ہفتہ, نومبر 24, 2018

بارش


کویت میں ان دنوں موسلادھار بارش اور ہوا کی تیزی کی وجہ سے موسم غیر مستحکم ہے، اسلام نے جہاں ہر جگہ اپنے ماننے والوں کی رہنمائی کی ہے وہیں بارش کے حوالے سے بھی بہت ساری تعلیمات دی ہیں، آج ہم بارش کے متعلق کچھ باتیں کریں گے، ہماری گفتگو چار نکات پر مشتمل ہوگی۔ 
پہلا نکتہ: بارش جہاں نعمت ہے وہیں عذاب بھی ہے
دوسرا نکتہ: چند آداب جو بارش سے قبل بارش کے بیچ اور بارش کے بعد اپنانے چاہیئں.
تیسرا نکتہ: بارش سے متعلقہ عقیدے کے احکام
چوتھا نکتہ: بارش سے متعلقہ فقہی احکام ومسائل۔

بارش نعمت بھی ہے اورعذاب بھی:
بارش جہاں نعمت ہے وہیں عذاب بھی ہے۔ بارش نعمت اس طور پر ہے کہ اگر بارش نہ ہو اور مسلسل دھوپ ہی دھوپ رہے تو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ غلے اور پھلوں کی پیدائش بند ہوجائے گی، ساگ سیزیاں سوکھ جائیں گی، کھیتیاں بنجر ہو جائیں گی اور زندگی اجیرن بن جائے گی۔ اسی لیے جب ایک طویل وقفہ کے بعد بارش ہوتی ہے تو انسانی طبیعت شاداں وفرحاں اور ہشاش بشاش ہوجاتی ہے، اللہ تعالی نے فرمایا:
وَهُوَ الَّذي يُنَزِّلُ الغَيثَ مِن بَعدِ ما قَنَطوا وَيَنشُرُ رَحمَتَهُ (سورة الشورى : 28) 
اور وہی ہے جو لوگوں کے نا امید ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔ گویا بارش بہت بڑی نعمت ہے۔
لیکن جہاں بارش نعمت ہے وہیں بارش عذاب بھی ہے، اسی لیے کبھی انسان کے برے اعمال کی وجہ سے بارش روک لی جاتی ہے: سنن ابن ماجہ کی روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا
وما منع قوم زکاۃ أموالھم الا منعوا القطر من السماء 
جب کوئی قوم زکوٰۃ کی ادائیگی روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔
اور کبھی اللہ تعالی مسلسل بارش برسا کر بارش کو عذاب بنا دیتا ہے، صحیح مسلم کی روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنْ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا ، وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا
قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو بلکہ قحط سالی یہ بھی ہے کہ بارش ہو اور موسلادھار بارش ہو، اور زمین کچھ بھی نہ اگا پائے۔
جی ہاں! اگر بارش مسلسل ہوتی رہے اور تھمنے کا نام نہ لے تو کیا ہوگا ؟ زمین پر سیلاب آجائے گا، کھیتیاں برباد ہوجائیں گی، آمد ورفت کا سلسلہ کٹ جائے گا، کاروبار ٹھپ پڑجائے گا۔ بارش کا بے سود ہونا قیامت کی علامت بھی ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
لَاتَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا وَلَا تُنْبِتُ الْاَرْضُ شَيْئًا (سلسلة الاحاديث الصحيحة : 2773)
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگوں پر عام بارش ہو اور زمین سبزہ نہ اُگائے ۔
اور کبھی اللہ تعالی بارش کے ذریعہ قوموں کو عذاب دیتا ہے: قوم نوح نے جب مسلسل حضرت نوح علیہ السلام کو جھٹلایا، تو اللہ نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ کشتی بنائیں، اور اس میں اپنے ماننے والوں کو سوار کرلیں، پھر اللہ تعالی نے آسمان سے موسلادھار بارش برسائی، اور زمین کو پھاڑ کر چشمہ بنادیا، یہاں تک کہ سب تباہ ہوگئے۔ 
قرآن نے کہا:
فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ ﴿١١﴾ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا۔
اسی طرح اللہ نے قوم عاد کو اسی بارش سے تباہ کیا، جب انہوں نے آسمان میں بدلی دیکھی تو خوش ہوگئے اور سمجھنے لگے کہ یہ بدلی ہم پر برسنے والی ہے لیکن وہ بدلی رحمت کی بدلی نہیں تھی عذاب بن کر آئی تھی، یہاں تک کہ اسی بارش سے اللہ نے ان کو تباہ کردیا۔: اللہ نے کہا:
فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَـذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٢٤
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے "یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا" "نہیں، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آ رہا ہے۔
اور کبھی یہی بارش پتھر کی شکل میں برستی ہے، جیسا کہ قوم لوط پر برسی، قوم لوط کے بارے میں اللہ نے کہا:
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ ( الشعراء ۱۷۳)
اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی۔ پتھر کی بارش
بارش سے قبل بارش کے بیچ اور بارش کے بعد کے آداب:
آسمان میں بادل دیکھتے ہی اللہ سے دعا کی جائے اور کام چھوڑ دیا جائے:
سنن ابی داؤ کی روایت ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ جب آسمان میں بدلی دیکھتے تو کام چھوڑ دیتے اگر چہ آپ نماز میں ہوں اور کہتے تھے: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، اور اگر بارش ہوجاتی تو کہتے تھے: اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا
بارش ہوتے وقت دعا کی جائے صحیح بخاری (1032) میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بارش ہوتی تو فرمایا کرتے تھے:
اَللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
یا اللہ! موسلا دھار اور نافع بارش عطا فرما،
اور ابو داود کی روایت میں ابھی گذرا کہ (5099)
اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا
یا اللہ! موسلا دھار اور برکت والی بارش عطا فرما
بارش کے برستے وقت زیادہ سے زیادہ دعا کرنی چاہیے کیونکہ یہ وقت دعا کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے
صحیح الجامع 1026 کی حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’اطْلُبُوا اسْتِجَابَةَ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْتِقَاءِ الْجُيُوشِ، وَإِقَامَةِ الصَّلَاةِ، وَنُزُولِ الْغَيْثِ‘‘
(دعاء کی قبولیت کو تلاش کرو جہاد کے موقع پر جب فوجیں باہم ملتی ہيں، اقامتِ صلاۃ کے وقت اور بارش نازل ہوتے وقت)۔
اور مستدرک حاکم (2534) اور المعجم الكبير (5756) کی روایت ہے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مرفوعا منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثِنتَانِ مَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ وَتَحْتَ الْمَطَرِ
دو دعائیں رد نہیں ہوتیں: اذان کے وقت اور برستی بارش کے نیچے۔
امام مناوی فرماتے ہیں ( فیض القدیر 3/340) کہ بارش کے وقت مانگی گئی دعا ضرور قبول کی جاتی ہے کیونکہ یہ رحمت کے اترنے کا وقت ہے۔
بارش میں جانا مستحب ہے کہ انسان کے بدن کا کچھ حصہ اس سے بھیگ جائے، اور اگر بارش کے پانی میں نہاتے ہیں تو اور اچھی بات ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
’’أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم وسلم مَطَرٌ، قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش برسی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کچھ کپڑا سمیٹا تاکہ اسے بارش لگے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: کیونکہ یہ اپنے رب تعالی کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔
جب سخت ہوا چلے اور بارش ہو رہی ہو تو اللہ کے عذاب کو یاد کیا جائے اور اللہ سے رحمت کا سوال کیا جائے۔ بخاری 3206ومسلم 899 کی روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب آسمان پر بادل چھاجاتے تو آپ صلى الله عليه وسلم کا رنگ بدل جاتا ، آپ باہر جاتے اندر تشریف لاتے ، آگے بڑھتے اورپھر پیچھے ہٹتے ، پھر جب بارش ہوجاتی تو آپ خوش ہو جاتے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے اس کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا:
إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي
مجھے ڈر لاحق ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ عذاب ہو جو میری امت پر مسلط کیا گیا ہو۔ اسی طرح جب آپ بارش دیکھتے تو فرماتے: رحمۃ کہ اے اللہ یہ بارش ہمارے لئے فائدہ مند بارش ہو ” اسے رحمت کی بارش بنا ، عذاب اور اور تباہی وبربادی لانے والی بارش نہ ہو۔ اور سنن ابی داؤد میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب ایک دن بدلی چھانے کے بعد آپ ﷺ کی پریشانی دیکھا تو انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ لوگ جب آسمان میں بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہونے کی امید ہے اور آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر پریشانی کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:
يَا عَائِشَةُ! مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ العَذَابَ؛ فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا (الأحقاف: 24)
اے عائشہ! مجھے کونسی بات مطمئن کرسکتی ہے کہ اس میں عذاب نہ ہو، حالانکہ کچھ قوموں کو ہوا کے ذریعہ ہلاک کیا گیا، اور کچھ قوموں نے بدلی کو عذاب کی شکل میں دیکھا تو سمجھنے لگے کہ یہ بدلی ہے جو ہم پر برسنے والی ہے۔
جب بارش زیادہ ہونے لگے تو اللہ سے کثرت سے دعا کرنی چاہیے کہ مبادا نقصان پہنچانے والی بارش نہ ہو جائے: صحیح مسلم (897) کی روایت ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی منبر کے سامنے والے دروازہ سے جمعہ کے دن مسجد نبوی میں آیا ۔ اور رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کہا: یا رسول اللہ! (بارش نہ ہونے سے ) جانور مر گئے اور راستے بند ہو گئے ۔آپ اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا فرمائیے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے یہ سنتے ہی ہاتھ اٹھا دیئے، آپ نے دعا کی کہ
اللهُمَّ أَغِثْنَا اللهُمَّ أَغِثْنَا اللهُمَّ أَغِثْنَا
اے اللہ! ہمیں سیراب کر ،اے اللہ! ہمیں سیراب کر ۔ اے اللہ! ہمیں سیراب کر۔انس ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! کہیں دور دورتک آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آتا تھا۔ اور نہ کوئی اور چیز( ہوا وغیرہ جس سے معلوم ہو کہ بارش آئے گی) اور ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی مکان بھی نہ تھا(کہ ہم بادل ہونے کے باوجود نہ دیکھ سکتے ہوں) پہاڑ کے پیچھے سے ڈھال کے برابر بادل نمودار ہوا اور بیچ آسمان تک پہنچ کر چاروں طرف پھیل گیا اور بارش شروع ہو گئی ۔اللہ کی قسم ہم نے سورج ایک ہفتہ تک نہیں دیکھا۔ پھر ایک شخص دوسرے جمعہ اسی دروازے سے آیا۔ رسول اللہ ﷺکھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے اس شخص نے پھر آپ کو کھڑے کھڑے ہی مخاطب کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! (بارش کی کثرت سے) مال و متاع پر تباہی آگئی اور راستے بند ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ بارش روک دے ۔پھر رسول اللہ ﷺنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی:
اللهُمَّ حَوْلَنَا وَلَا عَلَيْنَا اللهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ
کہ یا اللہ اب ہمارے ارد گرد بارش برسا ہم سے اسے روک دے۔ ٹیلوں پہاڑوں پہاڑیوں وادیوں اور باغوں کو سیراب کر۔ انہوں نے کہا کہ اس دعا سے بارش ختم ہو گئی اور ہم نکلےتو دھوپ نکل چکی تھی۔ اس سے پتہ یہ چلا کہ شدید بارش ہو رہی ہو یا بارش نہ رک رہی ہو تو ہمیں بھی یہی دعا پڑھنی چاہیے۔
جب کڑک کی آواز سنیں تو کچھ پڑھنا چاہیے یا نہیں اس سلسلے میں اللہ کے رسول ﷺ سے کچھ ثابت نہیں ہے البتہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : "وہ جس وقت کڑک سنتے تو گفتگو کرنا چھوڑ دیتے اور کہتے:
سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ
میرا رب پاک ہےکہ کڑک حمد کیساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے تسبیح بیان کرتے ہیں۔[الرعد: 13]
ہاں! کڑک اور بجلی میں انسان کے لیے پیغام یہ ہے کہ وہ اللہ کی عظمت پر غور کرے کہ بجلی اور کڑک اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں، فرشتے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، لیکن ہم انسان کتنے نڈر ہوچکے ہیں، کہ اللہ کی نشانی پر نشانی دیکھتے ہیں لیکن اس کی طرف پلٹنے کے لیے تیار نہیں:
أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ أَإِلَـهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ تَعَالَى اللَّـهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴿٦٣
اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا) ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ بارش اللہ برساتا ہے، نعمتیں اللہ دیتا ہے اور انسان سر جھکاتا کسی اور کے سامنے ہے۔ یہ کتنی بڑی نا انصافی ہے۔
جب بارش ختم ہوجائے تو یہ دعا پڑھنی چاہیے:
مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ (صحيح البخاري : 103 )
"اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمیں بارش سے سیرابی ملی"۔

بارش سے متعلقہ عقیدہ کے احکام :
بارش ہونے کا علم صرف اللہ کو ہے
صحیح بخاری کی روایت ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کل کیا ہونے والا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے، کل کیا کرنا ہوگا اس کا کسی کو علم نہیں ، نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اسے موت کس جگہ آئے گی:
وَمَا يَدْرِي اَحَدٌ مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ (صحيح البخاري: 1039)
’’اور نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ بارش کب ہوگی ۔‘‘ 
ہاں! موسمیات کے ماہرین بارش ہونے سے پہلے جو آثار و قرائن ظاہر ہوتے ہیں انہیں آثارکو دیکھ کر بتاتے ہیں کہ بارش ہونے والی ہے۔
بارش کی نسبت ستاروں کی طرف کرنا جائز نہیں بلکہ اس کی نسبت اللہ کی طرف کرنی چاہیے۔ جیسے کوئی کہے کہ فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو ایسا کہنا جائز نہیں ہے۔ صحیح بخاری (4147) کی روایت ہے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حدیبیہ کے سال اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ نکلے، حدیبیہ کی ایک رات بارش ہوئی، چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا
هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ ؟ 
کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا:
اَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُوْمِنٌ بِي وَکَافِرٌ فَاَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اﷲِ وَرَحْمَتِهِ فَذلِکَ مُوْمِنٌ بِي کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ وَاَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا فَذلِکَ کَافِرٌ بِي مُوْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ.
میرے بندوں نے صبح کی تو کچھ مجھ پر ایمان رکھنے والے تھے ااور کچھ کفر کر نے والے، جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم بارش سے سیراب کیے گئے وہ مجھ پر ایمان لانے والے اور ستاروں کے منکر تھے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے نے بارش برسائی۔ وہ میرا منکر اور ستاروں پر یقین رکھنے والا ہے۔
ہوا اور بارش کو برا بھلا کہنا جائز نہیں، کیونکہ ہوا چلانے والا اور بارش اتارنے والا صرف اللہ تعالی ہے:
سنن الترمذی (2252) کی روایت ہے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ہوا کو گالی مت دو، اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز
دیکھو تو یہ دعا پڑھو :
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْاَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا اُمِرَتْ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا اُمِرَتْ بِه
اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری مانگتے ہیں اور اس بہتری کا سوال کرتے ہیں جو اس میں ہے اور اس بہتری کا بھی سوال کرتے ہیں جسے دے کر یہ بھیجی گئی ہے، اور تیری پناہ مانگتے ہیں اس ہوا کےشر سے اور اس شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جسے دے کر یہ بھیجی گئی ہے۔
ہر سال بارش کی مقدار یکساں ہوتی ہے لیکن اس کی تقسیم مختلف ہوتی رہتی ہے، کبھی کہیں زیادہ تو کبھی کہیں کم:
مستدرک حاکم کی روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’مَا مِنْ عَامٍ بِأَكْثَرَ مَطَرًا مِنْ عَامٍ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُصَرِّفُهُ بَيْنَ خَلْقِهِ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَلَقَدْ صَرَّفْنهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا﴾‘‘
"کوئی بھی سال دوسرے سال کی نسبت زیادہ بارشوں والا نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالی اپنی مخلوق میں اس کی الٹ پھیر فرماتا رہتا ہے [جیسے چاہتا ہے] پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اور بلاشبہ یقیناً ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر نازل کیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں"۔ 
 (اس حدیث کو شیخ البانی نے السلسلۃ الصحیحۃ:2461 میں صحیح کہا ہے )

بارش سے متعلقہ فقہی احکام :
بارش کی رات جماعت کی نماز سے پیچھے رہنے کی گنجائش پائی جاتی ہے: صحیح بخاری : 666 کی روایت ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ سردی و بارش کی راتوں میں مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اعلان کر دے کہ
ألَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ
لوگو ! اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔ یعنی اذان میں موذن حی علی الفلاح کے بعد کہے گا: صلوا فی رحالکم
بارش کی وجہ سے مغرب اور عشاء کو جمع کرکے مغرب کے وقت ہی پڑھ سکتے ہیں اور ظہر اور عصر کو بھی ظہر کے وقت جمع کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ اس طور پر کہ اذان ایک ہوگی اور اقامت دونوں کے لیے کہی جائے گی۔ البتہ شرط یہ ہے کہ جماعت کی نماز مسجد میں ادا کی جا رہی ہو، گھر پر نہیں اور بارش ہو رہی ہو، یا کیچڑ ہو جس کی وجہ سے مسجد پہنچنے میں دشواری ہو۔ (موطا مالک : 386 )
بارش کا پانی پاک ہے، اس سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے، اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :
وَأَنزَلنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهورًا (سورة الفرقان: 48 )
اور ہم نے آسمان سے پاک پانی نازل کیا ۔
جس نے وضو کرنے کے بعد موزے پہنا ہو اس کے لیے موزے پر مسح کرنا جائز ہے۔ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات جبکہ مسافر کے لیے تین دن اور تین رات تک رخصت ہے۔ اور اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث ہے:
إن اللهَ يُحبُّ أن تؤتَى رخَصُه، كما يكرهُ أن تُؤتَى معصيتُه (صحيح ابن حبان: 354 )
"اللہ تعالی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت کو قبول کیا جائے جیسے اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کا کوئی کام کیا جائے"۔
البتہ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ موزہ ایسا ہونا چاہیے جو ٹخنے کو ڈھانپ لے، اگر موزہ ٹخنے کو ڈھانپ نہیں رہا ہے تو اس پر مسح کرنا جائز نہیں ہوگا۔
بارش سے سیراب ہونے والی پیداوار پر زکوۃ دوگنی ہوجاتی ہے۔ صحیح بخاری کی روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ اَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ (صحيح البخاري : 1483 )
وہ زمین جسے بارش کا پانی یا چشمہ سیراب کرتا ہو۔ یا وہ خود بخود نمی سے سیراب ہو جاتی ہو اس کی پیداوار سے دسواں حصہ لیا جائے اور وہ زمین جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہو اس کی پیداوار سے بیسواں حصہ لیا جائے۔
محترم سامعین! یہ تھی بارش سے متعلق کچھ ضروری باتیں جنہیں اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کیا گیا، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی بارش کو ہم سب کے لیے رحمت بنائے زحمت نہ بنائے۔

مکمل تحریر >>

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مثالی زندگی کے دو نمونے


جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو مدینہ میں پہلے پہلے جہاں مسجد نبوی کی تعمیر کی وہیں  انصار اور مہاجرین کے بیچ مواخات یعنی آپسی بھائی چارہ قائم کیا، چنانچہ عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ جو مکہ سے آئے تھے، سعد بن ربیع  رضی اللہ عنہ کے بھائی بنا دئیے گئے جو مدینہ کے تھے۔اس نسبت سے دونوں دینی بھائی ٹھہرے، اب کیا تھا؟ سعد  رضی اللہ عنہ نے کہا، بھائی! میں مدینہ میں سب سے زیادہ مال دار آدمی ہوں۔ میرے دو باغ اور دو بیویاں ہیں۔ جو باغ تمہیں اچھا لگتا ہے ، تمہارے لیے چھوڑ دیتا ہوں اور جوبیوی تم کو پسند آتی ہے ،میں اسے طلاق دے کر تمھیں سونپ دیتا ہوں۔ ابن عوف  رضی اللہ عنہ نے جواب دیا،  بارک اللہ لک فی أھلک ومالک دلونی علی السوق.اﷲ تمہارے اہل و عیال اور مال و دولت میں خوب برکت دے ۔ مجھےبازار کا راستہ  بتا دو، یہاں قریبی بازار کون سا ہے؟ سعد  رضی اللہ عنہ نے کہا، بازار قینقاع۔ صبح سویرے عبدالرحمان  رضی اللہ عنہ نے بازارکارخ کیا۔ کچھ گھی اور پنیر لے کر  بیچنے لگے،  اسی طرح تجارت کرتے کچھ دیر گزری تھی کہ ان کا شمار مدینہ کے متمول افراد میں ہونے لگا، اس قدر غلہ اور سامان تجارت ہو گیا کہ اسے ڈھونے کے لیے کئی سو اونٹوں کی ضرورت پڑتی۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ: میں کوئی پتھر بھی اٹھاتا تو میرے لیےسونا چاندی بن جاتا تھا۔ ایک دن خدمت نبوی میں حاضر ہوئے تو ان کے کپڑوں پر زعفران کا داغ لگا تھا۔
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، خیر تو ہے؟ انھوں نے بتایا: یا رسول اللہ میں نے شادی کر لی ہے ۔
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، بیوی کو مہر میں کیا دیا ہے؟ عبدالرحمان  رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کھجور کی ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا، ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أولم ولوبشاۃ ولیمہ ضرور کرو،چاہے ایک بکری ہی  سہی۔یہ ہے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک واقعہ جسے میں نے آپ کے سامنے اس لیے پیش کیا ہے تاکہ ہم اس کی روشنی میں اپنے مسلم سماج کی دو خطرناک بیماریوں کا صحیح علاج ڈھونڈ سکیں۔مسلم سماج کی پہلی بیماری ہے: بيکاری ،کام چوری، تن آسانی اور دوسروں کے لقموں پر پلنے کی عادت۔

اور دوسری بیماری ہے شادی بیاہ میں فضول خرچی، اسراف، جہیز کی لعنت، جس کی وجہ سے شادی  رحمت بننے کی بجائے زحمت بن گئی ہے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مکہ سے آئے تھے،  ساری جائیداد چھوڑ کے آئے تھے، نہتے تھے، دستگیری کے محتاج تھے، اور بہتر سے بہتر آفر بھی مل رہا تھا، بیٹھے بیٹھے بیوی ہوجاتی ، دولت مل جاتی اورشرافت کی زندگی جی لیتے، لیکن انہوں نے اس آفر کو لاد مار دیا، اپنے بھائی کو دعا دی اور محنت کرکے کمانے میں لگ گئے،  یہی ہے ایک مسلمان کا شیوہ۔ اس دھرتی پر انسانيت کی سب سے افضل جماعت انبياءعليہم السلام ہيں، ان پاکيزہ نفوس نے اپنے ہاتھ کی کمائی پر گذربسر کيا،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن ميں چند سکوں کے عوض اہل مکہ کی بکرياں چرائی اور بڑے ہوئے تو نبوت سے پہلے تجارت کی ۔آپ نے اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ تجارتی سفر کيا ۔ حضرت خديجہ ؓ کا تجارتی مال لےکر شام گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدينہ ميں باضابطہ ايک منڈی کھولی ۔جس کی ديکھ ريکھ کرنے کے لئے مستقل وہاں جايا کرتے تھے۔

 
آپ نے فرمايا : جو اپنے قوت بازو سے کما کر کھا ليتے ہوں وہ سب سے زيادہ پاکيزہ  روزی ہے ۔ اور آپ نے سچی تجارت کرنے والوں کے متعلق فرماياالتاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشھداء (ترمذیسچا امانت دار تاجر قيامت کے دن نبيوں ،صديقوں اور شہيدوں کے ساتھ اٹھايا جائے گا ۔ سبحان اللہ ۔ يہ ہے اسلام کی عظمت کہ دنيا کماؤاور جنت بناؤ، دنيا ميں روزی ملی اور آخرت ميں جنت ملی بلکہ انبياء وشہداءکی رفاقت بھی نصيب ہوئی۔اسلام ميں کوئی بھی پيشہ معيوب نہيں ہے بشرطيکہ جائز ہو،۔تاريخ بتاتی ہے کہ انبياء کرام اور علمائے امت ميں کوئی لوہار تھا، کوئی بڑھئی تھا، کوئی درزی تھا، کوئی بزاز تھا، کوئی موچی تھا اور کوئی کسان تھا  امام اعظم ابوحنيفہ رحمہ اللہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے ، امام بخاری رحمہ اللہ بھی کپڑوں کی تجارت کرتے تھے، امام قدوری رحمہ اللہ برتنوں کی تجارت کرتے تھے ۔آج مسلمانوں کی اکثريت اکثر کاموں کو اپنی شان کے خلاف سمجھتی ہے۔ سبزياں بيچ نہيں سکتے، غلے کا کارو بار کر نہيں سکتے، منڈيوں ميں سامان لے کر جا نہيں سکتے ۔خدارا ہميں بتاؤ اگرسارے انبياء نے بکرياں چرائی تو کيا ان کی شان ميں کمی آگئی ؟ حضرت يحيی عليہ السلام نے موچی کا کام کيا تو کيا ان کا مقام گھٹ گيا ؟ حضرت ابراہيم عليه السلام حضرت ابوبکرصديق رضى الله عنه ، امام اعظم ابوحنيفہ رحمہ اللہ اورامام بخاری رحمہ اللہ نے کپڑے کی تجارت کی، بزازی کا کام کيا توکيا ان کی عظمت کو بٹا لگ گيا ؟ نہيں اور ہرگز نہيں ۔ بلکہ وہ آسمان عظمت کے روشن ستارہ تھے اور رہيں گے ۔ ليکن کيا ہم اس قسم کا پيشہ اختيار کرنے والوں کو کمتر جان کر انبياء کرام اور صحابہ کی سنت پر تيشہ زنی نہيں کر رہے ہيں ؟ نہ جانے مسلم سماج ميں اس طرح کا تصور کہا ں سے آگيا کہ فلاںکام ہمارے لائق نہيں تو فلاں پيشہ غيرقوموں کا ہے ؟ نتيجہ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے اندربيکاری اور کام چوری آگئی۔آج بھی ہماری عظمت لوٹ سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لقمہ پر پلنا چھوڑ دیں، بیکاری چھوڑ دیں، محنت کریں، کاروبار کی طرف دھیان دیں، کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے پلاننگ کریں، آمدنی کم ہو لیکن پھر بھی محنت جاری رکھیں، دکان ہے تو صبح سویرے کھولیں، کاروبار میں جھوٹ نہ بولیں، دھوکہ نہ دیں، عجیب طریقے سے ہمارا کام آگے بڑھے گا۔

دوسری خطرناک بیماری جو ہمارے مسلم سماج میں پائی جاتی ہے وہ ہے شادی بیاہ میں فضول خرچی، اسراف، جہیز کی لعنت، جس کی وجہ سے شادی  رحمت بننے کی بجائے زحمت بن گئی ہے۔  حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کتنی سادگی سے شادی کرتے ہیں کہ مدینہ کی چھوٹی سی بستی میں شادی کرلیتے ہیں، لیکن تاجدار مدینہ کو خبر دینا ضروری نہیں سمجھتے، اور جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں تو بتانا بھی ضروری نہیں سمجھتے یہاں تک کہ کچھ زردی دیکھ کر پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی ہے تو بتایا کہ ہاں یا رسول اللہ، آپ نے یہ سن کر انہیں طعنہ نہیں دیا کہ تم نے شادی کرلی اور پوچھا بھی نہیں، بلکہ صرف اتنا مشورہ دیا کہ ولیمہ کرلو اگرچہ ایک بکری ہی سہی۔ جی ہاں! یہ ہے شرعی شادی، ایسی ہی شادیاں ہوتی تھیں، تب شادی رحمت تھی، زحمت نہیں، انہوں نے اپنے حبیب سے سن رکھا تھا: أعظم النکاح برکۃ أیسرہ مؤنۃ برکت کے اعتبار سے سب سے بہتر شادی وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔

یہ جلیل  القدر تابعی امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہیں جو مدینہ کے تھے، جن کے علم  کی مدینہ میں شہرت تھی، ان کی ایک نیک سیرت بیٹی تھی، بادشاہ  وقت عبدالملک بن مروان  نے  اپنے  بیٹے ولید کے لیے ان سے رشتہ مانگا تھا، لیکن سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے شادی کرنے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے عبدالملک بن مروان نے ان پر زیادتی بھی کی ۔  اور ایک نہایت غریب  لڑکے سے اس کی شادی کردی ، جس کا قصہ یہ ہے کہ عبداللہ بن وداعہ نام کا ایک طالب علم امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے درس میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ چند روز غائب رہا،پھر ایک دن جب سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے درس میں حاضر ہوا تو انہوں نے غائب ہونے کی وجہ دریافت کی ، اس نے کہا کہ میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا تھا جس کے باعث میں چند دنوں حاضر نہ ہو سکا، امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ نےاس سے تنہائی میں دریافت کیا کہ کیا تم نے شادی کرلی ۔اس نے کہا : مجھ غریب سے کون شادی کرے گا۔ امام سعید بن مسیب نے اپنی فاضلہ بیٹی کی اسی طالب علم سے شادی کردی،  پھر اسی دن شام میں اپنی بیٹی کو لیے اپنے داماد  کے گھر پہنچ  گئے ، اور دروازے پر دستک دی ، دروازہ کھولا گیا تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ تھے ، انہوں نے کہا کہ میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ رات تم تنہا گذارو، یہ لو تیری بیوی ہے۔ یہ بیٹی کوئی معمولی بیٹی نہیں تھی، ا س قد رعلمی بصیرت رکھتی تھی کہ جب شوہر شب زفاف منانے کے بعد صبح  سویرے سعید بن المسیب کے پاس پڑھنے کے لیے جانے کا ارادہ کیا تو بیوی نے کہا: آپ یہیں بیٹھیں، سعید بن مسیب کا پورا علم لے کر  آئی  ہوں، میں آپ کو سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا علم سکھاؤں گی۔حالاں کہ اس وقت مدینہ میں ان سے بڑا عالم کوئی نہیں تھا، اور بعض صحابہ کی موجودگی میں وہ  درس  دیا کرتے  تھے، اور ان کی بیٹی نے ان کے سارے علم کو حاصل کرلیا تھا ، اللہ اکبر یہی  وہ  فاضلہ خاتون  ہیں، جن کے یہ الفاظ سونے کے پانی  سے لکھے جانے کہ قابل ہیں، کہتی ہیں:جس قدر میں اپنے شوہر کی عزت کرتی  اور ان سے ڈرتی ہوں اس قدر تم  میں کا کوئی  بادشاہ  کی بھی عزت نہیں کرتا  اور ڈرتا  ہوگا۔سبحان اللہ! یہ تھا معیار ان کے بیچ شادی کا۔ لیکن آج شادی  کے حوالہ سے مسلمانوں میں پایا جانے والا بگاڑ اب ساری حدوں کو پار کرتا جارہا ہے، پانی اب سرسے اونچا ہوچکا ہے، اس سلسلہ میں فوری انسدادی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو مسلم سماج تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ جہیز کی لعنت کے سبب ملت کی ہزاروں بیٹیاں جوانی کی عمریں پار کررہی ہیں، ہزاروں غریب خاندان جہیز نہ دے سکنے کے سبب زندگی کے سکون سے محروم ہیں، جس گھر میں جوان بیٹیاں موجود ہیں، وہاں کے سرپرستوں کی رات کی نیندیں اُڑ چکی ہیں، بہت سی غربت کی ماری بچیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ فرار ہورہی ہیں اور اپنے دین وایمان کا سودا کررہی ہیں، بعض لڑکیاں شادی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے مایوس ہوکر خود کشی کرلیتی ہیں، جہیز کم لانے کی جرم میں سیکڑوں نئی نویلی دلہنوں کو جلایا جاچکا ہے، شادی مشکل ہونے کی وجہ سے زنا آسان ہو گیا ہے، سماج میں فحاشی اور بے حیائی پھیلتی جا رہی ہے۔

میرے بھائیو! جہیز کا مطالبہ در اصل مہذب انداز میں بھیک مانگنا ہے۔ جہیز حرام ہے، اور ہمارے نبی نے فرمایا: جو گوشت حرام مال سے پلے اس کے لیے جہنم بہتر ہے، جہیز رشوت خوری ہے اور ہمارے نبی نے فرمایا: رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں ملعون ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ جہیز کا بائکاٹ کیا جائے، جہیز لینے والوں سے تعلق کاٹ لیا جائے، ان کی شادیاں میں شرکت نہ کی جائے، ان کا نکاح نہ پڑھایا جائے، ہمارے نوجوان عہد کریں کہ سادگی سے شادی کریں گے، شادی میں دین واخلاق کو بنیاد بنائیں گے۔ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا دعوی کام نہیں چلے گا، اسلام کی تعلیمات کو زندگی میں اتارنا ہوگا۔ جہیز کی لعنت کی وجہ سے ہم لڑکیوں کو ان کے حق وراثت سے بھی محروم کر رہے ہیں جو ہمارے سماج کا ایک تیسرا ناسور ہے۔

لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔ جی ہاں! جیسے اللہ نے لڑکوں کو حق دیا ہے ویسے ہی لڑکیوں کو دیا ہے، آپ کون ہوتے ہیں یہ حصہ دبا دینے والے۔

مکمل تحریر >>

شہناز باجی وفات پا گئیں

شیخ ارشد فہیم الدین مدنی کی خالہ زاد بہن، عبداللہ بھائی کی اہلیہ اور ہماری پڑوسن شہناز باجی لیور فیل ہوجانے کے باعث آج بروز جمعہ دو بجے رات میں اس دارفانی سے رخصت ہوگئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
موصوفہ کو ایک عرصہ سے لیور کا عارضہ لاحق تھا، پچھلے سال ان کا بہت خطرناک اکسیڈنٹ ہوگیا تھا جن دنوں میں بھی صحت کی خرابی سے جوجھ رہا تھا، الحمدللہ چند مہینوں کے مسلسل علاج اور ورزش سے ٹوٹے اعضاء بحال ہوگئے تھے، لیکن اس بیچ لیور کی دوا بدستور جاری نہ رہ سکی جس کے باعث بیماری بڑھتی گئی، پٹنہ لے جایا گیا ڈاکٹرس نے تشخیص کے بعد مایوسی ظاہر کی بالآخر اہل خانہ انہیں لے کر گھر واپس آگئے تھے۔
موصوفہ بڑی نیک، پارسا اور صوم و صلاة کی پابند تھیں، شادی کے بعد مالی مشکلات سامنے آئے لیکن ہمت نہ ہاری اور معمولی رقم پر بچیوں کو ٹیوشن کرانا شروع کیا، سالوں تک کراتی رہی بالآخر قسمت نے ساتھ دیا اور سرکاری ٹیچر کے طور پر بحالی ہوگئی اور گھر میں خوشحالی آگئی۔
ان کی تعلیم ننیہال اموا شیخ ٹولی میں ہوئی تھی، میری ہمیشیرہ رحمت باجی ان کی ہم سبق تھیں، جن کا سایہ ہم سے چودہ سال قبل اٹھ گیا، (اللہ ان کی مغفرت فرمائے) ہمشیرہ کی وفات کے بعد سے جب بھی میں شہناز باجی کو دیکھتا اپنی ہمشیرہ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی، نہایت، خلیق اور ملنسار خاتون تھی، ان سے مل کر ہر ایک کو بہت اپنائیت کا احساس ہوتا تھا، ہمارے گھر کے بالکل سامنے ان کا گھر ہے، ہم سے ان کے اچھے مراسم تھے، ہر دکھ درد میں برابر کی شریک رہتی تھیں، گو کہ ان کے پسماندگان میں دو بیٹا ہے اور ایک شوہر لیکن ان کے گھر کے ہر فرد سے ہمارا ایسا تعلق تھا کہ ہم خود کو لواحقین میں شمار کررہے ہیں اور یہ دل خراش خبر سن کر جذبات سے بے قابو ہوتے جارہے ہیں۔ لیکن موت سے کس کو رستگاری ہے ، آج وہ کل ہماری باری ہے۔
لہذا ہم پسماندگان سے کہیں گے: اللہ آپ کے اجر وثواب میں اضافہ فرمائے، صبر سے کام لیں، اللہ کے فیصلے سے راضی رہیں، یہ دنیا کی ریت ہے، یہاں کوئی ہمیشہ رہنے نہیں آیا، شرعی طریقے سے ان کی تدفین کریں اور ایصال ثواب کا جائز طریقہ اختیار کریں۔
اللہ پاک موصوفہ کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین
مکمل تحریر >>

جمعرات, نومبر 15, 2018

بچوں کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ کا معاملہ کیسا ہوتا تھا ؟

اللہ کے رسول ﷺ ساری مخلوق کے لیے رحمت بناکر بھیجے گیے تھے، آپ کا معاملہ سماج کے ہر طبقہ کے ساتھ نہایت عمدہ ہوتا تھا، آپ افضل رسول تھے، آپ بہادر جرنیل تھے،  آپ بہترین شوہر تھے، آپ شفیق باپ تھے، یہاں تک کہ بچوں کے ساتھ بھی آپ کا معاملہ شفقت و رحمت اور مہربانی پر مبنی ہوتا تھا۔
آج  ہم آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے دریچے سے بچوں کے ساتھ آپ کے کریمانہ اخلاق کے چند نمونے پیش کر یں گے جن سے بچوں کے ساتھ آپ کی شفقت اور محبت کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اپنے بیٹے ابراہیم کے ساتھ:
جب آپ ﷺ کے گھر ابراہیم کی پیدائش  ہوئی اور ابو رافع نے آکر آپ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے خوشی سے اسے ایک غلام عنایت فرمایا۔ (الطبقات الكبرى  1 / 135 ) جب صبح ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے گھر آنے والے اس نئے مہمان کی صحابہ کرام کو بشارت دی، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:  ولد لي الليلة غلام فسميته باسم أبي إبراهيم (صحيح مسلم  4 / 1807 )   آج کی رات مجھے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے میں نے اس کا نام اپنے باپ کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کےساتھ ابوسیف کے گھر گئے جو لوہاری کا پیشہ اختیار کرتے تھے اور ان کی بیوی ام سیف (عرب کی روایت کے مطابق) ابراہیم کو دودھ پلا رہی تھی، اللہ کے رسول ﷺ نے ابراہیم کو لیا اسے بوسہ دیا اور چوما۔ پھر دوسری مرتبہ ہم آپ کے ساتھ ابراہیم کے پاس گئے یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم جان کنی کے عالم میں تھے۔ یہ منظر دیکھ کر رحمتِ عالم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
اس وقت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ!ﷺکیا  آپ بھی روتے ہیں؟  آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے!یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے۔ اس کے بعد پھر دوبارہ جب آپ کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہنےلگے  تو آپ کی زبان مبارک پریہ کلمات جاری ہوگئے:اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ‘‘ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلاشبہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں۔ (رواه البخاری:1303، مسلم :2315).
اور صحیح مسلم کی روایت میں انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: والله ما رأيت أحدًا كان أرحم بالعيال من رسول الله صلى الله عليه وسلم (رواه مسلم 2316).  اللہ کی قسم! میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ اپنے اہل وعیال پر رحم وشفقت کرنے والا کسی اور کو نہیں دیکھا۔
اپنے نواسے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کہ ایک دن حسن یا حسین رضی اللہ عنہما  آپ کے پیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے آپ کے شکم مبارک پر پیشاب کرنا شروع کردیا، آپ ﷺ نے فرمایا: لا تزرموا ابنِي أو لا تستعجِلوه فتركه حتىقضى بولَه فدعا بماءٍ فصبَّه عليه (مجمع الزوائد: 1/290)
 میرے بیٹے کو پیشاب کرلینے دو۔ جلدی مت کرو، چنانچہ آپ نے اسے چھوڑ دیا حتی کہ پیشاب سے فارغ ہوگیا، پھر اس کے بعد پانی منگوایا اوراس پر چھینٹ مار دی ۔ 
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی الله عنہما کے لیے اپنی زبان باہر نکالتے، جب بچہ زبان کی سرخی دیکھتا تو وہ خوش ہو جاتا ۔ (السلسلة الصحيحة 1 / 110)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما بھی تھے، ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کندھے پر اور دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے کندھے پر تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اِن سے پیار کرتے اور کبھی اُن سے۔ چنانچہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کو ان سے محبت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَن اَحَبَّہُمَا فَقَد اَحَبَّنِی ، وَمَن اَبغَضَہُمَا فَقَد اَبغَضَنِی (الصحيحة: 2895)  جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔ 
ایک موقع سے آپ نے فرمایا ہُمَا رَیحَانَتَایَ مِنَ الدُّنیَا۔  بے شک حسن اور حسین رضی اللہ عنہما  دنیا میں میرے دوپھول ہیں۔ ( صحیح بخاری: 5994)
سنن ابو داود کی روایت ہے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ  کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اس دوران حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما نمودار ہوئے ، انہوں نے سرخ رنگ کی قمیصیں پہنی ہوئی تھیں اور وہ ان میں بار بار پھسل رہے تھے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے، اپنا خطبہ روک دیا، انہیں اٹھایا اور اپنی گود میں بٹھا لیا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اٹھائے ہوئے منبر پر چڑھے ۔ اس کے بعد فرمایا : اللہ تعالی نے سچ فرمایا ہے کہ

إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ بے شک تمھارے اموال اور تمھاری اولاد آزمائش ہیں ۔“  میں نے انہیں دیکھا تو مجھ سے رہا نہ جا سکا ۔  پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خطبہ مکمل فرمایا ۔ ( سنن ابوداؤد: 1109) عبداللہ بن شداد اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظہر یا عصر کی نماز کے لیے تشریف لائے، آپ نے حسن یا حسین رضی اللہ عنھما کو اٹھا رکھا تھا، آپ آگے بڑھے، انہیں انہیں سامنے رکھ دیا اور اور نماز پڑھانے لگے، نماز کے بیچ آپ نے بہت لمبا سجدہ کیا، میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ بچہ آپ کی پشت مبارک پر ہے، اور آپ سجدے کی حالت میں ہیں،  میں دوبارہ سجدے میں لوٹ گیا، جب رسول ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اثنائے نماز بہت لمبا سجدہ کیا۔ حتی کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ کوئی  معاملہ تو پیش نہیں آگیا  یا  آپ پر وحی  تو نازل نہیں ہو رہی ہے؟  آپ نے فرمایا: ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، بس میرا نواسا میری گردن پر  بیٹھ گیا تھا، میں نےاسے اپنی ضرورت پوری کرنے سے پہلے ہٹانا مناسب نہیں سمجھا ۔ (سنن النسائی: 1140).

اپنی نواسی امامہ بنت ابوالعاص کے ساتھ :
اللہ کے رسول ﷺ اپنی نواسی  امامہ رضی اللہ عنہا پر جو زینب کی بیٹی تھیں بہت شفقت فرماتے تھے،  بسااوقات اسے لے کر مسجد چلے جاتے، اسے اٹھا کر آپ نماز پڑھتے تھے، جب سجدہ کرتے تو زمین پر بٹھا دیتےاور کھڑے ہوتے تواپنے کندھے پر  اٹھا لیتے تھے۔ (صحیح البخاری:516، صحیح مسلم:542).
صحابہ کے بچوں اور بچیوں کے ساتھ :
بلکہ صحابہ کے بچوں اور بچیوں کے ساتھ بھی آپ بڑی شفقت اور پیار کا معاملہ فرماتے تھے۔ جب صحابہ کے بچے پیدا ہوتے تو وہ آپ کی خدمت میں لاتے تھے، آپ اسے گود میں لیتے، اسے بوسہ دیتے اور اس کے لیے برکت کی دعائیں فرماتے تھے۔ صحیح البخاری کی روایت ہے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے ایک لڑکا ہوا، میں اسے لے کر اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں آیا، چنانچہ آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا، کھجور کو چباکر اس کی گھٹی کی، اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر میرے حوالے کردیا۔
ام خالد کے ساتھ:
 ام خالد جلیل القدر صحابی خالد بن سعید بن العاص کی بیٹی ہیں، ان کی ولادت سرزمین حبشہ میں ہوئی، جب وہاں سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ لوٹ کر آئے توایک دن  آپ کی خدمت میں تشریف لائے،  اپنے ساتھ اپنی بیٹی ام خالد کو بھی لے کرآئے تھے۔ اس بچی  ام خالد کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ نے جومعاملہ کیا اسے خود انہوں نے بیان کیا ہےچنانچہ صحیح البخاری کی روایت ہے ۔ وہ خود فرماتی ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آئی، میں نے زرد رنگ کی قمیص زیب تن کر رکھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: " سِنَهْ سِنَهْ " (حدیث کے راوی) عبداللہ  کہتے ہیں کہ حبشی زبان میں خوبصورت کو " سِنَهْ سِنَهْ "  کہاجاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں مہر نبوت سے کھیلنے لگی، میرے باپ نے مجھے ڈانٹا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: " أَبْلِي وَأَخْلِقي، ثُمَّ أَبْلِي وأَخْلِقي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقي ". یہ کپڑا تمہارے بدن پر لمبی مدت تک رہے اور تمہیں لمبی زندگی ملے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ ایک عرصہ تک باحیات رہیں۔ (صحیح البخاری: 3071)
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ: 
صحیح مسلم کی روایت ہے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :  صليتُ مع رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ صلاةَ الأولى . ثم خرج إلى أهلِه وخرجتُ معَه . فاستقبلَه ولدانٌ . فجعل يمسحُ خدَّيْ أحدهم واحدًا واحدًا . قال : وأما أنا فمسح خدِّي . قال فوجدتُ لِيَدِه بردًا أو ريحًا كأنما أخرجها من جؤنةِ عطارٍ (صحيح مسلم:  2329)
میں نےرسول اللہ ﷺ کے ساتھ  ظہرکی نماز پڑھی، پھر آپ  اپنے گھر تشریف لے جانے لگےتو میں بھی آپ کے ساتھ نکلا، چند بچے آپ کے سامنے آئے، آپ نے ہر بچے کے رخسار پر ہاتھ پھیرا،  میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا، میں نے آپ کے ہاتھ میں ایسی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا عطار کے ڈبے سے آپ نے ہاتھ نکالا ہو۔
ابو عمیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ:
بسااوقات آپ ﷺ بچوں سے کھیلتے اور ان سے ہنسی مذاق کرتے تھے: انس رضی اللہ عنہ کے ایک ماں شریک بھائی تھے، ابو عمیر رضی اللہ عنہ، وہ چھوٹے بچے تھے، ان کے پاس ایک پرندہ تھا، جس سے وہ کھیلا کرتے تھے،اچانک وہ پرندہ مر گیا،  انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب بھی آپ ﷺ ہمارے گھر تشریف لاتے تو فرماتے: «يا أبا عمير، ما فعل النُغير (رواه البخاری:6203، ومسلم: 2150). اے ابو عمیر! تیرے نغیر کا کیا ہوا؟ 

محمود بن الربیع  رضی اللہ عنہ  کے ساتھ:
کبھی کبھار اللہ کے رسول ﷺ بچوں سے  اپنے پیار کا اظہار کرنے کے لیے ان کے منہ پر کلی پھینکتے ۔صحیح البخاری کی روایت ہے ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے منہ میں پانی ڈالا اور اپنے منہ سے پانچ سال کے بچے کے منہ پر کلی پھینکا، ایسا آپ نے پیار اور محبت کے اظہار کے لیے کیا۔ یہ صحابی محمود بن الربیع رضی اللہ عنہ ہیں، چنانچہ وہ بڑے ہونے کے بعد لوگوں سے کہا کرتے تھے: عَقَلْتُ من النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم مَجَّةً مَجَّها في وجْهِي، وأنَا ابنُ خمسِ سِنِينَ، من دَلْوٍ .( صحيح البخاري: 77مجھے اچھی طرح سمجھ  ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے برتن سے پانی لے کر میرے چہرے پر کلی پھینکا تھا جبکہ میں اس وقت پانچ سال کا تھا۔  
بچے کو اس کا حق دیا:
اللہ کے رسول ﷺ کی بچوں پر ایسی شفقت تھی کہ آپ یہ بھی گوارہ نہیں کرتے تھے کہ بچوں کا حق مار کر بڑوں کا خیال کرتے ہوئے ان کو  دے دیا جائے۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ واقعہ کے راوی ہیں ،  اللہ کے رسول ﷺ کے پاس پینے کی کوئی چیز پیش کی گئی۔ آپ نے اس سے نوش فرمایا،  آپ کے دائیں جانب ایک بچہ تھا، اورآٓپ کے بائیں جانب عمر رسیدہ افرادتھے،  آپ ﷺ نے اس بچے سے فرمایا: کیا تم اجازت دیتے ہوکہ میں ان کو (پہلے)  دوں؟ بچے نے کہا: اللہ کی قسم میں آپ کی طرف سے ملے حصے پر کسی اور کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ (صحیح البخاری:2605، صحیح مسلم:2030). اس حدیث میں اس بات کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ بچوں کا اہتمام کرتے تھے، انہیں ان کا حق دینے کی تاکید کرتے تھےاور اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ان میں  جرأت کا جذبہ پیدا کرتے تھے۔
 یہودی لڑکے  کے ساتھ : 
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا آپ ﷺ کی خدمت  کرتا تھا، ایک مرتبہ  وہ بیمار ہوگیا، آپ اس کی تیمارداری کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئے، آپ اس کے سر کے پاس بیٹھے، اور فرمایا: اسلام قبول کرلو۔ لڑکا اپنے باپ کی طرف دیکھنے لگا جو اس کے پاس تھا، باپ نے کہا: ابوالقاسم کی بات مان لو۔ چنانچہ اس نے اسلام قبول کرلیا۔اللہ کے نبی ﷺ وہاں سے نکلے تو آپ فرما رہے تھے: «الحمد لله الذي أنقذه من النار» (صحیح البخاری:1356). اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے ذریعہ اسے جہنم سے بچا لیا۔
 بچیوں کی اہمیت:
زمانہ جاہلیت میں لوگ بچیوں کی پیدائش کو عار سمجھتے تھے، لیکن نبی ﷺ نے بچیوں کو ان کا حق دیا، ان کا احترام کیا، اور ان کی تربیت وتعلیم پر خصوصی انعامات کی بشارت سنائی  بلکہ ان کے حسن تربیت کو جنت میں داخلے کا موجب گردانا۔آپ ﷺ نے فرمایا:
«من عال جاريتين حتى تبلغا، جاء يوم القيامة أنا وهو - وضم أصابعه-» (صحیح مسلم:2631). 
جس نے دو بچیوں کو بلوغت تک پوسا پالا، جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو میں اور وہ یوں ہوں گا۔ پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ دو بیٹیاں تھیں، مجھ سے کچھ مانگا، میرے پاس صرف ایک کھجور تھی، میں نے اسے دے دیا، اس نے اسے آدھا آدھا کرکے دونوں بیٹیوں میں بانٹ دیا، اور خود نہ کھائی، پھر کھڑی ہوئی اور چلی گئی، اللہ کے رسول ﷺ جب تشریف لائے تو میں نے ان سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا:
من ابتلي من هذه البنات بشيء فأحسن إليهن كن له ستراً من النار  ( صحیح البخاری: 1418، صحیح مسلم: 2629)
جسے ان بیٹیوں کی وجہ سے کسی طریقے سے آزمایا جائے اور وہ ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے تو یہ ( کل قیامت کے دن) جہنم سے پردہ بنیں گی۔

مکمل تحریر >>