بدھ, اپریل 24, 2019

پلٹیں اپنے رب کی طرف


رمضان کی آمد کو کچھ دن باقی رہ گئے ہیں، کیا آپ جانتے ہیں کہ رمضان کا پیغام کیا ہے؟ رمضان کا پیغام ہے،  رجوع الی اللہ۔  پلٹیں اپنے رب کی طرف۔ ہمارا رب جس سے ہم معاملہ کرتے ہیں، بڑا کریم ہے۔ ايک نيکی کا ثواب دس سے لے کر سات سو گنا تک ديتا ہے اور اگر گناہ ہوجائے تو فرشتے ايک ہی گناہ  ہمارے نامہ اعمال ميں لکھتے ہیں اور وہ بھی نیکیاں کرنے سے بہت جلد مٹ جاتا ہے۔
ہمارا رب ہر دن رات کے سہ پہر ميں سمائے دنيا پر نزول فرماتا ہے اور اپنے بندوں کو پکارتا ہے: کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ ہم اس کی دعا قبول کریں؟ کیا کوئی اپنے گناہوں کی معافی چاہنے والا ہے کہ ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں، کيا کوئی مانگنے والا ہے کہ ہم اسے ديں؟  
جب کبھی ہم نے گناہ کيا اس کی نظروں کے سامنے کيا، ليکن وہ اس پر پردہ ڈالتا رہا تاکہ لوگ اسے جان نہ سکيں، بلکہ اس وقت بھی ہم پر اپنی نعمتیں جاری رکھیں، کیوں؟  
اس لیے کہ وہ بڑا کریم ہے،  رحیم ہے، غفور ہے، معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے، وہ توبہ کرنے والوں کوپسند کرتا ہے۔ اور کیوں نہ کرے کہ اس نے اپنا نام ہی”التواب“ یعنی بندوں کی توبہ قبول کرنے والا رکھا ہے۔
وہ چوبیس گھنٹے اپنے بندوں کی توبہ کا انتظار کرتا ہے، صحیح مسلم کی روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  إن الله عز وجل يبسط يده بالليل ليتوب مسيء النهار، ويبسط يده بالنهار ليتوب مسيء الليل ”اللہ تعالی رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو برائی کرنے والا (رات کو) توبہ کرلے اوردن کو پھیلاتا ہے تاکہ رات کو گناہ کا ارتکاب کرنے والا (دن کو) توبہ کرلے۔
سو آدمیوں کے قاتل کی توبہ قبول ہو سکتی ہے تو ہم اور آپ کی توبہ کیوں قبول نہیں ہو سکتی،  سو آدمیوں کا قاتل ہے، ایک عالم سے مسئلہ پوچھتا ہے: کیا میرے لیے توبہ ہے؟ وہ کہتا ہے ہاں کیوں نہیں، تمہارے اور تمہاری توبہ کے بیچ کون حائل ہو سکتا ہے۔ لیکن ہاں! جس بستی میں تم رہتے ہو وہاں سے نکل جاؤ، فلاں بستی میں چلے جاؤ وہاں نیک لوگ رہتے ہیں، وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہوتا ہے، اور نیک عمل کرنے کے لیے دوسری بستی میں جا رہا ہوتا ہے کہ اس کے پاس موت کے فرشتے آجاتے ہیں، بالآخر نیکی کے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں کیونکہ اس نے سچی توبہ کی تھی۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری انسانیت میں سب سے افضل تھے، آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے گئے تھے لیکن اس کے باجود دن میں سو سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتے تھے۔
اس لیے رمضان کا پیغام ہے کہ ہم سچے دل سے توبہ کریں، سارے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کریں، تنہائی میں بیٹھ کر کاغذ اورقلم ہاتھ میں لیں، اپنے سارے گناہوں کونوٹ کریں، پہلے بڑے گناہوں کی لسٹ بنائیں، پھر چھوٹے گناہوں کی، اور ایک ایک کرکے ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ دیر نہ کریں، جلدی توبہ کریں، ابھی موقع ہے:
ظالم ابھی ہے فرصت توبہ نہ دیرکر      وہ بھی گرا نہیں جو گرا پھر سنبھل گیا

مکمل تحریر >>

بدھ, اپریل 10, 2019

اللہ کے واسطے آپ اسلام کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں



ایک مرتبہ IPC میں میرے پاس ایک صاحب کسی غیرمسلم عیسائی کولے کر آئے اورمجھ سے طلب کیا کہ انہیں اسلام کی دعوت دوں، دونوں تعلیم یافتہ تھے، چند تمہیدی باتیں کرنے کے بعد میں انہیں اسلام کی دعوت دینے لگا۔ جب وہ اسلام سمجھ چکے اور اسلام لانے کے لیے تیار ہوئے تو لانے والے نے مجھ سے ایک سوال کیا جسے میں پیدائشی مسلمان سمجھ رہا تھا:
اسلام میں مرتد کا کیا حکم ہے ؟“ 
میں نے سوال کے بے محل ہونے کی وجہ سے حکمتِ دعوت کے پیش نظر صراحت سے اس کا جواب نہیں دیا کہ مرتد کی سزا قتل ہے بلکہ کہا کہ” ایک سچے مسلمان کے تئیں ارتداد کا تصور نہیں کیا جاسکتا، جو حقیقی معنوں میں مسلمان ہوگا وہ مرتد نہیں ہوسکتا، اس پر محمد صلى الله عليه وسلم کے اصحاب کی درخشندہ زندگی گواہ ہے کہ انہیں انسانیت سوز تکلیفیں دی گئیں تاہم ان کے پایہ استقلال میں ذرہ برابر تزلزل پیدا نہ ہوا ….کیونکہ اسلام میں جبر واکراہ نہیں، یہ انسان کا اپنا دھرم ہے جسے وہ قناعت سے اختیار کرتا ہے “۔
پھرمیں نے انتظار کیا تاکہ ان کا ردعمل دیکھوں….اس نے جواب کو نظر انداز کرتے ہوئے حقیقت حال سے آگاہ کیا :
میں نے آپ سے یہ سوال اس لیے پوچھا ہے کہ پانچ سال قبل میں نے اسلام قبول کیا تھا تاہم اس پرقائم نہ رہ سکا، البتہ جب میں نے اپنے دوست کے سامنے اسلام کی خوبیاں بیان کیں تواس نے اسلام کو جاننے کی خواہش ظاہر کی، اسی لیے میں آج اسے لے کر آپ کے پاس آیاہوں“۔
میں نے پوچھا: ”آپ کے اسلام پرقائم نہ رہنے کی وجہ ؟
اس کا جواب تھا :
جب میں نے اسلام قبول کیا تو میرے منیجر نے سارے ملازمین کے سامنے خوشی سے کچھ رقم دی جو ایک مسلمان بھائی کے بیل مونڈھے نہ چڑھ سکا، ایک روز جبکہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہاتھا اس نے مجھے بحالتِ سجدہ پیچھے سے ایک لات مارا اوربڑی جرأ ت سے کہا:
لالچی کہیں کے …. پیسہ کے لیے اسلام لایا ہے “ ، حالانکہ اللہ شاہد ہے کہ میں نے پورے شرح صدر کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا، جب پیچھے مڑکر دیکھا توغصہ توبہت آیا، پرمیں نے بروقت جذبات پرقابوپایا اور اس سے الجھے بغیر مسجد سے نکل بھاگا ۔ اس دن سے مجھے مسلمان سے نفرت سی ہوگئی ہے، لیکن آج بھی مجھے اسلام سے محبت ہے، میری خواہش ہے کہ دوبارہ اپنے دوست کے ساتھ اسلام میں آجاؤں، کیا ایسا ممکن ہے ؟ “۔
یہ قصہ سن کر تھوڑی دیر کے لیے حواس باختہ ہوگیا، دانتوں تلے انگلی آگئی اور سوچنے لگا کہ کیا آج بھی ہمارے مسلم معاشرے میں ایسے لوگ ہیں جو اسلام کے راستے میں کانٹے بنے ہوئے ہیں۔ پھر دفعتا اس سے مخاطب ہوا:
پیارے بھائی ! میں آپ کے درد کو سمجھ رہاہوں ، لیکن وہ جاہل تھا ، اورجاہل اپنے نفس کا دشمن ہوتا ہے چہ جائیکہ غیرکا دوست بن سکے، پھر آپ نے اس جاہل کا دین تو قبول نہیں کیا تھا بلکہ آپ نے اپنے مالکِ ارض وسما کے دین کی معرفت حاصل کی تھی جو آپ کا اور ساری انسانیت کا دین ہے۔ یہ تو آپ کی گم شدہ نعمت ہے جسے ایک عرصہ پہلے کھو چکے تھے اب جبکہ اسے پالیا ہے توکیا یہ مناسب ہے کہ کسی احمق کی بات پر اپنی نعمت گم گشتہ سے دست بردار ہوجائیں ….؟
اس طرح اسے مختلف مثالیں دے کر سمجھایا چنانچہ دونوں نے کلمہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کیا اور کلاس میں حاضر ہونے لگے۔
صفات عالم تیمی

مکمل تحریر >>

چاند اورسورج گرہن کی نماز کیا ہے اور کیسے پڑھی جاتی ہے؟



چاند اورسورج گرہن کی نماز کیا ہے اور کیسے پڑھی جاتی ہے؟
جواب
سورج گرہن کو کسوف الشمس کہتے ہیں اور چاند گرہن کو خسوف القمر کہتے ہیں، اور دونوں ایک ہی نماز ہے، چاند یا سورج کا گرہن اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالی بندوں کو ڈراتا ہے، اور یہ لوگوں پر اللہ کے عذاب کے نازل ہونے کا سبب بن سکتا ہے، ایسے حالات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے كہ فاذا رایتم منھا شیئا فصلوا وادعواللہ حتی یکشفها بكم "جب تم ایسا ہوتے ہوئے دیکھو تو اُس وقت تک نماز اداکرواور اللہ تعالی سے دعا کرتے رہو جب تک کہ گرہن ختم نہ ہوجائے" ۔
چاند اورسورج گرہن کی نماز کا طریقہ بخاری اورمسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوگیا توآپ مسجد میں تشریف لائے، لوگوں نےآپ کے پیچھے صفیں بنائیں، آپ نے تکبیرکہی اورلمبی قراءت کی، پھر اللہ اکبر کہا اورلمبارکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے، اورسجدہ نہ کیا بلکہ قراءت شروع کی جو پہلی رکعت کی بنسبت کچھ کم تھی، پھر تکبیر کہی اورلمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع کی نسبت چھوٹا تھا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہا، پھر سجدہ کیا پھر دوسری رکعت بھی اُسی طرح ادا کی، آپ نے دو رکعتوں والی نماز چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ مکمل کی، نماز سے فارغ ہونے تک سورج صاف ہوچکا تھا۔
یہ ہے چاند یا سورج گرہن کی نمازکا طریقہ جو جماعت سے دو رکعت ادا کی جائے گی لیکن ہر رکعت میں ضرورت کے مطابق دو یا تین رکوع اور اسی طرح قراءت ہوگی، اس کے بعد سجدہ کیا جائے گا۔ چاند یا سور ج گرہن کی نماز ادا کرلینے کے بعد امام کو چاہیے کہ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرے، ان کی غفلت اورلاپرواہی پر تنبیہ کرے اوردعا واستغفار کا حکم دے۔

مکمل تحریر >>

کیا اچانک موت سے پناہ مانگنا چاہیے؟


کیا یہ صحیح ہے کہ ایک بندے کو ہمیشہ اللہ کی جناب میں اچانک موت سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے؟
جواب: اچانک موت اللہ کی تقدیر سے ہوتی ہے، یہ کوئی برے خاتمہ کی پہچان نہیں اور نہ حسن خاتمہ کی علامت ہے، اگر اچانک موت واقع ہوئی اور بندہ نیک تھا تو اس کے لیے خیر کی امید کی جانی چاہیے اور اگر کوئی بندہ برا تھا اور اس کی اچانک موت ہوئی ہے تو گویا اللہ نے اسے توبہ کی توفیق دئیے بغیر دنیا سے اٹھا لیا۔
اچانک موت قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس حوالے سے بعض آثار وارد ہیں جن کو امام البانی نے " السلسلة الصحيحة (5/370) میں حسن قرار دیا ہے۔
البتہ اچانک موت سے پناہ مانگنے کی حوالے سے اللہ کے رسول ﷺ سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے۔ ہاں! ایک بندہ کو چاہیے کہ اللہ کے رسول ﷺ جیسے دعا کرتے تھے ویسے دعا کرتا رہے، اور آپ ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے:
 اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ (مسلم: 2739 (
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، تیری نعمت کے زوال ( چھن جانے سے)، تیری دی ہوئی عافیت کے ختم ہو جانے سے، تیرے اچانک انتقام سے، اور تیری ہر طرح کی ناراضگی سے۔

مکمل تحریر >>