جمعرات, ستمبر 15, 2011

غیرمسلموں میں اسلام کی دعوت کیوں؟


اسلام ایک عالمگیر اور آفاقی مذہب ہے جس کے مخاطب سارے انس وجن ہیں ، اورپیارے نبی صلى الله عليه وسلم  کی بعثت سارے عالم کے لیے ہوئی،آپ کے بعدگذشتہ تمام شریعتوں کو منسوخ کردیا گیا،اب شریعت محمدیہ کے علاوہ اورکوئی شریعت مقبول نہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے “۔(آل عمران 19) دوسری جگہ ارشاد فرمایا:”جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا متلاشی ہوگا وہ ہرگز مقبول نہیں ہوگا اوروہ آخرت میںخسارہ اٹھانے والوںمیں سے ہوگا“۔ (سورہ آل عمران85 )“۔ اوررحمت عالم صلى الله عليه وسلم  کی بابت فرمایا: ”آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میںتم سب کی طرف اللہ کا رسول بناکر بھیجا گیا ہوں“۔ (سورہ اعراف 158) خود پیارے نبی صلى الله عليه وسلم  نے بیان فرمایا : ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری امت میں جو شخص بھی میری بات سن لے ،وہ یہودی ہو یا عیسائی، پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا “۔ (صحیح مسلم )
  الحمدللہ کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام کی گرانقدر نعمت میںپل رہے ہیں ،اس نعمت کا صحیح اندازہ وہی کرسکتا ہے جس نے کبھی گمراہی کی تاریکی میں کچھ وقت بتایاہو،آج دنیا کی اکثریت اس نعمت سے محروم ہوکر خسارے کا سودا کررہی ہے ۔ ڈاکٹرز ہیں، انجینیرز ہیں ، فلاسفہ اوراعلی افسران ہیں،ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے اور شمس وقمر کے فاصلوں کو سمیٹنے والے سائنسداں ہیں، لیکن صدحیف انہیں خالقِ کائنات کا عرفان حاصل نہ ہوسکا ہے ۔ کیوں کہ انہوں نے ایسے گھرانے میں آنکھیں کھولی ہیں جہاںاسلام کی روشنی نہ پہنچ سکی ہے ۔
ایسے گم کردہ راہوں کے تئیں بحیثیت مسلمان ہماری کیا ذمہ داری ہونی چاہیے اسے ایک مثال سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے فرض کیجئے کہ ایک نابیناراستے سے گزررہا ہے، بیچ راستے میں ایک گڑھا ہے جس میں اس کے گرجانے کا قوی اندیشہ ہے، یا ایک شیرخوار بچہ سامنے میں رکھے ہوئے شعلے کی طرف ہاتھ بڑھا رہا ہے اور اتفاق سے آپ وہاں موجود ہیں،ذرا دل کوٹٹولیں اورمن سے پوچھیں کہ ان دونوں حالات میں آپ کی دلی کیفیت کیسی ہوگی ؟ یہی نا کہ آپ فوراً اندھے کی طرف بڑھیں گے اور ہاتھ پکڑ کر اسے راستہ پار کرائیں گے اورشیرخوار بچے کو گودمیں اٹھالیں گے کہ مبادا شعلے کو ہاتھ میں پکڑ لے ۔ بالکل یہی مثال دوسری قوموں کے مقابلہ میں ایک مسلمان کی ہے، ان کی گمراہی کے سامنے ہمارے دل میں دردمندی اور محبت کے وہی جذبات پیدا ہونے چاہئیں جوکنویں میں گررہے اندھے اورشعلے کی طرف لپکنے والے شیرخواربچے کودیکھ کر ہمارے دل میں پیداہوتے ہیں۔
 کیاآپ دیکھتے نہیں کہ اسی فکر اور لگن میں ہمارے حبیب نے  اپنی 23سالہ زندگی گزاری،انسانیت کے غم میں راتوں کی نیند اور دن کے آرام کو خیربادکیا ،ہروقت ،ہرلمحہ اورہرجگہ یہی فکر ستاتی رہی کہ انسانیت اس پیغام حق کو قبول کرلے ، آخر اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے کوہ صفا پر چڑھ کر کس کو پیغام حق سنایاتھا؟ منڈیوں،میلوں اورحج کے ایام میں گھوم گھوم کر کس کو دعوت دیا کرتے تھے ؟ آپ صلى الله عليه وسلم  نے کسے دعوت دینے کے لیے طائف کا سفر کیا تھا ؟ آپ صلى الله عليه وسلم  نے مصعب بن عمیررضي الله عنه  کو یثرب کیوں بھیجا تھا ؟ آپ صلى الله عليه وسلم  نے مختلف مذاہب اورمختلف ممالک کے بادشاہوں کے پاس اپنے سفراءوفرامین کیوں بھیجے تھے ؟ ان سارے سوالات کا جواب ایک ہے کہ آپ نے اپنی دعوت کا ہدف ان گم کردہ راہوں کو بنایاتھا جودین فطرت سے منحرف ہوگئے تھے۔ آج بھی مسلمانوں کی اصلاح کے مقابل اسلام کی دعوت غیروں تک پہنچانے کی اتنی ہی ضرورت ہے جس قدراس وقت تھی ۔ فرض کیجئے کہ آپ ڈاکٹر ہیں،آپ کے پاس دو مریض لائے جاتےہیں ،ایک کو سردی اور کھانسی کی شکایت ہے جبکہ دوسرے کا گلہ کٹ چکا ہے ایسے نازک مرحلہ میں بحیثیت ڈاکٹر آپ سب سے پہلے کس مریض کو ہاتھ لگائیں گے ؟ ظاہر ہے ایسے ہی مریض کوجس کا گلہ کٹ چکا ہے کہ اسے فوری سنبھالنے کی ضرورت ہے ۔
اگرآپ یہ سوچیں کہ پہلے مسلمانوں کو پورے طورپر دیندار بنادیں گے تب غیرمسلموں کو اسلام کی دعوت دیں گے توایسا کبھی ہوگا ہی نہیں ، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  کے زمانے میں بھی مسلمان اصلاح کے محتاج تھے لیکن آپ نے پوری توجہ مسلمانوں کی اصلاح کی طرف مبذول نہ کی بلکہ اصلاح اور دعوت دونوں کوساتھ ساتھ لے کر چلتے رہے جوہمارے لیے کھلا پیغام ہے کہ ہردورمیں اصلاح کے ساتھ تعارف اسلام کا کام جاری رہناچاہیے۔
 برصغیرپاک وہند کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو پتہ چلے گا کہ بعد کے ادوارمیں مسلم بادشاہوں اورامراء نے اپنی سلطنت کومستحکم کرنے کی طرف پورازور دیا اور دین سے بے توجہی برتی جس کی بنیاد پر مسلم معاشرے میں ہندوانہ رسم ورواج اوربدعملی کے بیشمار مظاہر سامنے آنے لگے،اس وقت دینی غیرت رکھنے والے علماء اور داعیان دین نے مسلمانوں کی اصلاح کی طرف پوری توجہ مبذول کیں جن کی کوششیں واقعی قابلِ ستائش تھیں تاہم اس کا منفی پہلو یہ سامنے آیا کہ مسلمانوں کی اکثریت کے ذہن ودماغ سے اسلام کی ہمہ گیریت کا احساس نکلتا گیا، وہ اس نکتے کوبھول گئے کہ برادران وطن بھی اسلام کے مخاطب ہیں،یہ بہت بڑی غلط فہمی تھی جومعاشرے میں عام ہوئی حالانکہ اصلاح کے ساتھ ساتھ دعوت بھی ہونی چاہیے تھی ، تاہم ایسا نہ ہوسکا پھراس کا حتمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہم داعی بننے کی بجائے رفتہ رفتہ مدعو بننے لگے ۔غیرقوموں نے مسلم معاشرے میں اپنے باطل عقائد کا پرچار شروع کردیا ،اگربرصغیرمیں دینی مدارس کی قابل قدرخدمات نہ ہوتیں تو اس مذہبی یلغار نے ہماری شناخت بھی مٹا دی ہوتی ۔
آج دورجدید کاچیلنج ہم سے اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ ہم اپنے مخاطب کو پہچانیں ، اپنے منصب کاعرفان حاصل کریں کہ ہمیں انسانیت کی خاطر وجود میں لایا گیاہے۔ ہم انسانیت کے لیے رہبر اورقائد کی حیثیت رکھتے ہیں ،ہم داعی ہیں اوردوسری قومیں مدعواورمخاطب ۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم اسلام کی جس عظیم اوربیش بہا نعمت میں پل رہے ہیں اس سے دوسروں کو بھی آگاہ کریں ،یہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔اسے انجام دے کر ہی ہم کل قیامت کے دن کی پرشش سے بچ سکتے ہیں ۔
 توآ ئیے ہم عہدکرتے ہیں کہ اسلام کا پیغام گھر گھرپہنچائیں گے اوراسلام کی آفاقیت سے انسانوں کومتعارف کرائیں گے۔ رہے نام اللہ کا ۔
صفات عالم محمدزبیرتیمی
safatalam12@yahoo.co.in

مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 14, 2011

ميرے بارے میں


میری ابتدائی تعلیم علاقے کے مکتب مدرسہ ربانیہ اموامدینة الشیخ میں ہوئی ،وہاں سے بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد علامہ ڈاکٹرمحمد لقمان سلفی حفظہ اللہ کے قائم کردہ ہندوستان کے معروف ادارہ جامعہ امام ابن تیمیہ مدینة السلام چندنبارہ مشرقی چمپارن میں مسلسل آٹھ سال تک تعلیم حاصل کیا ، وہاں سے فراغت کے بعد چھ ماہ تک مدرسہ احمدیہ آرہ میں تدریسی خدمت انجام دیا، اور چھ ماہ مادرعلمی جامعہ ابن تیمیہ میں بھی بحیثیت مدرس رہا،اسی اثناءجامعة الامام البخاری کشن گنج میں مدنیہ يونيورسٹى کے زیراہتمام ہندوستانی مدارس کے فارغین کے ليے منعقدہ ٹریننگ کورس میں حصہ لیا ،جس میں اچھے نمبرات حاصل کرنے کی بنیاد پر مدینہ یونیورسٹی میں اعلی تعلیم کے ليےمنظوری مل گئی ۔ چنانچہ مدینہ یونیورسٹی كےشریعہ فيكلٹى سے چارسالہ کورس کیا۔ پھر 2003 کے اواخر میں کویت کے معروف دعوتی ادارہ لجنة التعریف بالاسلام میں بحیثیت داعی کام کرنے لگا، جوسلسلہ تا ہنوز جاری ہے ۔ یہاں کی ذمہ داریاں کچھ اس طرح ہیں 
(۱) غیرمسلموں میں دعوت 
(۲) نومسلموں کی تربیت 
(۳) اسلامی کتابیں ،کیسٹس اور ویڈیوزتیارکرنا 
(۴) ماہنامہ ”مصباح“ کی ادارت 
(۵) ”ہندودھرم کا تعارف ،عقائد ، اور اسلوب دعوت “ پر کتاب کی تالیف 
(۶) ریڈیوکویت پر ہفتہ وار 50 منٹ کا دینی پروگرام
 (۷) ہندی،اردو،اور عربی بلوگز لكهنا ۔
اللہ تعالی ہم سب سے اخلاص كے ساته اپنے دین کا کام لیتا رہے ، اور حسن خاتمہ سے نوازے آمین یا رب العالمین

مکمل تحریر >>

میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں تو کیا والدین کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہوں ؟

سوال:

میرے والد فوت پاچکے ہیں اور میری والدہ باحیات ہیں ۔ میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں تو کیا والدین کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہوں ؟ (حفیظ اللہ ، كويت )

جواب:

 آپ اپنے فوت شدہ والدکی طرف سے عمرہ کرسکتے ہیں ۔لیکن والدہ کی طرف سے نہیں کیونکہ وہ ابھی باحیات ہیں ۔  الا یہ کہ وہ سفرکرنے سے عاجز  ہوں تو ایسی صورت میں والدہ کی طرف سے بھی کرسکتے ہیں ۔ اور دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اُس نے اپنی طرف سے عمرہ کیا ہو۔
مکمل تحریر >>

جمعرات, ستمبر 08, 2011

عمری برادران سے دو گذارش

مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری حفظہ اللہ استاذ دارالسلام عمرآباد سے نہ ہماری کبھی ملاقات ہے اور نہ شناسائی ۔البتہ ہم نے ان کے شاگردوں کوان کی خوبیاں بیان کرتے ضرور سنا ہے ۔ ماہنامہ راہ اعتدال میں ان کے مقالات ضرورپڑھے ہیں۔  بلکہ ذاتی طورپر میں مولانا کی تحریر پڑھنے کے لیے ہی راہ اعتدال کی کھوج میں لگا رہتا ہوں، یہاں تک کہ پرانے شمارے بھی مل جاتے ہیں تو ان میں مولانا کی تحریر تلاشنے لگتا ہوں۔  کسی کی شخصیت کو پہچاننے کے لیے برسہا برس درکار نہیں ہوتے ۔ چند منٹوں میں شخصیت پہچان میں آجاتی ہے۔ میں نے مولانا کو ان کی تحریروں سے پہچانا ہے، اوران کی تدریسی صلاحیتوں کی بابت سنا ہے ۔ آپ کو اللہ پاک نے بلا کی ذہانت دی ہے ، آپ کی شخصیت گوناگوں خوبیوں کی مالک ہے، عمری برادران سے ہماری گذارش ہوگی کہ ان کی صلاحیت کو دارالسلام تک محدود نہ رہنے دیں۔ آج انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، دنیا سمٹ کر گھر کی مانند ہوچکی ہے ۔ ان کے دروس کی ريکاڈنگ کا بندوبست کیا جائے، انہیں ذمہ داری دے کر ان سے علمی کام کرایا جائے، ان کے مقالات کوکتابی شکل میں چھاپا جائے ۔ مختلف مجالس میں راقم سطور كو ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ کی زبانی  ان كے حق ميں ستائشی کلمات سننے كا موقع ملا ہے ۔
مولانا ابوالبیان حماد صاحب علم، صلاحیت اورقابلیت میں بے مثال ہیں، زبان وادب میں استاذ سمجھے جاتے ہیں۔ میری نظر سے ان کے کئی شعری مجموعے بھی گذر چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ محترمہ کا بھی ایک شعری مجموعہ بازارمیں دستیاب ہے ۔ آپ کے کلام میں بلاکی چاشنی ہے ۔ حلاوت ہے اورادبی جواہرپارے ہیں۔ ان کے ایک نعتیہ کلام کا مجموعہ بھی منظرعام پرآچکا ہے ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ آج اردوزبان میں شرکیہ نعت نے شہرت حاصل کررکھی ہے۔ صحیح نعت پر مشتمل ویڈیوزاورسی ڈیز تلاش بسیار کے باوجود نہیں ملتیں ۔ ایسے حالات میں آخر کیوں نا مولانا کے نعتیہ کلام کو سی ڈیز اور ویڈیوز کی شکل دی جائے ۔ اچھے نعت خواں کی خدمت حاصل کرکے اس کی ریکارڈنگ ہواوراسے الکٹرونک میڈیا کی زینت بنایا جائے کہ یہ وقت کا فوری تقاضا ہے ۔
مکمل تحریر >>