منگل, دسمبر 03, 2013

برادرعزیز ثناء اللہ محمد صادق تیمی کے نام

برادرعزیزشيخ ثناءاللہ محمدصادق تیمی حفظہ اللہ
 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 
ہم بخیر ہيں اور امید کہ آپ کے حالات بهى شگفتہ ہوں گے ۔
ہر انسان کے پاس مثبت يا منفى  جذبات ہوتے ہیں جنہیں اگلنے میں ہی وہ عافیت سمجھتا ہے، آج اچانک آپ کی یاد آئی سوچا کہ اپنے جذبات آپ سے بھی شیئر کرلوں،آج دینی مدارس کے طلبہ جب عصری درسگاہوںمیں داخلہ لیتے ہیں تو مرعوبیت کا شکار ہوکر خود کو سیکولر باور کرانا چاہتے ہیں، اس طرح اپنی شناخت تک کھو بیٹھتے ہیں،آپ جے این یو کے آزادانہ ماحول میں رہ کر اپنے اسلامی شعار کو برقرا رکھے ہوئے ہیں،اوردعوتی کاموںمیں بھی سرگرم رہتے ہیں جس کی رپورٹ روزناموںمیں پڑھنے کو ملتی رہتی ہے، اس کے لیے دل کی گہرائی سے آپ کومبارکباد پیش کرتے ہیں، اللہ پاک آپ کو دین پر ثابت قدمی عطا فرمائے اوردینی مزاج بحال رکھے۔آمين
اللہ پاک نے آپ کوتخلیقی صلاحیت سے نواز رکھاہے ،کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں ،عربی اورانگریزی میں مہارت رکھنے کے ساتھ آپ کی اردو ادب میں منثور اورمنظوم تخلیقات کلاسیکی حیثیت رکھتی ہیں،جن لوگوں کی تخلیقات میں دلچسپی سے پڑھتا ہوں ان میں سرفہرست آپ ہیں،ظاہر ہے کہ یہ آپ کی وسعت مطالعہ ، لگن،تندہی اورجہدمسلسل کا نتیجہ ہے، ایسی نعمتیں سب کو نہیں ملا کرتیں ،اورجن کو ملتی ہیں بسااوقات صحیح رہنمائی نہ ملنے یا معاون وسائل کے فقدان کی وجہ سے وہ قوم کوکچھ دینے سے عاجز رہ جاتے ہیں ، میں اس بات کا قائل ہوں کہ ہمارے جو بچے باصلاحیت ہیں ان کی صلاحیت سے قوم کو فائدہ ہو،ان کی صلاحیت مثبت رخ اختیار کرے ،آج قحط الرجال کا دورہے ایسے حالات میں آپ جیسے نوجوانوں کو دیکھ کر آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلکتے ہیں۔بہرکیف اپنے ذوق اوررجحان کے مطابق منظم پلاننگ کے ساتھ کام کریں ،آج ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ کتنے لوگوں کی صلاحیتوں کا استحصال ہورہا ہے ،ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنے کی بیحد ضرورت ہے ۔ بات سے بات نکلتی ہے:

  •  دعوتی میدان میں اگر آپ اصلاحی کتابوں کا جائزہ لیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اب تک جوکتابیں اردو میں شائع ہوئی ہیں وہ معلوماتی کہی جاسکتی ہیں دعوتی نہیں ، یا اگر انہیں دعوتی مقصد کے تحت تیار کیابھی گیا ہے تواس میں مدعو کی نفسیات کا لحاظ نہیں ركها گیا، اکثرکتابوں کا آغاز منفی اسلوب میں ہوتا ہے،جارحانہ انداز ہوتا ہے،آخرانہیں ہم دعوتی مواد میں شمار کیسے کرسکتے ہیں، ہم نے جن عربی کتابوں کا اردومیں ترجمہ کیا ہے ان میں جارحانہ مقدمہ کا اضافہ کرکے کتاب کی افادیت کو کم کردی ہے ، بلکہ ہم نے اب تک چند فروعی مسائل کو ہی اصل دین سمجھ رکھا ہے اور اپنے مخالف سے انہیں مسائل کو چھیڑکر بحث شروع کرتے ہیں،  حالانکہ مثبت انداز میں عقائد کی اصلاح پر دھیان دینے کی ضرورت تھی، اصلاح معاشرہ سے متعلق کتابچے ،لٹریچرز، آڈیوز اور ویڈیوز تیار کرنے کی ضرورت تھی ، اگرعقائد اوراعمال کی اصلاح کے لیے چھوٹے چھوٹے فولڈرس بھی تیار کیے گئے ہوتے تو بہت حدتک اصلاح ہوسکتی تھی.
  • نوبت بایں جا رسید کہ ہم اپنے منصب کو بھلا کر آپسی خانہ جنگی کے شکار ہو چکے ہیں  اور وہ جن کو علمی قیادت کرنی تھی آج کرسی اور منصب کے بھوکے بن کر اپنی صلاحیت کا استحصال کر رہے ہیں نتیجہ ظاہر ہے کہ پہلے دوسرے ہماری صرف سیاسی نمایندگى کر تے تھے اب علمی نمائندگی بھی کر نے لگے ہیں.حالاں کہ ہمارے بیچ ایسے ماہر علماء اور دعاة کی ضرورت تھی جو عالمی سطح پر برصغیر کی نمایندگی کر سکیں، ظاہر ہے اس کے ليے افراد سازی کی ضرورت تھی، جن کا جو تخصص ہے ان كے تخصص کے مطابق ان کو فارغ کرنے کی ضرورت تھی، ان کو پرسکون ماحول فراہم کرنے کی ضرورت تھی... واللہ بہت افسوس ہوتا ہے اپنی قوم پر-
  •  کیا ہمیں اس بات کا احساس نہیں کہ اس قدر تقریریں ہورہی ہیں، کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں لیکن ان کے نتائج خاطرخواہ حاصل نہیں ہو رہے ہیں، ہم کانفرنسوں کے مقاصدطے نہیں کرتے یا ان کے نتائج پر ہمارا دھیان نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اتنے سارے اخراجات کے باوجود عوام پر اس کا کوئی گہرا اثر دکھائی نہیں دیتا ہے، اگر ان کے اہداف طے کئے گئے ہوتے اورانہیں حاصل کرنے کی پہلے سے پلاننگ کی گئی ہوتی تو کم ازکم حاضرین تک اپنا مثبت پیغام پہنچانے میں ضرورکامیاب ہوسکتے تھے ۔
  • اللہ پاک نے معروف کی طرف بلانے اورمنکر سے روکنے کا حکم یکساں طورپردیا ہے ،اگر ایک حصے کو اپنائیں اوردوسرے حصے کو نظر انداز کردیں تو یہ عمل حکمت دعوت کے منافی ہوگا ، آج عجیب صورت حال ہے کہ کچھ لوگ معروف کا حکم دینے پر اکتفا کرتے ہیں اور کچھ لوگ منکر کے ازالے میں اپنی پوری کوششیں صرف کررہے ہیں یہاں تک کہ دونوں فریق کی اسی سے پہچان ہونے لگی ہے ، اگرمعروف کی دعوت دی بھی جاتی ہے تو اسلوب جارحانہ اورمنفی ہوتا ہے ۔ معروف کا حکم اورمنکر کی تردیدمثبت اندازمیں ایک ساتھ ہوتی رہنی چاہیے ،یہ المیہ ہے کہ آج ہم اسلام کا تعارف کم کراتے ہیں ، صحیح عقیدے کو مثبت انداز میں کم پیش کرتے ہیں بلکہ صحیح عقیدے کوپیش کرتے وقت حکمت کوملحوظ رکھتے ہی نہیں ،ہاں! اعتراض زیادہ کرتے ہیں ۔ ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہم داعی ہیں مدعو نہیں ۔ ہمارے اکثر اوقات مخالفین کی تردید میں گذر رہے ہیں ،اگر آپ صحیح منہج کا حکمت کے ساتھ تعارف نہ کرائیں گے اورگمراہ جماعتوں کی تردیدمیں لگے رہیں گے تو مخالفین کا ہمارے تئیں کیا نظریہ بنے ہوگا اس کا اندازہ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر اچھی طرح لگایاجاسکتا ہے ۔ ہم اپنے احباب سے مودبانہ گذارش کریں گے کہ گمراہ فرقے اگرباطل کے پرچار میں سرگرم ہیں توہم حق کے پرچارمیں سرگرم بنیں ۔انداز میں نرمی ہو ، جذبات خیرخواہانہ ہوں اوراسلوب سنجیدہ اوردل کو اپیل کرنے والا ہو۔ہمیں ایک ساتھ مل بیٹھ کر سنجیدگی سے مسئلے کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا ، مدعوکو دینے کے لیے ہمارے پاس موا د کم پائے جاتے ہیں ان کے عقائد کا پوسٹ مارٹم کرنے والے موادبہت زیادہ ہیں ۔ 
  • آج لوگ حق کے پیاسے ہیں، دین کے بازارمیں کھوٹے سکوں کوفروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہیں،ہمیں اپنی ذمہ داری کوسمجھنا ہوگا ،اپنے اندر زیاں کا حساس پیدا کرنا ہوگا اورمنظم پلاننگ کے ساتھ کام شروع کرنا ہوگا۔
بات ذرا طول کھینچ گئی ،ہم عرض یہ کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کی صلاحیت سے قوم کو فائدہ ہونا چاہیے، آپ سے ہماری بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں، کوئی بھی کام کریں،ترجیحات کو سامنے رکھ کر پلاننگ کے ساتھ کریں،چاہے کام نثر كى شكل  میں ہو يا نظم كى شكل میں، ۔دعاؤں میں یاد رکھیں گے -
اللہ آپ کو اچھا بدلہ عنایت کرے،اور اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔

والسلام
مکمل تحریر >>

جمعرات, اکتوبر 04, 2012

محترم عبد الصبور عبدالنور الندوى صاحب كے نام

محترم عبد الصبور الندوى صاحب

السلام علیكم ورحمة اللہ وبرکاتہ
مزاج گرامى ؟ 
آپ کا میل ملا ، بے حد خوشی ہوئی ، ایک عرصہ سے آپ کا مجھے غائبانہ تعارف حاصل ہے ،آپ زیرتعلیم ہوتے ہوئے بھی بلوگنگ سسٹم جاری رکھے ہوئے ہیں یہ امر قابل ستائش ہے، آپ نے جو دینی مجلات کا ذکر کیا ہے مجهے تو ايسا لگتا ہے كہ  آپ نے ميرے دل كى بات چھن لى ہے ، واقعی دینی مجلات کا حال عجیب ہے ،آج کے ڈیٹ میں کتنے رسالے ہیں جو چھپ کر منظر عام پر آرہے ہیں ….لیکن ان کا فائدہ کس قدر محدود ہے اس کا احساس ذمہ داروں کو نہیں ہے ،اس وجہ سے کہ انٹرنیٹ کی ہلکی سی معلومات بھی اكثرذمہ داران نہیں رکھتے ۔ صحیح منہج کے حاملين آج بهى اس ميدان میں بہت پیچھے ہیں ،جبکہ گمراہ فرقوں کو دیکھیے کہ وه نیٹ كے ذريعه اپنے كهوٹے سكوں كو دين كے بازار ميں عام كرنے ميں كس قدر چست اور نشيط  دكها ئى دے رہے ہیں ،
کچھ اداروں کے صفحات نیٹ پر موجود بهى ہیں تو پرانے مواد جو ڈيزائننگ كے وقت اپلوڈ كيے گيے تهے وهى وہاں مليں گے، سالوں سال سے اس کی طرف ان کا دهيان نہیں گيا ، کچھ لوگ سال میں ایک مرتبہ جب اس کی فیس جمع کرنے کا موقع ہوتا ہے اپڈیٹ کردیتے ہیں، اب آپ تصور كيجيے كہ اس نیٹ كا کیا فائدہ ….اور وہ بھی مواد كو یونیکوڈ میں نہیں بلکہ پی ڈی ایف كى شكل میں اپلوڈ کرتے ہیں جس کا فائدہ نہایت محدود ہوتا ہے ۔
بہرکیف آج ضرورت ہے کہ ارباب مدارس کى توجہ اس طرف مبذول كرائى جائے ….الحمد للہ پاکستان کی جماعت اہل حدیث اس معاملہ میں بہت حد تک بہتر ہے ….اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق دے ، اور اللہ تعالی آپ کو اپنى تعليم میں کامیابی سے سرفراز فرمائے …. میری ناقص رائے ہوگی کہ ان دنوں آپ اپنے تخصص پر دھیان دیں اور ماجسترکی ابھی سے تیاری جاری رکھیں
مکمل تحریر >>

جمعرات, ستمبر 13, 2012

ایڈیٹر ہماراسماج اردو كے نام

برادرگرامی قدر ڈاكٹرخالد انور صاحب
ایڈیٹر ہماراسماج اردو
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
اللہ کرے آپ بخیر و عافیت ہوں بحمد اللہ ہم سب بھی خیریت سے ہیں۔
راقم سطور روزنامہ”هماراسماج “ کا  روز اول سے قارى  ہے ۔خبروں كے حسن انتخاب اور اداريہ کی دلآویزی نے مجھے اس کا گرویدہ بنایا ہے ۔ منجھے ہوئے صحافيو ں کی منجھی ہوئی تحریریں ہر روز باصرہ نواز ہوتی ہیں ۔ فنی اعتبار سے بھی روزنامہ ايك  معیار كا حامل  ہے  ۔ اللہ تعالی آپ کو کامیابی عطا فرمائے اور آپ کی کاوشوں کو بارآور فرماتے ہوئے انھیں قبول کرے،البتہ اسلاميات پر بهى تحريريں ہميشہ شائع ہوتى رہنى چا ہئيں، يہ ميرى گذارش ہوگى -
آپ سے ملاقات کیے ایک عرصہ ہوگیا ، میں بارہا آپ کو یا د کرتا رہتا ہوں ، متعدد باردہلی آنے کا اتفاق ہوا لیکن میری بے حسی کہیے کہ آپ سے ملاقات کا شرف حاصل نہ کرسکا ۔ حالانکہ آپ کی محبت میرے دل میں ہے ۔ اس بار موقع ملا تو ان شاء الله شرف باريابى ہوگی.  يار زنده صحبت باقى 
والسلام

مکمل تحریر >>

جمعرات, ستمبر 06, 2012

بہن اسماء کے نام

 بہن اسماء! سلام مسنون
سب سے پہلے ہم آپ کے دینی جذبہ کی قدر کرتے ہیں کہ آپ نے ہم سے رابطہ کرکے رہنمائی حاصل کرنی چاہی ۔ اللہ پاک یہ دینی جذبہ باقی رکھے ۔ فضائل درود شریف ، فضائل استغفار ، اسماءحسنی کے متعلق ہمارے پاس تو مستقل کتابيں دستیاب نہیں ہيں ۔ البتہ میں آپ کو اس سلسلے میں فرصت سے کچھ مواد فراہم کرسکتا ہوں۔ میں ذرا مشغول تھا جس کی وجہ سے بروقت جواب نہ دیا جاسکا۔اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔  
پرانی دینی کتابوں کے متعلق آپ کا سوال ہے تو اگر ممکن ہوکہ کسی کے حوالے کردیں تاکہ وہ ان سے استفادہ کرے تو کر سکتی ہیں بشرطیکہ کتابیں مستند ہوں ۔اگر ان سے استفادہ نہ کیا جاسکتا ہو تو انہیں مشین سے کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیں ۔ یا  زمین میں دفن کردیں یا جلاکر خاکستر کر دیں ۔ یا نہر و سمندر وغیرہ میں ڈال دیں تاکہ ان کی بے حرمتی نہ ہو ۔
 آپ نے کچھ ویب سائٹس کے بارے میں جاننا چاہا ہے، اس تعلق سے ہم بتائیں گے کہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا ویب سائٹ اور ان کی باتیں بھی مستند ہوتی ہیں ۔ اسی طرح آپ مندرجہ ذیل ویب سائٹس سے بھی استفادہ کرسکتی ہیں 
 آپ نے کہا کہ کیاچاروں امام برحق ہیں ۔ ائمہ یہ چار ہی نہیں تھے ،ایسے بہت سارے علماءگذرے جنہوں نے اپنے دورمیں علم کی خدمت کی لیکن چار ائمہ کے دبستان فکرمشہور ہوئے ،ان سب کی کوشش حق تک پہنچنے کی تھی، کسی نے جان بوجھ کر حق کی مخالفت نہیں کی، لیکن حق ایک ہی ہوتا ہے ،متعدد نہیں ۔ اورہرایک نے یہی بات کہی کہ جب میری بات قرآن وحدیث سے ٹکراجائے تو اسے دیوار پر مار دو، اس لیے اب معیار قرآن وحدیث ہوگا ائمہ نہیں ہوں گے ۔ اس لیے ان ائمہ کی طرف نسبت کوئی عیب کی بات نہیں لیکن جن کی بات قرآن وحدیث سے زیادہ قریب ہے اس کی پیروی ہونی چاہیے ۔ خلاصہ یہ سمجھیں کہ سارے ائمہ کا احترام ہوناچاہیے ۔البتہ معیار قرآن وحدیث ہو، نہ کہ کسی امام کی بات، اگر حدیث کچھ کہہ رہی ہو اورامام کی بات کچھ تو حدیث کے سامنے آمنا صدقنا کہیں ۔یہی مسلمان کی شان ہونی چاہیے ۔ 
 اردو زبان میں کئی کتابوں کاآپ نے حوالہ دیا جو آپ کے پاس ہے یا جسے آپ زیرمطالعہ رکھنا چاہتی ہیں ۔اس تعلق سے عرض ہے کہ آپ دارالسلام ریاض کی مطبوعات (اردو ہو یا انگریزی ) حاصل کریں ،ان کا مکتبہ کویت میں بھی دستیاب ہے، ان کی کتابیں مستند اورمعلومات افزا ہوتی ہیں ۔ مثلاً منہاج المسلم شیخ ابوبکر جابر جزائری، فتاوی برائے خواتین ، فقہی مسائل : ڈاکٹر صالح الفوزان، الرحیق المختوم  شیخ صفی الرحمن مبارک پوری، یہ اچھی کتابیں ہیں جن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ 
  جہاں تک دین پر استقامت کی بات ہے، تو اس کے لیے سب سے بہتر قرآن کی تلاوت ہے، عرب سے زیادہ اجڈ اور گنوار قوم دنیا میں کوئی نہیں تھی، لیکن قرآن نے ان کو بدل کر دنیا کا قائد بنایااور تہذیب وسلیقہ سے آراستہ کیا ۔ آج بھی یہ وہی کتاب ہے جو اس وقت تھی ،البتہ فرق اس کے ساتھ معاملہ کرنے کا ہے جس کی وجہ سے قرآن اپنا اثر نہیں دکھا رہا ہے ۔ قرآن انقلابی کتاب ہے ،قرآن تبدیلی لانے والی کتاب ہے ،لیکن تب جب ایک آدمی خود کے اندر تبدیلی پیدا کرنے کے لیے خود کو تیار کرے گا۔ جہاں ثبات قدمی کے لیے نیک لوگوں کی صحبت ضروری ہے ،اچھی کتابوں کا مطالعہ ناگزیر ہے ،دین کے احکام کو بجالانا اہم ہے ،وہیں  قرآن کی تلاوت ضروی ہے ۔ لیکن تلاوت ویسے نہیں جیسے ہم عام طور پر کرتے ہیں بلکہ ایسے کہ ان کا اثر ہم پر پڑے ۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے کچھ کرنا ہوگا ۔ کیا کرنا ہوگا؟
دن یا رات میں ایک بار قرآن کی تلاوت ضرور کریں،تلاوت سے پہلے مسواک کرلیں، وضو کرکے پرسکون جگہ پر بیٹھیں جو شوروہنگامہ سے بالکل خالی ہو ، سریلی آواز سے تلاوت شروع کریں اور تجوید کی رعایت کریں ۔ اگر قرآن کی زبان نہ سمجھتى ہوں تو ترجمہ قرآن کے ساتھ ہی تلاوت ہو، اوراس کے معانی سمجھتى جائیں، شروع میں آیت کے مفہوم کو سمجھ لینا کافی ہے، گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں ۔ ورنہ ذہن منتشر ہوجائے گا ۔جب ایسی آیت سے گذرہو جو دل پر اثراندازہورہی ہو تو اس سے مرور کرام نہ کریں بلکہ بار بار اس کا اعادہ کریں کیوں کہ یہی وہ انفعالی کیفیت ہے جو ہمیں تلاوت قرآن سے مطلوب ہے، اوریہی انسان کے اندر تبدیلی لانے کاسبب بنتی ہے ۔ جب ہم کوئی کتاب پڑھتے ہیں، یا رسائل وجرائد کا مطالعہ کرتے ہیں تومقصد محض الفاظ کی خواندگی نہیں ہوتا بلکہ ہم اس کے پیغام کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر اللہ کے پیغام کو جو عربی میں ہمارے پاس ہے کیوں سمجھنے کے لیے سنجید ہ کوشش نہیں کرتے جس پیغام کے اندر انقلاب لانے اور تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔   

والسلام 
مکمل تحریر >>

جمعرات, اگست 09, 2012

ابرا هيم جمال صاحب كے نام

ابرا هيم جمال صاحب
سلام مسنون 

مجلہ مصباح اردو زبان میں کویت سے شائع ہونے والا ایک کثیر الاشاعت مجلہ ہے جو دعوتی اوراصلاحی موضوعات پر مشتمل ہوتا ہے ۔ مثبت اسلوب میں عقائد کی اصلاح بھی اس کا بنیادی ہدف ہے ۔ 
آپ نے ہمیں ایک مضمون  ارسال کیا اس کے بعد بالكل بھول ہى گئے ، آج تک اس مقالے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ، واقعی لوگوں نے آپ کی تحریر کو بہت پسند کیا ، تصور کیجئے کہ آپ کہاں ہیں اور کہاں آپ کی تحریر پہنچ کر امت مسلمہ میں بیداری لانے کا سبب بن رہی ہے ، اگر ممکن ہوسکے تو ضرور یہ سلسلہ جاری رکھیں، مضامين کسی بھی کالم سے متعلق لكه سكتے ہیں ۔ البتہ ہميں جن کالمز ميں زياده مضامين دركار ہوتے ہیں وہ ہیں ”گوشہ خواتین “ ”باغیچہ اطفال “ ”درس قرآن وحدیث “ ” اصلاح معاشرہ “ ہمیں آپ کے مضمون کا شدت سے انتظار رہے گا ۔ اللہ آپ کو صحت وعافیت کے ساتھ رکھے ، ہم آپ کی نگارشات کے چشم براہ ہیں، ہم نے آپ کی مخلصانہ باتیں پڑھیں، اللہ تعالی سارے مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرمائے۔ آمین

مکمل تحریر >>

طلبہ جامعہ امام ابن تیمیہ کے نام


آج میری چھٹی کا دن ہے ، میرے لیے چھٹی تو نام کى ہوتی ہے کیوں کہ اس دن میری مشغولیت کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتی ہے ، ليكن آج میں مادرعلمی کے خوشہ چینوں کو پہلے اپنے دل کی آواز سناؤں گا، اس کے بعد ہی کوئی کام کروں گا۔ توچلتے ہیں اپنے عزیز بھائیوں کی طرف ۔
میرے پیارے بھائیو! آپ طلب علم میں مشغول ہیں، آپ کا مقام نہایت اعلی ہے ، آپ انبیاءکی وراثت حاصل کررہے ہیں، زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھ رہے ہیں، دین ودنیا دونوں کی کامیابی کا سامان جمع کررہے ہیں، آپ کے لیے ساری مخلوق حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی دعاگوہیں۔ میں نے بھی اسی چمن میں اپنی زندگی کا اچھا خاصا وقت گنوایا ہے ، جی ہاں! گزارا نہیں ہے بلکہ گنوایا ہے ۔ زندگی کا اچھا خاصا وقت لایعنی اور بیکار کاموں میں برباد کرلیا ۔ مجھے اس کا احساس ہے ،اسی لیے آج میں اپنے دلی جذبات آپ تک پہنچانے بیٹھاہوں .... اپنی کوتاہیوں کو یاد دلانا چاہتاہوں تاکہ آپ ان سے بچ سکیں ....سلف کے قصے سنانا چاہتاہوں تاکہ آپ کی ہمت کو مہمیز لگے ۔ آپکی خیرخواہی کا حق اداکرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ اسے حرزجاں بنالیں۔

عزیز بھائیو! یوں توپڑھتے بہت سارے بچے ہیں لیکن کامیاب چندہی ہوتے ہیں ۔ کیوں؟ اس لیے کہ کامیابی محنت کے اندازے سے حاصل ہوتی ہے ، جس قدر محنت ہوگی اسی کے تناسب سے کامیابیاں بھی ملیں گی ۔ صحت اور فرصت دونوں بہت قیمتی سرمایہ ہے۔ اکثر لوگ اس نکتے کو نظرانداز کرجاتے ہیں جس کا خمیازہ انہیں بعد میں بھگتنا پڑتا ہے۔ جامعہ ایک تربیت گاہ ہے ، یہ ایک سنہری فرصت ہے ، آج میں ترستاہوں کہ کاش وہ زمانہ پھر لوٹ آتا تو میری وہ حالت نہ ہوتی جو پہلے تھی لیکن یہ قانون فطرت ہے کہ گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں ۔

عزیز بھائیو! اپنی ہمت بلند رکھیں ،احساس کمتری کے شکار نہ ہوں ،محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی ایک نہ ایک دن رنگ لاتی ہے ۔ آج جس قدر جسم کو ذلیل کریں گے کل اسی قدر عزت واحترام پائیں گے ۔ آرزوؤں اور تمناؤں سے کچھ ہوتا جاتا نہیں .... بلند ہمت انسان کی پہچان ہے کہ وہ پُرعزم ہوتاہے ۔سستی اسے چھوکر بھی نہیں جاتی ۔ وہ دنیا کے بکھیروں میں نہیں پڑتا، اس کے ذہن میں ہمیشہ یہ بات گردش کرتی ہوتی ہے کہ
 مجھ کو جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے ۔
 آسان پسندی ، بے مقصدیت اور عیش کوشی ایک مسلمان کا شیوہ نہیں چہ جائیکہ طالب علم کا شیوہ ہواور وہ بھی ایسا طالب علم جو اپنی نسبت ابن تیمیہ کی طرف کرتا ہو۔ خالد بن صفوان سے کسی نے عرض کیا کہ کیا بات ہے کہ جب میں آپ لوگوں کے ساتھ احادیث کا مذاکرہ کرنے بیٹھتا ہوں تو مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہوجاتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس لیے کہ تم انسان کی شکل میں شیطان ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ایک حریص اور علم کا جویا کبھی بھی علمی مجالس سے تھکتا نہیں بلکہ اس کے اندر مزید کی تڑپ پیدا ہوتی ہے ۔

عزیز ساتھیو ! ابھی آپ کو رہنمائی کی بہت ضرورت ہے ، علم کے میدان میں شرم زہرہلاہل ہے ،بلا جھجھک ہرکسی سے اپنے کیرئر کے تئیں مشورہ لیں ، کیا پڑھیں کیا نہ پڑھیں اس سلسلے میں اساتذہ کی رہنمائی حاصل کریں ۔ ساری باتیں کتابوں میں نہیں ہوتیں ۔ اور اگر ہیں بھی تو انہیں سمجھنے کے لیے اساتذہ کی رہنمائی درکارہے ۔ اساتذہ کی عزت کرنی چاہیے ۔ ان کی صحبت کو غنیمت سمجھنا چاہیے ۔ ہمارے ہاں ایک عجیب تصور عام ہوگیا ہے کہ استادہے تو صرف کلاس کے وقت .... ادھرکلاس ختم ہوا اورادھر استاد سے رابطہ بھی ختم.... اس سے طالب علم بہت ساری رہنمائیوں سے محروم رہ جاتا ہے ۔
نیتوں میں اخلاص پیدا کریں : دین الہی کی خدمت کے جذبہ سے تعلیم حاصل کریں، روایتی تصور کو ذہن سے بالکل نکال دیں کہ اس میدان میں غربت کا سامنا کرنا پڑے گا ، مالی حالت خراب رہے گی ، ایسا تصور ذہن میں بٹھانے والے بچے کامیاب نہیں ہوتے ۔ استاذ محترم شیخ کفایت اللہ سلفی رحمه الله سے جب میں نے ایک بار ایسی ہی کچھ شکایت کی تھی تو بہت پیار سے انہوں نے کہاتھا کہ عزیزم ! تمہارا جو کام ہے وہ کام کرتے رہو .... راستہ خود بخود ہموار ہوتا جائے گا ۔ آپ نے تو یہ حدیث تو پڑھی ہی ہوگی کہ ” جس شخص کی تگ ودو آخرت کے لیے ہوتی ہے اللہ تعالی اس کی شیرازہ بندی کرتا ہے ،اس کے دل میں بے نیازی پیدا کردیتا ہے اور دنیا اس کے سامنے جھک کر آتی ہے اور جس شخص کی ساری تگ ودو حصول دنیا کے لیے ہوتی ہے اللہ تعالی اس کے معاملے کو منتشر کردیتا ہے ، اسکی آنکھوں کے سامنے اس کے فقروفاقہ کو ظاہر کردیتا ہے اور اسے دنیا اسی قدر حاصل ہوتی ہے جس قدر اللہ نے اس کی قسمت میں لکھ دیا ہوتا ہے “ ۔ (ابن ماجہ)

مجھے یاد آتاہے جس وقت میں نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ لیا تھاشاید پہلی بارتھا کہ میں نے بانی جامعہ محترم ڈاکٹر محمد لقمان سلفی کوفون کیا، اپنے داخلہ کی اطلاع دی ۔تو بہت خوش ہوئے ، مبارکباد دی، اورجب میں نے ان سے مختصر نصیحت کی گزارش کی توآپ نے صرف ایک جملہ کہاتھا کہ
 أخلص نیتک واتق اللہ ۔
 یہ نصیحت کیا تھی گویا دریا کوکوزے میں بند کردیا گیا تھا۔ کاش کہ اللہ پاک آج بھی ہمارے اندر وہ صفت پیدا کردے ۔

اب میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں ۔ اگلی نشست میں مزید کچھ باتیں ہوں گی ۔ تب تک کے لیے اجازت دیجئے ۔ اللہ حافظ
مکمل تحریر >>

بدھ, اگست 08, 2012

محمد خالد اعظمی صاحب کے نام

برادرگرامی قدر محمد خالد اعظمی صاحب 
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

امید کہ حالات بخیر ہوں گے ۔ 

سب سے پہلے ہم آپ کے بیحد سپاس گذار ہیں کہ آپ ہر ماہ ماہنامہ مصباح کے لیے وقت دیتے ہیں اور قلمی تعاون پیش کرکے ہمارا ہاتھ بٹاتے ہیں ، دعا ہے کہ ہم سب نے دعوتی میدان میں جو کچھ کیا ہے اللہ پاک اسے اپنی رضا کے لیے قبول فرمالے ،آمین ۔
لیکن اگر غور کیا جائے تو بہریوں کے تعلق سے کسی نے اب تک کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ ان کے تئیں معلومات مسلمانوں کو فراہم کی جاتی رہی ہے لیکن براہ راست ان کو اب تک خطاب نہیں کیا گیا ہے کیا اللہ پاک کل قیامت کے دن ان کے بارے میں ہم سے نہیں پوچھیں گے ؟ ہمیں اس کی ذمہ داری ابوانس نے دی تھی لیکن ڈیوٹی کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ ہم سے یہ کام نہ ہوسکا، اورکاموں کے ہجوم میں ابھی بھی یہ کام نہیں ہوسکتا ، سال کے اخیرتک مجھے عربی زبان میں ”کیف تدعوالھندوس الی الاسلام؟ کے موضوع پر دعوتی گائڈ تیارکرکے دیناہے، اسی لیے میں نے آپ کو ذمہ داری دی تھی ،کویت کی حد تک غورکیا جائے تو بہری کویتی منڈیوں اورتجاری اداروں پر قابض ہوتے جارہے ہیں جو مسلمانوں کے لیے بالعموم اوراہل کویت کے لیے بالخصوص خطرے کی گھنٹی ہے ۔ ابھی تو وہ اقتصادی ناکہ بندی کریں گے پھر مذہبی ناکہ بندی بھی شروع کرسکتے ہیں ، 
میں ذاتی طور پر اس کام کی بیحد ضرورت محسوس کررہاہوں ، یہ کام وہی کرسکتا ہے جو دعوتی شعور رکھتا ہو، اوربہریوں کے عقائد کی روشنی میں براہ راست ان سے خطاب کرسکے ۔ 
مسئلے کی نزاکت پر سنجیدگی سے غورکرکے فوری فیصلہ لینے کی ضرورت ہے ۔ میری تجویز تھی کہ آپ ہی اس کام کو انجام دیتے ۔ مولاناطاہر مدنی صاحب ابھی کویت میں تشریف رکھتے ہیں اور دیگر علماء بھی رمضان کے بابرکت ایام میں کویت تشریف لاتے ہیں ان سے مل کربآسانی کام کیا جاسکتا ہے ۔ میرے پاس بہریوں کے تعلق سے اردو زبان میں کچھ کتابیں بھی دستیات ہیں،اگر حامی بھریں تو وہ کتابیں میں پہلی فرصت میں آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ 
امید کہ میری پکار صدا بصحرا ثابت نہ ہوگی ۔ 
والسلام 

مکمل تحریر >>

جمعرات, مئی 10, 2012

محترم جناب شیخ عبدالمنان السلفی صاحب كے نام

 گرامی قدر محترم جناب شیخ عبدالمنان عبدالحنان السلفی صاحب

 ایڈیٹرماہنامہ السراج حفظکم اللہ ورعاكم

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

امید کہ حالات بخیر ہوں گے

 یہ میرے لیے بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ آپ نے مجهے یاد فرمایا۔ اور ميرے تئيں اپنى نيك خواہشات كا اظہار فرمايا،  ذره نوازى كا بہت بہت شكريہ.

آپ نے ماہنامہ "السراج" کے لیے مضامین ارسال کرنے کا حکم دیا ہے یہ میری  سعادتمندی ہوگی کہ ميرے مضامين آپ کے موقر رسالہ میں شائع ہوں ليكن اس كے ليے یکسوئی دركار هے جو فى الحال کاموں کے ہجوم میں مجهے دستياب نہيں، میں آپ جیسے ہى باہمت مشائخ کو نمونہ بنانے کی کوشش کرتا ہوں، مجهے بهى آپ سے الله كى خاطرمحبت ہے، ہم الله پاک سے دعا كرتے ہیں كہ وه ذات بارى آپ كو اپنا محبوب بنائے جس كى خاطر آپ نے مجھ سے محبت كى ہے. 

میں آپ کو زمانہ طالبعلمی سے پڑھتا آرہا ہوں اور آپ کی تحریر کو بے حد پسند کرتا ہوں۔ اللہ پاک آپ سے زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت لیتا رہے،  ان شاءاللہ رابطے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ ماشاء اللہ نیٹ سے بھی آپ کا تعلق ہے، جو ہمارى خوشی کو مزيد دوبالا كرتا ہے۔ آپ کے والد محترم شیخ عبدالحنان کو اللہ تعالی صحت وعافیت سے رکھے اور آپ پر ان کا سایہ تا دیر قائم رکھے۔ آمین ۔ 

والسلام

صفات عالم محمد زبیر تیمی 

مکمل تحریر >>

جمعرات, جنوری 05, 2012

شيخ محمد مشتاق مدنی صاحب كے نام

برادر گرامی قدر محمد مشتاق مدنی صاحب
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
امید کہ حالات بخیر ہوں گے
آپ کا مرسلہ برقی گرامی نامہ موصول ہوا ، یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ جبیل دعوة سنٹر میں دعوتی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ سے ہم اچھی طرح متعارف ہیں ۔ نام ہی شخصیت کی پہچان کے لیے کافی ہے ۔ کرم اللہ صاحب وزارة الاوقاف کے ایک شعبے میں برسرروزگار ہیں، کدار نات اصل میں ایک تعلیم یافتہ نومسلم ہیں جو الحمدللہ میرے ہی ہاتھ پر اسلام قبول کیے ہیں اور فی الحال نیپالی زبان میں مساعد داعى كى حيثيت سے IPC ميں کام کر رہے ہیں ۔

  ہم سب خالص غیرمسلموں میں کام کر رہے ہیں اور آپ بھی چونکہ ہمارے  میدان کے ہیں ۔ اس ليے ہم آپ کویہ خوش خبری دینے میں فخر محسوس کررہے ہیں کہ ہندی زبان میں لکھنے والوں کی تعداد ایک زمانہ پہلے بہت کم تھی اب الحمد للہ دعوت کے ليے لوگوں کے اندر تڑپ پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔ اسی مقصد کے تحت ہم لوگوں نے ایک بلوگ شروع کیا ہے ۔ آپ سے گذارش ہے کہ براہ مہربانی اس بلوگ کی زیارت کریں ۔ اس میں خالص غیر مسلموں کے لئے مضامین لکھے جاتے ہیں ۔ اور آپ ہمیں اپنا تعاون دیں۔ کیونکہ آج نیٹ پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔
والسلام ۔ یار زندہ صحبت باقی 
احباب ورفقاءکو سلام عرض کریں گے اور مجھ ناچیز کو دعاؤں میں یاد رکھیں گے ۔بقیہ سب خیریت ہے
والسلام علیکم
أخوکم ومحبکم
صفات عالم محمد زبیر تیمی

مکمل تحریر >>

جمعرات, دسمبر 15, 2011

ايڈيٹر روزنامہ قومی تنظیم كے نام

محترم ايڈيٹر روزنامہ قومی تنظیم ! تسلیمات 

بڑی خوشی کی بات ہے کہ اب آپ نے روزنامہ "قومی تنظیم" کو نیٹ پر اپلوڈ كرنا شروع کردیا ہے ۔ بہار سے تعلق رکھنے والے گلف ممالک میں مقیم تاركين وطن کی ہمیشہ شکایت رہتی تھی کہ قومی تنظیم پڑھنے کو نہیں ملتا ہے، جوشکایت اب الحمد للہ دور ہوگئی ہے ۔ اس کے لیے ہم آپ کو دل کی گہرائی سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ روزنامہ " قومی تنظیم" قوم کو منظم کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے ۔ایں دعا ازمن وازجملہ جہاں آمین باد
مکمل تحریر >>

جمعرات, دسمبر 08, 2011

حافظ امداد صاحب كے نام

محترم حافظ امداد صاحب
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
امید کہ حالات بخیر ہوں گے
آپ نے ایک عرصہ پہلے حدود کے موضوع پر طویل مقالہ ارسال کیا تھا لیکن چونکہ وہ اس قدرمبسوط ہے کہ رسالے کا حجم اسے برداشت نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے ہم نے اس کی اشاعت کو مؤخر کیا ہے ۔ رہے دوسرے مقالات تو کبھی بروقت نہ ملنے کی وجہ سے بھی شامل اشاعت نہیں ہوپاتے اور کبھی اختلافی چیزیں بھی اشاعت میں رکاوٹ بنتی ہیں ۔ ہم اس رسالے میں کسی فکر کی نمائندگی نہیں کرنا چاہتے ۔ ہمارا ہدف اسلام کی آفاقیت کو عام کرنا اور معاشرے کی اصلاح ہے اور بس ۔ ہمارے پاس جو کوئی بھی اپنی تخلیق روانہ کرتا ہے ہم اسے شامل اشاعت کرتے ہیں ۔ بشرطیکہ مجلہ کے ہدف پر اترتا ہو۔ آپ کی شکایت کا ہمیں احساس ہے ، اور آپ کی شکایت بجا ہے ، تاہم ہمیں معذور سمجھتے ہوے آئندہ اپنا قلمی تعاون پیش کریں گے ۔
مولانا سراج سے میں اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں ۔ میں نے ان سے بھی گذارش کی تھی کہ وہ ہمیں اپنے قیمتی مقالات سے نوازیں ۔انہیں میر اسلام عرض کریں ۔
محترم ! ہمارے پاس کسی طرح کے ذہنی تحفظات نہیں ہیں ۔ آپ تو خود بھی مصباح کو پڑھتے ہی ہوں گے، ہر طرح کے قلمکاران اس میں شرکت کرتے ہیں ۔ آپ کی شرکت بھی ہمارے لیے فخر کا باعث ہوگی ۔
والسلام


مکمل تحریر >>

بدھ, دسمبر 07, 2011

برادرم علاء الدین عين الحق مكى کے نام

راقم سطور کے نام برادرم علاء الدین عين الحق مكى کا ارسال کردہ مکتوب اور اس کا جواب ذیل میں ملاحظہ  فرمائیں :

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کہ بخیر ہوں گے،آپ اپنے اب تک کے دعوتی اور تعلیمی تجربات کی روشنی میں ایک احصائیہ پیش کیجیے کہ اب تک دعوتی اور اسلامی اشاعتی اور نشریاتی میدان میں ویب سائٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی شکل میں ہندی اور اردو زبان میں کیا کچھہ ہورہا ہے اور مزید کس چیز کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ جو کام ہورہا ہے اس کا منفی پہلو کیا ہے تاکہ آئندہ اس کے تدارک کے لئے مثبت طور پہ اقدام کرنے میں آسانی ہو۔ کیا اردو اور ہندی میں ایک جامع اور اطمینان بخش ویب سائٹ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے؟
وجزاکم اللہ خیرا،
علاء الدین عین الحق مکی
مرکز وذکر

برادرگرامی قدر شیخ علاءالدین عین الحق مکی صاحب
و عليكم السلام ورحمة الله وبركاته
آپ کا ای میل موصول ہو ا، تاخیر کے لیے معذرت خوا ہوں، لیکن ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیربھی تھا بہرکیف میں آپ کے نیک جذبات کی قدرکرتا ہوں کہ آپ نے اسلامی ویب سائٹس کی ضرورت محسوس کی
آج المیہ یہ ہے کہ شیعوں، قادیانیوں اور قبرپرستوں نے نیٹ پر دین کی خدمت کے نام سے زہر اگل رکھا ہے اور ہم ہیں کہ حق بات کو مٹھی میں بند کیے ہوئے ہیں ، جب میں اردو میں کسی موضوع سے متعلق سرچ کر رہا ہوتا ہوں تو اکثر گمراہ فرقوں کے مقالات سامنے آجاتے ہیں ، گویا نیٹ پر باطل کا پرچار حق کے نام سے ہورہا ہے ۔ افسوس کہ ہم اس معاملہ میں بہت پیچھے ہیں ۔
جس حدتک اردو اورہندی ویب سائٹس تک ہماری پہنچ ہوسکی ہے،ان میں سے اردو ویب سائٹس میں اسلام ہاوس ، الاسلام سوال جواب ، کتاب وسنت ڈاٹ کوم، صراط الھدی قابل ذکر ہیں ۔ اور ہندی میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا ہے ۔ معتبر ویب سائٹس میں اسلام ہاوس اور الاسلام سوال جواب ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ اکثر ویب سائٹس کی زیارت کرنے والے عصری تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، جن کی معلومات اسلام کے تئیں سطحی ہوتی ہیں۔ جو شہوات اورشبہات کے نرغے میں بھی گھرے ہوتے ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں ان دو زبانوں میں ایک ایسے معیاری سلفی ویب سائٹ کی بیحد ضرورت ہے جس میں :
(1) اسلامی تعلیمات کو سہل انداز میں پیش کیا گیا ہو-
(2)
عقیدہ کے موضوعات کو خصوصی اہمیت دی گئی ہو،اورانہیں پیش کرنے کا انداز مثبت ہو منفی نہ ہو۔
(3)
اصلاحی موضوعات کے لیے عربی زبان میں دستیاب فولڈرس اور فلایرز کے ترجمے کیے گئے ہوں۔
(4)
اسلام کے محاسن اوراس کی آفاقیت کو بیان کرنے والے موضوعات کو ترجیح دی گئی ہو۔
(5)
فروعی اختلافات پرمبنی موضوعات سے صرف نظر کیا گیا ہوکہ انہیں موضوعات کے ذریعہ ہماری پہچان ہورہی ہے اوریہی برصغیر میں اختلاف کی بنیادی وجہ بنے ہوئے ہیں۔
(6)
آن لائن فتاوی کے لیے ایک کالم خاص کیاگیا ہوجس میں برصغیر کے کسی عالم دین کی خدمت حاصل کی گئی ہو۔ اوراس کام کے لیے میری رائے میں شیخ صلاح الدین مقبول احمد بہت مناسب ہیں ۔
(7)
اسلام اوراہل اسلام کے تئیں پیش آمدہ عصری مسائل کا شرعی ناحیہ سے تجزیہ پیش کرنے کے لیے ایک تجربہ کار عالم دین کی خدمت حاصل کی گئی ہو ۔ جیسا کہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کرتے ہیں ۔
(8)
ویڈیوز پرمشتمل اچھے خاصے مواد فراہم کیے گئے ہوں، جس میں اگرعرب خطباء کی تقاریر کی بھی ڈبلنگ کی جائے تو بہت مناسب ہوگا ۔
والسلام
مکمل تحریر >>

جمعرات, ستمبر 15, 2011

محترم محمد آصف ریاض صاحب كے نام

محترم محمد آصف ریاض صاحب ! 
سلام مسنون
آپ پابندی سے ہمیں اپنی تخلیقات روانہ کر رہے ہیں ، یہ آپ کی نوازش ہے ، بہت بہت شکریہ ، ہم چونکہ دینی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ، اور آپ بھی ہمارے ساتھ شریک ہیں ، اس لیے ہم آپ کے لیے محض دعا ہی کرسکتے ہیں ، اللہ تعالی آپ کے علم میں مزید اضافہ فرمائے ۔ ہمیں قوی توقع ہے کہ آپ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں گے ۔ آمین
مجهےآ پ كى تحرير بيحد پسند آتى ہے كہ مختصر ہونے كے ساته ساته نہايت  دل آويزاورجامع ہوتى ہے،  وسيع فكراورگہرى  سوچ ليے ہوتى ہے- وحيدالدين خاں صاحب كا اسلوب  آ پ كى تحريرمیں نماياں دكهائى ديتا ہے-
 آپ کا  ای میل آپ کی کتاب کی طباعت کے تعلق سے موصول ہوا ، خبرسن کربيحد خوشی ہوئی ، اللہ مزید بال وپر عطا فرماے ۔ یہاں کویت میں اردو داں تو بہت ہیں، تاہم یہاں کے مکتبوں سے رابطہ کرنا ہوگا، کیونکہ انہیں کے واسطے سے آپکی کتاب یہا ں آسکتی ہے ۔ویسے پہلے کتاب چھپنے دیں ، پھرہم ان شاءاللہ اس کا ممکن ہوا تو تعارف کرائیں گے ۔ والسلام ۔ 
یارزندہ صحبت باقی
مکمل تحریر >>

جمعرات, ستمبر 08, 2011

تیمی اخوان کے نام


مادر علمی جامعہ امام ابن تیمیہ سے ہم سب دورضرور ہیں لیکن دل سے بہت قریب ہیں، جس جامعہ نے ہماری تربیت کی ہے ، پوسا پالا ہے، بولنے کا ڈھنگ سکھایا ہے ، تہذيب وشائستگى سے آراستہ كيا ہے. زندگی گزارنے کا گر بتلایا ہے، جس کے دامن میں ہم نے علم وآگہی کے موتی چنے ہیں آخرہم اسے کیسے بھلا سکتے ہیں۔ کیا کوئی اپنی ماں کو بھول سکتاہے ....ہمارے لیے جامعہ مادرعلمی ہی تو ہے ۔ جب کبھی کوئی پروگرام ہوتا ہے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش میں بھی جامعہ کے پروگرام میں شریک رہتا ۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا، یہ ہم سب کی مجبوریاں ہیں، ڈیوٹی کے تقاضے ہیں، دل مسوس کر رہ جاتا ہے ، اس بار چھٹی میں بھی گھریلو مسائل، والد صاحب کی بیماری اور وفات سے اس قدر مشغول رہا کہ جامعہ جانے کا موقع بھی نہ مل سکا ۔ جس کا احساس مجھے اب تک ہے ۔
ہمارے دوسرے تیمی اخوان جو جامعہ سے باہر ہیں ان سب کی خواہش ہوتی ہے کہ جامعہ کی سرگرمیوں سے آگاہ ہوتے رہیں۔ ماشاءاللہ دکتور محمد لقمان السلفی کے حسب ارشاد ویب سائٹ بھی تیار ہوچکا ہے ۔ جس پرجامعہ کے سلسلے میں اہم معلومات بھی فراہم کردی گئی ہيں ۔ البتہ ہرماہ اپڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہم سب جامعہ کی تازہ خبروں سے مطلع نہیں ہوپاتے اور جامعہ کے دونوں آرگن الفرقان اور طوبی کے مطالعہ سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔ پچھلے دنوں راقم سطورنے محسوس کیا کہ ہم تیمی احباب ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں ، قریب رہ کر بھی دوری کا سماں دکھائی دیتا ہے ، میں نے غورکیا ، سوچا کہ کسی طرح ہم سب کا رابطہ استوار رہے. جامعہ سے ہم سب کا روحانی تعلق ہے،اس لیے ہم سب کو جامعہ کے مفاد میں سوچنے کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے ، آراءکا تبادلہ ہوتے رہنا چاہیے ، ایک دوسرے کے نجی حالات سے بھی واقفیت ہونی چاہیے ۔ رابطے کا آسان ذریعہ انٹرنیٹ سمجھ میں آیا چنانچہ میں نے صوت التیمی نام سے ایک بلوگ کھولا تاکہ اس بلوگ کی وساطت سے ہم ایک دوسرے سے ربط میں رہیں ۔ ہم سب ایک دوسرے کے علم سے استفادہ کریں اور دنیا کے کونے کونے میں ہماری آواز پہنچے ۔ میں اپنے ظرف کو جانتا ہوں ، اپنی صلاحيت سے اچھی طرح آگاہ ہوں، مجهے اپنی بے بضاعتي اور كم مائيگى كاپورا پورا احساس ہے من دانم کہ من آنم ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے تیمی احباب مجھ جیسے نہیں ہیں، ہر میدان میں گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں، اورہرجگہ اپنی پہچان رکھتے ہیں۔
پچھلے دنوں حسب سابق دکتورمحمد لقمان السلفی حفظہ اللہ کویت تشریف لائے تھے توایک شام ان کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا ، میرے ہمراہ برادرم کرم اللہ تيمي بھی تھے ، انہوں نے صوت التیمی کا دکتور کے پاس ذکر کیا تو دکتور بےحد خوش ہوئے ۔ دکتور کو ہم نے بارہا اپنے ابناءکی تعریف کرتے ہوئے پایا ہے ۔ ہرتیمی کے تئیں ان کا خیال نيك اورپاكيزه ہوتا ہے ، وہ ہم سب کوآگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور یہ واقعہ ہے کہ ایک قلیل مدت میں تیمی برادران نے ہرجگہ اپنی پہچان بنائی ہے ۔ یہ دکتورکے اخلاص کا ثمرہ نہیں تو اور کیا ہے ....
ہم اس موقع سے اپنے سارے تیمی احباب کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں بالخصوص وہ تیمی احباب جن کے ساتھ جامعہ میں رہا، جن کی صحبت نے ہمارے لیے مہمیز کا کام کیا ،جن کی محبت اب بھی ستاتی رہتی ہے ، جن سے دور ضرورہیں لیکن دل بہت قریب ہے ، ہم ان سب کویادکرناچاہتے ہیں،اپنے دلی جذبات کی تسکین کے لیے ....اپنے نیک خواہشات کے اظہار کے لیے....اپنے اندر امڈتے جذبات ان تک پہنچانے کے لیے....کہ ہم سب جامعہ میں تھے توایک ماں کی اولاد لگتے تھے لیکن جامعہ سے نکلنے کے بعد زندگی کے تقاضوں نے ہم سب کو الگ الگ کردیا ، ہم سب اپنے اپنے میدان میں کام کرنے لگ گئے ، ایک دوسرے سے بہت حد تک روابط بھی کٹ گئے ، ہم جہاں گئے اور جس میدان میں گئے وہاں نئے ساتھی ملے اور ان کے ساتھ اپنے معاملات برتنے لگے ۔
لیکن جامعہ سے ہم سب کا جو روحانی رشتہ ہے وہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم سب جہاں کہیں بھی رہیں جامعہ کے مفاد میں سوچیں، جامعہ سے ہم سب کا قلبی رشتہ ہو، اسی مقصد کے تحت ہم نے بلوگ سروس شروع کی ہے ، ہم اپنے تمام تیمی اخوان سے گزارش كر تے ہیں کہ اس حقیرکی دعوت کو قبول فرمائیں، صوت التیمی کے توسط سے اپنی آوازدنیا کے سامنے پہنچاتے رہیں ، اگرکسی کو براہ راست شرکت میں دقت پیش آتی ہو تو وہ اپنے مقالات مجھے ای میل کردیں ، میں ان کی خدمت کرنے کے لیے ہروقت تیار ہوں، انہیں شامل اشاعت کرنے کی ذمہ داری لیتاہوں۔ الحمدللہ صوت التیمی کا مشاہدہ کرنے والے سعودی عرب،قطر،کویت اور ہندوستان میں موجود تیمی اخوان کے علاوہ مختلف ممالک میں پائے جاتے ہیں، بلوگنگ سسٹم دعوت کے ساتھ ساتھ ہماری قلمی تربیت کا بھی بہترین ذریعہ ہے، جوکچھ چاہیں اس پر لکھتے رہیں ۔
ایک اہم بات رہ گئی ‘ وہ یہ کہ ہم نے صوت التیمی میں ایک کالم خاص کیا ہے ہے” تعرف علی التیمیین “اس کے تحت ہم اپنے تیمی احباب کی زندگی کے اہم گوشوں ،ان کی موجودہ کارکردگی ،ان کی علمی وسماجی خدمات کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں ، اس لیے ہمارے جو تیمی احباب یہ مکتوب پڑھیں وہ اپنا مختصر سوانحى خا كہ تيار كركے مجھے ای میل کردیں ۔ اپنے رابطہ کا پتہ بھی ارسال کریں ۔
ایک خاص گزارش ہندوستان میں موجود تیمی احباب سے ہے کہ ابنائے جامعہ یا مادرعلمی سے متعلق جو خبر بھی ہو اس سے مجھے آگاہ کردیا کریں ، بس ای میل کے ذریعہ ....ابھی جامعہ میں کانفرنس ہوئی ہے ، کویت کے وفد نے جامعہ کا دورہ بھی کیا ہے ، اس کی رپورٹ اگر صوت التیمی میں آجاتی تو کتنا اچھا تھا ، برادرم معراج عالم تیمی صاحب جو ابھی ہندوستان کے سفرپر ہیں ان سے ہم گزارش کرتے ہیں کہ جامعہ کی خبر صوت التیمی پر ضرور ڈالیں اور اس کام کے لیے کسی تیمی کو نامزد کرنے کے بعد ہی تشریف لائیں ۔ تاکہ ہم سب جامعہ کے حالات سے باخبر رہیں ۔ حالیہ دنوں میرے پاس برادرم اسماعیل تیمی، برادرم کرم اللہ تیمی، اور میرے ہم سبق زاہد انور تیمی سب کا میل اسی موضوع پر آیا ہے کہ آج کل جامعہ میں کانفرنس ہورہی ہے ۔ بہرکیف ہم سب دور رہ کر بھی جامعہ کے مشتاق رہتے ہیں ۔اللہ تعالی جامعہ کو دن دونی رات دوگونی ترقی عطا فرمائے ، حاسدین کی نظر بد سے بچائے اور چمن کے مالی علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی حفظہ اللہ کا سایہ تادیر دراز رکھے آمین یارب العالمین
یہ چند باتیں تھیں جو قلم برداشتہ تحریر میں آگئی ہیں ، مجھے پوری امید ہے کہ میری آواز صدابصحرا ثابت نہ ہوگی-
مکمل تحریر >>

محمد جاويد كے نام

مامو جان! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 میرے چند سوالات ہیں جن کے جوابات مطلوب ہیں:
(1) قرآن خوانی کرنا کیسا ہے ؟ (2) نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ (3) نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پیشانی پر ہاتھ رکھنے کا کیا حکم ہے ؟ (4) گردن کا مسح کرنا کیسا ہے ؟ (5) اگر کوئی تراویح پڑھاتا ہولیکن روزہ نہ رکھتا ہو تو کیا اس کے پیچھے تراویح پڑھنا صحیح ہے ؟  (محمدجاويد –  دہلى )
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
(1)  قرآن کا نزول زندوں کے لیے ہوا ہے مردوں کے لیے نہیں۔اورعبادات توقیفی ہوتی ہیں جن کے لیے دلیل چاہیے اوراس تعلق سے کوئی دلیل نہیں پائی جاتی، لہذا مردوں کے لیے قرآن خوانی نہیں كى جا سکتى ۔
(2)
نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ۔ خواه قرأت سرى ہو يا جہري ، " لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب"- ( بخارى ومسلم) تفصیل کے لیے مولانا صلاح الدین یوسف کی تفسیر احسن البیان میں سورہ فاتحہ کی تشریح کے ضمن میں بحث دیکھ لیا جائے ۔
(3)
نماز سے سلام پھیرنے کے بعد سر پر ہاتھ رکھنا بدعت ہے ۔ اور اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ”من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد “(بخاري ومسلم) جس کسی نے میری شریعت میں کوئی نئی چیز ایجاد کی وہ مردود ہے “ ايساہى فتوی کبار علماء کمیٹی سعودی عرب سے صادر ہوا ہے- ۔
(4)
کسی بھی حدیث سے  ثابت نہیں کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے گردن کا مسح کیا ہو ۔ البتہ ابوداؤد کی یہ جو حدیث بیان کی جاتی ہے کہ إن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مسح رأسہ حتی بلغ القذال ” رسول اللہ نے گدی تک گردن کا مسح کیا“ تو اس حدیث کو علامہ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
(5)
اسلام ہمیں حسن ظن کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس بنیاد پر ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ امام کے پاس کسی طرح کا عذر ہے جس کی بنیاد پر وہ روزہ نہیں رکھ رہا ہے ۔ اگر واقعی کوئی عذر نہ ہو تو ایسے حافظ کو تراویح کی نماز کے لیے مقرر کرنا صحیح نہیں ۔ امامت نہایت اعلی عہدہ ہے جس کا حقدار نیک ، متقی اور پابند شریعت ہونا چاہیے ۔ اس کے باوجود اگر ایسا کوئی شخص ہمارا امام بنا دیا گیا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ۔ صحابہ کرام نے حجاج بن یوسف کے پیچھے نمازیں پڑھیں جو سب سے بڑا فاسق اور ظالم تھا۔

مکمل تحریر >>