بدھ, ستمبر 08, 2010

نبی رحمت صلى الله عليہ وسلم کی توہین آمیزفلم اور ہماری ذمہ داری


آج مغرب سمیت پوری دنیا اسلام دشمنی پر کمربستہ ہوچکی ہے ، کبھی وہ مسلمات دین پر کیچڑ اچھالتے ہیں ، توکبھی قرآن کریم کی بے حرمتی کرتے ہیں ،کبھی صدیقہ بنت صدیقؓ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں تو کبھی حرمین شریفین کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، کبھی مسلمانوں کو رجعت پسند اورکٹرپنتھی کا نام دیتے ہیں تو کبھی ہمارے حبیب صلى الله عليه وسلم  کے اہانت آمیز خاکے شائع کرتے ہیں ۔ پچھلے دنوں یوٹیوب پر14منٹ کی ایک فلم نشر ہوئی ہے ، یہ فلم سام باسلے نے بنائی ہے ، جس نے خودکو اسرائیلی یہودی کے طورپر متعارف کرایا ہے ، اوردعوی کیاہے کہ اس فلم کی تیاری کے لیے اس نے100یہودیوں سے5 ملین ڈالراکٹھا کئے ہیں ۔ اس توہین آمیزفلم میں اس نے اسلام اور نبی رحمتصلى الله عليه وسلمکودہشت گردی کا علمبردار باور کرایاہے ، برصغیرپاک وہند سمیت پوری دنیامیں اس فلم کی مذمت کی گئی ہے ،اوراس کے ردعمل میں لیبیا میں امریکی سفیر جے کرسٹوفرسمیت تین امریکی اہلکار ہلاک کردئیے گئے ہیں ، مصر میں مشتعل عوام نے امریکی سفارخانے کو آگ لگادی ہے ۔

ظاہر ہے کیا کوئی برداشت کرے گا کہ اس کی ماں کو کوئی گالی دے یا سخت سست کہے ، ایک غیرتمندانسان قطعاً اسے برداشت نہیں کرسکتا ،اورممکنہ حدتک اپنی ماں کا بدلہ لینے کی کوشش کرے گا ،جب ماں کی اہانت پرہرانسان کے اندرغیرت جاگ اٹھتی ہے تو ہمارے حبیب صلى الله عليه وسلم ہمیں اپنے ماں باپ سے بھی عزیز ہیں بلکہ ہماری جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں، ان کے ساتھ گستاخی کو ہم کیوں کر برداشت کرسکتے ہیں ۔ لیکن ہرایک مسلمان اس بات کا مکلف ہے کہ وہ کوئی بھی اقدام شریعت محمدی سے ہٹ کرنہ کرے، جذبات میں آکر بے گناہوں کو قتل کرنا یا آباد جگہوں کو برباد کرنا اسلامی تعلیم کے منافی عمل ہے، خود ہم اپنے نبی کی زندگی میں جھانک کردیکھ سکتے ہیں کہ مخالفین کی مخالفت سے آپ کے اخلاق حمیدہ میں مزید اضافہ ہی ہوتا رہا، اورجذباتی اقدام ہمیشہ مثبت اورہمہ گیر اثرات سے خالی ہوتا ہے پھر ہمیں اس طرح کی کاروائیوں کے پیچھے اسلام دشمن عناصر کے اہداف کو بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ وہ اصل میں اسلام کی آفاقیت اوراسکے فروغ سے بوکھلاہٹ میں مبتلا ہیں، انہیں مسلمانوں کی مذہبی اورسیاسسی ترقی اوران کی یکجہتی ویگانگت ایک آنکھ نہیں بھارہی ہے، اس لیے وہ ایسی مجرمانہ کاروائی میں مشغول ہیں ۔ورنہ کتنے انصاف پسند مغربی مفکرین نے اعتراف کیا ہے کہ انسانیت میں اگرکوئی عظمت کا مستحق ہوسکتا ہے تو وہ محمد صلى الله عليه وسلم  ہیں، آپ وہ عظیم انسان ہیں جن کے جیسے اس دھرتی پر نہ کوئی پیدا ہوا اورنہ قیامت کے دن تک پیدا ہوسکتا ہے ،آخر اس سے بڑھ کر عظیم انسان کون ہوسکتا ہے جو ایک دن اور دو دن نہیں 23 سال تک انسانیت کی خیرخواہی کے لیے تڑپتا رہا ، پھروہ دن بھی آیا کہ جن لوگوں نے آپ کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کی بازی لگائی تھی اپنے کئے پر پشیماں ہوئے اور آپ کے پیغام کو پوری دنیا میں لے کر پھیل گئے۔ کیونکہ ان کویقین ہوگیاتھا کہ آپ ساری انسانیت کے لیے رحمت بناکربھیجے گئے ہیں، کیااس انسان سے بڑھ کر رحم وکرم کا پیکر کوئی ہوسکتا ہے کہ جن کی خیرخواہی کی تھی انہوں نے ہی ان پر پتھر برسائے تھے، یہاںتک کہ خون آلود ہوکرزمین پر گرگئے تھے، جب ہوش آیا اورفرشتے نے ظالموں کو جرم کا انجام چکھانے کی اجازت چاہی تویہ کہتے ہوئے منع کردیا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ پاک ان میں سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کرے گی،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی ۔ اس یہودی عورت کو دیکھیں جس نے رحمت عالم صلى الله عليه وسلم کے سامنے شدت عناد میں اس ارادہ سے زہرآلود کھانا پیش کیا تھا کہ اس نبی سے چھٹکارا حاصل کرلیں، لیکن اسے بھی معاف کردیا۔ پھر جن لوگوں نے 21 سال تک آپ کا اورآپ کے اصحاب کا جینا دوبھر کردیا تھا فتح مکہ کے موقع پر سارے مجرمین آپ کے قبضہ میں تھے ، ایک ایک سے بدلہ لے سکتے تھے لیکن قربان جائیے رحمت عالم کی رحمت وشفقت پر کہ سب کی عام معافی کا اعلان کررہے ہیں ۔ آپ کی رحمت انسانوں توکجا حیوانوں تک کو شامل تھی جس کی تفصیلات سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ آج ایسے نبی رحمت کو دہشت گرد باورکرایا جارہا ہے تو یہ دراصل اس کشمکش اورمعرکہ آرائی کا شاخسانہ ہے جو حق وباطل کے بیچ روزاول سے جاری ہے اورتاقیامت جاری رہے گا ۔ یہ مجرمانہ حرکت جناب رسالت مآب صلى الله عليه وسلم کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی کہ اللہ پاک نے خود آپ کی شان بڑھائی ہے ، آپ کے ذکرکوبلند کیا ہے، آپ کے مخالفین کے لیے ذلت ورسوائی مقدرکی ہے، تمسخراڑانے والوں کواللہ پاک نے اپنے انجام تک پہنچایا ہے،اس لیے جب کوئی گستاخ ہمارے نبی صلى الله عليه وسلم کی شان میں گستاخی کرے گا تواس سے ہمارے نبی کی تنقیص نہیں ہوگی بلکہ ان کے مقام اورمرتبہ میں اضافہ ہوگا ۔ بلکہ آپ صلى الله عليه وسلمکی اہانت کرنے والوں کی مثال ایسے لوگوں کی سی ہے جنہوں نے سورج پر تھوکنے کی جرأت کی تو تھوک ان کے چہرے ہی پر آگرا، تجربات بھی شاہد ہیں کہ اس طرح کی نازیبا حرکتوں کا انجام ہمیشہ بہتر ی کی شکل میں سامنے آیا ہے ،ہمیں اللہ پاک کے اس فرمان پر یقین رکھنا ہے کہ : لا تحسبوہ شرا لکم بل ھو خیرلكم ”اسے اپنے لیے بُرا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے “۔ البتہ ہمیں اس مناسبت سے اپنے حبیب کے دفاع کے لیے کمرہمت باندھتے ہوئے ذیل کے چندکام کرنے ہیں:
C اللہ کے دشمنوں سے براءت کا اظہار کریں ،دوستی اور دشمنی کا معیاراللہ اوراس کے رسولصلى الله عليه وسلمکی ذات ہونی چاہیے کہ مومنوں کواللہ کے دشمنوں سے محبت نہیں ہوتی ۔
 Cدشمن کا اقتصادی بائیکاٹ کریں ،ان کی مصنوعات کی ناکہ بندی کرکے ہم انہیں سخت خسارے سے دوچار کرسکتے ہیں کہ یہ دشمن کو نقصان پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
  Cاگر ہمارے اندر کسی طرح کی دینی کوتاہی پائی جاتی ہے تو اپنامحاسبہ کریں ،دین سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں ،اپنی سوچ میں فکرآخرت کو جگہ دیں ،سیرت نبوی کا گہرائی سے مطالعہ کریں،سیرت پر مشتمل کتابیں اپنے گھروںمیں لائیں اوربیوی بچوں کو پڑھ کر سنائیں، اپنے معاشرے میں سنت نبوی کو عام کریں۔ اس طرح اپنے نبی کی سنت کو نمونہ بناکر دنیا کوبتادیں کہ ہم اپنے نبی کے حقیقی محب ہیں ۔
  Cہرشخص اپنے اپنے میدان میں اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  کی طرف سے دفاع کرے ، اصحاب قلم اپنی نگارشات کے ذریعہ، خطباء اورائمہ مساجد خطبات جمعہ کے ذریعہ، اصحاب ثروت سیرت پر مشتمل کتابیں شائع کرکے، اور عام لوگ سیرت کا مطالعہ کرکے اورسیرت کے پیغام کو غیرمسلموں تک پہنچاکر دین کی خدمت انجام دیں کہ یہ وقت کا تقاضا ہے ۔

           
مکمل تحریر >>

مولانا طاہر مدنی کے نام

گرامی قدر مولانا طاہر مدنی صاحب مہتمم جامعة الفلاح بلیریاگنج ، یوپی
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

امید کہ حالات بخیر ہوں گے ۔

آپ کی کویت آمدکی مناسبت سے کئی مرتبہ آپ کے پاکیزہ خیالات سننے کا موقع ملا،کئی مجلسوںمیں آپ سے ملنے کا شرف حاصل ہوا ،آپ جامعہ الفلاح کے مہتمم ہونے کے باوجود سیاست سے دلچسپی رکھتے ہیں،اورمسلمانوں کی نمائندگی کے لیے آپ نے اس میدان میں قدم رکھا ہے ،یہ پہل میرے نزدیک قابل ستائش ہے ۔ اس اقدام پر آپ کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔ میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں، دل کی گہرائی سے آپ کی محنتوں کا قدرداں ہوں،میری دعا ہے کہ اللہ پاک قوم وملت کے لیے آپ کی ذات کو بہترین سرمایہ بنائے۔
 آج علماءطبقہ کی ذمہ داری تھی کہ قوم کی قیادت کا فریضہ انجام دیں ،دین کا صحیح شعور رکھنے والے علماءسیاست کے میدان میں آئیں ،آج وطن عزیزمیں قوم مسلم کا المیہ یہ ہے کہ جولوگ مسلمانوں کی نمائندگی کررہے ہیں وہ سیاست کی روٹی سینکنے یا اپنا ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لیے مسلمانوںکی صحیح نمائندگی کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں ، مسلمانوں کے مسائل کو حکمرانوں تک پہنچانے کے لیے ہی قوم کسی کو اپنا نمائندہ منتخب کرتی ہے ،خالص دینی رحجان رکھنے والے لوگ بھی اگر مسلم مسائل کی صحیح نمائندگی نہ کرسکیں اورتحفظات کے شکار ہوجائیں تو ظاہر ہے قابل افسوس معاملہ ہوگا ۔ہمیں قوی امید ہے کہ آپ کے سیاسی کردار سے قوم کوفائدہ پہنچے گا۔ یہی جذبات ہم آپ تک پہنچانا چاہتے ہیں ،جب ماہنامہ مصباح میں آپ کا انٹر ویوشائع ہوا تھا ،تب ہی سے آپ کے تعلق سے مجھے پوری معلومات حاصل ہوئی ہے ۔
ابھی ایک دوست کے توسط سے آپ کا ای میل دستیاب ہوا ،خیال آیاکہ آپ کے تئیں میرے ذہن میں جو نیک جذبات ہیں آپ تک پہنچادوں،اس طرح برجستہ یہ چند سطور قلمبند ہوگئے ،دعاؤں میں یاد رکھیں گے ۔ زندگی رہی تو آئندہ رابطہ ہوگا۔

والسلام
آپ کا عزیز
صفات عالم محمدزبیرتیمی

مکمل تحریر >>

جمعرات, مئی 13, 2010

نمازمیں بُرے خیالات کا آنا


سوال:
جب میں نماز شروع کرتا ہوں تو نماز میں بُرے خیالات آنے لگتے ہیں ،اب تو حال یہ ہوگیا ہے کہ میری نمازیں بھی چھوٹنے لگی ہيں حالانکہ پہلے میں پنجوقتہ نمازوں کا پابند تھا ؟    (عبدالعلیم ۔ اندلس، کویت )

جواب:
سب سے پہلے آپ یہ بات ذہن نشیں کر لیں کہ آپ کی نمازوں کے فوت ہونے کی بنیادی وجہ گناہوں اور معاصی کاارتکاب کرناہے یہ ایساہتھیار ہے جس کے ذریعہ شیطان بندے کو بآسانی اپنا یرغمال بنا لیتا ہے اور اسے شعور بھی نہیں ہوتا ، اسی طرح ٹیلیویژن اور انٹر نیٹ کے فحش پروگرام دین سے دوری پیدا کرنے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں ۔ اور جب ایک آدمی گناہ کرتا ہے تواس کا براہ راست اثر دل پر پڑتا ہے جوانسانی جسم کا مرکزی عضو ہے، اگر یہ ٹھیک رہا تو جسم کی ساری کارگزاریاں ٹھیک رہتی ہیں اور اگر یہ خراب ہوگیا تو جسم کی ساری کارگزاریاں خراب ہو جاتی ہیں ۔
اور ہرشخص اپنے دل کا حال بذات خود اچھی طرح جانتا ہے، اس لیے ہم آپ کو ناصحانہ مشورہ دیںگے کہ پہلی فرصت میں اپنے دل کا جائزہ لیں اس میں جو بُرے خیالات بیٹھے ہیں انہیں کھرچنے کی کوشش کریں،نماز اللہ تعالی سے مناجات اور سرگوشی ہے اورسرگوشی کی لذت آخر گنہگار بندے کو کیوں کر نصیب ہوسکتی ہے ۔کیا یہ ممکن ہے کہ آگ اور پانی دونوں ایک ساتھ اکٹھا ہوجائے ....؟
اگر ہم گناہوں سے باز آجائیں ، قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگیںاور موت کو ہروقت ذہن میں تازہ رکھیں توکوئی وجہ نہیں کہ ہماری یہ حالت برقرار رہے جس سے فی الوقت دوچار ہیں۔پھر اس کے بعد نماز کی ادائیگی بے حد آسان ہوجائے گی اور ذہن میں بُرے خیالات بھی راہ نہ پائیں گے ۔

بہرکیف نماز میں بُرے خیالات سے بچنے کے لیے تین باتیں دھیان میں رکھیں :
(1) جب نماز کے ليے کھڑے ہوں تو اللہ کی عظمت وجلال کو دل پرطاری کرلیںکہ ہم ایک عظیم ہستی کے سامنے کھڑے ہیں، جب بندہ اللہ اکبر کہتا ہے تو آخر یہی اعتراف کرتا ہے نا کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی ذات نہیں ۔
(2) نماز کے اذکار واوراد، سورتوں اور دعاو ¿ں کے معانی کو ذہن میں ازبر رکھیں اور پڑھتے وقت ان کے معانی پر بھی غورکریں ۔
(3) اس کے باوجود بھی اگر وسوسہ بدستورقائم ہے تو اللہ کے رسول انے اس کا خاص علاج بتادیا ہے کہ نماز کی حالت میں اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دیں اور شیطان رجیم سے پناہ مانگیں ۔حضرت عثمان بن ابی العاص ص کا بیان ہے میں نے کہا: یا رسول اللہ ا شیطان میرے اور میری نماز کے بیچ حائل ہوجاتا ہے اور میری قرأ ت کومجھ پر خلط ملط کردیتا ہے ، آپ نے فرمایا : ذَاکَ شَیطَان یُقَالُ لَہ خَنزَب فَاِذَا أحسَستَہ فَتَعَوَّذ بِاللّٰہِ مِنہ وَاتفِل عَلیٰ یَسَارِکَ ثَلاثاً ”یہ شیطان ہے جسے خنزب کہا جاتا ہے ، جب ایسا احساس پیدا ہو تو اس (کے شر) سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنے بائیں جانب تین بار تھوک دو “ حضرت عثمان بن ابی العاص ص کا بیان ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا چنانچہ اللہ تعالی نے میری شکایت دور کردی ۔ (صحیح مسلم)


مکمل تحریر >>

گناہ کرنے سے پہلے سوچ لو

 صفات عالم 

ایک آدمی ابراہیم بن ادہم رحمه الله کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا ابواسحاق! میں اپنے نفس پر بے حد زیادتی کرتاہوں،مجھے کچھ نصیحت کیجئے جو میرے لیے تازیانہء اصلاح ہو ۔

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: اگر تم پانچ خصلتوں کو قبول کرلو اور اس پرقادر ہوجاؤ تو گناہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔

آدمی نے کہا: بتائیے وہ پانچ خصلتیں کیا ہیں ؟

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: جب تم اللہ کی نافرمانی کرنا چاہو تو اس کے رزق میں سے مت کھاؤ۔

آدمی نے کہا: تو پھر میں کہاں سے کھاؤں جبکہ زمین کی ساری اشیاءاسی کی پیدا کردہ ہیں ۔

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: اے شخص! کیا تجھے زیب دیتا ہے کہ تو اسی کے رزق سے کھائے اور اسی کی نافرمانی کرے؟

آدمی نے کہا : بالکل نہیں ....دوسری خصلت بتائیے

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: جب تم اللہ کی نافرمانی کرنا چاہو تو اس کی زمین میں مت رہو۔

آدمی نے کہا: یہ تو بڑامشکل معاملہ ہے ، پھررہوں گا کہاں ....؟

ابراہیم بن ادہم رحمه الله  نے فرمایا: اے شخص! کیا تجھے زیب دیتا ہے کہ تو اسی کا رزق کھائے ،اسی کی زمین پر رہے اور اسی کی نافرمانی کرے؟

آدمی نے کہا : بالکل نہیں ....تیسری خصلت بتائیے

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: ”جب تم اللہ کی نافرمانی کا ارادہ کرو جبکہ تم اسی کا رزق کھارہے ہو ،اسی کی زمین پر رہ رہے ہو تو ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں وہ تجھے نہ دیکھ رہاہو “۔

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:اے شخص ! کیا تجھے زیب دیتا ہے کہ تم اسی کا رزق کھاؤ ،اسی کی زمین پر رہوپھر اسی کی نافرمانی کرو‘ جو تجھے دیکھ رہا ہے اور تیرے ظاہر وباطن سے آگاہ ہے؟

آدمی نے کہا : بالکل نہیں ، چوتھی خصلت بتائیے

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:جب موت کا فرشتہ تیری روح قبض کرنے آئے تو اس سے کہو کہ ذرا مہلت دو کہ خالص توبہ کرلوں اورنیک عمل کا توشہ تیار کرلوں ۔

آدمی نے کہا : (فرشتہ ) میری گزارش قبول نہیں کرے گا....

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:جب تم توبہ کرنے کے لیے موت کو مؤخر کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور جان رہے ہو کہ موت کا فرشتہ آگیا تو ایک سکنڈ کے لیے بھی تاخیر نہیں ہوسکتی ‘ تو نجات کی امید کیوں کر رکھتے ہو ....؟

آدمی نے کہا: پانچویں خصلت بتائیں

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:جب جہنم کے داروغے تجھے جہنم کی طرف لے جانے کے لیے آئیںتو ان کے ہمراہ مت جانا

آدمی نے کہا: وہ تومیری ایک نہ سنیں گے

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: توپھر نجات کی امید کیوں کر رکھتے ہو۔

آدمی نے کہا : ابراہیم ! میرے لیے کافی ہے ، میرے لیے کافی ہے ، میں آج ہی توبہ کرتا ہوں اوراللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی مغفرت کا سوال کرتاہوں۔ چنانچہ اس نے سچی توبہ کی اور اپنی پوری زندگی عبادت وریاضت میں گزارا ۔

آدمی نے کہا: وہ تو سب کودیکھ رہا ہے ،اس سے ہم کہاں چھپ سکتے ہیں۔

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: اے شخص ! کیا تجھے زیب دیتا ہے کہ تو اسی کا رزق کھائے ،اسی کی زمین پر رہے پھر اسی کی نافرمانی کرے ‘جو تجھے دیکھ رہا ہے اور تیرے ظاہر وباطن سے آگاہ ہے؟

آدمی نے کہا : بالکل نہیں ، چوتھی خصلت بتائیے

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:جب موت کا فرشتہ تیری روح قبض کرنے آئے تو اس سے کہو کہ ذرا مہلت دو کہ خالص توبہ کرلوں اورنیک عمل کا توشہ تیار کرلوں ۔

آدمی نے کہا : (فرشتہ ) میری گزارش قطعاًقبول نہ کرے گا۔

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:جب تم توبہ کرنے کے لیے موت کو مؤخر کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور جان رہے ہو کہ موت کا فرشتہ آگیا تو ایک سکنڈ کے لیے بھی تاخیر نہیں ہوسکتی ‘ تو نجات کی امید کیوں کر رکھتے ہو ....؟

آدمی نے کہا: پانچویں خصلت بتائیں

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:جب جہنم کے داروغے تجھے جہنم کی طرف لے جانے کے لیے آئیںتو ان کے ہمراہ مت جانا

آدمی نے کہا: وہ تومیری ایک نہ سنیں گے

ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: پھر نجات کی امید کیوں کر رکھتے ہو۔

آدمی نے کہا : ابراہیم ! میرے لیے کافی ہے ، میرے لیے کافی ہے ، میں آج ہی توبہ کرتا ہوںاوراللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتاہوں۔ چنانچہ اس نے سچی توبہ کی اور اپنی پوری زندگی عبادت وریاضت میں گزار دی ۔
مکمل تحریر >>