منگل, ستمبر 03, 2019

یہ دنیا دارفانی ہے

✍ یہ دنیا دارفانی ہے، پانی کا بلبلہ ہے، ہماری زندگی محدود ہے اور یہ روزانہ برف کے جیسے پگھل رہی ہے۔ اک دن آئے گا کہ ہماری زندگی کی آخری گھنٹی بجے گی اور ہم ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ عقلمند وہی ہے جواپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور کل قیامت کے دن کی تیاری کرلیتا ہے اور بیوقوف وہ ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگا رہتا ہے اور اللہ سے امیدیں باندھے رہتا ہے۔

✍ اس لیے ضرورت ہے کہ ہم موت کی سختی کو یاد کریں، قبرکی تاریکی کو یاد کریں، منکرنکیر کے سوال کو یاد کریں، قیامت کی ہولناکی کو یاد کریں، جنت اور جہنم کے حالات پر غور کریں:

✍ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ ﴿ سوره فاطر: 5)

”اے لوگو! اللہ کا وعدہ برحق ہے، لہذا دنیاکی زندگی تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اورنہ یہ دھوکے باز تجھے دھوکے میں ڈالنے پائے. “   

✍ صفات عالم تیمی
مکمل تحریر >>

پیر, اگست 19, 2019

تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کی شہتیر بھول جاتا ہے۔

کتنے لوگ دوسروں کی چھوٹی چھوٹی کمی اور کوتاہی ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں اور انہیں اپنی بڑی بڑی کمیاں اور کوتاہیاں دکھائی نہیں دیتیں، انسان کا دوسروں کے عیوب کے پیچھے پڑنا اور اپنے عیوب سے صرف نظر کرنا ایسی غلطی ہے جس کا ارتکاب آج افسوس کہ ہماری اکثریت کرتی ہے۔ اس قبیح عادت کے انفرادی اور اجتماعی زندگی پر نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے حبیب نے ہمیں تنبیہ فرمائی: 
يُبصِرُ أحدُكم القَذاةَ في عَينِ أَخيه ، و يَنْسَى الجِذْعَ أو الجِدْلَ في عَينِه مُعتَرِضًا (السلسلة الصحيحة: 33) 
یعنی تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کی شہتیر بھول جاتا ہے۔ 
اگر ہم اپنی کمیوں پر دھیان رکھیں تو دوسروں کی کوتاہیاں معمولی لگیں گی۔ 

( صفات عالم تیمی )
مکمل تحریر >>

اتوار, اپریل 27, 2014

لوگوں سے بے نیازی

جو شخص دوسروں کی چیزوں سے بے نیاز ہو وہ عزت دار اور بارعب زندگی گذارتاہے اور جس کا دل دوسروں کی چیزوں میں الجھا ہوا ہو وہ ذلت اوراہانت کی زندگی گذارتا ہے۔ اور جس کا دل اللہ کے ساتھ بندھا ہوا ہو اور اللہ سے امید لگائے بیٹھا ہو ، اللہ سے اپنی مرادیں مانگتا ہو ،اللہ کے علاوہ کسی اورپر بھروسہ نہ رکھتا ہو ، اس کے لیے اللہ تعالی دنیا وآخرت میں کافی ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
 ألیس اللہ بکاف عبدہ (الزمر : 36) 
 ”کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں“۔ اور اللہ تعالی نے فرمایا:
 ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ (الطلاق : 3) 
”جوشخص اللہ پربھروسہ کرے گا اللہ اس کے لیے کافی ہوگا“۔ اور توفیق محض اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔ 
                                       (دکتورعبدالرزاق عبدالمحسن البدر (
مکمل تحریر >>

بدھ, جنوری 15, 2014

گئو سالہ پرستی

انسان مذہبی اقدار کی طرف بغیر سوچے سمجھے مائل ہو جاتا ہے ، جو چیزیں اسے اپنی آنکھوں سے دكھائی دیتی ہیں ان پر فوری طور پر یقین کر لیتا ہے چاہے عقل اور ضمیر کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں ... ابھی میں قرآن میں  موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کی کہانی پڑھ رہا تھا کہ چالیس دن کے لئے اللہ کے حکم سے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنی قوم کی دیکھ بھال کے لئے چھوڑ کر طور پہاڑ پر چلے گئے ، جب لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ ان کی قوم گئو سالہ پرستی میں مبتلا ہو چکی ہے " سامری " نامی ایک گمراہ شخص نے بچھڑا بنایا اور ان کی قوم کو ان کی عبادت کی طرف دعوت دی ، یہاں تک کہ موحد قوم نے ایک اللہ کو بھول کر بچھڑے کی پوجا شروع کر دی . ( تفصیل کے لیےدیکھئے قرآن ، سور طہ 85 - 98 )
مکمل تحریر >>

بدھ, دسمبر 11, 2013

تعلیمی بیداری مہم چلائیں

آج  بيشمار مسلم بچے  صحیح رہنمائی نہ ملنے یا والدین کی جہالت و نادانی کی وجہ سے قوم کے لیے رحمت بننے كى بجائے زحمت بنے ہوئے ہیں اور  مسلم معاشرہ مزید پیچھے كى طرف جارہا ہے ،مسلمانوں کی اقتصادی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے، غربت کی شرح میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے ،کوئی بھی قوم تعلیم کی بدولت ہی ترقی کرتی ہے ، ہندوستانی مسلمانوں كى اقتصادى بدحالى  كى بنيادى وجہ تعلیمى  پسماندگى ہے ۔  اکثر والدین غیر تعلیم یافتہ ہیں ، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ شعور آتے ہی بچوں كو کمانے کے لیے  دلی بمبئی بھیج دیں ۔ خود بچے اپنے معاشرے میں  دلی بمبئی  رہنے  والوں کی ہی کثرت دیکھتے ہیں، جب وہ کچھ کماکر لوٹتے ہیں تو كم ازكم تمباکو نوشی کے عادی بن چكے ہوتے ہیں ،اپنے ساتھ ٹیلیویزن  لاتے ہیں ،پھر پنٹ شرٹ پہن کر دیہاتی ماحول میں گھومتے اور بازارى اردو چھانٹتے رہتے ہیں ۔ اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھ ۔ جاہل والدین بھی خوش کہ چلو میرا بیٹا ا ب کمانے لگا ہے ۔ چھوٹے بچے بھی ان کی حرکات سے مرعوب …. چنانچہ يہى ننهے بچےشعور آتے ہی والدین پر دباؤ ڈالنا شروع کردیتے ہیں کہ مجھے بھی کمانے جانا ہے۔ اگر والدین کے اندر تعلیمی شعور ہوتا تو بچے کی صحیح سمت میں رہنمائی کر سکتے تھے لیکن وہ تو کچھ کرنے سے رہے ۔
ایسے نازک حالات میں امت کے ارباب بصیرت ، جمعیات اور تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اجتماعی شکل میں تعلیمی بیداری مہم چلائیں ، گھر گھر جاکر گارجین کو قائل کرائیں کہ تعلیم کے بغیر ان کی اقتصادی حالت کسی صورت میں درست نہیں ہو سکتی بلکہ خراب سے خراب ترہوتی جائے گی ۔ ان کے بچوں کو سکولوں میں داخلہ کرایاجائے اور سکولوں کے مسلم اساتذہ کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ قوم مسلم کی ان کھلتی کلیوں پر دھیان دیں۔ قوم کے خوشحال لوگوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غریب بچوں کی تعلیمی کفالت کرکے انہیں گھر سے بے نیاز کریں ۔ کم ازکم اپنے رشتے داروں کے بچوں کی طرف بھی دھیان دے دیا تو دس بارہ سال میں مسلم سماج بہت آگے نکل جائے گا ۔ اميد كہ میری آواز صدابصحرا ثابت نہ ہوگی ۔
مکمل تحریر >>

اتوار, دسمبر 08, 2013

اے الله! ان کے حق میں میری دعا قبول کر لے

 اے الله! ان کے حق میں میری دعا قبول کر لے 
اس دنیا میں کوئی انسان  ہمیشہ رہنے کے ليے نہیں آیا، آج  اچانک یاد آنے لگی اپنے گزرے ہوئے رشتے داروں کى،  دادی صاحبہ كى... جو ميرى  پیدائش سے پہلے ہی وفات پا گئیں،  دادا  اور نانا  صاحبان كى جنهوں نے میرے بچپنے میں جان جان آفريں کے سپرد کردیں ،   نانی جان كى... جن کا میری تربیت میں کلیدی رول رہا،  اور والدمحترم كى جن کی وفات کو چار سال ہو گيے ، دو پھوپھيوں ، دو چهوٹی بہنوں كى جوبہت پہلےآخرت سدهار گئیں  اورمنجهلى  بہن رحمت باجی كى... جو اپنی جوانی کے ایام میں ہی ایک بیٹی " افسانہ"  كو چھوڑ کرداغ مفار قت دے گئیں...رشتے داروں کى فہرست میں سب سے چهوٹے دادا محمد یاسین صاحب   اور ماسٹر وصی اختر چچا كى بهى ياد آئى جن میں اول الذکر تین ماہ قبل اور ثانى الذكر دو سال پہلے اچانک وفات پاگيے  
اپنے گزرے ہوئےاساتذه كرام كى بهى ياد ستانےلگی، محترم شیخ کفایت اللہ کیفی مدنى ، شیخ مطيع الرحمن  مدنی اور شیخ صدرعالم سلفی ...رحمة الله عليهم اجمعين جن کے خوان علم سےراقم سطور ایک عرصہ تک خوشہ چینی کرتا رہا. ان سب کی ایک ایک کر کے یاد آنے لگی، ہر ایک کی خوبیاں دل کے پردے پر مرتسم ہونے لگیں، لیکن اب وہ اپنے رب کے پاس پہنچ چکے ہیں.... ان سب کو اگر ہم کوئی تحفہ دے سکتے ہیں تو دعا کا تحفہ ہے ، ان سب کے ليے الله رحمن ورحيم اور رب غفور سے دعا کرتے ہیں کہ
 اے اللہ! ان سب کی مغفرت فرما، ان پر رحم فرما، ان کونعمتوں بھری جنت میں داخل فرمادے، بارالہا ! تو شفقت کرنے والا، احسان کرنے والا اوروسیع مغفرت کرنے والا ہے، ان کو بخش دے، ان پر رحم فرما، ان کو معاف فرما، ان کو عافیت دے ، ان کی مہمانی عزت کے ساتھ کر، ان کی قبر کو کشادہ کردے، ان کے گناہ کو پانی، برف اوراولے سے دھل دے، ان کو گناہوں سے اس طرح صاف کردے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیاجاتا ہے۔ اے اللہ ! ان کو جنت میں داخل کردے اوران کو عذاب قبر اورعذاب جہنم سے بچا ۔ اے اللہ ! ان کے احسان کا بدلہ احسان سے دے، اوران کی برائی کا بدلہ عفوودرگذر سے عطا فرما ۔ اے اللہ ! ان کی تنہائی میں توان کی دلجوئی فرما، اوران کی وحشت دور کردے، ا ے اللہ ! ان کا استقبال مبارک طریقے سے فرما، تو بہتر استقبال کرنے والا ہے ۔ اے اللہ ! ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں عطا فرما، ان کا حساب آسان کردے، ان کے نامہ اعمال کو نیکیوں سے بھاری کردے، پل صراط پر ان کوثابت قدم رکھ ، اور جنت کے اعلی درجات میں اپنے نبی محمد صلى الله عليه وسلم کے جوار میں ان کو جگہ نصیب فرما۔ آمین


مکمل تحریر >>

بدھ, دسمبر 04, 2013

خود ميں استعداد پيد ا کریں لوگ آپ کو اپنی آنکھوں کا تارہ بنائيں گے

ہرانسان کو اپنے اپنے میدان میں سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ،کتنے لوگ اپنے کام کو غلط طریقے سے دس گھنٹے میں کرتے ہیں حالانکہ اسے سیکھنے کے بعد صحيح طریقے سے ایک گھنٹے ميں کرسکتے تھے، ایک ملازم کو اپنی ملازمت میں معاون معلومات کی ضرورت ہوتی ہے ، ملازمت سے محروم انسان کو خود میں استعداد پیدا کرنے اور تجربہ حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اگر آپ ملازم ہيں تو کب تک  كام کو ایسے تيسے  کرتے رہیں گے، اور اگر آپ ملازمت سے محروم ہیں تو کب تک گارجين، قوم اورملک کے سر الزام ڈالتے رہيں گے ، سيکھنے  کی کوشش کریں ،کمی کی تلافی کریں ، خود ميں  استعداد پيد ا کریں، پھردیكهيں کيسےلوگآپ کو اپنی آنکھوں کا تارہ بناتے ہيں ۔
مکمل تحریر >>

جمعرات, نومبر 07, 2013

ٹاٹم پاس


وقت سے کچھ لوگ تنگی محسوس کرتے ہیں اوراسے برباد کرنے میں لگے رہتے ہیں چاہے حرام کاموںمیں کیوں نہ ہو، اسی لیے بعض غفلت شعاروں کے نزدیک”ٹائم پاس“ کرنے کی اصطلاح بہت عام ہوتی ہے حالانکہ وقت سنہری فرصت ہے، جو وقت گذرگیاپھرلوٹ کر نہیں آسکتا ، اوردانا  اپنے اوقات سے فائدہ اٹھاتاہے ٹائم پاس نہیں کرتا ۔
مکمل تحریر >>

جمعرات, جون 06, 2013

زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ چھوٹ گیا

آج کون ایسا مسلمان ہے جو یہ دعوی نہ کرتا ہوکہ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے ،لیکن ہمیں کہنے دیاجائے کہان میں سے اكثريت كى یہ محبت ’جذباتی ‘ہے اوربس ،یہ کھوکھلا دعوی ہے جس کے پیچھے کوئی دلیل نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے میں ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اورآپ کے طریقے سے ہٹ چکے ہیں ،عقائد کی طرف دیکھیں تو و ہ پیغمبر جس نے اپنی 23 سالہ زندگی توحید کے اثبات اورشرک کی تردید میں صرف کردی آج اسی پیغمبر کی اطاعت کا دم بھرنے والے مسلمان دن رات مردوں کو مشکل کشا،حاجت روا اور غوث اعظم تصور کرتے ہیں ۔ عبادات کی طرف دیکھیں تو وہ نبی جس نے نماز ،زکاة ،روزہ اورحج کو دین کی بنیاد قرار دیا کلمہ شہادت کے اقرار کے بعد پہلا فریضہ نماز بتایا،آج ہماری اکثریت اسے پامال کرکے اپنی پہچان کھو چکی ہے ۔
اخلاقیات اورمعاملات کی طرف دیکھیں تو وہ نبی جو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجے گئے ،وہ نبی جس نے معاملات کو اصل دین قرار دیا ،آج اسی دین کے نام لیوااخلاقیات اور معاملات کی ایسی پستی میں گرچکے ہیں کہ الاماں والحفیظ ۔ دین کا کوئی ایسا گوشہ نہیں ہے جس میں ہم واقعی اپنے نبی کی تابعداری کررہے ہوں۔ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم پورا جسم زخم آلود ہے ،مرہم کہاں کہاں لگائیں “۔ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ چھوٹ گیا ہے اوراس کی جگہ پر درآمد شدہ قابل تقلیدنمونے کی حیثیت اختیار کرگیاہے ۔
مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 05, 2012

کہاں گیے اسلام کا درد رکھنے والے ؟

 آج مسلمان ہر میدان میں کس قدر پچھڑتے جا ر ہے ہیں اس كا اندازه ہم سب كو بخوبى ہے، تعلیمی میدان ہو ، تجارتی میدان ہو، سیاسی میدان ہو ہر جگہ ان کی نمائندگی کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے ۔ سب سے بڑھ کر ہم مختلف گروہوں ، جماعتوں اور فرقوں میں بٹ کر اپنے اتحاد کو پارہ پارہ کر رہے ہیں، حالانکہ ہماراخالق ومالک ایک ہے، ہمارا دین ایک ہے ، ہمارا نبی ایک ہے ، ہمارا قبلہ ایک ہے ، آج تقریبا 155 ممالک میں مسلمان ہیں ، اور ہر چوتھا ایک مسلم ہے ، اگرآج ہم بیدار ہوجائیں تو يقين ركهيں كہ ساری انسانیت اسلام کو گلے لگا لے گى، آج عیسائی مشینریاں ، اسلام دشمن تحریکیں ، اور ہندوؤں کی متعصب تنظیمیں گویا اسلام مخالفت پر کمر بستہ ہوچکی ہیں ، اور زہر کو تریاق بناکر انسانیت کے سامنے پیش کر رہی ہیں ….کہاں گیے اسلام کے سپوت ؟ کہاں گیے اسلام کا درد رکھنے والے ؟ کیا کوئی ہے جو ان گزارشات پر کان دھرے ؟ مجهے قوى اميد ہے كہ ميرى آواز صدا بصحرا ثابت نہ ہوگى 
مکمل تحریر >>

جمعرات, ستمبر 08, 2011

عمری برادران سے دو گذارش

مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری حفظہ اللہ استاذ دارالسلام عمرآباد سے نہ ہماری کبھی ملاقات ہے اور نہ شناسائی ۔البتہ ہم نے ان کے شاگردوں کوان کی خوبیاں بیان کرتے ضرور سنا ہے ۔ ماہنامہ راہ اعتدال میں ان کے مقالات ضرورپڑھے ہیں۔  بلکہ ذاتی طورپر میں مولانا کی تحریر پڑھنے کے لیے ہی راہ اعتدال کی کھوج میں لگا رہتا ہوں، یہاں تک کہ پرانے شمارے بھی مل جاتے ہیں تو ان میں مولانا کی تحریر تلاشنے لگتا ہوں۔  کسی کی شخصیت کو پہچاننے کے لیے برسہا برس درکار نہیں ہوتے ۔ چند منٹوں میں شخصیت پہچان میں آجاتی ہے۔ میں نے مولانا کو ان کی تحریروں سے پہچانا ہے، اوران کی تدریسی صلاحیتوں کی بابت سنا ہے ۔ آپ کو اللہ پاک نے بلا کی ذہانت دی ہے ، آپ کی شخصیت گوناگوں خوبیوں کی مالک ہے، عمری برادران سے ہماری گذارش ہوگی کہ ان کی صلاحیت کو دارالسلام تک محدود نہ رہنے دیں۔ آج انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، دنیا سمٹ کر گھر کی مانند ہوچکی ہے ۔ ان کے دروس کی ريکاڈنگ کا بندوبست کیا جائے، انہیں ذمہ داری دے کر ان سے علمی کام کرایا جائے، ان کے مقالات کوکتابی شکل میں چھاپا جائے ۔ مختلف مجالس میں راقم سطور كو ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ کی زبانی  ان كے حق ميں ستائشی کلمات سننے كا موقع ملا ہے ۔
مولانا ابوالبیان حماد صاحب علم، صلاحیت اورقابلیت میں بے مثال ہیں، زبان وادب میں استاذ سمجھے جاتے ہیں۔ میری نظر سے ان کے کئی شعری مجموعے بھی گذر چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ محترمہ کا بھی ایک شعری مجموعہ بازارمیں دستیاب ہے ۔ آپ کے کلام میں بلاکی چاشنی ہے ۔ حلاوت ہے اورادبی جواہرپارے ہیں۔ ان کے ایک نعتیہ کلام کا مجموعہ بھی منظرعام پرآچکا ہے ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ آج اردوزبان میں شرکیہ نعت نے شہرت حاصل کررکھی ہے۔ صحیح نعت پر مشتمل ویڈیوزاورسی ڈیز تلاش بسیار کے باوجود نہیں ملتیں ۔ ایسے حالات میں آخر کیوں نا مولانا کے نعتیہ کلام کو سی ڈیز اور ویڈیوز کی شکل دی جائے ۔ اچھے نعت خواں کی خدمت حاصل کرکے اس کی ریکارڈنگ ہواوراسے الکٹرونک میڈیا کی زینت بنایا جائے کہ یہ وقت کا فوری تقاضا ہے ۔
مکمل تحریر >>

بدھ, مارچ 10, 2010

ایڈیٹر ماہنامہ مجلہ طوبی کے نام


برادرگرامی قدر جناب ظل الرحمن التیمی حفظہ اللہ
ایڈیٹر ماہنامہ مجلہ طوبی
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
امید کہ مزاج عالی بخیر ہوگا
مادرعلمی میں کانفرنس کی بابت سنا ، لیکن اس کی رپورٹ نیٹ سے متعلقہ اخبار وغیرہ میں پڑھنے کو نہ مل سکی ، اگر رپورٹ دستیاب ہو تو مجھے صرف ای میل کردیں ۔ نوازش ہوگی ۔آج ایک اہم بات آپ سے یہ عرض کرنی ہے کہ آپ نے طوبی کے دائرہ کو اتنا محدود کررکھا ہے کہ ملک سے باہر رہنے والے افراد اس سے استفادہ کرہی نہیں سکتے ۔خوش آئند بات یہ ہے کہ جامعہ کا ویب سائٹ تیار ہے ، نیٹ پر صفحہ خریدا جا چکا ہے، اور سالانہ رقم کی ادائیگی بھی ہو رہی ہے، پھر رسالے کا مادہ ساراکا سارا آپ کے پاس تیار بھی ہے توپتہ نہیں دقت کیا ہوتی ہے ۔ ہرماہ اپلوڈ کرنا ہے اور بس ، ہندوستانی مدارس بالعموم اس سمت میں توجہ نہیں دے رہے ہیں ،حالانکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے ، آج تعلیم یافتہ طبقہ اپنے اکثر اوقات نیٹ پر گزار رہا ہے، ایسے لوگوں کو ہم کیوں محروم کریں-
ایک دوسری بات یہ کہ پی ڈی ایف کا سسٹم اب نہیں چل رہا ہے، اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ آرٹیکل نیٹ پر موجود ہونے کے باوجود وہ گوگل یا سرچنگ کى سروس میں نہیں آتا جس کی وجہ سے اس کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے ، افسوس کہ اب تک اردو روزنامے بھی نیٹ پر اسی طریقے سے ڈالے جا رہے ہیں، روزناموں کی بات کچھ دیر کے لیے چل بھی سکتی ہے کہ ان کی افادیت وقتی ہوتی ہے جبکہ دینی مجلات کا معاملہ ایسا نہیں ہے ،ان کی افادیت ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے،اس لیے یونی کوڈ میں آنے چاہئیں ۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایک آدمی سرچ کرکے متعلقہ موضوع تک بآسانی رسائی حاصل کرسکتا ہے جبکہ پی ڈی ایف میں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ان پیج ٹو یونیکوڈ کی سروس آج دستیاب ہے ،اگر ٹائیپنگ صحیح طریقے سے کی جائے تو ہوبہواسے یونیکوڈ میں بدلا جاسکتاہے ۔ میں بھی توکویت سے اردومیں ماہنامہ مصباح نکالتا ہوں ‘الحمدللہ اسے یونی کوڈ میں نیٹ پر بھی ڈالا جارہا ہے ،اس میں کوئی خاص وقت بھی نہیں لگتا ہے ۔ اس کے جو مادے میرے پاس تیار ہوتے ہیں ایک ڈیڑھ گھنٹہ کے اندر خود سے سب کو نیٹ پر ڈال دیتا ہوں ۔ آپ دیکھیے دارالعلوم دیوبند والوں نے اچھی خاصی پیش رفت فرمائی ہے ، ان کے سارے فتاوے،اور ماہنامے یونی کوڈ میں دستیاب ہیں، آج المیہ یہ ہے کہ شیعوں ،قادیانیوں اور قبرپرستوں نے نیٹ پر دین کی خدمت کے نام سے زہر اگل رکھا ہے اور ہم ہیں کہ حق بات کو مٹھی میں بند کیے ہوئے ہیں ، جب میں اردو میں کسی موضوع سے متعلق سرچ کر رہاہوتا ہوں تو اکثر گمراہ فرقوں کے مقالات سامنے آجاتے ہیں ، گویانیٹ پر باطل کاپرچار حق کے نام سے ہورہا ہے ۔
ممکن ہےکسی بھائی کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہو کہ آپ لوگوں کے پاس وقت ہے اس لیے آپ لوگ ایسا کرلیتے ہیں ،ہم سب کی ذمہ داریاں الگ ہیں نیٹ پرجانے کا موقع نہیں،نیٹ کی سہولت بھی دستیاب نہیں، اس کے لیے مادی تعاون بھی درکارہے ....یہ سارے اشکال اپنی جگہ بجا ہيں لیکن اگر نیٹ کی اہمیت کو سامنے رکھا جائے تو ہم ضرور اس کی طرف پیش رفت فرمائیں ۔ الحمدللہ میرے پاس روم میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے، لیکن میرا بهى وقت بہت تنگ ہوتاہے، آفس کی پوری ڈیوٹی نبھانا ، تن تنہا رسالے کا پورا کام کرنا، دروس کی تیاری کرنی ، ریڈیو کے ہفتہ وار  پروگرام کی تیاری ....اسے وہی سمجه سکتا ہے جس نے عملی طور پر برتا ہو۔ خلیج میں لوگ صرف رسمی ڈیوٹی سے پریشان رہتے ہیں جبکہ میرے ساتھ یہ ساری ذمہ داریاں لگی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سونے کا بہت کم وقت ملتا ہے،لیکن سوچتاہوں کہ مشغولیت ہی سے تو شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے ۔ اس لیے لگا ہوا ہوں۔ جہاں تک مادی تعاون کا مسئلہ ہے تو اگر عزم محکم ہو تو یہ بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔
 میں بنیادی طور پر بذریعہ نیٹ غیرمسلموں میں کام کررہا ہوں ،ٹیم ورک کی اہمیت کے پیش نظر میں نے کوشش کرکے نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد جمع کرلی ہے جو نیٹ پر اچھا خاصا کام کررہے ہیں ،ایک وقت تھا کہ ہندی میں نیٹ پر دعوتي آرٹيكل  لکھنے والا ایک بھی نہیں پایا جاتا تھا آج الحمدللہ درجنوں نوجوان ہمارے ملک میں موجود ہیں ،اس تعلق سے میں سے ہندوستان کے کتنے لوگوں سے رابطہ کیا تو اکثر لوگوں کا یہی کہنا تھا کہ وقت نہیں ہے ......، بھئی ! آپ جو کتابیں لکھ رہے ہیں، وہ تو سب کے پاس پہنچ نہیں رہی ہیں....اور آج نیٹ پر غیرمسلموں کا تعلیم یافتہ طبقہ ہروقت موجود رہتا ہے ، بیک وقت لاکھوں اشخاص تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں، جبکہ اسلام کے دشمن اسلام کے خلاف روزانہ لکھ رہے ہیں ۔ ہم سب نے پچھلے سالوں سے جو کام شروع کیاہے اس کے اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں،غیرمسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچ رہا ہے جس نے ہندوستان کی فرقہ پرست تنظیموں کے کان کھڑے کر دئیے ہیں۔اب ان کو احساس ہونے لگا ہے کہ ہماری گرفت کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ورنہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اردو میں خود لکھتے ہیں اور خود پڑھتے ہیں۔
معاف کیجیے گا، بات ذرا طول پکڑ گئی بلکہ موضوع سے ہٹ گئی ....میں عرض یہ کررہا تھا کہ آج اردو زبان میں نیٹ پر کام کرنے کی بے حد ضرورت ہے، اس لیے مجلہ طوبی کا تازه شماره نیٹ پر بروقت لانے کی کوشش کریں اور یہ یونیکوڈ میں ہونا چاہیے اس کے لیے جس طرح کا تعاون درکار ہو مجھے میل کردیں ....
اللہ تعالی آپ کو، آپكے اہل خانہ اور تمام احباب کو صحیح سلامت رکھے آمین

آپ کا خیراندیش بھائی
صفات عالم محمدزبیرتیمی
مکمل تحریر >>