ہفتہ, مئی 10, 2014
بالآخر وہ داعی بن گئی
تحرير:
Safat Alam Taimi
فضیلة الشیخ نبیل
العوضی
وہ
ایک عیسائی خاتون تھی، اس نے اپنی ایک مسلمان سہیلی جو اسلامی اخلاق کی پابند تھی
کو عیسائیت کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا،لیکن خود مسلم سہیلی کے اخلاق اور کردار سے
اس قدر متاثر ہوئی کہ اس کے دین کو گلے لگالیا ۔
کہتی ہے : ”میں اپنی سہیلی کے اخلاق سے بیحد
متاثر ہوئی اوراسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیالیکن اہل خانہ کا خوف مجھے کھائے
جارہا تھا جس کی وجہ سے اسلام کا اعلان تو نہ کیا تاہم دل میں اسلام چھپائے رکھی ۔ “
ملازمت کے غرض سے کویت آئی تو مجھے IPCکا پتہ چلا جس نے خواتین
کے لیے باضابطہ الگ سے خاص شعبہ قائم کر رکھا ہے جو نو مسلم خواتین کی دینی
،اجتماعی اور نفسیاتی تربیت کا اہتمام کرنے کے ساتھ غیرمسلم خواتین کو اسلام کی
طرف دعوت دینے میں ہمہ وقت مشغول ہے ۔
میں بیتابانہ
IPCپہنچ
گئی تاکہ اسلام سیکھ سکوں،کلاس میں حاضر ہوکر اسلام کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے
لگی،بالآخر اس قابل ہوگئی کہ اپنے اہل خانہ کو اسلام کی طرف دعوت دے سکوں، چنانچہ
میں نے اپنی ماں، اپنی بہن اور گھر کے افراد کو اسلام کی دعوت دی اور الحمدللہ
انہوں نے اسلام قبول بھی کر لیا ….کیاآپ جانتے ہیں….میں اسلام میں کیسے آئی ؟
سہیلی کے اخلاق اورکردار کی بنیاد پر
جی ہاں! ہمارا دین‘ اسلام حسن اخلاق کا پیکر
ہے،اللہ کے رسول ا نے فرمایا: انما بعثت لأتمم مکارم الاخلاق ” مجھے اس لیے بھیجا
گیا ہے تاکہ مکارم اخلاق کی تکمیل کردوں “۔ ہم لوگوں سے عمدہ اخلاق، اچھے رویہ سے
معاملہ کرتے ہیں، انہیں دل پذیر اسلوب میں اسلام کی دعوت دیتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے
فرمایا: ”آخراس شخص کی بات سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جس نے اللہ کی طرف
بلایا،نیک عمل کیا اورکہا کہ میں مسلمان ہوں“۔
فی الواقع اس خاتون کا
معاملہ عجیب ہے ….اس نے اپنی مسلمان سہیلی کو دین کی دعوت دینے کے لیے پلاننگ کی
جبکہ کتنے ایسے مسلمان ہیں جو اسلام کو وراثت میں ملی ہوئی جائداد سمجھ رہے ہیں،
کبھی انہیں توفیق نہ ہوئی کہ غیرمسلموں کو اسلام کی آفاقی تعلیمات سے روشناس
کرائیں ۔
وہ ایک عیسائی خاتون تھی، اس نے اپنی ایک مسلمان سہیلی جو اسلامی اخلاق کی پابند تھی کو عیسائیت کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا،لیکن خود مسلم سہیلی کے اخلاق اور کردار سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اس کے دین کو گلے لگالیا ۔
جمعہ, مئی 02, 2014
آپ اعتدال پسند نہیں
تحرير:
Safat Alam Taimi
سوشل میڈیا فیس بک پر"حرف
اعتدال" نام کے ایک صارف نے مندرجہ ذیل تبصرہ کیا ہے:
بعض جانوروں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بڑےلاڈ پیار سے پالتے ہیں اور پھر ایک دن اسے کھا جاتے ہیں،انسانوں میں بھی ایسے درندے پائے جاتےہیں جن کی خبریں اخبارات میں آتی رہتی ہیں۔ادارے بچوں کے مانند ہوتے ہیں اور بانیان ان کے ماں باپ۔وہ بانی کس قدر بد نصیب ہوگا جس نے زندگی کا سارا سرمایہ اس ادارے کو سینچنے میں صرف کردیا ہو لیکن اپنی بے بصیرتی اورحماقت پر مبنی فیصلوں کی وجہ سے اپنےحین حیات اس ادارے کو زوال کے دلدل میں دھکیل دیا ہو اور اس کا مشاہدہ کے باوجود احساس زیاں نہ ہو۔کیا یہ اپنے بچوں کو خود کھانا نہیں ہے ۔دینی اداروں کا یہ بہت بڑا المیہ ہے ۔اللہ بانیوں اور موسسین کو بصیرت اور چشم بینا دے۔آمین
حرف اعتدال صاحب ! آپ جو
بھی ہوں، تاہم اعتدال پسند نہیں ،آپ کا تبصرہ تعصب پر مبنی ہے ،بانیان کو کوسنے سے
پیشتر اگر اپنے دامن میں جھانک لیے ہوتے کہ ہماری ذات سے اب تک قوم کو کیا فائدہ
پہنچا ہے تو میں سمجھتاہوں زبان اس قدر لمبی نہ ہوتی ، انسان کو حق کا ساتھ
دینا چاہیے ۔ خامیوں کو کریدنے کی بجائے خوبیوں پر نگاہ رکھنی چاہیے ، اگر آپ کسی ادارے سے فارغ ہیں تو
یاد کریں اس ادارے کے ذمہ دار کو جس نے آپ کو ہر طرح سے سکون فراہم کیا، علمی
ماحول عطاکیاجس میں آپ نے اپنی جہالت کا علاج کیا اور جینے کا سلیقہ سیکھا ، اگر
کسی کے اندر یہ احساس پیدا ہو جائے تو وہ قطعا ”اپنے بچوں کو خود کھانے “ کی
اصطلاح وضع نہیں کرسکتا ۔بلکہ وہ بے حس ہوگا جو اس طرح کی بات کرے گا ۔
ہمارے سامنے مادرعلمی کی
خدمت سے پہلے اپنا مفاد ہوتا ہے جس کی قربانی کے لیے چنداں تیار نہیں ہوتے اور جب
تبصرے کی بات ہوتی ہے تو سوشل میڈیا پر لمبے چوڑے تبصرے کرتے ہیں ،کیا ہماری ذمہ
داری نہیں تھی کہ ہم آگے بڑھ کر مادرعلمی کی خدمت کے لیے تیار ہوں، بس اپنی
’انا‘کا مسئلہ ہے اورکچھ نہیں ۔ اخیرمیں ہم آپ سے گذارش کریں گے کہ براہ کرام اس
قبیل کا تبصرہ فیس بک پر نہ کریں ۔
جمعرات, مئی 01, 2014
شیخ ارشد بشیر مدنی اور ان کی اہلیہ کے خطابات کویت میں
تحرير:
Safat Alam Taimi
اسلام ہی عالمی دین ہے
اورابدی بھی : شیخ ارشد بشیر مدنی
آسک اسلام پیڈیا کے بانی
اور سرپرست اورہندوبیرون ہند کے مختلف ٹی وی چینلوں پر ظاہر ہونے والے معروف عالم
دین شیخ ارشد بشیر مدنی کی کویت تشریف آوری کے موقع سے مختلف کمیٹیوں نے ان کے
تربیتی اور دعوتی پروگرام رکھے ، اور کویت میں اپنے دس روزہ قیام کے دوران مختلف
سرکردہ شخصیات اورکمیٹیوں کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کیں ۔ شانتی سندیشم ٹرسٹ کے
زیراہتمام11اپریل کو بروزجمعہ مالیہ کی مسجد یوسف العدسانی میں ”اسلام ہی عالمی
دین ہے اور ابدی بھی “ کے موضوع پر آپ کا عام خطاب ہوا ،جس میں آپ نے فرمایاکہ
اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جس کی تعلیم ہر زمانے اورہرجگہ کے لیے بالکل مناسب
اورقابل عمل ہے ۔17 اپریل کو IPC کے ٹائز سینٹرمیں دعاة اورداعیات کے لیے ”اسالیب دعوت “ کے موضوع
پر ایک پروگرام رکھا گیاجس میں آپ نے اپنے تجربات کی روشنی میں عیسائیوں اورہندوؤں
میں دعوت کے طریقہ کار کی وضاحت فرمائی ،اخیر میں آپ نے حاضرین کے سوالات کے تشفی
بخش جوابات دئیے ۔ اس پروگرام میں تقریبا70 دعاة اورداعیات نے شرکت فرمائی ۔کویت
میں قیام کے دوران مالیہ کی مسجد یوسف العدسانی اورصباح السالم کی مسجد صالح
الکندری میں آپ کے دو جمعہ کے خطبات ہوئے ،اس کے علاوہ فحاحیل اورسالمیہ میں آپ کے
عوامی خطابات ہوئے ۔
شیخ ارشد مدنی کی
اہلیہ نسرین فاطمہ کے خطابات کویت میں
شیخ ارشد بشیر مدنی کی
اہلیہ بہن نسرین فاطمہ خواتین کے بیچ ایک سنجیدہ اورتجربہ کارسپیکر کی حیثیت سے
معروف ہیں اورشیخ مدنی کے ساتھ زی سلام ٹی وی پردینی پروگرام میں شرکت کرچکی ہیں،
یوٹیوب پر آپ کے مختلف بیانات موجود ہیں،آپ کی کویت آمد کی مناسبت سے خواتین کے
لیے کویت کے مختلف علاقوںمیں مختلف پروگرام رکھے گئے، فحاحیل میں برادرم بلیغ صاحب
کے زیرانتظام چار دن کا ٹریننگ کورس رکھاگیا جس میں تقریبا40 خواتین شریک ہوئیں ،
یہ چار دن کا کورس تھا جو چار مختلف موضوعات کے تحت ہر روز صبح میں چار گھنٹے تک
چلتا رہا ، دعوت کے اسالیب، اولاد کی تربیت،نماز اوراس کے فوائد اور توحید کی
اہمیت وفضیلت اورمعاشرے پر اس کے اثرات جیسے اہم موضوعات پر بہن نسرین فاطمہ نے
خواتین کو خطاب کیا ۔ مالیہ کی مسجد مرزوق البدر میں اولاد کی تربیت کے موضوع
پرعلیحدہ پر وگرام منعقد ہوا جس میں 60 سے زائد خواتین نے شرکت فرمائی، آپ نے اپنے
لیکچر میں تربیت اولاد کی اہمیت اوراس کے تئیں والدین کی لاپرواہی سے متعلق گفتگو
کرتے ہوئے کچھ رہنما اصول کی وضاحت فرمائی جن کی روشنی میں ہماری اولاد نیک
اوربلندکردار کی حامل بن سکتی ہے ۔ IPCکے سالمیہ برانچ میں خواتین کے لیے آپ کے دو دروس ہوئے ،اسی طرح فلپینی شعبہ KPCC میں خواتین کے لیے
18 اپریل کوجمعہ کی شام ”قرآن اور ماڈرن سائنس“ کے موضوع پرآپ کا ایک لیکچر ہوا جس
سے فلپینی خواتین نے استفادہ کیا ۔

