منگل, دسمبر 10, 2013

تصورآخرت اور اس سے متعلق غلط فہمیاں


بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
موت اورقبرسے لے کر جنت یا جہنم میں جانے تک كى زندگی آخرت کی زندگی كہلاتى ہے ۔ يہ دنیا امتحان ہال ہے ،اس میں ہرانسان کو امتحان کے لیے بسایاگیا ہے،اوراس امتحان کا دور روح نکلتے ہی ختم ہوجاتا ہے ۔اب نعمت یا عذاب کا مرحلہ ہوتا ہے،جس کی ابتداء قبر سے ہی ہوجاتی ہے۔ قبر جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ۔اس کے بعد قیامت ہوگی ،محشر بپا ہوگا،اللہ کے دربارمیں سب اکٹھا ہوں گے ۔ حساب وکتاب ہوگا، اعمال تولے جائیں گے، نامہ اعمال دیاجائے گا، پلصراط سے گذرنا ہوگا، پھرآخری ٹھکانا یاتو جنت ہوگا یا جہنم ۔
لیکن جب انسانوں نے اپنی الٹی سمجھ سے اس عقیدے پر غورکیا تو معاشرے اورسماج میں بہت ساری غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں۔

(1) بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست 

کچھ لوگ سمجھنے لگے کہ دنیاوی زندگی ہی سب کچھ ہے ۔ مرنے کے بعد کسی طرح کے حساب وکتاب اور جزا وسزا کا معاملہ نہیں۔اس دھرتی پر آج تک اس تصور کے حامی لوگ پائے جاتے ہیں ۔جو کہتے ہیں کہ دنیا ہی سب کچھ ہے ۔ مرنے کے بعد کچھ بھی ہونے والانہیں ۔ ایسے لوگوں کودہریہ کہتے ہیں۔
حالانکہ ان کی سوچ میں ذره برابر دم نہیں ۔ اگر ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں جوہمیں دنیامیں میسر ہے تو معلوم ہوگا کہ اس  میں کسی کو مکمل اطمینان حاصل نہیں۔اِس دنیا میں ہرآدمی کے ساتھ ماضی کے پچھتاوے اور مستقبل کاخوف ہمیشہ لگا رہتا ہے۔ یہاں سب سے بڑی تکلیف موت کی ہے جس کی وجہ سے انسان کی ساری خواہشیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس زندگی میں مکمل انصاف موجودنہیں ۔ آپ خودسوچئے کہ کتنے لوگ زندگی بھر نیکیاں کرتے رہتے ہیں، کتنے لوگ زندگی بھر پریشانیاں جھیلتے ہیں لیکن ان کودنیامیں کوئی بدلہ نہیں مل پاتا جبکہ دوسری طرف کتنے لوگ زندگی بھر زمین میں فساد مچاتے ہیں،قتل وخون ریزی کرتے ہیں ، ہزاروں کوقتل کردیتے ہیں ۔ دنیا  ایسے مجرم کو سزادینا بھی چاہے تو زیادہ سے زیادہ موت کی سزا دے سکتی ہے۔ یہاں تو ایک جان جارہی ہے جبکہ اس نے ہزاروں کی جانیں لی ہیں ۔اس طرح ایک ایسی زندگی کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے جہاں نیکوکارو ں کو ان کا پورا پورا بدلہ مل سکے ۔ اور مجرموں کو پوری پوری سزا مل سکے ۔ یہی دراصل آخرت کی زندگی ہے ۔ یہ ایسی زندگی ہے جو فطرت کی پکار ہے ۔

(2)نیکی اور بدی کا بدلہ بذريعہ تناسخاس دنیا میں ہی ملتا ہے:

انسانوں کی ایک دوسری جماعت وہ ہے جس کا کہنا ہے کہ نیکی اور بدی کا بدلہ اس دنیا میں ہی مل جاتا ہے ۔ آدمی اگرنیک ہے تو مرنے کے بعد اچھے لوگوں کے جسم میں دوبارہ جنم لیتا ہے اوراگر برا ہے تو پیڑ پودے اور جانوروں کے قالب میں پید ہوتا ہے ۔ اس عقیدے کو آواگمن یا تناسخ کا نام دیاجاتا ہے ۔ اورسنسکرت میں اسی کو ’پنرجنم‘ کہتے ہیں ۔ یعنی پچھلے عملوں کا بدلہ پانے کے لیے مختلف شکلوں میں باربارپیدا ہونا ۔ یہ عقیدہ آج ہندو مذہب اور بہت سارے دوسرے مذاہب میں رائج ہے ۔
حالانکہ ہندومذہب کے بڑے بڑے عالموں نے اس عقیدے کی تردید کی ہے ۔ بلکہ ویدوں سے بھی اس کی تردید ہوتی ہے ۔ خودپنرجنم کا لفظ اس کی تردیدکرتا ہے کیونکہ پنر جنم کے معنی ”دوبارہ جنم لینے کے ہیں“ باربار جنم لینے کے نہیں ۔ گویا پنرجنم سے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی تائید ہوتی ہے ۔جس کا قائل خود اسلام ہے۔

(3)قبر کی نعمت اور عذاب کی کوئی حقیقت نہیں:

انسانوں کی ایک تیسری جماعت وہ ہے جس کا ماننا ہے کہ مرنے کے بعد حساب وکتاب تو ضرور ہوگا البتہ مرنے کے بعد قبر کی نعمت اور عذاب کی کوئی حقیقت نہیں ۔یعنی قبر میں نہ نعمتیں ملیں گی اور نہ ہی عذاب ہوگا ۔ یہ عقیدہ ان لوگوں کا ہے جو صرف قرآن کو ماننے کا دعوی کرتے ہیں اورحدیث کا انکارکرتے ہیں ۔ ان کو اہل قرآن کہا جاتا ہے ۔
یہ تصوربھی قرآن وحدیث کے نصوص سے ٹکڑا تا ہے ۔ کیونکہ قبر میں عذاب ہونے یا قبر میں نعمتوں کے حاصل ہونے کی تائید مختلف آیات واحادیث سے ہوتی ہے ۔فرعونیوں کے حق میں  الله تعالى كا ارشاد ہے: 
النّارُ‌ يُعرَ‌ضونَ عَلَيها غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَومَ تَقومُ السّاعَةُ أَدخِلوا ءالَ فِر‌عَونَ أَشَدَّ العَذابِ  ( سورة الغافر 46 )
 '' آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی، حکم ہو گا: فرعون والوں کو بدترین عذاب میں داخل کرو۔'' یعنی قیامت سے پہلے اس وقت وہ صبح و شام آگ پر پیش کیے جا رہے ہیں۔
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم میں جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اس پر صبح اور شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے تو جو شخص جنتی ہو اسے جنت کا اور جو جہنمی ہو اسے جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے". ( بخاری و مسلم)

اورعائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی تو اس نے عذاب قبر کا ذکر کیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہنے لگی کہ اللہ تعالی آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے متعلق سوال کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ہاں عذاب قبر ہے عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے دیکھا " ( بخارى ومسلم) 
ان آیات و احادیث سے عذاب قبر کا ثبوت ملتا ہے اور ان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو عذاب مسلسل مل رہا ہے ۔ رہى منطقى دليل تو انسانی زندگی کو چار مراحل میں تقسیم کر سکتے ہیں ولادت سے پہلے کا مرحلہ جب وہ بشکل روح عالم ارواح میں موجود ہوتا ہے دوسرا مرحلہ جب وہ ماں کے شکم میں ہوتا ہے تیسرا مرحلہ جب وہ دنیا میں پیدا ہوتا ہے اور چوتھا مرحلہ جب اس کی زندگی کا خاتمہ ہوتا ہے اور یہی در اصل برزخی زندگی ہے جسمیں نیکوں کو انعام ملتا ہے اور بروں کو سزا ملتی ہے - اور انسان کا اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ نہ کر پانا اس بات کو مستلزم نہیں کہ عذاب قبر کی حقیقت نہیں کیوں کہ سونے کی حالت میں انسان پر مختلف واردات پیش آتے ہیں کبھی وہ باغ و بہار کی سیر کرتا ہے اور کبھی کسی بھیانک منظر سے ڈرتا ہے حالانکہ اسی کے پاس سونے والا انسان اس کی اس حالت سے آگاہ نہیں ہو پا تا - تو صرف عذاب یا انعام کو نہ دیکھ پانے سے قبر کے عذاب یا سزا کا انکار نہیں کیا جا سکتا

(4)  اولیاءاللہ کے دامن سے وابستہ ہوجائیں تو قیامت کے دن ہماری سفارش کرکے ہمیں بخشوا دیں گے:

ایک چوتھی جماعت وہ ہے جس کاماننا ہے کہ اولیاءاللہ کا اللہ کے ہاں بڑا اثرورسوخ ہوتا ہے، ان کی ہربات مانی جاتی ہے ۔اس لیے اگرہم دنیا میں ان کے دامن سے وابستہ ہوجائیں توقیامت کے دن ہماری سفارش کرکے ہمیں بخشوا دیں گے ۔ حالاں کہ یہ سوچ بھی غلط ہے ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم نے اپنی چہیتی بیٹی فاطمہ رضى الله عنہا سے کہا تھا :
يا فاطمة بنت محمد سليني ما شئت من مالي لا أغني عنك من الله شيئا( بخارى )
 "اے فاطمہ ! تجھے دنیا میں جو مانگنا ہے مانگ لے ۔آخرت میں میں تجھے کچھ کام نہیں آسکتا" ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ سفارش کی کوئی حقیقت نہیں … قیامت کے دن سفارش برحق ہے، گنہگاروں کے حق میں انبیاء واولیائے کرام کی سفارش ضرور ہوگی لیکن دو شرطوں کے ساتھ پہلی شرط یہ کہ اللہ تعالی سفارش کرنے کی اجازت دے دیں ۔ اوردوسری شرط یہ کہ جس کے لیے سفارش کی جارہی ہے اس کے عمل سے اللہ تعالی راضی بھی ہو۔ اللہ تعالی نے فرمایا 
يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا (طه: 109) 
یعنی کل قیامت کے دن اسی کو سفارش فائدہ پہنچاسکتی ہے جس کو اللہ سفارش کرنے کی اجازت دے دیں اور جس کے لیے سفارش کی جارہی ہے اس کے تئیں راضی بھی ہو۔ گویاکہ شفاعت کا سارا اختیاراللہ کے پاس ہے
قُل لِّلَّـهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا  ( الزمر 44)
"کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے۔" ۔
مکمل تحریر >>

جمعرات, نومبر 28, 2013

انبیاء و رسل پر ایمان کیوں اورکیسے ؟



اللہ پاک نے انسان کو کائنات کے ایک حصے زمین پر بسایا اوراسے ساری انسانیت پر فضیلت عطا کی تواسے دنیا میں کیوں بسایاگیاتھا ،اس کا مقصد تخلیق کیاتھا ،اسے عملی شکل میں بتانے کے لیے اللہ پاک نے انسانوںمیں سے پاکیزہ ہستیوں کو چنا جو اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچاسکیں ۔ ایسے ہی لوگوں کو نبی اوررسول کہتے ہیں ۔ یعنی خالق اور مخلوق کے درمیان خالق کی شریعت کو پہنچانے کا واسطہ ۔ اورنبوت کوئی کسبی چیز نہیں ہے  جسے عبادت اور ریاضت کے ذریعہ حاصل کی جاسکے ،بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوںمیں سے جسے چاہتا ہے نبوت کیلئے منتخب فرماتا ہے ، انتخاب کرنے کا یہ اختیار اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں ہے۔الله تعالى  نے فرمايا:
 "اللہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے" ۔ (الانعام 124)

انبياء ورسل كى بعثت كا فلسفہ:

ایک عام انسان کے ذہن میں یہ سوال ابھرسکتا ہے کہ آخر انبیاءورسل کا سلسلہ کیوں جاری کیاگیا ، کیاانسان کورسالت کااحتیاج ہے ؟ تو اس کا دوٹوک جواب یہ ہے کہ خوردونوش کی اشیاءاوردوا سے زیادہ انسان کورسالت کی ضرورت ہے ، جس کی وضاحت مندرجہ ذیل نکات سے ہوتی ہے :
  1. انسان مخلوق ہے اوراس کی بہترین ساخت میں بناوٹ ہوئی ہے ،اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے خالق کو جانے ، رسالت ہی ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں کس نے پیدا کیا،ہمیں کیوں پیدا کیاگیا،اورہمیں کہاں جانا ہے ۔اس نكتے كوانسان محض اپنی عقل كے سہارے نہیں سمجھ سکتا،ضرورت ہے انبیاءورسل کی رہنمائی کی ۔
  2.  رسالت کے اندر زندگی ہے ،اللہ پاک نے سورہ انعام  122میں فرمایا: "کیاتم اسے نہیں دیکھتے جو مردہ تھا ہم نے اسے زندگی عطا کی"  جی ہاں ! رسالت کے بغیر انسان زندہ ہونے کے باوجودزندگی سے محروم ہوتا ہے ۔رسالت روح کی غذا ہے ،انسان دو عناصر سے مل کر بناہے ،روح اورجسم ،جسم تو ہر مخلوق کے اندر ہوتا ہے ،یہاں تک کہ جانوروں کے اندربھی ،اگر انسان اورجانورمیں امتیاز ہوسکتا ہے تو روح کے ذریعہ ہی ہوسکتا ہے....جسم کی غذا اشیائے خوردونوش ہے جبکہ روح کی غذا اس کے پیدا کرنے والے نے خود طے کی ہے ،اوریہ سچا دین اورعمل صالح ہے ،اس طرح انبیاءورسل کا کام روح کا تزکیہ اورنفس کی اصلاح ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:”وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے ، اگر چہ وہ اس سے پہلے واضح گمراہی میں تھے“۔ [الجمعة: 2]
  3. انسان فطری طورپر مذہبی واقع ہوا ہے ،اس کی فطرت میں ایک عظیم ہستی کی نگرانی کا تصور ہوتا ہے،ایسے وقت اسے دین کی ضرورت پڑتی ہے جسے اختیار کرسکے ،اوروہ دین سچا بھی ہوناچاہیے، ظاہر ہے کہ دین کے صحیح ہونے کے لیے انبیاءورسل پر ایمان رکھنا ضروری ہے ۔
  4. انسان ایسے راستے کا محتاج ہے جو اسے دنیا میں اللہ کی رضامندی تک پہنچاسکے اورآخرت میں نعمتوں بھر ی جنت کا حقدار ٹھہرا سکے ،اورایسے راستے کی رہنمائی انبیاءورسل ہی کرسکتے ہیں ۔
  5. انسان بذات خود کمزورواقع ہواہے ،اس کے دشمن اس کی گھات میں لگے ہوئے ہیں،شیطان ہے جواسے گمراہ کرناچاہتا ہے ،بُری صحبت ہے جو اس کے سامنے قبیح کو خوبصورت بنا کرپیش کرتی ہے ، اورنفس امارہ ہے جو اسے برائی کی طرف دعوت دیتی ہے ۔ اس لیے ایک انسان اس بات کا ضرورتمندہے کہ اپنے دشمن کے مکر سے محفوظ رہنے کے لیے انبیاءورسل کی تابعداری کرے ۔
  6. انبیاءورسل اس لیے بھی بھیجے گئے کہ کل قیامت کے دن لوگ یہ عذر پیش نہ کریں کہ ہمارے بیچ کوئی راہ دکھانے والا نہیں آیاتھا،گویااللہ پاک نے رسولوں کو بھیج کر لوگوں پر حجت قائم کردی۔فرمان باری تعالیٰ ہے: ترجمہ : ”ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے تاکہ رسولوں کو بھیجنے کے بعد لوگوں کی اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہ رہ جائے، اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور بڑا با حکمت ہے“۔ [النسا ء: 165]
  7.  اللہ نے انسان کو عقل دی ،اس کے ذریعہ وہ ظاہری باتوں کو تو سمجھ سکتا ہے مگربہت سی باتیں وہ ہیں جن کو جاننے کے لیے ظاہری علم کافی نہیں ، خوددنیا کی بہت ساری حقیقتیں انسان کی عقل سے باہر ہیں تواللہ اوررسول کا معاملہ تو دوسری دنیا  کا ہے جو مکمل طورپر انسان کو دکھائی نہیں دیتیں، چنانچہ پیغمبراس کمی کو پورا کرتے ہیں اوران کے ذریعہ ہمیں ان غیبی امور کاعلم ہوتا ہے جن کا ادراک ہم اپنی عقلوں سے نہیں کر سکتے ، مثال کے طورپراللہ تعالیٰ کے اسماءوصفات، فرشتے، قیامت کے دن سے پہلے واقع ہونے والے امور ، روزِ قیامت ، حساب وکتاب ، جنت ودوزخ وغیرہ
  8. رسولوں کی بعثت کا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی امتوں کے سامنے زندگی گذارنے کا ایک بہترین نمونہ اورآئیڈیل پیش کریں ۔الله تعالى نے  فرمایا: ترجمہ : ”یقینا تمہارے لئے ان لوگوں میں بہترین نمونہ ہے“۔[الممتحنة: 6]

انبياء ورسل كى تاريخ :

انسان اس دنیا میں جب سے بسا ہے اسی وقت سے پیغمبروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، سب سے پہلے انسان آدم علیہ السلام ہیں جوپہلے انسان بھی ہیں اورپہلے نبی بھی ، البتہ پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام ہیں ،جو آدم علیہ السلام کے دس صدیوں بعد جب قوم نوح کے نیک لوگوں کی شان میں غلو کرنے کے نتیجہ میں شرک کا آغاز ہوا تو پہلے رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے،گویا پہلے نبی آدم اورپہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام ٹھہرتے ہیں۔ ہم نے کہا ”نبی اوررسول “ تو کیا نبوت اور رسالت میں فرق ہے ؟ جی ہاں! رسول وہ ہے جس کی طرف نئی شریعت کی وحی کی گئی ہو ،اور نبی وہ ہے جوپہلی شریعت کی تبلیغ کے لیے بھیجے گئے ہوں۔
اب سوال یہ ہے کہ انبیاءورسل کی تعداد کتنی ہے؟تو اس سلسلے میں اصولی بات یہ ہے کہ اللہ پاک نے ہرقوم اورہر جگہ اپنے نبیوں کو بھیجا ۔اللہ پاک نے سورہ فاطر میں فرمایا: ”ہر قوم میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور آیا ہے۔ “ ان انبیاءورسل کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تک پہنچتی ہے جيسا کہ مسند احمد ميں ہے ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ ميں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  سے انبياءعليہم السلام کی تعداد كے متعلق دريافت کيا تو آپ  نے فرمايا : ” انبياءعليہم السلام کی تعداد ايک لاکھ چوبيس ہزار ہے ، جن ميں سے رسل تين سو پندرہ کی تعداد ميں ، ايک بہت بڑی جماعت ہے “۔
قرآن وحديث ميں ان برگزيدہ شخصيات ميں سے بعض کا ذکرموجودہے اور بہت سے انبياءورسل عليہم السلام کے اسمائے گرامی مذکور نہيں ہيں اور وہ اللہ جل شانہ کے علم ميں ہيں ارشادِ باری ہے : ”يقينا ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسل عظام کو مبعوث کيا ، جن ميں سے بعض کا تذکرہ ہم نے آپ کے سامنے کيا ہے اور بعض کا نہيں کيا “۔( غافر : 78) قرآن کريم ميں25 انبياءورسل عليہم السلام کے اسمائے گرامی مذکور ہوئے ہيں ، ان ميں سے 18انبياءعليہم السلام کے اسمائے گرامی سورة الانعام کی آيت نمبر 83 تا 86 ميں مذکور ہيں:
 ( يعنی حضرت ابراہيم ، اسحاق ، يعقوب ، نوح ، دا ؤد ، سليمان ، ايوب ، يوسف ، موسیٰ ، ہارون ، زکريا ، عيسیٰ ، يحيی ، الياس ، اسماعيل ، يسع ، يونس ، لوط عليہم الصلاة و السلام ) اور سات انبياءورسل حضرت محمد  ، حضرت آدم ، حضرت صالح ، حضرت ھود ، حضرت شعيب ، حضرت ادريس ، حضرت ذو الکفل عليہم الصلاة والسلام )کے اسمائے گرامی مختلف مقامات پر وارد ہوئے ہيں ۔ اور جمہور کی رائے کے مطابق حضرت خضر عليہ السلام بھی اللہ کے نبی ہيں اور دو انبياءعليہم السلام کا ذکر حديثِ پاک ميں موجود ہے : حضرت شيث عليہ السلام اورحضرت يوشع بن نون عليہ السلام ۔البتہ ذوالقرنین اور تبع کے سلسلے میں توقف بہتر ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے ان انبیاءمیں سے بعض کو بعض پر فضیلت اور برتری عطا کی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر بہتری اور برتری دی ہے“۔ [الاسراء: 55] اسی طرح اللہ تعالی نے رسولوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ، جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ : ”یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“۔[البقرة:253]
اور ان میں سے افضل وہ رسول ہیں جو اولو العزم (عزيمت والے، عالی ہمت) کہلاتے ہیں اور وہ ہیں: حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدصلى الله عليه وسلم ۔فرمان الٰہی ہے:
”پس (اے پیغمبر!) آپ ایسا صبر کریں جیسا صبر عالی ہمت رسولوں نے کیا“۔[الا حقاف35]

 انبياء ورسل كى دعوت :

تمام انبیاءکی دعوت ایک ہی تھی ،جس کا خلاصہ تھا انسانوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کر بندوں کے رب کی عبادت پر لگانا۔ ارشاد ربانی ہے:
”اور یقینا ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ ) لوگو( صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام باطل معبودوں سے بچو“۔[النحل: 36]
اگرچہ ان کی شریعتیں اور احکام مختلف تھے لیکن وہ سب کے سب ایک اساس وبنیاد پر متفق تھے جو کہ توحید ہے۔بخاری اورمسلم میں حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا :
 ”تمام انبیاءآپس میں علاتی بھائی ہیں(جن کا باپ ایک ہے اور ) مائیں الگ الگ ہیں، اور ان سب کا دین ایک ہے “۔

انبياء  ورسل كى بشريت:

 جتنے بھی انبیاءورسل آئے سب کے سب بشر اورانسان تھے ،اس میں ایک طرف بندوں پر اللہ کی مہربانی تھی کہ اللہ پاک نے ان کے لیے انبیاءانہیں کے جنس سے بھیجا،اوریہ فطری تقاضا بھی تھا کہ رسول چونکہ آئڈیل اور معلم ہوتا ہے اس لیے معلم متعلم کے جنس سے ہوتاکہ تعلیم کا پورا مقصد حاصل ہوسکے۔اسی لیے اللہ پاک نے فرمایا:
قل لوکان فی الأرض ملائکة یمشون مطمئنین لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسولا۔سورہ اسراء (59)
اِن سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے  –“وہ دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہی تھے ،    وہ کھاتے بھی تھے ، پیتے بھی تھے ، شادی بھی کرتے تھے، سوتے بھی تھے ، بیمار بھی ہوتے تھے اور وہ تھکاوٹ بھی محسوس کرتے تھے فرمان الٰہی ہے:
”اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے تھے“۔ [الفرقان: 20]
 اور فرمایا:
 ”ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا“۔ [الرعد:38]
اور انہیں بھی انسانوں کی طرح خوشی وغم، مشقت وآسانی اور ہشاش وبشاش ہونا جیسے عوارض لاحق ہوتے تھے-

انبياء ورسل كا جنس :

 تمام  انبیاءورسل  مرد تھے ،نبوت مردوں کے ساتھ خاص ہے ،اللہ پاک نے فرمایا:
"ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجا وہ مرد ہوتے تھے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے"  سورہ انبیاء(7) 
اورنبوت کا تقاضا ہے کہ دعوت کو فروغ دیاجائے ،لوگوں سے ملاقات کی جائے ،مخالفوں سے نمٹاجائے،اوریہ سب عورتوں کے مناسب نہیں" ۔

 انبياء ورسل كى بعض خصوصيات :

انبیاء علم غیب  نہیں رکھتے بجز اس کے کہ جس کی اللہ تعالیٰ ان کو خبر دے فرمان الٰہی ہے: ترجمہ :
”وہی غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، سوائے اس پیغمبر کے جسے وہ پسند کر لے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کر دیتا ہے“۔[الجن: 26، 27]
 اس کے باوجود رسولوں کی کچھ خصوصیات ہیں :
پہلی خصوصیت:  رسولوں پر وحی کا نزول ہوتا ہے :
جو بھی مسئلہ پیدا ہوتا ہے نبی کو وحی کے ذریعہ اس کی اطلاع دے دی جاتی ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے : قل انما ا نا بشر مثلکم یوحی الی (الکہف 110) ”آپ فرمادیجئے کہ میں محض تمہارے جیسا ہی ایک انسان ہوں فرق یہ ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے" ۔
 دوسری خصوصیت :  رسول معصوم ہوتے ہیں: 
پیغام کو اپنانے میں معصوم ہوتے ہیں،پیغام کی تبلیغ میں معصوم ہوتے ہیں،اسی طرح کبیرہ گناہوں،قول عمل اوراخلاق میں فحش گوئی سے معصوم ہوتے ہیں،البتہ بعض غلطیوں کا صادر ہونا جو تبلیغ رسالت سے متعلق نہیں عصمت کے منافی نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ بھی بحیثیت مجموعی انسان تھے ، ہاں ! وہ اپنی غلطی پر قائم نہیں رہتے ،جب کبھی کسی نبی سے کوئی معمولی غلطی سر زد ہوئی ، جس کا تبلیغ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اسے ان کیلئے بیان فرمادیا، اور انہوں نے اس سے فوراً توبہ کرلی اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کرلیا ، چنانچہ وہ معمولی غلطیاں ایسے ہوگئیں گویا ان کا وجود ہی نہ تھا۔
تیسری خصوصیت :ان کو معجزات سے نوازاجانا ہے:
 وہ خلاف عادت چیزجسے اللہ اپنے رسولوں اورنبیوں کے ہاتھوں پر ظاہر کرتا ہے جس کے کرنے سے دنیا کے لوگ عاجز ہوتے ہیں، تاکہ لوگ ان امورکو دیکھ کر اس نبی کی نبوت کی تصدیق کریں،اورسب کے سامنے رسول کی سچائی ظاہر ہوسکے ۔اوررسولوں کو معجزے ان کی قوم میں جس چیز کا زیادہ چلن تھا اسی کے مطابق دئے گئے تھے ، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ موسی علیہ السلام کے دورمیں جادو گری عروج پر تھی تو اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کو اسی قبیل کا معجزہ دیاتھا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی سانپ کی شکل میں بن کر جادوگروں کے جادو کے سانپوں کو نگل گئی، اور سب جادوگر عاجز ہوکرموسی علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔
 حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے سمندر پر لاٹھی ماری جس سے بارہ راستے بن گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دورمیں طب کا غلبہ تھاچنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتے، مادرزاد اندھوں کی آنکھوں کوٹھیک کر دیتے ، کوڑھیوں کو اچھا کر دیتے اور مٹی کا پرندہ بنا کر زندہ کر کے اڑا دیتے تھے۔
خوداللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم کے ہاتھوں پر بیشمار معجزات ظاہر ہوئے ، آپ کا سب سے بڑا اور تاقیامت زندہ معجزہ قرآن مجید ہے، دنیا کے بڑے بڑے عالم و فاضل عربی دان انتہائی کوشش کے باوجود اس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مانند نہ بنا سکے اور نہ قیامت تک بنا سکیں گے۔اسی طرح اسراءومعراج آپ کا معجزہ ہے ، کفار مکہ کے معجزہ طلب کرنے پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہوگئے- ایک ٹکڑا مشرق میں اور دوسرا مغرب میں چلا گیا اور بالکل اندھیرا ہو گیا-  سب حاضرین نے دیکھ لیا پھر دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے اور چاند اصلی حالت پرلو ٹ آیا ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے ایک دو آدمیوں کا کھانا سیکڑوں آدمیوں نے پیٹ بھر کھایا ،اس کے علاوہ آپ کی انگلیوں سے پانی کا ابلنا درختوں، پتھروں اور جانوروں کا آپ کو سلام او رسجدہ کرنا، کنکریوں کا کلمہ پڑھنا وغیرہ آپ کے بےشمار معجزات ہیں۔

رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب :

رسولوں پر ایمان چار چیزوں پر مشتمل ہے:
پہلی چیز: 
اس بات پر ایمان لاناکہ سارے انبیاءکی رسالت برحق اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے تھی، جس نے ان رسولوں میں سے کسی کی رسالت کا انکار کیا  اس نے گویاان سب کا انکار کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  ”نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا “(سورة الشعراء105)غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کو تمام رسولوں کو جھٹلانے والی قوم قرار دیا،حالانکہ جس وقت انہوں نے تکذیب کی تھی اس وقت تک نوح علیہ السلام کے سوا کوئی دوسرا رسول ان کے ہاں نہ آیا تھا۔اسی طرح اگر کسی مسلمان نے موسی علیہ السلام یا عیسی علیہ السلام کی نبوت کا انکار کیاتو اس نے گویا اللہ کے رسول ﷺکی نبوت کا بھی انکار کیا کہ کسی ایک نبی کا انکار ہمیں اسلام کے دائرہ سے نکال دیتا ہے ۔
دوسری چیز :
 جن رسولوں کے نام ہمیں معلوم ہیں ان پر تفصیل سے ایمان لانا مثلا حضرت محمدﷺ،ابراہیم،موسی،عیسی اور نوح علیھم السلام، یہ پانچ اولوالعزم رسول ہیں، ان برگزیدہ رسولوں کے علاوہ جن انبیاءکرام علیھم السلام کے اسمائے گرامی کا ہمیں علم نہیں ان پر بھی اجمالا ایمان لانا ہم پر لازم ہے۔
تیسری چیز : 
ان کی جو خبریں درست ہوں ان کی تصدیق کرناضروری ہے ۔
چوتھی چیز :
 اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ کے رسول ﷺ سے پہلے آنے والے پیغمبروںکا مستندریکارڈ باقی نہیں رہا،ان کی کتابیں بھی تحریف کا شکار ہوگئیں اس لیے اخیرمیں اللہ تعالی نے ساری انسانیت کے لیے محمدﷺ کو نبی بناکر بھیجا ،اب آپ کی شریعت پر عمل کرنا،اوریہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ آپ کے آنے کے بعد گذشتہ ساری شریعتیں منسوخ ہوگئیں ،اب کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت نبی پاک ﷺ کے علاوہ کسی اورنبی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کرے ۔ کہ آخری نبی اورساری انسانیت کے پیغمبر محمد ﷺ آگئے ۔اب دنیا کے لیے قرآن فائنل اتھارٹی اورمحمدﷺقیامت تک اللہ کے واحد نمائندہ ہیں۔
 اس حقیقت کو منطقی اندازمیں یوںسمجھاجاسکتا ہے کہ   ایک سرکار کسی ملک میں اپنے آدمی کو سفیر بناکر بھیجتی ہے تو ظاہر ہے کہ سفیر کی نمائندگی اسی وقت تک کے لیے ہو گی تب تک وہ اپنے منصب پر فائز رہے گا ۔جب اس کی مدت ختم ہوجائے اوردوسرے آدمی کو اس منصب پر متعین کردیاجائے تو اس کے بعد وہی سفیر سرکار کا نمائندہ ہوگا جس کو سب سے اخیرمیں سفارت کا موقع ملا ہے ۔ اس طرح اللہ کے رسولﷺ آخری سفیر ہیں ،پھرآپ کے بعد کوئی سفیر آنے والے نہیں ، یہی فارقلیط ہیں ،یہی کلکی اوتار ہیں ،یہی نراشنس ہیں ،یہی جگت پتی ہیں ۔
آپ ﷺ سب رسولوں میں سے افضل رسول ہیں ،آپ خاتم النبیین، امام المتقین اور بنی آدم کے سردارہیں ،جب تمام نبی اکٹھے ہوں تو آپ ان کے امام اور جب وہ تشریف لائیں تو آپ ان کے خطیب ہیں، آپ ہی صاحب مقام محمود ہیں جس پر پہلے اور بعد میں آنے والے سبھی رشک کریں گے، صاحب حوض ہیں جہاں پر لوگ وارد ہوں گے،اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دین کی سب سے افضل شریعت دے کر مبعوث فرمایا، اور آپ کی امت کو جو لوگوں کے لئے بھیجی گئی، بہترین امت بنایا، آپ کی امت دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آخری امت ہے لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے اٹھائی جانے والی ہے۔
  ہمارے حبیب اورآقا پر امت کا حق یہ تھاکہ وہ امت کی پریشانی میں شریک ہوں،امت کی سعادت کے حریص رہیں، اورامت کے لیے نہایت نرم اورشفیق بنیں۔ اورواقعی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حقوق کی کماحقہ ادائیگی فرمادی ۔ یہاں تک کہ اللہ پاک نے اس کی شہادت دی :
”تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر کی آمد ہوئی ہے، جو تمہاری ہی جنس سے ہیں، جن کو تمہارے نقصان کی باتیں بہت بھاری لگتی ہیں جوتمہارے فائدے کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں، ایمان والوں کے لیے بہت ہی شفیق اور مہربان ہیں ۔ “(التوبة : 128)  
البتہ ہم پر ہمارے آقا  کا حق یہ تھا کہ ہم ان کی اطاعت کریں ،ان کے نقش قدم پر چلیں ،ان کے اقوال وافعال کے سامنے کسی کے قول وفعل کو کوئی اہمیت نے دیں ،آپ پر درود وسلام بھیجیں ،اورآپ کی آفاقی تعلیمات کو اپنی ذات میں، اپنے معاشرے میں اورغیراقوام میں پھیلانے کی کوشش کریں ....لیکن کیا ہم ایسا کرسکے ؟

مکمل تحریر >>

پیر, نومبر 18, 2013

اللہ پر مكمل بھروسہ كا نام توكل ہے


توکل کيا ہے ؟ توکل دراصل اللہ تعالی پر اعتماد اور بھوسہ کرنے کا نام ہے ۔ اپنے تمام معاملات ميں خواہ ان کا تعلق حصول منفعت سے ہو يا دفع مضرت سے اللہ تعالی پر بالکل يہ اعتماد کرنا ۔
توکل عظيم عبادت ہے جسے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف پھيرنا جائز نہيں، مومن صادق اپنے سارے معاملات ميں محض اللہ تعالی پر بھروسہ کرتا ہے ، چاہے رزق کی طلب ہو ، مدد کی طلب ہو، شفا وعافيت کی طلب ہو ، يا مشکلات سے نجات کی خواہش ۔ وہ اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی رازق نہيں ، وہی ذات عطا کرنے والی ہے ، اور وہی ذات چھيننے والی بھی ہے ۔
اسی ليے اللہ تعالی نے ہميں اپنی کتاب ميں بے شمار جگہوں پر توکل کا حکم ديا ہے چنانچہ فرمايا:
وتوکل علی اللہ وکفی باللہ وکيلا (الاحزاب 28
اور اللہ تعالی پر بھروسہ کيے رہيے اور کافی ہے اللہ تعالی کام بنانے والا ۔
اور سورہ فرقان ميں اللہ تعالی نے فرمايا:
 وتوکل علی الحی الذی لا يموت (الفرقان 58) 
"اس ہميشہ زندہ زندہ رہنے والی ذات اللہ تعالی پر توکل کرو جسے کبھی موت نہيں" ۔ آيت کا مفہوم يہ ہے کہ تم انسان پر توکل مت کرو، اس سے اميديں مت باندھوکيوں کہ وہ فانی ہے اس ذات سے تعلق مضبوط کرو جو ہميشہ رہنے والی ہے اور جسے کبھی موت نہيں آتی ۔ اللہ تعالی نے ايک جگہ توکل کو صحت ايمان کی شرط قرار ديا ہے چنانچہ فرمايا:
 وعلی اللہ فتوکلوا إن کنتم مومنين (المائدہ23
" اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ تعالی پر بھروسہ کرو"۔
 حقيقت تو يہ ہے کہ ايک بندے کا تعلق اپنے رب سے اس طرح ہونا چاہيے جيسا تعلق ايک شيرخوار بچے کا اپنی کی چھاتی سے ہوتا ہے ، کہ دنيا ميں اس کے علاوہ  وہ اور کچھ نہيں جانتا ۔ بھوک کا احساس ہوا فورا ً فورا ماں کی گود سے چمٹ گيا ۔ يہی حال بندہ مومن کا ہونا چاہيے کہ ہر تکليف اور پريشانی ميں محض اللہ رب العالمين سے لو لگائے ، اسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے ۔
اللہ تعالی پر توکل واعتماد ، اسکی طرف اپنے معاملات کی سپردگی، اور قلوب واذہان کا اس سے متعلق ہونا يہ وہ عظيم اسباب ہيں جن سے مطلوب حاصل ہوتا ہے اور تمنائں بر آتی ہيں ، اور جس قدر توکل کا مفہوم دل ميں پيوست ہوتا ہے اسی تناسب سے مطلوبہ نتائج بھی سامنے آتے ہيں ۔آج ہمارے سارے مسائل کا حل توکل ميں ہے ، توکل ہمارے سارے اختلاف کو ختم کر ديتا ہے ، توکل عروج وترقی کی کنجی ہے ، توکل سے دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوتا ہے تب ہی تو اللہ تعالی نے نہايت جامع انداز ميں فرمايا:
 ومن يتوکل علی اللہ فھو حسبہ (الطلاق 3
"جو شخص اللہ تعالی پر توکل کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے کافی ہے" ۔
يہی حال انبياء و رسل کا تھا چنانچہ جب حضرت ابراہيم عليہ السلام کو دہکتی ہوئی آگ ميں ڈال ديا گيا توآپ نے اس وقت پکار لگائی:
 حسبی اللہ ونعم الوكيل
" اللہ تعالی ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترين کارساز اور محافظ ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی کے حکم سے آگ گل گلزار بن گئی ۔
حضرت موسی عليہ السلام جب بنو اسرائيل کو لے کر مصر سے نکلے تو فرعون نے اپنے لاولشکر سميت ان کا تعاقب کيا ، دشمن پيچھے ہے اور سمندر سامنے ہے ، يعنی ہلاکت يقينی تھی جس سے بنو اسرائيل پريشان ہوگئے ليکن موسی عليہ السلام نے توکل واعتماد کا پيکر بن کر جواب ديا :
کلا إن معی ربی سيھدين
ہرگز نہيں ہميں وہ اپنی گرفت ميں نہيں لے سکتا اللہ تعالی ہماری رہنمائی کے لئے کافی ہے چنانچہ بحکم الہی سمندر ميں لاٹھی مارا اوربيچ سمندر سے راستے بن گئے ۔
توکل ہر انسان سے مطلوب ہے چاہے مرد ہو يا عورت چھوٹا ہو يا بڑا ۔
کہتے ہيں کہ ايک آدمی مسجد نبوی ميں داخل ہوا تو ديکھا کہ ايک لڑکا نہايت  خشوع و خضوع سے طويل نمازيں پڑھ  رہا ہے ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس نے لڑکے سے پوچھا : تم کس کے فرزندہو ؟ لڑکے نے جواب ديا : ميں يتيم ہوں ميرے ماں باپ دونوں فوت پا چکے ہيں ۔ اس آدمی نے کہا : کيا تم مجھے اپنا باپ بنا سکتے ہو ؟ لڑکے نے کہا : اگر ميں بھوکا ہوں تو کھانا کھلائيں گے ؟ اس آدمی نے کہا : ہاں ۔ لڑکے نے کہا : اگر ميں ننگا ہو ں کپڑے پہنائيں گے ؟ اس نے کہا : ہاں ۔ لڑکے نے کہا : اگر ميں بيمار پڑوں تو مجھے شفا ديں گے ؟ اس آدمی نے کہا : يہ تو ميرے اختيار ميں نہيں ہے ۔ لڑکے نے کہا : اگر ميں مر جاؤں تو مجھے زندہ کر ديں گے ؟ اس آدمی نے کہا : يہ اختيار تو مخلوق ميں کسی کو حاصل نہيں ۔

 تب لڑکے نے جواب ديا : تو پھر مجھيں بھروسہ کر نے ديجيے اس ذات پر جس نے مجھے پيدا کيا ہے ، وہی مجھے ہدايت دے گا ، جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ، بيمار پڑوں تو شفا ديتا ہے ، اور جس کی ذات سے مجھے پوری اميد ہے کہ کل قيامت کے کل ميرے گناہوں کو بخش دے گا ۔ توکل کے پيکر لڑکے کا يہ جواب سن کر اس آدمی نے کہا : آمنت باللہ من توکل علی اللہ کفا ۔ ميں اللہ تعالی پر ايمان لے آيا ‘ جس نے اللہ تعالی پر توکل کيا اللہ تعالی اس کے لئے کافی ہے" ۔
 رزق کا مسئلہ ان مسائل ميں سے ايک ہے جس نے آج لوگوں کی نيند حرام کر رکھی ہے حالاں کہ اللہ تعالی نے اس کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھا ہے:
 وما من دابة فی الأرض إلا علی اللہ رزقھا .
"زمين پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہيں سب کی روزياں اللہ تعالی پر ہيں ۔ زمانہ جاہليت ميں لوگ فقر وفاقہ کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کر ديا کرتے تھے اللہ تعالی نے انہيں اس گندی حرکت پر تنبيہ فرمائی:
ولا تقتلوا أولادکم خشية أملاق نحن نرزقھم وإياکم .
کہ اپنی اولاد کو غربت کے ڈر سے قتل مت کرو ہم انہيں اور تمہيں رزق ديتے ہيں ۔ ليکن آج کی اکيسويں صدی عيسوی ميں وہی جاہلی رواج پھر عود کر آيا اور مہذب اور ترقی يافتہ ممالک فقر وفاقہ کے خوف سے فيملی پلاننگ کی پاليسياں وضع کر رہے ہيں ، اور لوگوں کو اسقاط حمل کی ترغيب دی جا رہی ہے ۔ اللہ والے رزق کے معاملہ ميں کلی طور پر اللہ تعالی پر بھروسہ کرتے تھے ۔ تب ہی تو سيدنا ابوبکر صديق رضي الله عنه  غزوہ تبوک کے موقع سے گھر کا سارا اثاثہ لاکر کاشانہ نبوت ميں ڈال ديتے ہيں اور جب پوچھا جاتا ہے کہ اہل خانہ کے لئے کيا چھوڑآئے ہو تو جواب ديتے ہيں اللہ اور اس کے رسول کو باقی رکھ آيا ہو ں۔
کسی اللہ والے مجاہد کی بيوی سے ايک شخص نے کہا :
تيرے شوہر کے جانے کے بعد تم اور تيرے بچے کہاں سے لقمہ زندگی حاصل کر سکوگی ؟ اس مومنہ خاتون نے پورے يقين کے ساتھ جواب   ديا: زوجی منذ أن تزوجتہ وعرفتہ ‘ عرفتہ أکالا وما عرفتہ رزاقا، فلئن ذھب الأکال بقی الرزاق ۔ جب سے ميں نے ان سے شادی کی ہے ‘ اور پہچانا ہے‘ تب سے ميں نے انہيں کھانے والا ہی پايا ہے ، اگر کھانے والا چلا گيا تو رزق دينے والا بہرحال باقی ہے ۔
رزق کی اہميت مسلم ہونے کے باوجود کتنے ايسے لوگ ہوتے ہيں جن کی اوليں ترجيح رزق نہيں ہوتی بلکہ دوسری کوئی چيز ہوتی ہے چنانچہ کوئی نيک بيوی کا متمنی ہوتا ہے ، کسی کو نيک اولاد کی خواہش ستاتی ہے ، کوئی شفايابی کا طلبگار ہوتا ہے ، کوئی اپنے ظالم دشمن پر فتح کا خواہاں ہوتا ہے ۔ يہ سب دنياوی زندگی کے تقاضے ہيں جن کی حصوليابی محض توکل کے ذريعہ ہی ممکن ہے ۔

کيا توکل اسباب کے منافی ہے:

 يعنی کيا توکل کا مفہوم يہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی پر اعتماد کيا جائے اور اسباب کو بالائے طاق رکھ ديا جائے ۔ ؟ يہ صحيح ہے کہ بسااوقات توکل واعتماد کرنے والوں کے ليے اسباب کی بندھنيں ٹوٹ جاتی ہے اور بغير اسباب اختيار کيے اللہ تعالی کی طرف سے مدد آجاتی ہے جيسے ابراہيم عليہ السلام کے لئے آگ گل گلزار بن گئی اور موسی عليہ السلام کے ليے موجزن سمندر ميں راستے بن گيے ۔ ليکن اس سے يہ قطعا مفہوم نہيں نکلتا کہ اسباب کو بالائے طاق رکھ ديا جائے يا محض اساب ہی کو بنياد بنا ليا جائے ۔ بلکہ توکل کامفہوم يہ ہے کہ اسباب اختيار کرنے کے بعد نتيجہ اللہ کے حوالے کرديا جائے ۔
اسی لئے علماء نے توکل کی تعريف ميں کہا ہے کہ تمہارا عمل يہاں ہونا چاہيے البتہ تمہاری نگاہ آسمان پرٹکی ہونی چاہيے يہی طريقہ رحمت دو عالم صلى الله عليه وسلم کا تھا، جو سيد المتوکلين تھے ، يعنی توکل اختيار کرنے والوں کے سردار تھے ،چنانچہ جب آپ واقعہ ہجرت پر غور کريں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ اپنے رب پرکامل بھروسہ اور اس کی مدد کا پورایقین رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ اللہ آپ کے لیے کافی ہے لیکن اس کے باوجو د آپ نے ظاہری اسباب کو اختیار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہيں رکھی ۔ اس کے لیے ایک منظم پروگرام ترتیب دیا، پھر اسے پوری رازداری کے ساتھ نافذ بھی کیا ۔ قائد : محمد صلى الله عليه وسلم ہیں، مددگار : ابوبکر صدیق رضي الله عنه ہیں، فدائی : علی بن ابی طالب رضي الله عنه ہیں ، توشہ فراہم کرنے والے : اسماء بنت ابی بکر رضي الله عنها ہیں ، غارثور میں قریش کی خبریں پہنچانے والے : عبداللہ بن ابی بکر رضي الله عنه ہیں، بکریوں کے ریوڑ کے ذریعہ عبداللہ کے نشان قدم کو مٹاکر دشمن کو دھوکے میں رکھنے کے لیے : عامر بن فہیرہ ہیں۔ صحرائی راستوں کا ماہررہنما: بے دین لیکن امانت دار عبداللہ بن اریقط ہے ، آپ کی عارضی قیام گاہ : غار ثور ہے۔ سفر کا وقت : تین دن بعد ۔ مدینہ کا راستہ : جنوب کا ساحلی راستہ ۔ آخر منظم طريقے سے يہ اسباب کيوں اختيار کيے گيے اسی ليے نا تاکہ امت محمديہ کو يہ درس مل جائے کہ توکل اسباب کے منافی نہيں يہی وجہ ہے کہ جب قريش کا دستہ غار کے دہانے پر پہنچتا ہے توابوبکر رضي الله عنه پريشان ہوجاتے ہيں ليکن آپ  صلى الله عليه وسلم اتنے سارے اسباب اختيار کرنے کے بعدا ب فرما رہے ہيں لاتحزن ان اللہ معنا گھبراومت! اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے ۔                 
سنن ترمذی کی روايت ہے ايک شخص اونٹنی پر سوار ہوکر اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم کے پاس آيا ‘ اس نے آپ  صلى الله عليه وسلم سے عرض کيا :
يا رسول اللہ ! ميں اسے باندھ دو اور اللہ پر توکل کروں يا چھوڑ دو ں ‘ پھر اللہ پر توکل کروں ؟ آپ  صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : اعقلھا وتوکل اسے باندھ دو پھر اللہ تعالی پر توکل کرو۔
پتہ يہ چلا کہ کوشش نہ کرنا اور اسباب اختيار کيے بغير توکل کا دعوی کرنا شريعت کے منافی ہے مسند احمد اور ترمذی کی روايت ہے اللہ کے رسول نے فرمايا :
 لو أنکم توکلتم علی اللہ حق توکلہ لرزقکم کما يرزق الطير تغدو خماصا وتروح بطانا 
اگر تم اللہ تعالی پر توکل کرتے جيسا توکل کرنے کا حق ہے و اللہ تعالی تجھے اس طرح کھلاتا جيسے پرندوں کو کھلاتا ہے کہ صبح سويرے اپنے گھونسلوں سے خالی پيٹ نکلتا ہے اور شام ميں پيٹ بھر کر آجاتا ہے ۔
اس حديث پر ذرا غور کيجيے ! اللہ تعالی پرندے کوکب کھلاتا ہے ؟ جب وہ اپنے گھونسلے سے نکلتا ہے ، روزی کی تلاش کرتا ہے ، مختلف جگہوں پر پھرتاہے ‘ تب جاکر اللہ تعالی پرندے کو شکم سير کرتا ہے ، اگر پرندہ اپنے گھونسلے ميں بيٹھا رہ جائے تو کيا اسے کھانا مل جائے گا ؟ ظاہر ہے نہيں ۔ بالکل يہی مثال اللہ کے نبی  صلى الله عليه وسلم نے انسان کے لئے بتائی کہ صبح سويرے زمين ميں پھيل جاؤمحنت سے کام کرو ، اور اللہ پر نتيجہ کو سپرد کر دو اللہ تعالی تجھے ضرور کھلائے گا ۔
يہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم نے غار ميں پناہ ليا ، غزوہ احد کے دن دو زرہ پہنا ، آپ  صلى الله عليه وسلم نے علاج کيا اور بتايا کہ اللہ تعالی نے جوبيماری بھی پيدا کی ہے اس کا علاج بھی بتايا ہے لہذا اللہ کے بندو ! علاج کيا کرو ۔ اسی طرح اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے تجارت کيا ،مدينہ ميں مارکٹ کھولا ،اس کا نظام بنايا ، صحابہ کرام کو کار بارکی ترغيب دی ، چنانچہ صحابہ کرام ميں کوئی کاشت کارتھا، تو کوئی باغبان تھا ، تو کوئی تاجر تھا۔ ۔۔۔ امام اعظم ابوحنيفہ ؒ کپڑے کی تجارت کرتے تھے ، امام بخاری ؒ بھی کپڑوں کی تجارت کرتے تھے ، امام خالد الحذاء جوتے فروخت کرتے تھے ، امام قدوری ؒ برتنوں کی تجارت کرتے تھے ۔ يہ اس وجہ سے کہ آپ نے فرمايا تھا کہ بہترين کمائی اپنے ہاتھ کی کمائی ہے ۔
عمربن خطاب رضي الله عنه کی بابت آتا ہے کہ آپ جب کسی نوجوان کو ديکھتے اور وہ بھلا معلوم ہوتا تو اس سے پوچھتے کہ کيا وہ کوئی پيشہ اختيار کيے ہوا ہے اگر جواب نفی ميں ملتا تو وہ آپ کی نظر سے گرجاتا تھا ۔
ان تفصيلات سے پتہ يہ چلا کہ توکل اسباب کے منافی نہيں بلکہ توکل يہ ہے کہ اسباب اختيار کيے جائيں تاہم تنائج کواللہ تعالی کے سپرد کر ديا جائے
امام احمد بن حنبل ؒ سے پوچھا گيا کہ آپ اس شخص کی بابت کيا فرماتے ہيں جو گھر ميں بيٹھ جاتا ہے يا مسجد ميں بيٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ميں کچھ بھی کام نہ کروں گا يہاں تک کہ ميرا رزق ميرے پاس پہنچ جائے ۔۔ تو امام احمد بن حنبل ؒ نے فرمايا : ھذا رجل جھل العلم يہ آدمی علم سے نابلد ہے اور آپ نے اس حديث سے استدلال کيا جسے ميں نے ابھی عرض کيا ہے کہ پرندہ صبح سويرے خالی پيٹ اپنے گھونسلے سے نکلتا ہے اور شام ميں پيٹ بھر کر لوٹتا ہے اگر وہ اپنے گھونسلے ميں بيٹھا رہتا تو کيا اس کے پاس رزق آجاتا ؟ 
غرضيکہ توکل  ترک عمل اور تعطل کا نام نہيں توكل کا مفہوم يہ نہيں ہے کہ ہم کام ترک کر ديں، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بيٹھے رہيں اور اللہ پر بھروسہ رکھيں ۔ توکل يہ ہے کہ ہم دل کے سکون اور اطمينان کے ساتھ کام ميں لگے رہيں اور نتيجہ اللہ کے حوالے کرديں اور يقين کامل رکھيں کہ اللہ جو چاہے گا وہی ہوگا ۔

ايک بندہ اللہ پر توکل کرنے والا کب کہلائے گا ؟

ايک بندہ اللہ پر توکل کرنے والا اُسی وقت قرارپائے گاجبکہ وہ اس بات پر يقين رکھے کہ دنيا وآخرت کا کوئی فائدہ يا نقصان اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور سے حاصل نہيں ہوسکتا۔ اس کے دل ميں يہ بات بيٹھ چکی ہو کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی ذرہ برابر نہ نفع پہنچاسکتا ہے ، اور نہ نقصان پہنچا سکتا ہے............ذرا سوچيے توسہی کہ ايسا شخص جسے يقين کامل ہو کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ تعالی ہے ، اس کے علاوہ کوئی ايسی ذات نہيں جس سے اميد باندھی جا سکتی ہے ۔ اور نہ ہی اللہ کے علاوہ کوئی ايسی ذات ہے جو اللہ کی طرف سے ملنے والی نعمتوں کو روک سکتی ہے ۔۔۔۔ جب ايسا ايمان ايک انسان کے دل ميں پيدا ہوجاتا ہے تو کيا وہ پريشان ہوگا ؟ کيا اس کے اندر بے چينی پيدا ہوگی ؟ کيا وہ در در کی ٹھوکريں کھائے گا ؟ نہيں اور ہرگز نہيں ۔۔۔۔ اس نے اپنے سارے معاملات کو اللہ کے سپرد کر ديا ہوا ہے ۔ اس ليے اسے کسی کا خوف نہيں ،کسی طرح کا ڈر نہيں ۔
آپ مسلمانوں اور غيرقوموں کی زندگی ميں يہی فرق پائيں گے چنانچہ جو لوگ اللہ پر ايمان نہيں رکھتے‘ جب اُن پرکسی طرح کی پريشانی آتی ہے ،يا وہ کسی طرح کی مصيبت ميں گھرجاتے ہيں تواُن کے اندرعجيب طرح کی بيچينی آجاتی ہے ،کبھی اِس بھگوان کی پوجا کی تو کبھی تو اُس بھگوان کے سامنے سرٹيکا کہ کہيں مسئلے کا حل نکل جائے ۔۔ ليکن ايک مسلمان جانتا ہے کہ نفع اور نقصان محض اللہ کے ہاتھ ميں ہے اس ليے وہ مصيبت ميں بھی اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے ، اور اس کے فيصلے سے راضی رہتا ہے ۔

توکل کے انفرادی واجتماعی زندگی پر اثرات:


اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ توکل کے انفرادی واجتماعی زندگی پرکيا اثرات مرتب ہوتے ہيں؟  
 توکل کی بنياد پربندہ مومن کی زندگی ميں عجيب طرح کی تبديلی رونماہوتی ہے ، اور اس کی زندگی پر توکل کے نہايت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہيں ۔ آئيے ذرا ہم اس نکتے پر بھی غور کرليں:

سکون واطمينان حاصل ہوتا ہے: 

توکل کا سب سے پہلا فائدہ يہ ہے کہ اس سے سکون واطمينان حاصل ہوتا ہے  ايسا سکون کہ اُس کا تصور تک نہيں کيا جا سکتا چنانچہ ايسے لوگ اس وقت بھی بے خوف ہوتے ہيں جبکہ لوگوں پر خوف وہراس کی فضا چھائی ہوتی ہے اس وقت بھی سکون پاتے ہيں جبکہ لوگ پريشان ہوتے ہيں، اس وقت بھی يقين کامل رکھتے ہيں جبکہ لوگ شکوک وشبہات کی واديوں ميں گھرے رہتے ہيں ۔ حضرت ابراہيم عليہ السلام دہکتی ہوئی آگ ميں ڈال دئيے جاچکے ہيں ايسی کشيدہ حالت ميں بھی فرمارہے ہيں حسبی اللہ ونعم اللہ اللہ تعالی ہمارے ليے کافی ہے اور وہ بہترين کارساز اور محافظ ہے ۔
حضرت موسی عليہ السلام جب بنو اسرائيل کو لے کر مصر سے نکلے تو فرعون نے اپنے لاؤلشکر سميت ان کا تعاقب کيا ، دشمن پيچھے ہے اور سمندر سامنے ، يعنی ہلاکت يقينی تھی جس سے بنو اسرائيل پريشان ہوگيے ليکن ايسے نازک وقت ميں بھی موسی عليہ السلام کا جواب تھا : کلا ان معی ربی سيھدين ہرگز نہيں اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے جوہماری رہنمائی کے ليے کافی ہے۔

غير معمولى نفسياتی اور روحانی قوت حاصل  ہوتى ہے:

توکل کا دوسرا فائدہ يہ ہے کہ اس سے ايسی نفسياتی اور روحانی قوت ملتی ہے جس کے سامنے ساری مادی قوتيں شکست کھاجاتی ہيں ۔چاہے يہ قوتيں اسلحہ جاتی ہوں،يا مالی ہوں يا فوجی ۔ اس سلسلے ميں انبياء کرام کی زندگی واضح مثال ہے کہ اُن کی قوموں نے اُن کو طعنہ ديا ، پاگل ، مجنون اورديوانہ بنايا، مال و دولت کی لالچ دی ،دھمکياں دی ، شدائد وتکاليف کا آلہ کار بنايا ، قتل کے درپے ہوئے ليکن اُن کی قوتوں ميں ذرہ برابر اضمحلال نہ آيا اور اپنے دعوتی کاز کوفروغ ديتے ميں کوشا ں وسرگرداں رہے ۔

نا اميدی نہيں آتی:

توکل کا تيسرا فائدہ يہ ہے کہ جولوگ اللہ پر بھروسہ کرتے ہيں ان کے اندرنا اميدی نہيں آتی، وہ ياس وقنوط کے شکار نہيں ہوتے ۔ کيوں کہ نااميدی گمراہی کے لوازم ہيں ۔۔۔ ذرا غور کيجئے کہ حضرت يوسف عليہ السلام حضرت يعقوب عليہ السلام سے ايک لمبی مدت تک جدا رہے ،دس سال کا عرصہ گذر چکاہے ‘ ليکن اب تک اميديں بندھی ہوئی ہيں عسی اللہ ان ياتينی بھم جميعا

قناعت کی صفت پيدا ہوتی ہے 

توکل کا چوتھا فائدہ يہ ہے کہ اس سے بندے کے اندر قناعت کی صفت پيدا ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے اس کے ليے جو اور جتنی روزی عطا فرما رکھی ہے اس پر راضی رہے، جو صلاحيت اور قوت عمل دے رکھی ہے اس پرقناعت کرے ۔ اور جو کچھ اللہ تعالی نے اپنے لطف وکرم سے مقدر فرمايا ہے اس پر شکرگزار رہے ۔
جی ہاں!توکل کے پيکربندہ مومن ہميشہ امن وسکون کی زندگی گزارتے ہيں، روحانی ونفسياتی قوت سے مالامال ہوتے ہيں، اُن کا دل اميدوں کی کليوں سے کھلا ہوتا ہے ، وہ ياس وقنوط سے کوسوں دور رہتے ہيں، اور وہ قناعت پسند وشکر گزار ہوتے ہيں ۔۔اگر آپ بھی اپنی زندگی ميں سکون چاہتے ہيں،روحانی قوت کے خواہاں ہيں، ياس وقنوط سے دوری اور قناعت پسندی چاہتے ہيں تو اپنے اندر توکل کے صفات پيدا کرنے ہوں گے ۔

توکل کا پيکر كيسے بنيں؟:

اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ توکل کی يہ صفت ہمارے اندر کيسے پيدا ہوگی ؟ توآئيے چند معاون وسائل کی جانکاری حاصل کرتے ہيں

الله كا عرفان حاصل کرنا ہوگا:

اگر ہم توکل کے پيکر بننا چاہتے ہيں تو جس ذات پر توکل کرنا ہے اُس کا عرفان حاصل کرنا ہوگا ۔اللہ تعالی کے اسماء و صفات پر غور کرنا ہوگا ۔ اللہ تعالی کے صفات کی معرفت حاصل کرنی ہوگی ۔ جوشخص يہ جان لے گا کہ اللہ تعالی رحمن ورحيم ہے بندوں پر رحم کرتا ہے ، عزيز ہے عزت وغلبہ کا مالک ہے ، سميع وبصير ہے سننے والا اور ديکھنے والا ہے ، ڈھکی چھپی ساری باتوں کو سنتا اور دلی ارادوں سے بھی آگاہ ہے ۔ رزاق ہے ساری مخلوق کو رزق پہنچارہاہے، غفار وستار ہے گناہوں کو بخشنے والا اور گناہوں پر پردہ ڈالنے والا ہے ۔ ظاہر ہے ايسے انسان کا تعلق اللہ رب العالمين سے بندھ جائے گا ۔اور اسی کو وہ اپنا ملجا وماوی تصور کرے گا ۔ ہم مسلمانوں کا عقيدہ ہے کہ ہر طرح کی ملکيت اللہ تعالی کے ہاتھ ميں ہے ، وہی نوازتا ہے اور وہی روک بھی ليتا ہے ۔ وہی بلندی عطا کرتا ہے اور وہی پستی سے دوچار کرتا ہے ، وہی مارتا ہے اور وہی جلاتا ہے ۔ اُسے کوئی چيز عاجز نہيں کرسکتی ، جو چاہے کرسکتا ہے۔ جو چاہے وہی ہوگا اور جو نہ چاہے وہ نہيں ہو سکتا ۔
اور جس قدر بندے کو ذات باری تعالی کا عرفان حاصل ہوتا ہے اسی قدر بندے کا اللہ تعالی سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور اللہ تعالی سے اعتماد بندھتا ہے ۔ کيسا اعتماد ؟
٭اس بات پر اعتماد کہ اللہ تعالی ہر چيز کو ديکھ رہاہے،وہ کامل حکمت اور عظيم قدرت کا مالک ہے ، جس قدر ماں اپنے بچوں پر رحم کھاتی ہے اس سے زيادہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے ۔ جتنا بندے اپنا خيال نہيں کرتے اُتنا اللہ تعالی بندے کا خيال کرتا ہے ۔ اور جس قدر وہ اپنی مصلحتوں سے آگاہ نہيں اُس سے زيادہ اللہ تعالی ان کی مصلحتوں سے آگاہ ہے، ’’إلايعلم من خلق وھواللطيف الخبير‘‘ کيا وہی نہ جانے جس نے پيدا کيا اور وہ باريک بيں بھی ہے ٭اسی طرح اس بات پر اعتماد بندھتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے وليوں اور نيک بندوں کی مدد کا وعدہ کيا ہے کہ وہ انہيں ان کے دشمنوں پرغلبہ عطا کر ے گا اور اللہ تعالی ظالموں کو ڈھيل ديتا ہے ليکن جب اُن کی گرفت فرماتاہے توچھٹی کا دودھ ياد کراديتاہے۔
٭اسی طرح اللہ تعالی کی ذات وصفات کے عرفان سے اس بات کا اعتماد بندھتاہے کہ اللہ تعالی نے ساری مخلوق کے رزق کی ضمانت لی ہے ، ومامن دابة فی الارض الا علی اللہ رزقھا ، زمين ميں جتنے چلنے پھرنے والے جاندار ہيں سب کی روزی اللہ تعالی پر ہے ۔۔۔ چنانچہ ايک بندہ مومن روزی کے کٹنے سے نہيں ڈرتا کيوں کہ وہ جانتا ہے کہ کوئی دوسرا اُس کا رزق نہيں چھين سکتا  
جب يہ باتيں ايک بندے کے دل ميں گھر کر جائيں گی تو کيا تصور کيا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی دوسرے کے سامنے ہاتھ  پھےلائے ۔ يا اللہ تعالی کے علاوہ کسی دوسرے کو حاجت روا ومشکل کشا سمجھے ۔ نہيں اور ہرگز نہيں ۔

انسان کو اپنے نفس کى کمزوری پر دھيان رکھنا هوگا:

دوسرا وسيلہ جس سے انسان کے اندر اللہ پر توکل واعتماد پيدا ہوتا ہے وہ ہے انسان کا اپنے نفس کے عجز وکمزوری پر دھيان رکھنا ۔ جب بندہ اپنی فطری کمزوری پر غور کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے اُسے معمولی قطرہ آب سے پيدا کيا ، نو مہينے تک ماں کے پيٹ ميں رکھا ، جبکہ وہ کچھ نہيں جانتا تھا ، سننے ، ديکھنے، سوچنے اور بولنے کی صلاحيت عطا فرمائی ۔ اس کا وجود اس کی زندگی ، اس کا علم ، اس کی ساخت و پرداخت سب کچھ اس کے خالق و مالک کی رہين منت ہے ۔ يہيں پر اس کے ذہن و دماغ ميں يہ بات بيٹھ جاتی ہے کہ اعتماد و بھروسہ کے لائق صرف اللہ تعالی کی ذات ہے ۔ اس کے بغير نہ ہمارے پاس کوئی طاقت ہے نہ قوت ۔ چنانچہ اس کا پورا تعلق اللہ تعالی سے بندھ جاتا ہے ۔ اسی ليے کسی عارف نے کہا تھا من عرف نفسہ عرف ربہ جس نے اپنے نفس کو پہچان ليا اس نے اپنے پروردگار کاعرفان حاصل کرليا ۔ اسی ليے توکل سے وہ لوگ کوسوں دور ہوتے ہيں جنہيں اپنے علم پر فخر ہوتا ہے ، يا اپنے مال پر گھمنڈ ہوتا ہے،يا اپنی طاقت وقوت پرناز ہوتاہے۔

توکل کی راہ ميں حائل چند  رکاوٹيں:

توکل کی راہ ميں کچھ ايسی رکاوٹيں بھی حائل ہوجاتی ہيں جوانسان کو توکل سے پھيرنے کا سبب بنتی  ہيں، مثلا:

ذات باری تعالی سے ناواقفيت:

 توكل كى راه ميں پہلی رکاوٹ ذات باری تعالی سے ناواقفيت ہے، يعنی اللہ تعالی کی عظمت وکبريائی ، اس کے علو شان اور اس کی قدرت کاملہ کا صحيح تصور نہ ہونا ہے ۔۔۔ آپ خود سوچيے کہ ايک شخص غيراللہ سے تعلق کيوں رکھتا ہے ؟ اگر وہ سمجھتا کہ اللہ تعالی ہی پروردگار ہے ، وہی خالق و مالک ہے ، اسی کے ہاتھ ميں ہر چيز کی بادشاہت ہے ، وہ جو چاہے وہی ہوگا، جو نہ چاہے وہ ہو نہيں سکتا ، اگر يہ عقيدہ ايک انسان کے ذہن ودماغ ميں رچ بس جائے تو کيا تصور کيا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے سے لو لگائے گا ؟ ۔اللہ تعالی کے علاوہ کسی دوسرے کی دہائی دے گا ؟ جوشخص نہيں جانے گا کہ اللہ تعالی ہی کے ہاتھ ميں تمام خزانوں کی کنجی ہے آخر وہ اللہ تعالی پر توکل واعتماد کيسے کرسکتاہے؟ جو شخص نہيں جانے گا کہ اللہ تعالی ہرچيز پر قادر ہے، جب کسی چيز کوکہتا ہے کہ ہو جا تو ہوجاتی ہے آخر وہ اللہ تعالی پر توکل کيسے کرے گا؟ ايسا شخص ضرور مصيبت ميں پريشان ہوجائے گا، مصيبت سے چھٹکارے کے ليے در در ٹھوکريں کھائے گا ۔ اپنے ہی جيسی مخلوق کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھے گا- اسی ليے اللہ تعالی نے انسانوں کی عقل اور ضمير کو مخاطب کرتے ہوئےفرمايا:

إن الذين تدعون من دون اللہ عباد أمثالکم.

 بھئی خدارا سوچو تو سہی ! اللہ کے علاوہ تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم ہی جيسے بندے ہيں، لہذا تم اُن کو پکارو ، پھر اللہ تعالی نے فرمايا کہ ٹھيک ہے تم اپنے ہی ابنائے نوع کو پکارتے ہو تو پکارو:

فأدعوھم فليستجيبوا لکم إن کنتم صادقين.

جاؤپکارو! پھر اُن کو چاہيے کہ وہ تمہارا کہنا پورا کر ديں اگرتم اپنے دعوی ميں سچے ہو کہ واقعی وہ تمہاری سنتے اور ضرورت پوری کرتے ہيں ۔
پھر اللہ تعالی نے بطور استفہام فرمايا:
ألھم أرجل يمشون بھا...
کيا اُن معبودوں کے پاس پير ہے کہ وہ ان سے چل سکتے ہوں؟ يعنی جب وہ زندہ تھے تو چل سکتے تھے ، اب وہ چل بھی نہيں سکتے جبکہ تم چل سکتے ہو گويا تم اُن سے افضل ہوئے:

 أم لھم أيد يبطشون بھا ، أم لھم أعين يبصرون بھا أم لھم آذان يسمعون بھا

يعنی، تم تو اس سے زيادہ کامل ہو اب وہ ديکھ نہيں سکتے تم ديکھتے ہو، وہ سن نہيں سکتے تم سنتے ہو، وہ کسی کی بات سمجھ نہيں سکتے تم سمجھتے ہو ، وہ جواب نہيں دے سکتے تم جواب ديتے ہو۔ اب بتاوافضل تم ہوئے يا بت؟ اسی سورہ ميں دو آيت کے بعد اللہ تعالی نے فرمايا:

والذين تدعون من دونہ لايستطيعون نصرکم ولا أنفسھم ينصرون.

 تم جن لوگوں کی اللہ کے علاوہ عبادت کرتے ہو وہ تمہاری کچھ  مدد نہيں کرسکتے اور نہ وہ خود اپنی مدد کر سکتے ہيں بھلا بتائيں جو اپنی مدد آپ کرنے پر قادر نہ ہو ں وہ  دوسروں کی مدد کيا خاک کريں گے.
جوخود محتاج ہوئے دوسروں کا  
بھلا اس سے مدد کا مانگنا کيا 
بہرکيف عرض يہ کر رہا تھا کہ ذات باری تعالی کی صحيح آگہی نہ ہونے کی وجہ سے ہی ايک بندہ کے توکل ميں خلل آتا ہے.

دنيا ميں دل كا انہماک: 

اسی طرح توکل کی راہ ميں حائل رکاوٹوں ميں ايک اہم رکاوٹ دنيا اور اس کی متاع فانی سے دل کا متعلق ہونا ہے ۔
اس ليے اگر ہم توکل کے پيکر بننا چاہتے ہيں تو ہميں ذات باری تعالی کا صحيح عرفان حاصل کرنا ہوگا اور دنيا اور اس کی دل فريبيوں ميں انہماک کے اندرکمی لانی ہوگی ۔ 
مکمل تحریر >>