منگل, اکتوبر 29, 2019

عظیم نبی کی خوابیدہ امت

🔲 دنیا کا سب سے عظیم انسان اور اس کی سوئی ہوئی امت

اس دھرتی پر پیدا ہونے والی شخصیات میں سب سے عظیم، سب سے پاکباز، سب سے کامل، سب سے سچی اور امانت دار شخصیت محمد ﷺ کی شخصیت ہے، جنہیں تمام جن وانس کی رہنمائی کے لیے بھیجا گیا۔ جنہوں نےانسانیت کو اپنے رب سے جوڑا، توہم پرستی کا خاتمہ کیا ، وحدت الہ اور وحدت آدم کی تعلیم دی، چھوت چھات، بھید بھاؤ اور رنگ ونسل کے فرق کو مٹایا، جنہیں ایک دائمی اور ابدی معجزہ قرآن کریم دیا گیا جوصبح قیامت تک جن وانس کے لیے چیلنج ہے، جن کی سیرت کا ایک ایک لمحہ محفوظ ہے، جن کی زبان فیض ترجمان سے نکلی ہوئی ایک ایک بات کا مستند ریکارڈ موجود ہے، جنہوں نے کائنات کو ایک مکمل اور ربانی نظام حیات دیا، فطرت سے ہم آہنگ ، اعتدال پر مبنی، مستند اور آفاقی تعلیمات دیں جو ماڈرن بھی ہیں اور اپ ٹو ڈیٹ بھی ہیں، ماڈرن اتنی کہ دنیا کی ساری ماڈرنیٹی اس کی ماڈرنیٹی کے سامنے فیل ہیں اور اپ ٹو ڈیٹ اتنی کہ اس کے کسی بھی قانون میں Expiry Date نہیں، آج انسانیت جن عالمی مسائل سے جوجھ رہی ہے ان کا بہترین حل پیش کرتی ہیں۔ وہ محسن انسانیت جو لوگوں کی ہدایت کے لیے زندگی بھر تڑپتے رہے، انہیں پاگل اور دیوانہ کہا گیا،ان کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، ان پر ایمان لانے والوں کو جان لیوا اذیتیں دی گئیں، گھر سے بے گھر کیا گیا، لوگ نادانی میں ان کے ساتھ سویلاپن کا برتاؤ کرتے رہےحتی کہ ایک وقت آیا کہ محمدﷺ نے اپنے دشمنوں پر فتح پا لیا، بدلہ لینے کا موقع تھا، لیکن بدلہ لیتے تو کیسے کہ وہ تو انسانیت کے غم خوار تھے، چنانچہ تمام دشمنوں کی عام معافی کا اعلان کردیا، اس کا اثر یہ ہوا کہ دشمنوں کو ندامت ہوئی، وہ اپنے کرتوت پر پشیمان ہوئے کہ جس انسان کا لگاتار انیس سال تک جینا دوبھر کیا وہ تو ہمارا سب سے بڑا خیرخواہ نکلا، اب کیا تھا؟ انہوں نے ان کی دعوت کو گلے سے لگا یا اور اسے لے کر دنیا کے چپہ چپہ میں پھیل گئے، آج اس عظیم انسان کی دعوت پھر اجنبیت کی شکار ہے، انہیں ایک خاص قوم کا رہنما سمجھا جاتا ہے، انہیں دہشت گرد باور کرایا جاتا ہے، ان کی اہانت کی جاتی ہے، ان کی تعلیمات کا مذاق اڑایا جاتا ہے لیکن صدحیف کہ ان سے محبت کا دم بھرنے والی قوم خواب خوگوش میں پڑی ہے، اس کے سمند غیرت کو تازیانہ نہیں لگتا ۔ ع افسوس میری قوم بدلتی نہیں کروٹ

✍ صفات عالم تیمی
مکمل تحریر >>

منگل, ستمبر 03, 2019

یہ دنیا دارفانی ہے

✍ یہ دنیا دارفانی ہے، پانی کا بلبلہ ہے، ہماری زندگی محدود ہے اور یہ روزانہ برف کے جیسے پگھل رہی ہے۔ اک دن آئے گا کہ ہماری زندگی کی آخری گھنٹی بجے گی اور ہم ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ عقلمند وہی ہے جواپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور کل قیامت کے دن کی تیاری کرلیتا ہے اور بیوقوف وہ ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگا رہتا ہے اور اللہ سے امیدیں باندھے رہتا ہے۔

✍ اس لیے ضرورت ہے کہ ہم موت کی سختی کو یاد کریں، قبرکی تاریکی کو یاد کریں، منکرنکیر کے سوال کو یاد کریں، قیامت کی ہولناکی کو یاد کریں، جنت اور جہنم کے حالات پر غور کریں:

✍ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ ﴿ سوره فاطر: 5)

”اے لوگو! اللہ کا وعدہ برحق ہے، لہذا دنیاکی زندگی تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اورنہ یہ دھوکے باز تجھے دھوکے میں ڈالنے پائے. “   

✍ صفات عالم تیمی
مکمل تحریر >>

پیر, اگست 19, 2019

عصر حاضر میں سیرت ابراہیمی کی معنویت : 10 اہم نقاط کی روشنی میں منہج عمل کا تعین

مکمل تحریر >>

تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کی شہتیر بھول جاتا ہے۔

کتنے لوگ دوسروں کی چھوٹی چھوٹی کمی اور کوتاہی ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں اور انہیں اپنی بڑی بڑی کمیاں اور کوتاہیاں دکھائی نہیں دیتیں، انسان کا دوسروں کے عیوب کے پیچھے پڑنا اور اپنے عیوب سے صرف نظر کرنا ایسی غلطی ہے جس کا ارتکاب آج افسوس کہ ہماری اکثریت کرتی ہے۔ اس قبیح عادت کے انفرادی اور اجتماعی زندگی پر نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے حبیب نے ہمیں تنبیہ فرمائی: 
يُبصِرُ أحدُكم القَذاةَ في عَينِ أَخيه ، و يَنْسَى الجِذْعَ أو الجِدْلَ في عَينِه مُعتَرِضًا (السلسلة الصحيحة: 33) 
یعنی تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کی شہتیر بھول جاتا ہے۔ 
اگر ہم اپنی کمیوں پر دھیان رکھیں تو دوسروں کی کوتاہیاں معمولی لگیں گی۔ 

( صفات عالم تیمی )
مکمل تحریر >>