پیر, اکتوبر 14, 2013

خطبہ حجة الوداع پر ايک نظر

ہجرت کے دسويں سال اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم فريضہ حج کی ادائيگی کے لئے نکلے تاکہ ارکان اسلام کی عملی شکل ميں تکميل ہوجائے اور لوگ آپ سے مناسک حج کا طريقہ سيکھ ليں ۔ اب تک لوگ آپ سے نماز روزہ اور زکاة کا طريقہ سيکھ چکے تھے اور حج کا طريقہ سيکھنا باقی تھا چنانچہ ذی القعدہ ميں اعلان کرديا گيا کہ امسال اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم حج کے لئے نکلنے والے ہيں ،يہ خبر پورے ملک ميں پھيل گئی اورکيا صحرا کيا ديہات ہرطرف سے لوگ جوق در جوق مدينہ اکٹھا ہوگئے جن کی تعداد تقريبا ايک لاکھ چاليس ہزار تھی حالانکہ يہی وہ لوگ ہيں جو چند سال پہلے آپ صلى الله عليه وسلم کے خون کے پياسے تھے ليکن آج آپ کی صحبت ميں حج کرنا اپنے لئے سعادت سمجھ رہے ہيں ۔ 29 ذی القعدہ کو صحابہ کرام کا يہ عظيم قافلہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی معيت ميں مدينہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوا اور نو دن ميں مکہ پہنچ گيا ۔
آج ذی الحجہ کی نويں تاريخ ہے ، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ سورج ڈھلنے کے بعد مقام عرفہ ميں پہنچ چکے ہيں ، يہاں آپ نے ايک لاکھ چاليس ہزاراہل ايمان کے مجمع ميں اپنی اونٹني پر سوار ہوکر ايک خطبہ ارشاد فرمايا جسے ہم خطبہ حجة الوداع کے نام سے جانتے ہيں ۔ آج کے حلقے ميں ہم اسی خطبے پر ايک نظر ڈالنے کی کوشش کريں گے ۔
محترم قارئين ! خطبہ حجة الوداع اسلام کے انفرادی واجتماعی اخلاقيات اور اصول شريعت کا ايک جامع نصب العين ہے،آپ صلى الله عليه وسلم کی تئيس سالہ جد وجہد کا حاصل اور اسلامی تعليمات کا لب لباب ہے ۔اگر کوئی اسلام کا تعارف چاہتا ہے تو اس کے لئے اس خطبہ کا مطالعہ کافی ہے، اگر کوئی اسلام کی ترجمانی چاہتا ہے تو يہ خطبہ اس کے لئے رہبر ہے اور سب سے بڑھ کر يہ کہ خطبہ حجة الوداع حقوق انسانی کا عالمی منشوراور ہيومن چارٹر کی حيثيت رکھتا ہے ۔ آج مغرب کا دعوی ہے کہ وہی حقوق انسان کے حقيقی علمبردار ہيں۔ کاش انہوں نے سيرت مصطفی صلى الله عليه وسلم کا مطالعہ کيا ہوتا اور خطبہ حجة الوداع کے مشتملات پر غور کيا ہوتا تو انہيں پتہ چل جاتا کہ آج سے چودہ سوسال پہلے رسول رحمت صلى الله عليه وسلم نے انسانی حقوق کا چارٹر نافذ کيا تھا -
 آپ صلى الله عليه وسلم نے اللہ تعالی کی حمد وثنا کے بعد خطبے کی ابتداء يوں فرمائی :۔ ”الله کے سوا کوئی معبود برحق نہيں وہ يکتا ہے ،کوئی اس کا ساجھی نہيں،خدا نے اپنا وعدہ پورا کيا ، اس نے اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور تنہا اسی کی ذات نے باطل کی ساری مجتمع قوتوں کو زيرکيا “ لوگو!ميری بات سنو! ميں نہيں سمجھتا کہ آئندہ کبھی ہم اس طرح کسی مجلس ميں يکجا ہوسکيں گے( اور غالبا اس سال کے بعد ميں حج نہ کر سکوں گا )
چنانچہ آپ صلى الله عليه وسلم نے سب سے پہلے رنگ و نسل کی تفريق مٹاتے ہوئے فرمايا: لوگو! اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
 ’’يا أيھاالناس إنا خلقناکم من ذکر وأنثی وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أکرمکم عنداللہ أتقاکم‘‘
 "انسانو!ہم نے تم سب کو ايک ہی مرد وعورت سے پيدا کيا ہے اور تمہيں جماعتوں اور قبيلہ ميں بانٹ ديا کہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو تم ميں زيادہ عزت وکرامت والا اللہ کی نظروں ميں وہی ہے جو اللہ تعالی سے زيادہ ڈرنے والا ہے "“
نہ کسی عرب کو عجمی پر کوئی فوقيت حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر، نہ کالا گورے سے افضل ہے اور نہ گورا کالے سے ، ہاں بزرگی اور
 فضيلت کا کوئی معيار ہے تو وہ تقوی ہے “۔
انسان سارے ہی آدم کی اولاد ہيں اور آدم کی حقيقت اس کے سوا کيا ہے کہ وہ مٹی سے بنائے گئے ۔ اب فضيلت وبرتری کے سارے دعوے ميرے پاؤ ں  تلے روندے جاچکے ہيں “
جان ومال اور عزت وآبرو کے احترام کی تاکيد کرتے ہوئے فرمايا :
 إن دماءکم وأموالکم وأعراضکم عليکم حرام کحرمة يومکم ھذا فی بلدکم ھذا فی شھرکم ھذا (بخاری)
" يقينا تمہارے خون مال اورعزت آپس ميں اس طرح قابل احترام ہيں جيسے تمہارا يہ دن ،تمہارا يہ شہر،اورتمہارا يہ مہينہ محترم ہے "
ان مختصرليکن جامع کلمات ميں جان کی حرمت کا اعلان کيا ، مال کی حرمت کا اعلان کيا اور عزت وآبرو کی حرمت کا اعلان کيا ۔ انسان کی جان اسلام کی نظرميں اسقدر محترم ہے کہ اس نے ايک انسان کے قتل ناحق کو ساری انسانيت کا قتل قرار ديا ، خودکشی سے منع فرمايا اور اس کی سخت وعيديں بيان کی ،قاتل کے لئے يہ سزا متعين کی کہ اس کے بدلے قاتل کو قتل کياجائے تاکہ سماج ميں ايسے عناصر پنپنے نہ پائيں،اسلام نے جان کےاحترام کی خاطر ايسی ان ساری چيزوں کوناجائزٹھہرايا جو انسانی جان کی ہلاکت وبربادی کا سبب بنتی ہوں جيسے شراب اور ديگر نشہ آور چيزوں کا استعمال وغيرہ ۔
جان ہی کی طرح اسلام کے نزديک مال کا بڑا احترام اور قدر ومنزلت ہے چنانچہ اسلام نے حصول مال کی ترغيب دی اور اس کی حفاظت کا حکم ديا يہاں تک کہ اگر کوئی اس کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کرديا جائے تو اسے شہادت کا درجہ ديا:
 ’’من قتل دون مالہ فھو شہيد‘‘ (ترمذی)
"جو اپنے مال کی حفاظت کے سلسلے ميں قتل کرديا جائے وہ شہيد ہے "۔
صحيح مسلم کی روايت ميں ہے کہ ايک شخص نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے سوال کيا : اے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم! اگرکوئی ميرا مال مجھ سے زبردستی لينا چاہے توميں کيا کروں ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : تم اپنا مال اس کے حوالے نہ کرو ،اس نے کہا : اگر وہ مرنے مارنے پر آ مادہ ہوجائے توکيا کيا جائے ؟ آپ نے فرمايا: مقابلہ کرو ۔ اس نے کہا : اگر وہ غالب آجائے اورمجھے قتل کردے تو ؟ آپ نے فرمايا : اس وقت تُو شہيد ہوگا ۔
اسی طرح اسلام نے حصول مال کے ان سارے راستوں کو بند کرديا جن سے کسی کی حق تلفی ہوتی ہو چنانچہ چوری، ڈکيتی ، غصب ، رشوت ، اور سود وغيرہ کے ذريعہ مال حاصل کرنے سے منع فرمايا اوراس کی سخت وعيديں بيان فرمائیں۔
مال کے احترام ہی کی خاطر اسے غلط راستوں ميں خرچ کرنے سے منع کيا اور ضرورت سے زيادہ خرچ کرنے والوں کو شيطان کا بھائی قرار ديا، ارشاد ربانی ہے:
 ولا تبذر تبذيرا إن المبذرين کانوا إخوان الشياطين... (بنی اسرائيل 72)  
"اسراف اور بيجا خرچ سے بچو، بيجا خرچ کرنے والے شيطانوں کے بھائی ہيں"۔
عزت وآبروکی حرمت پر بھی اسلام نے خاص دھيان ديا ، جنس کو نہ بے لگام کيا کہ بہيميت پيدا ہو جائے اور نہ ہی اس کا دروازہ بند کيا کہ رہبانيت آجائے بلکہ شادی کے پاکيزہ رشتے سے اسے جوڑ ديا ۔ زنا جس سے عزت وآبرو نيلام ہوجاتا ہے اسلام نے نہ صرف اس پر روک لگايا بلکہ اس ميں ملوث ہونے والوں کے لئے سخت سزا بھی متعين کی کہ اگر اس جرم کا ارتکاب شادی شدہ کرے تواسے رجم کيا جائے اور غيرشادی شدہ کرے تو اسے سو کوڑے لگائے جائيں اور ايک سال کے لئے شہر بدر کرديا جائے ۔۔ عزت وعصمت کی حفاظت کی خاطر ہی اسلام نے اس شخص کی سزا اسی کوڑے متعين کيا جو کسی پاکدامن مرد يا عورت پر زنا کا الزام لگايا پھر چارگواہ نہ پيش کرسکا۔ 
پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے جاہلی طور طريقوں پر تيشہ زنی کرتے ہوئے فرمايا کہ ”زمانہ جاہليت کا سب کچھ ميں نے اپنے پيروں سے روند ديا ، زمانہ جاہليت کے خون کے سارے انتقام اب کالعدم ہيں ۔ پہلا انتقام جسے ميں کالعدم قرار ديتا ہوں ميرے اپنے خاندان کا ہے ،ربيعہ بن الحارث کے دودھ پيتے بيٹے کا خون جسے بنو ہذيل نے مار ڈالا تھا اورجو اب تک فيصلہ طلب تھا اب ميں معاف کرتا ہوں۔
 اسی طرح سودی کاروبارپر نقد کرتے ہوئے فرمايا کہ دور جاہليت کا سود اب کوئی حيثيت نہيں رکھتا پہلا سود جسے ميں ترک کرتا ہوں عباس بن عبدالمطلب کے خاندان کا سود ہے ، اب يہ ختم ہو گيا ۔
آج کے قانون ساز اور حکمراں جب قانون بناتے ہيں تو سب سے پہلے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس سے اپنے قرابت داروں کو مستثنی کرليں ليکن ذرا نبی رحمت صلى الله عليه وسلم کا انصاف ديکھو کہ جب قانون بناتے ہيں توسب سے پہلے اپنے خاندان کے لوگوں پر اسے نافذ کرتے ہيں۔
 اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے معاشرتی زندگی کے استحکام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمايا :
فاتقوا اللہ فی النساء فإنکم أخذتموھن بأمان اللہ واستحللتم فروجھن بکلمة اللہ ولکم عليھن أن لا يوطئن فرشکم أحد تکرھونہ۔فان فعلن ذلک فاضربوھن ضربا غيرمبرح ولھن رزقھن وکسوتھن بالمعروف.
" ديکھو!عورتوں کے سلسلے ميں اللہ کا ڈر رکھنا ، کيونکہ تم نے انہيں اللہ تعالی کی امان کے ساتھ حاصل کيا ہے، اور تم نے اللہ کے کلمہ کے ذريعہ ان کی عزت وناموس کو اپنے لئے حلال کيا ہے ۔ اورعورتوں پربھی تمہارا يہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ايسے شخص کو نہ بلائيں جسے تم پسند نہيں کرتے اور وہ کوئی خيانت نہ کريں، کوئی کام کھلی بے حيائی کا نہ کريں اور اگر وہ ايسا کريں تو اللہ تعالی کی جانب سے اس کی اجازت ہے کہ تم انہيں معمولی جسمانی سزا دواور وہ باز آجائيں ۔اور ان کا تم پر يہ حق ہے کہ تم انہيں بھلائی کے ساتھ کھلاؤاور پہناؤ"۔
ازدواجی زندگی ہی وہ اکائی ہے جس سے معاشرے کی تشکيل ہوتی ہے اگر يہاں اختلاف در آيا تو زندگی اجيرن بن جاتی ہے ، خاندانی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور بچوں پر بھی اس کے بُرے اثرات مرتب ہوتے ہيں چنانچہ اللہ کے رسول نے مياں بيوی دونوں کے حقوق وفرائض بيان فرمايا تاکہ لوگ ان تعليمات کی روشنی ميں خوشگوار ازدواجی زندگی گذار سکيں ۔
آپ صلى الله عليه وسلم نے امانت کی اہميت پر زور ديتے ہوئے فرمايا :
فمن کان عندہ أمانة فليؤدھا إلی من ائتمن عليہا
 " اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ اس بات کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کو امانت پہنچا دے" ۔۔ کيا آپ نے سنا نہيں کہ ہجرت مدينہ کے موقع سے کفار قريش آپ صلى الله عليه وسلم کے قتل کا ناپاک ارادہ کئے آپ کے گھرکی گھيرابندی کر چکے ہيں اور سب تلواريں بے نيام کئے آپ کے نکلنے کا انتظار کر رہے ہيں ليکن آپ کو ايسے کشيدہ حالات ميں بھی امانت کی فکر ستا رہی ہے ۔ اور امانت بھی دشمنوں کی ہی تھی ، ايک طرف دشمن خون کے پياسے ہيں تو دوسری طرف آپ کو انہيں کی امانت کی فکر کھائے جا رہی ہے يہاں تک کہ اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی رضى الله عنه کو اپنے بستر پر سلا کر انہيں بتا ديتے ہيں کہ فلاں فلاں کی امانتيں ہمارے پاس ہيں انہيں صبح ميں انکے حوالے کردينا پھر وہاں سے نکلتے ہيں -
اس کے علاوہ بھی آپ نے بہت ساری باتوں کی نصيحت فرمائی چنانچہ فرمايا :
 ” لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس ميں بھائی بھائی ہيں ، اپنے غلاموں کا خيال رکھو، ہاں! غلاموں کا خيال رکھو،انہيں وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو، ايسا ہی پہناؤجيسا تم پہنتے ہو “ -
لوگو! اللہ نے ہر حقدار کو اس کا حق خود دے ديا اب کوئی کسی وارث کے حق کے لئے وصيت نہ کرے “ بچہ اسی کی طرف منسوب کيا جائے گا جس کے بستر پر وہ پيدا ہوا ، اور جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزا پتھر ہے۔ حساب وکتاب اللہ کے ہاں ہوگا ” جو کوئی اپنا نسب بدلے گا، اس پر خدا کی لعنت  ہے “
”قرض قابل ادائيگی ہے ، عاريتاً لی ہوئی چيز واپس کرنی چاہيے، تحفے کا بدلہ دينا چاہئے ، اور جو کوئی کسی کا ضامن بنے وہ تاوان ادا کرے “
” کسی کے لئے جائز نہيں کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے ، سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور خوشی خوشی دے ۔ خود پر اور ايک دوسرے پر زيادتی نہ کرو “
اس کے بعد آپ نے امت محمديہ يعنی صحابہ کرام کے سامنے وہ لائحہ عمل پيش کيا جس پر کاربند ہوکر وہ دنيا وآخرت دونوں ميں سربلند و سرخرو ہوسکتے ہيں چنانچہ آپ نے فرمايا :
 وقد ترکت فيکم ما لن تضلوا بعدہ ، أن اعتصمتم بہ کتاب اللہ –
"ميں تمہارے درميان ايک چيز چھوڑے جاتا ہوں کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو سکوگے اگر اس پر قائم رہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے "-
"اور ہاں ! ديکھو دينی معاملات ميں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے کے لوگ انہيں باتو ں کے سبب ہلاک کر ديئے گئے“ ۔” شيطان کو اب اس بات کی کوئی توقع نہيں رہ گئی ہے کہ اب اس کی اس شہر ميں عبادت کی جائے گی ،ليکن اس کا امکان ہے کہ ايسے معاملات ميں جنہيں تم کم اہميت ديتے ہو اس کی بات مان لی جائے اور وہ اِسی پر راضی ہے اسلئے تم اس سے اپنے دين وايمان کی حفاظت کرنا ۔ “"لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو ، پانچ وقت کی نماز ادا کرو ، مہينے بھر کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکاة خوش دلی کے ساتھ ديتے رہو ، اپنے رب کے گھر کا حج کرو اور اپنے اہل امر کی اطاعت کرو تواپنے رب کی جنت ميں داخل ہو جاؤگے “
"اب مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمے دار ہوگا اور اب نہ باپ کے بدلے بيٹا پکڑا جائے گا ، نہ بيٹے کا بدلہ باپ سے ليا جائے گا ۔ سنو! جو لوگ يہاں موجود ہيں انہيں چاہئے کہ يہ احکام اور يہ باتيں ان لوگوں کو بتاديں جو يہاں نہيں ہيں ۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی غيرموجود تم سے زيادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو"-  

خطبے کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : ’’وأنتم تسألون عنی فما أنتم قائلون؟ "لوگو! تم سے ميرے بارے ميں پروردگار کے ہاں سوال کيا جائے گا، بتاؤتم کيا جواب دوگے ؟ لوگوں نے جواب ديا: ’’نشھد أنک قد بلغت وأديت ونصحت‘‘ ہم اس بات کی شہادت ديں گے کہ آپ نے امانت (دين) پہنچا دی، اور آپ نے حق رسالت ادا فرما ديا، اور ہماری خيرخواہی فرمائی ۔ يہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تين مرتبہ فرمايا : اللھم اشہد ، اللھم اشہد ، اللھم اشہد ،اے الله گواہ رہنا ، اے الله گواہ رہنا ، اے الله گواہ رہنا ۔

مکمل تحریر >>

جمعرات, اکتوبر 10, 2013

سیرت براہیمی کے چند درخشاں پہلو



  
ابراہیم علیہ السلام ان پانچ اولو العزم پیغمبر وں میں سے ایک ہیں جن كو اللہ تعالیٰ نے پختہ عہد وپیمان لیا تھا، یہ وہ نبی ہیں جنہیں اللہ تعالی نے انسانی طاقت وقوت سے بڑھ کر آزمایا، اور وہ ہرامتحان میں کلی طور پر کامیاب اترے، یہ وہ نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کا امام ہونے کا اعزاز بخشا، یہ وہ نبی ہیں جن کی ذریت سے نبوت ورسالت کا سلسلہ شروع ہوا ان کے آنے والے سارے انبیاء حتی کہ خاتم النبیین محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں کی نسل سے تھے، یہ وہ نبی ہیں کہ جب اللہ نے ان سے کہا کہ تابع ہو جاﺅ تووہ فوراً اللہ کے تابع ہو گيے، یہ وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے ہمیں مسلمان کا لقب دیا ۔ یہ وہ بندئہ ربانی ہیں جو ”خلیل اللہ“ جیسی امتیازی اورگران قدر صفت سے متصف ہوئے۔

قرآن کریم ابراہیم علیہ السلام کی ولادت یا سن طفولت کی بابت بالکل خاموش ہے، البتہ اس زمانے کی اجتماعی ومعاشرتی اور دینی صورتحال کی طرف اشارہ ضرورکرتا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت لوگ 3 جرگوں میں بٹے ہوئے تھے، ایک جماعت پتھرو لکڑی سے تراشی گئی مورتیوں کی پوجا کرتی تھی، دوسری جماعت چاند وسورج اورستارے کی پرستش کرتی تھی، جب کہ تیسری جماعت بادشاہوں اورحکام کے سامنے سر خم کیا کرتی تھی ۔
اس مشرکانہ اوردھریت کے گھناونے ماحول میں مشرکین کے ایک پروہت ”آزر‘’ کے گھرابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ہوتی ہے، آزرنہ صرف بت پرست تھا بلکہ بت گر بھی تھا اور اسی بت پرستی کی وجہ سے سماج میں امتیازی حیثیت رکھتا تھا ۔
وقت گزرتا رہا، ابراہیم علیہ السلام سن شعور کو پہنچ گيے، بچپنے ہی سے ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کی بت پرستی اوربت گری کو کراہیت بھری نظر سے دیکھتے تھے اورسوچتے تھے کہ یہ بت نہ کھا سکتے ہیں نہ پی سکتے ہیں، نہ بول سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں توآخر لوگ ان بتوں کے تیئں نفع ونقصان کا تصور کیسے رکھتے ہیں:
 چنانچہ آپ نے چاند وسورج اورستاروں کى پوجا کرنے والوں کو نہایت حکمت علی اورمنطقی انداز میں سمجھایا ۔ جب رات کی تاریکی چھاگئی تو آپ نے ایک ستارہ دیکھا آپ نے فرمایا : یہ میرارب ہے ۔اس طرح قوم کو اطمینان ہونے لگا کہ شاید ابراہیم ستاروں کی پوجا شروع کر دیں گے، مگرجب وہ غروب ہوگیا توصبح ہوتے ہی کہنے لگے ! میں غروب ہوجانے والے سے محبت نہیں رکھتا. دوسری رات جب چاند کو دیکھا چمکتا ہوا توقوم سے کہنے لگے: یہ میرارب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قوم اس قدرذہانت کی مالک نہیں تھی کہ سمجھ لے کہ ابراہیم نرمی اورحکمت عملی سے ان کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں کہ آخر وہ ایسی چیزکی عبادت کیسے کرتے ہیں جو چھپتا ہو پرظاہر ہوتا ہو، ڈوبتا ہوپھرطلوع ہوتا ہو، جب پہلی مرتبہ نہ سمجھ سکے تو دوسری رات چاند کودیکھ کر ایسا کہا، تاہم چاند بھی تو عام ستاروں کے جیسے طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے، چنانچہ جب چاند غروب ہوگیا توابراہیم علیہ السلام نے کہا:
 لئن لم یھدنی ربی لأکونن من القوم الظالین ۔
”اگرمجھ کومیرے رب نے ہدایت نہ کی تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاﺅں گا ۔“
 لیکن اب بھی قوم حقیقت کی تہہ تک نہ پہنچ سکی چنانچہ جب صبح سورج نکلا تو بطورتمام حجت میں فر مایا: 
یہ میرارب ہے یہ تو سب سے عظیم ہے پھر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو آپ نے مناظرہ ختم کرتے ہوئے ان کے شرک سے بیزاری کا علان کیا:

یاقوم إنی بریء مما تشرکون إنی وجھت وجھی للذی فطرالسموات والأرض حنیفا وما أنا من المشرکین “
اے میری قوم، بے شک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں، میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیایکسو ہوکر، اورمیں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔                     
                                  آنکھ والا تیری قدرت کا تماشہ دیکھے
                                   دیدہ کور کو کیا آئے نظرکیا دیکھے
پھر آپ بت پرستوں سے مناظرہ کرنے کے ليے اس کے پاس آئے، اپنے باپ اورقوم کومخاطب کرتے ہوئے کہا:
 ماھذہ التماثیل التی أنتم لھا عاکفون؟
 یہ مورتیاں جن کے تم پجاوربنے بیٹھے ہو کیا ہیں؟
قالوا وجدنا آباءنا لھاعابدین
”سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کوانہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا۔“
آج بھی جہالت وخرافات میں پھنسے ہوئے مسلمان کوبدعات ورسوم جاہلیہ سے روکا جاتا ہے تو وہ فورا جواب دیتے ہیں ہم انہیں کس طرح ترک کردیں جبکہ ہمارے آباء واجداد بھی یہی کچھ کرتے آرہے ہیں، آپ نے فرمایا:
’’لقد کنتم أنتم وآباءکم فی ضلال مبین‘‘
یعنی ہمارا اعتراض جوتم پرہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے ایک گمراہی میں تمہارے اگلے مبتلاہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہوجاﺅ وہ بھلائی بننے سے رہی، میں کہتاہوں کہ تم اورتمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہوگيے ہواورکھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو-
 اب توان کے کان کھڑے ہوگيے کیوں کہ انہوں نے اپنے عقلمندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ داداﺅں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی توگھبراگيے اورکہنے لگے، ابراہیم! کیا واقعی تم تھیک کہہ رہے ہو یامزاق کررہے ہو؟
 ہم نےتوایسی بات کبھی نہیں سنی، آپ کودعوت کاموقع ملا اورصاف علان کیا
”قال بل ربکم رب السموات والأرض الذی فطرهن وأنا علی ذالکم من الشاھدین “
یعنی رب توصرف خالق آسمان وزمین ہی ہے، تمام چیزوں کاخالق مالک وہی ہے، تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیزکے نہ خالق ہے نہ مالک پھرمعبود ومسجود کیسے ہوگيے؟ میری گواہی ہے کہ خالق ومالک اللہ ہی لائق عبادت ہے، نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود.
اسی طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بت پرست وبت گر باپ آزرسے بات کی:
”إذ قال لأبیہ یٰأبت لم تعبد ما لایسمع ولا یبصر ولایغنی عنک شیئا، یٰأبت إنی قد جاءنی من العلم ما لم یأتک فاتبعنی أھدک صراطا سویا ٰیأبت لا تعبد الشیطن إن الشیطن کان للرحمٰن عصیا (سورہ مریم:42۔44)
” ابا آپ ان کی پوجا پاٹ کیو ں کر رہے ہیں جونہ سنیں نہ دیکھیں، نہ آپ کوکچھ بھی فائدہ پہنچا سکیں، میرے مہربان باپ! آپ دیکھتے میرے پاس وہ علم آیاہے جوآپ کے پاس آیاہی نہیں، توآپ میری ہی مانیں میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی رہبری کروں گا، میرے ابا آپ شیطان کی پرستش سے باز آجائیں، شیطان تو رحم وکرم والے اللہ تعالیٰ کا بڑاہی نافرمان ہے، اباجی! مجھے خوف لگاہواہے کہ کہیں آپ پرعذاب الٰہی نہ آجائے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں “۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے باپ کے ادب واحترام کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت شفقت اور پیار کے لہجے میں باپ کو توحید کا وعظ سنایا تھا لیکن مشرک باپ نے اس نرمی اور پیار کے جواب میں نہایت درشتی اورتلخی کے ساتھ موحد بیٹے کو کہا:
 ”قال أراغب أنت عن اٰلھتی یا إبراھیم لئن لم تنتہ لأرجمنک واھجرنی ملیا“  
" اے ابراہیم کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کررہاہے، سن اگرتوبازنہ آیا تومیں تجھے پتھروں سے مارڈالوں گا، جا ایک مدت درازتک مجھ سے الگ رہ."
آپ کاجواب تھا۔
قال سلام علیک سأستغفرلک ربی إنہ کان بی حفیا وأعتزلکم وما تدعون من دون اللہ وادعو ربی عسی ألا أکون بدعاء ربی شقیا (سورہ مریم:47-48)
اچھا تم پر سلام ہو،میں اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا وہ مجھ پرحد درجے مہربان ہے، میں تو تمہیں بھی اورجن جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی ترک کررہا ہوں، صرف اپنے پروردگارکو ہی پکارتا رہوں گا ، مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگنے میں محروم نہ رہوں گا . 

ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دل میں یہ بات ٹھان لی تھی ،کہ ان کے بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کیا جائے ،آپ ے سوچا کہ انکے عید کادن جومقرر ہے اسی دن یہ کام بحسن وخوبی پايہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے،عید کے دن جب ان سے عید میں شرکت کی فرمائش کی گئی توآپ نے فرمایا کہ میں بیمار ہوں، جب سب لوگ مراسم کفربجا لانے کے لئے نکل گئے، تو ایک تیزکلہاری ليے بت خانے میں داخل ہوئے اورسارے بتوں کے ٹکرے ٹکرے کردیا، صرف بڑے بت کو رہنے دیا تاکہ ان کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کردیا ہو.
جب مشرکین میلے سے واپس آئے تو سارے معبود وں کو منہ کے بل اوندھے گرے دیکھ کر ان کے پیروں سے زمین کھسک گئی ۔اور کہنے لگے کہ یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودں کی ایسی اہانت کی ؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم نے ابراہیم کو اپنے ان معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے ۔
قوم کے لوگوں نے مشورہ کیا کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ، پھراس کی سزا دو، چنانچہ مجمع ہوا، سب لوگ آگئے، حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کى حیثيت سے موجود ہوئے، آپ سے سوال ہوا کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے ؟ اس پر آپ نے فرمایا:
”بل فعلم کبیر ہم ہذا فاسئلوہم إن کانو اینطقون “
بلکہ يہ کام تو ان کے اس بڑے نے کیا ہے، تم اپنے ان معبودوں سے ہی پوچھ لو اگر بولتے چالتے ہوں، اس سے مقصود یہ تھا کہ یہ لوگ خود بخود یہ سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے ؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں ۔ اس تحکمانہ جواب نے انہیں تھوڑی دیر کے ليے ہلا کر رکھ دیا، سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے خود غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کے ليے نہ رکھا اورچلے گئے، پھرغوروفکر کے بعد یہ بات بنائی کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ ہم ان سے پوچھ لیں توکیا تمہیں علم نہیں کہ وہ بولتے نہیں ہیں...؟ ۔
اب ابراہیم علیہ السلام کو خاصا موقع مل گیا، ذرا تلخ لہجے میں ان سے مخاطب ہوئے:
 ”قال أفتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم أف لکم ولما تعبدوں من دون اللہ أفلا تعقلون “(سورہ الأنبیا:66۔67)
افسوس کہ تم ان کی عبادت کرتے ہو جونہ تمہیں کچھ بھی نفع پہنچا سکیں نہ نقصان ،تف ہے تم پراوران پر جن کی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو،کیا تمہیں اتنی سی عقل بھی نہیں.
محترم قارئین! قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہوجاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے، یا بدی غالب آجاتی ہے ۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا، اوراپنے دباؤکا مظاہرہ کرنے کے ليے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلانے کا فیصلہ کر بیٹھے، لکڑیاں جمع کی گئیں، زمین میں ایک وسیع اورنہایت گہرا کنواں کھودا، لکڑیوں سےاسے پرکیا اور اس میں آگ لگا دی گئی ، آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق کے ذریعہ آگ میں ڈال دیا گیا، اس وقت جبکہ آپ کو آگ میں ڈالا جا رہا تھا،آپ نے فرمایا:
 حسبی اللہ ونعم الوکیل
"اللہ تعالیٰ ہمارے کئے کافی ہے اوروہ بہترین کارساز ہے"
 چنانچہ آگ کو حکم الہٰی پہنچا:
یانار کونی بر دا وسلاما علی ابراہیم
"اے آگ تو ٹھنڈی ہوجا!اورابراہیم کے ليے سلامتی اور آرام کی چیزبن جا" ۔
ہر طرف آگ کے شعلے نکل رہے تھے، اس میں خلیل اللہ کوڈال دیا گیا تھا لیکن آگ نے آپ کو چھوا تک نہیں، یہاں تک اللہ عزوجل نے بالکل ٹھنڈا کردیا۔

آج کے اس پر فتن دور میں جبکہ کفرکی طاقتیں منظم انداز میں اسلام اوراہل اسلام کو مٹانے کے درپے لگی ہوئی ہیں ضرورت ہے اسی ابراہیمی ایمان کی:
            یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے
           ضم کدہ ہے جہاں لاالہ الااللہ
اور آج بھی کفر کی شعلہ زن آگ گل گلزار بن سکتی ہے لیکن شرط ہے کہ ابراہیمی ایمان اپنے دلوں میں جا گزیں کرلیں:
           آج بھی ہو جو ابراہیم ساایمان پیدا
           آگ کرسکتی ہے انداز گلستان پیدا
جب ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستوں کو توحید کی دعوت پہنچا دی، چاند سورج اورکواکب کی پوجا کرنے والوں کوعقلی دلائل سے سمجھا دیا، اوران کے معبودوں کا بخیہ اتار کران کی بے بسی کوان کے سامنے سے ظاہرکردیا، اوردہکتی آگ میں ڈالے جانے کے باوجود آگ سے سلامت نکلے ۔ تواب تیسری جماعت باقی رہ گئی تھی جن تک توحید کا پیغام پہنچانا تھا، تاکہ سارے کافروں پر اتمام حجت ہو جائے ، چنانچہ آپ اس وقت کے بادشاہ کے پاس آئے جس کا لقب نمرود تھا، اوروہ اللہ ہونے کا مدعی تھا، اس کے دماغ میں، رعوبت اورانانیت کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی ،حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جب وہ وجود باری تعالیٰ پردلیل مانگی توآپ نے فرمایا:
 ربی الذی یحيی ویمیت
 میرارب تووہ ہے جوجلاتا اورمارتا ہے، نمرود نے جوابا کہا: یہ تومیں بھی کرتا ہوں، یہ کہہ کردوشخصوں کواس نے بلوایا جو واجب القتل تھے، ایک کوقتل کردیا اوردوسرے کورہا کردیا، جب ابراہیم علیہ السلام نے اس کی کند ذہنی اورلچرپن کو دیکھا تواس کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی کہ صورة بھی اس کی مشابہت نہ کرسکے:
قال ابرہیم فإن اللہ یأتی بالشمس من المشرق فآت بھا من المغرب فبھت الذی کفر .
" ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرے اللہ نے تو یہ تصرف کیا کہ سورج کوحکم دے دیا ہے کہ وہ مشرق کی طرف سے نکلا کرے چنانچہ وہ نکل رہا ہے، اب تواسے حکم دے کہ وہ مغرب کی طرف سے نکلے"-
اس کا کوئی ظاہری ٹوٹا پھوٹا جواب بھی اس سے نہ بن سکا اور بے زبان ہوکربغلیں جھانکنے لگا.
اب ابراہیم علیہ السلام کا چرچا پورے ملک میں ہوگیا تھا، لوگ ان کے معجزے اورآگ سے سلامت نکلنے کے بارے میں باتیں کرنے لگے تھے، بادشاہ کے ساتھ ان کارویہ اورانہیں عاجزوساکت کرنے کا معاملہ عام ہونے لگا تھا، ابراہیم علیہ السلام دعوتی کاز کوپروان چڑھانے میں پوری تندھی سے لگے ہوئے تھے، آے دن مخالفتوں میں اضافہ ہی ہو رہا تھا، صرف ایک مرد اورایک عورت ان پر ایمان لائے تھے،عورت کا نام سارہ تھا جو بعد میں آپ کی بیوی بنی اورمرد لوط علیہ السلام تھے جوبعد میں نبوت سے سرفرازفرمائے گئے.
جب ابراہیم علیہ السلام کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کی دعوت پر کوئی ایمان نہیں لائے گا، توہجرت کا فیصلہ کرلیا، البتہ ہجرت کرنے سے پیشتراپنے والد کو اسلام کی دعوت دی، لیکن باپ اللہ کا دشمن تھا وہ کب بیٹے کی بات مانتا، چنانچہ آپ نے اس سے براءت کا اظہارکیا اورلوط اوراپنی بیوی سارہ کو ہمراہ ليے شام، اور حاران سے ہوتے ہوئے فلسطین پہنچے، پھرمصرگئے.
 مصرمیں پہنچنے کے بعد ایک معجزاتی واقعہ پیش آیا جس کا ذکرصحیح بخاری وصحیح مسلم میں آتا ہے۔
 خلاصہ یہ ہے کہ جب آپ مصرپہنچے تو وہاں کا بادشاہ بڑاظالم تھا، کسی نے بادشاہ کوخبرکردی کہ ایک مسافرکے ساتھ بہترین عورت ہے، اوروہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے، بادشاہ جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ حضرت سارہ کولے آئے ، اس نے ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: میری بہن ہے، اس نے کہا: اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو ، آپ حضرت سارہ کے پاس میں گئے اورفرمایا کہ سنو! اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اورمیں تمہیں اپنی بہن بتاچکا ہوں، اگرتم سے بھی دریافت کیا جائے تو یہی کہنا، اس ليے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، یہ کہ کر آپ چلے آئے، حضرت سارہ وہاں سے چلیں، آپ نماز میں کھڑے ہوگئے، جب حضرت سارہ کو اس ظالم نے دیکھا توان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب کی گرفت میں آگیا ہاتھ پاﺅں اینٹھ گئے، گھبرا کرعاجزی سے کہنے لگا: اے نیک عورت اللہ سے دعا کرکہ وہ مجھے معاف کردے، میں وعدہ کرتا ہوں کہ پھرتجھے ہاتھ بھی نہ لگاﺅں گا، آپ نے دعا کی، اسی وقت وہ اچھا ہوگیا، لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھرقصد کیا، وہی عذاب الٰہی پرآپہنچا، یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت تھا، پھرعاجزی کرنے لگا، غرض تین دفعہ پے درپے یہی ہوا، تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کوآواز دی اورکہا: تومیرے پاس کسی انسان عورت کونہیں لایا، بلکہ شیطان کولایا ہے، جا اسے نکال اورہاجرہ کو اس کے ساتھ کردے ، اسی دن آپ وہاں سے نکال دی گئیں،اورحضرت ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اوردریافت فرمایا کہ کہو کیا گزری، آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پرلوٹا دیا اور ہاجرہ میری خدمت کے ليے آگئیں.
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرکے لوگوں سے کہتے تھے:
تلک أمكم یا بنی ماء السماء 
" آسمان کے پانی والو! یہی ہاجرہ تمہاری ماں تھیں"
غرضیکہ يكے بعد دیگرے مصیبتوں میں آپ کی عمر کے مکمل 80 اسی برس بیت گئے، اب تک ابراہیم علیہ السلام کے گھر کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا تھا دل میں اولاد کی خواہش ہچکولے کھا رہی تھی، چنانچہ حضرت سارہ کی طلب پرآپ نے حضرت ہاجرہ سے شادی کرلی، اور رب کریم کے حضور نہایت عاجزی سے دعا کی :
رب ھب لی من الصالحین. (سورہ الصفات آیت:10)
" اے پروردگارمجھے صالح اولاد عطا کر"۔
     دل سے جو بات نکلتی ہے اثررکھتی ہے 
     پر نہیں طاقت پرواز مگررکھتی ہے
چنانچہ دعا قبول ہوتی ہے اورحضرت ہاجرہ علیہ السلام کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے، کبرسنی میں بچہ پاکر ابراہیم علیہ السلام کے دل میں خوشی کی لہریں دوڑنے لگیں، لیکن دوسری طرف رب حکیم کی طرف سے آزمائش کا سلسلہ شروع ہوا، ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہواکہ اپنی بیوی ہاجرہ اورنوزائيده بچہ اسماعیل عليه السلام کومکہ کے لق ودق ریگستان میں رکھ آئیے،
حکم کی تعمیل میں پس وپیش کئے بغیر اپنے لخت جگر اسماعیل اوراپنی اہلیہ ہاجرہ کو لیے غیرآباد شہر میں پہنچ جاتے ہیں ، خوردونوش کے کچھ سامان ان کے ساتھ رکھ دیتے ہیں،اورلوٹنے کے ليے مڑتے ہیں، بیوی تیزی سے ان کے پیچھے لگتی اوربولتی ہے:
 "ابراہیم! اس بے آب وگیاہ سرزمین میں چھوڑکرتم کہاں جارہے ہو"-
کوئی جواب نہیں مل رہا ہے، خاموش ہیں، چلتے جارہے ہیں اوریہ پوچھتی جارہی ہیں، بالآخر خیال آتا ہے کہ شاید اللہ کا حکم ہے، پوچھتی ہیں: کیا آپ کواللہ کاحکم ملا ہے؟ جواب ملتا ہے، ہاں. وفاشعاراورمومنہ بیوی بول اٹھتی ہیں،جب اللہ ہمارے ساتھ ہے اوراسی کا حکم ہے تو پھرہم ضائع نہیں ہوسکتے ، ابراہیم علیہ السلام چلے یہاں تک کہ ایک پہاڑ کی اوٹ میں آکر کھڑے ہوئے، اپنا دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا اوردعا کی :
ربنا إنی أسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم
" اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس بے کھیتی کے جنگل میں تیرے حرمت والے گھرکے پاس بسائی ہے"۔
خانہ کعبہ جس کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام نے کی تھی، اس کے صرف نشانات باقی رہ گئے تھے، حکمت الٰہی اس بات كى متقاضی ہوئی کہ یہ وادی آباد ہو، خانہ کعبہ کی تعمیرعمل میں آئے جسے ہم قبلہ بنا سکیں.
الغرض ابراہیم علیہ السلام لوٹ چکے ہیں، ہاجرہ علیہ السلام اپنے شیرخواہ بچے کے ہمراہ بے آب وگیاه وادی میں بسی ہوئی ہیں، دو دن کے بعد سامان خوردونوش ختم ہوجاتا ہے، ماں کا دودھ سوکھ چکا ہے، ہاجرہ اوراسماعیل بے قرارہیں ،نہایت سخت اور سنگین صورت حال ہے،اسماعیل پیاس سے رورہے ہیں، ماں پانی کی تلاش میں سرگرداں ہے، کبھی تیزی سے صفا پہاڑپر چڑھتی ہیں کہ شاید کوئی کنواں، انسان یا قافلہ دکھائی دے لیکن کچھ نہیں دیکھتی ہیں، صفا سے اتر کرمروہ تک دوڑتی ہوئی جاتی ہیں، مروہ پرچڑھتی ہیں کہ شاید کوئی دیکھ جائے، لیکن کسی آدمی آدم ذات کا پتہ نہیں، لوٹ کرشیرخواہ بچے کے پاس آتی ہیں، بچہ شدت پیاس سے تڑپ رہا ہے، بے کلی کے عالم میں تیزی سے صفا کى طرف آتی ہیں پھرمروہ کى طرف دوڑتی ہیں، اس طرح جاتے اورلوٹتے ہوئے سات چکر کاٹ لیتی ہیں ۔
حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی اسی یاد کوتازہ رکھنے کے ليے ہمیں حکم دیا گیا کہ حج وعمرہ میں صفا ومروہ کا سات چکر لگائیں: 
صفا اورمروہ کی یہ دوڑکیا ہے
تلاش ہاجرہ کے نشان قدم کی
بہرکیف ساتویں بارحضرت ہاجرہ علیہا السلام تکان زدہ، شکستہ بدن اپنے شیرخوار بچے کے بازو میں آکربیٹھ جاتی ہیں، کثرت بکا اورشدت پیاس کے باعث آوازبیٹھتی جارہی تھی، اچانک باران رحمت برستی ہے، اسماعیل علیہ السلام روتے ہوئے ، زمین پر پیر پٹختے ہیں، اور پیرکے نیچے سے چشمہ زمزم رواں ہوجاتا ہے، اس طرح ماں اوربچے دونوں موت کے منہ سے نکل جاتے ہیں ۔
پھرقرآن کے بیان کے مطابق:
فلما بلغ معہ السعی.
جب اسماعیل علیہ السلام چلنا پھرنا سیکھ گئے،اور بقول فراء جب تیرہ برس کی عمرمیں قدم رکھا تو ابراہیم علیہ السلام کی دوسری آزمائش شروع ہوئی ، خواب میں حکم دیا گیا کہ اپنے نورچشم اسماعیل کو اللہ کے راستے میں قربان کیجئے ، ذراغورکریں کتنی تمناﺅ کے بعد بچہ ملا تھا، بڑاھاپے کی لاٹھی ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک اور جگرکا ٹکرا ہے، لیکن ہے حکم الہٰی، اپنے نورنظر کے پاس آتے ہیں اورکہتےہیں: 
یا بنی إنی أری فی المنام أنی أذبحک فانظرماذا تری.
 میرے پیارے بچے میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہاہوں اب توبتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ فرمانبردار بیٹا کیا جواب دیتا ہے:
یا أبت افعل ما تؤمر ستجدنی إن شاء اللہ من الصابرین.
" اباجان!آپ وہی کچھ کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، آپ مجھے اس امر میں بردبار پائیں گے".
پھروقت آتا ہے کہ منیٰ کی تاریخی رتیلی زمین میں ابراہیم علیہ السلام اپنے لخت جگرکوچہرے کے بل لٹا چکے ہیں، ابراہیم عليه السلام کا چاقو اسماعیل کى گردن پر برابرمتحرک ہے.امام سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ایک طرف اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کوحکم دیاکہ اپنے ہاتھ سے اپنے بیٹے کو ذبح کرو اورادھرچاقو کوحکم دیا کہ تم ہر گزنہ کاٹنا۔
 رب کریم نے حکمت کے اسرارمنکشف کرکے متوسط جبریل جنت سے ایک دنبہ بھیج دیا،اوراسماعیل عليه السلام کے بدلے اس دنبہ کوذبح کرا کر فرمایا:
ونادیناہ أن یا إبراہیم قد صدقت الرؤیا، إنا کذلک نجزی المحسنین، إن ھذا لھوالبلاء المبین وفدینٰہ بذبح عظیم (سورہ الصفات :104) 
 " ہم نے آوازدی کہ اے ابراہیم یقینا تم نے اپنے خواب کوسچا کردیکھایا۔ بیشک ہم نیکی کرنے والوں کواسی طرح جزا دیتے ہیں، درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا ،اورہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا" ۔
یہی وہ ابراہیمی سنت ہے جسے ہرسال لاکھوں انسان جانورکی شکل میں پیش کرکے مغفرت کے سمندرمیں غوطہ زن ہوتے ہیں.
اخیر میں حضرت ابراہیم اورحضرت اسماعیل علیہما السلام دونوں نے مل کر اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت خانہ کعبہ کی تعمیر فرمائی، پھراللہ کا حکم ہوا:
 وأذن فی الناس بالحج یأتوک رجالا وعلی کل ضامر یأتین من کل فج عمیق.
”اورلوگوں میں حج کے لئے پکار دے کہ تیرے پاس پیدل آئیں اوردبلے دبلے اونٹوں پر سوارہوکرہرایک دورکی راہ سے چلے آئیں"
چنانچہ وہ آوازجوجنگل میں ابراہیم علیہ السلام کے منہ سے نکلی تھی ہرخدا پرست کے کانوں تک پہنچی اورآج تک اس کا اثر ہے کہ دنیا کے اطراف واکناف سے لوگ کھینچے ہوئے اس مرکزرشد وهدايت کی طرف چلے آرہے ہیں.
         دنیا کے بت کدوں میں پہلاوہ گھرخداکا
         ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں أسوہ ابراہیمی کو اپنانے کی توفیق بخشے آمین یارب العالمین



مکمل تحریر >>