جمعہ, فروری 18, 2011

معراج کا تحفہ


مکہ کے پرآشوب ماحول میں دعوتِ محمدیہ کی کشتی ہچکولے کھارہی تھی ،محسن انسانیت ہرطرف سے کفارِ قریش کے نرغے میں تھے ، حضرت خدیجہ رضى الله عنها اور ابوطالب کی وفات نے مزید غم والم کو دوآتشہ کردیاتھا۔ ایسے ہمت شکن ماحول میں اللہ تعالی نے اپنے نبی کی دادرسی کی اوراسراءومعراج جیسے عظیم معجزے سے نوازا ۔حضورپاک  صلى الله عليه وسلم کوآپ کے جسم مبارک سمیت بُراق پر سوار کرکے حضرت جبریل  عليه السلام کی معیت میں مسجد حرام سے بیت المقدس تک سیر کرائی گئی ۔ اس کے بعد اسی شب آپ کو بیت المقدس سے آسمانِ دنیا پر،پھر وہاں سے یکے بعد دیگرے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا ،اس کے بعد آپ سدرة المنتہی تک لے جائے گئے ،پھر آپ کے لیے بیت معمور کو ظاہر کیاگیا۔ اس کے بعد حضرت جبریل عليه السلام نے آپ کو مالک عرش بریں کے دربار میں پہنچادیا،آپ اللہ تعالی سے اتنے قریب ہوئے کہ دو کمانوں کے برابریا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت اعلی وارفع اورگرانقدر تحفہ دیا،یعنی پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں،پھر حضرت موسیٰ عليه السلام کے مشورے سے اس میں تخفیف کرایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں باقی رکھیں ، اس کے بعد پکارا گیا : ”اے محمد! میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی،ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر ہوگا “۔ (بخاری 7517 مسلم162)
جو چیز جس قدر اہمیت رکھتی ہے اسی قدر اس کے لیے اہتمام کیاجاتا ہے،ذرا غورکیجئے کہ روزہ کا حکم فرش پر اُترا، زکاةکا حکم فرش پراُترا،حج کاحکم فرش پر اُترا اورشریعت کے سارے احکام فرش پر اُتارے گئے لیکن نماز کا تحفہ دینے کے لیے ربِ کائنات نے اپنے حبیب کو عرش پربلایا۔ کیوں؟ نماز کی عظمت ،اہمیت اورانفرادیت کے اظہار کے لیے کہ یہ ایک مسلمان کی پہچان ،حصولِ جنت کا ذریعہ اوررضائے الٰہی کا وسیلہ ہے ۔
٭نماز کلمہ شہادت کے اقرا ر کے بعد اسلام کا دوسرا بنیادی رکن ہے ،جو امیر وغریب ،بوڑھے اور جوان ، مردوعورت ،بیمار وتندرست سب پر یکساں فرض ہے ۔ کسی بھی حالت میں معاف نہیں ۔ حتی کہ ایک مریض اگر کھڑا ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھے گا،اگر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا تو پہلوپر لیٹ کر پڑھے گا ،اگر اس سے بھی عاجز ہو تو اشارے سے پڑھے گا ۔(بخاری 1057)خلاصہ یہ کہ جب تک عقل ساتھ دے رہی ہوترکِ نماز کسی بھی صورت میں جائز نہیں ۔ ہاں! ایک عذر ہے ،لیکن اللہ تعالیٰ نے اس عذر سے مردوں کو عافیت بخشی ہے اور وہ ہے حیض ونفاس کا خون ۔
وفد طائف کے سردار نے جب قبول اسلام کے وقت اپنے وفد کے ہمراہ آپ ا سے ترکِ نماز کی درخواست کی تھی تو آپ نے انہیں خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا: لاخیر فی دین لیس فیہ رکوع (ابوداؤد2635) ”اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں نماز نہ ہو “۔
 ٭نماز ہمارے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ،جب آپ کو کسی طرح کی پریشانی لاحق ہوتی تونماز کی طرف جلدی کرتے (ابوداؤد 1319) اور سیدنا بلال صسے فرماتے أرحنا بھا یا بلال (رواہ الدارقطنی فی العلل615) ”بلال! اذان دو ،تاکہ نماز کے ذریعہ راحت ملے “
ہمارے آقا نے سخت ترین لمحات میں بھی دشمنوں کے حق میں بددعا نہیں فرمائی ،یہاںتک کہ اہل طائف جنہوں نے آپ کو لہولہان کردیا تھا ،ان کے حق میں بھی ہدایت کے کلمات کہے لیکن غزوہ احزاب میں جب کفارنے آپ کو جنگ میں مشغول کردیا اور آپ بروقت نماز ادا نہ کرسکے تو آپ نے آزردہ خاطری کے سبب ان کے خلاف بددعا فرمائی : ”اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھردے جس طرح انہوں نے ہمیں نماز عصر سے باز رکھا“۔   (بخاری2729 مسلم1002)
 ٭ کوئی ایسی عبادت نہیں جس کی ادائیگی کو ترک کرنے پر بچے کومارنے کا حکم ہوا ہو سوائے نماز کے ۔ چنانچہ پیارے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں نماز کی پابندی نہ کرنے پر ان کی پٹائی کرو“ ۔   ( ابوداؤد 495 وصححہ الالبانی )
 ٭قیامت کے دن حقوق اللہ میں سب سے پہلا سوال نماز کا ہوگا،اگر نماز درست نکلی توسارے اعمال درست اور اگر نماز خراب نکلی تو سارے اعمال بیکار ہوں گے ۔       (ترمذی 2616 وحسنہ الالبانی )
نماز کی اسی اہمیت کے پیش نظر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کو ہمیشہ اور باربا راس کی تاکید کی اوران لوگوں سے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایاجو نماز وں کے لیے حاضر نہیں ہوتے ۔ایک بار آپ نے ارشاد فرمایا کہ” جولوگ جماعت میں حاضر نہیں ہوتے میرا خیال ہے کہ ان کے گھروں کو جلاکر خاکستر کردوں۔“(بخاری 6712-612 مسلم1047 )
حیات مبارکہ کے آخری ایام میں جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم شدید کرب سے دوچار تھے ،لمحہ بہ لمحہ تکلیف بڑھتی جارہی تھی، آپ کو ایسی نازک حالت میں بھی فکر ہے تو بس نماز کی، چنانچہ  اپنے اصحاب کووصیت فرمارہے ہیں: الصلاة الصلاة وما ملکت ایمانکم ”نماز….نماز…. اورتمہارے زیردست“۔(احمد6/290صححہ الالبانی )
حضرت عمر فاروق رضى الله عنه امامت فرمارہے تھے ،آپ پر قاتلانہ حملہ ہوتاہے،عبدالرحمن بن عوف رضى الله عنه کا ہاتھ پکڑکر امامت کے لیے آگے بڑھادیتے ہیں،آپ کو آ غشتہ بخاک وخون گھر لایاگیا،آپ پر غشی طاری ہوگئی تھی ،جب افاقہ ہوا تو سب سے پہلے فرمایا: ھل صلی المسلمون ؟ ”کیامسلمانوں نے نماز پڑھ لی“،حاضرین نے کہا: ہاں! امیرالمو منین مسلمانوں نے نماز پڑھ لی ۔تب آپ نے فرمایا: ھا اللہ لاحظ فی الاسلام لمن ترک الصلاة ”اللہ کی قسم جس نے نماز ترک کردی اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں “۔(رواہ مالک فی المو طا 51وابن ابن شیبة فی الایمان 103)
 پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوناچاہا تو زخم سے خون کے فوارے پھوٹنے لگے ،آپ نے عمامہ منگوایا ،اس سے اپنے سر کو باندھا پھر نماز ادافرمائی ۔ظاہر ہے ایسی زندگی سے کیا فائدہ جس سے احکامِ الٰہی میں کوتاہی آجائے 
اے طائرلاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتا ہی
 آج یہی نماز جو تحفہ معراج تھی ہمارے بیچ ناقدری کی شکار ہے ،اس کی عظمت سے اب تک ہماری اکثریت آگا ہ نہ ہوسکی ہے ،مؤذن پانچ وقت مسجد کے محراب سے نمازکے لیے بلاتا ہے لیکن ہماری اکثریت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی،ہم عشق رسولِ کے دعویدار ضرور ہیں لیکن نماز حو ہمارے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ہمیں اس کی چنداں پرواہ نہیں۔ مساجد کی کمی نہیں لیکن نمازی ندارد
 مسجد تو بنالی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپناپُرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

مکمل تحریر >>

جمعہ, فروری 11, 2011

کیا محمد صلى الله عليه وسلم نور سے پیدا ہوئے ؟

سوال :

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی پاک صلى الله عليه وسلم نور سے بنائے گئے جب کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کی تخلیق بھی عام انسانوں کے جیسے ہوئی تھی ۔ کونسی بات صحیح ہے ؟

جواب:

جہاں تک آپ  صلى الله عليه وسلم کو نور کہنے کی بات ہے تو واقعی آپ نور ہیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا: قَد جائَکُم مِنَ اللّٰہ نُور  وَکِتَاب  مُبِین ( المائدہ15 ) ”تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے“ ۔بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ نور سے مراد محمد  صلى الله عليه وسلم ہیں،البتہ یہ نور ذات کے اعتبار سے نہیں بلکہ ہدایت ورسالت کے اعتبار سے ہے ،اس نور کے ذریعہ اللہ پاک نے بندوں کو ہدایت دی ۔ اللہ پاک نے فرمایا وَلَکِن جَعَلنَاہُ نُوراً نَّہدِی بِہِ مَن  نَّشَاء مِن  عِبَادِنَا (شوری 52) ”لیکن ہم نے اس کو نُوربنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں“۔
باقی رہا آپ کا جسم مبارک تو وہ خون گوشت اور ہڈیوں ہی سے بنا تھا ،قانون فطرت کے مطابق اپنے ماں باپ کے گھر آپ کی ولادت ہوئی ،ولادت سے قبل آپ کی تخلیق نہیں ہوئی،اوریہ جو کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے نبی پاک کا نور پیدا کیا گیا اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُورَ نَبِیِّکَ یَا جَابِرُ ”اے جابر! سب سے پہلے اللہ پاک نے تیرے نبی کا نور پیدا کیا “ تو یہ حدیث موضوع اور من گھڑت ہے۔ (جیساکہ دکتور احمد مرتضی نے اپنی کتا ب[ حدیث اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُورَ نَبِیِّکَ یَا جَابِرُ بین الحقیقة والخیال ]میں صراحت فرمائی ہے )گویا پیارے نبی ا گوسیدولدآدم ہیں،ساری مخلوق سے افضل ہیں،یہاں تک کہ فرشتوں سے بھی جو نور سے پیدا کیے گئے اس کے باوجود آپ ابشریت سے خارج نہیں اللہ تعالی نے فرمایا ﴾ قُل اِنَّمَا ا نَا بَشَر مِّثلُکُم  یُوحَی الَی﴿ (الکھف 110) ”آپ فرمادیجئے کہ میں تمہارے ہی جیسے ایک انسان ہوں فرق یہ ہے کہ میری طرف وحی آتی ہے “۔


مکمل تحریر >>

جمعہ, فروری 04, 2011

کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا


 یہ فروری کا شمارہ ہے اور ماہ رواں کی 25،26 تاریخ کویت کے قومی تہواراوریومِ آزادی کا پُرمسرت دن ہے ، جہاں ایک طرف کویت اپنے قومی تہوارکے پچاس سال مکمل ہونے پر نصف صد سالہ جشن منانے کی تیاری میں ہمہ تن مشغول ہے تودوسری طرف
IPCنے جنوری کے اواخر میں بڑے تزک واحتشام کے ساتھ اپنا 33سالہ جشن منایا ہے، اس طرح اگر کویت نے اپنے قومی تہوار کے پچاس سال مکمل کرلیے ہیں تو IPC نے اپنی عمر کی 33 بہاریں دیکھ لی ہیں ،چونکہ یہ ادارہ کویت کے خیروبرکات ہی کا ایک پرتو ہے، اوراس نے ایک قلیل عرصہ میں محیرالعقول خدمات انجام دی ہیں ،اس مناسبت سے ہم سردست ادارہ کے آغاز سے اب تک کا ایک معروضی خاکہ پیش کرناچاہیں گے پھر اصل موضوع کی طرف لوٹیں گے۔
 IPC کویت کی سرزمین پرتعارفِ اسلام کی مرکز ی کمیٹی ہے جو کویت کے معروف رفاہی ادارہ جمعیة النجاة الخیریہ کی ایک شاخ ہے ۔ IPC کی تاسیس سن 1978 میں عمل میں آئی ، کام کی شروعات ایک چھوٹے سے کمرے سے ہوئی جس کا پس منظر یہ ہے کہ کویت کے چند باہمت نوجوانوں نے جب دیکھا کہ اس سرزمین پرروزگارکے لیے بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں کی معتدبہ تعداد موجود ہے جن تک اسلام کا پیغام پہنچانا ایک مسلمان کی واجبی ذمہ داری ہے ، پھران میں کام کرنے کے لیے ماحول بھی سازگارہے۔
 چنانچہ تارکین وطن کو مختلف زبانوں میں دین کی معلومات بہم پہنچانے کی عملی شکل یہ اپنائی گئی کہ ان کو عربی زبان سکھائی جائے جو خلیجی ممالک میں ان کی ملازمت سے جڑی ہوئی زبان ہے ۔ اور اسی کے ساتھ ان کے سامنے اسلام کا تعارف بھی کرایا جاسکتا ہے ۔ اس کے لیے ہفتہ میں جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا کیوں کہ یہی دن بالعموم ملازمت پیشہ افراد کی تعطیل کا ہوا کرتا تھا، اسی مناسبت سے کمیٹی شروع میں ”مدارس الجمعة “کے نام سے یاد کی جاتی تھی۔
 حاضرین کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا ، چناں چہ اوقاف کی عمارت میں ایک روم کرایا پر حاصل کرلیا گیا۔ مرورایام کے ساتھ کویت کے اہل خیرکی دعوتی رغبت بڑھتی گئی جسے دیکھتے ہوئے کمیٹی کے ذمہ داران نے دعوتی کاز کو آگے بڑھانے کا منصوبہ بنایا ، دعوت کے دائرے کو وسیع کیا یہاں تک کہ اس کامرکزی دفتر فہد سالم روڈ مسجد ملا صالح کے تہہ خانہ میں قرار پایا۔ آج بفضلہ تعالیٰ کویت کے مختلف حصوں میں  ipcکی 15 شاخیں دعوتی کاموں میں سرگرم ہیں، اسے 14 زبانوں میں 74 سے زائد مبلغین کی خدمات حاصل ہيں۔ ذمہ داران اور مبلغین کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں سن تاسیس سے لے کر اب تک مختلف زبانوں کے 51 ہزارسے زائد مرد وخواتین مشرف باسلام ہوچکے ہیں۔
اس کے علاوہ ipc ہمیشہ ماہر اساتذہ کرام کی خدمات حاصل کرکے عربی بول چال کے کورسیز کراتی ہے ، دنیا کی مشہور زبانوں میں غیرمسلموں کے سامنے عصری اسلوب میں حکمت ودانائی کے ساتھ اسلام کا مثبت انداز میں تعارف کراتی ہے ، ہفتہ وار کلاسیز کے ذریعہ نومسلموں کی تربیت کرتی ہے ، مختلف زبانوں میں دعوتی کتابیں، کیسٹس اور پمفلٹس شائع کرتی اور مفت تقسیم کرتی ہے۔  ipcکو cams کے نام سے ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کی خدمت بھی حاصل ہے جوخلیجی ملکوں میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے ۔ اس کے زیراہتمام مبلغین اور عام لوگوں کے لیے ٹیکنیکل اورٹریننگ کورسیز چلتے رہتے ہیں۔
آٹھ سال سے عربی زبان میں ماہنامہ’البُشریٰ‘ بھی نکل رہا ہے جوخاص دعوتی میگزین ہے، اس نے دعوت کے تئیں اہل کویت کی ذہن سازی میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں شاید لجنة التعریف بالاسلام کو یہ امتیاز حاصل ہوگا کہ وہ چھ زبانوں ( تلگو، تمل ،ملیالم ، اردو، فلیپائن اور بنگالی ) میں بھی اپنا ماہانہ آرگن شائع کررہی ہے جو خالص دعوتی اور اصلاحی مجلات ہیں ۔
  یہ رہی IPC کی مختصرتاریخ اوراس کی موجودہ سرگرمیوں کی ایک جھلک‘ جس میں آپ نے دیکھا کہ کویت کی سرزمین پر غیرمسلم تارکین وطن کے وجود نے سکولوں میں زیرتعلیم چند کویتی نوجوانوں کے اندردعوت کاغیرمعمولی احساس پیدا کیا ،ان کے سمند ہمت کو تازیانہ لگایا، چناں چہ انہوں نے اس احساس کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کام کی شروعات کی، ابتداء میں تصور بھی نہیں کیاجا سکتا تھاکہ ان کی کوششیں اس قدر رنگ لائیں گی کہ کویت کے چپہ چپہ بلکہ پورے عالم میں اس کی گونج سنی جائے گی اور اس چمن کے لالہ وگل کی عطربیزیوں سے پورا عالم معطر ہوجاے گا۔ اس ادارہ سے فیض پانے والے کتنے  چراغِ ہدایت ہیں جن کے ہاتھوں پر ہزاروں نے اسلام قبول کیا ہے ، کتنے یورپ وامریکہ کی تاریک فضاؤں میں روشنی پھیلارہے ہیں ۔ظاہر ہے یقین محکم ،عمل پیہم اور منظم پلاننگ نے اس ادارے کو اس مقام تک پہنچایا ہے ،اس بیچ کتنی رکاوٹیںآئی ہیں، کتنے صبرآزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے، نازک اورسنگین حالات سے نبردآزمائی کرنا پڑی ہے لیکن ہرجگہ حکمت ودانائی کے ساتھ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے کہ آج یہ ادارہ شگفتہ و شاداب ہے اور مسلسل برگ وبار لارہا ہے۔
ایک طرف اس دعوتی مرکز کی خدمات ہیں تودوسری طرف یہ خبرکہ پچھلے دنوں پیرس میں عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مغربی مفکرین اور سیاست دانوں نے شرکت کی، کانفرنس کا موضوع تھا ”یورپی ممالک میں اسلام کا فروغ اوراس کے سدباب کی تدابیر “ واقعہ یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ میں اسلام کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات نے  اہلِ مغرب کو گویا باؤلا بنادیا ہے، لیکن فرزندانِ توحید کے لیے یہ کوئی نیا چیلنج نہیں ہے ، اعدائے اسلام نے تاریخ کے ہردور میں اسلام کی شمع فروزاں کو اپنی پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کی ہے اور تا صبح قیامت کرتے رہیں گے ،اس سے ہراساں ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے،اس طرح کی ناکام کوششوں کا نتیجہ ہردورمیں خیر کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور ہوتا رہے گا کیوں کہ اسلام کی فطرت ہے کہ ” جتنا ہی دباؤگے اتنا ہی یہ ابھرے گا “ البتہ ایسے کشیدہ حالات میں غیرمسلموں میں کام کرنے والے دعوتی اداروں کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے، ہرملک اورہر علاقے میں ایسے ادارے اور افراد ہونے چاہئیں جو غیرمسلموں کی زبان میں ان تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے یکسو ہوں ، ipc نے ہمیں غیرمسلموں میں کام کرنے کا تصور دیا ہے ، ہماری ذہن سازی کی ہے، اصلاح امت کے ساتھ غیرمسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ لیکن ہے یہ راستہ ‘ بڑاصبرآزما اورحوصلہ طلب، کیونکہ ع
خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا –

صفات عالم محمد زبیر تیمی
 safatalam12@yahoo.co.in

مکمل تحریر >>

ہفتہ, جنوری 08, 2011

ماہ صفر اور بدشگونی


توحید اسلامی تعلیمات کا سرچشمہ ہے ، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کو اس کی ذات وصفات اورربوبیت والوہیت میں ایک جانا جائے ، اسی سے لو لگایاجائے ،اسی پر بھروسہ کیا جائے ،اسی سے ڈرا جائے ،اسی کے سامنے ہاتھ پھیلایا جائے اور اسی کو نفع ونقصان کا مالک سمجھا جائے ۔ جب توحید کے اس تصور میں کمی آتی ہے تو انسان کا رشتہ اپنے خالق ومالک سے کمزور پڑنے لگتا ہے اور اسی کے ساتھ بدشگونی ،بدفالی اور نحوست پیداہوتی ہے ۔ بدشگونی یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کام کے کرنے کاپختہ ارادہ کرچکاہوں لیکن کوئی بات سن کر یا کوئی چیز دیکھ کر وہ کام کرنے سے رک جائے ۔ بدفالی کی یہ روایت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے ،انبیاءورسل کے دشمنوں نے حق وہدایت کو رد کرنے کے لیے اسی ہتھیار کو استعمال کیا اور بدشگونی لی کہ ان کی دعوت قبول کرنے کے نتیجے میں ہم پر مصیبتیں اور آفتیں نازل ہوں گی ۔ زمانہ جاہلیت میں مشرکین جب کوئی کام کرنا چاہتے یا سفر کا ارادہ کرتے توصبح تڑکے پرندوں کے گھونسلوں کے پاس جاکر اسے اڑاتے ،اگر پرندہ دائیں جانب اڑتا تو نیک فال تصور کرتے ہوئے ارادے کو عملی جامہ پہناتے اور اگر بائیں جانب اڑتا تو بدشگونی لیتے ہوئے سفر سے گریز کرتے ۔ جب اسلام آیا اور لوگوں نے اسلام کو گلے لگاکر توحید خالص پر تربیت حاصل کی تو ان کے اندر سے اس طرح کی تمام بدشگونیا ں خود بخود جاتی رہیں ۔
 لیکن صدحیف جب قوم مسلم اسلامی تعلیمات سے دور ہوئی اور غیرقوموں کی معاشرت اختیار کی تو ان کے اندر جہاں بہت ساری خرابیاں پیدا ہوئیں ان میں بدشگونی کے جاہلی طریقے بھی درآئے جودر حقیقت برصغیر پاک وہند میں ہندو معاشرت کے اثرات کا نتیجہ ہے ۔
آج مسلمان بھی سمجھتے ہیں کہ بلی راستہ کاٹ دے تو سفر ملتوی کردینا چاہیے ،الو کا بولنا نحوست کی علامت ہے ،اگر بہو کے گھر آنے کے بعد سسرال میں کسی کا انتقال ہوجائے تو بہو کو منحوس سمجھاجانے لگتا ہے ۔ گھر کی تعمیر شروع ہو تو ناریل پھوڑے جاتے ہیں ،گاڑی خریدی جائے تو چند لیموں لٹکائے جاتے ہیں ۔ ایک بچے کی موت کے بعد دوسرا بچہ پیدا ہوتو اس کے ناک میں سوراخ کردیاجاتا ہے مباداکہ وہ بھی مرجائے ۔ بعض افریقی ممالک میں بچے کی ولادت کے بعد چہرے کو داغدار کرنے کی نحوست بڑے پیمانے پر اب تک پائی جاتی ہے ۔ بعض علاقوںمیں شب برات میں اچھی ڈشیں تیار کی جاتیں اور تھالیاں نکال کراس عقیدے کے ساتھ اندرون خانہ رکھی جاتی ہیں کہ مردے آباءواجداد اس رات گھر تشریف لاکر کھانے سے تناول فرماتے ہیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو گھر میں نحوست داخل ہوجاتی ہے ۔ بعض مقامات پر دنوں اور مہینوں کو منحوس سمجھاجاتا ہے ، کچھ لوگ بدھ کے دن کو منحوس سمجھتے ہیں تو کچھ لوگ صفر کے مہینے سے بدفالی لیتے ہیں ۔ ہندوستان کے بعض علاقوں میں ماہ صفر کا چاند دیکھتے ہی انڈے اور کالی مرغیاں نکال کر غریبوں میں صدقہ کرنا شروع کردیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا نہ کیاجائے تو گھرمیں کسی طرح کی آفت آسکتی ہے ۔ کچھ لوگ محرم اور صفر ان دو مہینوں میں شادی بیاہ کو نحوست کی علامت سمجھتے ہیں ۔
حقیقت خرافات میں كھوگئی     یہ امت روایات میں کھو گئی
 زمانہ جاہلیت میں ماہ شوال میں شادی بیاہ کو منحوس سمجھاجاتا تھا ،ان کا تصور تھا کہ اس مہینے میں جو شادیاں ہوتی ہیں ان سے میاں بیوی کے تعلقات اثر انداز ہوتے ہیں اور ان میں آپسی الفت ومحبت پیدا نہیں ہوپاتی ۔ اس سلسلے میں حضرت عائشہ رضى الله عنها فرماتی ہیں :
 مَا تَزَوَّجَنِی رَسُو لُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم اِلاّ فِی شَوَّالَ وَمَادَخَلَ بِی اِلّا فِی شَوَّالَ فَمَن کَانَ اَحظٰی مِنِّی عِندَہ (رَوَاہُ مُسلِم)
”رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے مجھ سے شوا ل میں شادی کی اور شوال ہی میں میری رخصتی ہوئی ، اب ذرا بتاؤ (ازواج مطہرات میں) آپ صلى الله عليه وسلم کے نزدیک مجھ سے زیادہ قریب کون تھیں؟ “۔ مائی عائشہ صدیقہ رحمها الله کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے گھر کی لڑکیا ں ماہ شوال میں بیاہی جائیں ۔

بدفالی کے نقصانات:

بدفالی انسان کے دین اور دنیا دونوں کے لیے بہت زیادہ خطرناک ہے ، یہ انسان پر وساوس وخطرات کے مختلف دروازے کھول دیتی ہے، چنانچہ وہ ہر چیز سے ڈرنے لگتا ہے، ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے لیے ڈراونی بن جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی پرچھائی سے بھی خوف کھانے لگتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا کی ساری بدبختی اور شقاوت اسی کے گرد جمع ہوچکی ہے اور دوسرے لوگ پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، ایسا شخص دوسروں کو بھی توہم کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس سے دلوں میں کدورت پیدا ہوتی ہے ۔ اسی لیے امام ماوردى رحمه الله لکھتے ہیں:
 اِعلَم اَنَّہ لَیسَ شَیء اضَرُّ بِالرَّائیِ وَلَا افسَدُ لِلتَّدبِیرِ مِن اِعتَقَادِ الطِّیَرَةِ”جان لو! کہ بدشگونی سے زیادہ فکر کو نقصان پہنچانے والی اور تدبیر کو بگاڑنے والی کوئی شے نہیں ہے “۔ (ادب الدین والدنیا ص 376)
یہ نقصانات تو اپنی جگہ پر ‘تاہم بدشگونی کا سب سے پہلا ضرب عقیدہ توحید پر پڑتا ہے ،کیونکہ بدشگون لینے والے کا اعتماد اللہ سے اٹھ جاتا ہے اور اس سے بڑھ کر مصیبت اور کیا ہوگی کہ انسان اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی نفع ونقصان کا مالک سمجھ بیٹھے ۔اسی لیے علماءنے صراحت کی ہے کہ بدفالی کبیرہ گناہوں میں سے ایک عظیم گناہ ہے بلکہ شرک ہے ، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: الطِّیَرَةُ شِر (ابوداؤد، ترمذی ) ” بدفالی شرک ہے “ ۔ اور رسول پاک ا نے بدفالی لینے والوں سے اپنی برأت کا اظہار فرمایا: لَیسَ مِنَّا مَن تَطَیَّرَ أو تُطُیِّرَ لَہ (رواہ البزار باسناد جید) ”جس نے بدشگون لیا یا جس کے لیے بدشگون لیا گیا وہ ہم میں سے نہیں ہے “۔

البتہ بدفالی لینے والے کے حالات کے اعتبار سے اس پر حکم کا انطباق ہوگا

(1) جب بدفالی کا خیال آیا اور اس کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام کر گذرا تو ایسی صورت میں بدفالی کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ اس طرح کے خیالات کا پیدا ہونا عام بات ہے۔ اسی لیے حضرت ابن مسعود رضي الله عنه نے فرمایا:
 وَمَا مِنَّا اِلاَّ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یُذ ھِبُہ بِالتَّوَکُّلِ (رواہ ابوداؤد والترمذی وصححہ)
” ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جسے ایسا وہم نہ گذرتا ہو لیکن اللہ تعالی توکل سے اس کو دفع کردیتا ہے “۔
(2) بدفالی کا خیال آیا تو اس نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور اپنا کام کرگذرا البتہ اس کے دل میں ایک طرح کی بے چینی پیدا ہوگئی کہ مبادا اس کا اثرظاہر ہوجائے تو یہ مکروہ ہے تاہم شرک کے زمرے میں نہیں آتا ۔
 (3) بدفالی کا خیال آتے ہی ڈرکر اپنے کام سے رک جائے تو یہ سراسرشرک ہے ۔ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
مَن رَدَّ تہُ الطِّیَرَةُ عَن حَاجَتِہ فَقَد اشرَکَ ( احمد)
”جسے بدفالی اپنے کام سے روک دے اس نے شرک کیا“ غرضیکہ بدشگونی انسان کی انفرادی اوراجتماعی زندگی اور سب سے پہلے عقیدہ توحید کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ والوں نے بدشگونی کی سختی سے مذمت فرمائی اور اس سے بچنے کی تاکید کی ۔
حضرت عکرمہ رحمه الله كہتے ہیں :” ایک دن ہم لوگ حضرت ابن عباس رحمهما الله کے پاس بیٹھے تھے ۔ ہمارے پاس سے ایک چڑیا چہچہاتی ہوئی گذری ۔ مجلس کے حاضرین میں سے کسی نے کہا: خیر ہی ہوگا ۔ آپ نے فورا ً نکیر فرمائی اور کہا : نہ خیر ہوگا نہ شر ہوگا ۔ یعنی ایک پرندہ چہچہاتے ہوئے اڑ رہا ہے تو اس میں خیر اور شر کی کیا بات ہے“ ۔ (التمہید12/194)
 امام طاؤس رحمه الله اپنے کسی ساتھی کے ہمراہ سفرمیں تھے ،ان کے ساتھی نے کوے کی آواز سنی تو کہا: خیر ہوگا ۔یہ سنتے ہی آپ کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوگئے ، آپ نے فرمایا: ا یُّ خَیرٍ ھٰذَا ، لَاتَصحَبنِی ”آخر اس میں خیر کی کونسی بات ہے ، میرے ساتھ مت جاؤ “۔
خلافت فاروقی کے زمانہ میں دریائے نیل ہرسال خشک ہوجایا کرتا تھا ،جہالت کی بنیاد پر لوگ بدشگون لیتے کہ سمندر کو جان کی طلب ہے ۔ مصر کے گورنر حضرت عمروبن عاص رضي الله عنه نے صورتحال کی نزاکت سے امیر المؤمنین کو باخبر کیا : آپ نے دریائے نیل کے نام ایک مکتوب لکھا اور تاکید کی کہ اسے سمندر میں ڈال دیاجائے ۔ آپ نے لکھا تھا ”اے سمندر! اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو تجھے حکم دیتا ہوں کہ جاری ہوجا، اور اگر اللہ کے حکم سے جاری نہیں تو ہمیں تمہاری ضرورت نہیں “ ۔ قاصد مکتوب لایا اور اسے دریا میں ڈال دیا ۔ پھر کیا تھا ، دیکھتے ہی دیکھتے سمندر پانی سے بھر گیا ، تب سے مسلسل اب تک جاری وساری ہے ۔

کیا بیماری متعدی ہوتی ہے ؟

 اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا :
لَا عَد وَی وَلَاطِیَرَةَ وَلَا ھَامَةَ وَلَا صَفَرَ (متفق علیہ )
 ”ایک کی بیماری دوسروں کو نہیں لگتی ،نہ بدفالی کوئی چیز ہے ، نہ اُلو کا بولنا کوئی اثر رکھتا ہے ، نہ صفر کی کوئی حقیقت ہے “۔ اس حدیث سے کسی کو یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ آج اطباءنے بعض بیماریوں کے متعدی ہونے کا اثبات کیا ہے جبکہ حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایک کی بیماری دوسروں کو نہیں لگتی تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث میں بیماری کے متعدی ہونے کی نفی نہیں بلکہ جاہلی دور کے اس تصور کی نفی ہے کہ بیماریاں خود بخود متعدی ہوتی ہیں،ان میں اللہ کی مرضی کا کوئی دخل نہیں ہوتا ،اللہ کے رسول ا نے اس تصور کی سراسر نفی کردی اور کہا کہ کوئی بھی بیماری بذات خود متعدی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی مرضی کے تابع ہوتی ہے ۔ حافظ ابن رجب رحمه الله لکھتے ہیں :
 ”لاعدوی کے معنی میں علماءکا اختلاف ہے،اور اس سلسلے میں راجح قول یہ ہے کہ اس میں اہل جاہلیت کے اس عقیدے کا انکار ہے کہ بیماریاں خود بخود متعدی ہوتی ہيں، اس میں اللہ کی مشیت کا کوئی دخل نہیں ہوتا “ ۔ لہذا اگر کسی کو بیماری لگتی ہے تو اس میں بھی اصل سبب اللہ کی مشیت ہی کو سمجھنا چاہیے نہ کہ کسی بیماری کو ‘ کیونکہ اگر بیماری ہی اصل سبب ہوتو پھر ایک گھر میں متعدی مرض میں مبتلا ایک شخص کی وجہ سے گھر کے تمام افراد کو اس بیماری میں مبتلا ہوجانا چاہیے جبکہ واقعتا ایسا نہیں ہوتا ، صرف ایک دو شخص ہی بیمار ہوتے ہیں جس کے صاف معنی ہیں کہ متعدی مرض میں بھی اصل سبب بیماری نہیں اللہ کی مشیت ،اس کی تقدیر اور فیصلہ ہی ہے ۔ لیکن اسلام نے اسباب کو نظر انداز نہیں کیا اور بیماریوں کے اسباب سے بچنے کی تاکید فرمائی ۔ چنانچہ اللہ کے رسول انے بیمار اونٹوں کی بابت فرمایا: 
لَایُو ردُ مُمرِض عَلٰی مُصِحٍّ (متفق علیہ)
یعنی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ لائے جائیں ۔ اور طاعون کی بابت فرمایا:
اِذَا سَمِعتُم بِالطَّاعُونِ بِاَرضٍ فَلَا تَدخُلُوا بِھَا(متفق علیہ)
”جب تم سنو کہ کسی سرزمین میں طاعون کی وبا پھیل چکی ہے تو وہاں مت جاؤ “۔ اسی مصلحت کے تحت مجذوم کے ساتھ نشست وبرخواست کرنے سے بھی روکا گیا جیساکہ ارشاد نبوی ہے
 فٍرِّمِنَ المَجذُومِ فِرَارَکَ مِنَ الاَسَدِ(مسنداحمد، صححہ الالبانی )
”مجذوم سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو “ ۔ یہ دراصل شریعت کے احتیاطی تدابیر ہیں تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ ایسا کرنے کی وجہ سے اسے فلاں بیماری لاحق ہوئی ہے ۔ بدشگونی سے

نجات کیسے پائیں ؟

 اب سوال یہ ہے کہ بدشگونی سے نجات پانے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟تو آئیے ذیل میں ہم اس کا علاج ڈھونڈتے ہیں
 (1) اس بات پر پختہ یقین کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ رب العالمین کی طرف سے ہوتا ہے ،اللہ جو چاہے وہی ہوگا ،جو نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا ۔ وہی نفع اور نقصان کا مالک ہے ، وہی بخشنے والا اور محروم کرنے والا ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی ایسی ذات نہیںجو ہمارے مسائل حل کردے یاہماری بگڑی بنادے ۔ 
(2) جب اس طرح کے خیالات دل میں پیدا ہوں تو فوری طورپر اس کا کفارہ اداکریں جس کا ذکر مسند احمد کی ایک حدیث میں آیا ہے ،اللہ کے رسول ا نے فرمایا: ”جسے بدفالی اپنے کام سے روک دے اس نے شرک کیا “ لوگوںنے پوچھا: ”اس کا کفارہ کیا ہوگا ؟“ آپ نے فرمایا : یہ کہے :
 اللّٰھُمَّ لَاخَیرَ اِلَّا خَیرُکَ وَلَاطَیرَ اِلَّا طَیرُکَ وَلَااِلٰہَ غَیرُکَ۔
 ”اے اللہ ! تیری بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں اور تیرے نقصان کے سواکوئی نقصان نہیں “۔ (رواہ الاما م احمد وحسنہ الارناؤوط)
(3) جب کسی بات کو سن کریاکسی کام کو دیکھ کر ایک شخص کے دل میں بدشگونی کے خیالات پیدا ہورہے ہو ں تو اسے چاہیے کہ وہ بدفالی لینے کی بجائے اس سے نیک فال لے اور حسن ظن پر محمول کرے ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کو نیک فال پسند تھا ۔ حضرت انس رضي الله عنه کا بیان ہے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
 لَاعَدوَی وَلَاطِیَرَةَ وَیُعجِبُنِی الفَألُ
 ”یعنی ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی نہ بدفالی کوئی چیز ہے البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔لوگوں نے پوچھا : نیک فال کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا: عمدہ لفظ جو انسان دوسرے سے سنتا ہے “۔ (بخاری ومسلم ) مثلاً ایک بیمار شخص لفظ ”سالم“ سن کر اپنی بیماری سے شفایابی کا خیال کرتا ہے ،یا ایک شخص کوئی کام کررہا ہے اور اسی اثناء”سہل“(آسان) یا افلح(کامیاب) سنا اور اپنے معاملہ کے آسان ہونے کا خیال کیا تو ایسا کرنا صحیح ہے بلکہ مطلوب ہے ۔ کیونکہ نیک فال اللہ تعالی سے حسن ظن کی علامت ہے جبکہ بدفالی اللہ تعالی سے سوءظن کی علامت ہے ۔ اسی طرح نیک فال سے دل میں سکون پیدا ہوتا ہے ،طمانینت حاصل ہوتی ہے اور امید وتوقع کے دروازے وا ہوتے ہیں ۔

اللہ تعالی ہم سب کو بدفالی سے دور رکھے اور توکل کاحقیقی پیکر بنائے ۔ آمین
مکمل تحریر >>