اتوار, جنوری 19, 2014

کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود کو دھوکہ میں رکھ کر اپنی جان جوکھم میں ڈال سکتے تھے ؟

اگر قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تالیف ہوتا اورآپ اللہ کے مبعوث کئے گئے رسول نہ ہوتے تو کیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو دھوکہ میں رکھ کر اپنی جان جوکھم میں ڈال سکتے تھے ؟
میں آپ کے سامنے ایک واقعہ بیان کررہا ہوں آپ اپنی عقل سلیم سے اس پر غور کریں :
اللہ تعالی نے فرمایا:
 يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ  (سورة المائدة 67 )
اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے
 یہ قرآن کی آیت اوراللہ کا کلام ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا اورانہوں نے لوگوں کے سامنے اسے پیش کیا ۔ اس آیت کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
ایک شب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیدارتھے اورآپ پرپریشانی کے آثار دکھائی دے رہے تھے ،میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا: کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میری نگرانی کرتا ،آپ نے یہ فرمایاہی تھاکہ ادھر ہم نے ہتھیار کی آوازیں سنیں ، آپ نے فرمایا: کون ؟ کہا: سعد اورحذیفہ ....ہم آپ کی نگرانی کے لیے آئے ہیں ،چنانچہ آپ سوگئے یہاںتک کہ ہم نے آپ کے خراٹے کی آواز سنی ۔ اس کے بعد آپ پر( مذکورہ) آیت اتری ،تب آپ نے اپنا سر اٹھایااورفرمایا:
انصرفوا ایھاالناس فقد عصمنی اللہ (رواہ القرطبی )
"لوگو! لوٹ جاؤ ، اللہ نے ہماری حفاظت فرمائی "۔
بلجیکا کی ایک ریسرچ اسکالر خاتون نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعہ کے دوران جب اس نکتے پر پہنچی تو دنگ رہ گئی اور یہی نکتہ اس کی زندگی کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا ۔وہ کہتی ہے :
”اگر اس آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے سارے لوگوں کوفریب میں رکھا ہوتا تو یہ ممکن ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ خود اپنی زندگی کو دھوکہ میں ڈال دے ۔ اگر وہ پورے طور پر مطمئن نہ ہوتے کہ اللہ ان کی نگرانی کررہا ہے تو ایسا ہرگز نہ کرتے (کہ نگرانی کرنے والوں کو لوٹ جانے کا حکم دیں )، نگرانی کرنے والوں کو لوٹادینا اس بات کا عملی تجربہ ہے کہ ان کا اپنے خالق پر پورا بھروسہ تھا ۔ اس کے بعد کہتی ہے : اس لیے میں پورے یقین کے ساتھ کہتی ہوں کہ : اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا رسول اللہ  "میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے علاوہ اورکوئی معبودبرحق نہیں اورمیں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں-"
عزيز قارى ! اب آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ خود سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرکے دیکھیں ،جوآج سے چودہ سوسال پہلے کی زندگی ہے لیکن مکمل طور پر محفوظ ہے، ان کے پیغام کو پڑھیں ،ان کے گفتار اورکردار کا آپس میں مقابلہ کرکے دیکھیں ،منطق اورعقل سے اس پر غورکریں ،اگر ان کے گفتار اورکردار میں بالکل ہم آہنگی پائی جائے ،کوئی تضاد نہ ہوتو آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ ان کی تصدیق کریں ۔ ( rasoulallah.net)
مکمل تحریر >>

ہفتہ, جنوری 18, 2014

عالمی ہیرو كون ؟


کیاآپ بتاسکتے ہیں کہ آج تک دنیا میں کوئی ایسا انسان پیدا ہواہے ،جسے عالمی ہیروکہاجاسکے ؟ جس نے انسانیت کوایک مقصد ،ایک نصب العین اورایک پلیٹ فارم پر جمع کیاہو؟ جس نے بلاتفریق رنگ ونسل پوری انسانیت کی خیروبھلائی کاکام کیاہو؟ جس نے ایسانظام پیش کیاہوجو انسانیت کے جملہ شعبہ حیات کوسموئے ہوئے ہو ،اورجس کی تعلیمات کی بنیاد پر ہردورمیں ایک عالمی معاشرہ وجود میں آسکتاہو؟ کیاآپ ایسے کسی عظیم انسان کو جانتے ہیں ؟آئیے !سب سے پہلے ہم غیرمسلموںکی زبانی ہی اس عظیم انسان کی کھوج کرتے ہیں:

تاریخ کے اول انسان جو دینی اوردنیوی سطح پر کامیاب رہے : (ڈاکٹرمائیکل ایچ ہارٹ)

سن 1978 عیسوی میں نیویارک سے ایک کتاب چھپی ہے جس کانام ہے The Hundred ، اس کے مولف ڈاکٹرمائیکل ایچ ہارٹ مذہباًعیسائی ہیں ،انہوں نے اس کتاب میں دنیاپرانقلابی اثرات ڈالنے والی 100ہمہ گیرعالمی شخصیات کا تذکرہ کیا ہے اورعیسائی ہونے کے باوجود پہلے نمبر پرجس شخصیت کورکھاہے ،ان کانام نامی اسم گرامی محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ وہ کہتے ہیں:
 ”ہمارا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کواختیارکرناتاکہ انہیں تاریخ کی انقلابی شخصیات میں پہلے نمبرپررکھوں قارئین کوحیرت میں ڈال سکتاہے ،لیکن حقیقت یہ ہے آپ تاریخ کے محض ایک انسان ہیں ،جوآخری حدتک کامیاب رہے مذہبی سطح پر بھی اوردنیاوی سطح پربھی“ ۔
مزیدلکھتے ہیں:
”کتنے ایسے رسول ،انبیا ءاورحکماءہیں ،جنہوں نے عظیم پیغام کی شروعات کی لیکن اسے مکمل کئے بغیرمرگئے ،جیسے عیسی علیہ السلام عیسائیت کے پرچارمیں یاموسی علیہ السلام یہودیت کے پرچارمیں ،لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم وہ تنہا انسان ہیں جنہو ں نے اپنے دینی پیغام کومکمل کیا ، ان کی زندگی میں تمام قوموں نے ان کی دعوت کواپنایا ،انہوں نے دین کے ساتھ ساتھ ایسی حکومت کی طرح ڈالی جس کے ذریعہ انہوں نے قبائل کو ایک جماعت میں متحد کیا،قوموں کوایک امت میں ضم کیا، انسانی زندگی کے اصول وضوابط وضع کئے ،دنیاوی امورکے قاعدے بنائے اوراسے اس قابل ٹھہرایاکہ پورے عالم کی رہنمائی کرسکے،اس طرح محض آپ ہی کی ایک شخصیت ہے، جس نے دینی اوردنیاوی پیغام کی شروعات کی اوراسے بحسن وخوبی پایہ تکمیل کوپہنچایا“۔
یہ ہے مختصر تبصرہ ڈاکٹرمائیکل ایج ہارٹ کا ،جومذہباعیسائی تھے،اب ہمیں جواب دیجئے کہ آخر کیوں ایک عیسائی مؤلف حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو عالمی ہیرو ماننے پرمجبور ہوا اورآپ کودنیاکی سوانقلاب آفریں شخصیات میں پہلے نمبر پررکھا؟
جی ہاں ! اس لیے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہی نے انسانیت کوایک نصب العین پرجمع کیا،رنگ ونسل کاامتیازمٹایا،انسانی زندگی کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات پیش کیا، آپ محض ایک مذہبی انسان یاسیاسی حکمراں نہیں تھے،بلکہ آپ کاکردار زندگی کے ہرشعبہ میں نمایاں دیکھائی دیتاہے ۔

دنیا کی فکر اورزندگی پر اثر ڈالنے والا ہرمیدان کا عظیم قائد : (راما کرشنا راؤ)

پروفیسر ایس راماکرشنا راؤ کہتے ہیں:

 ”پیغمبر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کئی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں: ” محمدپیغمبر، محمدجنرل ،محمدحاکم ،محمدسپہ سالارجنگ ، محمدتاجر، محمدناصح، محمددانشور، محمدسیاست داں،محمدواعظ،محمدمصلح ،محمدیتیموں کے والی، محمدغلاموں کے محافظ، محمدصنف نازک کے رکھوالے، محمدمنصف، اورمحمدعابدوزاہد، اوران سارے میدانوں میں آپ کی حیثیت ایک عظیم قائد کی نظرآتی ہے ۔“
 یوں تودنیامیں بہت ساری تاریخ سازہستیاں پیداہوئیں لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے جو کارہائے نمایاں انجام دیااس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصرہے،آ پ وہ انسان ہیں ،جن کے جیسے زمین پرکوئی پیدا نہیں ہوا ،صرف تیئس برس کی مدت میں پورے عرب کی کایاپلٹ کررکھ دی ۔ 
وہ بجلی کا کڑکاتھایاصوت ہادی    

عرب کی زمین جس نے ساری ہلادی
پروفیسر راماکرشنا راؤکے بقول :
”آپ کے ذریعہ ایک ایسی ریاست کی تعمیر عمل میں آئی جومراکش سے لے کرانڈیزتک پھیلی اور جس نے تین براعظموں ایشیا افریقہ اوریورپ کی فکراورزندگی پر اپنااثر ڈالا“ ( اسلام کے پیغمبرمحمدصلی اللہ علیہ وسلم )

 انسانیت کانجات دہند ہ : ( برنارڈشا )

جو شخص بھی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی کابے لاگ مطالعہ کرے گاوہ آپ کوعالمی قائدہ ماننے پرمجبور ہوگا تب ہی تو معروف غیرمسلم دانشور برنارڈشانے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو پوری انسانیت کانجات دہندہ بتایاہے ،و ہ لکھتے ہیں :”میں نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کامطالعہ کیاہے، وہ نہایت عظیم انسان تھے ،میری رائے میں انہیں انسانیت کانجات دہند ہ کہنا چاہئے ، مجھے یقین ہے کہ اگر ان کے جیسا انسان موجود ہ دنیا کاحاکم کل ہوتا تو اس کے سارے پیچیدہ مسائل اس طرح حل کردیتاکہ انسا نی دنیا مطلوبہ سکون وشانتی سے مالامال ہوجاتی ۔“یہ ہے اعتراف ‘ایک غیرمسلم دانشور برنارڈشاکا ۔

تاصبح قیامت انسانیت کے لیے فرستادہ رسول:

 آپ ساری انسانیت اورجملہ مخلوق کے لیے رحمت تھے ،آپ کے علاوہ اس دنیامیں جتنے بھی انبیا ورسل آئے سب کواللہ تعالی نے اپنی اپنی قوم کے لیے بھیجاتھا ،نوح علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بھیجے گئے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بھیجے گئے ، حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بھیجے گئے ، حضرت ہود علیہ السلام قوم عاد کے لیے بھیجے گئے ، حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کے لیے بھیجے گئے ، حضرت شعیب علیہ السلام اہل مدین کے لیے بھیجے گئے ، اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام بنواسرائیل کی طرف بھیجے گئے ، خود بائبل اس کی گواہی دیتا ہے :”یسو ع نے کہا ! میں خداکی طرف سے اسرئیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی اور کے پاس نہیں بھیجا گیا“ ( متی باب 15درس 24 )
لیکن قرآن کریم کادعوی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کسی خاص زمانے ،کسی خاص قوم اور کسی خاص خطے کے لیے نہیں ہوئی بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہوئی تھی ، اللہ تعالی کافرمان ہے:
 وما أرسلناک الا کافة للناس بشیراونذیرا ولکن أکثرالناس لایعلمون (سورہ السبا آیت نمبر28)
 ”ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے(جنت کی ) خوشخبریاں سنانے والااور(جہنم سے )ڈرانے والا بناکربھیجاہے ۔ہاں! مگریہ صحیح ہے کہ لوگوں کی اکثریت بے علم ہے“ ۔ مطلب یہ کہ آپ ھادی عالم بن کر آئے ہیں تاہم آج آپ کوایک مخصوص قوم کا پیغمبر سمجھ لیاگیاہے ،اکثر لوگوں کو آپ کی آفاقی دعوت کا علم نہیں ہے ۔ دوسری جگہ فرمان عالی ہے:
قل یا أیھا الناس إنی رسول اللہ إلیکم جمیعا (سورہ الأعراف آیت نمبر 158)
 ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو!میں تم سب کی طرف اللہ کارسول ہوں “کس اللہ کا؟
الذی لہ ملک السماوات والأ رض
 ”وہ اللہ جوآسمان اورزمین کامالک ہے “ اورفرمان ربانی ہے :
 وما أرسلناک إلارحمة للعالمین (سورہ الأنبیا آیت نمبر 107)
”اورہم نے آپ کوتمام جہاں والوں کے لیے رحمت بناکربھیجاہے“۔
جی ہاں ! جس طرح اللہ رب العالمین کی الوہیت اورربوبیت عام ہے ،اسی طرح اللہ رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمة للعالمین فرماکرظاہرکر دیا ہے کہ آپ کی تعلیمات سب کے لیے اورسب کے فائدے کے لیے ہیں ۔بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں کے ساتھ جنوں کے بھی نبی تھے ،آپ کے پیغام کے مخاطب عالم انس وجن ہے، فرمان الہی ہے :
قل أوحی إلی أنہ استمع نفر من الجن فقالوا إناسمعنا قرآناعجبا یھدی الی الرشد فآ منا بہ ولن نشرک بربنا أحدا  (سورہ الجن آیت نمبر 2) 
”(اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اورکہاکہ ہم نے عجیب قرآن سناہے جوراہ راست کی طرف رہنمائی کرتاہے ، ہم اس پر ایمان لاچکے ،اب ہم ہرگز کسی کوبھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے“
مکمل تحریر >>

اسلام دین امن وراحت ہے


لفظ امن اپنے مشتقات کے ساتھ قرآن کریم میں 48 مقامات پرمستعمل ہواہے ،اورامن کی ضدفساد ہے اس کی قباحت وشناعت پر قرآن کریم کی کم وبیش پچاس آیتیں ملتی ہیں ،جس کامقصود یہ ہے کہ اسلام امن وآشتی کا علم بردار مذہب ہے ،سکون ،سلامتی اور اطمینان سے عبارت ہے ، اسلام کے سرتاپا امن وسلامتی ہونے کا ثبوت خود اس کے نام ہی سے ملتاہے، اسلام عربی لفظ ہے جوسلم سے نکلاہے اورسلم کے معنی امن وسلامتی کے آتے ہیں ۔اسی طرح لفظ”ایمان“بھی امن سے بناہے ،اوراس دین کوماننے والامومن کہلاتاہے ،اورمومن کے لفظی معنی ہیں ”امان دینے والا“اللہ تعالی کاایک صفاتی نام بھی المؤمن ہے اسی طرح اللہ تعالی کادوسراصفاتی نام ”السلام “ بھی ہے ۔
اسلام کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لیے ”رحمت“ ہیں ،اسلام کی آخری کتاب قرآن کریم کی شروعات ہی ”بسم اللہ الرحمن الرحیم “سے ہوتی ہے جس کامطلب ہے :”شروع کرتاہوں اللہ کے نام سے جونہایت مہربان بہت رحم کرنے والاہے“۔اسلام انسانوں کوجس جنت کی طرف بلاتاہے اس کانام ”دارالسلام “یعنی سلامتی کاگھرہے ،اورمسلمان بوقت ملاقات ”السلام علیکم “کے ذریعہ جس تحیہ کاآپسی تبادلہ کرتے ہیں اس میں سلامتی ہی سلامتی ہے ۔
عزیزقاری ! اسلام کی نظرمیں امن کی کیااہمیت ہے اس کاصحیح اندازہ اسی وقت ہوسکتاہے جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے کے حالات کاجائزہ لیں ،پھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد حالات میں کیاتبدیلیاں آئیں ان کوسامنے رکھیں ۔چنانچہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جوحالات تھے وہ یہی نہیں کہ انسانیت کفروشرک کی تاریکیوں میں بھٹک رہی تھی ،بلکہ ظلم وستم ،جوروتعدی ،فتنہ و فساد ،قتل وقتال ،لوٹ مار،خونرریزی اور رہزنی اپنے شباب پرتھی،بیواؤں پرظلم کرنا،یتیموں کوستانا،چلتے مسافروں کومارڈالنا،معمولی بات پرخاندان کے خاندان کوتہہ تیغ کردینا،حقداروں کوحق سے محروم کرنااوربچیوں کوزندہ درگورکردینا ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی ،کہیں امن وامان اورسکون واطمینان کانام ونشان نہ تھا ۔ایسے تاریک ترین دور میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہیں تو لوگوں کو توحیدخالص پرجمع کرتے ہیں ۔اب کیاتھا انسانیت ظلم وستم سے نجات پائی ،ہرطرف امن وامان کا بول بالاہوا ،ایک دوسرے کے خون کے پیاسے باہم شیروشکرہوگئے ،اگریقین نہ آئے توتاریخ سے پوچھو کہ کیسے خون کے پیاسے اورجان کے دشمن دل وجان سے گلے لگ رہے ہیں ، جانوں سے کھیلنے والے کیسے جانوں کے محافظ بن جارہے ہیں ،پردیسیوں کولوٹنے والے کیسے ان پرسب کچھ لٹانے کے لیے تیارہوجاتے ہیں ، بچیوں کوزندہ دفن کرنے والے بچیوں کی آنکھ میں آنسودیکھناگوارانہیں کرتے،اپنی ذات کے لیے جینے والے دوسروں کے لیے جینے لگتے ہیں۔غرضیکہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعدایساامن پسند،سکون نواز،اوراطمینان بخش معاشر ہ بناجس کی مثال پوری انسانیت پیش کرنے سے قاصرہے ۔
اسلام امن وسلامتی کاسبق سکھاتاہے ،حق وانصاف کاعلم بردارہے ،اس کی نظرمیں تمام بنی آدم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں:
 یا أیہا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدہ (سورة النساء 1)
 ”اے لوگو!”اپنے پر وردگارسے ڈرو جس نے تجھے ایک ہی جان سے پیداکیا“۔
اس طرح وہ فتنہ وفساد کادشمن ہے ،وہ ہرطرح کے فسادکومٹانے کی کوشش کرتا ہے ،قرآن کہتاہے :
واللہ لایحب المفسدین (سورہ المائدہ 64)
”اللہ تعالی فساد کرنے والوں کوہرگزپسندنہیں کرتا“(سورہ المائدہ64)
ولا تفسدوا فی الأرض بعد إصلاحھا  (سورہ الاعراف 56)
’زمین میں پیغمبروں کے ذریعہ اس کی اصلاح کے بعد فسادنہ کرو“(سورہ الاعراف 56) ولاتقتلو االنفس التی حرم اللہ الابالحق ”اورکسی جان کو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ“ (سورہ انعام 151)اسلام کی نظرمیں انسانی جان کااحترام اس قدرملحوظ ہے کہ کسی فردکے قتل ناحق کوپوری انسانیت کاقتل قراردیتاہے قرآن کہتاہے :
من قتل نفسا بغیر نفس أوفساد فی الارض فکأنما قتل الناس جمیعا ومن أحیاھا فکأنما أحیا الناس جمیعا (سورہ مائدہ آیت نمبر 32)
”جوکوئی کسی انسان کوجبکہ اس نے کسی کی جان نہ لی ہو یا زمین میں فساد برپانہ کیاہو ،قتل کرے تو گویااس نے تمام انسانوں کوقتل کرڈالا اورجوکسی ایک نفس کوزندہ کرے گویااس نے تمام انسانوں کو زندہ کیا“
 یعنی اگر کسی نے کسی کو ناحق قتل نہیں کیاہے ،زمین میں فسادنہیں مچایاہے،یاکوئی ایساسنگین جرم نہیں کیاہے جو اسے واجب القتل قراردے ایساانسان زندگی کاحق رکھتاہے ،جوشخص اس حق کو پامال کرتا اوراس کا نارواخون بہاتاہے اسلام کی نظرمیں وہ گویاسارے انسانوں کاخون بہارہاہے ،اس لیے کہ اس نے اپنے عمل سے دنیاکو یہ غلط راستہ دکھایاکہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ،تب ہی تو بغیرجرم کے اس نے ایک انسان کی جان لی ،اس کے برخلاف اگرکوئی قتل نا حق کے خلاف سینہ سپرہوگیااورکسی معصوم کی جان بچالی تواس نے تمام انسانوں کوزندگی عطا کردی اوراپنے اس کردارسے ثابت کردیاکہ کسی بھی انسان کی جان ،ناحق نہیں لی جا سکتی ۔
یہ ہے اسلام کانقطہ نظر ۔بالکل واضح اور دوٹوک !اسلامی دہشت گردی کا واویلا مچانے والے ذرااسلام کی اس تعلیم پرغور کریں ،اب ہمیں کوئی بتاسکتاہے کہ کیا ، دنیامیں کوئی ایسامذہب یاقانون ہے جس نے ایک فرد بشر کے قتل کوساری انسانیت کاقتل کراردیاہو؟نہیں اور ہرگزنہیں ،توپھر بات بالکل واضح ہے کہ اسلام نے انسانی جان کے احترام کی جتنے پرزورالفاظ میں تعلیم دی ہے ،اس کی مثال دنیاکے کسی قانون میں نہیں ملتی ۔
اسلام کوامن وامان اس قدر مطلوب ہے کہ غیرمسلم ذمی جواسلامی حکومت میں رہ رہے ہوں ،اسلامی حکومت ان کی جان مال اورعزت کے تحفظ کی ذمہ دار ہے ،اسی طرح وہ غیرمسلم جواسلامی حکومت کے ساتھ اچھے ہم سایوں کی طرح رہنے کے پا بند ہوں اسلام ا نہیں بھی جان مال اورعزت کا پورا تحفظ فراہم کرتا ہے ،صحیح بخاری کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 من قتل معاہدا لم یرح رائحة الجنة ( صحيح البخاري) 
”جوکوئی معاہدہ غیرمسلم کوقتل کردیتاہے ،وہ جنت کی ہواتک نہ پائے گا“۔
اورکیاآپ جانتے ہیں مسلمان کی تعریف کیاہے ؟ سنن ترمذی کی روایت کے مطابق رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
المسلم من المسلمون من لسانہ ویدہ والمؤمن من أمنہ الناس علی دمائھم وأموالھم (سنن الترمذی) 
”مسلم وہ ہے جس کی زبان درازیوں اوردست درازیوں سے مسلمان محفوظ رہیں ،اورمومن وہ ہے جس کی طرف سے لوگوں کواپنی جانوں اورمالوں کے بارے میں کوئی خطرہ نہ ہو “۔
جی ہاں! یہ مومن کی پہچان ہے کہ لوگ اس سے مامون رہیں ،اپنی جانوں کے معاملے میں بھی اوراپنے اموال کے معاملے میں بھی ۔اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم سے منع کیااورفرمایاکہ ظلم قیامت کی تاریکیوں میں سے ایک تاریکی ہے:
اتقواالظلم فإن الظلم ظلمات یوم القیامة، اتقوا الشح فإن الشح أھلک من کان قبلکم حملھم أن سفکوا دمائھم واستحلوا محارمھم (رواه مسلم) 
"ظلم سے بچو!کیوں کہ ظلم قیامت کی تاریکیوںمیں سے ایک تاریکی ہے ،اوربخل سے بچو!کیوں کہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کوبرباد کردیا،اس نے ان کواس بات پرابھاراکہ وہ آپس میں خونریزی کریں اوراپنے اوپرحرام کردہ چیزوں کوحلال گردانیں “۔
معاشرے میں امن وامان کے قیام کے لیے اس کے افراد کے بیچ خوش گوار تعلقات کاہموارہونانہایت ضروری ہے ،اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واللہ لایؤ من واللہ لایؤمن  ”اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا ،اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا “آپ نے فرمایا :
من لا یأمن جارہ بوائقہ (رواه البخارى ) 
 ”جس کے شرسے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں“
اسی طرح حجة الوداع کے موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوخطبہ دیاتھاوہ امن عالم کاحقیقی منشور ہے ،آپ نے فرمایاتھا:
 إن دماءکم وأموالکم حرام علیکم کحرمة یومکم ھذا،فی شھر کم ھذا ، فی بلدکم ھذا ( رواه مسلم ) 
 ”یقینا تمہارے خون اورتمہارے مال تم پرواجب الاحترام ہیں جیساکہ تمہارے اس شہر میں ،تمہارے اس ماہ میں ،تمہارے اس دن کی حرمت تم پر واجب ہے“ ۔
یہ ہیں قیمی ارشادات رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ۔جن پرسرسری نظرڈالنے سے یہ بات بالکل نکھر کرسامنے آجاتی ہے کہ آپ کی تعلیمات کاخلاصہ قیام امن ہی ہے ،ایک مومن کی شان نہیں کہ وہ خونریزی کرے ،اورسماج میں فساد مچائے ،ایمان اورخون ریزی میں تضاد ہے ،ایمان اوررہزنی میں منافات ہے ،ایمان اورایذارسانی میں زبردست مغایرت ہے ،دونوں کبھی یکجانہیں ہوسکتے ۔
امن کے پیغامبر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو امن کس قدر محبوب تھا ،اس کا عملی نمونہ دیکھنا ہوتونبوت سے پہلے کی زندگی پربھی ایک نظرڈال لی جائے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے امن وامان کی بحالی کے لیے حلف الفضول کے نام سے ایک انجمن قائم کی جس میں بنوہاشم ، بنومطلب، بنواسد، بنوزہرہ ، اوربنو تمیم کوشامل کیا چنانچہ آپ کی کوشش سے ممبران انجمن نے ان باتوں پراتفاق کیا کہ ”ہم ملک سے بدامنی کودور کریں گے “ ہم مسافروں کی حفاظت کریں گے ، ہم غریبوں کی امدادکرتے رہیں گے ، ہم زبردست کوزیردست پرظلم کرنے سے روکاکریں گے ،اس طرح آپ کی حسن تدبیرسے معاشرے میں امن وامان قائم ہوا اورلوگوں کے جان ومال اورعزت وآبروکی حفاظت ہونے لگی ۔
پھرایک وقت آیاکہ آپ کونبوت سے سرفرازکیاگیا،اورآپ نبوت کے ذمہ داریوں میں لگ گئے ، ادھردہشت گردوں کی دہشت گردی اپنے شباب پرپہنچ گئی تواللہ کی اجازت سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمایا۔یہاں آکرآپ نے قیام امن کے لیے بے پناہ کوششیں کی،جس کے نتیجہ میں اوس وخزرج کی طویل خانہ جنگیا ں ختم ہوئیں ،بھاچارگی کی فضاعام ہوئی ،سب باہم شیروشکر ہوگئے ،یہاں پرآپ نے قیام امن کے لیے بین الاقوامی معاہدے بھی کیے ،معاہدے کے دفعات پرمدینے کی تمام آباد قوموں کے دستخط لیے گئے ،اس کے بعد سفرکرکے گردونواح کے قبائل کوبھی اس معاہدہ میں شامل کیا ۔مقصدصرف یہ تھا تاکہ سماج میں امن وسکون قائم رہے ۔
پھرمدینہ میں قیام کے بعد کفارکے ساتھ جوغزوات یاجنگیں ہوئیں ان کامقصدبھی پائدارامن کاقیام تھا ،جن کاسلوگن تھاالاسلام دین وامن ، اسلام اللہ کادین اورامن کاپیغام ہے ،پھرامن وامان کے قیام کے خاطرہی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے لیے راضی ہوئے ،یہاں تک کہ وہ دین بھی آیاکہ دس ہزارکی تعداد میں مجاہدین مکہ میں داخل ہوگئے ،آج امن کی پہچان ہورہی تھی ،عالم گیرامن کی بنیاد ڈالی جارہی تھی ، کیاانسانیت اس عظیم انسان کی مثال پیش کرسکتی ہے کہ جن کومسلسل اکیس سال تک مشق ستم بنایاگیا،آج اپنے دشمنوںپرفتح پانے کے بعدانہیں کوامن کاپروانہ بانٹ رہاہے ۔۔اللہ اللہ قربان جائیے آپ اوردشمنوں کے حق میں آپ کے عفودرگزرپرآپ کاعلان ہوتاہے :
  لاتثریب علیکم الیوم اذھبوا وأنتم الطلقاء (ضعفه الألباني في الضعيفة 3/ 307)
”تم پرآج کوئی گرفت نہیں کی جائے گی ،جاؤتم سب آزاد ہو“۔ (ضعيف) 
 اگر دیکھو توفتح مکہ ایک زندہ قصیدہ ہے   

رسول اللہ کے عفوکرم کاشان رحمت کا
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ا سلام امن وآشتی کاجامع اورکامل پیغام ہے ،جوایسے افراد اورمعاشرے کی تشکیل کرتا ہے ،جوامن وپسند ہوں اورامن وامان کے محافظ بھی ہوں، مسلم قوم ہردورمیں ہرجگہ امن پسند ہوتی ہے ،امن کے قیام کے لیے جیتی ہے اوراسی کے لیے مرتی ہے ،مذہب اسلام میں اوراس کے ماننے والوں میں دہشت گردی نہیں آسکتی اوراگر آجائے تو اسے قبول نہیں کیاجاسکتا ۔
    
مکمل تحریر >>

بدھ, جنوری 15, 2014

گئو سالہ پرستی

انسان مذہبی اقدار کی طرف بغیر سوچے سمجھے مائل ہو جاتا ہے ، جو چیزیں اسے اپنی آنکھوں سے دكھائی دیتی ہیں ان پر فوری طور پر یقین کر لیتا ہے چاہے عقل اور ضمیر کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں ... ابھی میں قرآن میں  موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کی کہانی پڑھ رہا تھا کہ چالیس دن کے لئے اللہ کے حکم سے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنی قوم کی دیکھ بھال کے لئے چھوڑ کر طور پہاڑ پر چلے گئے ، جب لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ ان کی قوم گئو سالہ پرستی میں مبتلا ہو چکی ہے " سامری " نامی ایک گمراہ شخص نے بچھڑا بنایا اور ان کی قوم کو ان کی عبادت کی طرف دعوت دی ، یہاں تک کہ موحد قوم نے ایک اللہ کو بھول کر بچھڑے کی پوجا شروع کر دی . ( تفصیل کے لیےدیکھئے قرآن ، سور طہ 85 - 98 )
مکمل تحریر >>