- دعوتی میدان میں اگر آپ اصلاحی کتابوں کا جائزہ لیں
تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اب تک جوکتابیں اردو میں شائع ہوئی ہیں وہ معلوماتی
کہی جاسکتی ہیں دعوتی نہیں ، یا اگر انہیں دعوتی مقصد کے تحت تیار کیابھی گیا
ہے تواس میں مدعو کی نفسیات کا لحاظ نہیں ركها گیا، اکثرکتابوں کا آغاز منفی
اسلوب میں ہوتا ہے،جارحانہ انداز ہوتا ہے،آخرانہیں ہم دعوتی مواد میں شمار
کیسے کرسکتے ہیں، ہم نے جن عربی کتابوں کا اردومیں ترجمہ کیا ہے ان میں
جارحانہ مقدمہ کا اضافہ کرکے کتاب کی افادیت کو کم کردی ہے ، بلکہ ہم نے اب
تک چند فروعی مسائل کو ہی اصل دین سمجھ رکھا ہے اور اپنے مخالف سے انہیں
مسائل کو چھیڑکر بحث شروع کرتے ہیں، حالانکہ مثبت انداز میں عقائد
کی اصلاح پر دھیان دینے کی ضرورت تھی، اصلاح معاشرہ سے متعلق کتابچے
،لٹریچرز، آڈیوز اور ویڈیوز تیار کرنے کی ضرورت تھی ، اگرعقائد اوراعمال کی
اصلاح کے لیے چھوٹے چھوٹے فولڈرس بھی تیار کیے گئے ہوتے تو بہت حدتک اصلاح
ہوسکتی تھی.
- نوبت بایں جا رسید کہ ہم اپنے منصب کو بھلا کر آپسی خانہ
جنگی کے شکار ہو چکے ہیں اور وہ جن کو علمی قیادت کرنی تھی آج کرسی اور
منصب کے بھوکے بن کر اپنی صلاحیت کا استحصال کر رہے ہیں نتیجہ ظاہر ہے کہ
پہلے دوسرے ہماری صرف سیاسی نمایندگى کر تے تھے اب علمی نمائندگی بھی کر نے
لگے ہیں.حالاں کہ ہمارے بیچ ایسے ماہر علماء اور دعاة کی ضرورت تھی جو عالمی
سطح پر برصغیر کی نمایندگی کر سکیں، ظاہر ہے اس کے ليے افراد سازی کی ضرورت
تھی، جن کا جو تخصص ہے ان كے تخصص کے مطابق ان کو فارغ کرنے کی ضرورت تھی، ان
کو پرسکون ماحول فراہم کرنے کی ضرورت تھی... واللہ بہت افسوس ہوتا ہے
اپنی قوم پر-
- کیا ہمیں اس بات کا احساس نہیں کہ اس قدر تقریریں
ہورہی ہیں، کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں لیکن ان کے نتائج خاطرخواہ حاصل نہیں
ہو رہے ہیں، ہم کانفرنسوں کے مقاصدطے نہیں کرتے یا ان کے نتائج پر ہمارا
دھیان نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اتنے سارے اخراجات کے باوجود عوام پر اس کا
کوئی گہرا اثر دکھائی نہیں دیتا ہے، اگر ان کے اہداف طے کئے گئے ہوتے
اورانہیں حاصل کرنے کی پہلے سے پلاننگ کی گئی ہوتی تو کم ازکم حاضرین تک اپنا
مثبت پیغام پہنچانے میں ضرورکامیاب ہوسکتے تھے ۔
- اللہ
پاک نے معروف کی طرف بلانے اورمنکر سے روکنے کا حکم یکساں طورپردیا ہے
،اگر ایک حصے کو اپنائیں اوردوسرے حصے کو نظر انداز کردیں تو یہ عمل حکمت
دعوت کے منافی ہوگا ، آج عجیب صورت حال ہے کہ کچھ لوگ معروف کا حکم دینے پر
اکتفا کرتے ہیں اور کچھ لوگ منکر کے ازالے میں اپنی پوری کوششیں صرف کررہے
ہیں یہاں تک کہ دونوں فریق کی اسی سے پہچان ہونے لگی ہے ، اگرمعروف کی
دعوت دی بھی جاتی ہے تو اسلوب جارحانہ اورمنفی ہوتا ہے ۔ معروف کا حکم
اورمنکر کی تردیدمثبت اندازمیں ایک ساتھ ہوتی رہنی چاہیے ،یہ المیہ ہے
کہ آج ہم اسلام کا تعارف کم کراتے ہیں ، صحیح عقیدے کو مثبت انداز میں کم پیش
کرتے ہیں بلکہ صحیح عقیدے کوپیش کرتے وقت حکمت کوملحوظ رکھتے ہی نہیں ،ہاں!
اعتراض زیادہ کرتے ہیں ۔ ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہم داعی ہیں مدعو نہیں
۔ ہمارے اکثر اوقات مخالفین کی تردید میں گذر رہے ہیں ،اگر آپ صحیح منہج کا
حکمت کے ساتھ تعارف نہ کرائیں گے اورگمراہ جماعتوں کی تردیدمیں لگے
رہیں گے تو مخالفین کا ہمارے تئیں کیا نظریہ بنے ہوگا اس کا اندازہ
موجودہ صورتحال کو دیکھ کر اچھی طرح لگایاجاسکتا ہے ۔ ہم اپنے احباب سے
مودبانہ گذارش کریں گے کہ گمراہ فرقے اگرباطل کے پرچار میں سرگرم ہیں توہم حق
کے پرچارمیں سرگرم بنیں ۔انداز میں نرمی ہو ، جذبات خیرخواہانہ ہوں اوراسلوب
سنجیدہ اوردل کو اپیل کرنے والا ہو۔ہمیں ایک ساتھ مل بیٹھ کر سنجیدگی سے
مسئلے کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا ، مدعوکو دینے کے لیے ہمارے پاس موا د کم پائے
جاتے ہیں ان کے عقائد کا پوسٹ مارٹم کرنے والے موادبہت زیادہ ہیں ۔
- آج
لوگ حق کے پیاسے ہیں، دین کے بازارمیں کھوٹے سکوں کوفروغ دینے کی کوشش کی
جارہی ہیں،ہمیں اپنی ذمہ داری کوسمجھنا ہوگا ،اپنے اندر زیاں کا حساس پیدا
کرنا ہوگا اورمنظم پلاننگ کے ساتھ کام شروع کرنا ہوگا۔
منگل, دسمبر 03, 2013
برادرعزیز ثناء اللہ محمد صادق تیمی کے نام
جمعرات, اکتوبر 04, 2012
محترم عبد الصبور عبدالنور الندوى صاحب كے نام
جمعرات, ستمبر 13, 2012
ایڈیٹر ہماراسماج اردو كے نام
جمعرات, ستمبر 06, 2012
بہن اسماء کے نام
جمعرات, اگست 09, 2012
ابرا هيم جمال صاحب كے نام
مجلہ مصباح اردو زبان میں کویت سے شائع ہونے والا ایک کثیر الاشاعت مجلہ ہے جو دعوتی اوراصلاحی موضوعات پر مشتمل ہوتا ہے ۔ مثبت اسلوب میں عقائد کی اصلاح بھی اس کا بنیادی ہدف ہے ۔
طلبہ جامعہ امام ابن تیمیہ کے نام
مجھ کو جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے ۔
أخلص نیتک واتق اللہ ۔
بدھ, اگست 08, 2012
محمد خالد اعظمی صاحب کے نام
جمعرات, مئی 10, 2012
محترم جناب شیخ عبدالمنان السلفی صاحب كے نام
گرامی قدر محترم جناب شیخ عبدالمنان
عبدالحنان السلفی صاحب
ایڈیٹرماہنامہ السراج حفظکم اللہ ورعاكم
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
امید
کہ حالات بخیر ہوں گے
یہ میرے لیے بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ آپ نے مجهے یاد فرمایا۔ اور ميرے تئيں اپنى نيك خواہشات كا اظہار فرمايا، ذره نوازى كا بہت بہت شكريہ.
آپ نے ماہنامہ "السراج" کے لیے مضامین ارسال کرنے کا حکم دیا ہے یہ میری سعادتمندی ہوگی کہ ميرے مضامين آپ کے موقر رسالہ میں شائع ہوں ليكن اس كے ليے یکسوئی دركار هے جو فى الحال کاموں کے ہجوم میں مجهے دستياب نہيں، میں آپ جیسے ہى باہمت مشائخ کو نمونہ بنانے کی کوشش کرتا ہوں، مجهے بهى آپ سے الله كى خاطرمحبت ہے، ہم الله پاک سے دعا كرتے ہیں كہ وه ذات بارى آپ كو اپنا محبوب بنائے جس كى خاطر آپ نے مجھ سے محبت كى ہے.
میں آپ کو زمانہ طالبعلمی سے پڑھتا آرہا ہوں اور آپ کی تحریر کو بے حد پسند کرتا ہوں۔ اللہ پاک آپ سے زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت لیتا رہے، ان شاءاللہ رابطے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ ماشاء اللہ نیٹ سے بھی آپ کا تعلق ہے، جو ہمارى خوشی کو مزيد دوبالا كرتا ہے۔ آپ کے والد محترم شیخ عبدالحنان کو اللہ تعالی صحت وعافیت سے رکھے اور آپ پر ان کا سایہ تا دیر قائم رکھے۔ آمین ۔
والسلام
صفات عالم محمد زبیر تیمی
جمعرات, جنوری 05, 2012
شيخ محمد مشتاق مدنی صاحب كے نام
جمعرات, دسمبر 15, 2011
ايڈيٹر روزنامہ قومی تنظیم كے نام
جمعرات, دسمبر 08, 2011
حافظ امداد صاحب كے نام
بدھ, دسمبر 07, 2011
برادرم علاء الدین عين الحق مكى کے نام
راقم سطور کے نام برادرم علاء الدین عين الحق مكى کا ارسال کردہ مکتوب اور اس کا جواب ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہامید کہ بخیر ہوں گے،آپ اپنے اب تک کے دعوتی اور تعلیمی تجربات کی روشنی میں ایک احصائیہ پیش کیجیے کہ اب تک دعوتی اور اسلامی اشاعتی اور نشریاتی میدان میں ویب سائٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی شکل میں ہندی اور اردو زبان میں کیا کچھہ ہورہا ہے اور مزید کس چیز کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ جو کام ہورہا ہے اس کا منفی پہلو کیا ہے تاکہ آئندہ اس کے تدارک کے لئے مثبت طور پہ اقدام کرنے میں آسانی ہو۔ کیا اردو اور ہندی میں ایک جامع اور اطمینان بخش ویب سائٹ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے؟وجزاکم اللہ خیرا،علاء الدین عین الحق مکیمرکز وذکر
و عليكم السلام ورحمة الله وبركاته
آپ کا ای میل موصول ہو ا، تاخیر کے لیے معذرت خوا ہوں، لیکن ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیربھی تھا بہرکیف میں آپ کے نیک جذبات کی قدرکرتا ہوں کہ آپ نے اسلامی ویب سائٹس کی ضرورت محسوس کی
(2) عقیدہ کے موضوعات کو خصوصی اہمیت دی گئی ہو،اورانہیں پیش کرنے کا انداز مثبت ہو منفی نہ ہو۔
(3) اصلاحی موضوعات کے لیے عربی زبان میں دستیاب فولڈرس اور فلایرز کے ترجمے کیے گئے ہوں۔
(4) اسلام کے محاسن اوراس کی آفاقیت کو بیان کرنے والے موضوعات کو ترجیح دی گئی ہو۔
(5) فروعی اختلافات پرمبنی موضوعات سے صرف نظر کیا گیا ہوکہ انہیں موضوعات کے ذریعہ ہماری پہچان ہورہی ہے اوریہی برصغیر میں اختلاف کی بنیادی وجہ بنے ہوئے ہیں۔
(6) آن لائن فتاوی کے لیے ایک کالم خاص کیاگیا ہوجس میں برصغیر کے کسی عالم دین کی خدمت حاصل کی گئی ہو۔ اوراس کام کے لیے میری رائے میں شیخ صلاح الدین مقبول احمد بہت مناسب ہیں ۔
(7) اسلام اوراہل اسلام کے تئیں پیش آمدہ عصری مسائل کا شرعی ناحیہ سے تجزیہ پیش کرنے کے لیے ایک تجربہ کار عالم دین کی خدمت حاصل کی گئی ہو ۔ جیسا کہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کرتے ہیں ۔
(8) ویڈیوز پرمشتمل اچھے خاصے مواد فراہم کیے گئے ہوں، جس میں اگرعرب خطباء کی تقاریر کی بھی ڈبلنگ کی جائے تو بہت مناسب ہوگا ۔
والسلام
جمعرات, ستمبر 15, 2011
محترم محمد آصف ریاض صاحب كے نام
جمعرات, ستمبر 08, 2011
تیمی اخوان کے نام
ایک خاص گزارش ہندوستان میں موجود تیمی احباب سے ہے کہ ابنائے جامعہ یا مادرعلمی سے متعلق جو خبر بھی ہو اس سے مجھے آگاہ کردیا کریں ، بس ای میل کے ذریعہ ....ابھی جامعہ میں کانفرنس ہوئی ہے ، کویت کے وفد نے جامعہ کا دورہ بھی کیا ہے ، اس کی رپورٹ اگر صوت التیمی میں آجاتی تو کتنا اچھا تھا ، برادرم معراج عالم تیمی صاحب جو ابھی ہندوستان کے سفرپر ہیں ان سے ہم گزارش کرتے ہیں کہ جامعہ کی خبر صوت التیمی پر ضرور ڈالیں اور اس کام کے لیے کسی تیمی کو نامزد کرنے کے بعد ہی تشریف لائیں ۔ تاکہ ہم سب جامعہ کے حالات سے باخبر رہیں ۔ حالیہ دنوں میرے پاس برادرم اسماعیل تیمی، برادرم کرم اللہ تیمی، اور میرے ہم سبق زاہد انور تیمی سب کا میل اسی موضوع پر آیا ہے کہ آج کل جامعہ میں کانفرنس ہورہی ہے ۔ بہرکیف ہم سب دور رہ کر بھی جامعہ کے مشتاق رہتے ہیں ۔اللہ تعالی جامعہ کو دن دونی رات دوگونی ترقی عطا فرمائے ، حاسدین کی نظر بد سے بچائے اور چمن کے مالی علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی حفظہ اللہ کا سایہ تادیر دراز رکھے آمین یارب العالمین
محمد جاويد كے نام
مامو جان! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرے چند سوالات ہیں جن کے جوابات مطلوب ہیں:(1) قرآن خوانی کرنا کیسا ہے ؟ (2) نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ (3) نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پیشانی پر ہاتھ رکھنے کا کیا حکم ہے ؟ (4) گردن کا مسح کرنا کیسا ہے ؟ (5) اگر کوئی تراویح پڑھاتا ہولیکن روزہ نہ رکھتا ہو تو کیا اس کے پیچھے تراویح پڑھنا صحیح ہے ؟ (محمدجاويد – دہلى )
(1) قرآن کا نزول زندوں کے لیے ہوا ہے مردوں کے لیے نہیں۔اورعبادات توقیفی ہوتی ہیں جن کے لیے دلیل چاہیے اوراس تعلق سے کوئی دلیل نہیں پائی جاتی، لہذا مردوں کے لیے قرآن خوانی نہیں كى جا سکتى ۔
(2) نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ۔ خواه قرأت سرى ہو يا جہري ، " لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب"- ( بخارى ومسلم) تفصیل کے لیے مولانا صلاح الدین یوسف کی تفسیر احسن البیان میں سورہ فاتحہ کی تشریح کے ضمن میں بحث دیکھ لیا جائے ۔
(3) نماز سے سلام پھیرنے کے بعد سر پر ہاتھ رکھنا بدعت ہے ۔ اور اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ”من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد “(بخاري ومسلم) جس کسی نے میری شریعت میں کوئی نئی چیز ایجاد کی وہ مردود ہے “ ايساہى فتوی کبار علماء کمیٹی سعودی عرب سے صادر ہوا ہے- ۔
(4) کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے گردن کا مسح کیا ہو ۔ البتہ ابوداؤد کی یہ جو حدیث بیان کی جاتی ہے کہ إن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مسح رأسہ حتی بلغ القذال ” رسول اللہ نے گدی تک گردن کا مسح کیا“ تو اس حدیث کو علامہ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
(5) اسلام ہمیں حسن ظن کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس بنیاد پر ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ امام کے پاس کسی طرح کا عذر ہے جس کی بنیاد پر وہ روزہ نہیں رکھ رہا ہے ۔ اگر واقعی کوئی عذر نہ ہو تو ایسے حافظ کو تراویح کی نماز کے لیے مقرر کرنا صحیح نہیں ۔ امامت نہایت اعلی عہدہ ہے جس کا حقدار نیک ، متقی اور پابند شریعت ہونا چاہیے ۔ اس کے باوجود اگر ایسا کوئی شخص ہمارا امام بنا دیا گیا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ۔ صحابہ کرام نے حجاج بن یوسف کے پیچھے نمازیں پڑھیں جو سب سے بڑا فاسق اور ظالم تھا۔