جمعرات, جولائی 30, 2020

آج يوم ترويہ ہے



جی ہاں! آج يوم ترويہ ہے یعنی حج کا پہلا دن اور ذو الحجہ کی 8 ویں تاریخ، قدیم زمانے میں جب حاجی آٹھ ذی الحجہ کو منی جاتے تھے تو وہاں پانی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پریشانی ہوتی تھی، لہذا منی روانگی سے پہلے مکہ سے زمزم کا پانی بھر لیتے تھے، پھر منی جاتے تھے. اسی بنیاد پر اس دن کا نام يوم ترويہ (پانی بھرنے کا دن) پڑ گیا.
يوم ترويہ حاجیوں کے لیے حج کا پہلا دن ہے. آج کے دن حاجی مکہ میں جہاں ٹھہرے ہوئے ہوں وہیں سے حج کا احرام باندھتے ہیں. حج کا احرام باندھنے کا طریقہ وہی ہے جو عمرہ کے احرام کا ہے. صفائی ستھرائی اور غسل کرکے احرام کا کپڑا پہن لیا جاتا ہے اور بدن میں خوشبو بھی لگالیں تو بہتر ہے. پھر "لبیک اللھم لبیک" کہتے ہوئے حج کی نیت کرتے ہیں اور تلبيہ جو حج کا سلوگن ہے اسے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں، اور دس ذوالحجہ کو كنكڑياں مارنے تک مسلسل پڑھتے رہتے ہیں. احرام باندھنے کے بعد حاجی ظہر کا وقت ہونے سے پہلے منی کی طرف روانگی کر جاتے ہیں. منی کی طرف جانے سے پہلے طواف وغیرہ نہیں کرتے کیوں کہ ایسا کرنا ثابت نہیں.
وہاں ظهر، عصر مغرب اور عشاء کی نمازیں قصر (چار رکعت کی نمازوں کو دو رکعت پڑھنا) کر کے پڑھتے ہیں اور رات کو وہیں سو جاتے ہیں. فجر کی نماز منی میں ہی پڑھیں گے، پھر عرفہ جانے کی تیاری کریں گے. حاجیوں کے لیے آج کے دن منی میں ٹھہرنا اور پانچ وقت کی نمازیں پڑھنا سنت ہے واجب نہیں.
اگر کسی عورت کو حیض کے ایام آ گیے تو وہ بھی احرام باندھ کر منی جاتی ہے اور حاجیوں کے ساتھ وہیں ٹھہری رہتی ہے اور تلبیہ اور ذکر میں لگی رہتی ہے لیکن نماز قرآن سے رکی رہتی ہے، حج کے اس سفر میں ہر آدمی زور زور سے حج کا سلوگن تلبيہ پکارتا ہے، اللہ کی یاد میں لگا رہتا ہے، بیکار کی باتوں میں مصروف نہیں ہوتا، اللہ کا ذکر کرتا رہتا، قرآن پڑھتا رہتا اور بھلائیوں کا حکم دیتا اور برائیوں سے روکتا رہتا ہے.
مکمل تحریر >>

منگل, اکتوبر 29, 2019

عظیم نبی کی خوابیدہ امت

🔲 دنیا کا سب سے عظیم انسان اور اس کی سوئی ہوئی امت

اس دھرتی پر پیدا ہونے والی شخصیات میں سب سے عظیم، سب سے پاکباز، سب سے کامل، سب سے سچی اور امانت دار شخصیت محمد ﷺ کی شخصیت ہے، جنہیں تمام جن وانس کی رہنمائی کے لیے بھیجا گیا۔ جنہوں نےانسانیت کو اپنے رب سے جوڑا، توہم پرستی کا خاتمہ کیا ، وحدت الہ اور وحدت آدم کی تعلیم دی، چھوت چھات، بھید بھاؤ اور رنگ ونسل کے فرق کو مٹایا، جنہیں ایک دائمی اور ابدی معجزہ قرآن کریم دیا گیا جوصبح قیامت تک جن وانس کے لیے چیلنج ہے، جن کی سیرت کا ایک ایک لمحہ محفوظ ہے، جن کی زبان فیض ترجمان سے نکلی ہوئی ایک ایک بات کا مستند ریکارڈ موجود ہے، جنہوں نے کائنات کو ایک مکمل اور ربانی نظام حیات دیا، فطرت سے ہم آہنگ ، اعتدال پر مبنی، مستند اور آفاقی تعلیمات دیں جو ماڈرن بھی ہیں اور اپ ٹو ڈیٹ بھی ہیں، ماڈرن اتنی کہ دنیا کی ساری ماڈرنیٹی اس کی ماڈرنیٹی کے سامنے فیل ہیں اور اپ ٹو ڈیٹ اتنی کہ اس کے کسی بھی قانون میں Expiry Date نہیں، آج انسانیت جن عالمی مسائل سے جوجھ رہی ہے ان کا بہترین حل پیش کرتی ہیں۔ وہ محسن انسانیت جو لوگوں کی ہدایت کے لیے زندگی بھر تڑپتے رہے، انہیں پاگل اور دیوانہ کہا گیا،ان کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، ان پر ایمان لانے والوں کو جان لیوا اذیتیں دی گئیں، گھر سے بے گھر کیا گیا، لوگ نادانی میں ان کے ساتھ سویلاپن کا برتاؤ کرتے رہےحتی کہ ایک وقت آیا کہ محمدﷺ نے اپنے دشمنوں پر فتح پا لیا، بدلہ لینے کا موقع تھا، لیکن بدلہ لیتے تو کیسے کہ وہ تو انسانیت کے غم خوار تھے، چنانچہ تمام دشمنوں کی عام معافی کا اعلان کردیا، اس کا اثر یہ ہوا کہ دشمنوں کو ندامت ہوئی، وہ اپنے کرتوت پر پشیمان ہوئے کہ جس انسان کا لگاتار انیس سال تک جینا دوبھر کیا وہ تو ہمارا سب سے بڑا خیرخواہ نکلا، اب کیا تھا؟ انہوں نے ان کی دعوت کو گلے سے لگا یا اور اسے لے کر دنیا کے چپہ چپہ میں پھیل گئے، آج اس عظیم انسان کی دعوت پھر اجنبیت کی شکار ہے، انہیں ایک خاص قوم کا رہنما سمجھا جاتا ہے، انہیں دہشت گرد باور کرایا جاتا ہے، ان کی اہانت کی جاتی ہے، ان کی تعلیمات کا مذاق اڑایا جاتا ہے لیکن صدحیف کہ ان سے محبت کا دم بھرنے والی قوم خواب خوگوش میں پڑی ہے، اس کے سمند غیرت کو تازیانہ نہیں لگتا ۔ ع افسوس میری قوم بدلتی نہیں کروٹ

✍ صفات عالم تیمی
مکمل تحریر >>

منگل, ستمبر 03, 2019

یہ دنیا دارفانی ہے

✍ یہ دنیا دارفانی ہے، پانی کا بلبلہ ہے، ہماری زندگی محدود ہے اور یہ روزانہ برف کے جیسے پگھل رہی ہے۔ اک دن آئے گا کہ ہماری زندگی کی آخری گھنٹی بجے گی اور ہم ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ عقلمند وہی ہے جواپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور کل قیامت کے دن کی تیاری کرلیتا ہے اور بیوقوف وہ ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگا رہتا ہے اور اللہ سے امیدیں باندھے رہتا ہے۔

✍ اس لیے ضرورت ہے کہ ہم موت کی سختی کو یاد کریں، قبرکی تاریکی کو یاد کریں، منکرنکیر کے سوال کو یاد کریں، قیامت کی ہولناکی کو یاد کریں، جنت اور جہنم کے حالات پر غور کریں:

✍ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ ﴿ سوره فاطر: 5)

”اے لوگو! اللہ کا وعدہ برحق ہے، لہذا دنیاکی زندگی تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اورنہ یہ دھوکے باز تجھے دھوکے میں ڈالنے پائے. “   

✍ صفات عالم تیمی
مکمل تحریر >>