ہفتہ, نومبر 09, 2013

ہجرى کیلنڈر: تاريخ ، اہميت اور خصوصيت

 کیلنڈر کی انسانی تاریخ میں بڑی اہمیت رہی ہے اورآج بھی ہے ۔ جب آپ اس وقت دنیا میں رائج کیلنڈروں کو دیکھیں گے توآپ کو پتہ چلے گا کہ ہردورمیں لوگوں نے کیلنڈروں کو کسی مذہبی شخصیت سے وابستہ کیا۔ جیسے یہودی کیلنڈر سلیمان علیہ السلام کے فلسطین پرتخت نشینی سے شروع ہوتا ہے۔ عیسائی کیلنڈر عیسی علیہ السلام کی پیدائش کی طرف منسوب ہے، بکرمی کیلنڈر بکرماجیت کی پیدائش سے منسوب ہے۔ جبکہ اسلامی کیلنڈر کسی کی پیدائش اوروفات کی تاریخ سے وابستہ نہیں بلکہ ہجرت سے وابستہ ہے ۔ جس میں ہرسال ایک مسلمان کے لیے سبق ہوتا ہے کہ اگر اللہ کے دین کو اپنانے کی وجہ سے سماج دشمن بن جائے ، اپنے بیگانے بن جائیں ، وطن اورپیدائشی سرزمین تنگ ہونے لگے،تو اپنے دین کی حفاظت کے لیے ہجرت کی جائے ، جیسا کہ صحابہ نے اوراللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ہجرت کی تھی ۔ اورہجرت کے بعد مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم نصیب ہوا تھا۔ ....
اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ہجری کیلنڈر کی شروعا ت کب سے ہوئی ؟ تو سن 17ہجری میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہجری کیلنڈر کی شروعات ہوئی ہے ۔ جس کا قصہ یہ ہے کہ حضرت ابوموسی اشعر ی رضی اللہ عنہ جو یمن کے گورنرتھے ، ان کے پاس دوسرے خلیفہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خطوط آتے تھے ،اس پر مہینہ تو لکھا ہوتا لیکن سال کا اندراج نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ سے ان کوسمجھنے میں پریشانی ہوتی تھی کہ یہ خط اس سال کا ہے کہ پچھلے سال کا ہے ۔ اس کی شکایت انہوں نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے کی تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے باضابطہ اس سلسلے میں ایک میٹنگ بلائی اور صحابہ کرام رضوان الله عليهم اجمعين کے فیصلے سے یہ طے پایا کہ ہمارا اپنا ايك کیلنڈر ہوناچاہیے جس کی شروعات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے ہو ۔ اس پر سارے صحابہ کا اتفاق ہوگیا اور اس طرح ہجری کیلنڈر کی شروعات ہوئی ۔ آج اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کو 1434 سال ہوچکے ہیں اورابھی ہجرت كا 1435 واں سال شروع ہے ۔ 
عزیزقاری ! ہجری تقویم قوم مسلم کی امتیاز اور پہچان ہے ، ہماری عبادتیں ہجری کیلنڈرسے ہی جڑی ہوئی ہیں ، پنجوقتہ نمازوں کے اوقات ، روزے کی تاریخ ،عیدین ،عاشورہ اورعرفہ کا پتہ اسی تقویم سے ہوتا ہے ، حج کا وقت اسی سے معلوم ہوتا ہے ۔ جب اسلام ایک آفاقی مذہب ہے توضروری تھا کہ اس کے شعائر کی بجا آوری کےاوقات بھی آفاقی طریقے سے ثابت ہوں، ہجری کیلنڈر کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا تعلق چاند سے ہے ، اسے دقیق اور باريك فلکی حساب سے منسلک نہیں کیا گیا جس کا علم محض بعض لوگوں کو ہوسكتا ہے ،جبکہ قمری حساب اتنا آسان ہے کہ شہر ، قصبہ ، دیہات توکجا ایک جنگل ميں رہنے والا آدمی بھی بآسانی چاند کو دیکھ کر پورے یقین کے ساتھ اپنی عبادت کے آغازوانتہا کی معرفت حاصل کرسکتا ہے ۔
 مسلمان ہجری کیلنڈر کا استعمال ہر دورمیں کرتے رہے ،اورعالم اسلام میں اس کا چلن رہا، یہاں تک کہ جب 1924 میں مصطفی کمال اتاترک کے ہاتھوں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تواس نے جہاں مختلف اسلامی شعائرپرپابندی لگائی وہیں ہجری کیلنڈر کاخاتمہ کیا اور عیسوی کیلنڈر کوعام کیا ۔ افسوس کہ آج پوری دنیا میں صرف سعودی عرب ہی ایک ایسا ملک ہے جو رسمی طورپر اس کیلنڈر کو اپنائے ہوئے ہے ۔ورنہ ہر جگہ عیسائی کیلنڈر کا چلن ہے ۔جس کا نتیجہ ہے کہ ہم خود اپنے کیلنڈر کو بھولتے جارہے ہیں ۔ بہت سے مسلمانوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ہجری تاریخ کتنی ہے ؟ بلکہ ہجری سال کونسا چل رہا ہے ؟۔ جب دوسری قومیں اپنے کیلنڈر پر فخر کرتی ہیں تو ہمیں بحیثیت مسلمان ہجری کیلنڈر پر اورزیادہ فخر ہوناچاہیے تھا ۔ 

مکمل تحریر >>

پیر, نومبر 04, 2013

ہجری سال 1435 کا پیغام


  نئے عيسوى سال کے موقع پر ہر سال دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ہنستے کھیلتے، گاتے بجاتے، پٹاخے اڑاتے اور موج مستی کرتے ہیں. بلکہ ایسی رنگ ريلياں ہوتیں اور نائٹ كلب سجتے ہیں کہ جنہیں دیکھ اور سن کر ایک عام آدمى  کا سر شرم سے جھک کر رہ جاتا ہے.
0 ابھی ہم ہجری تقویم کے مطابق نئے سال میں داخل ہوچکے ہیں اورآج محرم کی  پہلى تاریخ ہے ،ایک سال کے ختم ہونے اورنئے سال کے داخل ہونے میں ایک مسلمان کے لیے مسرت کا پیغام نہیں ہوتا، خوشی کی سوغات نہیں ہوتی بلکہ احتساب کی دعوت ہوتی ہے ،محاسبہ نفس کا پیغام ہوتا ہے ، اِس میں اس بات کا ایک انسان کو درس ملتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں سوچے کہ وہ کہاں ہے ؟ کیا کررہا ہے ؟ اورکیا کرنا چاہیے تھا ؟ یہ محض ایک سال کا جانا اوردوسرے سال کا آنا نہیں بلکہ ہماری زندگی سے ایک سال کم ہوا ہے اورہم آخرت سے ایک سال قریب ہوئے ہیں ۔ایسے ہی ایک دن آئے گا کہ ہماری زندگی کی آخری گھنٹی بجے گی اورہم ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلے جائیں گے ۔
جی ہاں یہ دنیا دارفانی ہے ،پانی کا بلبلہ ہے ،ہماری زندگی محدود ہے اوریہ روزانہ برف کے جیسے پگھل رہی ہے۔عقلمند وہی ہے جواپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اورکل قیامت کے دن کی تیاری کرلیتا ہے اوربیوقوف وہ ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگا رہتا ہے اوراللہ سے امیدیں باندھے رہتا ہے۔اس لیے ضرورت ہے کہ ہم موت کی سختی کو یادکریں، قبرکی تاریکی کو یاد کریں، منکرنکیر کے سوال کویادکریں، قیامت کی ہولناکی کو یادکریں ،جنت اورجہنم کے حالات پر غورکریں:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ ﴿ 5 ﴾    سوره فاطر
”اے لوگو!اللہ کا وعدہ برحق ہے ،لہذا دنیاکی زندگی تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اورنہ یہ دھوکے باز تجھے دھوکے میں ڈالنے پائے ،بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے ،اس لیے اسے اپنا دشمن ہی سمجھو "

ایک کمپنی سال گذرنے کے بعد اپنی آمدنی کا جائزہ لیتی ہے ،نفع ونقصان کا تخمینہ کرتی ہے اورپھر اسی کے تناسب سے اگلے سال کے لیے پلاننگ کرتی ہے تو پھر ہمیں بحیثیت مسلمان اورزیادہ پچھلے سال کے بارے میں غور کرنا چاہیے اوراگلے سال کے لیے پلاننگ کرنی چاہیے ۔ ابھی کچھ دیرپہلے ہم اسی موضوع پرنومسلموں کودرس دے رہے تھے، ہم نے ان کے پیچ ایک احتساب نامہ تقسیم کیا جس میں اپنے مثبت اورمنفی پہلو وں کونوٹ کرنے کی دعوت دی ۔ ہم نے خوداپنے لیے بھی ایک پیپررکھا ،پھر عرض کیا کہ آج گھر جانے کے بعد ہم سب ضروری تقاضوں سے فارغ ہونے کے بعد آدھا ایک گھنٹہ کے لیے تنہائی میں بیٹھ جائیں اور سال بھر ہم نے جو اچھے کام کئے انہیں ایک خانے میں نوٹ کریں اور جو بُرے کام کئے انہیں ایک خانے میں نوٹ کریں ،اورپھر ان کی اہمیت اور خطرناکی کے تناسب سے ترتیب دیں،اچھائیوںمیں جدت لانے کی کوشش کریں ،اس کے بعد ایک ایک خامی اوربرائی پر غورکریں ،اس کے اسباب کو نوٹ کریں اورغورکریں کہ ان سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
 اس لیے ہم اپنے قارئين سے  گذارش کریں گے کہ وہ آج کی رات اس نسخہ کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دیں ،اسی انداز سے اپنا محاسبہ کریں اورآئندہ کے لیے لائحہ عمل تیار کریں ….پھر ہمارے اندراگر یہ تصورآجائے کہ اللہ تعالی سن رہا ہے اور دیکھ رہاہے، فرشتے ہمارے ایک ایک عمل کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں ، جن اعضاءکو ہم نے لذت پہنچانے کے لیے گناہ کیاتھا وہ اعضاء وجوارح ہمارے خلاف گواہی دیں گے بلکہ یہ زمین بھی ہمارے خلاف گواہی دے گی جہاں پر ہم نے گناہ کا کام کیا تھا تو ضرور ایک انسان گناہوں سے بچنے لگے گا ۔
 اللہ ہم سب کی اصلاح فرمائے اورخاتمہ ہوتو ایمان پر خاتمہ فرمائے آمین یا رب العالمین
مکمل تحریر >>

بدھ, جولائی 03, 2013

ماہ شعبان میں زیادہ سے زیادہ روزہ رکھنے کا عہد کریں


ابھی ہم ماہ شعبان سے گذررہے ہیں جو ہجری تقویم کے اعتبار سے آٹھواں مہینہ ہے ،چونکہ یہ مہینہ رمضان کی تمہید ہے اس کے بعد رمضان کا مہینہ آتا ہے تو زیادہ مناسب تھا کہ اس مہینے میں روزہ جیسی عبادت کا اہتمام ہو ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے رول ماڈل ہیں،آپ کا اسوہ شعبان میں یہ تھا کہ آپ زیادہ سے زیادہ اس مہینے میں روزے کا اہتمام کرتے تھے ۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم سمجھتے کہ آپ روزہ رکھنا نہ چھوڑیں گے اورآپ روزہ چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم سمجھتے کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے ومارأیتہ استکمل صیام شھر الا رمضان وما رأ یتہ اکثر صیاما منہ فی شعبان میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ رمضان کے سوا کسی مہینے کا مکمل روزہ رکھا ہو ،اورمیں نے آپ کو شعبان کے مقابلہ میں زیادہ روزہ رکھتے کسی مہینے میں نہیں دیکھا ۔
 اورمسنداحمد کی ایک طویل حدیث میں حضرت انس رضى الله عنه سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کان أحب الصوم الیہ فی شعبان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزہ رکھنا زیادہ پسندیدہ تھا ۔ بلکہ حضرت انس ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں : ماکان صلی اللہ علیہ وسلم یحرص علی صیام قط مثل حرصہ علی صیام رمضان یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر شعبان کے روزوںکا اہتمام فرماتے تھے اس قدر دوسرے روزوںکا اہتمام نہیں کرتے تھے ۔
ان احادیث سے پتہ یہ چلتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے اکثر دنوں کا روزہ رکھتے تھے ،اوراس کے روزے کا بہت اہتمام کرتے تھے ۔ سوال یہ ہے کہ شعبان کے روزے کاآپ اس قدر جو اہتمام فرماتے تھے اس کی بنیادی حکمت کیا تھی ….؟ اس نکتے کو بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کردیاہے ۔
امام نسائی اورابوداود نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ،وہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو نہیں دیکھتا کہ آپ کسی بھی مہینہ میں اِتنا زیادہ روزہ رکھتے ہوں جتنا آپ شعبان میں رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذاک شھر یغفل الناس عنہ بین رجب ورمضان وھو شہر ترفع فیہ الاعمال الی رب العالمین فأحب أن یرفع عملی وأنا صائم ”یہ رجب اوررمضان کے بیچ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت کا شکار ہیں ،یہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ کے پاس اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، لہذا میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جب میرا عمل اللہ کے پاس پیش کیا جائے تو میں روزے سے ہوں ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں زیادہ سے زیادہ روزہ رکھتے تھے اس کی دو حکمت تھی
پہلی حکمت یہ کہ اس مہینے میں لوگ غفلت کے شکارہوتے ہیں ،اوریہ بات واضح ہے کہ جس وقت لوگ غفلت میں ہوں اس وقت کی عبادت کا اجروثواب زیادہ ہوتا ہے ۔ اسی لیے تہجد کی نماز کی اہمیت ہے کہ اس وقت لوگ غفلت میں ہوتے ہیں ۔ اورغفلت میں کسی عمل کا کرنا طبیعت پر شاق گذرتا ہے ،کیونکہ کسی کام کے کرنے والے اگر زیادہ ہوں تو ان کی ادائیگی آسان ہوجاتی ہے جبکہ اگر اس کام کے کرنے والے کم ہوں تو اس کی ادائیگی میں پریشانی ہوتی ہے ۔ چنانچہ اجروثواب بھی اسی کے تناسب سے رکھا گیا ۔ اس مہینے میں غفلت کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ کچھ لوگ رجب میں بدعات وخرافات میں لگ جاتے ہیں ،اورجب شعبان آتا ہے تو سست پڑجاتے ہیں ۔
دوسری حکمت یہ کہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ کے پاس پیش کیے جاتے ہیں اور اللہ کی رضامندی حاصل کرنے اور عمل کے قبول ہونے میں روزہ کی بہت اہمیت ہے ۔ کیونکہ اس میں تواضع ہوتا ہے ،انکساری ہوتی ہے اور فروتنی پائی جاتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھتے تھے اور لوگوں کی غفلت کا فائدہ اٹھاتے تھے حالانکہ آپ وہ نبی ہیں جن کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے گئے تھے ۔اب آپ تصور کرسکتے ہیں کہ شعبان کے اس مہینے میں ہمیں اللہ کے نبی کو اسوہ بنانے کی کس قدر ضرورت ہے ۔
اس لیے آئیے ہم سب ماہ شعبان کی قدر کریں اوراس میں زیادہ سے زیادہ روزہ رکھنے کا عہد کریں ۔


مکمل تحریر >>

بدھ, جون 26, 2013

ماه شعبان رمضان کی تمہید ہے


ابھی ہم ماہ شعبان سے گذررہے ہیں جو ہجری تقویم کے اعتبار سے آٹھواں مہینہ ہے ،چونکہ یہ مہینہ رمضان کی تمہید ہے اس کے بعد رمضان کا مہینہ آتا ہے تو زیادہ مناسب تھا کہ اس مہینے میں روزہ جیسی عبادت کا اہتمام ہو ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے رول ماڈل ہیں،آپ کا اسوہ شعبان میں یہ تھا کہ آپ زیادہ سے زیادہ اس مہینے میں روزے کا اہتمام کرتے تھے ۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: 

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم سمجھتے کہ آپ روزہ رکھنا نہ چھوڑیں گے اورآپ روزہ چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم سمجھتے کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے وما رأیتہ استکمل صیام شھر إلا رمضان وما رأیتہ أکثر صیاما منہ فی شعبان میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ رمضان کے سوا کسی مہینے کا مکمل روزہ رکھا ہو ،اورمیں نے آپ کو شعبان کے مقابلہ میں زیادہ روزہ رکھتے کسی مہینے میں نہیں دیکھا ۔

 اورمسنداحمد کی ایک طویل حدیث میں حضرت انس رضى الله عنه سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں:

 کان أحب الصوم الیہ فی شعبان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزہ رکھنا زیادہ پسندیدہ تھا ۔

بلکہ حضرت انس ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں : 

ماکان صلی اللہ علیہ وسلم یحرص علی صیام قط مثل حرصہ علی صیام رمضان یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر شعبان کے روزوں کا اہتمام فرماتے تھے اس قدر دوسرے روزوں کا اہتمام نہیں کرتے تھے ۔

ان احادیث سے پتہ یہ چلتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے اکثر دنوں کا روزہ رکھتے تھے ،اوراس کے روزے کا بہت اہتمام کرتے تھے ۔ سوال یہ ہے کہ شعبان کے روزے کاآپ اس قدر جو اہتمام فرماتے تھے اس کی بنیادی حکمت کیا تھی ....؟ اس نکتے کو بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کردیاہے ۔

امام نسائی اورابوداود نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ،وہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : 

اے اللہ کے رسول! میں آپ کو نہیں دیکھتا کہ آپ کسی بھی مہینہ میں اِتنا زیادہ روزہ رکھتے ہوں جتنا آپ شعبان میں رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذاک شھر یغفل الناس عنہ بین رجب ورمضان وھو شہر ترفع فیہ الاعمال الی رب العالمین فأحب أن یرفع عملی وأنا صائم ”یہ رجب اوررمضان کے بیچ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت کا شکار ہیں ،یہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ کے پاس اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، لہذا میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جب میرا عمل اللہ کے پاس پیش کیا جائے تو میں روزے سے ہوں ۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں زیادہ سے زیادہ روزہ رکھتے تھے اس کی دو حکمت تھی

پہلی حکمت:

 یہ کہ اس مہینے میں لوگ غفلت کے شکارہوتے ہیں ،اوریہ بات واضح ہے کہ جس وقت لوگ غفلت میں ہوں اس وقت کی عبادت کا اجروثواب زیادہ ہوتا ہے ۔ اسی لیے تہجد کی نماز کی اہمیت ہے کہ اس وقت لوگ غفلت میں ہوتے ہیں ۔ اورغفلت میں کسی عمل کا کرنا طبیعت پر شاق گذرتا ہے ،کیونکہ کسی کام کے کرنے والے اگر زیادہ ہوں تو ان کی ادائیگی آسان ہوجاتی ہے جبکہ اگر اس کام کے کرنے والے کم ہوں تو اس کی ادائیگی میں پریشانی ہوتی ہے ۔ چنانچہ اجروثواب بھی اسی کے تناسب سے رکھا گیا ۔ اس مہینے میں غفلت کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ کچھ لوگ رجب میں بدعات وخرافات میں لگ جاتے ہیں ،اورجب شعبان آتا ہے تو سست پڑجاتے ہیں ۔

دوسری حکمت:

 یہ کہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ کے پاس پیش کیے جاتے ہیں اور اللہ کی رضامندی حاصل کرنے اور عمل کے قبول ہونے میں روزہ کی بہت اہمیت ہے ۔ کیونکہ اس میں تواضع ہوتا ہے ،انکساری ہوتی ہے اور فروتنی پائی جاتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھتے تھے اور لوگوں کی غفلت کا فائدہ اٹھاتے تھے حالانکہ آپ وہ نبی ہیں جن کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے گئے تھے ۔اب آپ تصور کرسکتے ہیں کہ شعبان کے اس مہینے میں ہمیں اللہ کے نبی کو اسوہ بنانے کی کس قدر ضرورت ہے ۔

اس لیے آئیے ہم سب ماہ شعبان کی قدر کریں اوراس میں زیادہ سے زیادہ روزہ رکھنے کا عہد کریں ۔

مکمل تحریر >>

جمعرات, دسمبر 29, 2011

نئے سال کے آغاز پر خوشی كا اظہار کیوں؟

0
شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے ماہ جنوری کی شروعات ہونے ہونے کو ہے، یعنی 2012 کے شروع ہونے میں کچھ ہی وقت باقی ہے۔ اس موقع پر نوجوان طبقہ کچھ زیادہ ہی پرجوش نظر آتا ہے۔ کہیں کارڈوں کے تبادلے کئے جاتے ہیں، کہیں فون وغیرہ کے ذریعہ مبارک بادیاں دی جاتی ہیں ، کہیں نئے سال کے موقع پر پر تکلف جشن منایا جاتا ہے۔ نئے سال کے جش پر غیر مسلم توکیا…. مسلم معاشرہ کے بہت سے افراد بھی اُن سے پیچھے نہیں ہوتے ۔
سوال یہ ہے کہ ماہ جنوری سے شروع ہونے والے سال پر اس قدر خوشی کیوں؟ ….بحیثیت مسلمان ہم غورکریں کہ کیا اس نئے سال سے مسلمانو ں کا کچھ لینا دینا ہے۔ آج پوری دنیا اقتصادی عالمی بحران سے دوچار ہے ، مہنگائی آسمان چھوتی جارہی ہے ….کیا ایسے میں اس کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنے ماضی کا محاسبہ کئے بغیر اور اپنے ماضی سے سبق ليے بغیر اندھادھند نئے سال کے جشن میں مدہوش ہوجائے؟ اس طرح کے کئی اہم سوالات ہیں جس پر ہر فرد کو غور کرنا چاہيے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نئے سال كى مناسبت سے خوشياں منانا انسانی عقل کے خلاف ہے کیونکہ ہر پل انسان کے ليے نیا ہے اور قیمتی ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی کی ساعتوں پر گہرائی سے غور کرے تو وہ ہر پل اپنے خالق کا شکر بجا لانے والا ہوگا کیونکہ موت وزندگی سب اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی بھی انسان اس کی مرضی کے بغیر ایک سکنڈ نہیں جی سکتا۔ پھر جو پل ، جو دن، جو مہینہ اور جوسال گزر جاتا ہے وہ ماضی کا حصہ بن جاتا ہے اور زندگی میں لوٹ کر پھر کبھی واپس نہیں آتا۔ اپنی قیمتی زندگی کے جانے پر انسان کو افسوس ہونا چاہئے کہ اس کی زندگی کا ایک حصہ گزرگیا۔ وہ ایک سال اپنی زندگی سے دور ہوا ہے اورقبر سے قریب ہوا ہے، پھر اسے یہ بھی سوچنا چاہيے کہ جو وقت گزرا ہے اس میں اُس نے کیا کیا ؟ کیا کھویا ….کیا پایا؟ کہیں اس کی زندگی کے قیمتی لمحات ، ایام اور مہینے یوں ہی تو نہیں گزرگئے ، کہیں ان ایام میں اس نے کسی کو ستایا دبایا تو نہیں ، کسی کا حق تو نہیں مارا ، کسی کو تکلیف تو نہیں پہنچائی ، اپنے خالق کی نافرمانی تو نہیں کی، جس مقصد کے ليے اسے دنیا میں بھیجا گیا تھا اس کو بھلا تو نہیں بیٹھا!….ظاہر سی بات ہے کہ اگر ایک شخص اس طرح سے اپنی بیتی ہوئی ساعتوں کے بارے میں سوچے گا تو یقینا وہ شرمندہ ہوگا، اپنے عملوں پر افسوس کرے گا۔ کیونکہ ہر انسان سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں …. وہ سوچے گا کہ اس نے اس حالت میں دوچار دن نہیں، دوچارہفتے یا دوچار مہینے نہیں بلکہ پورا سال گزاردیا جواچھا خاصا وقت ہے۔ پچھلے سال جنوری کے مہینہ سے دسمبر تک وہ یوں ہی غفلت میں رہا اور پھر اسے معلوم ہوا کہ اچانک نیا سال آگیا ….ایسے میں اس کے سامنے نئے سال کا منظر نہیں ہوگا بلکہ دیر تک گزرے ہوئے سال کے کربناک مناظر اس کی نگاہوں میں گھومتے رہیں گے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب کیفیت اِس طرح کی ہوگی تو پھر نئے سال کی آمد پر خوشی کیسی ؟ پارٹیاں کیسی ؟ ناچ گانا کیسا ؟ موج مستی کیسی ؟

پھراگر نیا سال منانے کے پس منظر میں مسلمانوں کی بات کی جائے توان کے لئے کسی بھی لحاظ سے نئے سال کو منانا مناسب نہیں ہے کیونکہ جنوری سے شروع ہونے والے نئے سال کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلاشک و شبہ اس کا تعلق شمسی یا عیسوی کیلنڈر سے ہے جب کہ اسلامی کیلنڈر قمری ہے، جس کے ساتھ اسلام کا نظام زندگی جڑا ہوا ہے۔ اسلام کے بہت سے احکام کا نفاذ محض قمری کیلنڈر سے ہوتا ہے، شمسی یا عیسوی کیلنڈر کے مطابق اسلام کے کسی بھی حکم کا نفاذ نہیں ہوتا۔ اسلامی کیلنڈر کے لحاظ سے نئے سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ جنوری سے نہیں ۔….یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ محرم سے بھی اگر اسلامی کلینڈر کی شروعات ہورہی ہے تو اُس میں جشن منانے کی اجازت نہیں۔ اسلام قطعا اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ لوگ نئے سال پر یا کسی بھی موقع پر آپے سے باہر ہوجائیں ، گولے پٹاخیں چھوڑیں، آتش بازی کریں ، ہواﺅں میں غبارے اڑائیں ، رقص وسرود کی محفلیں سجائیں، عریانیت کا مظاہرہ کریں یا عریاں پروگراموں میں حصہ لیں۔ اسلام سادہ مذہب ہے، سادگی کو پسند کرتا ہے، خرافات ، لغویات اور بے جا حرکتوں کے لیے اسلامی معاشرہ میں کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام کے نزدیک بہترین عمل وہ ہے جو اللہ کی عبادت و فرمانبرداری اور مخلوق الهى کی خدمت پر مبنی ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم سوسائٹیوں ، محلوں اور مسلم آبادیوں کو اس طرح کی تقریبات سے محفوظ رکھا جائے۔ اس سلسلہ میں ملت کے ذمہ دار وحساس افراد اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔
مکمل تحریر >>

جمعہ, فروری 18, 2011

معراج کا تحفہ


مکہ کے پرآشوب ماحول میں دعوتِ محمدیہ کی کشتی ہچکولے کھارہی تھی ،محسن انسانیت ہرطرف سے کفارِ قریش کے نرغے میں تھے ، حضرت خدیجہ رضى الله عنها اور ابوطالب کی وفات نے مزید غم والم کو دوآتشہ کردیاتھا۔ ایسے ہمت شکن ماحول میں اللہ تعالی نے اپنے نبی کی دادرسی کی اوراسراءومعراج جیسے عظیم معجزے سے نوازا ۔حضورپاک  صلى الله عليه وسلم کوآپ کے جسم مبارک سمیت بُراق پر سوار کرکے حضرت جبریل  عليه السلام کی معیت میں مسجد حرام سے بیت المقدس تک سیر کرائی گئی ۔ اس کے بعد اسی شب آپ کو بیت المقدس سے آسمانِ دنیا پر،پھر وہاں سے یکے بعد دیگرے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا ،اس کے بعد آپ سدرة المنتہی تک لے جائے گئے ،پھر آپ کے لیے بیت معمور کو ظاہر کیاگیا۔ اس کے بعد حضرت جبریل عليه السلام نے آپ کو مالک عرش بریں کے دربار میں پہنچادیا،آپ اللہ تعالی سے اتنے قریب ہوئے کہ دو کمانوں کے برابریا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت اعلی وارفع اورگرانقدر تحفہ دیا،یعنی پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں،پھر حضرت موسیٰ عليه السلام کے مشورے سے اس میں تخفیف کرایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں باقی رکھیں ، اس کے بعد پکارا گیا : ”اے محمد! میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی،ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر ہوگا “۔ (بخاری 7517 مسلم162)
جو چیز جس قدر اہمیت رکھتی ہے اسی قدر اس کے لیے اہتمام کیاجاتا ہے،ذرا غورکیجئے کہ روزہ کا حکم فرش پر اُترا، زکاةکا حکم فرش پراُترا،حج کاحکم فرش پر اُترا اورشریعت کے سارے احکام فرش پر اُتارے گئے لیکن نماز کا تحفہ دینے کے لیے ربِ کائنات نے اپنے حبیب کو عرش پربلایا۔ کیوں؟ نماز کی عظمت ،اہمیت اورانفرادیت کے اظہار کے لیے کہ یہ ایک مسلمان کی پہچان ،حصولِ جنت کا ذریعہ اوررضائے الٰہی کا وسیلہ ہے ۔
٭نماز کلمہ شہادت کے اقرا ر کے بعد اسلام کا دوسرا بنیادی رکن ہے ،جو امیر وغریب ،بوڑھے اور جوان ، مردوعورت ،بیمار وتندرست سب پر یکساں فرض ہے ۔ کسی بھی حالت میں معاف نہیں ۔ حتی کہ ایک مریض اگر کھڑا ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھے گا،اگر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا تو پہلوپر لیٹ کر پڑھے گا ،اگر اس سے بھی عاجز ہو تو اشارے سے پڑھے گا ۔(بخاری 1057)خلاصہ یہ کہ جب تک عقل ساتھ دے رہی ہوترکِ نماز کسی بھی صورت میں جائز نہیں ۔ ہاں! ایک عذر ہے ،لیکن اللہ تعالیٰ نے اس عذر سے مردوں کو عافیت بخشی ہے اور وہ ہے حیض ونفاس کا خون ۔
وفد طائف کے سردار نے جب قبول اسلام کے وقت اپنے وفد کے ہمراہ آپ ا سے ترکِ نماز کی درخواست کی تھی تو آپ نے انہیں خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا: لاخیر فی دین لیس فیہ رکوع (ابوداؤد2635) ”اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں نماز نہ ہو “۔
 ٭نماز ہمارے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ،جب آپ کو کسی طرح کی پریشانی لاحق ہوتی تونماز کی طرف جلدی کرتے (ابوداؤد 1319) اور سیدنا بلال صسے فرماتے أرحنا بھا یا بلال (رواہ الدارقطنی فی العلل615) ”بلال! اذان دو ،تاکہ نماز کے ذریعہ راحت ملے “
ہمارے آقا نے سخت ترین لمحات میں بھی دشمنوں کے حق میں بددعا نہیں فرمائی ،یہاںتک کہ اہل طائف جنہوں نے آپ کو لہولہان کردیا تھا ،ان کے حق میں بھی ہدایت کے کلمات کہے لیکن غزوہ احزاب میں جب کفارنے آپ کو جنگ میں مشغول کردیا اور آپ بروقت نماز ادا نہ کرسکے تو آپ نے آزردہ خاطری کے سبب ان کے خلاف بددعا فرمائی : ”اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھردے جس طرح انہوں نے ہمیں نماز عصر سے باز رکھا“۔   (بخاری2729 مسلم1002)
 ٭ کوئی ایسی عبادت نہیں جس کی ادائیگی کو ترک کرنے پر بچے کومارنے کا حکم ہوا ہو سوائے نماز کے ۔ چنانچہ پیارے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں نماز کی پابندی نہ کرنے پر ان کی پٹائی کرو“ ۔   ( ابوداؤد 495 وصححہ الالبانی )
 ٭قیامت کے دن حقوق اللہ میں سب سے پہلا سوال نماز کا ہوگا،اگر نماز درست نکلی توسارے اعمال درست اور اگر نماز خراب نکلی تو سارے اعمال بیکار ہوں گے ۔       (ترمذی 2616 وحسنہ الالبانی )
نماز کی اسی اہمیت کے پیش نظر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کو ہمیشہ اور باربا راس کی تاکید کی اوران لوگوں سے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایاجو نماز وں کے لیے حاضر نہیں ہوتے ۔ایک بار آپ نے ارشاد فرمایا کہ” جولوگ جماعت میں حاضر نہیں ہوتے میرا خیال ہے کہ ان کے گھروں کو جلاکر خاکستر کردوں۔“(بخاری 6712-612 مسلم1047 )
حیات مبارکہ کے آخری ایام میں جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم شدید کرب سے دوچار تھے ،لمحہ بہ لمحہ تکلیف بڑھتی جارہی تھی، آپ کو ایسی نازک حالت میں بھی فکر ہے تو بس نماز کی، چنانچہ  اپنے اصحاب کووصیت فرمارہے ہیں: الصلاة الصلاة وما ملکت ایمانکم ”نماز….نماز…. اورتمہارے زیردست“۔(احمد6/290صححہ الالبانی )
حضرت عمر فاروق رضى الله عنه امامت فرمارہے تھے ،آپ پر قاتلانہ حملہ ہوتاہے،عبدالرحمن بن عوف رضى الله عنه کا ہاتھ پکڑکر امامت کے لیے آگے بڑھادیتے ہیں،آپ کو آ غشتہ بخاک وخون گھر لایاگیا،آپ پر غشی طاری ہوگئی تھی ،جب افاقہ ہوا تو سب سے پہلے فرمایا: ھل صلی المسلمون ؟ ”کیامسلمانوں نے نماز پڑھ لی“،حاضرین نے کہا: ہاں! امیرالمو منین مسلمانوں نے نماز پڑھ لی ۔تب آپ نے فرمایا: ھا اللہ لاحظ فی الاسلام لمن ترک الصلاة ”اللہ کی قسم جس نے نماز ترک کردی اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں “۔(رواہ مالک فی المو طا 51وابن ابن شیبة فی الایمان 103)
 پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوناچاہا تو زخم سے خون کے فوارے پھوٹنے لگے ،آپ نے عمامہ منگوایا ،اس سے اپنے سر کو باندھا پھر نماز ادافرمائی ۔ظاہر ہے ایسی زندگی سے کیا فائدہ جس سے احکامِ الٰہی میں کوتاہی آجائے 
اے طائرلاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتا ہی
 آج یہی نماز جو تحفہ معراج تھی ہمارے بیچ ناقدری کی شکار ہے ،اس کی عظمت سے اب تک ہماری اکثریت آگا ہ نہ ہوسکی ہے ،مؤذن پانچ وقت مسجد کے محراب سے نمازکے لیے بلاتا ہے لیکن ہماری اکثریت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی،ہم عشق رسولِ کے دعویدار ضرور ہیں لیکن نماز حو ہمارے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ہمیں اس کی چنداں پرواہ نہیں۔ مساجد کی کمی نہیں لیکن نمازی ندارد
 مسجد تو بنالی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپناپُرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

مکمل تحریر >>