بدھ, نومبر 10, 2010

شوہر کا بیوی سے دوری کی مدت


سوال :

 ایک شوہر اپنی بیوی سے کتنے دنوں تک دور رہ سکتا ہے ؟ (محمد شریف ۔ کویت )

جواب : 

شوہر کے لیے جائز ہے کہ کام کرنے کے مقصد سے یا تعلیم حاصل کرنے کے مقصد سے یا دوسری شرعی مصلحت کے تحت اپنی بیوی سے دوری اختیار کرے ، جس کی مدت چھ مہینہ ہے ، اور بعض علماءنے کہا کہ چار مہینہ ہے۔ اگر اس مدت سے زیادہ رہنے کی نوبت آجائے تو بیوی سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
اس سلسلے میں مصنف عبد الرزاق میں آیا ہے کہ عمر فاروق ص ایک مرتبہ رعایا کی خبرگیری کے لیے رات میں دیہاتوں کا چکر لگا رہے تھے کہ ایک عورت کو چند اشعار پڑھتے ہوئے سنا جس میں شوہر کی جدائی کا اظہار کیا گیا تھا ۔

معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اس کا شوہر حکومت کی طرف سے کسی مہم پر گیا ہواہے ، اسی وقت آپ نے گھر آکراپنی بیٹی حفصہ سے اس سلسلے میں بات کی کہ ایک عورت اپنے شوہر سے دوری کتنے دنوں تک برداشت کرسکتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مہینہ : چنانچہ عمر فاروق صنے یہ نظام نافذ کردیا کہ کوئی بھی حکومت کا اہلکار چار مہینے سے زیادہ اپنی بیوی سے دور نہیں رہ سکتا۔

جبکہ فقہ کی کتاب ”المغنی“میں آیا ہے کہ سیدنا عمرفاروق ص نے مجاہدین کے لیے چھ مہینے کا وقت مقررکیا تھا، ایک مہینہ چلیں گے چار مہینہ ٹھریں گے پھر ایک مہینہ میں چل کر لوٹیں گے۔

اس سلسلے میں اصولی بات علامہ محمدبن صالح العثیمین نے عرض کردی ہے آپ فرماتے ہیں:

” اگر شوہر کو بیوی کے تئیں بالکل اطمینان ہے ، اور محفوظ جگہ پررہائش پذیر ہے ، تو چھ مہینہ تک اس سے دور رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں البتہ اگر اپنے حق کا مطالبہ کرے اور شوہر سے طلب کرے کہ وہ آجائے تو اسے چاہئے کہ چھ مہینہ سے زائد اپنی بیوی سے دور نہ رہے۔ الا یہ کہ کوئی عذر ہو جیسے بیماری کا علاج کرا رہا ہے یا اس جیسے دوسرے اعذار۔ اس لیے کہ ضرورت کے خاص احکام ہوتے ہیں ، بہرکیف اس سلسلے میں حق بیوی کا ہے ، اگر اس نے دور رہنے کی اجازت دے دی ہے ، اور وہ محفوظ جگہ پر ہے تو دور رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ گرچہ زیادہ دنوں تک ہی شوہر کیوں نہ غائب رہے“۔ (فتاوی العلماء فی عشرة النساء 106)

البتہ شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ مال ودولت جمع کرنے کے دھن میں اپنی بیوی کی نفسیات کو نظر انداز نہ کرے، اس سے ہمیشہ بات کرتا رہے ، اُسے تنہا نہ رہنے دے ، ایسی جگہ پر رکھے جہاں اس کے محرم رہتے ہوں۔ اور جب کبھی موقع ملے سفر پر چلا جائے آخر پیسہ کس کے لیے کما رہا ہے۔

آخری بات یہ کہنا چاہیں گے کہ اگر بیوی کی اجازت سے آپ باہر رہ رہے ہیں توخود اپنی اور اپنی بیوی کی دینی تربیت بہت ضروری ہے ، دینی تربیت سے مراد روحانی غذاحاصل کرنا ہے اگر ایک شخص بیوی سے دور رہ کر نماز کی پابندی کرتا ہے ، نفلی روزوں کا اہتمام کرتاہے ، صبح وشام کے اذکار پر دھیان رکھتا ہے۔ قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کرتا ہے چاہے ایک صفحہ ہی کیوں نہ ہو .... تو وہ بیوی سے دور رہ کر بھی یک گونہ سکون پائے گا .... اگر نہیں تو ہمیشہ ذہنی الجھن ، پریشانی ، اور قلق واضطراب کا شکار رہے گا .... اس کے ساتھ ساتھ برائیوں میں بھی پھنستا جائے گا۔ یہی حال بیوی کا بھی ہے .... اس لیے اگر آپ بیوی بچوں سے دور ہیں توپریشانیوں کے علاج اور ذہنی سکون کے لیے روحانی غذا حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اگرذہنی سکون کے لیے فحش فلموں کا سہارا لیا....جیسا کہ بعض لوگوںکا خیال ہے تو سمجھ لیں کہ اس سے سکون نہیں ملے گا بلکہ ٹینشن میں مزید اضافہ ہوگا ، ہمیشہ قلق واضطراب دامن گیر رہے گا، جسے سکون کی تلاش ہے وہ روحانی زندگی گزار کر دیکھ لے‘ زندگی میں کیسی تبدیلی آتی ہے۔
مکمل تحریر >>

جمعہ, اکتوبر 08, 2010

بابری مسجد اراضی ملکیت : حقائق اور ہماری ذمہ داریاں


 شدت سے انتظار کرتے کرتے بالاخر وہ دن آہی گیا جس دن بابر کی تاریخی یادگاربابری مسجد کی قسمت کا فیصلہ سنادیا گیا ، اورمسجد کی اراضی قانون ،اصول اورتاریخی حقائق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض آستھا کی بنیاد پر تین حصوں میں بانٹ دی گئی ،دوحصہ کے مالک ہندو ٹھہرائے گئے تو ایک حصہ مسلمانوں کی تحویل میں کیا گیا گویا یہ کسی جائیدادکی تقسیم کا معاملہ تھا جس کے ذریعہ دوفریق کو منانا مقصود ہو ،حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں عدلیہ کے جانبدارانہ فیصلہ نے سیکولرزم کی دھجیاں بکھیر دی ہیں،ایک عام آدمی کو نفسیاتی کرب اور ذہنی الجھن میں مبتلا کردیا ہے،مسلمان تومسلمان انصاف پسند ہندومؤرخین اور دانشور بھی اس فیصلہ پر انگشت بدنداں ہیں،ہندوستان کی مشہور مؤرخ رومیلا تھاپر نے اس فیصلہ کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس قدر خطرناک ہے کہ اس کے دور رس نتائج ہوسکتے ہیں،جب کسی زمین کو ہڑپ لینا ہوتو فسطائی تنظیمیں اسے کسی مقدس شخصیت کا جنم استھان قرار دیں گی ، اس طرح فیصلہ ان کے حق میں چلا جائے گا۔
یہ تبصرہ ہے ایک غیرمسلم مؤرخ کا ،اب ذرا زمینی حقائق پر نظر ڈال کر دیکھئے، توسیعی ذہنیت کے علمبردار یہ فرقہ پرست عناصر اسلام اور اہل اسلام کوایک لمحہ کے لیے دیکھنا نہیں چاہتے ،کیونکہ ان کی جڑ یہودیت سے ملنے لگی ہے ، یہ صرف ایک بابری مسجد کا مسئلہ نہیں ہے‘ وشوہندوپریشد نے کاشی اور متھراسمیت تین ہزار مسجدوں کی لسٹ تیار کررکھی ہے جن کے بارے میں وہ ببانگ دہل اعلان کرتے ہیںکہ تمام مساجد مندر توڑ کر بنائی گئی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 3 اکتوبر کے اخبارات میںمذکورہ تنظیم نے بیان دیا ہے کہ مسلمان متھرا اور بنارس کی مساجد سے دستبردار ہوجائیں۔ اس کے لیے انہوں نے باضابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اورادھر ہمارے بعض بھولے بھالے دانشور ہیں جوہندومسلم اتحاد، قومی یکجہتی اور نام نہاد حب الوطنی کے نام پر مسجد سے دست برداری کا راگ الاپ رہے ہیں، کچھ منافقین نے تو رام مندر کی تعمیر کے لیے پندرہ لاکھ روپئے کے عطیہ کا اعلان بھی کرڈالا تھا، مسلمانوں کے آستین میں چھپے ہوئے یہ سانپ ہیں جو اس طرح کی ہذیان گوئی کرتے رہتے ہیں،ہمیں کہنے دیا جائے کہ اگر ہم نے فرقہ پرست عناصر کی بروقت نوٹس نہ لی ، اوران کے ہر فیصلے پر ایسے ہی سر جھکاتے گئے تو ہندوستان میں ہمارا عرصہءحیات تنگ کردیا جائے گا ،صرف ایک بابری مسجد کا مسئلہ رہتا تو ہم اسے انگیز کرلیتے لیکن اب مسائل پہ مسائل اٹھیں گے ،یہ ہندوستان میں ہمارے مستقبل کا مسئلہ ہے،ہمارے تشخص کا سوال ہے، مسلمان عزت کی زندگی گزارتا ہے ذلت کی نہیں ، اور اس سے بڑھ کر ذلت کیا ہوگی کہ ہم اپنے مقدسات کو غیروں کے حوالے کردیں ،اورہم کون ہوتے ہیں ان کے حوالے کرنے والے ،یہ تو اللہ کے گھر ہیں ،یہ توحید اور شر ک کا مسئلہ ہے ۔ حالات بہت نازک ہیں،یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہمارے ارباب حل وعقد مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اوردانشمندانہ طریقے سے معاملہ سپریم کورٹ تک لے جائیں،انصاف پسند غیرمسلم ماہرین قانون سے بھی مشورہ کریں کیونکہ وہ ہمارے ساتھ ہیں۔
پھر اگر اس دستبرداری کی کوئی قانونی حیثیت ہو تی تو ایک بات تھی، جس رام کی جائے پیدائش کے نام پر فسطائی طاقتوں نے 6دسمبر1992ء میںبابری مسجد کوشہید کیا تاریخی حقائق سے کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا کہ بابری مسجد کی جگہ پر رام کی کوئی نشانی تھی۔ گذشتہ دنوں جب بابری مسجد کا معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ میں تھا مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ نے روزنامہ منصف میں ایک مضمون لکھا تھا”ایک مظلوم عدالت کے کٹہرے میں “ جس میں انہوں نے تاریخی شواہد اور حقائق کی روشنی میں ثابت کیا تھا کہ بابری مسجد کا رام کی جائے پیدائش سے کوئی تعلق نہیں،اور بابر کو ظالم وجابر ٹھہرانا تاریخ کے ساتھ زیادتی ہے ، وہ کیسے ؟ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ رام جی کا صحیح معنوں میں وجود بھی تھا یا نہیں، تو بڑے بڑے ہندو دانشوروں نے کہا ہے کہ رام جی دراصل ایک افسانوی اور دیومالائی کردار ہے کسی حقیقی شخصیت کانام نہیں ہے ، اگرمان لیاجائے کہ رام جی کا صحیح معنوں میں وجود تھا اور وہ اجودھیا میں پیدا ہوئے تو سوال یہ ہے کہ اجودھیا سے کون سا علاقہ مراد ہے، آثارقدیمہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایم وی کرشنا راؤ نے ثبوتوں کی بنیاد پر دعوی کیا ہے کہ اصل اجودھیا ہریانہ کا مقام ”بناؤلی“ ہے جبکہ دوسری طرف رامپور کے ایک پنڈت جی نے ثبوتوں کی بنیاد پر یہ دعوی کیا ہے کہ رام جی کی پیدائش کی اصل جگہ رام پور ہے،بعض مؤرخین کا یہ بھی ماننا ہے کہ رام کی سلطنت کی جگہ اجودھیا کے بجائے بنارس ہے ،ہندوؤں کی مذہبی کتاب رامائن میں اجودھیا کا ذکر ملتا ہے لیکن اجودھیا کس مقام پر تھی اور رام جی کہاں پیدا ہوئے بالمیکی کے رامائن کے مطابق اجودھیا ساڑھے تیرہ میل کے فاصلے پر تھی اور مشرقی سمت میں تھی جبکہ آج کا اجودھیا لب سمندر اور مغربی سمت میں واقع ہے ۔ پروفیسر سری واستو نے لکھا ہے کہ1902 ء میں رام جی کی جائے پیدائش کی تحقیق کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے کافی تحقیق کے بعد دو مقامات کے بارے میں اندازہ لگایاکہ شاید یہ رام جی کی جائے پیدائش ہو ، ان میں سے ایک کانام رام جنم استھل اور دوسرے کا نام رام جنم بھومی ہے اور یہ دونوں جگہیں بابری مسجد کے علاوہ ہیں ۔ بابری مسجد پانچ سو سال سے وہاں موجود ہے ،تاریخ کے مختلف ادوار میں بڑے بڑے مؤرخین گذرے ہیں ،بڑے بڑے رام بھکت پیداہوئے لیکن کسی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ رام کی جائے پیدائش پر مسجد کی تعمیر عمل میں آئی ہے ۔ پھرجس کے بارے میں یہ دعوی کیا جارہا ہے اس کا مزاج بھی تو ویسا ہونا چاہیے جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ بابر مذہبی رواداری کا قائل تھا ،ہندو پنڈتوں سے بہت عقیدت سے پیش آتاتھا ،یہاں تک کہ بابر نے اپنے وصیت نامہ میں گاؤکشی سے منع کیا ہے تاکہ ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں ۔ پروفیسر سری واستو نے اپنی پوری تحقیق کے بعد لکھا ہے کہ بابر پر الزامات اس کی شخصیت اور کردار سے قطعی میل نہیں کھاتے ۔ یہاں تک کہ برطانوی سامراج کادور آیاجنہوں نے پھوٹ ڈالوحکومت کروکی پالیسی کے تحت جہاں اپنے بطن سے مرزاغلام احمد قادیانی کو جنم دیا تودوسری طرف تاریخی حقائق کو توڑمروڑکر پیش کیا جس میں مسلم سلاطین پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے ہندوقوموں کو جبراً مسلمان بنایا اور ان کی مذہبی یادگاروں کومسجد میں تبدیل کردی تاکہ ایک طرف دنیا کوباور کرایا جاسکے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تو دوسری طرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ پھوٹ ڈال کر سیاست کی کرسی پر براجمان رہیں۔
بہرکیف یہ چند حقائق تھے جنہیں اس مناسبت سے پیش کرنانہایت ناگزیر تھا تاکہ ہماری نئی نسل تاریخی شواہداور موجودہ حالات سے باخبر رہے ،جہاں تک پیش آمدہ مسئلے سے نمٹنے کا سوال ہے تو اس کے لیے ملت کے قائدین موجود ہیں جو اپنی دور اندیشی سے مناسب فیصلہ کریں گے البتہ انفرادی طور پر ہرمسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ موجودہ حالات سے سبق سیکھے اور مساجد سے ہماری اکثریت کاجو تعلق ٹوٹ چکا ہے اسے مستحکم کرے تاکہ ہم اپنے دعوی میں سچے ثابت ہوسکیں ۔اسی طرح غیرمسلموں میں دعوت کرنے کے لیے خود کو تیار کریں تاکہ گم کردہ راہ انسانیت کو بتایاجاسکے کہ انہوں نے جس شاخ نازک پراپنا آشیانہ بنارکھا ہے ہوا کا ایک جھونکا اسے زمین بوس کرنے کے لیے کافی ہے ۔
مکمل تحریر >>

جمعہ, اکتوبر 01, 2010

مجلس کا سب سے لذیذ گوشت

وَلَا یَغتَب بَّعضُکُم بَعضاً اَیُحِبُّ اَحَدُکُم ان یَاکُلَ لَحمَ اَخِیہِ مَیتاً فَکَرِہتُمُوہُ وَاتَّقُوا اللَّہَ اِنَّ اللَّہَ تَوَّاب رَّحِیم ( الحجرات 12 )

ترجمہ: اور تم میں سے بعض بعض کی غیبت نہ کرے ،کیا تم میں سے کوئی اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ تمہیں تو گھن آئے گی۔ اللہ سے ڈروبیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
تشریح : زیرنظر آیت کریمہ میں اللہ پاک نے زبان کی آفات میں سے ایک خطرناک آفت غیبت سے منع کیا ہے ۔ غیبت کیا ہے ؟ ایک مرتبہ نبی پاک صلى الله عليه وسلم  نے اپنے اصحاب سے پوچھا: تم جانتے ہو غیبت کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس انداز میں ذکر کرنا جو اسے برا لگے، لوگوں نے پوچھا : اگرمیرے بھائی میں وہ عیب ہے جو میں بیان کررہاہوں تو؟ آپ نے فرمایا:اگراس کے اندر واقعتاً وہ عیب پایا جاتا ہے تب ہی توغیبت ہے ، اگراس کے اندر وہ عیب پایا ہی نہیں جاتا تب تویہ بہتان ہے“۔ (مسلم)
مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ پاک نے غیبت سے روکتے ہوئے اس کی قباحت اس انداز میں بیان کی ہے جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ،ایک ایسے انسان کا تصور جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہو، مردارکاگوشت کھاناخود ہی گھناونی بات ہے جس سے ہر انسانی طبیعت نفرت کرتی ہے ، پھر گوشت بھی کسی مردار جانور کا نہیں بلکہ انسان کا اور انسان بھی کوئی غیر نہیں بلکہ اپنا بھائی ، تصور کریں کہ کسی کاسگا بھائی اسکے سامنے مرا پڑا ہو اوروہ اس کے گوشت کو نوچ نوچ کرکھا رہا ہو ‘ دل دہلا دینے والی مثال بیان کرکے اللہ تعالی نے اس جرم کی قباحت کی طرف اشارہ کیا ہے   
لیکن صد حیف آج ہماری مجلسو ں کا سب سے لذیذ گوشت یہی سمجھا جاتا ہے ،مزے لے لے کر اپنے سگے اورمردہ بھائی کا گوشت نوچ نوچ کرکھاتے اور ڈکار لگاتے ہیں، ہمیں اس میں اتنا لطف ملتاہے کہ باربارکھانے کے باوجود طبیعت نہیں اکتاتی،منہ سے مردے کا خون ٹپک رہا ہوتا ہے ، گھناونی بدبو آرہی ہوتی ہے لیکن خمارایسا کہ اترنے کانام نہیں لیتا۔ العیاذ باللہ ۔ اورظاہر ہے جس کی دنیا میں ایسا ذائقہ دار گوشت کھانے کی عادت بن گئی ہو ‘آخرت میں اس سے کیونکرمحروم رکھا جائے گا لیکن وہاں تو کوئی انسان ملے گا نہیں کہ اس پر حملہ کرے ، اس لیے اپنا ہی چہرہ نوچتا پھرے گا اس حدیث پرغورکیجیے :
”معراج کی شب میرا گذر ایک ایسی قوم سے ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے ، میں نے جبریل امین سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے اور ان کی غیبت کرتے تھے “۔(ابوداود)
حضرت صفیہ رضي الله عنها  پست قد تھیں ،ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضي الل عنها  نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے کہہ دیاکہ صفیہ میں سے فلاں فلاں چیز آپ کے لیے کافی ہے۔( مراد قد کا چھوٹا ہونا ہے)نبی کریم نے فرمایا: 
لقد قلت کلمة لو مزجت بماء البحر لمزحتہ۔ (ترمذی)
”تونے ایسی بات کہہ دی کہ اگر اسے سمندرکے پانی میں ملادیا جائے توساراپانی گدلا ہوجائے “۔
توآئیے آج ہی سے یہ عہد کریں کہ ہم سب کسی صورت میں اپنے مردہ بھائی گا گوشت نہ کھائیں گے یعنی کسی کی غیبت ہرگز نہ کریں گے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے ۔ آمین یا رب العالمین
مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 08, 2010

نبی رحمت صلى الله عليہ وسلم کی توہین آمیزفلم اور ہماری ذمہ داری


آج مغرب سمیت پوری دنیا اسلام دشمنی پر کمربستہ ہوچکی ہے ، کبھی وہ مسلمات دین پر کیچڑ اچھالتے ہیں ، توکبھی قرآن کریم کی بے حرمتی کرتے ہیں ،کبھی صدیقہ بنت صدیقؓ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں تو کبھی حرمین شریفین کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، کبھی مسلمانوں کو رجعت پسند اورکٹرپنتھی کا نام دیتے ہیں تو کبھی ہمارے حبیب صلى الله عليه وسلم  کے اہانت آمیز خاکے شائع کرتے ہیں ۔ پچھلے دنوں یوٹیوب پر14منٹ کی ایک فلم نشر ہوئی ہے ، یہ فلم سام باسلے نے بنائی ہے ، جس نے خودکو اسرائیلی یہودی کے طورپر متعارف کرایا ہے ، اوردعوی کیاہے کہ اس فلم کی تیاری کے لیے اس نے100یہودیوں سے5 ملین ڈالراکٹھا کئے ہیں ۔ اس توہین آمیزفلم میں اس نے اسلام اور نبی رحمتصلى الله عليه وسلمکودہشت گردی کا علمبردار باور کرایاہے ، برصغیرپاک وہند سمیت پوری دنیامیں اس فلم کی مذمت کی گئی ہے ،اوراس کے ردعمل میں لیبیا میں امریکی سفیر جے کرسٹوفرسمیت تین امریکی اہلکار ہلاک کردئیے گئے ہیں ، مصر میں مشتعل عوام نے امریکی سفارخانے کو آگ لگادی ہے ۔

ظاہر ہے کیا کوئی برداشت کرے گا کہ اس کی ماں کو کوئی گالی دے یا سخت سست کہے ، ایک غیرتمندانسان قطعاً اسے برداشت نہیں کرسکتا ،اورممکنہ حدتک اپنی ماں کا بدلہ لینے کی کوشش کرے گا ،جب ماں کی اہانت پرہرانسان کے اندرغیرت جاگ اٹھتی ہے تو ہمارے حبیب صلى الله عليه وسلم ہمیں اپنے ماں باپ سے بھی عزیز ہیں بلکہ ہماری جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں، ان کے ساتھ گستاخی کو ہم کیوں کر برداشت کرسکتے ہیں ۔ لیکن ہرایک مسلمان اس بات کا مکلف ہے کہ وہ کوئی بھی اقدام شریعت محمدی سے ہٹ کرنہ کرے، جذبات میں آکر بے گناہوں کو قتل کرنا یا آباد جگہوں کو برباد کرنا اسلامی تعلیم کے منافی عمل ہے، خود ہم اپنے نبی کی زندگی میں جھانک کردیکھ سکتے ہیں کہ مخالفین کی مخالفت سے آپ کے اخلاق حمیدہ میں مزید اضافہ ہی ہوتا رہا، اورجذباتی اقدام ہمیشہ مثبت اورہمہ گیر اثرات سے خالی ہوتا ہے پھر ہمیں اس طرح کی کاروائیوں کے پیچھے اسلام دشمن عناصر کے اہداف کو بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ وہ اصل میں اسلام کی آفاقیت اوراسکے فروغ سے بوکھلاہٹ میں مبتلا ہیں، انہیں مسلمانوں کی مذہبی اورسیاسسی ترقی اوران کی یکجہتی ویگانگت ایک آنکھ نہیں بھارہی ہے، اس لیے وہ ایسی مجرمانہ کاروائی میں مشغول ہیں ۔ورنہ کتنے انصاف پسند مغربی مفکرین نے اعتراف کیا ہے کہ انسانیت میں اگرکوئی عظمت کا مستحق ہوسکتا ہے تو وہ محمد صلى الله عليه وسلم  ہیں، آپ وہ عظیم انسان ہیں جن کے جیسے اس دھرتی پر نہ کوئی پیدا ہوا اورنہ قیامت کے دن تک پیدا ہوسکتا ہے ،آخر اس سے بڑھ کر عظیم انسان کون ہوسکتا ہے جو ایک دن اور دو دن نہیں 23 سال تک انسانیت کی خیرخواہی کے لیے تڑپتا رہا ، پھروہ دن بھی آیا کہ جن لوگوں نے آپ کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کی بازی لگائی تھی اپنے کئے پر پشیماں ہوئے اور آپ کے پیغام کو پوری دنیا میں لے کر پھیل گئے۔ کیونکہ ان کویقین ہوگیاتھا کہ آپ ساری انسانیت کے لیے رحمت بناکربھیجے گئے ہیں، کیااس انسان سے بڑھ کر رحم وکرم کا پیکر کوئی ہوسکتا ہے کہ جن کی خیرخواہی کی تھی انہوں نے ہی ان پر پتھر برسائے تھے، یہاںتک کہ خون آلود ہوکرزمین پر گرگئے تھے، جب ہوش آیا اورفرشتے نے ظالموں کو جرم کا انجام چکھانے کی اجازت چاہی تویہ کہتے ہوئے منع کردیا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ پاک ان میں سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کرے گی،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی ۔ اس یہودی عورت کو دیکھیں جس نے رحمت عالم صلى الله عليه وسلم کے سامنے شدت عناد میں اس ارادہ سے زہرآلود کھانا پیش کیا تھا کہ اس نبی سے چھٹکارا حاصل کرلیں، لیکن اسے بھی معاف کردیا۔ پھر جن لوگوں نے 21 سال تک آپ کا اورآپ کے اصحاب کا جینا دوبھر کردیا تھا فتح مکہ کے موقع پر سارے مجرمین آپ کے قبضہ میں تھے ، ایک ایک سے بدلہ لے سکتے تھے لیکن قربان جائیے رحمت عالم کی رحمت وشفقت پر کہ سب کی عام معافی کا اعلان کررہے ہیں ۔ آپ کی رحمت انسانوں توکجا حیوانوں تک کو شامل تھی جس کی تفصیلات سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ آج ایسے نبی رحمت کو دہشت گرد باورکرایا جارہا ہے تو یہ دراصل اس کشمکش اورمعرکہ آرائی کا شاخسانہ ہے جو حق وباطل کے بیچ روزاول سے جاری ہے اورتاقیامت جاری رہے گا ۔ یہ مجرمانہ حرکت جناب رسالت مآب صلى الله عليه وسلم کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی کہ اللہ پاک نے خود آپ کی شان بڑھائی ہے ، آپ کے ذکرکوبلند کیا ہے، آپ کے مخالفین کے لیے ذلت ورسوائی مقدرکی ہے، تمسخراڑانے والوں کواللہ پاک نے اپنے انجام تک پہنچایا ہے،اس لیے جب کوئی گستاخ ہمارے نبی صلى الله عليه وسلم کی شان میں گستاخی کرے گا تواس سے ہمارے نبی کی تنقیص نہیں ہوگی بلکہ ان کے مقام اورمرتبہ میں اضافہ ہوگا ۔ بلکہ آپ صلى الله عليه وسلمکی اہانت کرنے والوں کی مثال ایسے لوگوں کی سی ہے جنہوں نے سورج پر تھوکنے کی جرأت کی تو تھوک ان کے چہرے ہی پر آگرا، تجربات بھی شاہد ہیں کہ اس طرح کی نازیبا حرکتوں کا انجام ہمیشہ بہتر ی کی شکل میں سامنے آیا ہے ،ہمیں اللہ پاک کے اس فرمان پر یقین رکھنا ہے کہ : لا تحسبوہ شرا لکم بل ھو خیرلكم ”اسے اپنے لیے بُرا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے “۔ البتہ ہمیں اس مناسبت سے اپنے حبیب کے دفاع کے لیے کمرہمت باندھتے ہوئے ذیل کے چندکام کرنے ہیں:
C اللہ کے دشمنوں سے براءت کا اظہار کریں ،دوستی اور دشمنی کا معیاراللہ اوراس کے رسولصلى الله عليه وسلمکی ذات ہونی چاہیے کہ مومنوں کواللہ کے دشمنوں سے محبت نہیں ہوتی ۔
 Cدشمن کا اقتصادی بائیکاٹ کریں ،ان کی مصنوعات کی ناکہ بندی کرکے ہم انہیں سخت خسارے سے دوچار کرسکتے ہیں کہ یہ دشمن کو نقصان پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
  Cاگر ہمارے اندر کسی طرح کی دینی کوتاہی پائی جاتی ہے تو اپنامحاسبہ کریں ،دین سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں ،اپنی سوچ میں فکرآخرت کو جگہ دیں ،سیرت نبوی کا گہرائی سے مطالعہ کریں،سیرت پر مشتمل کتابیں اپنے گھروںمیں لائیں اوربیوی بچوں کو پڑھ کر سنائیں، اپنے معاشرے میں سنت نبوی کو عام کریں۔ اس طرح اپنے نبی کی سنت کو نمونہ بناکر دنیا کوبتادیں کہ ہم اپنے نبی کے حقیقی محب ہیں ۔
  Cہرشخص اپنے اپنے میدان میں اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  کی طرف سے دفاع کرے ، اصحاب قلم اپنی نگارشات کے ذریعہ، خطباء اورائمہ مساجد خطبات جمعہ کے ذریعہ، اصحاب ثروت سیرت پر مشتمل کتابیں شائع کرکے، اور عام لوگ سیرت کا مطالعہ کرکے اورسیرت کے پیغام کو غیرمسلموں تک پہنچاکر دین کی خدمت انجام دیں کہ یہ وقت کا تقاضا ہے ۔

           
مکمل تحریر >>