ہفتہ, فروری 04, 2017

کینسر اور اسلامی تعلیمات


آج ہم ایک ایسی خطرناک بیماری کے بارے میں بات کریں گے جو انسانی سماج کی مایوس کن اور لاعلاج بیماری سمجھی جاتی ہے، یہ وہ خطرناک بیماری ہے جسے ہم کینسر کے نام سے جانتے ہیں۔ چار فروری کو پوری دنیا کینسر کا عالمی دن مناتی ہے، اس دن کینسر کے اسباب، اس کی خطرناکی اور اس سے بچنے کے وسائل پر گفتگو کی جاتی ہے، مختلف کانفرنسیز، ورکشاپس، مباحثے اور پروگرامز منعقد ہوتے اور تجاویز پاس کی جاتی ہیں۔ کینسر کیوں ہوتاہے، کینسر کے اسباب کیا ہیں، اس حوالے سے میڈیکل سائنس کی کیا پیش رفت ہے، ان نکات پر ہم گفتگو نہیں کریں گے بلکہ کچھ شرعی تعلیمات  پیش کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ جو لوگ اس بیماری سے محفوظ ہیں ان کے لیے سودمند ہوسکیں اور جو لوگ اس کے شکار ہیں ان کے لیے مشعل راہ بن سکیں۔
کینسر کے مختلف اسباب میں سے ایک سبب ہے موٹاپے پر دھیان نہ دینا اور کھانے پینے میں اعتدال کو ملحوظ نہ رکھنا، اسی لیے اسلام نے ورزش پر ابھارا اور پنجوقتہ نمازیں ورزش کا بہترین ذریعہ ہیں، اسی طرح کم خوری کی تاکید کی، سنن ترمذی کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما ملأ آدميٌّ وعاءً شرًّا من بطنٍ، بحسبِ ابنِ آدمَ أكلاتٍ يُقمنَ صُلبَهُ، فإن كان لا محالةَ : فثلُث لطعامِه، وثُلُثٌ  لشرابِه وثُلُثٌ لنفَسِه ( سنن الترمذي: 2380)
سگریٹ نوشی، نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنا بھی کینسر کا سبب بنتا ہے، اسی لیے اسلام نے نشہ لانے والی ہر شے کو بالکلیہ حرام ٹھہرایا، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے قاعدہ یہ بتایا کہ
 كلُّ مُسكِرٍ خَمرٌ . وَكُلُّ خَمرٍ حرامٌ  (صحیح مسلم: 2003)
ما يُصيبُ المُسلِمَ، مِن نَصَبٍ ولا وَصَبٍ، ولا هَمٍّ ولا حُزْنٍ ولا أذًى ولا غَمٍّ، حتى الشَّوْكَةِ يُشاكُها، إلا كَفَّرَ اللهُ بِها مِن خَطاياهُ ( صحیح البخاری: 5641)
أَبشِري يا أمَّ العلاءِ ! فإنَّ مرضَ المسلمِ يُذهِبُ اللهُ به خطاياه كما تُذهِبُ النَّارُ  خبَثَ الذَّهبِ والفضةِ .( صحیح الترغیب: 3427)
 إنَّ عِظمَ الجزاءِ مع عِظمِ البلاءِ ، وإنَّ اللهَ إذا أحبَّ قومًا ابتَلاهم ، (سنن الترمذي: 2396
 من يُرِدِ اللَّهُ بِه خيرًا يُصِبْ مِنهُ (صحیح البخاری: 5645  (
" إن شئتِ صبرتِ ولكِ الجنةُ . " ( صحیح البخاری: 5652، صحیح مسلم: 2576)
 يودُّ أَهلُ العافيةِ يومَ القيامةِ حينَ يعطى أَهلُ البلاءِ الثَّوابَ لو أنَّ جلودَهم كانت قُرِضَت في الدُّنيا بالمقاريضِ (صحيح الترمذي: 2402)
 "انسان جن برتنوں کو بھرتا ہے ان میں پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں، آدم کی اولاد کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے وہ اپنی پیٹھ سیدھی رکھ سکے، اگر کھانا ہی چاہتا ہے تو ایک تہائی میں کھانا کھائے ایک تہائی میں پانی پئیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رہنے دے"۔
 "ہر نشہ آور شے شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے"۔
غرضیکہ صحتمند اور متوازن عذا کا استعمال نہ کرنا، جسمانی ورزش (exercise) پر دھیان نہ دینا۔ ماحولیاتی آلودگی، اپنوں سے دوری اور ڈپریشن کینسر کا اہم سبب ہے ۔
البتہ جو بھائی یا بہن کینسر کے شکار ہوچکے ہیں، انہیں میڈٰکل علاج کے ساتھ شرعی علاج پر بھی دھیان دینا چاہیے، کیونکہ طبی دواؤں کا اثر کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا لیکن شرعی علاج کا فائدہ بہرحال مل کر رہتا ہے، چاہے جس انداز سے ملے۔ ذیل کے سطور میں اس حوالے سے چند باتیں پیش خدمت ہیں:
روحانی علاج:
اللہ کی ذات سے شفا کا پختہ یقین:
کیونکہ ایمان کا شفا سے گہرا تعلق ہے، ابراہیم علیہ السلام کی زبانی اللہ تعالی نے فرمایا:
وإذا مرضت فهو يشفين  (سورة الشعراء:80)
"جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے وہی شفا دیتا ہے"۔
اس آیت کریمہ میں پورے یقین واعتماد سے ساتھ ابراہیم علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ شفا دینے والی ذات صرف اللہ رب العالمین کی ہے، اس کے علاوہ دنیا کی کوئی ذات شفا نہیں دے سکتی۔ مریض کا جتنا ایمان مضبوط ہوگا اسی کے تناسب سے اس کی بیماری میں کمی آئے گی۔ بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد ہی نہیں بلکہ بیماری کا شکار ہونے سے پہلے بھی بندے کو اللہ کی ذات پر توکل رکھنا چاہیے۔
روحانی علاج میں دوسری چیز دعا ہے، اللہ سے شفا کی دعا کرنا مزمن بیماریوں سے شفایابی کا بہترین وسیلہ ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
 وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمنون : آية 60 )
"تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا"۔ اس طرح جب بندے کا ایمان مضبوط ہوتا ہے پھر دل سے دعا نکلتی ہے تو ایک بندے کو دھیرے دھیرے قوت اور صحت حاصل ہونے لگتی ہے۔
روحانی علاج میں تیسری چیز جھاڑ پھونک کا اہتمام کرنا ہے، اور جھاڑ پھونک میں تین شرطوں کا پایا جانا نہایت ناگزیرہے۔ دم عربی زبان میں ہو یا ایسے کلمات سے ہو جس کا مفہوم سمجھ میں آتا ہو، کلام الہی سے ہو، یا اللہ تعالی کے اسماء وصفات سے ہو اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ جھاڑ پھونک بذات خود اثر انداز نہیں ہوتے بلکہ شفا دینے میں محض اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے آئیڈیل ہیں جنہوں نے مختلف بیماریوں میں جھاڑ پھونک کیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس پر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب آپ مرض الموت میں تھے اور تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ کے ہاتھوں کو آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ اس نیت سے کہ آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ برکت والا تھا۔
 روحانی علاج میں تیسری چیز صدقہ وخیرات کا اہتمام کرنا ہے۔ مریض کے لیے بالخصوص ایسا مریض جس کی بیماری لاعلاج ہو صدقہ اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دَاوُوا مَرضاكُمْ بِالصَّدقة  ( صحیح الجامع: 3358)
"صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو"۔ 
اللہ والوں نے ہردور میں اپنی مصیبت اور بیماری سے نجات کے لیے صدقہ و خیرات کیا ہے اور انہیں اس کے جسمانی اور روحانی فائدے بھی حاصل ہوئے ہیں۔ اس لیےاگر آپ نے ہر طرح کے علاج کا تجربہ کرلیا ہے اورعلاج کرتے کرتے  تھک چکے ہیں تو اب صدقہ کے ذریعہ بھی علاج کا تجربہ کریں۔ آپ نے یوں تو بہت صدقہ کیا ہوگا، لیکن ابھی اس نیت سے صدقہ کریں کہ اللہ پاک ہمیں فلاں بیماری سے نجات دے یا ہمارے رشتے دار کو فلاں بیماری سے عافیت عطا فرما۔ اللہ نے چاہا تو اس کا اثر ضرور دیکھیں گے۔
علاج کی دوسری قسم نفسیاتی علاج ہے۔ مریض کی عیادت کے لیے جانا، اس کے پاس بیٹھنا اور اس کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کرنا عجیب طریقے سے بیماری میں کمی لانے کا سبب بنتا ہے۔ مریض اپنے قریبی رشتے داروں کی دیکھ ریکھ اور نگہداشت کا محتاج ہوتا ہے، اور جب لوگ اس کے پاس عیادت کے لیے جاتے اور اس کے غم میں شریک ہوتے ہیں تو اس کی بیماری ہلکی ہونے لگتی ہے۔ اور اسلام نے بیماروں کی عیادت پر ابھارا ہے اور بیمار پرسی کی بیحد اہمیت بیان کی ہے۔  اسی لیے ایک کمزور حدیث میں آتا ہے جس کا معنی صحیح ہے کہ "جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو کچھ درازیٔ زندگی کی بات کرکے اس کا غم دور کرو  کیونکہ یہ گفتگو تقدیر کو رد نہ کرے گی البتہ اس کا دل خوش ہوجائے گا". (سلسلة الأحاديث الضعيفة :184)
اخیر میں ان بھائیوں اور بہنوں کے نام میرا پیغام ہوگا جو کینسر یا اس جیسی کسی دوسری مایوس کن بیماری میں مبتلا ہیں، دنیا سے ان کی امیدیں کٹ چکی ہیں، موت کو قریب دیکھ رہے ہیں، بیماری کی شختی تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے، ایسے بھائیوں اور بہنوں سے ہم کہیں گے کہ آپ اس بیماری میں اللہ اور اس کے رسول کی بشارت قبول کیجیے، کوئی بھی بیماری ایک بندہ مومن کے لیے بھلائی ہی لاتی ہے۔ صحیح بخاري کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 "مسلمان کو کوئی بھی بیماری، تکلیف، تھکاوٹ، غم، پریشانی یا ایذا وغیرہ لاحق ہو یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھ جائے تو اس کے بدلے اللہ تعالی اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے"۔
 اور سنن ابی داؤد کی روایت ہے، ام العلاء رضي الله عنها بیان کرتی ہیں کہ  اللہ کے رسول میری بیماری کی حالت میں میری عیادت کے لیے آئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا:
 "ام علاء تمہیں بشارت ہو، کیونکہ مسلمان کی بیماری کے سبب اللہ تعالی اس کے گناہوں کو ویسے ہی ختم کردیتا ہے جیسے آگ سونا اور چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے"۔
 کینسر کا مریض تو اللہ کا محبوب ہوتا ہے کیونکہ ہمارے آقا نے فرمایا:
يعنی جتنی بڑی مصيبت ہوگی اُتنا ہی بڑا ثواب ملے گا اور اللہ تعالی بندے سے جس قدر محبت کرتا ہے اسی قدر اسے آزماتا ہے۔
اس لیے ہميں سمجھ لينا چاہيے کہ اللہ تعالی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہميں آزماکراپنا مقرب بنانا چاہتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے مصيبت ميں گرفتار کرديتا ہے۔"
 گويا کہ آپ کا مصيبت سے دوچار ہونا آپ کے لئے نيک فال ہے، حب الہی کی علامت ہے۔ بلکہ اس کے بدلے آپ کے لیے جنت کی بشارت ہے۔ کیا آپ نے اس مرگی کی شکار خاتون کا قصہ نہیں سنا جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اپنی بیماری کی شکایت کرتے ہوئے دعا کی درخواست کی تھی توآپ نے اسے فرمایا:
"اگر تم صبر کرو تو تمہارے لیے جنت ہے"۔
اور صبر کرنے والوں کو بے حساب اجروثواب دیا جائے گا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِساب۔
مریض بھائی اور بہن! اس دھرتی پر پیدا ہونے والے لوگوں میں سب سے افضل انبیاء ہیں ان کو سب سے زیادہ آزمایا گیا، کیوں؟ اس لیے کہ آزمائش کے بعد ہی مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ سنن ترمذی کی یہ حدیث سنئے: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الصالحون ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الرجل على حسب دينه فإن كان في دينه صلباً اشتد به بلاؤه وإن كان في دينه رقة ابتلي على قدر دينه فما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشي على الأرض وما عليه خطيئة۔ ( سنن الترمذی: 2398)  
فرمایا: انبیاء علیہم السلام کی، پھر جو ان سے قریب تر ہو، پھر جو ان سے قریب تر ہو، آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، لہذا اگر وہ اپنے دین میں پختہ ہو تو اس کی آزمائش بھی کڑی ہوتی ہے، اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اسے اس کے دین کی بقدر آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، اور آزمائش بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کو ایسا کرکے چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر ایسی حالت میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں رہتا۔
یاد رکھیں کہ مومن خوشی ہو یا غم ہو ہر حالت میں اپنے رب کے فیصلہ سے راضی رہتا ہے کیونکہ اس کا رب اس کے حق میں غلط فیصلہ کیسے کر سکتا ہے۔ آپ یہاں جن نعمتوں سے محروم ہیں یا جن آزمائشوں کے شکار ہیں کل قیامت کے دن ان کے بدلے ایسا اکرام دیکھیں گے کہ دنیا کے صحتمند لوگ اسے دیکھ کر ترسیں گے کہ کاش ہماری کھال بھی کیجیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 "قیامت کے دن جب مصیبت زدہ ثواب سے نوازے جائیں گے (تو یہ دیکھ کر) صحت اور آرام والے خواہش کریں گے کہ کاش! دنیا میں ان کے چمڑے قینچیوں سے کاٹ دیے جاتے (تاکہ آج وہ بھی بڑے ثواب کے حقدار ہوتے)۔ ''
اس لیے صبر سے کام لیں، بکثرت  دعائیں کریں، فرائض و نوافل کا اہتمام کریں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، اگر ممکن ہوسکتا ہو تو صدقہ و خیرات کریں اور ہر حالت میں اللہ تعالی سے حسن ظن رکھیں۔ و صل اللھم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔ 
مکمل تحریر >>

جمعہ, ستمبر 12, 2014

سورہ كہف كا پیغام


قرآن کی سورہ كہف جسے اگر کوئی ہر جمعہ پڑھتا ہے تو اس کے لئے اگلے جمعہ تک ایک نور روشن کر دیا جاتا ہے،  صحيح الترغيب: 736  
اس سورہ میں بنیادی طور پر چار قصوں اور چار قسم کے فتنوں کا ذکر کیا گیا ہے:
(1) غار والوں کا قصہ جس میں دین کا فتنہ پایا جاتا ہے۔
(2) دو باغ والے کا قصہ جس میں دولت کا فتنہ پایا جاتا ہے۔
(3) موسیؑ اور خضر ؑ کا قصہ جس میں علم کا فتنہ پایا جاتا ہے۔
(4) اور ذوالقرنین کا قصہ جس میں بادشاہت کا فتنہ پایا جاتا ہے. 
پھر قصوں کو بیان کرنے کے معا بعد اس کا علاج بھی بتا دیا گیا ہے، مثلا دین کے فتنے سے بچاؤ اچھی صحبت اختیار کرنے اور یوم آخرت کو یاد رکھنے میں ہے. (آیت 28-29)
مال کے فتنے سے بچاؤ دنیا کی حقیقت کو سمجھنے اور آخرت کو یاد رکھنے میں ہے. (آیت 45-46) 
علم کے فتنے سے بچاؤ عاجزی اختیار کرنے اور اپنے علم پر گھمنڈ کا اظہار نہ کرنے میں ہے. (آیت 69) 
اور بادشاہت کے فتنے سے بچاؤ اخلاص و للہیت اور آخرت کو یاد رکھنے میں ہے. (104-103) 
اور سورہ کے اخیر میں ہر طرح کے فتنوں سے بچاو کا خلاصہ یہ بتایا گیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے اور یہ عبادت آخری رسول محمدﷺ کے طریقے کے مطابق ہو اپنی خواہش اور چاہت کے مطابق نہیں. 
مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 03, 2014

سستی اور کسلمندی کا علاج کیوں اور کیسے ؟

سستی اور کسلمندی انسانی سماج کا ایک ایسا مرض ہے جس کے آج زیادہ تر لوگ شکار ہیں. یہ بیماری کسی بھی انسان کے لئے محبوب نہیں ہو سکتی بالخصوص  جبکہ سستی اپنی حد کو پار کر جائے. اگر جسم میں کبھی کبھار سستی آ جاتی ہے تویہ کوئی عیب کی بات نہیں کہ فطری معاملہ ہے کہ جسم کو کبھی کبھی آرام کی ضرورت پڑتی ہے. لیکن عیب کی بات یہ ہے کہ سستی ایک انسان کی شناخت ہی بن جائے. اس سے انسان کی شخصیت متاثر ہوتا ہے اور جب وہ آہستہ آہستہ کاہلی کا عادی بنتا جاتا ہے تو پھر اس کے لئے اس سے چھٹكاڑا پانا بھی بڑا مشکل ہو جاتا ہے.
سست شخص کبھی بھی خود کو کسی مشکل کام کے لئے تیار نہیں کرتا، وہ بہانہ بناتا رہتا ہے کہ یہ کام ہم سے نہیں ہو سکتا، یہ بہت مشکل ہے اور ایسا میں نے کبھی نہیں کیا وغیرہ.
اب سوال یہ ہے کہ کاہلی کا علاج کیوں کر ممکن ہے. اور وہ کون سے وسائل ہیں جن کو اپنا کر ہم سستی سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں؟ آئیے ذیل میں ہم ان کی معلومات حاصل کرتے ہیں:
(1) خود کا سست ہونا قبول کریں:
اگر آپ سستی سے نجات حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تو سب سے پہلے آپ کو ماننا پڑے گا کہ واقعی آپ سست ہیں. پہلا قدم یہ ہے کہ آپ سست ہونے کا اعتراف کریں تاکہ اس کا علاج ڈھونڈ سکیں.
(2) سستی کی وجہ تلاش کریں:
آپ کو خود سے پوچھنا ہے کہ آپ سست کیوں ہیں. کسلمندی کے کچھ ایسے اسباب ہوں گے جنہیں خود آپ ہی جان سکتے ہیں. کھلے دل سے اس کے اسباب کا پتہ لگائیں پھر اس کا علاج شروع کر دیں. آپ کو سوچنا چاہئے کہ سستی کی وجہ کتنے موقع کو آپ نے کھو دیا، اگر اس وقت سستی نہ کی ہوتی تو کس قدر قابل رشک زندگی گزار رہے ہوتے. واضح ہے کہ اس کے لئے آپ جن برے عادات کے عادی ہیں انہیں چھوڑنا ہوگا۔
(3) خود میں عزم پیدا کریں:
آپ کے اندر عزم آجانا چاہئے، زندگی میں اپنا ایک مقصد طے کریں اور اسے حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہیں. اس کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے اپنے لئے چھوٹے چھوٹے اہداف طے کریں، جیسے کوئی کتاب اتنے دنوں میں پڑھ لینا. قرآن کی کوئی چھوٹی سی سورہ یاد کرنا وغیرہ. جب آپ اسے عملی شکل دینے جائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا ہوں انہیں فوری طور اپنے من سے Delete کر دیں. ایک عربی شاعر کہتا ہے:
اذا كنت ذا رأى فكن ذا عزيمة
فإن فساد الرأى أن تترددا
اگر تمہارے پاس کوئی خیال یا مقصد ہے تو عزم رکھنے والے بنو کیوں کہ خیال میں بگاڑ تب آتا ہے جب انسان تذبذب میں پڑ جاتاہے.
(4) اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو لگام دیں:
جو کوئی بھی اپنا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا اور اپنے اہداف کو پانا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو لگام دے، اپنے نفس پر کنٹرول کرے، اگر کسی نے نفس کو بہلانے کی کوشش نہیں کی تو سستی اس کی شناخت بنتی جائے گی. عربی کی ایک کہاوت ہے:
النفس كالطفل إن تهمله شب على
حب الرضاع وإن تفطمه ينفطم
نفس شیرخوار بچے کی طرح ہے کہ اگر تم اس کے تئیں کوتاہی کروگے تو وہ جوان ہو جائے گا پر دودھ پینے کی خواہش نہیں جائے گی، اور اگر اس کا دودھ چھڑاو تو دودھ چھوڑ دے گا.
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے نفس کو لگام دینے کے لئے کوشاں ہوتے ہیں انہیں اللہ کی توفیق بھی ملتی ہے. اللہ نے فرمایا:
والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا (سورة العنكبوت 69 )
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہمارے راستے میں مل کر کوشش کی، ہم انہیں ضرور اپنے راستے دکھائیں گے.   
(5) خورد ونوش میں توازن اپنائيے:
 کبھی کبھی خورد ونوش کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنا بھی سستی کی وجہ بنتا ہے. اس لئے خورد ونوش میں توازن اپنايے، تلي ہوئی اشیاء کی مقدار زیادہ نہ کریں، اور ہمیشہ کھانا محدود مقدار میں لیں، کیوں کہ پیٹ بھرنے سے جسم بھاری ہوتا ہے اور جب جسم بھاری ہوگا تو طبعی معاملہ ہے کہ سستی آئے گی.
(6) سونے میں سیرابی حاصل کریں:
24 گھنٹے میں 8 گھنٹے مسلسل سونے کی عادت ڈالیں، اگر اس سے زیادہ ہوا پھر بھی سستی آئے گی اور اگر اس سے کم ہوا تب بھی بدن میں کسلمندی چھائی رہے گی، سونے جاگنے میں توازن اپنانے کی ضرورت ہے. فجر کے بعد کچھ  وقت نکال کر ہری سبزی پر ٹہلنے کی عادت ڈالیں.
(7) اپنے کاموں کی ایک فہرست بنالیں:
 اپنے کاموں کی ترجیحی بنیادوں پر ایک فہرست بنا لیں، وہ لسٹ آپکے جیب میں ہو یا ٹیبل پر جہاں بار بار اپني نظر جاتی ہو اور آپ اسے دیکھتے ہوں۔
(8) خود کی ایمانی تربیت کریں:
اگر آپ اللہ والوں کی زندگی کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ راتوں کو بہت کم سوتے تھے لیکن اس کے باوجود دن میں بالکل چست رہتے تھے، وجہ یہ تھی کہ ان کا تعلق اپنے رب سے نہایت گہرا اور پختہ تھا، اس لئے اللہ سے آپ کا تعلق مضبوط ہونا چاہئے، اس کے لئے کچھ کام کرنے ضروری ہیں:
ذکر کا اهتمام : سستی اور کاہلی کو دور کرنے میں صبح و شام کے اذکار کلیدی رول ادا کرتے ہیں.
وضو کا خیال رکھیں: اور ہر نماز کے لئے اگر ممکن ہو سکے تو تازہ وضو کریں اور وضو کے بعد دو رکعت نمازپڑھ لیں، اس سے شیطان کا دباؤ کمزور ہوگا.
پانچ وقت کی نمازوں کی مسجد میں حاضر ہوکر اپنے وقت پر پابندی: خاص طور پر فجر کے بعد کا وقت برکت اور بھلائی کا وقت ہے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کو صبح میں برکت دی گئی ہے. صبح کی نماز کے بعد تازہ ہوا لینے سے بہت سے امراض سے نجات ملتی ہے اور بدن میں چستي آتی ہے.
شب بیداری کی عادت ڈالیں کہ رات میں جگ کر نماز پڑھنا جہاں اللہ سے قربت کی علامت ہے تو دوسری طرف یہ جسم سے بیماریوں کو دور کرتا ہے.
اللہ تعالی سے عاجزی اور محبت کے ساتھ دعا کریں کہ اے اللہ ہمیں سستی اور کوتاہی سے بچالے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سستی اور کسلمندی دور کرنے کے لیے ہمیں یہ دعا بھی سكھا دي ہے:
اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، وأعوذ بك من العجز والكسل، وأعوذ بك من الجبن والبخل، وأعوذ بك من غلبة الدين، وقهر الرجال،
اے اللہ، میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر اور دكھ سے، لاچاری اور سستی، بذدلي اور کنجوسی سے، اور لوگوں کے تسلط اور غلبہ سے.
مکمل تحریر >>

ہفتہ, جون 28, 2014

رمضان کا پیغام رجوع الی اللہ


ماہ شعبان ختم ہونے کوہے اوررمضان کی آمدآمدہے ،وہ رمضان جس کے لیے اللہ والے چھ مہینہ پہلے سے تیاری کرتے تھے ،وہ رمضان جس کے لیے صالحین آنکھیں بچھائے رکھتے تھے ،کیوں کہ یہ مہینہ نہایت بابرکت مہینہ ہے ،یہ مہینہ سارے مہینوں کا سردارہے ،جس میں قرآن کا نزول ہوا ،جوروزہ اورقیام کامہینہ ہے ،جس میں بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ،جہنم کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں ،اورسرکش شیاطین قیدکردیئے جاتے ہیں ۔جس کی ہر رات اعلان ہوتا ہے کہ” اے بھلائی کے چاہنے والے آگے بڑھ اور اے برائی کے چاہنے والے پیچھے ہٹ “۔ اوراس کی ہررات اللہ تعالی گردنوں کو جہنم سے آزادی عطا کرتا ہے ۔ (ترمذی ، ابن ماجہ )
یہ مہینہ مغفرت ورحمت اورجہنم سے آزادی کامہینہ ہے ،یہ مہینہ صبروشکیبائی ،مواسات اورغمخواری کامہینہ ہے ،یہ وہ مہینہ ہے جس میں درجات بلند ہوتے ہیں ،نیکیوں کااجروثواب بڑھادیاجاتاہے ،اورگناہوں کاحوصلہ شکنی ہوتی ہے، اس مہینہ میں ایک ایسی رات ہے جوہزارراتوں سے بہتر ہے ،جواس کے خیرسے محروم رہا وہ واقعی محروم ہے ۔(نسائی ، بیہقی ، حسنہ الالبانی )
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ ہم نے اس بابرکت وباعظمت مہینے کے لیے کیاتیاری کررکھی ہے ؟کیاہم نے اس بابرکت مہینے کی آمدسے پہلے اپنے دلوں کاجائزہ لیا؟کیاہم نے اپنے نفس کااحتساب کیا ؟کیاہم نے اپنے آپ پر غور کیاکہ ہم کس حال میں ہیں ؟ اورکیاکررہے ہیں ؟ ایساتونہیں کہ ہم گناہوں میں ملوث ہیں ؟ ایساتونہیں کہ ہم احکام الہی سے بغاوت کررہے ہیں ؟ آخرہم رمضان سے پہلے اپنے مال کاجائزہ کیوں نہیں لیتے کہ وہ حرام کاہے یاحلال کا ؟ اپنی زبان کی خبر کیوں نہیں لیتے کہ اس کا کیسے استعمال ہورہا ہے ؟اپنے کان کی تفتیش کیوں نہیں کرلیتے کہ وہ جائزسنتاہے یاناجائز ؟اپنی نگاہوں کا محاسبہ کیوں نہیں کرلیتے کہ وہ حلال کی طرف دیکھتی ہے یاحرام کی طرف ،
کیاہم نے رمضان کی آمد سے پہلے غور کیا کہ ہمارے تعلقات دوسروں کے ساتھ کیسے ہیں ؟ہم اپنے اہل وعیال کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں ؟ہم اپنے والدین کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں ؟ ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں ؟ہم اپنے تابع کام کرنے والوں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں ؟ کیا ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات ایسے ہی ہیں جیسے اللہ تعالی کوپسند ہے ؟
آج المیہ تویہ ہے کہ رمضان کی آمد سے قبل ایک تاجر اپنے خام مال فروخت کرنے کی تیاری کرتاہے،ایک ملازم اپنی ملازمت میں تن آسانی کے وسائل ڈھونڈتا ہے ،اورایک شہوت پرست شہوت رانی کے اسباب اختیارکرتاہے ،رمضان کایہ بابرکت مہینہ ایک نعمت غیر مترقیہ ہے ،یہ ہمیں پیغام دے رہاہے کہ اے اولاد آدم غفلت سے بازآجاؤ ،اپنی فطرت کی طرف لوٹ آؤ،اب بھی سنبھل جاؤ،اورگناہوں سے توبہ کرلو۔
ظالم ابھی ہے فرصت توبہ نہ دیرکر
وہ بھی گرانہیں جوگراپھر سنبھل گیا
اللہ کی ذات توغفورالرحیم ہے ،وہ توبہ کرنے والوں کوپسند کرتا ہے :ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطہرین(سورة البقرة 222)”بلا شبہ اللہ تعالی زیادہ سے زیادہ توبہ کرنے والوں اورپاک صاف رہنے والوں کوپسند کرتاہے“۔
اللہ تعالی کی شان کریمی دیکھئے کہ اس نے اپنانام ہی” التواب “یعنی بندوں کی توبہ قبول کرنے والا بتایاہے ،چنانچہ فرمایا: واناالتواب الرحیم(سورة البقرة 160) ”اورمیں توبہ قبول کرنے والااوررحم کرم کرنے والاہوں “۔
وہ چوبیس گھنٹے اپنے بندوں کی توبہ کامنتظررہتاہے ،اورصبح وشام اپناہاتھ پھیلاتاہے ،تاکہ معافی کے طلبگار توبہ کرلیں، صحیح مسلم کی روایت ہے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان اللہ یبسط یدہ باللیل لیتوب مسیءالنھار، ویبسط یدہ بالنھار لیتوب مسیءاللیل حتی تطلع الشمس من مغربہا”اللہ تعالی رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو برائی کرنے والا(رات کو)توبہ کرلے اوردن کوپھیلاتاہے تاکہ کوگناہ کاارتکاب کرنے والا (دن کو)توبہ کرلے (یہ سلسلہ اس وقت تک جاریرہے گا )جب تک سورج غروب سے طلوع نہ ہو “۔(صحیح مسلم 2759)
وہ اپنے گنہگار بندوں کو رحمت وشفقت بھرے لہجے میں پکارتاہے : قل یعبادی الذین أسرفواعلی أنفسھم لا تقنطوا من رحمة اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا انہ ھوالغفورالرحیم وأنیبوا الی ربکم وأسلموا  لہ من قبل أن یاتیکم العذاب ثم لاتنصرون(الزمر53 54)
 ”اے میرے وہ بندو!جواپنی جانوں پر زیادتی کربیٹھے ہو ،اللہ کی رحمت سے ہرگزمایوس نہ ہونا ،یقینااللہ تمہارے سارے گناہ معاف فرمادے گا،وہ بہت ہی معاف فرمانے والا اورنہایت مہربان ہے،اورتم اپنے رب کی طرف رجوع ہوجاؤاوراس کی فرمانبرداری بجالاؤ اس سے پہلے کہ تم پر کوئی عذاب آجائے اورپھرتم کہیں سے مددنہ پاسکو“۔
رب کریم کی رحمت انسانی تصورسے بالاترہے ،سمندرکے چھاگ سے زیادہ گناہ کرنے والا بھی جب اپنے گناہوں پر شرمسار ہوکر اس کے سامنے جھکتاہے تواللہ تعالی اس کی بات سنتاہے اوراسے اپنے دامن رحمت میں پناہ دیتاہے ۔
سنن ترمذی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : قال اللہ تعالی یاابن آدم انک مادعوتنی ورجوتنی غفرت لک علی ماکان منک ولا أبالی، یاابن آدم لوبلغث ذنوبک عنان السما ، ثم استغفرتنی غفرت لک ولاابالی، یاابن آدم ،انک لوأتیتنی بقراب الارض خطایاثم لقیتنی لاتشرک بی شیئا لأتیتک بقرابھا مغفرة (ترمذی 3540 والجامع الصغیر 6065 ) ”اللہ تعالی فرماتاہے ،اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتارہے گا اورمجھ سے امید وابستہ رکھے گا تو توجس حالت پر بھی ہوگا میں تجھے معاف کرتا رہوں گا اورمیں کوئی پرواہ نہیں کروں گا ،اے ابن آدم !اگرتیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے معافی طلب کر تو میں تجھے بخش دوں گا اورمیں کوئی پرواہ نہیں کروں گا ،اے ابن آدم !اگرتوزمین بھر گناہوں کے ساتھ میرے پاس آئے ،پھرتومجھے اس حال میں ملے کہ تونے میرے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرایاہو ،تومیں بھی اتنی مغفرت کے ساتھ تجھے ملوں گا جس سے زمین بھرجائے “۔
اورپچھلی قوم کاوہ شخص جس نے ننانوے خون کیاتھا ،پھرراہب کوقتل کرکے سوافرادکا قاتل بن چکا تھا ،اس کے پاس کوئی بھی نیک عمل نہیں تھا لیکن تائب ہوکر نیک لوگوں کی بستی میں جارہاتھا تاکہ ان کے ساتھ عبادت میں لگ سکے ،راستے میں موت کاپیغام آپہنچا ،رحمت اورعذاب کے فرشتے باہم جھگڑنے لگے کہ ہم روح قبض کریں گے تو ہم روح قبض کریں گے لیکن صرف احساس گناہ اورغلطی پر شرمسار ی کے باعث رحمت الہی کامستحق ٹھہرا اوررحمت کے فرشتے نے اس کی روح قبض کی ۔(صحیح مسلم 2766)
توبہ کادروازہ کھلاہے اللہ تعالی کے سامنے اپنے گناہوں کااعتراف کیجئے صرف اسی کے سامنے اپنی عاجزی ،بے کسی اورخطا کاری کااظہار کیجئے کیوں کہ فوزوفلاح کاایک ہی دروازہ ہے ،جواس دروازے سے دھتکاراگیاوہ ہمیشہ کے لیے ذلیل اورمحروم ہوگیا،پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سرورکائنات ہوتے ہوئے بھی اسی درکے بھکاری تھے ،انہیں جوعظیم مرتبہ ملاتھا اسی درسے ملاتھا ،ذراانہىں دیکھئے تو سہی کیافرمارہے ہیں :یاایھاالناس توبوالی اللہ واستغفروہ فانی أتوب الی اللہ وأستغفرہ فی کل یوم مائة مرة (مسلم 2702) ”اے لوگو! اللہ کی طرف توبہ کرواوراس سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرومیں بارگاہ الہی میں روزانہ سومرتبہ توبہ کرتاہوں “۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ تعالی اپنے بندے پرجس قدر رحیم وشفیق ہے اس قدر ایک ماں بھی اپنے بچے پررحیم وشفیق نہیں ہوتی ،آپ کے توبہ واستغفار سے اللہ تعالی کو جوخوشی نصیب ہوگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کیفیت کوایک مثال کے ذریعہ واضح کردیا ہے ،ایک شخص لق ودق صحرامیں اونٹ پرسوارہوکر سفرکررہاہو ،کچھ دیرکے لیے ایک درخت کے نیچے آرام کی خاطر لیٹ جاتا ہے ،نیندسے بیدارہوتاہے کہ اونٹ جس پر اس کے خوردونوش کاسامان لداہواتھا غائب ہوچکاہے ،وہ شخص چاروں طرف اس بے آب وگیاہ صحرامیں اونٹ کوڈھونڈڈھونڈ کرمایوس ہوجاتاہے ،پھروہ زندگی سے بے آس ہوکر کسی درخت کے نیچے موت کے انتظار میں لیٹ رہتاہے ،وہ شخص اسی فکرمیں تھا کہ اچانک اونٹ آپہنچتا ہے جس پر ساراسامان لداہواہے ،اب تصور توکرىں کہ اس کو کیسی خوشی نصیب ہوگی ۔(صحیح مسلم 2747 صحیح الجامع 5030)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مثال دیکر فرمایاکہ بندہ جب توبہ کرتاہے تواللہ تعالی کواس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی خوشی زندگی سے مایوس اس شخص کواپنااونٹ دیکھ کر اورپاکرہوسکتی تھی ۔
لہذا ہمارے وہ بھائی اوربہن جواب تک گناہوں کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ،توبہ واستغفار کے ذریعہ رمضان کااستقبال کریں ،سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی کے خواہاں ہوں ،سارے گناہوں سے چھٹکاراحاصل کریں ،جس کاطریقہ یہ ہے کہ تنہائی میں بیٹھ کرکاغذاورقلم ہاتھ میں لیں ،اپنے سارے گناہوں کودرج کریں ،پہلے کبیرہ گناہوں کی فہرست بنائیں ،اس کے بعد صغیرہ گناہوں کی ،تاکہ آپ کوحقیقی معنوں میں اندازہ ہوجائے کہ آپ کتنے گناہوں میں ملوث ہیں ،پھرپہلے کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ کی کی نشاندہی کریں اوراس گناہ کے اسباب کی تشخیص کریں کہ آخرکونسی چیزاس گناہ کے ارتکاب کاباعث بن رہی ہے ،ایساتونہیں کہ اس کاسبب فرصت وبیکاری ہے یانفسانی خواہشات یا برے دوستوں کی رفاقت،یاشیطانی وساوس ،ان اسباب میں سے جوسبب بھی آپ کے گناہ میں ملوث ہونے کاباعث بن رہاہوسب سے پہلے اس سے چھٹکاراحاصل کرنے کی کوشش کریں ،اوراس گناہ کاکوئی متبادل مباح وسیلہ بھی اختیار کریں پھرگناہ سے رہائی پانے کی مدت کابھی تعین کرلیں، اس طرح آپ دھیرے دھیرے حسب ترتیب سارے گناہوں سے چھٹکاراحاصل کرسکتے ہیں ۔
مکمل تحریر >>