پیر, جنوری 21, 2019

درخشاں انجم تیمی: کچھ یادیں کچھ باتیں


صفات عالم تیمی


گذشتہ کل معمول کے مطابق نماز فجر کے بعد اہل خانہ کے ساتھ قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر پڑھا، اس دوران خالی پیٹ کی روزانہ کی دوائیں لیں، اور اہلیہ سے کہا کہ درخشاں کی خبر نہیں لیا؟ ۔ اہلیہ نے فورا موبائل اٹھایا، واٹس اپ کھول کر "فیملی گروپ" سے درخشاں کا ایک تازہ پیغام دکھایا جس کا اس نے عنوان دے رکھا تھا: I LoVe My Mother پیغام پڑھتے ہی جذبات سے بے قابو ہوگیا، پھر کچھ ہی دیر بعد اسی گروپ میں میرے خالہ زاد نے خبر ڈالی کہ درخشاں وفات پاگئی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
یہ اندوہناک خبر سنتے ہی ایسا لگا کہ ہمارے بدن پر بجلی گر گئی ہو۔ دعائے مغفرت کی اور اپنے درد کو چھپایا لیکن اب تک بار بار ہماری آنکھیں وقفہ وقفہ کے ساتھ بھیگ جا رہی ہیں، اب جبکہ درخشاں انجم کو نم آنکھوں سے سپرد خاک کیا جا چکا ہے ہم دعا گو ہیں کہ بار الہا اس کی مغفرت فرما، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور اسے جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرما۔ لیکن اس کے تئیں میرے کچھ جذبات تھے جنہیں آپ سے شئیر کرنا مناسب سمجھا۔
درخشاں انجم کی ولادت شیوہر ضلع کی تاریخی بستی اموا مدینۃ الشیخ میں تقریبا تیس سال قبل ایک دیندار گھرانے میں ہوئی تھی، مولانا ابو طالب سلفی کی بڑی بیٹی تھی اور چندنبارہ مولانا شمعون مدنی کی بہو تھی، اور میرے ننہالی رشتے میں آتی تھی، میری نانی اور اس کے نانا دونوں سگے بھائی بہن تھے، لیکن ہمارا ننیہالی رشتہ اس قدر مضبوط ہے کہ درخشاں کو سگی بہن کے جیسے سمجھتا رہا۔
درخشاں انجم بچپن سے بڑی ذہین وفطین تھی، سلیقہ مند تھی اور شرم وحیا کی پیکر بنی رہتی تھی، یہ ان دنوں کی بات ہے جب درخشاں انجم ابھی چھوٹی عمر کی تھی، شروع کے درجات میں پڑھتی تھی، میں مدینہ یونیورسٹی سے چھٹی پر گھر آیا تھا، اموا جانے کا اتفاق ہوا، ممانی جو میری ساس ہوئیں، ایک گلاس پانی دے کر درخشاں انجم کے ہاتھ میرے پینے کے لیے بھیجنا چاہا تو درخشاں مارے شرم کے مجھے پانی دینے نہیں گئی، لیکن اس کو اس کا اتنا احساس ہوا کہ باضابطہ اس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک رقعہ ارسال کیا جس میں اس نے مجھے لکھا تھا کہ بھائی جان مجھے معاف کیجیے گا، نہایت سلیقے کا خط تھا، الفاظ نہایت جچے تلے تھے، مجھے خط کے مشتملات کو پڑھ کر بیحد خوشی ہوئی تھی کہ بچی آگے چل کر بہت کچھ کر سکتی ہے۔
درخشاں انجم کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا بالآخر اس کا داخلہ جامعہ امام ابن تیمیہ کے معھد خدیجۃ الکبری میں ہو گیا، کلاس میں اچھے نمبرات حاصل کرتی تھی، اردو ادب سے اس کا خاصا لگاؤ تھا، اردو ناول خوب پڑھتی تھی، زبان میں بہت نکھار آگیا تھا، نہایت سلیقہ مند اور نستعلیق تھی، ہر جگہ اس کی شہرت تھی، فراغت سے پہلے ہی بہت سے رشتے آنے لگے تھے، لیکن مولانا شمعون صاحب کے لڑکے احمد سے اس کا رشتہ طے ہوگیا، بالآخر گھر والوں نے فراغت سے پہلے ہی شادی کردی، لیکن تعلیمی سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ معہد خدیجۃ الکبری سے فارغ ہوگئی، شادی کے بعد لگاتار چار بچے ہوئے، بچوں کی تربیت اور نگہداشت میں پورے طور پر لگ گئی، گھر کا کام کاج کرتی، اسی اثناء سرکاری ٹیچر کے امتحان میں شریک ہوئی اور اس کا بحیثیت ٹیچر سلیکشن ہوگیا، چنانچہ نوکری کرنے لگی، گھر کا کام کرتی، سکول جاتی، بچوں کی دیکھ ریکھ کرتی، بھاگ دوڑ میں صحت کا خیال کم کیا، دھیرے دھیرے کمزوری کا احساس ہونے لگا، بخار شروع ہوا تو چھوٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا، شوہر نے ادھر ادھر دکھایا، شروع میں مرض کی صحیح تشخیص نہ ہوسکی، دراصل وہ ڈھائی سال قبل دق وسل کے عارضہ کی شکار ہو گئی تھی، جس کا بروقت علاج ہونا چاہیے تھا، جو بعد میں ایم ڈی آر کی شکل اختیار کر گیا تھا، اور دھیرے دھیرے پھیپھڑا کو کھائے جا رہا تھا، جب بیماری بڑھتی گئی تو میرے خالو مولانا ابوطالب سلفی ان کو دلہی لے کر آگئے، سرکاری ہاسپیٹل میں چیک اپ کرایا گیا، اور دوا شروع کردی گئی، لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی، ڈیڑھ دو سال تک علاج چلا لیکن ریزلٹ ہمیشہ نیگیٹو ہی آتا رہا۔
ادھر درخشاں انجم تیمی کی ماں جو رشتے میں میری خالہ ہوئی، سخت بیمار رہنے لگی، بیماری کی شروعات سینہ میں زخم سے ہوئی، درخشاں انجم کی بیماری میں الجھنے کی وجہ سے اپنی صحت پر بھی ٹھیک سے دھیان نہ دے سکی اور بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے وہی زخم کینسر کی شکل اختیار کر گیا، اللہ کی شان کہ دلہی ایمس میں جانچ کرانے پر پتہ چلا کہ آپریشن سے بیماری ٹھیک ہو سکتی ہے، چنانچہ آپریشن ہوا، پہلے سے حالت بہتر ہے، لیکن آپریشن پورے طور پر کامیاب بھی نہیں ہے دوسرا آپریشن ابھی ہونا باقی ہے۔ احباب سے دعا کی درخواست ہے۔
بہرکیف ماں بیٹی دونوں بیمار رہنے لگی، ابو طالب خالو دلہی کی ایک مسجد میں امامت کراتے ہیں، معمولی تنخواہ پاتے ہیں، لیکن ہمت نہیں ہاری، دونوں کا علاج کراتے رہے، گذشتہ کل خالہ کو کیمو چڑھانے کی تاریخ تھی، خالو خالہ کو لے کر ہاسپیٹل گئے ہوئے تھے، اور گھر پر درخشان اپنی چچازادی کے ساتھ تھی، اچانک خون کی قے آنا شروع ہوئی۔ اور کچھ ہی دیر میں دنیا سے رخصت ہوگئی۔
درخشاں انجم سے آخری ملاقات پچھلے سال ہوئی تھی، چونکہ راقم سطور خود ایک سال سے بیمار ہے، ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق ہر چار مہینہ پر چیک اپ کرانے پٹنہ جانا ہوتا ہے، پچھلے سال اہلیہ کا ارادہ ہوا کہ دلہی ہوتے ہوئے پٹنہ جائیں گے اور درخشاں انجم اور خالہ سے ملاقات کریں گے۔ چنانچہ دلہی میں ایک رات کے لیے ابوطالب سلفی کے ہاں قیام کیا اور ملاقات کی، صبح میں ہماری فلائٹ تھی، ہمیں الوداع کرنے کے لیے سب لوگ باہر آئے، درخشاں انجم نے ہمیں نم آنکھوں سے الوداع کیا، اس کے آخری الفاظ اب تک ہمارے جذبات میں ہلچل مچا رہے ہیں "بھائی جان! ہمارا گناہ قصور معاف کریں گے"۔
درخشاں انجم صبر وشکیب کی پیکر اور قناعت پسند خاتون تھی، قناعت پسندی کی یہ صفت ابوطالب سلفی نے اپنے تمام بچوں میں پیدا کی ہے، ان کی آمدنی کم ہے لیکن بچوں کے لباس پوشاک اور رہن سہن میں بڑی نفاست پائی جاتی ہے، ان کے گھر کا ایسا رکھ رکھاؤ ہوتا ہے کہ کسی کو ان کی خستہ حالی کا احساس تک نہیں ہوپاتا۔ درخشاں انجم کے علاوہ ان کے پاس ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے، بیٹے کا نام اسد اللہ ہے جو جامعہ سلفیہ میں زیر تعلیم ہے امسال فارغ ہوگا، بڑا ذہین اور محنتی ہے، کم عمری سے ہی شاعری کرتا ہے، مجھے اس کے بہتر مستقبل کی امید ہے۔ بیٹی گلفشاں انجم ہے جو جامعہ سنابل دلہی میں زیر تعلیم ہے، بڑٰی ذہین و فطین بچی ہے وہ بھی فراغت کے سال میں ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی اولاد کی تربیت پر خاص دھیان دیں، ان میں صبر وشکیب اور قناعت پسندی کے صفات پیدا کریں اور انہیں سکھائیں کہ برے حالات کا ہمت کے ساتھ کیسے مقابلہ کیا جاتا ہے۔ بلندیاں ایسے ہی لوگوں کو ملتی ہیں جو برے حالات سے ہمت نہیں ہارتے بلکہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔
درخشاں انجم جس بیماری سے مسلسل دو سال سے جوجھ رہی تھی اس کا احساس مجھے اچھی طرح ہے کہ میں خود اس بیماری کا شکار ہوں اور لگاتار ایک سال سے دوائیں لیتا آ رہا ہوں، ایم ڈی آر ٹی بی کی دوائیں اتنی سخت ہوتی ہیں کہ بسااوقات دل کرتا ہے کہ ان دواؤں کو کچرے کے ڈبہ میں ڈال دیں اور اللہ کے بھروسے جینے لگیں، لیکن اللہ نے بیماری اتاری ہے تو اس کی دوا بھی اتارا ہے، بندہ مومن کو چاہیے کہ ابتلاء وآزمائش میں صبر وشکیبائی کا دامن تھامے رہے اور علاج سے کنارہ کش نہ ہو۔ بیماری کتنی بھی مایوس کن کیوں نا ہو اللہ کی ذات سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، درخشاں انجم بیماری کے دنوں میں ہمیشہ ہمارے رابطے میں رہی، دینی سوالات کرتی رہی، حلال وحرام اور شبہات کے بارے میں بڑٰی محتاط تھی، اپنے بچوں کو دین کا داعی بنانے کی خواہش مند تھی، کبھی بیماری کی شدت سے پریشانی ہوتی تو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمندی کا اظہار کرتی کہ میرے بعد میرے ننھے ننھے بچوں کا کیا ہوگا، میں اسے سمجھاتا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہر انسان کو اس دنیا سے جانا ہے، اللہ کی ذات سے پر امید رہیں اور آپ کے بچوں کا محافظ آج بھی اللہ ہے اور کل بھی رہے گا۔ اب جبکہ وہ اس دار فانی سے جدا ہوچکی ہے بچوں کی ساری ذمہ داری احمد کے سر آتی ہے کہ وہ ان کے مستقبل کے لیے فکر مند رہے اور اس کی ماں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کوشاں ہوجائے۔
بیماری کے دنوں میں بھی واٹس اپ کے فیملی گروپ پر کچھ نا کچھ پوسٹ اور تبصرہ کرتی رہی، اس کے تبصرے ہمیشہ دعوتی شعور اور دینی حمیت کے حامل ہوتے تھے، اہلیہ بار بار اس کے تبصرے دکھا رہی ہے اور میری آنکھیں انہیں دیکھ دیکھ کر نم ہو رہی ہیں۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے 
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے


مکمل تحریر >>

منگل, جنوری 01, 2019

موسم سرما



امام حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا بات ہے کہ تہجد گذاروں کے چہرے منور ہوتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: لأنَّهم خلوا بالرحمن فأعطاهم من نوره "اس لیے کہ انہوں نے رحمن سے خلوت اختیار کی تو اللہ نے ان کو اپنے نور میں سے عطا فرما دیا"۔
مشہور تابعی طاووس بن کیسان رحمہ اللہ رات کے تیسرے پہر ایک آدمی سے ملاقات کے لیے اس کے گھر آئے، اور اس کے دروازے کو دستک دیا: اہل خانہ نے اطلاع دی کہ ابھی وہ سو رہے ہیں۔ امام طاؤوس رحمہ اللہ کو بہت تعجب ہوا کہ وہ ایسے وقت میں وہ کیسے سو رہے ہیں، کیا کوئی انسان ایسے وقت میں سوتا ہے؟
عزیز قاری! ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ گھنٹوں جاگ کر عبادت کریں، اذان فجر سے پانچ دس منٹ پہلے تیار ہوجائیں، کچھ نمازیں پڑھ لیں، دعائیں کرلیں، کہ یہ وقت پانے کا وقت ہے، حاصل کرنے کا وقت ہے۔ کیونکہ ایسے وقت ہمارا رب سمائے دنیا پر اتر کر پکار رہا ہوتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ ہم اسے عنایت کریں، ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں، ہے کوئی اپنے گناہوں کی معافی چاہنے والا کہ ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں۔ ( بخاری مسلم (

مکمل تحریر >>

ہفتہ, نومبر 24, 2018

بارش


کویت میں ان دنوں موسلادھار بارش اور ہوا کی تیزی کی وجہ سے موسم غیر مستحکم ہے، اسلام نے جہاں ہر جگہ اپنے ماننے والوں کی رہنمائی کی ہے وہیں بارش کے حوالے سے بھی بہت ساری تعلیمات دی ہیں، آج ہم بارش کے متعلق کچھ باتیں کریں گے، ہماری گفتگو چار نکات پر مشتمل ہوگی۔ 
پہلا نکتہ: بارش جہاں نعمت ہے وہیں عذاب بھی ہے
دوسرا نکتہ: چند آداب جو بارش سے قبل بارش کے بیچ اور بارش کے بعد اپنانے چاہیئں.
تیسرا نکتہ: بارش سے متعلقہ عقیدے کے احکام
چوتھا نکتہ: بارش سے متعلقہ فقہی احکام ومسائل۔

بارش نعمت بھی ہے اورعذاب بھی:
بارش جہاں نعمت ہے وہیں عذاب بھی ہے۔ بارش نعمت اس طور پر ہے کہ اگر بارش نہ ہو اور مسلسل دھوپ ہی دھوپ رہے تو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ غلے اور پھلوں کی پیدائش بند ہوجائے گی، ساگ سیزیاں سوکھ جائیں گی، کھیتیاں بنجر ہو جائیں گی اور زندگی اجیرن بن جائے گی۔ اسی لیے جب ایک طویل وقفہ کے بعد بارش ہوتی ہے تو انسانی طبیعت شاداں وفرحاں اور ہشاش بشاش ہوجاتی ہے، اللہ تعالی نے فرمایا:
وَهُوَ الَّذي يُنَزِّلُ الغَيثَ مِن بَعدِ ما قَنَطوا وَيَنشُرُ رَحمَتَهُ (سورة الشورى : 28) 
اور وہی ہے جو لوگوں کے نا امید ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔ گویا بارش بہت بڑی نعمت ہے۔
لیکن جہاں بارش نعمت ہے وہیں بارش عذاب بھی ہے، اسی لیے کبھی انسان کے برے اعمال کی وجہ سے بارش روک لی جاتی ہے: سنن ابن ماجہ کی روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا
وما منع قوم زکاۃ أموالھم الا منعوا القطر من السماء 
جب کوئی قوم زکوٰۃ کی ادائیگی روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔
اور کبھی اللہ تعالی مسلسل بارش برسا کر بارش کو عذاب بنا دیتا ہے، صحیح مسلم کی روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنْ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا ، وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا
قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو بلکہ قحط سالی یہ بھی ہے کہ بارش ہو اور موسلادھار بارش ہو، اور زمین کچھ بھی نہ اگا پائے۔
جی ہاں! اگر بارش مسلسل ہوتی رہے اور تھمنے کا نام نہ لے تو کیا ہوگا ؟ زمین پر سیلاب آجائے گا، کھیتیاں برباد ہوجائیں گی، آمد ورفت کا سلسلہ کٹ جائے گا، کاروبار ٹھپ پڑجائے گا۔ بارش کا بے سود ہونا قیامت کی علامت بھی ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
لَاتَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا وَلَا تُنْبِتُ الْاَرْضُ شَيْئًا (سلسلة الاحاديث الصحيحة : 2773)
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگوں پر عام بارش ہو اور زمین سبزہ نہ اُگائے ۔
اور کبھی اللہ تعالی بارش کے ذریعہ قوموں کو عذاب دیتا ہے: قوم نوح نے جب مسلسل حضرت نوح علیہ السلام کو جھٹلایا، تو اللہ نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ کشتی بنائیں، اور اس میں اپنے ماننے والوں کو سوار کرلیں، پھر اللہ تعالی نے آسمان سے موسلادھار بارش برسائی، اور زمین کو پھاڑ کر چشمہ بنادیا، یہاں تک کہ سب تباہ ہوگئے۔ 
قرآن نے کہا:
فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ ﴿١١﴾ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا۔
اسی طرح اللہ نے قوم عاد کو اسی بارش سے تباہ کیا، جب انہوں نے آسمان میں بدلی دیکھی تو خوش ہوگئے اور سمجھنے لگے کہ یہ بدلی ہم پر برسنے والی ہے لیکن وہ بدلی رحمت کی بدلی نہیں تھی عذاب بن کر آئی تھی، یہاں تک کہ اسی بارش سے اللہ نے ان کو تباہ کردیا۔: اللہ نے کہا:
فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَـذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٢٤
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے "یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا" "نہیں، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آ رہا ہے۔
اور کبھی یہی بارش پتھر کی شکل میں برستی ہے، جیسا کہ قوم لوط پر برسی، قوم لوط کے بارے میں اللہ نے کہا:
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ ( الشعراء ۱۷۳)
اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی۔ پتھر کی بارش
بارش سے قبل بارش کے بیچ اور بارش کے بعد کے آداب:
آسمان میں بادل دیکھتے ہی اللہ سے دعا کی جائے اور کام چھوڑ دیا جائے:
سنن ابی داؤ کی روایت ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ جب آسمان میں بدلی دیکھتے تو کام چھوڑ دیتے اگر چہ آپ نماز میں ہوں اور کہتے تھے: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، اور اگر بارش ہوجاتی تو کہتے تھے: اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا
بارش ہوتے وقت دعا کی جائے صحیح بخاری (1032) میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بارش ہوتی تو فرمایا کرتے تھے:
اَللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
یا اللہ! موسلا دھار اور نافع بارش عطا فرما،
اور ابو داود کی روایت میں ابھی گذرا کہ (5099)
اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا
یا اللہ! موسلا دھار اور برکت والی بارش عطا فرما
بارش کے برستے وقت زیادہ سے زیادہ دعا کرنی چاہیے کیونکہ یہ وقت دعا کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے
صحیح الجامع 1026 کی حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’اطْلُبُوا اسْتِجَابَةَ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْتِقَاءِ الْجُيُوشِ، وَإِقَامَةِ الصَّلَاةِ، وَنُزُولِ الْغَيْثِ‘‘
(دعاء کی قبولیت کو تلاش کرو جہاد کے موقع پر جب فوجیں باہم ملتی ہيں، اقامتِ صلاۃ کے وقت اور بارش نازل ہوتے وقت)۔
اور مستدرک حاکم (2534) اور المعجم الكبير (5756) کی روایت ہے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مرفوعا منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثِنتَانِ مَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ وَتَحْتَ الْمَطَرِ
دو دعائیں رد نہیں ہوتیں: اذان کے وقت اور برستی بارش کے نیچے۔
امام مناوی فرماتے ہیں ( فیض القدیر 3/340) کہ بارش کے وقت مانگی گئی دعا ضرور قبول کی جاتی ہے کیونکہ یہ رحمت کے اترنے کا وقت ہے۔
بارش میں جانا مستحب ہے کہ انسان کے بدن کا کچھ حصہ اس سے بھیگ جائے، اور اگر بارش کے پانی میں نہاتے ہیں تو اور اچھی بات ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
’’أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم وسلم مَطَرٌ، قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش برسی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کچھ کپڑا سمیٹا تاکہ اسے بارش لگے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: کیونکہ یہ اپنے رب تعالی کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔
جب سخت ہوا چلے اور بارش ہو رہی ہو تو اللہ کے عذاب کو یاد کیا جائے اور اللہ سے رحمت کا سوال کیا جائے۔ بخاری 3206ومسلم 899 کی روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب آسمان پر بادل چھاجاتے تو آپ صلى الله عليه وسلم کا رنگ بدل جاتا ، آپ باہر جاتے اندر تشریف لاتے ، آگے بڑھتے اورپھر پیچھے ہٹتے ، پھر جب بارش ہوجاتی تو آپ خوش ہو جاتے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے اس کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا:
إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي
مجھے ڈر لاحق ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ عذاب ہو جو میری امت پر مسلط کیا گیا ہو۔ اسی طرح جب آپ بارش دیکھتے تو فرماتے: رحمۃ کہ اے اللہ یہ بارش ہمارے لئے فائدہ مند بارش ہو ” اسے رحمت کی بارش بنا ، عذاب اور اور تباہی وبربادی لانے والی بارش نہ ہو۔ اور سنن ابی داؤد میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب ایک دن بدلی چھانے کے بعد آپ ﷺ کی پریشانی دیکھا تو انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ لوگ جب آسمان میں بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہونے کی امید ہے اور آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر پریشانی کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:
يَا عَائِشَةُ! مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ العَذَابَ؛ فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا (الأحقاف: 24)
اے عائشہ! مجھے کونسی بات مطمئن کرسکتی ہے کہ اس میں عذاب نہ ہو، حالانکہ کچھ قوموں کو ہوا کے ذریعہ ہلاک کیا گیا، اور کچھ قوموں نے بدلی کو عذاب کی شکل میں دیکھا تو سمجھنے لگے کہ یہ بدلی ہے جو ہم پر برسنے والی ہے۔
جب بارش زیادہ ہونے لگے تو اللہ سے کثرت سے دعا کرنی چاہیے کہ مبادا نقصان پہنچانے والی بارش نہ ہو جائے: صحیح مسلم (897) کی روایت ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی منبر کے سامنے والے دروازہ سے جمعہ کے دن مسجد نبوی میں آیا ۔ اور رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کہا: یا رسول اللہ! (بارش نہ ہونے سے ) جانور مر گئے اور راستے بند ہو گئے ۔آپ اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا فرمائیے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے یہ سنتے ہی ہاتھ اٹھا دیئے، آپ نے دعا کی کہ
اللهُمَّ أَغِثْنَا اللهُمَّ أَغِثْنَا اللهُمَّ أَغِثْنَا
اے اللہ! ہمیں سیراب کر ،اے اللہ! ہمیں سیراب کر ۔ اے اللہ! ہمیں سیراب کر۔انس ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! کہیں دور دورتک آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آتا تھا۔ اور نہ کوئی اور چیز( ہوا وغیرہ جس سے معلوم ہو کہ بارش آئے گی) اور ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی مکان بھی نہ تھا(کہ ہم بادل ہونے کے باوجود نہ دیکھ سکتے ہوں) پہاڑ کے پیچھے سے ڈھال کے برابر بادل نمودار ہوا اور بیچ آسمان تک پہنچ کر چاروں طرف پھیل گیا اور بارش شروع ہو گئی ۔اللہ کی قسم ہم نے سورج ایک ہفتہ تک نہیں دیکھا۔ پھر ایک شخص دوسرے جمعہ اسی دروازے سے آیا۔ رسول اللہ ﷺکھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے اس شخص نے پھر آپ کو کھڑے کھڑے ہی مخاطب کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! (بارش کی کثرت سے) مال و متاع پر تباہی آگئی اور راستے بند ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ بارش روک دے ۔پھر رسول اللہ ﷺنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی:
اللهُمَّ حَوْلَنَا وَلَا عَلَيْنَا اللهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ
کہ یا اللہ اب ہمارے ارد گرد بارش برسا ہم سے اسے روک دے۔ ٹیلوں پہاڑوں پہاڑیوں وادیوں اور باغوں کو سیراب کر۔ انہوں نے کہا کہ اس دعا سے بارش ختم ہو گئی اور ہم نکلےتو دھوپ نکل چکی تھی۔ اس سے پتہ یہ چلا کہ شدید بارش ہو رہی ہو یا بارش نہ رک رہی ہو تو ہمیں بھی یہی دعا پڑھنی چاہیے۔
جب کڑک کی آواز سنیں تو کچھ پڑھنا چاہیے یا نہیں اس سلسلے میں اللہ کے رسول ﷺ سے کچھ ثابت نہیں ہے البتہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : "وہ جس وقت کڑک سنتے تو گفتگو کرنا چھوڑ دیتے اور کہتے:
سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ
میرا رب پاک ہےکہ کڑک حمد کیساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے تسبیح بیان کرتے ہیں۔[الرعد: 13]
ہاں! کڑک اور بجلی میں انسان کے لیے پیغام یہ ہے کہ وہ اللہ کی عظمت پر غور کرے کہ بجلی اور کڑک اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں، فرشتے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، لیکن ہم انسان کتنے نڈر ہوچکے ہیں، کہ اللہ کی نشانی پر نشانی دیکھتے ہیں لیکن اس کی طرف پلٹنے کے لیے تیار نہیں:
أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ أَإِلَـهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ تَعَالَى اللَّـهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴿٦٣
اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا) ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ بارش اللہ برساتا ہے، نعمتیں اللہ دیتا ہے اور انسان سر جھکاتا کسی اور کے سامنے ہے۔ یہ کتنی بڑی نا انصافی ہے۔
جب بارش ختم ہوجائے تو یہ دعا پڑھنی چاہیے:
مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ (صحيح البخاري : 103 )
"اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمیں بارش سے سیرابی ملی"۔

بارش سے متعلقہ عقیدہ کے احکام :
بارش ہونے کا علم صرف اللہ کو ہے
صحیح بخاری کی روایت ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کل کیا ہونے والا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے، کل کیا کرنا ہوگا اس کا کسی کو علم نہیں ، نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اسے موت کس جگہ آئے گی:
وَمَا يَدْرِي اَحَدٌ مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ (صحيح البخاري: 1039)
’’اور نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ بارش کب ہوگی ۔‘‘ 
ہاں! موسمیات کے ماہرین بارش ہونے سے پہلے جو آثار و قرائن ظاہر ہوتے ہیں انہیں آثارکو دیکھ کر بتاتے ہیں کہ بارش ہونے والی ہے۔
بارش کی نسبت ستاروں کی طرف کرنا جائز نہیں بلکہ اس کی نسبت اللہ کی طرف کرنی چاہیے۔ جیسے کوئی کہے کہ فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو ایسا کہنا جائز نہیں ہے۔ صحیح بخاری (4147) کی روایت ہے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حدیبیہ کے سال اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ نکلے، حدیبیہ کی ایک رات بارش ہوئی، چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا
هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ ؟ 
کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا:
اَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُوْمِنٌ بِي وَکَافِرٌ فَاَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اﷲِ وَرَحْمَتِهِ فَذلِکَ مُوْمِنٌ بِي کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ وَاَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا فَذلِکَ کَافِرٌ بِي مُوْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ.
میرے بندوں نے صبح کی تو کچھ مجھ پر ایمان رکھنے والے تھے ااور کچھ کفر کر نے والے، جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم بارش سے سیراب کیے گئے وہ مجھ پر ایمان لانے والے اور ستاروں کے منکر تھے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے نے بارش برسائی۔ وہ میرا منکر اور ستاروں پر یقین رکھنے والا ہے۔
ہوا اور بارش کو برا بھلا کہنا جائز نہیں، کیونکہ ہوا چلانے والا اور بارش اتارنے والا صرف اللہ تعالی ہے:
سنن الترمذی (2252) کی روایت ہے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ہوا کو گالی مت دو، اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز
دیکھو تو یہ دعا پڑھو :
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْاَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا اُمِرَتْ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا اُمِرَتْ بِه
اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری مانگتے ہیں اور اس بہتری کا سوال کرتے ہیں جو اس میں ہے اور اس بہتری کا بھی سوال کرتے ہیں جسے دے کر یہ بھیجی گئی ہے، اور تیری پناہ مانگتے ہیں اس ہوا کےشر سے اور اس شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جسے دے کر یہ بھیجی گئی ہے۔
ہر سال بارش کی مقدار یکساں ہوتی ہے لیکن اس کی تقسیم مختلف ہوتی رہتی ہے، کبھی کہیں زیادہ تو کبھی کہیں کم:
مستدرک حاکم کی روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’مَا مِنْ عَامٍ بِأَكْثَرَ مَطَرًا مِنْ عَامٍ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُصَرِّفُهُ بَيْنَ خَلْقِهِ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَلَقَدْ صَرَّفْنهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا﴾‘‘
"کوئی بھی سال دوسرے سال کی نسبت زیادہ بارشوں والا نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالی اپنی مخلوق میں اس کی الٹ پھیر فرماتا رہتا ہے [جیسے چاہتا ہے] پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اور بلاشبہ یقیناً ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر نازل کیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں"۔ 
 (اس حدیث کو شیخ البانی نے السلسلۃ الصحیحۃ:2461 میں صحیح کہا ہے )

بارش سے متعلقہ فقہی احکام :
بارش کی رات جماعت کی نماز سے پیچھے رہنے کی گنجائش پائی جاتی ہے: صحیح بخاری : 666 کی روایت ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ سردی و بارش کی راتوں میں مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اعلان کر دے کہ
ألَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ
لوگو ! اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔ یعنی اذان میں موذن حی علی الفلاح کے بعد کہے گا: صلوا فی رحالکم
بارش کی وجہ سے مغرب اور عشاء کو جمع کرکے مغرب کے وقت ہی پڑھ سکتے ہیں اور ظہر اور عصر کو بھی ظہر کے وقت جمع کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ اس طور پر کہ اذان ایک ہوگی اور اقامت دونوں کے لیے کہی جائے گی۔ البتہ شرط یہ ہے کہ جماعت کی نماز مسجد میں ادا کی جا رہی ہو، گھر پر نہیں اور بارش ہو رہی ہو، یا کیچڑ ہو جس کی وجہ سے مسجد پہنچنے میں دشواری ہو۔ (موطا مالک : 386 )
بارش کا پانی پاک ہے، اس سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے، اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :
وَأَنزَلنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهورًا (سورة الفرقان: 48 )
اور ہم نے آسمان سے پاک پانی نازل کیا ۔
جس نے وضو کرنے کے بعد موزے پہنا ہو اس کے لیے موزے پر مسح کرنا جائز ہے۔ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات جبکہ مسافر کے لیے تین دن اور تین رات تک رخصت ہے۔ اور اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث ہے:
إن اللهَ يُحبُّ أن تؤتَى رخَصُه، كما يكرهُ أن تُؤتَى معصيتُه (صحيح ابن حبان: 354 )
"اللہ تعالی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت کو قبول کیا جائے جیسے اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کا کوئی کام کیا جائے"۔
البتہ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ موزہ ایسا ہونا چاہیے جو ٹخنے کو ڈھانپ لے، اگر موزہ ٹخنے کو ڈھانپ نہیں رہا ہے تو اس پر مسح کرنا جائز نہیں ہوگا۔
بارش سے سیراب ہونے والی پیداوار پر زکوۃ دوگنی ہوجاتی ہے۔ صحیح بخاری کی روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ اَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ (صحيح البخاري : 1483 )
وہ زمین جسے بارش کا پانی یا چشمہ سیراب کرتا ہو۔ یا وہ خود بخود نمی سے سیراب ہو جاتی ہو اس کی پیداوار سے دسواں حصہ لیا جائے اور وہ زمین جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہو اس کی پیداوار سے بیسواں حصہ لیا جائے۔
محترم سامعین! یہ تھی بارش سے متعلق کچھ ضروری باتیں جنہیں اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کیا گیا، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی بارش کو ہم سب کے لیے رحمت بنائے زحمت نہ بنائے۔

مکمل تحریر >>