بدھ, اپریل 13, 2011
منگل, اپریل 12, 2011
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
تحرير:
Safat Alam Taimi
تجلیات کے اس
کالم میں آج ہم اُس دھرتی کی تصویرکشی کرنے بیٹھے ہیں جس پر ہمارے آباءواجداد نے
دس سو سالوں تک حکومت کی ،اُسے سجایا سنوارا اور سونے کی چڑیا بنایا، جب اس دھرتی
پرسیاہ فام انگریزوں کا تسلط ہوا تو قوم مسلم کے سورماؤں نے اپنی جان ومال کی
قربانیاں پیش کیں، دارورسن کے پھندے چومے ،اور تن کے گوروں اور من کے کالوں سے وطن
عزیز کو آزاد کرایا ۔
آزادی کا سورج طلوع ہونے کے بعد جمہوریت کے سایہ
تلے چند سالوں تک مسلمانوں کا وقار بحال رہا لیکن رفتہ رفتہ اس ملک پر اعلی طبقوں
کا قبضہ ہوتا گیا‘جو اسلام واہل اسلام سے خارکھاتے تھے،اب کیا تھا ؟ فسطائی ذہنیت
کا لاوا پھوٹنے لگا،فرقہ واریت کے اژدہے پھن پھیلانے لگے ، ہندتو کے نعرے بلند
ہونے لگے ، ہندواحیاء پرستی کے جذبے سے ان کی فسطائی تنظیمیں سرگرم ہوگئیں ۔ یہی
چند مٹھی بھر جماعت ہے جو60 ساٹھ سالوں سے مسلمانوں کے ناک میں دم کیے ہوئی ہے
،اگر یہاں کی اکثریت جمہوریت پسندنہ ہوتی تو نہ جانے کب یہ مسلمانوں کا بستر گول
کردیے ہوتے ، یہودی ذہنیت کی حامل اس قوم نے ملک کے کونے کونے میں سیکڑوں مسلم کش
فسادات کرائے جن کے ذکر کا یہاں موقع نہیں ہم تو حال کا تجزیہ پیش کرنا چاہتے ہیں کہ
اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود اس قوم نے اقلیتی طبقوں کے خلاف کیا کیا گل کھلائے
ہیں ۔
خواتین ریزرویشن بل :
حالیہ دنوں راجیہ سبھا نے خواتین ریزرویشن بل پاس کردیا ہے جس کے مطابق 33
فیصد خواتین ریزرویشن کی حقدار ہوںگی ،یہ مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرستوں کی ایک
خطرناک سازش ہے ، پچھلے دنوں کچھ اسلام پسند مسلمانوں کوایوان میں نمائندگی ملی
تواس سے ان کو خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر مسلمانوںاوراقلیتی طبقہ کے لوگوں کو یوں
ہی موقع ملتا رہا تو یہ سیاست پر حاوی ہوجائیں گے ۔اس لیے کسی طرح اس بل کو پاس
کرانا ضروری سمجھا ، ریزرویشن کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں
مسلمانوں کی فی الحال جوبرائے نام نمائندگی پائی جاتی ہے وہ بھی ختم ہوجائے گی ۔
ظاہر ہے کہ جن حلقوں سے مسلم لیڈروں کے جیتنے کی توقع کی جا سکتی تھی وہ حلقے
خواتین کے لیے خاص کردیے جائیں گے ، جیسا کہ پنچایتوں میں اس کا تلخ تجربہ ہوچکا ہے
، اگرایسا ہوا توان مخصوص حلقوں سے اونچے طبقے کی خواتین ہی پارلیمنٹ میں نمائندہ
بن کر آئیں گی کیونکہ مسلم خواتین کاتو سیاست میں کوئی عمل دخل ہے نہیں.... اس طرح
مسلمانوں کو سیاست سے پوری طرح واک آؤٹ کردیا جائے گا....پھر مسلمانوں کے مسائل
حکومت کے پاس پیش کرنے والا بھی کوئی نہ بچے گا۔ یہ ہے فرقہ پرستوں کی سوچی سمجھی
پلاننگ جسے کانگریس بھی منوانے پر تلی ہوئی ہے ۔
تعلیمی اداروں کے خلاف سازش :
آزادی کے بعد مسلم
قائدین نے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے دینی مدارس کے ساتھ ساتھ عصری تعلیمی ادارے قائم کیے جوبرابرفرقہ
پرستوں کے نشانے پر رہے،دینی مدارس پردہشت گردی کے الزامات تراشے گئے،اس میں
کامیابی نہ مل سکی تو مرکزی مدرسہ بورڈ کی پلاننگ ہونے لگی جب یہاں بھی منہ کی
کھانا پڑی تو اقلیتی کردار کے عصری تعلیمی ادارے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ
مسلم یونیورسٹی وغیرہ میں اکثریتی فرقہ کے طلبہ وطالبات کو خوب سے خوب جگہیں دی
جانے لگیں ،جس ادارے کو مسلم علماءوقائدین نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا انہیں
اکثریتی طبقہ کے طلبہ وطالبات کی آماجگاہ بنادیا جائے تو کیا یہ اپنے گھر میں حصہ
داربنانے کی بات نہ ہوگی ؟ حالیہ دنوں مسلم قائدین اس سلسلے میں پُرامن احتجاج
کررہے ہیں اور حکومت سے ۰۵ فیصد کی حصہ
داری کا حق مانگ رہے ہیں
....
دوہرا معیار :
بنگلہ دیش کی شاتم رسول مصنفہ تسلیمہ نسرین جس نے اسلام اور مسلمانوں کے جذبات کے
ساتھ کھلواڑ کیا اور اب تک کرتی آرہی ہے اسے فن اور فنکار کی حمایت کے نام پر
گذشتہ دس سالوں سے حکومت نے پناہ دے رکھا ہے لیکن جب عالمی شہرت یافتہ آرٹسٹ مقبول
فدا حسین نے ہندومورتیوں کی ننگی تصویریں بنائیں (جسکی توہین کے وہ خود عادی ہیں
جبکہ اسلام کسی کے معبود کی توہین کی قطعاً اجازت نہیں دیتا ) تو آسمان سر پر اٹھا
لیا گیا ،اس کے سر کی بولی لگائی جانے لگی ،اس کے لیے زمین تنگ کردی گئی ،اور
راتوں رات جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا،عرصہ سے وطن لوٹنے کی منت سماجت کے باوجود
جب کوئی شنوائی نہ ہوئی تو چنددنوں قبل حکومت قطر نے اس عالمی شہرت یافتہ آرٹسٹ
کواپنے ملک کی شہریت عطا کرکے اس کے فن کی قدر کی ہے ۔
پس چہ باید کرد: یہ ہیں حالیہ چند مثالیں جن سے
ایک خاص طبقے کی ذہنیت طشت ازبام ہوکر سامنے آتی ہے،اوراسی سے آپ اندازہ لگا سکتے
ہیں کہ مستقبل میں ان کے عزائم کسقدر خطرناک ہیں ۔لیکن ہم مسلمان ہیں ، ہمیں اپنے
اسلام پر فخر ہے ، ہم میں کا ہرفرد ایک ذمہ دار ہستی ہے ، اس لیے ہمیں ظلمت شب سے
ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں
تندی بادمخالف سے
نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے
تجھے اونچا اڑانے کے لیے
ہمیں شاہین صفت
بننا ہے ، اپنے معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھانا ہے ، نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے
آراستہ کرنا ہے ، برادران وطن میں دعوتی کاز کو وسعت دینی ہے ، مسلکی اختلافات سے
اوپر اٹھنا ہے اور متحد ہوکر اپنی عظمت رفتہ کی بازیافت کرنی ہے .... ہمت سے بولو
ان شاء اللہ
جمعہ, مارچ 11, 2011
IPC کے شب وروز
تحرير:
Safat Alam Taimi
ڈاکٹر ذاکر نائک کا دعوتی لکچر کویت میں
مارج کے دوسرے ہفتہ میں عالمی شہرت یافتہ داعی اور اردو وانگریزی چینل پیس ٹی وی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ذاکر نائک وزارة الاوقاف کویت کی خصوصی دعوت پر انٹر ویوکے لیے کویت تشریف لائے تھے ۔ اس مناسبت سے دکن مسلم کمیونٹی کے زیراہتمام گلف یونیورسٹی کے ہال میں تعلیم یافتہ غیرمسلموں کے لیے ڈاکٹر ذاکرنائک کا ایک لکچر رکھا گیا جس میں آپ نے ”قرآن اور جدیدسائنس “ کے موضوع پر لکچر دیا آپ نے فرمایاکہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے بلکہ ہدایت کی کتا ب ہے ، اس کتاب میں چھ ہزار سے زائد آیا ت ہیں جن میں ایک ہزار سے زائد آیات کا تعلق سائنس سے ہے ۔ کائنات کی وسعت پزیری ، فنگرپرنٹ ، پہاڑوں کی تخلیق کی حکمت اور انسانی تخلیق کے مختلف ادوار پر سیر حاصل گفتگو کی اور پروگرام کے اخیر میں حسب معمول غیرمسلموں کے سوالات کے تشفی بخش جوابات دئیے ۔
شیخ احمد مراد رضا کا لکچر
ماہ گذشتہ IPC نے سعودی عرب میں ایک عرصہ سے مقیم شیخ احمدمراد رضا کے ایک دعوتی لکچر کااہتمام کیا جس سے IPC کے تمام دعاة نے استفادہ کیا ۔ شیخ رضا نے کہا ” دعوت انبیائی کام ہے جسے وظیفہ اورنوکری سمجھ کرنہیں بلکہ اللہ کا کام سمجھ کر اخلاص وللہیت کے ساتھ انجام دینا چاہیے“ ۔ آپ نے دعوت کوکامیاب کرنے کے لیے فرمایا:” سب سے پہلے مخاطب کا دل جیتنے کی ض رورت ہے“۔
آپ نے نومسلموں کے خانگی مسائل اور اپنے رشتے داروں کو اسلام پیش کرنے کے تئیں موجودہ حالات میں پیش آنے والی مشکلات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : ” نومسلموں کو ہمیشہ تاکید کی جائے کہ اپنے قریبی رشتے داروں اورماں باپ کو اسلام کی دعوت پہنچانے میں جلدی نہ کریں بلکہ قبول اسلام کے بعد ان کے سامنے اسلامی اخلاق کااعلی نمونہ پیش کریں اور جب سفرپر جائیں تو ان کے لیے معمول سے زیادہ قیمتی تحفہ وغیرہ لے کرجائیں ، والدہ کے سرکو بوسہ دیں ،ان کا ہاتھ چومیں اور انہیں بتائیں کہ یہ آداب میں نے مسلمانوں سے سیکھے ہیں ۔اس کے بعد انہیں موت کی یاد دلاتے ہوئے توحید ،رسالت اورآخرت کا پیغام سنائیں ان شاءاللہ ہدایت ملے گی اور کسی طرح کے مسائل بھی پیدا نہ ہوں گے “۔
دعاة کے لیے دعوتی ٹریننگ کورس
IPC نے دعاة کے دعوتی تجربات میں جدت لانے کے لیے سعودی عرب کے معروف داعی ڈاکٹر ناجی العرفج کودعوت دے کربلایا اور دعاة کے لیے ایک دعوتی ٹریننگ کورس منعقدکیا۔ آپ نے پاور پوائنٹ کے ذریعہ ”غیرمسلموں کے سامنے اسلام کا تعارف : قدم بقدم “ کے موضوع پر نہایت وقیع اورمعلومات افزا لکچر دیا۔ آپ نے فرمایا:” دعوت کے میدان میںسب سے پہلے مدعو کا دل جیتنے کی ضرورت ہے“،اس ضمن میں آپ نے دلوںپر قابو پانے کے چند وسائل کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کی کہ غیرمسلموں کے سامنے چندمعروف اسماءومصطلحات کی وضاحت ضرورکی جائے مثلاً اسلام میں اللہ کا تصورکیا ہے ؟ محمد صلى الله عليه وسلم کون ہیں؟ قرآن کیا ہے ؟ مسلم کسے کہتے ہیں ؟ اسلام کیا ہے ؟ وغیرہ
آپ نے فرمایا کہ غیرمسلم کے سامنے اسلام کے محاسن بیان کیے جائیں اور اس کے جمالیاتی پہلووں پر روشنی ڈالی جائے۔مثلاً (1) اسلام میںتوحید کا تصور اور دیگرادیان سے اس کا موازنہ (2) سکون وطمانیت (3) مساوات اور عدل وانصاف (4) اعتدال وتوازن (5) اسلامی بھائی چارہ (6) مکارم اخلاق وغیرہ
آپ نے مزیدفرمایا: مدعو سے کہاجائے کہ اسلام ہر سوال کا تشفی بخش جواب دیتا ہے مثلاً اللہ کون ہے ؟ خالق کون ہے ؟ ہم کیوں پیدا کیے گئے ؟ ہم کس کی عبادت کرتے ہیں ؟ موت کے بعد کیا ہوگا ؟ انسان کا اخروی انجام کیا ہوگا؟۔ وغیرہ
اسی طرح آپ نے تاکید کی کہ مختصر طورپر مدعو کے سامنے ارکان اسلام اور ارکان ایمان کا تعارف کرایا جائے، نیز غیرمسلموں کی مذہبی کتابوں میں توحید ورسالت اور یوم آخرت کا جو ذکر ہے اورنبی پاک صلى الله عليه وسلم کی آمد کی پیشین گوئیاں کی گئی ہيں انہیں بھی بیان کیاجائے ۔
اخیر میں آپ نے فرمایا کہ داعی کوچاہیے کہ اپنا تعلق اللہ سے مضبوط رکھے اور مدعو کی ہدایت کے لیے ہمہ وقت دعا گو رہے ۔
کلونجی : طب نبوی اورطب جدید کی روشنی میں
IPC نے الھیئة العالمیة للاعجاز العلمی فی القرآن والسنة کے تعاون سے ڈاکٹر عبدالعزیز الجفری کاایک لکچر رکھا جس سے IPC کے جملہ مرد وخواتین داعیان دین نے استفادہ کیا ۔ آپ نے اپنے لکچر میں کلونجی کے طبی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ آج سے ساڑھے چودہ سوسال پہلے نبی امی صلى الله عليه وسلم نے فرمایاتھا: علیکم بھذہ الحبة السوداءفان فیھا شفاء لکل داء الا السام (رواہ البخاری )
”کلونجی کو(بطور علاج )لازم پکڑوکیونکہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے “۔ آج یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے۔ اوراس پردنیا بھر میں ہزاروں مطالعے اور تحقیقات جاری ہیں۔ آپ نے فرمایا:اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر،ایچ آئی وی ایڈز، ذیا بیطس، بلڈ پریشر اور ہائپر کولیسٹرول وغیرہ کے علاج میں انتہائی مو ثر پایاگیاہے۔ آپ نے فرمایاکہ کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوتِ مدافعت میں زبردست اضافہ دیکھا گیا، اسی طرح کلونجی معدہ اورپیٹ کے امراض ، یادداشت میں کمی، رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ آپ نے یہ بھی کہا : کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل شہد کے ساتھ استعمال کر لیا جائے تو بہت مفید ہے۔ اخیر میں آپ نے فرمایا: کلونجی کے استعمال میں یہ امر پیش نظر رہے کہ یہ طویل عرصہ اور زیادہ مقدار میں استعمال نہ کی جائے کیونکہ اس میں کچھ مادے ایسے بھی ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مضر ہوسکتے ہیں۔
پروگرام کے اخیر میں آپ نے قرآن وحدیث کے سائنسی معجزات سے متعلقہ متعدد ویب سائٹس کے پتے نوٹ کرائے جن میں چند اہم یہ ہیں :
www.eajaz.org.com www.elnaggarzr.com
www.drchamsipasha.com
بدھ, مارچ 09, 2011
کھلتی کليوں کی حفاظت کيجئے
تحرير:
Safat Alam Taimi
اگراللہ تعالی نے آپ کو اولاد جيسی نعمت سے
مالامال کر رکھاہے، توآپ کی ذمہ داری بنتی
ہے کہ اپنے گلشن حيات کے ان کھلتی کليوں کی نگہبانی کريں، ايسی نگہبانی کہ ہميشہ
شگفتہ رہيں اور ان ميں کمہلاپن نہ آنے پائے ۔ اگر يہ کلياں آپ کی آنکھوں کے سامنے
ہيں تو زہے خوب، تاہم ان کی دينی وروحانی تربيت کی طرف دھيان دينے کی اشد ضرورت
ہے، عصری تعليم کے ساتھ ساتھ ان کے دينی
تعليم کا بھی اہتمام ہونا چاہيے ، بفضلہ تعالی کويت کے ہرعلاقے ميں مساجد کے اندر حفظ
قرآن کے حلقے پائے جاتے ہيں، جن کی کارگزارياں قابل ستائش ہيں، اور خوش آئند بات يہ
ہے کہ بيشتر والدين اپنے بچوں کے تئيں ذمہ داری کا شعور رکھتے ہيں، اور اس کی طرف
خاطرخواہ پيش رفت فرمارہے ہيں۔ اللہ تعالی انہيں مزيد بال وپرعطا فرمائے آمين۔
تاہم گھرکا ماحول بھی دينی ہونا چاہيے تاکہ بچوں کی روحانی تربيت ہوتی رہے کيوں کہ
آج کے يہی بچے کل کے معمارِقوم وملت بننے والے ہيں۔
اگرآپ کے بچے آپ کی آنکھوں سے
دور ہيں تو ان کی تربيت کی ساری ذمہ داری ماں پر عائد ہوتی ہے ،بچوں کی تربيت ميں
ماں کا کليدی رول ہوتا ہے، تاہم قدم قدم پر باپ کے سايہ کی ضرورت پڑتی ہے، اگر وطن
سے دور ہونے کے باعث بچے آپ کے سايہ شفقت سے محروم ہيں تو کم ازکم فون پر ان سے
باتيں کرتے رہيں، انہيں ماں کی اہميت کا احساس دلاتے رہيں، اور ماں کو بھی بچوں کی
تربيت پر خصوصی دھيان دلائيں۔
ليکن حقائق يہ بتاتے ہيں کہ بيشتر تارکين وطن
اقتصادی حالت اچھی ہونے کے باوجود اپنے بچوں کی تربيت ميں ناکام ثابت ہورہے ہيں،
جس کے باعث ان کے بچے زندگی کے ميدان ميں پيچھے رہنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی انحراف
کے شکار ہو جاتے ہيں، حالاں کہ ہونا يہ چاہئے تھا کہ اگروہ وطن سے دور ہيں تو بيوی کو بچے کی دينی تربيت
کرنے اور انہيں بُری صحبت سے دور رکھنے کی بار بار تاکيد کرتے رہتے۔
پرديسی بھائی!
ماں اگرتعليم يافتہ اور ديندار ہوتو بچوں کی خاطرخواہ تربيت کرسکتی ہے، تاريخ ميں
کتنی ايسی مائيں ملتی ہيں جن کی کوششوں سے ان کے بچے کاميابی کے بامِ عروج تک پہنچے۔
سفيان ثوری رحمه الله کی ماں اپنے فقروفاقہ کے باوجود ان کی تعليم کے ليے سوت کات
کات کررقم جمع کرتی تھيں تاکہ يکسوئی کے ساتھ علم حاصل کرسکے، گاہے بگاہے نصيحت
بھی کرتی تھيں ايک مرتبہ ماں نے فرمايا:
”بيٹا! جب تم دس حرف لکھ چکوتو يہ غورکروکہ کيا تمہاری خشيت، برد باری اور وقار ميں اضافہ ہوا؟ اگرايسا نہ ہوسکا تو سمجھ لوکہ يہ علم تيرے ليے نقصاندہ ہے، نفع بخش نہيں“۔
اوريہ امام مالک رحمه
الله کے استاد ربيعہ الرای رحمه الله ہيں جوابھی بچے تھے تو ان کے والد تيس ہزاردينار
انپی بيوی کے پاس چھوڑکرپرديس کسی مہم پر نکل گئے، نيک بيوی ساری رقم ربيعہ کی تعليم
وتربيت ميں صرف کرکے انہيں علامہ زماں
بناديتی ہے۔ جب ايک عرصہ کے بعد باپ گھرپہنچتا ہے تو يہ ديکھ کراللہ کا شکربجالاتاہے کہ بيٹا مرجع خلائق بنا
ہوا ہے۔
بچپن ميں بچہ کورا کاغذ کی مانند
ہوتا ہے جس پر جونقش ڈالا جاتا ہے ثبت ہوجاتا ہے۔ جب ان قيمتی لمحات ميں لاپرواہی برتی جاتی ہے تو
بچوں کے اندر شروفساد کا در آنا يقينی ہوجاتا ہے۔ بعض دفعہ بچے جب غلطی کرتے ہيں تو مائيں بچوں کو
متنبہ کرنے کی بجائے شاباس کہتی ہيں نتيجة بچہ غلطی کو اچھا سمجھ کرسرانجام دينے لگتا ہے اور يہی عادت بچے کو جوانی
کے بعد غلط راستے پر ڈال ديتی ہے:
خشت اول
چوں نہد معمار کج
تا ثريا می رود ديوار کج
”اگرمعمار پہلی اينٹ ٹيڑھی رکھ دے تو ثريا
تک بھی ديوار چلی جائے ٹيڑھی ہی ہوگی“۔ لہذا والدين کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے
بچوں کی علمی وروحانی تربيت کواپنا اوليں فريضہ سمجھيں :
٭ بچپن سے ہی بچوں کے
اندر دينی روح پيدا کريں، انہيں شہادتين کی صحيح ادائيگی، اور اس کے معانی ومفاہيم
سے آگاہ کريں۔
٭ بچہ ہويا بچی دونوں کے ليے نماز کی تعليم وتربيت کی ابتداء بچپن ہی
سے کرديں، بچے جب سات سال کے ہوجائيں توانہيں نماز کا حکم ديں، اور دس سال کے
ہوجائيں تو نماز نہ پڑھنے پر ان کی سرزنش کريں، اور ان کا بستر الگ کرديں۔(احمد)
٭ بچوں
کو گالی گلوچ، لعن طعن اور فضول وگھٹيا قسم کی باتوں سے خبردار کرتے رہيں اور قولی
وعملی اعتبار سے انہيں سچائی کا عادی بنائيں۔
٭ بچی کو بچپن ہی سے اپنے جسم کوڈھانپ
کر رکھنے کی تلقين کريں تاکہ بلوغت کی عمرکوپہنچنے تک وہ ساتر لباس پہننے کی عادی
ہوچکی ہو۔
٭ اپنی اولاد کے احوال پر باريکی سے نظر رکھيں‘ ان کے دوست کون ہيں؟ ان
کے گھر کے باہر کی مصروفيات کيا ہيں؟ ان کے
اکثراوقات کن کے ساتھ گذرتے ہيں؟ ان کی آمد و رفت کہاں کہاں ہوتی ہے؟ وغيرہ وغيرہ۔
٭ اپنے
بچوں کے ليے نمونہ بنيں اور اپنے گفتار وکردار پر دھيان رکھيں ورنہ:
إذَا کَا نَ
رَبُّ البَيتِ بِالطَّبلِ ضَارِباً
فَلَا تَلُمِ الاَولَادَ فِيہِ عَلٰی الرَّقصِ
”جب گھرکا مالک طبلہ بجا رہاہو تو اس ميں بچوں کے رقص کرنے پرانہيں ملامت مت کرو“
۔
کيوں کہ بچوں کی نظرميں اچھائی وہ ہوتی ہے جسے والدين انجام ديتے ہيں اور ہروہ چيز
ان کی نگاہ ميں گھٹيا ہوتی ہے جس کے ارتکاب سے وہ احتراز کرتے ہيں۔
مجھے اس مناسبت
سے ايک بچے کا وہ جواب ياد آرہا ہے جس نے دروازے پر دستک دينے والے کسی قريبی رشتہ
دار کے ليے دروازہ کھولتے ہوئے کہا تھا:
”چچاجان! ابّوجان نے کہا ہے کہ کہہ دو ابّوگھر پر نہيں ہيں “....۔
ديکھا آپ نے !کتنی معصوميت کے ساتھ بچے نے اپنے باپ کے
جھوٹ کو رشتے دار کے سامنے ہوبہونقل کرديا اور باپ کی سبکی ہوئی۔
