جمعرات, جون 27, 2013

پاکستان کے سیلاب زدگان ہماری ا مداد کے منتظرہیں


آج کل پوری دنیا میں مسلمان داخلی وخارجی مسائل میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں، عراق وفلسطین ،افغانستان اورکشمیر میں آئے دن مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے ، مصر میں متعدد نومسلم خواتین حکومت کی صہیونیت نوازی کی بدولت قبول اسلام کے جرم میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جسمانی استحصال کا شکار ہو رہی ہیں، مغربی ممالک میں حجاب، قرآن اور نبی رحمت کے ساتھ کھلواڑ کوترقی پسندی اور حدود الہی کی تنفیذ کو رجعت پسندی کا نام دیا جا رہا ہے ، ہندوستان میں بابری مسجد کا فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ سے 24 ستمبر کو آنے والا ہے ، فیصلہ خواہ مسلمانوں کے حق میں ہو یا نہ ہو ہر دوصورت میں معاملہ نہایت سنگین اور صبر آزما ہے ، پاکستان میں ایک طرف دہشت گردی اور شدت پسندی کے حادثات نے پاکستانی قوم کوسسکیاں لینے اور آہیں بھرنے پر مجبور کردیاہے تودوسری طرف فی الوقت سب سے بڑی مصیبت بدترین سیلاب کی تباہ کاری کی صورت میں ہمارے سروں پر آئی ہوئی ہے، جس نے 80 سال کا ریکارڈ توڑتے ہوئے چار صوبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ آج پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے ، ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہیں، وہ کھلے آسمان تلے حسرت کی تصویربنے ہمیں دیکھ رہے ہیں، ان کے آشیانے زیر آب ہوگئے ، ان کے زراعتی اراضی دریا برد ہوگئے، ذرائع روزگار ختم ہوچکے ، سڑکیں تباہ ہوچکیں ، کتنی مائیں جگرگوشوں سے محروم ہوگئیں، کتنے بچے یتیم ہوگئے، کتنی بیویاں سروں کا تاج کھو بیٹھیں، کتنی سہاگنوں کا سہاگ لٹ گیا، کل تک وہ ہمارے ہی جیسے تمنائیں اور آرزوئیں لیے ہوئے تھے لیکن آج ان کے خوابوں کے شیش محل چکناچور ہوچکے ہیں ،الکٹرانک میڈیا جب ان کے دلدوز مناظرپیش کرتا ہے توآنکھیں اشک بارہوجاتی ہیں، تباہی ایسی ہے کہ امیر وغریب کا فرق مٹ چکا ہے، دینے والا ہاتھ لینے والا ہاتھ بن چکا ہے، غذائی اشیاءکی شدید قلت ہے، صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں، اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری بانکی مون نے جب اپنے ایک روزہ دورہ میں تباہی کے مناظر دیکھے تو اعتراف کیا کہ میں نے ایسی تباہی اپنی زندگی میں کبھی نہ دیکھی پھر انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ سیلاب زدگان کی تعمیر نو کے لیے تمام ممکنہ وسائل کے ساتھ آگے آئیں ۔ پاکستان کی ساری ملی تنظمیں انسانی اور قومی ہمدردی کا ثبوت دےتے ہوئے ہرممکن تعاون کررہی ہیں، بیرون ملک سے بھی تعاون آرہا ہے لیکن تباہی اتنی شدید ہے کہ اس کی بھرپائی نہیں ہوپا رہی ہے ، سیلاب زدگان کی داد رسی ہماری اولیں ترجیح ہونی چاہیے۔ انہیں ضرورت ہے ہماری مدد کی ، ہمارے تعاون کی،ہماری ہمدردی اورغم خواری کی۔

بفضلہ تعالی ہم کویت میں برسرروزگارہیں، خوشحال وفارغ البال ہيں یا کم ازکم ہمیں بے نیازی حاصل ہے ، ہم آرام سے ایرکنڈیشن فلیٹ  میں رہ رہے ہیں، ہمیں صحت مند زندگی میسرہے ، من پسند اور مرغن غذائیں کھارہے ہیں جبکہ ہمارے ہی بھائی بہن سرچھپانے کے لیے سائبان کے محتاج ہیں ، بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ادویات کے ضرورتمند ہیں،زندہ رہنے کے لیے دو وقت کی روٹی کے احتیاج مند ہیں، ہمیں شاید اس کا شعور نہیں کہ ہماراجسم لہولہان ہے ،درد وکرب سے کراہ رہا ہے،ذراغورکیجئے اس حدیث پر:
”مسلمانوں کی مثال آپسی ہمدردی ،محبت اور رحم دلی میں ایک جسم کی مانند ہے جس کے ایک عضو کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بخار اور بے خوابی سے پورا جسم مثاتر ہوتا ہے “ (بخاری ومسلم)
اس حدیث پاک میں مسلمانوں کے مابین قائم ہونے والے تعلق کو جسد واحد سے تشبیہ دے کر واضح فرمایا گیا کہ امت مسلمہ منتشراجزاءاور مختلف اقوام کا نام نہیں بلکہ ایک ہیکل اور جسم کانام ہے ، اور ایک جسم میں ایک ہی دل اور ایک ہی روح ہوتی ہے ، اس طرح مومن کی سوچ اور اس کا ارادہ ایک ہوتا ہے ، مختلف اجسام ہونے کے باوجود ایک قالب ہوتے ہیں،اسکے کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے سارے اعضاء تیماردار بن کر تکلیف کا ساتھ دیتے ہیں اور بے خوابی کا شکار ہوجاتے ہیں ، ویسے ہی ایک مسلمان کو کوئی مصیبت آتی ہے یا تکلیف پہنچتی ہے تو قومیت ، رنگ ونسل اور ذات پات کی تمیز کے بغیر اسے فوری احساس ہوناچاہیے کہ اس کے جسم کا ایک عضو بیمار ہے ،اس کی تیمارداری کرے،اس کی مدد کرے ، اور اس کی مصیبت کو دور کرنے میں لگ جائے ۔
ہمارے پاس مال اللہ پاک کا عطیہ ہے ،اس نے ہمیں وقتی طو رپر اس پر ملکیت عطاکی ہے اور اس میں فقراءومساکین کا بھی حق رکھا ہے ،کل قیامت کے دن اس کی بابت پوچھ گچھ ہوگی(ترمذی) پھر صدقات وخیرات کے بے شمار فوائد بھی بتائے گئے ہیں چنانچہ صدقہ غضب الہی کو دور کرتا اور بری موت سے بچاتا ہے (ترمذی) گناہوں اور معاصی کومٹاتا ہے ( صحیح الجامع ) میدان محشر کی ہولناکی میں ہمیں سایہ کیے ہوگا (صحیح الجامع ) جبکہ کتنے لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے ، آج ہم اپنے بھائی کی مصیبت کودورکریں گے تو کل قیامت کے دن ہمارا خالق ومالک ہماری مصیبت کودور فرمائے گا (بخاری ) پھرصدقہ وخیرات کرنے سے مال میں حسی ومعنوی دونوں طرح افزائش ہوتی ہے(البقرة 274) ،کیا دنیا میں کوئی ایسا بنک ہے جو ایک کا سات سوگنا دیتاہو لیکن رب عرش عظیم کے بنک نے ہم سے ایک دینار کے بدلے سات سو دینار دینے کا وعدہ کیا ہے بلکہ بعض لوگوں کواس سے بھی زیادہ ملے گا :
”جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن (کے مال) کی مثال اُس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اُگیں اورہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور اللہ جس(کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتاہے اور وہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے“۔(سورہ بقرہ 241)
ہرروز جب بندہ صبح کرتا ہے دوفرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں ، ایک کہتا ہے ”یا اللہ نہ خرچ کرنے والے کے مال کو ضائع کردے“ دوسرا کہتا ہے ”اے اللہ خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما “ (بخاری )
اوراللہ تعالی کو کمیت سے زیادہ کیفیت مطلوب ہے ،معمولی تعاون کوبھی حقیر نہ سمجھیں ”جہنم کی آگ سے بچو گوکہ آدھی کھجور کے ذریعہ ہی سہی“ (بخاری ومسلم) ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایاتھا ”ایک درہم ایک لاکھ درہم پر سبقت لے گیا“ایک شخص نے کہا:یا رسول اللہ! ایسا کیسے ہوا ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: (وہ اس طرح کہ ) ایک آدمی جس کے پاس وافرمقدارمیں مال ہے اس سے ایک لاکھ نکال کر صدقہ کردیتا ہے جبکہ دوسرا شخص دو درہم کا مالک ہے اس میں سے ایک درہم صدقہ کردیتا ہے “(نسائی ، ابن ماجہ ،ابن خزیمہ،حاکم)
عزیز قاری ! یقیناً سیلاب زدگان کے لیے یہ آزمائش کی گھڑی ہے تاہم ہمارے لیے بھی آزمائش ہے کہ ہم کس قدر ان کی مدد میں ہاتھ بٹاتے ہیں ،تو آئیے ایک جسم ہونے کا ثبوت دیجئے،سیلاب زدگان کے درد کو محسوس کیجئے ،اگر آپ نے ان کی مدد کی ہے تو مزید کی ہمت کیجئے کیونکہ ان کی پریشانیاں سوا ہوتی جارہی ہیں اور اگر اب تک نہیں کی ہے تو اپنی استطاعت اور وسائل کے مطابق پہلی فرصت میں ان کاتعاون کیجئے ،کیا معلوم کے کل ہمیں بھی وہی دن دیکھنا پڑے جس سے آج وہ گذر رہے ہیں ۔

مکمل تحریر >>

’سوشیلا‘ سے ’سمیرہ‘ بننے تک


ملک نیپال کے مشرقی حصہ میں واقع ضلع مورنگ کی رہنے والی 28 سالہ خاتون ’سوشیلا‘ تین سال قبل روزگارکی تلاش میں کویت آئیں، اس عرصہ میں شاید معاشی حالت کوئی خاص بہتر نہ ہوسکی تاہم ایمان کی گرانمایہ دولت سے ضرور مالا مال ہوئی ہیں۔ماہ رواں کے اوائل میں انہوں نے اسلام قبول کیا ہے، اور اپنا نام’ سوشیلا ‘سے ’سمیرہ ‘ منتخب کیا ہے ، قبول اسلام کے وقت ان کا ایمانی جذبہ ،دینی حمیت اور دعوتی رغبت دیکھ کرایسا محسوس ہورہا تھا گویا یہ کوئی دینی گھرانے کی پروردہ خاتون ہے ، ناچیز کے لیے ان کے قبولِ اسلام کا منظربیحد ایمان افزا تھا ۔ قبول ِ اسلام کے فوراً بعد اس نومسلمہ کے کیسے دینی جذبات تھے‘ اسے جاننے کے لیے ہم ذیل کے سطور میں ان سے کی گئی گفتگو کا خلاصہ پیش کررہے ہیں ۔

سوال :آپ اپنے خاندانی پس منظر کی بابت کچھ بتائیں گی ۔
جواب: میں ہندوگھرانے میں پیدا ہوئی ،میرے ماں باپ ہندو ہیں، باپ کی مذہبی رسوم سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی تاہم ماں پابندی سے ”مہیش “ کی پوجا کرتی تھیں ، پر شروع سے ہی میری طبیعت ایسی واقع ہوئی کہ میں نے پوجا وغیرہ سے بالکل رغبت نہیں رکھا ۔

سوال :کیسے آپ اسلام سے متعارف ہوئیں ؟
جواب : جب میں پہلی بار کویت آئی توجس آفس نے مجھے بلایا تھا وہاں کچھ مسلمان کام کرتے تھے،ان کے واسطے سے مجھے نیپالی زبان میں IPCکی دعوتی مطبوعات ملیں ، میں نے پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ اسلام بہت اچھا دھرم ہے ،اس میں ساری عبادتیں محض ایک اللہ کے لیے انجام دی جاتی ہیں ۔ میں نے نیپالی زبان میں ”جزءعم“ اور” قرآن کیا ہے ؟ “ کا مطالعہ کیا تو مجھے عجیب طرح کا سکون ملنے لگا ۔


سوال : آپ نے گویا قرآن کا بھی مطالعہ کیا ہے ؟
جواب : صرف تیسواں پارہ کا مطالعہ اب تک کرسکی ہوں، البتہ میری خواہش ہے کہ مکمل قرآن کا مطالعہ کروں ، کاش کہ نیپالی زبان میں بھی قرآن دستیاب ہوتا۔چھ ماہ قبل میں ایک مسلمان سے گذارش کی تھی کہ مجھے نیپالی زبان میں قرآن چاہیے، اس نے کہا : چھ دینار میں ملے گا ، میں نے کہا: کوئی بات نہیں تم مجھے لاکر دو۔ لیکن پھر بھی وہ نہ لاسکا اور اب تک میںقرآن سے محروم ہوں ۔
(ابھی میں آپ کو قرآن لاکر دیتا ہوں،میں اٹھا اور فوراً نیپالی زبان میں ترجمہ قرآن لاکر اس کے ہاتھ میں تھمادیا ، قرآن پاتے ہی ایسا لگا جیسے اسے اپنی کوئی گم شدہ چیز مل گئی ہو۔ خوشی سے اس کا چہرہ دمکنے لگا، عالم بے خودی میں قرآن کو لے کر چومنے لگی،ایسا کرتے ہوئے سمیرہ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور زبان پر ’تھینک یو ، تھینک یو ‘کے الفاظ جاری ہوگئے ،” آپ کی میں بہت بہت شکرگذار ہوں کہ آپ نے مجھے قرآن دیا“سمیرہ نے کہا ۔سمیرہ کے یہ الفاظ کیا تھے گویامیرے لیے تازیانہ عبرت ،میں تھوڑی دیر کے لیے سکتے میں پڑگیا اور قرآن کے تئیں اپنے معاملے پر نظر ثانی کرنے لگا ،پھر اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے اس سے پوچھا  

سوال : آپ نے ابھی چند منٹوں قبل اسلام قبول کیا ہے ، آپ کے پاس اسلام کی معلومات بھی زیادہ نہیں ہے پھربھی آپ کے دل میں قرآن کے تئیں ایسی محبت وعقیدت ؟
جواب:جہاںتک میرے اسلام کی بات ہے تو کلمہ اگرچہ ابھی پڑھی ہوں تاہم دل میں اسلام دوسال سے بیٹھا ہوا ہے۔گویامیںدوسال سے مسلمان ہوں، میںنے گذشتہ رمضان میںروزے بھی رکھنا شروع کیا تھا لیکن میری کفیلہ مجھے منع کرتی رہی کہ تم مسلمان نہیں ہوروزہ مت رکھو ، چنانچہ میں نے روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔ قرآن میرے لیے نسخہ کیمیا ثابت ہواہے، قرآن کی آیتوں سے میں بیحد متاثر ہوئی ہوں ،جب کبھی مجھے گھریلو ٹینشن ہوتا ہے تیسواں پارہ کا ترجمہ پڑھنے بیٹھ جاتی ہوں جس سے مجھے یک گونہ سکون ملتا ہے ۔

سوال : آپ نے اسلام قبول کرلیا اور آپ ماشاءاللہ اسلام کے تئیں اچھا جذبہ رکھتی ہیں تو کیا آپ کی خواہش نہیں ہوتی کہ آپ کے گھر والے بھی اسلام اپنائیں ۔
جواب : جہاں تک میرے والدین کی بات ہے تو میری پوری تمنا ہے کہ والدین اسلام قبول کرلیں ،ابھی میں اسلام کے متعلق ان کو نہ بتائی ہوں البتہ میں نے اپنے شوہر سے اسلام قبول کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا ہے اس بات کو سن کر انہوں نے مجھے دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اسلام قبول کرلی تو نیپال میں لوٹ کر نہیں آسکتی ۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ،اللہ پاک نے مجھے نرک (جہنم ) سے بچالیا ہے ،اس لیے اب میں ہرطرح کی تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں ۔

سوال :آپ کی کیا خواہش ہے ؟
جواب :میری پہلی خواہش یہ ہے کہ میں قرآن عربی زبان میں پڑھنا سیکھ جاؤں ،میں سمجھتی ہوں کہ شاید آپ لوگ اس سلسلے میں میرا تعاون ضرور کریں گے،اگر مجھے بھی عربی پڑھنا سکھادیں تو میں اپنے رب کے کلام کو عربی زبان میں پڑھ سکتی ہوں ۔

سوال : اور بھی کوئی خواہش ہے آپ کی ؟
جواب : میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ پاک مجھے جنت میں جگہ دے ۔ اگر وہ مجھے جہنم میں ڈال دے تو میں کچھ اعتراض نہیں کرسکتی لیکن مجھے اللہ سے پوری امید ہے کہ وہ مجھے جنت میں ضرورداخل کرے گا ۔

سوال: آپ کی دوستی کیسی عورتوں سے ہے ؟
جواب : میری کچھ نیپالی سہیلیاں اسلام قبول کر چکی ہیں ،ان کو میں پسند کرتی ہوں ۔ اور جولڑکیاں مسلم نہیں ہوتی ہیں ان سے مجھے کراہیت سی محسوس ہوتی ہے ۔میں کبھی کبھی اپنی سہیلیوں کو اسلام کی دعوت دیتی ہوں اور کہتی ہوں کہ اسلام بہت اچھا مذہب ہے ،یہاںتک کہ دعوتی کتابیں بھی پڑھ کر سناتی ہوں ۔ ان میں سے کچھ تو دلچسپی لیتی ہیں جب کہ اکثر مذاق اڑانے لگتی ہیں ایسی لڑکیوں کو میں سخت ناپسند کرتی ہوں ۔
عزیز قاری ! اسلام کے تئیں ےہ جذبات ہیں ایسی خاتون کے جس نے اب تک اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہیں کیا ہے،ہم نے اس کی باتوں کو بلاکم وکاست آپ کے سامنے پیش کردیا ہے اب اپنا احتساب کریں کہ اسلام کے تئیں ہم نے کیا کیا ؟ قرآن سے ہمارا کیسا لگاؤ ہے ؟ غیروں تک ہم نے کس حد تک اسلام کا پیغام پہنچایا ہے ؟ کل قیامت کے دن یہ کفار ومشرکین جب ہمارا دامن پکڑیں گے تو اس وقت ہمارا کیا جواب ہوگا۔ ؟


مکمل تحریر >>

نوواردانِ اسلام کے تئیں دل میں جگہ پیدا کریں

خلیجی ممالک میں ملازمت پیشہ غیرمسلم تارکین وطن کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے، ان میں سے ایک بڑی تعداد نے یہاں کے اسلامی روایات اوردینی اقدار سے متاثر ہوکر اسلام کے سایہ میں پناہ لی ہے اور تاہنوز لے رہے ہیں۔ الحمدللہ ان ممالک میں تارکین وطن کی دینی تعلیم وتربیت کے لیے باضابطہ دعوتی کمیٹیاں قائم ہیں اور انہیں معیاری دعاة کی خدمات حاصل ہیں جو تعارفِ اسلام کے لیے ہرممکنہ کوشش کرتے ہیں۔ یہاں کا دینی ماحول عام مسلمانوں کو بھی دعوت کے لیے متحرک اور فعال رکھتا ہے ۔ البتہ جولوگ اسلام کی آفاقیت سے متاثر ہوکر اسلام کو گلے لگاتے ہیں ان کے تئیں مسلم معاشرہ کی بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں جن کا صدحیف ہماری اکثریت کواب تک صحیح شعور حاصل نہ ہوسکا ہے ۔ یہ امرخوش آئندہے کہ کسی غیرمسلم کے قبولِ اسلام کا منظر ایک عام مسلمان کے لیے بھی نہایت ایمان افروز ، روح پرور اور مسرت آمیز ہوتا ہے۔ فوراً اس کے دل میں اپنے نومسلم بھائی کے تئیں محبت اور عقیدت کاجذبہ امڈ پڑتاہے ۔ لیکن جب اس سے معاملہ کرنے کی بات آتی ہے تو زمینی حقائق گواہ ہیں کہ ہماری اکثریت ایسے نومسلموں کو پہلے دن سے ہی اسلام کا نمونہ دیکھنا چاہتی ہے اور اگر کسی طرح کی اس سے کوتا ہی ہوگئی تو فوراً اس کا مواخذہ ہوتا ہے حالانکہ کتنے مسلمان خود طرح طرح کی برائی میں لت پت ہیں، ظاہر ہے کہ جس شخص کو چند دنوں قبل ہدایت ملی ہے اس کی تربیت کے لیے ایک مدت درکار ہے بالخصوص جبکہ ایک شخص نے عمر کا اچھا خاصا وقت غیر اسلامی ماحول میں گزارا ہو۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس نووارد سے نرمی کا معاملہ کیا جاتا، اسے مسلم معاشرے کا ایک فرد سمجھا جاتا، دوسرے مسلمانوں کے جیسے اسے معاشرے میں سارے حقوق حاصل ہوتے ، شروع میں اس کی معمولی کوتاہیوں کو نظر انداز کیا جاتا اورپیار اورمحبت کے ساتھ اس کے سامنے دین کے احکامات رکھے جاتے لیکن افسوس کہ جہالت اور دعوتی ذوق کے فقدان کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ان امور کی رعایت کرنے والے افراد خال خال ہی پائے جاتے ہیں ۔ کتنے تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ نومسلم نے اسلام قبول کرکے گویا مسلمانوں کے آبائی دین کو ہڑپ لیا ہے اور اس میںایک نیا حصہ دار بن بیٹھا ہے ،تجربہ بتاتاہے کہ کتنے سادہ لوح مسلمان جب غیرمسلموں کو تعارفِ اسلام پر مشتمل کتابیں دیتے دیکھتے ہیں تو جہالت میں یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ” اسلامی کتاب…. آپ غیرمسلم کو دے رہے ہیں….؟“ حالانکہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے ،اس کے مخاطب دنیاکے سارے انسان ہیں ۔
اسلام قبول کرنے کے بعد اکثر نومسلموں کی شکایت ہوتی ہے کہ انہیں مسلم معاشرے کا تعاون حاصل نہیں ہوتا اور یہ شکایت بجا ہے ،شادی بیاہ میں لڑکا اور لڑکی دینے کی بات تو درکنار ان سے معاملہ کرتے وقت بھی اپنے ذہن میں مختلف طرح کے تحفظات رکھے جاتے ہیں۔ راقم سطور ایک عرصہ سے غیرمسلموں کے بیچ کام کرتا آرہا ہے ،اس دوران اس قبیل کے متعددواقعات پیش آئے۔
ایک مرتبہ IPC میں میرے پاس ایک صاحب کسی غیرمسلم عیسائی کولے کر آئے اورمجھ سے طلب کیا کہ انہیں اسلام کی دعوت دوں ،دونوں تعلیم یافتہ تھے ،چند تمہیدی باتیں کرنے کے بعد میں انہیں اسلام کی دعوت دینے لگا ۔ جب وہ اسلام سمجھ چکے اور اسلام لانے کے لیے تیار ہوئے تو لانے والے نے مجھ سے ایک سوال کیا جسے میں پیدائشی مسلمان سمجھ رہا تھا:
” اسلام میں مرتد کا کیاحکم ہے ؟“ میں نے سوال کے بے محل ہونے کی وجہ سے  حکمتِ دعوت کے پیش نظر صراحت سے اس کا جواب نہیں دیا کہ مرتد کی سزا قتل ہے بلکہ کہاکہ” ایک سچے مسلمان کے تئیں ارتداد کا تصور نہیں کیا جاسکتا ،جو حقیقی معنوں میں مسلمان ہوگا وہ مرتد نہیں ہوسکتا، اس پر محمد صلى الله عليه وسلم  کے اصحاب کی درخشندہ زندگی گواہ ہے کہ انہیں انسانیت سوز تکلیفیں دی گئیں تاہم ان کے پایہ استقلال میں ذرہ برابر تزلزل پیدا نہ ہوا ….کیونکہ اسلام میں جبر واکراہ نہیں،یہ انسان کا اپنا دھرم ہے جسے وہ قناعت سے اختیار کرتا ہے “۔ پھرمیں نے انتظار کیا تاکہ ان کا ردعمل دیکھوں….انہوں نے جواب کو  نظر انداز کرتے ہوئے حقیقت حال سے آگاہ کیا :”میں نے آپ سے یہ سوال اس لیے پوچھا ہے کہ پانچ سال قبل میں نے اسلام قبول کیا تھا تاہم اس پرقائم نہ رہ سکا ،البتہ جب میں نے اپنے دوست کے سامنے اسلام کی خوبیاں بیان کیں توانہوں نے اسلام کو جاننے کی خواہش ظاہر کی،اسی لیے میں آج انہیں لے کر آپ کے پاس آیاہوں“۔
میں نے پوچھا: ”آپ کے اسلام پرقائم نہ رہنے کی وجہ ؟“ اس کا جواب تھا :” جب میں نے اسلام قبول کیا تو میرے منیجر نے سارے ملازمین کے سامنے خوشی سے کچھ رقم دی جو ایک مسلمان بھائی کے بیل مونڈھے نہ چڑھ سکا ، ایک روز جبکہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہاتھا اس نے مجھے بحالتِ سجدہ پیچھے سے ایک لات مارا اوربڑی جرأ ت سے کہا:” لالچی کہیں کے …. پیسہ کے لیے اسلام لایا ہے “ (حالانکہ اللہ شاہد ہے کہ میں نے پورے شرح صدر کے ساتھ اسلام قبول کیاتھا) جب پیچھے مڑکر دیکھا توغصہ توبہت آیا،پرمیں نے بروقت جذبات پرقابوپایا اور اس سے الجھے بغیر مسجد سے نکل بھاگا ۔ اس دن سے مجھے مسلمان سے نفرت سی ہوگئی ہے، لیکن آج بھی مجھے اسلام سے محبت ہے ،میری خواہش ہے کہ دوبارہ اپنے دوست کے ساتھ اسلام میں آجاؤں، کیا ایسا ممکن ہے ؟ “۔
یہ قصہ سن کر تھوڑی دیر کے لیے حواس باختہ ہوگیا ،دانتوں تلے انگلی آگئی اور سوچنے لگا کہ کیا آج بھی ہمارے مسلم معاشرے میں ایسے لوگ ہیں جو اسلام کے راستے میں کانٹے بنے ہوئے ہیں ۔ پھر دفعةً اس سے مخاطب ہوا:”پیارے بھائی ! میں آپ کے درد کو سمجھ رہاہوں ، لیکن وہ جاہل تھا ، اورجاہل اپنے نفس کا دشمن ہوتا ہے چہ جائیکہ غیرکا دوست بن سکے ،پھر آپ نے اس جاہل کا دین تو قبول نہیں کیا تھا بلکہ آپ نے اپنے مالکِ ارض وسماکے دین کی معرفت حاصل کی تھی جو آپ کا اور ساری انسانیت کا دین ہے ۔ یہ تو آپ کی گم شدہ نعمت ہے جسے ایک عرصہ پہلے کھو چکے تھے اب جبکہ اسے پالیا ہے توکیایہ مناسب ہے کہ کسی احمق کی بات پر اپنی نعمت گم گشتہ سے دست بردار ہوجائیں ….؟ “اس طرح اسے مختلف مثالیں دے کر سمجھایا چنانچہ دونوں نے کلمہ  لاالہ الا اللہ کا اقرار کیا اور کلاس میں حاضر ہونے لگے ۔
یہ اور اس طرح کے درجنوں واقعات ابھی ذہن کے پردے پرمرتسم ہیں جنہیں بیان کرنے کا یہ موقع نہیں البتہ اس کے ذریعہ ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم میں سے ہرشخص نومسلم بھائیو اور بہنوں کے تئیں سنجید ہ ہو،ان کے مسئلے پر دھیان دے اور ان کے لیے اپنے دل میں جگہ پیدا کرے کیونکہ مستقبل اسلام ہی کا ہے ۔ ان شاء الله
مکمل تحریر >>

اصلاحِ معاشرہ : کیوں اورکیسے ؟

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اورمسلمان اس کی آفاقیت کے علمبردار ہیں ،ہردور میں اسلام کے ماننے والوں نے دنیا والوں کے سامنے اسلام کا نمونہ پیش کیا چنانچہ انسانیت نے ان کے عمل اورکردار سے متاثر ہوکر اسلام کو گلے لگایا ۔

لیکن صدحیف آج اسلام کے سپوت اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں، اسلامی تعلیمات ایک طرف تو ہماری اکثریت دوسری طرف ہے ،زندگی کے ہرشعبے میں ہم نے اسلامی تعلیمات کو نظرانداز کررکھا ہے،عقائد،عبادات، معاملات، اخلاقیات، معاشرت ومعیشت غرضیکہ زندگی کا ہرشعبہ اسلامی تعلیمات سے خالی دکھائی دیتا ہے۔
 وہ دین جس کی بنیاد توحید پرتھی، جس کے پیغمبر نے اپنی 23سالہ زندگی توحید کے اثبات اورشرک کی تردید میں صرف کردی، جس نے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں انبیاء کی قبروں کوعبادت گاہ بنا لینے پر یہودونصاری کو مطعون کرتے ہوئے دعا کی تھی کہ’ بارالٰہا میری قبرکوعبادتگاہ نہ بنانا‘ آج اسی دین کے ماننے والے اوراسی پیغمبر کی اطاعت کا دم بھرنے والے مسلمان دن رات قبروں پر نذریں چڑھاتے، مردوں کومشکل کشا، حاجت روا اور غوث اعظم تصور کرتے ہیں۔
وہ دین جس نے نماز، زکاة، روزہ اور حج کو اپنی بنیاد قرار دیاتھا، کلمہ شہادت کے اقرار کے بعد پہلا فریضہ نماز بتایا تھا، جسے عطا کرنے کے لیے خالقِ کائنات نے اپنے حبیب کو اپنے پاس بلایا تھا صدحیف آج ہماری اکثریت اسے پامال کرکے اپنی پہچان کھوچکی ہے ۔
وہ دین جس نے اخلاقیات کو مرکزی حیثیت دی تھی اور جس کی تکمیل کے لیے پیغمبر اسلام مبعوث کیے گئے تھے،وہ دین جس نے معاملات کو اصل دین قرار دیا تھا، آج اسی دین کے نام لیوا اخلاقیات اور معاملات کی ایسی پستی میں گرچکے ہیں کہ الاماں والحفیظ ۔
منشیا ت کے بازارہم نے لگارکھے ہیں، ہوس کے اڈے ہم نے قائم کررکھے ہیں، قماربازی، چوری، ڈاکہ زنی، قتل وغارت گری،رشوت خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی، جھوٹ، سامان میں ملاوٹ، ناپ تول میں کمی آخر وہ کو ن سی اخلاقی بیماری ہے جو ہم میں نہیں پائی جاتی؟ معاشرتی زندگی میں جہیز کی لعنت، لڑکیوں کی وراثت کا مسئلہ، طلاق کا غلط استعمال اوربعض ہندوانہ رسم ورواج میں ہم بُری طرح پھنس چکے ہیں۔ ذات پات کے مسئلہ اورمسلکی تعصب کے عفریت نے ہمارا کچومر نکال رکھاہے ۔ غرضیکہ
تن ہمہ داغ داغ شد     پنبہ کجا کجا نہم
”پورا جسم زخم آلود ہے، مرہم کہاں کہاں لگائیں“
نتیجہ ظاہر ہے کہ آج اسلام کی اشاعت محدود ہوکر رہ گئی ہے ، غیروں نے اسلام پر انگشت نمائی شروع کردی ہے اوراسلامی تعلیمات کو مشکوک نگاہوں سے دیکھاجارہاہے ۔
ایک طرف تو مسلم معاشرے کی یہ حالت ہے تو دوسری طرف دشمنان اسلام نے امت کے نونہالوں کے ساتھ فکری جنگ چھیڑرکھی ہے جس کی پشتیبانی خارجی سطح پرعیسائی مشنریز اورداخلی سطح پر قادیانیت کررہی ہے ۔ جس کا نتیجہ ہے کہ آج امت مسلمہ میں بڑی تیزی سے ارتداد کی وبا پھیلتی جارہی ہے۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں اصلاح معاشرہ کی کس قدر ضرورت ہے اس کا اندازہ ہم اور آپ بخوبی لگا سکتے ہیں ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے والے خود اصلاحِ معاشرہ سے عاجز وقاصرنظر آرہے ہیں۔
اصلاح کی کوششیں ضرورہورہی ہیں، اجتماعات ہورہے ہیں،کانفرنسیں ہورہی ہیں، جلسے اورسیمینارزہورہے ہیں تاہم یہ ساری کوششیں صد حیف نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہی ہیں۔ میری سمجھ سے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ جلسے ہماری جماعت اورتنظیم کی نمائندگی کرتے ہیں، ہماری کوششوں کا محورجماعت کی خدمت ہوتاہے، اورہمارے کام  روحِ اخلاص سے خالی ہوتے ہیں ۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ہمارے علماء ترجیحاتِ دین کو نظر انداز کرکے فروعی مسائل میں مناظروں اور مباحثوں میں مشغول ہیں جس کی وجہ سے علم کا استحصال ہورہا ہے اورادھرمعاشرہ آئے دن پستی کا شکارہوتا جارہا ہے۔
 اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کوئی لائحہ عمل نہیں جواس جمود کو توڑ سکے اور معاشرہ اسلامی تعلیمات کا گہوارہ بن سکے؟ جی ہاں! ہمارے پاس ایسا نظام حیات ہے جومردہ انسانوں کے اندر زندگی کی روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس آفاقی نظام کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی مصلح ، مفکراورفلسفی کی قطعاً احتیاج نہیں البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اصلاح امت کے لیے اسی نسخہ  کیمیا کو اپنائیں جسے اپناکر اگلے کامیاب ہوئے تھے ۔ اس کے لیے ذیل میں ہم چند گذارشات پیش کررہے ہیں امید کہ ان پر دھیان دیاجائے گا :
علماء وخطباء اورداعیانِ دین فروعی مسائل پر بحث وتحقیق کرنے اور مناظروں ومباحثوں میں وقت لگانے کی بجائے ترجیحاتِ دین پر توجہ دیں کہ کرنے کے کام ابھی بہت ہیں ورنہ یہی حالت رہی تو ہماری شناخت بھی مٹ جائے گی ۔   
 اصلاحِ معاشرہ میں خطبہ جمعہ کا کلیدی رول ہے،اس کی فعالیت کو بحال کرنے کے لیے بستی اور شہر کے سارے مرکزی مساجد میںحاضرین کی زبان میں خطبہ جمعہ کا اہتمام کیاجائے اورامام وخطیب کی تعیین میں روایتی ذہنیت کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے ائمہ وخطباءکا انتخاب کیاجائے جو نیک اورصالح ہونے کے ساتھ باصلاحیت ہوں تاکہ عوام کی صحیح رہنمائی کرسکیں ۔
 ناظرہ قرآن اور قرآن فہمی کے لیے ہر محلہ کی مسجد میں حلقے قائم کیے جائیں،عوامی دروس کا بکثرت اہتمام کیا جائے اور ناخواندہ حضرات کو ضروریاتِ دین سے واقف کرانے کے لیے کلاسیز منعقد کیے جائیں ۔
اصلاح معاشرہ میں خواتین کے بنیادی کردار کوبحال کرنے کے لیے علیٰحدہ خواتین کے لیے دینی اجتماعات کا نظم کیاجائے،گھر کے اندر ماں کے کردار کوفعال کیاجائے ، گھرمیں بچوں کو دینی ماحول فراہم کیاجائے، دینیات پرمشتمل کتابوںکی چھوٹی لائبریری بنائی جائے ،عیسائی مشینریزکے زیراہتمام چلنے والی درسگاہوںمیںبچوںکو تعلیم دلانے کی بجائے ایسے سکولز کے انتظامات کیے جائیں جہاں دینی ماحول ہو۔
 اورہرشخص کودوسروں کی اصلاح کے لیے فکرمند ہونے سے پہلے اپنا احتساب کر نا ہو گا، خود کو بدلنا ہو گا۔کیونکہ افراد سے ہی معاشرہ بنتا ہے ۔ فرد کی جب تک اصلاح نہ ہوگی معاشرے کی اصلاح کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔ رہے نام اللہ کا
مکمل تحریر >>