے ہوتے ہیں ،کل قیامت کے دن آپ کے سامنے اسے كهول دیا جائے گا ، اگر انکار کیا تو آپ کے اعضاءوجوارح آپ کے خلاف اللہ کے دربار میں گواہی دینے لگیں گے ، بلکہ یہ زمین بھی گواہی دے گی جہاں پر آپ اس عورت کے ساتھ ہم آغوش ہوئے تھے ۔پتہ نہیں کہ موت کب آجائے اور آپ اپنے رب کے پاس پہنچادیئے جائیں ۔
  • اسی طرح پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کریں ، قرآن کریم کی تلاوت مع ترجمہ کریں ، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں ،ان لڑکیوں کے ساتھ کام کرنے کی مجبوری ہے توکم ازکم ان کے ساتھ تنہائی میں ہونے سے پرہیز کریں کیونکہ جب آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرتا ہے تو تیسرا وہاں شیطان ہوتا ہے جو اسے برائی پر اکساتا ہے ۔
اللہ پاک ہم سب کو  برے عادات واطوا ر سے محفوظ رکھے ۔ آمین
مکمل تحریر >>