بدھ, اپریل 10, 2019

چاند اورسورج گرہن کی نماز کیا ہے اور کیسے پڑھی جاتی ہے؟



چاند اورسورج گرہن کی نماز کیا ہے اور کیسے پڑھی جاتی ہے؟
جواب
سورج گرہن کو کسوف الشمس کہتے ہیں اور چاند گرہن کو خسوف القمر کہتے ہیں، اور دونوں ایک ہی نماز ہے، چاند یا سورج کا گرہن اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالی بندوں کو ڈراتا ہے، اور یہ لوگوں پر اللہ کے عذاب کے نازل ہونے کا سبب بن سکتا ہے، ایسے حالات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے كہ فاذا رایتم منھا شیئا فصلوا وادعواللہ حتی یکشفها بكم "جب تم ایسا ہوتے ہوئے دیکھو تو اُس وقت تک نماز اداکرواور اللہ تعالی سے دعا کرتے رہو جب تک کہ گرہن ختم نہ ہوجائے" ۔
چاند اورسورج گرہن کی نماز کا طریقہ بخاری اورمسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوگیا توآپ مسجد میں تشریف لائے، لوگوں نےآپ کے پیچھے صفیں بنائیں، آپ نے تکبیرکہی اورلمبی قراءت کی، پھر اللہ اکبر کہا اورلمبارکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے، اورسجدہ نہ کیا بلکہ قراءت شروع کی جو پہلی رکعت کی بنسبت کچھ کم تھی، پھر تکبیر کہی اورلمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع کی نسبت چھوٹا تھا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہا، پھر سجدہ کیا پھر دوسری رکعت بھی اُسی طرح ادا کی، آپ نے دو رکعتوں والی نماز چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ مکمل کی، نماز سے فارغ ہونے تک سورج صاف ہوچکا تھا۔
یہ ہے چاند یا سورج گرہن کی نمازکا طریقہ جو جماعت سے دو رکعت ادا کی جائے گی لیکن ہر رکعت میں ضرورت کے مطابق دو یا تین رکوع اور اسی طرح قراءت ہوگی، اس کے بعد سجدہ کیا جائے گا۔ چاند یا سور ج گرہن کی نماز ادا کرلینے کے بعد امام کو چاہیے کہ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرے، ان کی غفلت اورلاپرواہی پر تنبیہ کرے اوردعا واستغفار کا حکم دے۔

مکمل تحریر >>

کیا اچانک موت سے پناہ مانگنا چاہیے؟


کیا یہ صحیح ہے کہ ایک بندے کو ہمیشہ اللہ کی جناب میں اچانک موت سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے؟
جواب: اچانک موت اللہ کی تقدیر سے ہوتی ہے، یہ کوئی برے خاتمہ کی پہچان نہیں اور نہ حسن خاتمہ کی علامت ہے، اگر اچانک موت واقع ہوئی اور بندہ نیک تھا تو اس کے لیے خیر کی امید کی جانی چاہیے اور اگر کوئی بندہ برا تھا اور اس کی اچانک موت ہوئی ہے تو گویا اللہ نے اسے توبہ کی توفیق دئیے بغیر دنیا سے اٹھا لیا۔
اچانک موت قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس حوالے سے بعض آثار وارد ہیں جن کو امام البانی نے " السلسلة الصحيحة (5/370) میں حسن قرار دیا ہے۔
البتہ اچانک موت سے پناہ مانگنے کی حوالے سے اللہ کے رسول ﷺ سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے۔ ہاں! ایک بندہ کو چاہیے کہ اللہ کے رسول ﷺ جیسے دعا کرتے تھے ویسے دعا کرتا رہے، اور آپ ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے:
 اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ (مسلم: 2739 (
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، تیری نعمت کے زوال ( چھن جانے سے)، تیری دی ہوئی عافیت کے ختم ہو جانے سے، تیرے اچانک انتقام سے، اور تیری ہر طرح کی ناراضگی سے۔

مکمل تحریر >>

إن شاء الله یا إنشاء اللہ

   صفات عالم تیمی  

عربی نہ جاننے والوں کے ہاں اسلامی مصطلحات کو لکھنے کی جو غلطیاں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک غلطی (إنشاء اللہ) لکھنا ہے۔ حالانکہ وہ (إن شاء الله) ہے۔
دونوں کے بیچ لکھاوٹ کی شکل میں بھی فرق ہے اور معنی میں بھی بہت فرق پایا جاتا ہے۔ لکھاوٹ میں فرق تو عیاں ہے، معنی میں فرق یہ ہے کہ (إن شاء اللہ) میں إن (اگر) علیحدہ کلمہ ہے اور شاء (چاہا) علیحدہ کلمہ ہے، إن شرط ہے اور شاء فعل شرط ہے جس کا معنی ہوتا ہے اگر اللہ نے چاہا۔ جبکہ (إنشاء اللہ) کا ظاہری مطلب (اللہ کی تخلیق یا اللہ کی پیدائش) ہوتا ہے۔ اس میں لغوی احتمال یہ بھی ہے کہ اس کا مطلب (اللہ کو پیدا کرنا) لے لیا جائے۔ نعوذ باللہ لیکن ہر حالت میں لکھنے والا یہ مراد نہیں لے رہا ہوتا ہے۔ وہ (إن شاء اللہ) لکھنا چاہتا ہے کہ اگر اللہ نے چاہا۔
بہر کیف چاہے جو بھی احتمال پایا جائے، یہ ایک طرح کی غلطی ہے جس کا سدھار ضروری ہے۔
إن شاء الله کیوں؟
ہم جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس کام کا پختہ ارادہ کرنے کے بعد پایہ تکمیل تک پہنچنے کے معاملے کو اللہ کی چاہت پر چھوڑ دیں، اور کہیں ان شاء اللہ۔ مدینہ کے یہود نے اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آکر آپ ﷺ کی نبوت کو آزمانے کے لیے آپ سے تین سوالات کیے، روح کی حقیقت کیا ہے؟ اصحاب کہف کون ہیں، ذوالقرنین کون ہیں؟
اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے کہا کل بتاؤں گا اور ان شاء اللہ نہیں کہا۔ اللہ نے اپنے نبی کو متنبہ کرنے کے لیے ایسے نازک وقت میں جبکہ تقاضا تھا کہ بروقت اس کا جواب دیا جائے وحی کا سلسلہ روک دیا۔ اور کئی دنوں کا وقفہ ہونے کے بعد وحی اتری، جس میں ان تینوں سوالات کا جواب دیا گیا اور یہ بھی تنبیہ کردی گئی کہ
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا ﴿٢٣﴾ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ ۚ
"اور ہرگز ہرگز کسی کام پر یوں نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا (23) مگر ساتھ ہی ان شاء اللہ کہہ لینا"۔( سورۃ الکھف: 23-24)
اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے صحیح بخاری کی كتاب أحاديث الأنبياء میں یہ حدیث بیان کی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے کہا کہ آج رات میں اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا ان شاءاللہ، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ چنانچہ کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ پیدا نہیں ہوا، صرف ایک کے یہاں ہوا اور اس کی بھی ایک جانب بیکار تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
لو قالها لجاهدوا في سبيل الله "اگر (سلیمان علیہ السلام ) ان شاء اللہ کہہ لیتے تو سب کے یہاں بچے پیدا ہوتے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔"
)
صحیح بخاری: 3424(

مکمل تحریر >>

رمضان کا استقبال کیسے کریں ؟




صفات عالم محمد زبیر تیمی  (کویت)

ہرسال ماہ رمضان کا سورج بڑے آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور ایک ماہ بعد غروب ہو جاتا ہے، لیکن رمضان سے ہم خاطر خواہ  فٰضیاب نہیں ہو پاتے۔ آخر کتنے رمضان ہماری زندگی میں آئے ہوں گے، دس رمضان، بیس رمضان، چالیس رمضان، جتنے بھی آئے ہوں، ذرا دل کو ٹٹولیں اور من سے پوچھیں کہ ان پچھلے رمضانوں میں ہماری حالت کیسی رہی، ہماری عبادت کی کیفیت کیسی رہی، ہمارا ایمان کیسا رہا، ہماری اللہ سے نزدیکی کیسی رہی؟ اور رمضان کے بعد ہمارا تقوی کیسا رہا؟ روزے کی فرضیت کا مقصد تقوی کا حصول تھا کیا اسے ہم پا سکے؟ مجھے یقین ہےکہ ہماری اکثریت کا جواب کسی صورت میں  اطمینان بخش نہیں ہو سکتا، بہرکیف پچھلے رمضانوں میں ہماری کیفیت جیسی بھی رہی ہو، آنے والا رمضان ہماری زندگی کا سب سے بہتر رمضان ثابت ہو اس حوالے سے دس اہم نکات پیش خدمت ہیں، دل سے متوجہ ہوکر انہیں پڑھیں، کاغذ اور قلم ہاتھ میں لیں، اہم نکات  قلمبند کریں اور پابندی سے ان پرعمل کرنے اور انہیں اپنی زندگی میں برتنے کا عہد کریں تاکہ اس ماہ مبارک کی برکتوں کو سمیٹ سکیں اور خود میں تقوی کی صفت پیدا کرسکیں جو روزہ کا خلاصہ ہے۔ 

1- توبہ واستغفار کو لازم پکڑیں:
گناہوں سے سچی توبہ کریں، اللہ کے حق میں کوتاہی ہوئی ہے تو اس پر  نادم اور شرمندہ ہوں، گناہوں  کو بالکلیہ چھوڑ دیں اور آئندہ انہیں نہ کرنے کا پختہ عزم رکھیں۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں جن کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کردئیے گئے تھے اس کے باوجود دن میں سو سو بار توبہ کرتے ہیں (مسلم: 2702 ) جبکہ ہم تو گناہوں میں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہیں ہمیں کس قدر توبہ و استغفار کرنے کی ضرورت ہے، اس کا ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اگر بندوں کے حق میں کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا تصفیہ کرلیں، کسی کا کوئی حق مارا ہے تو اسے چکادیں، دلوں میں کسی طرح کا کینہ کپٹ اور بغض وحسد ہے تو صلح صفائی کرلیں اور اپنے بھائیوں کے تئیں دل کو بالکل صاف کرلیں۔
اس کے لیے بہتر ہوگا کہ اکیلے میں بیٹھیں، اپنے سارے گناہوں کونوٹ کریں، پہلے بڑے گناہوں کی لسٹ بنائیں، پھر چھوٹے گناہوں کی، اس کے بعد بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ کو سامنے رکھیں پھر سوچیں کہ آخرکونسی چیز گناہ کرنے پر اکساتی ہے، بیکاری، اکیلے میں بیٹھنا، من کی چاہت، برے دوستوں کی صحبت، یا شیطانی وسوسہ، ان اسباب میں سے جو سبب بھی گناہوں میں الجھائے ہوئے ہے، سب سے پہلے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں اوراس گناہ کے مقابلے میں اسی کے جیسے کوئی جائز کام کریں، ایک اہم اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ خود پر لازم کرلیں کہ اگر میں نے فلان گناہ دوبارہ کیا تو اتنے روپئے صدقہ کروں گا۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء  (8/15 )میں ابن وهب رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے:
" میں نے نذر مانا کہ جب بھی کسی کی غیبت کروں تو ایک روزہ رکھوں گا۔ چنانچہ جب کسی کی غیبت کرتا تو ایک روزہ رکھتا، جس نے مجھے تھکا دیا، پھر میں نے نذر مانا کہ جب کسی کی غیبت کروں تو ایک درہم صدقہ کروں گا فمن حب الدراهم تركت الغيبة۔ "درہم سے محبت کے باعث میں نے غیبت کرنا چھوڑ دیا"۔ پیسوں سے ہر انسان کو محبت ہوتی ہے، اپنے اوپر یہ کام لازم کرلینے سے بآسانی برائی چھوٹ جائے گی۔ برت کے دیکھیں۔

2- رمضان کو پانے کی اللہ سے دعا کریں:
اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب فرمائے، اور اس میں قیام وصیام کی توفیق بخشے۔ اللہ والے چھ مہینہ پہلے سے رمضان کو پانے کی دعا کرتے تھے۔ مشہور تابعی معلی بن فضل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صحابہ چھ مہینہ پہلے سے یہ دعا کرتے تھے کہ ”اے اللہ ! ہمیں رمضان کی سعادت نصیب فرما“ ۔ پھر رمضان کے بعد پانچ مہینہ تک یہ دعا کرتے کہ انہوں نے جو نیکیاں کی ہیں انہیں قبول بھی فرمالے۔ وہ چھ مہینہ پہلے سے رمضان کو پانے کی دعا کریں اور ہم ہیں کہ رمضان آنے آنے کو ہے لیکن اس کے استقبال کے لیے تیار نہیں۔ نہیں! ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کیا خبر کہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو۔ اس مہینہ کو پا لینا اور اس میں عبادت کی توفیق حاصل کرلینا بہت بڑی نعمت ہے۔ اس لیے اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب فرمائے، اور اس میں قیام وصیام کی توفیق بخشے۔

3- مشغول کرنے والے کاموں کو نمٹا لیں:
رمضان سے مشغول کرنے والے جو کام بھی ہو سکتے ہوں، رمضان کی آمد سے قبل اگر ان کو نمٹا سکتے ہوں تو نمٹا لیں، عید کی جو خریداری کرنی ہے ابھی ہی کر لیں، رمضان کے آخری عشرے میں مارکٹنگ کرنے سے ہمارا دل تنگی کا شکار ہونے لگتا ہے اور ہم بہت سارے خیر سے خود کو محروم کر لیتے ہیں۔ اس لیے رمضان اور عید کی ضروریات کی چیزیں اگر ابھی خرید لیں تو پورے طور پر فارغ ہوکر رمضان کو بہتر سے بہتر طریقے سے گذار سکتے ہیں۔

4- ایمانی مطالعہ کریں:
یعنی ایمان کو جلا بخشنے والی کتابیں پڑھیں، یا آڈیوز سنیں یا ویڈیوز دیکھیں، تاکہ ہمارا نفس اس مہینے سے استفادہ کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ دنیا کی حقیقت، موت کے اٹل فیصلے، قبر کے عذاب، آخرت کے مراحل، جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذاب کے بارے میں پڑھیں یا سنیں، اگر ممکن ہو سکے تو قبرستان کی زیارت کریں اور اپنے آخری انجام کے بارے میں سوچیں، رمضان میں اللہ والوں کے معمولات کیسے بدل جاتے تھے اور ان کے دلوں کی کیسی کیفیت ہوتی تھی اسے جانیں تاکہ ہمارے دلوں میں بھی نرمی اور رقت پیدا ہو اور نیکی کا شوق پیدا ہو سکے۔  

 5- فضائل ومسائل کی جانکاری حاصل کریں:
رمضان اور روزے کے فضائل کو جانیں، کیونکہ اگر اہمیت معلوم نہ ہوگی تو اس ماہ مبارک سے فائدہ کیسے اٹھا پائیں گے، اسی طرح رمضان اور روزے کے مسائل کی جانکاری حاصل کریں۔ مستند آڈیوز سن کر، ویڈیوز دیکھ کر، کتابیں پڑھ کر، ایسی مجلسوں میں شریک ہوکر جہاں روزے کے احکام اور مسائل کے بارے میں فقہی دروس کا اہتمام کیا گیا ہو۔ اسی طرح اجتماعی شکل میں گھر میں بیٹھ کر اپنے گھر کے افراد کے ساتھ معلومات کو شئیر کریں اور کچھ کتابیں اور کیسٹس سننے کا اہتمام کریں۔
 
6- منصوبہ بندی اور پلاننگ کریں:
رمضان میں مختلف نیک اعمال انجام دینے کی نیت کریں، ختم قرآن کی نیت ہو، شب بیداری کی نیت ہو، سچی توبہ کی نیت ہو، اخلاق و کردار کو سدھارنے کی نیت ہو، دین کے لیے کام کرنے کی نیت ہو اور صدقات وخیرات کی نیت ہو۔ اور ان نیتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پلاننگ کریں۔ چوبیس گھنٹے کے لیے ایک چارٹ بنائیں، چارٹ ایسا ہو کہ اسے  اپنی عملی زندگی میں برتنا آسان ہو، مثلا:
سحری سے قبل وضو کرکے جس قدرمیسر ہو نمازیں پڑھیں اور دعا کریں کیونکہ یہ دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہے۔
نمازفجرکے بعد مسجد میں اعتکاف کریں اور سورج نکلنے کے بعد دو رکعت کی ادائیگی کریں۔ مکمل ایک حج اورایک عمرہ کا ثواب ملے گا۔ (سنن الترمذی: 586)  ( ایسا کم از کم مہینہ میں چار بار کریں)
پنج وقتہ فرض نمازوں میں اقامت سے پہلے مسجد پہنچیں اور تکبیرات احرام کی پابندی کریں،  نمازوں کے بعد کے اذکار کا اہتمام کریں، نماز وتر کی پابندی کریں، روزانہ دعا کا اہتمام کریں کہ یہ مہینہ ہی مانگنے کا مہینہ ہے۔
پورے رمضان نمازتراویح کی پابندی کریں۔ 
ہفتہ میں کم سے کم ایک دن رشتے داروں کی زیارت کریں اور ان سے رابطہ رکھیں۔
ہفتہ میں کم از کم ایک دن صدقات وخیرات کریں کیونکہ یہ مہینہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔
روزانہ روزے دار کو افطار کرائیں، چاہے ایک آدمی کو ہی سہی۔ کیونکہ ایک روزہ دار کو افطار کرانے سے ایک روزہ رکھنے کا ثواب ملتا ہے۔ (سنن الترمذی: 807)
جنازے کی نماز اور دفن میں کم سے کم ایک مرتبہ ضرور شریک ہوں۔ کیونکہ جنازہ اور دفن میں شریک ہوں گےتوآپ کو دو پہاڑوں کے برابرثواب ملے گا۔ (صحیح بخاری: 1325، صحیح مسلم: 945)
رمضان میں عمرہ کرسکتے ہوں تو ایک بار عمرہ بھی کریں کہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔(صحیح مسلم: 1256)
ہفتہ میں ایک اسلامی کیسٹ سنیں، اور روزانہ آدھا گھنٹہ دینی کتابوں کا مطالعہ کریں۔
دعوت کے کام میں شرکت کریں اورکم ازکم ایک آدمی کی ہدایت کے فکرمند رہیں۔
رمضان کے آخری عشرہ میں اگر ممکن ہوسکتا ہو تو دس دن کا اعتکاف کریں، نو راتوں میں خوب عبادت کریں، بالخصوص آخری دس دنوں کی اکہری پانچ راتوں میں شب بیداری کریں اوٍر زکاۃ الفطر کی ادائیگی کریں۔
تلاوت قرآن کے لیے الگ سے پلاننگ کریں، اور یہ نہیں کہ تلاوت کی شروعات رمضان میں کریں گے بلکہ ابھی سے کریں۔ عمرو بن قیس رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب شعبان کا مہینہ آتا تو اپنی دکان بند کردیتے اور تلاوت قرآن کے لیے خود کو فارغ کر لیتے تھے۔ سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ماہ شعبان کو قاریوں کا مہینہ کہا جاتا تھا۔ صرف یہ نہیں کہ رمضان میں قرآن کی بغیر سوچے سمجھے تلاوت کریں اور بس بلکہ ایک مرتبہ ہماری تلاوت ایسی ہو کہ قرآن پڑھتے وقت قرآن میں خود کو دیکھنے کی کوشش کریں کہ قرآن ہمارے رب کا پیغام ہے جو ہمارے نام آیا ہے۔ تلاوت کرتے ہوئے ایک ایک آیت پر غور کریں اور دیکھیں کہ ہماری زندگی میں قرآن کس حد تک اتر سکا ہے۔ جب ہم کوئی کتاب یا پرچہ پڑھتے ہیں تو ہمارا مقصد اسے سمجھنا ہوتا ہے، نہ کے الفاظ کی رٹ لگانا،  ہمارا یہی حال قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت بھی ہونا چائیے۔ آج ہم قرآن پر غور نہیں کرتے۔ جو اصل میں شیطان کی سازش ہے۔ ابن ھبیرہ رحمہ اللہ نے کہا: ومن مکائد الشیطان تنفیر عباد اللہ من تدبر القرآن لعلمہ أن الھدی واقع عند التدبر "شیطان کی سازشوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو تدبر قرآن سے دور رکھنا چاہتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ تدبر کے بعد اسے ہدایت ملنی ہے"۔
اس لیے اگر ہم عربی زبان جانتے ہیں تو ایک ایک آیت پر غورکرتے ہوئے تلاوت کریں اور اگر عربی  نہیں جانتے تواپنی زبان میں ترجمہ معانی قرآن کے ساتھ  قرآن کی تلاوت کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہمیں سمجھ میں آسکے کہ ہمارا رب ہم سے کیا کہنا چاہتا ہے۔ عجیب طرح کی تبدیلی آئے گی ہماری زندگی میں، برت کے دیکھیں۔

7- رمضان کے کام ابھی سے شروع کردیں:
یہ انتظار مت کریں کہ رمضان آنے کے بعد نیکیاں کریں گے بلکہ ابھی سے ہی شروع کریں۔
پہلے نمبر پر ہم پانچ وقت کی نمازوں پر غور کریں، اگر ان میں کوتاہی پائی جاتی ہے تو پہلی فرصت میں اسے دور کریں، فجر کی نماز میں کوتاہی ہو رہی ہے، سنتوں میں کوتاہی ہو رہی ہے، وتر کی نماز میں کوتاہی ہو رہی ہے تو خود سے عہد لیں کہ ان شاء اللہ اب کوتاہی نہیں ہوگی۔
دوسرے نمبر پر اگر ہمارے پچھلے رمضان کے روزے چھوٹ گیے تھے اور ابھی تک ان کی  قضا نہ کر سکے ہیں تو رمضان کے آنے سے پہلے ان کی قضا کرلیں۔ اگر ہمارے روزے قضا نہیں ہیں پھربھی شعبان میں بکثرت روزے رکھیں، یہ استقبال رمضان کے لیے پریکٹیکل ٹریننگ ہوگی۔
تیسرے نمبر پر ہم اپنی آمدنی کا حساب کریں، اگر ہمارے مال میں زکاۃ آرہی ہے تو پہلی فرصت میں حساب لگا کر زکاۃ کے پیسے نکال دیں کہ یہ ہمارے مال پر غریبوں کا واجبی حق ہے جس کی ادائیگی میں اگر کوتاہی کی تو ہم شریعت کی نظر میں سخت مجرم ہوں گے۔ اس لیے جو لوگ اپنے مالوں پر سانپ بنے بیٹھے ہیں ہوش میں آجائیں اور اپنے مالوں کی زکاۃ نکالیں۔

8- فارغ اوقات مسجد میں گذاریں :
رمضان کے ایام میں فارغ اوقات مسجد میں گذاریں، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مسجد میں صرف بیٹھنا اجر وثواب کا باعث ہوگا، اور مسجد میں ہونے کی وجہ سے نیکیوں کے بہت سے کام کر سکیں گے۔ سات طرح کے لوگ جو کل قیامت کے دن اللہ کے VIP ہوں گے اور عرش الہی کا سایہ پائیں گے ان میں سے ایک ہوگا: رجل قلبہ معلق بالمساجد (صحیح بخاری: 6806، صحیح مسلم: 1031) "وہ شخص جس کا دل ہمیشہ مسجد میں لگا رہتا ہے"۔  مسجد میں فارغ وقت بتانے کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ روزے کو مکدر کرنے والے کاموں سے دور رہ سکیں گے، روزہ کو خراب کرنے والے وسائل میں سب سے خطرناک وسیلہ جو ہمارے معاشرے اور سماج کے لیے آج کینسر کی حیثیت رکھتا ہے، ڈش، ٹی وی اور انٹرنیٹ ہے۔ آج اس نے گھر گھر پہنچ حاصل کرلی ہے، اور غیر محسوس طریقے سے ہمارے اہل خانہ پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ جو کوئی بھی انٹرنیٹ کا رسیا ہے یا ٹیلیویژن کے پروگرام دیکھنے میں لگا رہتا ہے ایسا انسان صحیح معنوں میں رمضان کی برکتوں سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اس لیے ہمیں ان وسائل کا استعمال کرنا ہے لیکن ضرورت کے تحت اور وہ بھی خیر کے کام میں۔ گلاس میں پانی پیا جاتا ہے نا، لیکن اسی گلاس میں ایک انسان شراب بھی پیتا ہے تو آخر ہم شراب کیوں پئیں، پانی ہی پینے پر اکتفا کیوں نہ کریں ۔ انٹرنیٹ اور جدید آلات کا استعمال ہم خیر کے کام میں کریں، دعوت کے کام میں کریں،  لیکن پھر بھی اگر ہم صحیح معنوں میں رمضان سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ان وسائل کا استعمال رمضان میں کم از کم کریں۔

9- فضولیات سے خود کو بچائیں:
فضولیات سے مقصود بیکاری میں مشغول رہنا اور  ضرورت کے بغیر کوئی کام کرنا ہے۔ بات کرنی ہے تو ضرورت کے تحت کریں، کچھ دیکھنا ہے تو ضرورت کے تحت دیکھیں، کچھ سننا ہے تو ضرورت کے تحت سنیں، کھانا ہے تو ضرورت کے تحت کھائیں، لوگوں کے ساتھ نشست وبرخواست کرنی ہے تو اعتدال کے ساتھ کریں ۔ ان پانچ چیزوں میں بیکاری نہیں آنی چاہیے، ضرورت سے زیادہ اگر بات کی، ضرورت سے زیادہ اگر دیکھا، ضرورت سے زیادہ اگر سنا، ضرورت سے زیادہ اگر کھانا کھایا اور ضرورت سے زیادہ اگر صحبت اختیارکی تو کسی صورت میں ہم رمضان کی برکتوں سے صحیح طریقے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ گویا ہمیں کان کو بھی روزہ رکھوانا ہے، زبان کو بھی روزہ رکھوانا ہے،  نگاہ کو بھی روزہ رکھوانا ہے، پیٹ کو بھی روزہ رکھوانا ہے اور دل کو بھی روزہ رکھوانا ہے تب جا کر ہم رمضان کی برکتوں سے صحیح معنوں میں فیضیاب ہو سکیں گے۔

10- خواتین اپنے مخصوص ایام بھی عبادت میں گذاریں:  
خواتین رمضان میں اپنا زیادہ تر وقت کھانا بنانے اور مختلف قسم کے پکوان تیار کرنے میں صرف کر دیتی ہیں۔ حالانکہ اس وقت کو بھی نیکی کے کام میں لگایا جا سکتا تھا، خواتین اس حالت میں بھی ذکر کا اہتمام کر سکتی ہیں، قرآن کی تلاوت سن سکتی ہیں۔ پھر کھانا تیار کرتے وقت اگر نیت میں اخلاص ہو تو اس میں بھی اجر وثواب ہے۔ اسی طرح کچھ بہنیں جب اپنے مخصوص ایام میں ہوتی ہیں تو یہ سمجھتی ہیں کہ ہم ہر خیر سے محروم ہوچکے ہیں، عبادت کا کوئی کام نہیں کرتیں۔ حالانکہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ٹھیک ہے وہ نماز نہیں پڑھ سکتیں، روزے نہیں رکھ سکتیں، لیکن اس بات سے کس نے روکا ہے کہ وہ ذکر نہ کریں، توبہ اور استغفار نہ کریں، دعا نہ کریں۔ خاص کر رات کے تیسرے پہر میں ایک عورت کو چاہیے کہ ان مخصوص ایام میں بھی جاگ کر اللہ کا ذکر کرے، توبہ و استغفار کرے اور اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے، اپنے شوہر کے لیے، اپنے بچوں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرے۔
 یہ دس اہم نکات ہیں جنہیں اگر ہم نے پورے عزم کے ساتھ اپنی عملی زندگی میں جگہ دی تو آنے والا رمضان پچھلے سارے رمضانوں سے بہتر رمضان ثابت ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں رمضان کے ایک ایک لمحہ سے فیضیاب ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین



مکمل تحریر >>