بدھ, اپریل 10, 2019

رمضان کا استقبال کیسے کریں ؟




صفات عالم محمد زبیر تیمی  (کویت)

ہرسال ماہ رمضان کا سورج بڑے آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور ایک ماہ بعد غروب ہو جاتا ہے، لیکن رمضان سے ہم خاطر خواہ  فٰضیاب نہیں ہو پاتے۔ آخر کتنے رمضان ہماری زندگی میں آئے ہوں گے، دس رمضان، بیس رمضان، چالیس رمضان، جتنے بھی آئے ہوں، ذرا دل کو ٹٹولیں اور من سے پوچھیں کہ ان پچھلے رمضانوں میں ہماری حالت کیسی رہی، ہماری عبادت کی کیفیت کیسی رہی، ہمارا ایمان کیسا رہا، ہماری اللہ سے نزدیکی کیسی رہی؟ اور رمضان کے بعد ہمارا تقوی کیسا رہا؟ روزے کی فرضیت کا مقصد تقوی کا حصول تھا کیا اسے ہم پا سکے؟ مجھے یقین ہےکہ ہماری اکثریت کا جواب کسی صورت میں  اطمینان بخش نہیں ہو سکتا، بہرکیف پچھلے رمضانوں میں ہماری کیفیت جیسی بھی رہی ہو، آنے والا رمضان ہماری زندگی کا سب سے بہتر رمضان ثابت ہو اس حوالے سے دس اہم نکات پیش خدمت ہیں، دل سے متوجہ ہوکر انہیں پڑھیں، کاغذ اور قلم ہاتھ میں لیں، اہم نکات  قلمبند کریں اور پابندی سے ان پرعمل کرنے اور انہیں اپنی زندگی میں برتنے کا عہد کریں تاکہ اس ماہ مبارک کی برکتوں کو سمیٹ سکیں اور خود میں تقوی کی صفت پیدا کرسکیں جو روزہ کا خلاصہ ہے۔ 

1- توبہ واستغفار کو لازم پکڑیں:
گناہوں سے سچی توبہ کریں، اللہ کے حق میں کوتاہی ہوئی ہے تو اس پر  نادم اور شرمندہ ہوں، گناہوں  کو بالکلیہ چھوڑ دیں اور آئندہ انہیں نہ کرنے کا پختہ عزم رکھیں۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں جن کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کردئیے گئے تھے اس کے باوجود دن میں سو سو بار توبہ کرتے ہیں (مسلم: 2702 ) جبکہ ہم تو گناہوں میں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہیں ہمیں کس قدر توبہ و استغفار کرنے کی ضرورت ہے، اس کا ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اگر بندوں کے حق میں کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا تصفیہ کرلیں، کسی کا کوئی حق مارا ہے تو اسے چکادیں، دلوں میں کسی طرح کا کینہ کپٹ اور بغض وحسد ہے تو صلح صفائی کرلیں اور اپنے بھائیوں کے تئیں دل کو بالکل صاف کرلیں۔
اس کے لیے بہتر ہوگا کہ اکیلے میں بیٹھیں، اپنے سارے گناہوں کونوٹ کریں، پہلے بڑے گناہوں کی لسٹ بنائیں، پھر چھوٹے گناہوں کی، اس کے بعد بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ کو سامنے رکھیں پھر سوچیں کہ آخرکونسی چیز گناہ کرنے پر اکساتی ہے، بیکاری، اکیلے میں بیٹھنا، من کی چاہت، برے دوستوں کی صحبت، یا شیطانی وسوسہ، ان اسباب میں سے جو سبب بھی گناہوں میں الجھائے ہوئے ہے، سب سے پہلے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں اوراس گناہ کے مقابلے میں اسی کے جیسے کوئی جائز کام کریں، ایک اہم اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ خود پر لازم کرلیں کہ اگر میں نے فلان گناہ دوبارہ کیا تو اتنے روپئے صدقہ کروں گا۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء  (8/15 )میں ابن وهب رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے:
" میں نے نذر مانا کہ جب بھی کسی کی غیبت کروں تو ایک روزہ رکھوں گا۔ چنانچہ جب کسی کی غیبت کرتا تو ایک روزہ رکھتا، جس نے مجھے تھکا دیا، پھر میں نے نذر مانا کہ جب کسی کی غیبت کروں تو ایک درہم صدقہ کروں گا فمن حب الدراهم تركت الغيبة۔ "درہم سے محبت کے باعث میں نے غیبت کرنا چھوڑ دیا"۔ پیسوں سے ہر انسان کو محبت ہوتی ہے، اپنے اوپر یہ کام لازم کرلینے سے بآسانی برائی چھوٹ جائے گی۔ برت کے دیکھیں۔

2- رمضان کو پانے کی اللہ سے دعا کریں:
اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب فرمائے، اور اس میں قیام وصیام کی توفیق بخشے۔ اللہ والے چھ مہینہ پہلے سے رمضان کو پانے کی دعا کرتے تھے۔ مشہور تابعی معلی بن فضل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صحابہ چھ مہینہ پہلے سے یہ دعا کرتے تھے کہ ”اے اللہ ! ہمیں رمضان کی سعادت نصیب فرما“ ۔ پھر رمضان کے بعد پانچ مہینہ تک یہ دعا کرتے کہ انہوں نے جو نیکیاں کی ہیں انہیں قبول بھی فرمالے۔ وہ چھ مہینہ پہلے سے رمضان کو پانے کی دعا کریں اور ہم ہیں کہ رمضان آنے آنے کو ہے لیکن اس کے استقبال کے لیے تیار نہیں۔ نہیں! ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کیا خبر کہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو۔ اس مہینہ کو پا لینا اور اس میں عبادت کی توفیق حاصل کرلینا بہت بڑی نعمت ہے۔ اس لیے اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب فرمائے، اور اس میں قیام وصیام کی توفیق بخشے۔

3- مشغول کرنے والے کاموں کو نمٹا لیں:
رمضان سے مشغول کرنے والے جو کام بھی ہو سکتے ہوں، رمضان کی آمد سے قبل اگر ان کو نمٹا سکتے ہوں تو نمٹا لیں، عید کی جو خریداری کرنی ہے ابھی ہی کر لیں، رمضان کے آخری عشرے میں مارکٹنگ کرنے سے ہمارا دل تنگی کا شکار ہونے لگتا ہے اور ہم بہت سارے خیر سے خود کو محروم کر لیتے ہیں۔ اس لیے رمضان اور عید کی ضروریات کی چیزیں اگر ابھی خرید لیں تو پورے طور پر فارغ ہوکر رمضان کو بہتر سے بہتر طریقے سے گذار سکتے ہیں۔

4- ایمانی مطالعہ کریں:
یعنی ایمان کو جلا بخشنے والی کتابیں پڑھیں، یا آڈیوز سنیں یا ویڈیوز دیکھیں، تاکہ ہمارا نفس اس مہینے سے استفادہ کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ دنیا کی حقیقت، موت کے اٹل فیصلے، قبر کے عذاب، آخرت کے مراحل، جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذاب کے بارے میں پڑھیں یا سنیں، اگر ممکن ہو سکے تو قبرستان کی زیارت کریں اور اپنے آخری انجام کے بارے میں سوچیں، رمضان میں اللہ والوں کے معمولات کیسے بدل جاتے تھے اور ان کے دلوں کی کیسی کیفیت ہوتی تھی اسے جانیں تاکہ ہمارے دلوں میں بھی نرمی اور رقت پیدا ہو اور نیکی کا شوق پیدا ہو سکے۔  

 5- فضائل ومسائل کی جانکاری حاصل کریں:
رمضان اور روزے کے فضائل کو جانیں، کیونکہ اگر اہمیت معلوم نہ ہوگی تو اس ماہ مبارک سے فائدہ کیسے اٹھا پائیں گے، اسی طرح رمضان اور روزے کے مسائل کی جانکاری حاصل کریں۔ مستند آڈیوز سن کر، ویڈیوز دیکھ کر، کتابیں پڑھ کر، ایسی مجلسوں میں شریک ہوکر جہاں روزے کے احکام اور مسائل کے بارے میں فقہی دروس کا اہتمام کیا گیا ہو۔ اسی طرح اجتماعی شکل میں گھر میں بیٹھ کر اپنے گھر کے افراد کے ساتھ معلومات کو شئیر کریں اور کچھ کتابیں اور کیسٹس سننے کا اہتمام کریں۔
 
6- منصوبہ بندی اور پلاننگ کریں:
رمضان میں مختلف نیک اعمال انجام دینے کی نیت کریں، ختم قرآن کی نیت ہو، شب بیداری کی نیت ہو، سچی توبہ کی نیت ہو، اخلاق و کردار کو سدھارنے کی نیت ہو، دین کے لیے کام کرنے کی نیت ہو اور صدقات وخیرات کی نیت ہو۔ اور ان نیتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پلاننگ کریں۔ چوبیس گھنٹے کے لیے ایک چارٹ بنائیں، چارٹ ایسا ہو کہ اسے  اپنی عملی زندگی میں برتنا آسان ہو، مثلا:
سحری سے قبل وضو کرکے جس قدرمیسر ہو نمازیں پڑھیں اور دعا کریں کیونکہ یہ دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہے۔
نمازفجرکے بعد مسجد میں اعتکاف کریں اور سورج نکلنے کے بعد دو رکعت کی ادائیگی کریں۔ مکمل ایک حج اورایک عمرہ کا ثواب ملے گا۔ (سنن الترمذی: 586)  ( ایسا کم از کم مہینہ میں چار بار کریں)
پنج وقتہ فرض نمازوں میں اقامت سے پہلے مسجد پہنچیں اور تکبیرات احرام کی پابندی کریں،  نمازوں کے بعد کے اذکار کا اہتمام کریں، نماز وتر کی پابندی کریں، روزانہ دعا کا اہتمام کریں کہ یہ مہینہ ہی مانگنے کا مہینہ ہے۔
پورے رمضان نمازتراویح کی پابندی کریں۔ 
ہفتہ میں کم سے کم ایک دن رشتے داروں کی زیارت کریں اور ان سے رابطہ رکھیں۔
ہفتہ میں کم از کم ایک دن صدقات وخیرات کریں کیونکہ یہ مہینہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔
روزانہ روزے دار کو افطار کرائیں، چاہے ایک آدمی کو ہی سہی۔ کیونکہ ایک روزہ دار کو افطار کرانے سے ایک روزہ رکھنے کا ثواب ملتا ہے۔ (سنن الترمذی: 807)
جنازے کی نماز اور دفن میں کم سے کم ایک مرتبہ ضرور شریک ہوں۔ کیونکہ جنازہ اور دفن میں شریک ہوں گےتوآپ کو دو پہاڑوں کے برابرثواب ملے گا۔ (صحیح بخاری: 1325، صحیح مسلم: 945)
رمضان میں عمرہ کرسکتے ہوں تو ایک بار عمرہ بھی کریں کہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔(صحیح مسلم: 1256)
ہفتہ میں ایک اسلامی کیسٹ سنیں، اور روزانہ آدھا گھنٹہ دینی کتابوں کا مطالعہ کریں۔
دعوت کے کام میں شرکت کریں اورکم ازکم ایک آدمی کی ہدایت کے فکرمند رہیں۔
رمضان کے آخری عشرہ میں اگر ممکن ہوسکتا ہو تو دس دن کا اعتکاف کریں، نو راتوں میں خوب عبادت کریں، بالخصوص آخری دس دنوں کی اکہری پانچ راتوں میں شب بیداری کریں اوٍر زکاۃ الفطر کی ادائیگی کریں۔
تلاوت قرآن کے لیے الگ سے پلاننگ کریں، اور یہ نہیں کہ تلاوت کی شروعات رمضان میں کریں گے بلکہ ابھی سے کریں۔ عمرو بن قیس رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب شعبان کا مہینہ آتا تو اپنی دکان بند کردیتے اور تلاوت قرآن کے لیے خود کو فارغ کر لیتے تھے۔ سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ماہ شعبان کو قاریوں کا مہینہ کہا جاتا تھا۔ صرف یہ نہیں کہ رمضان میں قرآن کی بغیر سوچے سمجھے تلاوت کریں اور بس بلکہ ایک مرتبہ ہماری تلاوت ایسی ہو کہ قرآن پڑھتے وقت قرآن میں خود کو دیکھنے کی کوشش کریں کہ قرآن ہمارے رب کا پیغام ہے جو ہمارے نام آیا ہے۔ تلاوت کرتے ہوئے ایک ایک آیت پر غور کریں اور دیکھیں کہ ہماری زندگی میں قرآن کس حد تک اتر سکا ہے۔ جب ہم کوئی کتاب یا پرچہ پڑھتے ہیں تو ہمارا مقصد اسے سمجھنا ہوتا ہے، نہ کے الفاظ کی رٹ لگانا،  ہمارا یہی حال قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت بھی ہونا چائیے۔ آج ہم قرآن پر غور نہیں کرتے۔ جو اصل میں شیطان کی سازش ہے۔ ابن ھبیرہ رحمہ اللہ نے کہا: ومن مکائد الشیطان تنفیر عباد اللہ من تدبر القرآن لعلمہ أن الھدی واقع عند التدبر "شیطان کی سازشوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو تدبر قرآن سے دور رکھنا چاہتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ تدبر کے بعد اسے ہدایت ملنی ہے"۔
اس لیے اگر ہم عربی زبان جانتے ہیں تو ایک ایک آیت پر غورکرتے ہوئے تلاوت کریں اور اگر عربی  نہیں جانتے تواپنی زبان میں ترجمہ معانی قرآن کے ساتھ  قرآن کی تلاوت کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہمیں سمجھ میں آسکے کہ ہمارا رب ہم سے کیا کہنا چاہتا ہے۔ عجیب طرح کی تبدیلی آئے گی ہماری زندگی میں، برت کے دیکھیں۔

7- رمضان کے کام ابھی سے شروع کردیں:
یہ انتظار مت کریں کہ رمضان آنے کے بعد نیکیاں کریں گے بلکہ ابھی سے ہی شروع کریں۔
پہلے نمبر پر ہم پانچ وقت کی نمازوں پر غور کریں، اگر ان میں کوتاہی پائی جاتی ہے تو پہلی فرصت میں اسے دور کریں، فجر کی نماز میں کوتاہی ہو رہی ہے، سنتوں میں کوتاہی ہو رہی ہے، وتر کی نماز میں کوتاہی ہو رہی ہے تو خود سے عہد لیں کہ ان شاء اللہ اب کوتاہی نہیں ہوگی۔
دوسرے نمبر پر اگر ہمارے پچھلے رمضان کے روزے چھوٹ گیے تھے اور ابھی تک ان کی  قضا نہ کر سکے ہیں تو رمضان کے آنے سے پہلے ان کی قضا کرلیں۔ اگر ہمارے روزے قضا نہیں ہیں پھربھی شعبان میں بکثرت روزے رکھیں، یہ استقبال رمضان کے لیے پریکٹیکل ٹریننگ ہوگی۔
تیسرے نمبر پر ہم اپنی آمدنی کا حساب کریں، اگر ہمارے مال میں زکاۃ آرہی ہے تو پہلی فرصت میں حساب لگا کر زکاۃ کے پیسے نکال دیں کہ یہ ہمارے مال پر غریبوں کا واجبی حق ہے جس کی ادائیگی میں اگر کوتاہی کی تو ہم شریعت کی نظر میں سخت مجرم ہوں گے۔ اس لیے جو لوگ اپنے مالوں پر سانپ بنے بیٹھے ہیں ہوش میں آجائیں اور اپنے مالوں کی زکاۃ نکالیں۔

8- فارغ اوقات مسجد میں گذاریں :
رمضان کے ایام میں فارغ اوقات مسجد میں گذاریں، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مسجد میں صرف بیٹھنا اجر وثواب کا باعث ہوگا، اور مسجد میں ہونے کی وجہ سے نیکیوں کے بہت سے کام کر سکیں گے۔ سات طرح کے لوگ جو کل قیامت کے دن اللہ کے VIP ہوں گے اور عرش الہی کا سایہ پائیں گے ان میں سے ایک ہوگا: رجل قلبہ معلق بالمساجد (صحیح بخاری: 6806، صحیح مسلم: 1031) "وہ شخص جس کا دل ہمیشہ مسجد میں لگا رہتا ہے"۔  مسجد میں فارغ وقت بتانے کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ روزے کو مکدر کرنے والے کاموں سے دور رہ سکیں گے، روزہ کو خراب کرنے والے وسائل میں سب سے خطرناک وسیلہ جو ہمارے معاشرے اور سماج کے لیے آج کینسر کی حیثیت رکھتا ہے، ڈش، ٹی وی اور انٹرنیٹ ہے۔ آج اس نے گھر گھر پہنچ حاصل کرلی ہے، اور غیر محسوس طریقے سے ہمارے اہل خانہ پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ جو کوئی بھی انٹرنیٹ کا رسیا ہے یا ٹیلیویژن کے پروگرام دیکھنے میں لگا رہتا ہے ایسا انسان صحیح معنوں میں رمضان کی برکتوں سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اس لیے ہمیں ان وسائل کا استعمال کرنا ہے لیکن ضرورت کے تحت اور وہ بھی خیر کے کام میں۔ گلاس میں پانی پیا جاتا ہے نا، لیکن اسی گلاس میں ایک انسان شراب بھی پیتا ہے تو آخر ہم شراب کیوں پئیں، پانی ہی پینے پر اکتفا کیوں نہ کریں ۔ انٹرنیٹ اور جدید آلات کا استعمال ہم خیر کے کام میں کریں، دعوت کے کام میں کریں،  لیکن پھر بھی اگر ہم صحیح معنوں میں رمضان سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ان وسائل کا استعمال رمضان میں کم از کم کریں۔

9- فضولیات سے خود کو بچائیں:
فضولیات سے مقصود بیکاری میں مشغول رہنا اور  ضرورت کے بغیر کوئی کام کرنا ہے۔ بات کرنی ہے تو ضرورت کے تحت کریں، کچھ دیکھنا ہے تو ضرورت کے تحت دیکھیں، کچھ سننا ہے تو ضرورت کے تحت سنیں، کھانا ہے تو ضرورت کے تحت کھائیں، لوگوں کے ساتھ نشست وبرخواست کرنی ہے تو اعتدال کے ساتھ کریں ۔ ان پانچ چیزوں میں بیکاری نہیں آنی چاہیے، ضرورت سے زیادہ اگر بات کی، ضرورت سے زیادہ اگر دیکھا، ضرورت سے زیادہ اگر سنا، ضرورت سے زیادہ اگر کھانا کھایا اور ضرورت سے زیادہ اگر صحبت اختیارکی تو کسی صورت میں ہم رمضان کی برکتوں سے صحیح طریقے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ گویا ہمیں کان کو بھی روزہ رکھوانا ہے، زبان کو بھی روزہ رکھوانا ہے،  نگاہ کو بھی روزہ رکھوانا ہے، پیٹ کو بھی روزہ رکھوانا ہے اور دل کو بھی روزہ رکھوانا ہے تب جا کر ہم رمضان کی برکتوں سے صحیح معنوں میں فیضیاب ہو سکیں گے۔

10- خواتین اپنے مخصوص ایام بھی عبادت میں گذاریں:  
خواتین رمضان میں اپنا زیادہ تر وقت کھانا بنانے اور مختلف قسم کے پکوان تیار کرنے میں صرف کر دیتی ہیں۔ حالانکہ اس وقت کو بھی نیکی کے کام میں لگایا جا سکتا تھا، خواتین اس حالت میں بھی ذکر کا اہتمام کر سکتی ہیں، قرآن کی تلاوت سن سکتی ہیں۔ پھر کھانا تیار کرتے وقت اگر نیت میں اخلاص ہو تو اس میں بھی اجر وثواب ہے۔ اسی طرح کچھ بہنیں جب اپنے مخصوص ایام میں ہوتی ہیں تو یہ سمجھتی ہیں کہ ہم ہر خیر سے محروم ہوچکے ہیں، عبادت کا کوئی کام نہیں کرتیں۔ حالانکہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ٹھیک ہے وہ نماز نہیں پڑھ سکتیں، روزے نہیں رکھ سکتیں، لیکن اس بات سے کس نے روکا ہے کہ وہ ذکر نہ کریں، توبہ اور استغفار نہ کریں، دعا نہ کریں۔ خاص کر رات کے تیسرے پہر میں ایک عورت کو چاہیے کہ ان مخصوص ایام میں بھی جاگ کر اللہ کا ذکر کرے، توبہ و استغفار کرے اور اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے، اپنے شوہر کے لیے، اپنے بچوں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرے۔
 یہ دس اہم نکات ہیں جنہیں اگر ہم نے پورے عزم کے ساتھ اپنی عملی زندگی میں جگہ دی تو آنے والا رمضان پچھلے سارے رمضانوں سے بہتر رمضان ثابت ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں رمضان کے ایک ایک لمحہ سے فیضیاب ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین



مکمل تحریر >>

پیر, جنوری 21, 2019

درخشاں انجم تیمی: کچھ یادیں کچھ باتیں


صفات عالم تیمی


گذشتہ کل معمول کے مطابق نماز فجر کے بعد اہل خانہ کے ساتھ قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر پڑھا، اس دوران خالی پیٹ کی روزانہ کی دوائیں لیں، اور اہلیہ سے کہا کہ درخشاں کی خبر نہیں لیا؟ ۔ اہلیہ نے فورا موبائل اٹھایا، واٹس اپ کھول کر "فیملی گروپ" سے درخشاں کا ایک تازہ پیغام دکھایا جس کا اس نے عنوان دے رکھا تھا: I LoVe My Mother پیغام پڑھتے ہی جذبات سے بے قابو ہوگیا، پھر کچھ ہی دیر بعد اسی گروپ میں میرے خالہ زاد نے خبر ڈالی کہ درخشاں وفات پاگئی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
یہ اندوہناک خبر سنتے ہی ایسا لگا کہ ہمارے بدن پر بجلی گر گئی ہو۔ دعائے مغفرت کی اور اپنے درد کو چھپایا لیکن اب تک بار بار ہماری آنکھیں وقفہ وقفہ کے ساتھ بھیگ جا رہی ہیں، اب جبکہ درخشاں انجم کو نم آنکھوں سے سپرد خاک کیا جا چکا ہے ہم دعا گو ہیں کہ بار الہا اس کی مغفرت فرما، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور اسے جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرما۔ لیکن اس کے تئیں میرے کچھ جذبات تھے جنہیں آپ سے شئیر کرنا مناسب سمجھا۔
درخشاں انجم کی ولادت شیوہر ضلع کی تاریخی بستی اموا مدینۃ الشیخ میں تقریبا تیس سال قبل ایک دیندار گھرانے میں ہوئی تھی، مولانا ابو طالب سلفی کی بڑی بیٹی تھی اور چندنبارہ مولانا شمعون مدنی کی بہو تھی، اور میرے ننہالی رشتے میں آتی تھی، میری نانی اور اس کے نانا دونوں سگے بھائی بہن تھے، لیکن ہمارا ننیہالی رشتہ اس قدر مضبوط ہے کہ درخشاں کو سگی بہن کے جیسے سمجھتا رہا۔
درخشاں انجم بچپن سے بڑی ذہین وفطین تھی، سلیقہ مند تھی اور شرم وحیا کی پیکر بنی رہتی تھی، یہ ان دنوں کی بات ہے جب درخشاں انجم ابھی چھوٹی عمر کی تھی، شروع کے درجات میں پڑھتی تھی، میں مدینہ یونیورسٹی سے چھٹی پر گھر آیا تھا، اموا جانے کا اتفاق ہوا، ممانی جو میری ساس ہوئیں، ایک گلاس پانی دے کر درخشاں انجم کے ہاتھ میرے پینے کے لیے بھیجنا چاہا تو درخشاں مارے شرم کے مجھے پانی دینے نہیں گئی، لیکن اس کو اس کا اتنا احساس ہوا کہ باضابطہ اس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک رقعہ ارسال کیا جس میں اس نے مجھے لکھا تھا کہ بھائی جان مجھے معاف کیجیے گا، نہایت سلیقے کا خط تھا، الفاظ نہایت جچے تلے تھے، مجھے خط کے مشتملات کو پڑھ کر بیحد خوشی ہوئی تھی کہ بچی آگے چل کر بہت کچھ کر سکتی ہے۔
درخشاں انجم کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا بالآخر اس کا داخلہ جامعہ امام ابن تیمیہ کے معھد خدیجۃ الکبری میں ہو گیا، کلاس میں اچھے نمبرات حاصل کرتی تھی، اردو ادب سے اس کا خاصا لگاؤ تھا، اردو ناول خوب پڑھتی تھی، زبان میں بہت نکھار آگیا تھا، نہایت سلیقہ مند اور نستعلیق تھی، ہر جگہ اس کی شہرت تھی، فراغت سے پہلے ہی بہت سے رشتے آنے لگے تھے، لیکن مولانا شمعون صاحب کے لڑکے احمد سے اس کا رشتہ طے ہوگیا، بالآخر گھر والوں نے فراغت سے پہلے ہی شادی کردی، لیکن تعلیمی سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ معہد خدیجۃ الکبری سے فارغ ہوگئی، شادی کے بعد لگاتار چار بچے ہوئے، بچوں کی تربیت اور نگہداشت میں پورے طور پر لگ گئی، گھر کا کام کاج کرتی، اسی اثناء سرکاری ٹیچر کے امتحان میں شریک ہوئی اور اس کا بحیثیت ٹیچر سلیکشن ہوگیا، چنانچہ نوکری کرنے لگی، گھر کا کام کرتی، سکول جاتی، بچوں کی دیکھ ریکھ کرتی، بھاگ دوڑ میں صحت کا خیال کم کیا، دھیرے دھیرے کمزوری کا احساس ہونے لگا، بخار شروع ہوا تو چھوٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا، شوہر نے ادھر ادھر دکھایا، شروع میں مرض کی صحیح تشخیص نہ ہوسکی، دراصل وہ ڈھائی سال قبل دق وسل کے عارضہ کی شکار ہو گئی تھی، جس کا بروقت علاج ہونا چاہیے تھا، جو بعد میں ایم ڈی آر کی شکل اختیار کر گیا تھا، اور دھیرے دھیرے پھیپھڑا کو کھائے جا رہا تھا، جب بیماری بڑھتی گئی تو میرے خالو مولانا ابوطالب سلفی ان کو دلہی لے کر آگئے، سرکاری ہاسپیٹل میں چیک اپ کرایا گیا، اور دوا شروع کردی گئی، لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی، ڈیڑھ دو سال تک علاج چلا لیکن ریزلٹ ہمیشہ نیگیٹو ہی آتا رہا۔
ادھر درخشاں انجم تیمی کی ماں جو رشتے میں میری خالہ ہوئی، سخت بیمار رہنے لگی، بیماری کی شروعات سینہ میں زخم سے ہوئی، درخشاں انجم کی بیماری میں الجھنے کی وجہ سے اپنی صحت پر بھی ٹھیک سے دھیان نہ دے سکی اور بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے وہی زخم کینسر کی شکل اختیار کر گیا، اللہ کی شان کہ دلہی ایمس میں جانچ کرانے پر پتہ چلا کہ آپریشن سے بیماری ٹھیک ہو سکتی ہے، چنانچہ آپریشن ہوا، پہلے سے حالت بہتر ہے، لیکن آپریشن پورے طور پر کامیاب بھی نہیں ہے دوسرا آپریشن ابھی ہونا باقی ہے۔ احباب سے دعا کی درخواست ہے۔
بہرکیف ماں بیٹی دونوں بیمار رہنے لگی، ابو طالب خالو دلہی کی ایک مسجد میں امامت کراتے ہیں، معمولی تنخواہ پاتے ہیں، لیکن ہمت نہیں ہاری، دونوں کا علاج کراتے رہے، گذشتہ کل خالہ کو کیمو چڑھانے کی تاریخ تھی، خالو خالہ کو لے کر ہاسپیٹل گئے ہوئے تھے، اور گھر پر درخشان اپنی چچازادی کے ساتھ تھی، اچانک خون کی قے آنا شروع ہوئی۔ اور کچھ ہی دیر میں دنیا سے رخصت ہوگئی۔
درخشاں انجم سے آخری ملاقات پچھلے سال ہوئی تھی، چونکہ راقم سطور خود ایک سال سے بیمار ہے، ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق ہر چار مہینہ پر چیک اپ کرانے پٹنہ جانا ہوتا ہے، پچھلے سال اہلیہ کا ارادہ ہوا کہ دلہی ہوتے ہوئے پٹنہ جائیں گے اور درخشاں انجم اور خالہ سے ملاقات کریں گے۔ چنانچہ دلہی میں ایک رات کے لیے ابوطالب سلفی کے ہاں قیام کیا اور ملاقات کی، صبح میں ہماری فلائٹ تھی، ہمیں الوداع کرنے کے لیے سب لوگ باہر آئے، درخشاں انجم نے ہمیں نم آنکھوں سے الوداع کیا، اس کے آخری الفاظ اب تک ہمارے جذبات میں ہلچل مچا رہے ہیں "بھائی جان! ہمارا گناہ قصور معاف کریں گے"۔
درخشاں انجم صبر وشکیب کی پیکر اور قناعت پسند خاتون تھی، قناعت پسندی کی یہ صفت ابوطالب سلفی نے اپنے تمام بچوں میں پیدا کی ہے، ان کی آمدنی کم ہے لیکن بچوں کے لباس پوشاک اور رہن سہن میں بڑی نفاست پائی جاتی ہے، ان کے گھر کا ایسا رکھ رکھاؤ ہوتا ہے کہ کسی کو ان کی خستہ حالی کا احساس تک نہیں ہوپاتا۔ درخشاں انجم کے علاوہ ان کے پاس ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے، بیٹے کا نام اسد اللہ ہے جو جامعہ سلفیہ میں زیر تعلیم ہے امسال فارغ ہوگا، بڑا ذہین اور محنتی ہے، کم عمری سے ہی شاعری کرتا ہے، مجھے اس کے بہتر مستقبل کی امید ہے۔ بیٹی گلفشاں انجم ہے جو جامعہ سنابل دلہی میں زیر تعلیم ہے، بڑٰی ذہین و فطین بچی ہے وہ بھی فراغت کے سال میں ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی اولاد کی تربیت پر خاص دھیان دیں، ان میں صبر وشکیب اور قناعت پسندی کے صفات پیدا کریں اور انہیں سکھائیں کہ برے حالات کا ہمت کے ساتھ کیسے مقابلہ کیا جاتا ہے۔ بلندیاں ایسے ہی لوگوں کو ملتی ہیں جو برے حالات سے ہمت نہیں ہارتے بلکہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔
درخشاں انجم جس بیماری سے مسلسل دو سال سے جوجھ رہی تھی اس کا احساس مجھے اچھی طرح ہے کہ میں خود اس بیماری کا شکار ہوں اور لگاتار ایک سال سے دوائیں لیتا آ رہا ہوں، ایم ڈی آر ٹی بی کی دوائیں اتنی سخت ہوتی ہیں کہ بسااوقات دل کرتا ہے کہ ان دواؤں کو کچرے کے ڈبہ میں ڈال دیں اور اللہ کے بھروسے جینے لگیں، لیکن اللہ نے بیماری اتاری ہے تو اس کی دوا بھی اتارا ہے، بندہ مومن کو چاہیے کہ ابتلاء وآزمائش میں صبر وشکیبائی کا دامن تھامے رہے اور علاج سے کنارہ کش نہ ہو۔ بیماری کتنی بھی مایوس کن کیوں نا ہو اللہ کی ذات سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، درخشاں انجم بیماری کے دنوں میں ہمیشہ ہمارے رابطے میں رہی، دینی سوالات کرتی رہی، حلال وحرام اور شبہات کے بارے میں بڑٰی محتاط تھی، اپنے بچوں کو دین کا داعی بنانے کی خواہش مند تھی، کبھی بیماری کی شدت سے پریشانی ہوتی تو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمندی کا اظہار کرتی کہ میرے بعد میرے ننھے ننھے بچوں کا کیا ہوگا، میں اسے سمجھاتا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہر انسان کو اس دنیا سے جانا ہے، اللہ کی ذات سے پر امید رہیں اور آپ کے بچوں کا محافظ آج بھی اللہ ہے اور کل بھی رہے گا۔ اب جبکہ وہ اس دار فانی سے جدا ہوچکی ہے بچوں کی ساری ذمہ داری احمد کے سر آتی ہے کہ وہ ان کے مستقبل کے لیے فکر مند رہے اور اس کی ماں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کوشاں ہوجائے۔
بیماری کے دنوں میں بھی واٹس اپ کے فیملی گروپ پر کچھ نا کچھ پوسٹ اور تبصرہ کرتی رہی، اس کے تبصرے ہمیشہ دعوتی شعور اور دینی حمیت کے حامل ہوتے تھے، اہلیہ بار بار اس کے تبصرے دکھا رہی ہے اور میری آنکھیں انہیں دیکھ دیکھ کر نم ہو رہی ہیں۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے 
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے


مکمل تحریر >>

منگل, جنوری 01, 2019

موسم سرما



امام حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا بات ہے کہ تہجد گذاروں کے چہرے منور ہوتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: لأنَّهم خلوا بالرحمن فأعطاهم من نوره "اس لیے کہ انہوں نے رحمن سے خلوت اختیار کی تو اللہ نے ان کو اپنے نور میں سے عطا فرما دیا"۔
مشہور تابعی طاووس بن کیسان رحمہ اللہ رات کے تیسرے پہر ایک آدمی سے ملاقات کے لیے اس کے گھر آئے، اور اس کے دروازے کو دستک دیا: اہل خانہ نے اطلاع دی کہ ابھی وہ سو رہے ہیں۔ امام طاؤوس رحمہ اللہ کو بہت تعجب ہوا کہ وہ ایسے وقت میں وہ کیسے سو رہے ہیں، کیا کوئی انسان ایسے وقت میں سوتا ہے؟
عزیز قاری! ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ گھنٹوں جاگ کر عبادت کریں، اذان فجر سے پانچ دس منٹ پہلے تیار ہوجائیں، کچھ نمازیں پڑھ لیں، دعائیں کرلیں، کہ یہ وقت پانے کا وقت ہے، حاصل کرنے کا وقت ہے۔ کیونکہ ایسے وقت ہمارا رب سمائے دنیا پر اتر کر پکار رہا ہوتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ ہم اسے عنایت کریں، ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں، ہے کوئی اپنے گناہوں کی معافی چاہنے والا کہ ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں۔ ( بخاری مسلم (

مکمل تحریر >>