ہفتہ, مارچ 22, 2014

قرآن کریم کی عظمت ، خصوصیت اور آفاقیت


دنیا میں ایک ایسی کتاب پائی جاتی ہے جو سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ہے لیکن اس کامصنف کوئی انسان نہیں ،اس کااسلوب انسانی اسلوب سے بالاترہے ۔اوراس کاپیغام سارے انس وجن کے لیے ہے ۔کیاآپ اس کتاب کوجانتے ہیں ؟ یہ کونسی کتاب ہے ؟ یہ دراصل قرآن کریم ہے ، جواللہ کاکلام ہے ،مالک دوجہاں کی بات ہے ،جس کوایسے نبی کے قلب اطہرپراتارا گیا جوانسانیت میں سب سے افضل ہیں ،جسے اتارنے کے لیے ایسے فرشتے کاانتخاب عمل میں آیا جو سیدالملائکہ ہیں ،جس کانزول ایسی سرزمین پرہواجوساری زمینوں سے افضل ہے ۔اورایسے مبارک مہینے میں ہوا جوسارے مہینوں سے افضل ہے اورایسی شب میں ہوا جو ہزارمہینوں سے افضل ہے ۔
قرآن کریم کی عظمت ورفعت کاکیاکہناکہ یہ فائنل اتھارٹی ہے ،اس سے آگے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ،اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن جگہ جگہ اپنی عظمت کااظہار کرتا ہے جیساکہ کہا:
بل ہو قرآن المجید فی لوح محفوظ(سورة البروج 21۔22)
 ”بلکہ یہ قرآن ہے بڑی شان والا، لوح محفوظ میں (لکھا ہوا) “یعنی اس کتاب کاتعلق زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے اورآسمان کی بلندیوں سے ہے ،اسے معمولی کتاب مت سمجھو ۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپناکلام ہمارے ہاتھوں میں دے دی ہو ۔اس کلام کی عظمت یہ ہے کہ اگراسے پہاڑوں پراتاراجاتاتووہ پھٹ جاتے ،شق ہوجاتے، سورہ حشرکی اس آیت پرغورکیجئے :
لوأنزلناھذا القرآن علی جبل لرأیتہ خاشعا متصدعا من خشیة اللہ وتلک الأمثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون (سورة الحشر 22)
” اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وہ پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور وفکر کریں۔“
 قرآن کہتا ہے کہ اگریہ کتاب پہاڑوں پر نازل کی جاتی تویہ شق ہوجاتے ،جھک جاتے ،ان کی بلندیاں باقی نہ رہتیں ۔اب یہی کتاب انسانوں کودی گئی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کی عظمت کوسمجھے ۔
عزیز قاری ! دنیاکی ساری مذہبی کتابوں میں صرف قرآن کریم کویہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہ مکمل طریقہ سے محفوظ ہے ،اس کے الفاظ وہی ہیں ،جواللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے تھے ،اس کے لفظ میں بھی نہ کوئی کمی واقع ہوئی ہے اورنہ زیادتی ہوئی ہے،قاری کوکتاب کھولتے ہی یقین دلایاگیاہے کہ
 ذلک الکتاب لاریب فیہ (سورة البقرہ 1)
اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کو راہ دکھانے والی ہے ۔ دنیاکی یہ واحد کتاب ہے جو اپناآغاز اتنے پرزوردعوے سے کرتی ہے ،اورقاری کو یہ باورکراتی ہے کہ اس کی جملہ تعلیمات خالص علم کی بنیاد پرہے،اس میں ظن وتخمین کاادنی شائبہ بھی نہیں پایاجاتا۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم پرجیسے جیسے قرآن اترتاکاتبین وحی آپ کے اشارے پرفورااسے لکھ لیتے ،پھرآپ اسے سنتے اوراپنے اصحاب کویاد کراتے ،اس طرح آپ کی وفات سے پہلے پہلے قرآن کریم پوری طرح محفوظ کرلیا گیا،تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں جب قرآن کی سرکاری نقلیں اسلام کے مرکزی مقامات پربھیجی گئیں، ان
 میں سے دو نسخے آج بھی موجود ہیں، ایک تاشقند میں اوردوسرے استنبول میں ۔
ہردورمیں قرآن کریم کے لاکھو ں ایڈیشن چھپے ہیں اورآج بھی دنیا کے ہرملک میں چھپ رہے ہیں ،ہندوستان میں چھپ رہے ہیں ،پاکستان میں چھپ رہے ہیں ،عرب میں چھپ رہے ہیں ،امریکہ ویورپ میں چھپ رہے ہیں ،لیکن دنیامیں کہیں بھی چھپنے والے کسی بھی نسخہ میں ایک لفظ بلکہ ایک شوشہ کافرق آپ نہیں پائیں گے ۔
اورایسا کیوں نہ ہوجبکہ خود اللہ رب العالمین نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحافظو ن (سورحجرآیت نمبر9)
 ”ہم ہی نے قرآن کواتاراہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔ اسی لیے ایک عیسائی دانشور مسٹرولیم میورکہتا ہے : ”دنیامیں قرآن کے علاوہ کوئی ایسی مذہبی کتاب نہیں پائی جاتی جس کاحرف اوراسلوب بارہ صدی گذرنے کے باوجودمکمل طریقے سے محفوظ ہو “۔
یہ کتاب انسانی زندگی کے جملہ شعبہ حیات پرروشنی ڈالتی ہے ،اس میں انسانی زندگی کی روحانی ،معاشی،اجتماعی،سیاسی،اورمعاشرتی سارے امور سے متعلق تعلیمات موجود ہیں ، اس میں مواعظ واحکام، اخبار و امثال، انذار و بشارت اورصفات الہیہ کابیان بھی ہے ۔
عزیزقاری! قرآن کریم دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے،روئے زمین پرہرجگہ روزانہ پانچ مرتبہ انفرادی اوراجتمائی نمازوں میں اس کی تلاوت کی جاتی ہے ، اورنمازسے باہر بھی لوگ اجروثواب کے حصول کے لیے اس کی تلاوت کرتے ہیں ، دنیاکی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہ تھی اورنہ آج ہے کہ اتنی ضخیم کتاب ہردورمیں ہزاروں اورلاکھوں افراد کے سینوں میں محفوظ ہو اوراسے بے تکلف ازاول تاآخرسناسکتے ہوں۔آج بھی اسے آٹھ دس سال کے بچے بآسانی یاد کرلیتے ہیں ۔ قرآن کے علاوہ کوئی کتاب نہیں جسے باربار پڑھنے کادل چاہتا ہو ،قرآن کی تلاوت سے شوق تلاوت کومزیدتازیانہ لگتاہے ،تلاوت کرنے والے کو ہربارایک نئی کیفیت ،ایک نئی جاذبیت،ایک نئی چاشنی،ایک نیالطف،ایک نیامزہ اورایک نیاسرورحاصل ہوتاہے ۔جب کہ دوسری کتابوں کے باربارمطالعہ کرنے سے طبیعت میں اکتاہٹ پیداہوجاتی ہے ۔
 قرآن کریم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ پچھلی کتابوں کی تصدیق کرتاہے اوران کتابوں میں جوتبدیلی واقع ہوئی ہے اسے کھول کھول کربیان کرتاہے ۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
 وأنزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب ومھیمنا علیہ (سورہ المائدہ آیت نمبر48)
”اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھی یہ کتاب اتاری ہے جواپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اوران کی محافظ ہے “۔ یعنی ان کتابوں میں جوتبدیلی واقع ہوئی ہے ان کی بھی نشاندہی کرتاہے ،اس لیے قرآن کا فیصلہ ہی ناطق ہوگا اور کیوں نہ ہوجبکہ اس کانزول ہی پوری انسانیت کے لیے ہواہے ،اس کاخطاب پوری انسانیت سے ہے ،قرآن کریم”اے قریش“یا”اے عرب والو!“کہہ کرخطاب نہیں کرتابلکہ ”یا أیھاالناس“ اے انسانو! اے لوگو! کہہ کراپنی دعوت لوگوں کے سامنے پیش کرتاہے ،قرآن کریم جس رب کی طرف بلاتاہے ،وہ سارے جہاں کاپروردگارہے ، قرآن کریم کی پہلی سورہ کی پہلی آیت پرغورکریں :
الحمد للہ رب العالمین (سورة الفاتحة 1)
 ”تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کارب ہے “ خود قرآ ن کریم کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 
تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا(سورہ الفرقان آیت نمبر۔1)
”برکتوں والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پرفرقان نازل کیاتاکہ وہ تمام جہانوں کوڈرانے والاہو“ اورسورہ یوسف آیت نمبر104۔سورہ ص آیت نمبر87۔اورسورہ تکویرآیت نمبر28۔میں فرمان عالی ہے:
 ” إن ھو الا ذکرللعالمین “
یہ قرآن کریم تو پوری دنیا کے لیے نصیحت ہے ۔یہ صرف قرآن کی خوبی ہے کہ اس کاپیغام پوری انسانیت کے لیے ہے ،یہ عرب کے لیے بھی ہے ،عجم کے لیے بھی ،ایران کے لیے بھی ہے،اورہندوستان کے لیے بھی ،روم کے لیے بھی ہے اوریونان کے لیے بھی ،امریکہ کے لیے بھی ہے ،اورافریقہ کے لیے بھی ،یورپ کے لیے ہے اورایشیاکے لیے بھی ،غرضیکہ ہرملک ہرقوم اورہرانسان کے لیے ہے ۔
مکمل تحریر >>

نہ کرو ان کو تم کبھی ناخوش

وه انسانی ہستی جوہم سب کے وجودکا ظاہر ی سبب بنی ،جنہوں نے معمولی پانی کے ایک قطرہ سے لیکر جوان ہونے تک ہمارا خیال رکھا وہ مبارك ہستی ہمارے والدين ہیں، وہ ماں جو نومہینے تک ہمیں اپنے پیٹ میں اٹھائے رکھی، زچگی کی تکلیفیں برداشت کیں، رضاعت کی پریشانیوں کو جھیلا، ہماری خاطر اپنے آرام کوقربان کیا ،راتوں کی نیند اوردن کے سکون کوتج دیا ،ہماری خوشی کو اپنی خوشی سمجھا اورہمارے غم کواپناغم خیال کیا ، ٹھنڈی ،گرمی اوربیماری میں ہماری حفاظت کی، ہمارے ہرناز ونخرے برداشت کرتی رہی اورہروقت ہمیں اپنی آنکھوں میں بسائے رکھی ۔پھروہ باپ جوصرف ہماری خاطر جسم وجان کی پرواہ کئے بغیر محنت کرتارہا ،پردیسی زندگی اختیار کی ،آرام وراحت کوقربان کیا،ہماری ہرفرمائش پوری کرتا رہا ،ہماری تعلیم وتربیت کابندوبست کیا ،اورہمارے بہتر مستقبل کاخواب دیکھتا رہا ،یہاں تک کہ آج ہم ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوگئے ۔

کیا ہم میں کا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کے احسانات کا بدلہ چکا سکتا ہے ، واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص جس قدربھی والدین کی خدمت کرلے ،ان کواپنی آنکھوں میں بسائے رکھے ،لیکن ان کاحق ادانہیں کرسکتا ،امام بخاری نے الادب المفرد میں بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما نے ایک یمنی کو دیکھا کہ اپنی ماں کوپیٹھ پراٹھائے ہوئے خانہ کعبہ کاطواف کرارہاہے۔جب اس نے حضرت عمررضی اللہ عنہماکو دیکھا توکہا : یا ابن عمر أتر أنی جزیتھا ”ابن عمر !آپ کاکیاخیال ہے ،کیامیں نے اپنی ماں کے احسانات کابدلہ چکادیا“آپ نے اس شخص کی بات سن کرفرمایا :

ولا بزفرة واحدة

 ”ان کاحق اداکرناتودرکنار ان ( کے دردزہ ) کی ایک سانس کے برابربھی بدلہ نہ چکاسکے “۔یعنی تجھے جننے میں ان کوجو پریشانی ہوئی تھی اوراس وقت انہوں نے جوسانس لیا تھا اُس کی ایک سانس کا بھی تم بدلہ نہ چکا سکے ۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک انسانی فطرت کی آواز ہے ،اس پر سارے آسمانی مذاہب کااتفاق ہے ، یہ ایمان کی صداقت ،دریادلی اوروفا داری کی دلیل ہے ،اس میں احسان شناسی اورفضل وکرم کابھرپور اعتراف پایاجاتاہے ۔ البتہ اسلام کویہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے ماں باپ کے آداب وتسلیمات کے لیے سال میں کوئی خاص دن مقرر نہیں کیا کہ جس دن بچے اوربچیاں اپنی ماؤں کوگلاب کا پھول پیش کریں ،اوربس بلکہ اسلام نے ہروقت ہرآن اورہرلمحہ والدین کو اپنی آنکھوں میں بٹھائے رہنے کی تاکید کی،اسلام نے ماں باپ کو جو مقام ومرتبہ دیاہے اس سے یقینا دوسرے مذاہب کا دامن خالی ہے ،اسلام میں اللہ کے حق کے بعد سب سے زیادہ حق ماں باپ ہی کاہے ،ماں باپ کے حق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ قرآن کریم نے جگہ جگہ ماں باپ کے حق کواللہ کے حق کے ساتھ بیان کیاہے ،اورشکرگزاری کی تاکید کے ساتھ ماں باپ کی شکرگزاری کی تاکید کی ہے ،چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا: 

وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا  إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ، وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا  (بنی اسرائیل آیت نمبر 23-24)

”اورآپ کے رب نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اوروالدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ،اگران دونوں میں سے ایک یادونوں تیرے سامنے بڑھاپے کوپہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو ،نہ انہیں جھڑکو ،ان سے نرم لہجے میں ادب واحترام سے بات کرو ،ان کے سامنے رحم دلی سے عاجزی کے ساتھ اپنابازوجھکائے رکھو ،اوریہ کہو ”اے میرے رب !ان دونوں پررحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی “

یہ ہے والدین کی اطاعت کے تعلق سے قرآن کااسلوب بیان !آیت کریمہ میں بڑھاپے کاجو خصوصی ذکر کیاگیاہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عمر میں ماں باپ مختلف عوارض کے شکار ہوجاتے ہیں ،ان کی عقل وفہم جواب دینے لگتی ہے ،پھران کے مزاج میں بھی تلخی آجاتی ہے ،معمولی معمولی بات پربک بک کرنے لگتے ہیں ،ایک طرف تووہ خدمت کے محتاج ہوتے ہیں تودوسری طرف ا ن کے انداز اوراسلوب میں سختی پیداہوجاتی ہے ،ایسے وقت میں انسان کو اس کابچپنا یاد دلایاگیا کہ کبھی تم بھی خدمت کے محتاج تھے ،تیرے ماں باپ نے تیری گندگی کوصاف کیا تھا ،تیرے نازونخرے برداشت کئے تھے ،اپنے خون پسینے کی کمائی کو تجھ پرلٹایاتھا،اب جب کہ وہ خدمت کے محتاج ہیں ،توعقل وشرافت کاتقاضا ہے کہ ان کے سابق احسان کابدلہ اداکرو ، ذراقرآن کے اسلوب پرغورکریں :”فلاتقل لھما اف “ یعنی کسی بات پر ان کو جھڑکنا تودرکنار ان کے مقابلہ میں زبان سے ”ہوں“بھی نہ کرو ،بلکہ نہایت نرمی ومتانت سے ادب واحترام کے ساتھ بات کرو ۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالی نے انسانوں کواس کی خاص وصیت فرمائی چنانچہ ارشاد ہوا :

ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا (سورة العنکبوت آیت نمبر8)

 ”ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کی وصیت کی ہے “ ایک انسان وصیت اسی چیز کی کرتاہے ،جس کی اہمیت اس کی نگاہ میں زیادہ ہوتی ہے ،اورجب یہ وصیت رب کائنات کی طرف سے ہوتواس کی اہمیت کااندازہ آپ خود لگاسکتے ہیں ۔بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ”أی العمل احب الی اللہ“ کون ساعمل اللہ تعالی کوسب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:الصلاة علی وقتھا نماز کی بروقت ادائےگی، پوچھا : اس کے بعد ، آپ نے فرمایا: بر الوالدین یعنی ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا،انہوں نے پوچھا ،اس کے بعد کون ساعمل اللہ کوپیاراہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔گویاکہ پنچوقتہ نمازوں کے بعد دوسرافریضہ جوبندہ مومن پرعائدہوتاہے ،وہ والدین کے ساتھ حسن سلوک ہی ہے ،یہاں تک کہ جب ایک صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد وہجرت پربیعت کرنے کے لیے حاضرہوتے ہیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جہاد سے بہتر عمل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پوچھتے ہیں ”أحی والداک“ کیاتمہارے والدین باحیات ہیں ؟ اس نے کہاجی ہاں !توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
 ” ففیھما فجاہد “ 
انہیں دونوں کی خدمت کرکے اجروثواب حاصل کرو ۔(بخاری ومسلم )
 تب ہی تو اویس قرنی رحمہ اللہ علیہ نبوت کازمانہ پانے کے باوجود صحابیت کے شرف سے محروم رہتے ہیں ،وجہ صرف یہ تھی کہ ان کی ایک عمردراز ماں تھی، دن ورات انہیں کی خدمت میں لگے رہتے تھے ،فریضہ حج اداکرنے کی بہت خواہش تھی ،لیکن جب تک ان کی والدہ زندہ رہیں ان کی تنہائی کے خیال سے حج نہیں کیا اوران کی وفات کے بعد ہی یہ آرزوپوری ہوسکی ،ایسااس وجہ سے کہ اللہ تعالی کو یہ عمل سب سے زیادہ محبوب ہے ،بلکہ اللہ تعالی نے والدین کی رضامندی کو اپنی رضامندی قراردیا ، اوروالدین کی ناراضگی کواپنی ناراضگی ٹھہرایا چنانچہ سنن ترمذی کی روایت ہے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
رضاالرب فی رضا الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد
اللہ کی خوشنودی والدکی خوشنودی میں ہے ،اوراللہ کی ناراضگی والدکی ناراضگی میں ہے “ یعنی اگر کوئی اپنے اللہ کوخوش رکھنا چاہے تووہ اپنے والد کوخوش رکھے ، والد کوناراض کرکے وہ دراصل اللہ کے غضب کودعوت دیتاہے ۔یہ بات بھی واضح رہے کہ والد کے ساتھ حسن سلوک کے لیے ان کامسلم ہوناضروری نہیں ،غیرمسلم والد کے ساتھ بھی اسلام نے نیک برتاؤ کا حکم دیا، حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میری ماں میرے پاس آئیں اس وقت تک وہ اسلام میں داخل نہ ہوئی تھی ، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں میرے پاس آئی ہیں ،وہ میرے مال میں رغبت رکھتی ہیں ،کیامیرے لیے جائزہے کہ میں ان کی خاطرومدارات کروں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلی أمک ”اپنی ماں کی صلہ رحمی اورخاطر ومدارات کرو ۔ہاں !اگر مشرک والدین کفر پرآمادہ کرناچاہیں توان کی بات نہیں مانی جائے گی البتہ ایسی صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک اوراچھا برتاؤ کرنا ہمارافرض ہے ۔حضرت سعدبن ابی وقا ص رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی ماں چراغ پا ہوگئیں اورکہا:دیکھو یاتوتم اسلام سے پھرو ورنہ میں نہ کھاناکھاؤں گی نہ پانی پیوں گی یہاں تک بھوک سے مرجاؤں گی ،اورعرب تجھے عاردلائیں گے کہ یہ ہے اپنی ماں کاقاتل ،یہ سن کرسعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کو ان لفظوں میں جواب دیا:
تعلمین واللہ لوکان لک مائة نفس وخرجت نفسا نفسا ما رجعت عند إسلامی
 ”جانتی ہو ! اللہ کی قسم! اگر تیرے پاس سو جانے ہوں اورایک ایک کرکے سب نکل جائیں تب بھی میں اسلام سے پھر نہیں سکتا “۔ان کی ماں نے کھاناپیناچھوڑدیا ،ایک دن گزرا ،دوسرادن بھی گزرگیا ،جب تیسرا دن آیا تو اسے سخت بھوک کااحساس ہوا اورانہوں نے کھاناکھالیا ۔اس حادثہ پر اللہ تعالی نے قرآن میں آیت نازل فرمائی جس میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کوتنبیہ کی گئی کہ کافرہ ماں کی شان میں ایسے الفاظ استعمال کرنا قطعا مناسب نہیں تھا ،چنانچہ فرمایا:
 وإن جاھداک علی أن تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا (سورة لقمان آیت نمبر 15) 
”اوراگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تومیرے ساتھ اس کوشریک بنا ئے جس کاتجھے کچھ علم نہیں ہے توان کاکہنا نہ مان اوردنیامیں اچھے انداز سے ان کے ساتھ نباہ کر “باپ کی بنسبت ماں زیادہ کمزور اورحساس ہوتی ہے ،اورخدمت اورسلوک کی زیادہ محتاج بھی پھرہربچے پرماں کے احسانات اورقربانیاں بھی باپ کے مقابلے میں زیادہ ہیں اسی لیے اسلام نے ماں کاحق زیادہ بتایاہے ،اورماں کے ساتھ حسن سلوک کی خصوصی ترغیب دی ہے ، بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اورپوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے نیک سلوک کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں ، اس نے پوچھا پھرکون ؟ آپ نے فرمایا:”تیری ماں “ اس نے پوچھاپھرکون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”تیری ماں “ اس نے پوچھا:پھرکون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تیراباپ ۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل پائی جاتی ہے کہ ماں کی فرماں برداری باپ کی فرماں برداری پر مقدم ہے ،اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدصحابہ کرام نے اسی مفہوم کولوگوں کے سامنے پیش کیا ،یہاں تک کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ماں کی فرماں برداری کواللہ کی قر بت کاسب سے بہترین ذریعہ بتایا :صحیح بخاری کی روایت ہے،عطا بن یسار بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اورپوچھا : میں نے ایک عورت کوپیغام نکاح دیاتھا ،لیکن وہ ہم سے شادی کرنے سے انکار کرگئی ،اورجب ایک دوسرے شخص نے پیغام نکاح دیاتو وہ شادی کرنے کے لیے راضی ہوگئی ،اس کے اس طرز عمل پر مجھے غیرت آئی اورمیں نے اسے قتل کردیاکیامیرے لیے توبہ ہے ؟حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : کیاتیری ماں باحیات ہے ؟ اس نے کہا:نہیں، آپ نے فرمایا: اللہ سے توبہ کرو اورجس حد تک ہوسکے اطاعت الہی کے کام کرو ۔اس حدیث کے راوی حضرت عطاءبن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ،میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کہ آخرآپ نے ان سے یہ کیوں پوچھا کہ کیاتمہاری ماں زندہ ہے ؟ آپ نے فرمایا:

إنی لا أعلم عملا أقرب الی اللہ عزوجل من بر الوالدة

 ”میں کوئی ایساعمل نہیں جانتا جواللہ کے نزدیک والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہو ۔

پیارے بھائیو!جو آدمی یہ چاہتاہوکہ اس کی عمر میں درازی آئے اوراس کی روزی کشادہ کردی جائے تو اس کوچاہئے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرے اورصلہ رحمی کرے :حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: 

من أحب أن یبسط لہ فی رزقہ وینسأ لہ فی أثرہ فلیصل رحمہ (متفق علیہ 
  ” جو پسند کرتا ہوکہ اس کی روزی میں کشادگی آئے اوراس کی عمر دراز کردی جائے تو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیے ۔ اورصلہ رحمی میں پہلا درجہ ماںباپ کے ساتھ حسن سلوک کا آتا ہے ،پتہ یہ چلا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے عمر میں زیادتی ہوتی ہے ،اوررزق میں کشادگی آتی ہے ،یہی نہیں بلکہ یہ حسن سلوک ایسے مقام پر بھی کام آتا ہے جہاں سارے دروازے بند ہوچکے ہوتے ہیں،آپ نے بنواسرائیل کے غار والوں کا قصہ سنا ہوگا جسے بخاری مسلم نے روایت کیاہے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم سے پہلی امتوں میں تین شخص تھے جوایک ساتھ سفر پرنکلے ،حتی کہ رات ہوگئی ،چنانچہ رات گزارنے کے لیے وہ ایک غار میں داخل ہوگئے ،چندہی لمحے کے بعد پہاڑ سے ایک چٹان نیچے گرا جس نے غار کے دہانے کوبند کردیا ،یہ دیکھ کر انہوں نے اپنے اپنے نیک اعمال کے واسطے سے اللہ سے دعاکیا ،ان میں سے ایک نے کہا : یااللہ توجانتاہے ،میرے ماں باپ عمردرازتھے ،اورشام کوسب سے پہلے انہیں کودودھ پلاتاتھا ،ایک دن میں درختوں کی تلاش میں دورنکل گیا اورجب واپس لوٹ کرآیا تووالدین سوچکے تھے ،میں نے شام کادودھ دوہا اوران کی خدمت میں لے کرحاضر ہواتودیکھاکہ وہ سوئے ہوئے ہیں ،میں نے ان کوجگا نا بھی پسندنہیں کیا ، اوران سے قبل اپنے اہل اورغلاموں کودودھ پلانابھی گوارانہیں کیا ،میں دودھ کاپیالا ہاتھ میں لیے ان کے سراہانے کھڑا ان کے جاگنے کاانتظارکرتا رہا ،جب کہ بچے بھوک کے مارے میرے قدموں میں بلبلاتے رہے حتی کہ صبح ہوگئی، جب بیدارہوئے تومیں نے انہیں ان کے شام کے حصے کادودھ پلایااورانہوںنے پیا،اے اللہ اگر یہ کام میں نے صرف تیری رضاکے لیے کیا تھاتو‘ تو ہمیں اس مصیبت سے نجات دے، چنانچہ چٹان ہلکی سی سرک گئی ،اس طرح تینو ں نے اپنی اپنی نیکیوں کے واسطے سے دعاکیا اورچٹان سے نجات پاگئے۔دیکھاآپ نے کہ کس طرح اللہ تعالی نے والدین کی خدمت کی بنیادپر ایسی جگہ دستگیر ی فرمائی جہاں دنیاوی سہارے بالکل معدوم تھے ، اوریہ بھی یاد رکھیں کہ آخرت میں نجات کاانحصار بھی ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک پرہی ہے :سنن ابن ماجہ کی روایت میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یارسول اللہ ماں باپ کااولاد پرکیاحق ہے ؟ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ھماجنتک ونارک ”ماں باپ ہی تمہاری جنت ہیں اورماں باپ ہی دوزخ ،یعنی ان کے ساتھ نیک سلوک کرکے تم جنت کے مستحق ہوگے اوران کے حقوق کوپامال کرکے تم جہنم کااندھن بنوگے ۔مسند احمد کی روایت ہے جسے علامہ البانی نے حسن کہاہے ،معاویہ بن جاہمہ کابیان ہے کہ جاہمہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اورعرض کیا : ہمارا ارادہ غزوہ میں شریک ہونے کاہے ،آپ سے مشورہ لینے آیاہوں ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : ھل لک من أم کیاتمہارے پاس ماں ہے ،اس نے کہاہاں ! آپ نے فرمایا:
فالزمھا فإن الجنة تحت رجلھا
 ”ان کی خدمت میں لگ جاؤ کیوں کہ جنت ان کے قدموں کے نیچے ہے “۔سلف کے ایک عابد وزاہد اپنی ماں کے قدم کابوسہ لیتے تھے ،ایک دن انہوں نے اپنے ساتھیوں کے پاس آنے میں تاخیر کردی ،جب ان سے تاخیرکاسبب پوچھاگیاتوانہوں نے فرمایا: میں جنت کے باغیچے میں اپناسرڑگررہاتھا ،کیوں کہ میں نے سناہے کہ جنت ماؤ ں کے قدموں کے نیچے ہے۔جی ہاں ! سب سے بڑا بدنصیب وہی ہے ،جس کے والدین یاان میں سے کوئی ایک باحیات ہوں اوران کی خدمت کرکے جنت کا حقدار نہ بن سکے، تب ہی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رغم أنف، ثم رغم أنف ،ثم رغم أنف من أدرک أبویہ عند الکبر أحد ھما أوکلاھما فلم ید خل الجنة (رواہ مسلم )
”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جائے ،اس شخص کی ناک خاک آلود ہوجائے ،اس شخص کی ناک خاک آلود ہوجائے ،جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کوپایا ،ان میں سے ایک کویادونوں کواورپھر (بھی ان کی خدمت کرکے) جنت میں نہیں گیا “۔اس حدیث میں ایسے بدنصیب کے لیے بددعایاانجام بدکی خبر ہے جواپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اوران کی خدمت کرکے اپنے رب کوراضی نہیں کرتا ،ماں باپ کی دعائیں آخرت سے پہلے دنیامیں اثرانداز ہوکر رہتی ہیں ،ان کی زبان سے جوالفاظ نکلتے ہیں اللہ تعالی ان کی لاج رکھتے ہیں ،اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا :
ثلاث دعوات مستجابات ،لاشک فیھن ، دعوة الوالد ودعوة المسافر ودعوة المظلوم
”تین لوگوں کی دعا ئیں ضرور قبول ہوتی ہے باپ کی دعا ،مسافرکی دعا ،اورمظلوم کی دعا “
صحیح بخاری میں جریج العابد کاقصہ بہت مشہور ہے ،جس میں تازیانہ عبرت ہے ،والدین کے نافرمانوں کے لیے، عبرت کاسامان ہے والدین کی باتوں کی پرواہ نہ کرنے والوں کے لیے ،ذراواقعہ پردھیان دیں :ایک دن جریج عابد کو ماں نے آواز دیا ،وہ نمازمیں مشغول تھے ،کہا : پرور دگار ! ایک طرف میری نمازہے ،اوردوسری طرف میری ماں آواز دے رہی ہے ،چنانچہ انہوں نے نماز کواختیار کیا،دوسری بار پکارا ،انہوں نے جواب نہیں دیا اورنماز میں لگے رہے ،جب تیسری بار پکارا اورجواب نہیں ملا تو ماں نے بددعا کردی کہ جریج کی اس وقت تک موت نہ ہوجب تک کسی بدکار عورت کامنہ نہ دیکھ لے ،پربددعالگ گئی ایک بدکار عورت نے چرواہے سے زناکیا اور اس سے حاملہ ہوگئی ،جب اسے اپنی رسوائی کااندیشہ ہوا توچرواہے نے کہا جب تجھ سے بچے کے باپ کی بابت پوچھا جائے تو کہہ دیناکہ جریج عابد کاہے ۔جب بچے کی ولادت ہوئی اورلوگوں نے پوچھا توعورت نے الزام جریج العابد پرڈال دیا ،یہ سن کرلوگ غصہ ہوئے اورجریج کے گرجاگھر کومنہدم کردیا ، پھرحاکم نے اسے جوابدہی کے لیے بلایا ،راستے ہی میں تھا کہ اسے ماں کی بددعا یاد آئی مسکرایااورجب اسے سزادینے کے لیے پیش کیا گیا تو اس نے دورکعت نمازاداکرلینے کی اجازت مانگی ،پھربچے کوطلب کیا اور اس کے کان میں آہستہ کہا ، من ابوک بچے تیراباپ کون ہے ؟ اللہ تعالی نے شیرخواربچے کو گویائی عطاکردی بچے نے کہا : فلاں چرواہا ،یہ سن کرلوگوں کے دانتوں تلے انگلی آگئی ،سب نے اللہ کی عظمت بیان کی، جریج العابدکے زہدوتقوی کے قائل ہوگئے ، اوراپنے عمل پر نادم ہوئے ،پھرجریج العابد سے عرض کیا :ہم آپ کاعبادت خانہ سونے اورچاندی سے بنادیتے ہیں ،انہوں نے کہا : نہیں بلکہ جیساتھاویساہی بنادو ۔یہ حدیث بخاری کی ہے ،جسے عرض کرنے کامقصد یہ ہے کہ ایک شحص کتنابڑا ہی عابد وزاہد کیوں نہ ہو ،ماں کی بددعا اس کی زندگی کوہلاکت وبربادی کے دہانے تک پہنچاسکتی ہے ،حدیث کے اخیر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : لوکان جریج فقیھا لعلم أن أجابتہ والدتہ ألزم من أستر سالہ فی صلوتہ ”اگرجریج فقےہ ہوتا پتہ چل جاتا کہ نماز میں مشغول رہنے سے زیادہ ضروری تھا کہ اپنی ماں کی پکار کاجواب دے “۔اسی بنیاد پر فقہانے لکھاہے کہ اگر آدمی نفل نمازمیں ہو اوراس کے ماں باپ نے اسے پکاراتو اسے چاہئے کہ نماز کی نیت توڑ کروالدےن کی پکارکا جواب دے ،لیکن اگرفرض نمازکی ادائیگی کررہاہو توایسی صورت میں نمازمقدم ہوگی ،غرضیکہ ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کا انجام انسان موت سے پہلے دنیا ہی میں پالیتا ہے ،اس لیے ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ اللہ چاہتا ہے ،میری اس آنکھوں نے ایسے شخص کودیکھا ہے ۔ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کیاکرتا تھا کبھی لاٹھی اورجوتے بھی ماں پر برسایاکرتا ،ایک دن مظلوم ماں کی زبان سے یہ بدعا نکل گئی کہ اے اللہ تواسے کوڑھ کی بیماری میں مبتلا کردے ۔ ماں کی آہ تھی! عرش تک پہنچ گئی اورچندہی دنوں کے بعد بیٹاکوڑھ کی بیماری میں مبتلا ہوگیا۔میں ایسے شخص کوبھی جانتا ہو ں جوبرسوں سے باپ سے قطع تعلق کررہاتھا ،یہاں تک کہ باپ کی موت ہوگئی ،موت کے چنددنوں کے بعد بیٹے پرفالج کاایسا حملہ ہوا کہ آج وہ چلنے پھرنے سے بھی مجبور ہے ،سچ فرمایا صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے :
کل الذنوب یؤخراللہ منہا ما شاء الی یوم القیامة ،الاعقوق الوالدین فإن اللہ یعجلہ لصاحبہ فی الحیاة الدنیا قبل الممات (أخرجہ البخاری فی الأدب المفرد وصححہ الألبانی)
 ”سارے گناہوں میں جسے چاہتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن تک موخر کرتا رہتا ہے ،سوائے والدین کی نافرمانی کے ،اس کی سز ا اللہ تعالی موت سے پہلے دنیاوی زندگی میں ضروردے کررہتاہے ۔“ اس وقت کس قدر افسوس ہوتا ہے ،جب ہم اپنے سماج اورمعاشرے پرنگاہ ڈالتے ہیں جہاں کے اکثرگھرانوں میں والدین بوجھ سمجھے جاتے ہیں ،ان کی کوئی عزت واحترام نہیں ،ان کی باتوں کاپاس ولحا ظ نہیں ،ہروقت سختی اوردشت مزاجی ،ڈانٹ ڈپٹ اوردھمکی ،ماں باپ نے کچھ کہہ دیاتوفورا چہرے پرناگواری کا رہوگئی ،بدادبی کامظاہرہ ہونے لگا ،آوازیں بلند ہونے لگیں ،کیاایسے ماں نصیبوں کو پتہ نہیں کہ ان کا یہ طرزعمل ان کی شقاوت بدبختی کی دلیل ہے ،کتنے ایسے لوگ ہیں جواپنے والدین سے قطع تعلق کیے ہوئے ہیں ،مہینوں اورسالوں گزرجاتے ہیں لیکن انہیں توفیق نہیں ملتی کہ ماں باپ کادیدار بھی کرلیں ،
کچھ لوگ شادی کرتے ہی ماں باپ کوبھول جاتے ہیں ،ان کے حقوق سے لاپرواہی برتنے لگتے ہیں ،بیویوں کوسرپرچڑھا کرماؤں کوتکلیف دیتے ہیں ،بسااوقات بچے اوربیویاں اس کے ماں باپ کوجلی کٹی سناتے ہیں اوریہ بے حس خاموش سنتارہتا ہے ،کہاں گیا ایمان ؟ کہاں گئی فضيلت ؟کہاں گئی مرووت ؟ آدمی کے پاس سب کچھ ہے مگر ایک تنہا آدمیت ہی نہیں ،آج ہمارے معاشرے میں والدین کی نافرمانی کی مختلف شکلیں پائی جاتی ہیں ،مثلا والدین کو رلانا،اپنے قول وفعل سے انہیں غم زدہ کرنا ،ان سے سختی کے ساتھ پیش آنا ، ان کے حکموں کوبجالانے میں تنگی محسوس کرنا ،ان کے سامنے چہرے اورپیشانی پر سلوٹیں لانا ،ان کی باتوں کی پرواہ نہ کرنا ،ان کی طرف نسبت کرنے یا ان کا نام لینے میں شرمندگی محسوس کرنا ،ان کی اجازت کے بغیر پردیسی زندگی اختیارکرنا ،اوران پراپنی بیوی کوترجیح دینا وغیرہ

بچے والدین کی نافرمانی کیوں کرتے ہیں ؟
اب سوال یہ ہے کہ بچے والدین کی نافرمانی کیوں کرتے ہیں ؟ اس کے اسباب کیا ہیں ،اس کاعلاج کیسے ممکن ہے ،والدین کے ساتھ حسن سلوک میں معاون امورکیاہیں ،اوران کے ساتھ حسن سلوک کی نوعیت کیاہے ؟ یہ وہ نکات ہیں ، جس پروالدین کوسنجیدگی سے غورکرنے کی ضرورت ہے ،بچے کی جہالت ،بری صحبت ،تربیت کافقدان ،بچوں کے بیچ جانبداری کامعاملہ کرنا اوروالدین کابچوں کے سامنے غلط نمونہ پیش کرنا یہ وہ اسباب ہیں جن کے باعث بچے والدین کی نافرمانی کرتے ہیں ،لہذا والدین کے نام ہمارا یہ پیغام ہوگا کہ خدار ا اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں ،انہیں دینی تعلیم سے آراستہ کریں ،کہتے ہیں کہ کسی اللہ والے کے پاس ایک شخص شکایت کرنے آیا کہ ہمارے بچے نے ہمیں ایک طمانچہ ماراہے ،اللہ والے نے اس سے پوچھا : کیاتم نے اپنے بچے کو قرآن سکھایاہے ؟ کہا ! نہیں ، پوچھا : کیاسنت کی تعلیم دی ہے ،؟کہا ! نہیں پوچھا: کیاصالحین کے اخلاق سکھایاہے ؟ کہا ! نہیں ، تب اللہ والے نے کہا : حسبک ثور فضربک ”سمجھ لوکہ وہ بیل ہے جس نے تمہیں ماردیا“ جب تم نے اپنے بچے کی اسلامی تربیت نہیں کی تووہ گنواربنے گاہی ، اب اگر اس نے تجھے طمانچہ مارا ہے ،سمجھ لوکہ ہم نے کسی بیل کوپالاتھا جس نے آج ہمیں سینگ لگادیا ، والدین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے نیک دوست کاانتخاب کریں ،کیوں کہ بچے بالعموم بری صحبت اختیارکرکے خراب ہوجاتے ہیں ،پھراپنے بچوں کے لیے بھی نمونہ بنیں ،اگرگھرمیں عمردراز ماں باپ ہوں توان کا پوراپورا خیال رکھیں اس سے بچوں پراچھا اثر مرتب ہوگا-

جیسی کرنی ویسی بھرنی:
یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ اگر آپ نے اپنے ماں باپ کے ساتھ براسلوک کیا تو آپ کی اولاد بھی آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرسکتی کیوں کہ قاعدہ ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔ڈاکٹرظفير احمد نے اپنی کتاب "حقوق الوالدین" میں ایک عبرت آموز قصہ نقل کیا ہے ، ذرا قصے پردھیان دیجئے !
ایک شخص نے اپنے عمردراز باپ کو چادر میں گٹھری کی طرح باندھا ،پھراس کوکنویں میں ڈالنے کے لیے چل دیا ،جب ایک کنویں کے کنارے پر رکھا اورقریب تھا کہ کنویں میں ڈال دے ،کہ اسی اثنا باپ نے کہا : بیٹا ! اس کنویں میں نہ ڈال کسی دوسرے کنویں میں ڈال دے ،کیوں کہ میں نے اپنے باپ کواسی میں ڈالاتھا ،اللہ اکبر !یہ سن کربیٹے کوہوش آیا اورگٹھری کھول کر الگ کھڑا ہوگیا ،اورباپ کواحترام کے ساتھ گھرلے آیا ۔ 

والدین کے ساتھ حسن سلوک کے لیے خود کوکیسے آمادہ کریں؟
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سے ایسے وسائل اپنائیں جن کی بنیادپر ہمارے اندر خود بخود والدین کے ساتھ حسن سلوک کاداعیہ پیداہوسکے ؟ تولیجئے اس سلسلے میں چند نکات پیش خدمت ہیں ۔سب سے پہلی بات تویہ ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت اوراس کے اوامرکی بجاآوری کرکے اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ،والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی توفیق بخشے ،اسی طرح والدین کے ساتھ حسن سلوک کے دینوی واخروی فوائد اوربد سلوکی کے دینوی واخروی انجام پر بھی نظر رکھیں ،پھروالدین کے احسانات کواپنے ذہن میں تازہ رکھیں جوآپ کے وجود کاسبب بنے ہیں ،ماں جوحمل، زچگی اور تربیت کے مختلف مراحل میں پریشانیاں برداشت کی ،باپ جوخون پسینہ ایک کرکے ہماری روزی روٹی کاانتظام فرماتارہا ،کیا یہ احسانات اس بات کے متقاضی نہیں کہ ہم ان کے قدموں تلے جھک جائیں ۔اسی طرح اگر آپ کی اولاد آپ کے ساتھ حسن سلوک کرتی ہے ،تو ان کی دلجوئی کریں ،ان کے لیے دعاکریں ،ان کاشکر اداکریں ،انہیں اچھے ناموں سے پکاریں اوران کو ٹوٹ کرچاہیں، ظاہر ہے کہ یہ نسخہ نہایت کار گرتا ہوگا ،پھراپنے آپ کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کاعادی بنائیں ،اپنی طبیعت کو اس کے ليے آمادہ کریں ،اپنے آپ کووالدین کی جگہ پر رکھ کر سوچیں کہ جب آپ کی ہڈیاں کمزور ہوچکی ہوں ،سرکے بال سفید ہوچکے ہوں، نقل وحرکت سے بھی عاجز ہوں، ایسی صورت میں کیاآپ کواپنی اولاد کی بدسلوکی خوش کرے گی ؟ اگرنہیں تو آپ کویہ کیسے زیب دیتا ہے کہ اپنے عمردراز والدین کے ساتھ براسلوک کریں ،یا ان کے دل کوچوٹ پہنچائیں ۔

اسلاف کرام اوراطاعت والدین :
ہمیں چاہیے کہ اسلاف کرام اوراللہ والوں کی زندگی کامطالعہ کرکے دیکھیں کہ کس طرح انہوں نے اپنے و الدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، تاکہ ہمارے اندر بھی وہ صفات پیدا ہوسکیں، تولیجئے تاریخ کے صفحات سے چند واقعات کامطالعہ کیجیے :
امام ذہبی رحمہ اللہ علیہ نے سیر اعلام النبلا ء(6 / 317) میں لکھا ہے ،ابو عبدالرحمن الحنفی کہتے ہیں کہ کہمس بن حسن نے ایک دن گھر میں بچھو دیکھا ،وہیں ان کی ماں آرام فرمارہی تھیں ،انہوں نے بچھو کوبھگانے کی کوشش کی، لیکن وہ گھرکے ایک بل میں گھس گیا ،انہوں نے بل پرہاتھ رکھ دیا اورادھربچھو ڈنک مارتارہا ،جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایساکیوں کیا ؟ توانہوں نے جواب دیا :
خفت أن تخرج من الجحر فتجی ءإلی أمی فتلذ غھا
 ”ہمیں اندیشہ ہوا کہ مباداوہ نکل کر ہماری ماں کے پاس آئے اورانہیں ڈنک ماردے “۔
ابن قتیبہ نے عیون الاخیار میں لکھا ہے کہ امام زین العابدین علی بن حسین رحمہ اللہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں بہت مشہور تھے ، لیکن کبھی بھی اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کر کھاناتناول نہیں فرماتے تھے ،جب ان سے کہاگیا کہ آپ اپنی ماں کے ساتھ اتنااچھا عمدہ برتاؤ کرتے ہیں ،لیکن کبھی ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانانہیں کھاتے آخرکیوں ؟توآپ نے جواب دیا :
أخاف أن تسبق یدی الی ماسبقت الیہ عینھا فأکون قد عققتھا
 ”ہمیں ڈر ہے کہ ایسا نہ ہوکہ میراہاتھ اس لقمے پرچلاجائے جس پرمیری ماں کی نگاہ پڑچکی ہو اوراس طرح میں ان کانافرمان بن جاؤں (عیون الاخیار 97/3)
اللہ اللہ کیسے لوگ تھے ! آج ایسے لوگوں کودیکھنے کے لیے نگاہیں ترستی ہیں ، امام ذہبی رحمہ اللہ نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی بابت لکھاہے کہ جب وہ اپنی ماں کے پاس ہوتے تو اس قدر نرم اورپست آواز میں بات کرتے کہ لوگوں کوگمان ہوتا کہ ان کی طبیعت خراب ہے (سیر128/6)
امام ذہبی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابن عون المزی رحمہ اللہ علیہ کوان کی ماں نے پکارا ۔انہوں نے جواب تودیا لیکن آواز ہلکی سی تیز ہوگئی ،جس کا انہیں اس قدر احساس ہوا کہ انہوں نے دوغلام آزاد کیا ،(سیر 366/6)
بعض سلف کی بابت آتا ہے کہ جب ان کی ماں پہلی منزل پرہوتی توچھت کے اوپری منزل پرجانے سے گریز کرتے مبادا کہ ان کی شان میں گستاخی ہوجائے ،کسی محدث کی بابت آتاہے کہ وہ طلبہ کو درس دے رہے تھے کہ اسی اثنا ان کی ماں آئی اورکہا :اے فلاں! جاؤ،مرغی کودانہ ڈال آؤ ،محدث نے کہا ! ابھی جاتاہوں امی جان ! فوراکتاب بند کی ،گئے اورمرغی کودانہ ڈالاپھر آنے کے بعد حدیث مکمل کی ۔جی ہاں ! یہی وہ لوگ ہیں جن کو یہ بشارت سنائی گئی : جی ہاں ! یہی وہ لوگ ہیں جن کو یہ بشارت سنائی گئی : 
أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ (الاحقاف 16)
”یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم اچھے عمل قبول کرتے ہیں جوانہوں نے کئے اوران کی برائیوں سے ہم درگزر کرتے ہیں ،تویہ جنتیوں میں سے ہوں گے ،یہ سچاوعدہ ہے جوان سے کیا جاتا رہاہے۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک کی راہ میں اہم رکاوٹ :
ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی راہ میں بالعموم بیویاں مزاحم بنتی ہیں ،اورہرممکن کوشش کرتی ہیں کے شوہر کادل ماں باپ سے پھیردیں بالخصوص اس وقت جبکہ وہ دینی ماحول کی پروردہ نہ ہو ں لہذا ایک دانشمند شوہر کو چاہیے کہ نہ توبیوی کی بات سنکر ماں سے قطع تعلق کرلے اورنہ ماں کی بات سن کر بیوی پر جوروجفا کرنے لگے ،اگروالد ین تنک مزاج ہوں توخواہ مخواہ ان کے سامنے اپنی بیوی سے محبت کااظہار نہ کریں ،بیوی کے ساتھ بھی حسن ظن رکھیں ،اس کے خلاف والدین کی باتوں کافورا ایکشن نہ لیں بلکہ اس کی تحقیق کرلیں ،اوربیوی کوبھی اپنے والدین کی اہمیت کااحساس دلائیں کہ ہم ان کی بات ذرہ برابر برداشت نہیں کرسکتے اورجب تم ہمارے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرو گی تو ہماری محبت میں مزید اضافہ ہوگا ۔خود بیوی کو بھی چاہئے کہ شوہر کے رشتے داروں کی عزت کرے ،شوہر کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے ،اپنی ساس کے ساتھ بیٹھے ،ان کے احوال دریافت کرے ،ان کی خدمت کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرے ،اورہمیشہ اپنے ذہن میں یہ بات بیٹھائے رکھے کہ انہوں نے ہی ہمارے شوہر کی پرورش کی ہے ،نومہینے تک اپنے پیٹ میں اٹھائے رکھا ہے ،اس کی خاطر ہرطرح کی پریشانیاں جھیلی ہے ،یہاں تک کہ آج وہی شخص ہماراشوہر بنا ہے ،تواب ہم سابقہ احسانات کوکیسے بھلا سکتے ہیں ،کیا یہ احسان فراموش نہ ہوگی کہ جس نے آپ کے شوہر کا اس قدر خیال رکھا آج انہیں لوگوں سے اپنے شوہر کادل پھیرنے کی ترکیب سوچیں ؟پھرکیا تم پسند کروگی کہ جس طرح تم اپنی ساس کے ساتھ معاملہ کررہی ہو ویساہی معاملہ تمہاری ماں کے ساتھ تمہارے بھائی کی بیویاں کریں ؟ یا پھرتمہارے بڑھاپے میں تمہارے ساتھ وہی برتاؤتمہاری بہوکریں ؟پھر ماں کوبھی چاہئے کہ جس طرح وہ اپنے بیٹے سے محبت کرتی ہے اسی طرح اپنی بہوکوبھی سمجھے ،اس کے ساتھ خیرخواہی کامعاملہ کرے ،اس کی کوتاہیوں کونظرانداز کرے ،معمولی معمولی باتوں پراسے نہ ٹوکے ،آخراپنے جس بیٹے سے وہ پیار کرتی ہے اس کی پسند یدہ بیوی سے نفرت کیوں ؟ لہذا ساس کو چاہیے کہ بہو کو کبھی بھی اپنی بہوکی طرح نہ سمجھے بلکہ بیٹی خیال کرے تاکہ وہ ساس کے ساتھ ماں کاسامعاملہ کرسکے ۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک کی نوعیت :
اب سوال یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی نوعیت کیاہونی چاہئے ؟کس اندازسے ہم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں ؟تو اس سلسلے میں :سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اپنے قول یافعل سے کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے ان کوتکلیف پہنچے ،ان پر اپنی آوازیں بلند نہ کریں ،اچھے انداز میں ان کومخاطب کریں ،ان کی طرف رحمت درافت کی نگاہ سے دیکھیں ،اگر وہ کھڑے ہوں تو ان کے سامنے بیٹھنے کی کوشش نہ کریں ،اگر وہ بیٹھے ہوں تو ان کے سامنے سونے کی کوشش نہ کریں ۔ان کی جملہ ضروریات کی تکمیل کریں ،خوردونوش ،رہائش ،لباس ،اورعلاج معالجہ کابندوبست کریں ،ابوداوداورترمذی کی روایت ہے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے درباررسالت میں شکایت کی کہ میرے باپ نے میرامال لے لیاہے ،آپ نے فرمایا : أنت ومالک لأبیک ”جاتو بھی اور تیرامال بھی سب باپ کاہے “۔اگروالدین سے دور ہوں مثلا پردیسی زندگی گزاررہے ہوں تو بذریعہ فون ان کے حالات کی جانکاری لیتے رہیں ،دوررہتے ہوئے بھی ان سے اپنے دلی جذبات کویوں بیان کریں گویا آپ ان کے لیے مشتاق اوربے قرار رہتے ہیں ،بیوی بچوں سے بات کرتے وقت ماں باپ سے بات کرنانہ بھولیں ،بلکہ والدین سے بات کرناہماری اولیں ترجیح ہو ۔اگرماں باپ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک فوت پاچکے ہوں تو اللہ تعالی سے ان کی مغفرت کی دعا کریں، ان کی طرف سے صدقا ت وخیرات کریں، صحیح حدیث میں آتاہے کہ جب انسان مرجاتاہے تو اس سے اعمال کاسلسلہ منقطع ہوجاتا ہے ،البتہ تین چیزوں کانفع پہنچتا رہتا ہے: صدقہ جاریہ ،ایساعلم جس سے لوگ نفع حاصل کرتے رہیں ،اورنیک اولاد جواس کے لیے دعاکرتی ہو ۔(مسلم )
اسی طرح جن لوگوں سے والدین کی قرابت داری یادوستی تھی ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کامعاملہ کریں صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان من أبر البر صلة الرجل و دأ بیہ بعد أن یولی (مسلم)
 ”باپ کے ساتھ سب سے بڑاسلوک یہ ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں کے ساتھ اچھاسلوک کرے ۔ایک سفر میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مکہ کے راستے میں تشریف لے جارہے تھے ،راستہ میں ایک بدو گزرا ،اس بدو کاوالد حضرت عمر کادوست تھا ،اس کوحضرت ابن عمررضی اللہ عنہ نے سواری دے دی اوراپنے سرمبارک سے عمامہ اتار کر اس کی نذر کردیا ۔ابن دینار جو آپ کے ہمراہ تھے ،انہوں نے کہا یہ شخص تو دو درہم میں بھی خوش ہوجاتا آخراس قدر تکلیف کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ نے فرمایا :اس کاباپ میرے باپ کے دوستوں میں سے تھا ۔(مسلم)
مکمل تحریر >>

اتوار, مارچ 16, 2014

اردو کوبچائیں اوراس کے دینی کردار کو بحال رکھیں


انسان کے افکاروخیالات کی ترجمانی اس کی زبان یاقلم کرتی ہے ،اور افکاروخیالات کی صحیح ترجمانی کے لیے فکر میں وسعت اورگہرائی کی ضرورت ہوتی ہے ، اورفکر میں وسعت اورگہرائی مطالعہ کے ذریعہ آتی ہے۔ جس کا مطالعہ جتنا گہرا ہوتا ہے اسی قدر اس کی فکر وسیع ہوتی ہے ،اورمطالعہ کا ذوق بہت حد تک ماحول اور خاندانی نشوونما کی مرہون منت ہے، برصغیر کے جو تارکین وطن کویت میں مقیم ہیں ا ن کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانیوں میں جنوب ہندکے تمل ناڈو ،اورکیرلا کے لوگوںمیں مطالعہ کا ذوق زیادہ پایا جاتا ہے، بنگالی اورنیپالی کمیونٹی کے اکثر افراد معمولی ملازمت کرنے کے باوجود اپنی زبان کی خدمت میں آئے دن کوشاں رہتے ہیں ،ان زبانوں میں کویت سے متعدد رسائل اورجرائد شائع ہو رہے ہیں ، ان کے جاننے والے اپنی زبان کے مطالعہ سے بیحد دلچسپی رکھتے ہیں، پیسے خرچ کرکے کتابیں اوررسائل خریدتے ہیں، کویت اوردیگرخلیجی ممالک سے ملیالی زبان میں ایک روزنامہ بھی نشر ہوتا ہے جسے ہرملیالی صبح سویرے پڑھنے کے لیے بیتاب رہتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اردوداں طبقہ کویت میں اپنی اکثریت رکھنے کے باوجود مطالعہ کا کوئی خاص جذبہ نہیں رکھتا ،کویت میں سب سے زیادہ اردوادب کی کمیٹیاں پائی جاتی ہیں ،اصحاب ذوق پائے جاتے ہیں ، شعراء کی محفلیں سجائی جاتی ہیں ،اس کے باوجود اردوداں افرادمیں مطالعہ کا جذبہ بیدار نہیں ہوپا رہا ہے ۔ ’میرے پاس ٹائم نہیں‘ ، ’ پڑھنے کا موقع نہیں ملتا ‘ ،’ مطالعہ کے لیے وقت نہیں‘ یہ اوراس طرح کی باتیں بالعموم اردوداں طبقہ کی طرف سے سننے کوملتی ہیں، بسااوقات ایسی باتیں سن کربہت کوفت ہوتی ہے، حالانکہ ہمارے اچھے خاصے اوقات بے فائدہ گفتگو میں صرف ہوتے ہیں، ٹیلیویژن پر فلموں کے مشاہدے اورسوشل میڈیا میں ٹائم پاس کرنے میں لگتے ہیں، اردو کے ساتھ ہماری ستم ظریفی کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ کویت  میں اردوداں کی اچھی خاصی تعداد ہونے کے باوجود  یہاں سے کوئی روزنامہ نہیں نکل رہا ہے ،کبھی کویت سے’ کویت ٹائمز‘ کا اردو اور ملیالم ایڈیشن نکلا کرتا تھا جب ’کویت ٹائمز‘ کے ذمہ داران نے دونوں زبانوں کو بند کیا  تو ملیالی طبقہ نے ہزاروں تبصر ے ارسال کیے اوردوبارہ اسے جاری کرنے کا مطالبہ کیا لیکن اردو داں طبقہ نے یہاں بھی اپنی سردمہری کا مظاہرہ کیا،اورادارہ تک اپنی چاہت پہنچانے سے بھی قاصر رہے ۔
کویت کا اردوداں حلقہ خواہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والا ہو یا پاکستان سے دونوں کی صورتحال تقریباً ایک ہے ، بات کویت کی حد تک نہیں ہے بلکہ ہم اپنے ملکوں میں رہ کر بھی اردوسے تعلق رکھنے کے باوجود اردو پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، بہت کم گھروں میں اردو اخبارات آتے ہیں، دیہی علاقوں کا جائزہ لیں تو تعجب ہوگا کہ کتنے خوشحال اور کھاتے پیتے گھرانے ہیں جن کے پاس شہری سہولتیں دستیاب ہوتی ہیں پھر بھی ان کو اپنے گھروں میں روزنامے اور ماہنامے منگوانے کی فکر نہیں ہوتی ، سکول کے ٹیچرس، سرکاری دفاتر کے ملازمین اورکاروباری پیشے سے جڑے مسلمان سب کی یہی حالت ہے کہ پڑھنے اورمطالعہ کرنے کا جذبہ نہیں رکھتے ، اورجب وہ مطالعہ کے شوقین نہیں توپھر ان کے بچوں میں مطالعہ کا ذوق کیوں کرپیدا ہوسکتا ہے ، جبکہ غیرمسلموں کے اندر اب تک یہ ذوق برقرار ہے ،آج بھی دیہی علاقوں میں ان کے گھر گھر  روزنامے پہنچ رہے ہیں ،اوروہ تازہ بہ تازہ ملکی اوربین الاقوامی خبروں سے باخبر رہتے ہیں ۔
ایک طرف تو اردوداں طبقہ کی  اکثریت کے اندر سے مطالعہ کی روح نکلتی جارہی ہے تو دوسری طرف ہمارے دشمنان اردو میڈیا کومسموم کرنے پرتلے ہوئے ہیں، ہندوستانی میڈیا کا جائزہ لیں تو خواہ الیکٹرونک میڈیا ہویا پرنٹ میڈیا دونوں پر متعصب تنظیموں کی اجارہ داری ہے،الیکٹرونک میڈیا تقریباً کلی طورپر ان کے قبضہ میں ہے ،پرنٹ میڈیا میں اردواخبارات کچھ حد تک مسلمانوں کی نمائندگی کرتے اورمسلمانوں کے مسائل کی ترجمانی میں اپنا کردار ادا کرتے تھے لیکن افسوس کہ ان کا کردار بھی آئے دن کمزور ہوتا جارہا ہے ، اوررفتہ رفتہ یہ بھی غیرمسلموں کے قبضہ میں چلے جارہے ہیں۔ ہندوستان کی اکثر ریاستوں میں ہندی روزنامہ "دینک جاگرن" نے اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے ،جو اسلام دشمنی اورتعصب وتنگ نظری کوفروغ دینے میں مشہورہے، آرایس ایس نے دوقدم آگے بڑھاتے ہوئے مسلمانوں کا بھارتی کرن کرنے کے ارادہ سے" مسلم راشٹریہ منچ" قائم کیا ہے جس کے زیراہتمام اردو روزنامہ ''پیغام مادر وطن" نکل رہا ہے اور اب ان کا ارادہ لوک سبھا چناؤ سے قبل " پیغام ٹی وی چینل"  لانچ کرنے کا ہے ،اس سے پیشترانہوں نےممبئی سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ ’انقلاب‘ کو بھی خرید لیا ہے اور اسے پورے ہندوستان میں فروغ دینے کے لیے پلاننگ کررہے ہیں، طرفہ تماشا یہ کہ بعض دیہی علاقوں میں’ انقلاب‘ کے علاوہ دوسراکوئی اردو روزنامہ دستیاب نہیں ہوتا ، مجبوری میں اخبارپڑھنے کے شائقین روزنامہ’ انقلاب‘ خریدتے ہیں۔ یہ کسی قوم  کی پستی اورزوال کی واضح علامت ہے کہ اسے فکری غذا کے لیے غیرقوموں پر منحصر ہونا پڑے ۔ بلکہ ہمیں کہنے دیا جائے کہ آرایس ایس نے منظم پلاننگ کے ساتھ ان اخبارات کے ذریعہ فکری جنگ چھیڑ رکھی ہےجس میں وہ کلی طور پر کامیاب ہیں، اس کا اندازہ ان تمام احباب کوبخوبی ہوگا جو مذکورہ اخبارات کا پابندی سے مطالعہ کرتے ہیں۔
چونکہ مسلمانوں میں اردوسے جذباتی عقیدت پائی جاتی ہے ،اسی لیے جب کچھ لوگ دینی کتابیں ہندوستان کی ریاستی زبانوں میں دیکھتے ہیں تو سیخ پا ہوجاتے ہیں،ان کا خیال ہوتاہے کہ دینی کتابیں اردو زبان میں ہی نشر ہونی چاہئیں۔ دشمن کو مسلمانوں کی اس عقیدت کااحساس ہے ، لہذا وہ ان کی زبان میں ان کوفکری غذا دینے کی منظم پلاننگ کررہے ہیں ۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی بستی میں ایک مسلم نوجوان کواردوزبان میں عیسائی نشریہ سنتے ہوئے دیکھا ، میرے سوال پر اس نے کہا کہ میں یہ پروگرام بہت شوق سے سنتا ہوں کیونکہ یہ لوگ نہایت عمدہ  اسلوب میں انبیاء ورسل کے قصے بیان کرتے ہیں ، میں نے پروگرام سنا تو پتہ چلا کہ پروگرام عیسائی مشینریز کا ہے اورپروگرامر اردوزبان میں بائیبل کی سلجھے اندازمیں تشریح کررہا ہے ۔
 غرضیکہ د شمن ہر چہارجانب سے مسلح ہوکر قوم مسلم پر حملہ آور ہے اب انہوں نے اپنے مسموم  نظریات کوپھیلانے کے لیے ہماری مادری زبان کا استعمال شروع کردیا ہے ، ایسی  صورتحال میں  ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود اردو زبان کی حفاظت کریں ، اردوزبان میں زیادہ سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کریں، اردو زبان کی بقا کم ازکم برصغیر کے اردوداں طبقہ کے ملی تشخص کی بقا ہے، آج ملت کے ارباب حل وعقد کو نہایت دوراندیشی اور گہری بصیرت سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔اللہ ہمارا حامی وناصر ہو ۔ 
مکمل تحریر >>

بدھ, مارچ 12, 2014

سوشل میڈیا کا استعمال خیر کے فروغ میں کریں

                         
جدید ٹکنالوجی کے اس دورمیں سوشل میڈیا آپسی رابطے کا مؤثرترین ذریعہ بن چکا ہے، آج جملہ ذرائع ابلاغ میں سوشل میڈیا  کا استعمال سب سے زیادہ ہورہا ہے،ایک آدمی اپنے گھر بیٹھے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چند سیکنڈوں میں اپنا پیغام پہنچاسکتا ہے ۔ پوری دنیا سے میل جول رکھ سکتا ہے ، موبائل میں بآسانی نیٹ کی سہولت دستیاب ہونے کے باعث پڑھے لکھے لوگ تو کجا ان پڑھ بھی سوشل میڈیا  کا استعمال کرنے لگے ہیں، ہرطبقہ کے لوگ یہاں پر اپنا اچھا خاصا وقت صرف کررہے ہیں، صبح ہوکہ شام ہروقت ان  کا دھیان سوشل میڈیا  میں لگا  رہتا ہے، بالخصوص نوجوان نسل کے ذہن ودماغ پرسوشل میڈیا جنون کی حد تک حاوی ہوچکاہے، دن بھر کی لاکھ تھکاوٹ اورتکان ہو جب تک نوجوان سوشل میڈیا پر اپنا کچھ وقت بتا نہیں لیتا اسے نیند نہیں آسکتی ۔
 سوشل میڈیا پرصارفین کی بہتات کو دیکھتے ہوئے ہر فکر کے حاملین نے اپنی فکر کوپھیلانے کے لیے سوشل میڈیا  کا استعمال شروع کردیا ہے ،کبھی تاجروں کو الیکٹرونک اورپرنٹ میڈیا میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی تھی ابھی نہایت کم لاگت میں سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں ، باطل مذاہب اورگمراہ فرقوں نے سوشل میڈیا کے سہارے دین کے بازارمیں کھوٹے سکوں کو خوب خوب رائج کیا ہے اورکر رہے ہیں ، یہود ونصاری اورمتعصب ہندو تنظیموں نے اسلام کے خلاف شبہات پھیلانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کی  ہے، ان کی شرارت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کی نئی نسل کے بیچ اس طرح کے شبہات پھیلاتے  رہتے ہیں تاکہ ان کو اسلام سے بدظن کرسکیں ۔ فیس بک ، ٹیوٹر ، یوٹیوب اوربلاگ جیسے سوشل میڈیا کو انہوں نے شبہات سے بھر رکھا ہے ۔ فحش کے پجاریوں نے بے حیائی، فحاشی، عریانیت اوررقص وسرور کے وہ گل کھلارکھے ہیں کہ گمان ہونے لگتاہے وہ انسان نہیں جانوروں سے بدترکوئی مخلوق ہیں، تفریح کے نام پرمسلمانوں کی نئی نسل کو بدلنے کی منظم پلاننگ ہوچکی ہے۔ صلیبی جنگوں میں جب نصاری کو منہ کی کھانا پڑی تو انہوں نے عسکری جنگ کی بجائے فکری جنگ کے لیے پلاننگ شروع کردی،اس مقصد کو بروئے کارلانے کے لیے انہوں نے مستشرقین کی ایک کھیپ تیار کی ۔آج شبہات اورشہوات کی جو آندھی چل رہی ہے انہیں مستشرقین کی دسیسہ کاریوں کا شاخسانہ ہے۔
ایسے حالات میں سوشل میڈیا کی خطرناکی پر آنسو بہانا ،اسے برائیوں کا سرچشمہ قرار دینا اوراس سے پیچھا چھڑانے کی نصیحت کرنا دوراندیشی کی علامت قطعاً نہیں ہوسکتی ۔ ہم لاکھ سر پیٹیں لیکن ہماری نئی نسل اس سے دورنہیں ہوسکتی ، یہ بات صحیح ہے کہ مسلم نوجوانوں کی اکثریت سوشل میڈیا کا غلط استعمال کررہی ہے ، یہ ٹائم پاس کا ایک ذریعہ بن چکا ہے ،اس سے بچوں کا کیرئیر خراب ہورہا ہے ، معاشرے میں بے حیائی فروغ پارہی ہے،یہ ایک طرح کا خمارہے جو چڑھتا ہے توبآسانی نہیں اترتا اورجب ہوش آتا ہے تو اچھا خاصا وقت نکل چکا ہوتا ہے۔ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ اوراس کا تدارک کیوں کر ممکن ہے ،یہ ہمارا موضوع بحث نہیں ،سردست آج ہمیں یہ غورکرنا  اور سوچنا ہے کہ جب ہر فکر کے حاملین سوشل میڈیا کو استعمال کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل  کررہے ہیں تو آفاقی دین کے حاملین  نےاپنے دین کے محاسن اورآفاقیت کو فروغ دینے میں کیا کردار ادا کياہے، ہمیں سوشل میڈیا  كو دعوت کے فروغ کے لیے نعمت غیرمترقبہ سمجھنا چاہیےتھا ، شر کا مقابلہ خیر سے کرتے ہوئے اس کا استعمال خیرکے فروغ اوردعوت کے کاموںمیں کرنا چاہیے تھا ، اسلام کی عالمگیریت اورآفاقیت سے غیرمسلموں کومتعارف کرانا چاہیے تھا۔ بلاشبہ وہ سارے بھائی اوربہن قابل مبارک باد ہیں جو سوشل میڈیا  کااستعمال خیرکے فروغ میں کررہے ہیں ، ایسے لوگوں کو دیکھ کر آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلکتے ہیں ،اوران کے حق میں زبان سے دعائیں نکلتی ہیں لیکن افسوس کہ ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔
انسان کی تحریروتقریر اورحرکت وعمل اس کی فکر اورسوچ کا آئینہ دار ہوتی ہے۔برتن میں جو ہوتا ہے وہی چھلکتا ہے، نیک طبیعتیں اچھے اثرات چھوڑتی ہیں اوربری طبیعتیں برائی سے پہچانی جاتی ہیں،حتی کہ موت کے بعد بھی برائی سے ان کی پہچان ہوتی ہے ۔ پچھلے دنوں فیس بک پر راقم سطورکی پہنچ ایک ایسے وال تک ہوئی جس پرفحش تصاویر نشر تھیں اوربے حیائی کی طرف دعوت دی گئی تھی حالانکہ اکاونٹ ہولڈرمہینوں پہلے دارفانی سے رخصت ہوچکا ہے ،قبرکی گودمیں اپنے کئے کا بدلہ پارہا ہے، تاہم اس کا وال ہے جو اس کی سوچ اورفکر کی ترجمانی کررہا ہے۔ جی ہاں! ہم دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن ہماری یادیں خیروشر کی شکل میں جاوداں ہوتی ہیں اورانہیں کے ذریعہ ہم جانے پہچانے جاتے ہیں،توپھرکیا ہم چاہیں گے کہ دنیا سے چلے جائیں اورہماری یہ لاابالی باتیں ہماری سوچ کی پہچان کراتی رہیں؟

اس لیے جن احباب نے اب تک سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی تفریح کے لیے کیا ہے،ان کوچاہیے کہ اپنی زندگی میں وقت کی قدرو قیمت کو سمجھیں، اپنے ذہن ودماغ میں اسلام کی عظمت اورآفاقیت کو بٹھائیں، دعوت کے فروغ میں سوشل میڈیا کے کلیدی رول کوپیش نظر رکھیں اوراس کے لیے منظم پلاننگ کریں ،اگر ہمارے اندر دعوتی شعور آگیا تو فی الواقع سوشل میڈیا کے ذریعہ دعوت کا  کام اعلی پیمانے پر ہوسکتا ہے ۔ اگراللہ پاک نے آپ کوتحریری اورتقریری صلاحیت دے رکھی ہے تو سوشل میڈیا  کااستعمال کرکے تعارف اسلام پر مبنی صفحہ کھولیں، خود سے اسلام کا تعارف کرائیں، دوتین منٹوں پر مشتمل آڈیوز اور ویڈیوز ریکارڈ کرکے انہیں اپلوڈ کریں ، اس سلسلے میں تجربہ کار دعاة سے رہنمائی حاصل کریں ، اگر تقریری یاتحریری قابلیت نہیں تو جولوگ سوشل میڈیا پردعوتی کام کررہے ہیں ان کے دعوتی مواد کو شیئر کریں ان پرستائشی تبصرے اور ہمت افزائی کے کلمات لکھیں ، اپنے وال پرمستند دعوتی ویب سائٹس کے لنکس شیئرکریں ،منتخب قرآنی آیات اوراحادیث نبویہ پوسٹ کریں ۔ غرضیکہ آج سوشل میڈیا  کا شعور رکھنے والا ہرمسلمان اسے استعمال کرکے دین کی تبلیغ کرسکتا ہے ۔تو آئیے ہم عہد کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ہم خیر کے ہرکارہ بنیں گے ،بھلائی کو فروغ دیں گے ،اور برائی پر ہرممکن روک لگانے کی کوشش کریں گے ۔اللہ ہمارا حامی وناصر ہو ۔رہے نام اللہ کا 
                                                         صفات عالم محمد زبیر تیمی
Safatalam12@yahoo.co.in                                                  

مکمل تحریر >>