پیر, جولائی 16, 2018

وہ بھی گرا نہیں، جو گرا، پھر سنبھل گیا



یہ دھرتی اللہ کی گراں قدر نعمت ہے جس پر ہم رہتے، بستے اور زندگی گذارتے ہیں، اللہ تعالی نے اسے ہمارے تابع اور مسخر کیا اور اس کی تہہ سے مختلف قسم کے خزانے اور نوع بنوع پیداوار نکالے تاکہ وہ ہمارے لیے سامان زیست بن سکیں۔ پھر اسے ہموار بنایا اور اس کے شکم میں کوہساروں کو جمادیا تاکہ ہم اس کی چھاتی پر بآسانی عمارت بنا کر پر لطف زندگی گذار سکیں۔ پھر اس دھرتی پر انسانوں کو خلافت کی ذمہ داری سونپی اور زندگی گذارنے کا سسٹم  دیا تاکہ انسان دھرتی کو اس کے خالق کی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ لیکن جب انسان نے اللہ کے قانون سے منہ موڑا، بغاوت پر اتر آئے اور من مانی کرنے لگے تو اللہ تعالی نے اس دھرتی  کے مکینوں کو طوفان، زلزلوں، گرجدار چینخ، بستیوں کا الٹ دینا، زمین میں دھنسا دینا جیسے آفات بھیج کر دنیا کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا،  مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے۔
آج بھی انسان اس دھرتی کے قانون کو پامال کر رہا ہے، اس کے خالق سے لاپرواہی برت رکھی ہے اور دھرتی کو فتنہ و فساد کی آماجگاہ بنا رکھا ہے، جس کی وجہ سے زلزلوں کی کثرت ہے، دن بدن طوفان آرہے ہیں، قتل وخونریزی عام ہے،  گلوبل وارمنگ نے ایسی تباہی مچا رکھی ہے کہ دھرتی پر جینا مشکل ہو رہا ہے، ان دنوں گرمی میں ایسی حدت آئی ہے کہ صرف ہندوستان میں دو ہزار سے زائد لوگ گرمی کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوچکے ہیں۔ اوریہ سب  انسانوں کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، انسان جب نظام الہی  کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالی کبھی کبھی اس دھرتی کو حکم دیتا ہے کہ حرکت کر،  بھونچال مچادے اور زلزلے پیدا کر، یہ در اصل  الٹی میٹم ہوتا ہے، تنبیہ ہوتی ہے تاکہ انسان سنبھل جائے، سدھر جائے اور اپنے احوال کی اصلاح کرلے، جی ہاں! یہ آفتیں اور بلائیں جہاں اللہ کی نافرمانی، منکرات کے ظہور اور قانوں الہی سے پہلو تہی برتنے کا نتیجہ ہیں تو دوسری طرف قرب قیامت کی نشانی بھی ہیں۔ سچ فرمایا صادق و مصدوق ﷺ نے: 
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا، زلزلوں کی کثرت ہوگی، زمانے قریب ہوجائیں گے، فتنوں کا ظہور ہوگا، قتل وغارت گری عام ہوگی اورمال کی بہتات اور فراوانی ہوگی۔ (صحیح البخاری: 1036)
اس حدیث کے تناظر میں جب آپ دنیا کے حالات کا جائزہ لیں گے تو پتہ چلے گا کہ واقعی قیامت قریب ہے کہ آج علم کی کمی پائی جاتی ہے اور جہالت کی بالادستی ہے، زلزلے بکثرت آرہے ہیں،  زمانے سمٹ رہے ہیں اور وقت بہت تیزی سے بھاگ رہا ہے، نت نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں، قتل وخونریزی اس قدر عام ہے کہ گاجر اور مولی کے جیسے انسانوں کو ذبح کیا جا رہا ہے،جانوروں کی قیمت ہے لیکن خون مسلم کی ارزانی ہے۔  اور مال کی بہتات اور فراوانی ایسی ہے کہ اسراف اور فضول خرچی گویا ہماری زندگی کی پہچان بن چکی ہے۔ حقیقت ہے کہ  قیامت کا زمانہ جتنا قریب ہوتا جائے گا مختلف قسم کے فتنے ابھر کر سامنے آئیں گے۔ اور آج ہمارے زمانے  میں یہ فتنے کھل کر سامنے آرہے ہیں جس میں حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھا جانے لگا ہے، ظالم کو ظلم سے روکنے اور مظلوم کی مدد کو زیادتی کا نام دیا جاتا ہے۔
جب فتنے سر اٹھا رہے ہوں تو ایسے حالات میں ایک مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، آج کتنے ایسے لوگ ہیں جو شرک میں مبتلا ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو بدعات و خرافات میں پھنسے ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو نماز سے غافل ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو زنا میں ملوث ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو فحاشی کے رسیا، سودی کاروبار کے دلدادہ اور رشوت کے لین دین میں پیش پیش ہیں۔ کیا ایسے لوگ اللہ کے عذاب سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اس کا عذاب اچانک ان پر رات کے وقت آجائے جب کہ وہ نیند میں مست خرام ہوں؟ یا دن میں آ پڑے جب کہ وہ کھیل کود اور موج مستی میں لگے ہوئے؟ جولوگ الٹی میٹم پانے کے باوجود اللہ کی طرف نہیں لپکتے تو اللہ تعالی کے ہاں ایسے لوگوں کی ہلاکت یقینی ہوجاتی ہے۔
 اسی طرح فتنوں کی بالادستی میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ دین پر ثبات قدمی کے وسائل کو پیش نظر رکھیں جن کی بدولت اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ابھی رمضان کا مبارک مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے، رحمت، مغفرت، جہنم سے آزادی اور ہمدردی و غم خواری کا تحفہ لیے ہوئے رمضان المبارک کا مہینہ دھوم دھام سے آیا ہے، وہ مہینہ کے جس کے لیے عرش سے فرش تک اہتمام ہوتا ہے، وہ مہینہ جو روحانی کائنات کا موسم بہار ہے۔ ہم کس قدر خوش قسمت ہیں کہ یہ موسم بہار ایک بار پھر ہماری زندگی میں عود کر آیا ہے۔ تو آئیے اس ماہ مبارک کا خیر وخوبی سے استقبال کیجیے، اس کے ایک ایک لمحے سے فائدہ اٹھائیے ،  توبہ و استغفار ،انابت الی اللہ ،نالہ نیم شبی  کے ذریعہ اپنے رب کو راضی کیجیے۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق بخشے آمین۔

صفات عالم محمد زبیر تیمی    


مکمل تحریر >>

تاکہ عمرہ مکمل ہوسکے


تاکہ عمرہ مکمل ہوسکے


نظرثانی
ڈاکٹر ناظم سلطان المسباح


اول: فلائٹ میں:
جب فلائٹ میں میقات کی جگہ کا اعلان کیا جائےتب تک عمرہ کرنے والا لباس احرام سے فارغ ہو چکا ہو، اس وقت وہ کہے :  لبيك اللهم عمرة 
ساتھ ہی تلبیہ  پکارنا شروع کردے: لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك  ”میں حاضرہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں ،  بیشک ہرقسم کی تعریف اور تمام نعمتیں تیرے ہی لیے ہیں اور ساری بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے“۔
اور بار بار تلبیہ پکارتارہے یہاں تک کہ مکہ پہنچ جائے۔
دوم: مسجد حرام میں داخل ہوتے وقت:
 دایاں قدم آگے بڑھائے اور کہے:  بسم الله والصلاة والسلام على رسول الله، اللهم افتح لى أبواب رحمتك…أعوذ بالله العظيم، وبوجهه الكريم، وبسلطانه القديم من الشيطان الرجيم جب مسجد حرام کو دیکھے تو کہے: اللھم زد ھذا البیت مهابة  اے اللہ! تو اس گھر کی ہیبت میں مزید اضافہ فرما“۔
سوم:  حجر اسود کے پاس:
 جب طواف شروع کرے تو اضطباع کر رکھی ہو ”دائیں کندھے کو نکال رکھا ہو“ اب حجراسود کو دائیں ہاتھ سے چھوئے اور اگر ممکن ہو سکے تو اسے بوسہ دے، یا اژدحام کی صورت میں اس کی طرف اشارہ کرےاور کہے:   بسم اللہ واللہ اکبر ”شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“۔
چہارم: طواف:
کعبہ کو اپنےبائیں طرف کرے اور  حجراسودسے طواف شروع کرےاور اس بیچ دعا یا ذکر یا تلاوت قرآن جو چاہے کرے۔  اپنے دائیں ہاتھ سے رکن یمانی کو بھی چھوئے، لیکن بوسہ نہ دے ۔رکن یمانی اورحجر اسود کے درمیان یہ دعاکرے:  ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار(سورۃ البقرۃ:201) ”اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔“ اور جب حجر اسود کے پاس پہنچے تو کہے: بسم اللہ واللہ اکبر اور اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرے۔ مردوں کے لیے مسنون ہے کہ اگر ممکن ہو سکے تو پہلے تین چکروں میں تیزی سے دوڑیں۔
پنجم: مقام ابراہیم :
طواف کے سات چکر مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم کی طرف جائے اور کہے: وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ۖ (سورۃ البقرۃ 125)تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو“. اب وہ اپنے کندھے کو ڈھک لے جسے اس نے اضطباع کی شکل دے رکھی تھی، پھر دو رکعت نماز پڑھے،  پہلی رکعت میں سورہ الفاتحہ اور سورہ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورہ الفاتحہ اور قل اللہ أحد پڑھے، پھرحجر اسود کے پاس جائےاور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے: بسم اللہ واللہ اکبر، پھر زمزم  کا پانی  پیئے اور سعی کے لیے صفا کا رخ کرے۔
ششم: سعی:
 جب صفا کے قریب ہو تو یہ آیت پڑھے: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّـهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّـهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ (سورۃ البقرۃ 158) ”صفااور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لیے بیت اللہ کا حج وعمره کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں بھی کوئی گناه نہیں اپنی خوشی سے بھلائی کرنے والوں کا اللہ قدردان ہے اور انہیں خوب جاننے واﻻ ہے“۔
پھر صفا پر چڑھے یہاں تک کہ کعبہ دکھائی دینے لگے، اب وہ قبلہ رخ ہوجائے، اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اللہ کی تعریف بیان کرے اور جو چاہے دعا کرے۔ اللہ کے رسول ﷺ دعا کرتے ہوئے کہتے تھے:
لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله وحده، أنجز وعده، ونصرعبده، وهزم الأحزاب وحده، اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، اس  کا  کوئی شریک نہیں اور ہرقسم کی تعریف اسی کے لیے  ہے،  وہی  زندہ کرتا  اور مارتا ہے،  اور وہ  ہر  چیز پر قدرت  رکھتا ہے۔  اللہ کے سواکوئی معبود برحق نہیں ،اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مددفرمائی اور اکیلے اس نے  تمام سرکش جماعتوں کو شکست دی“ ۔
اسے تین بار دہراتے اور اس کے بیچ دعا کرتے تھے۔
صفا سے مروہ کی طرف اترنا: سبز رنگ کی علامت تک چل کر جائے، پھر وہاں سے دوسری سبزرنگ کی علامت تک  دوڑے اوریہ دوڑنا صرف مردوں کے ساتھ خاص ہے جبکہ خواتین چل کر سعی کریں گی اور اس بیچ دعا، ذکر اور قرآن کی تلاوت کرتی رہیں گی۔
ہفتم: مروہ کے پاس :
مروہ پر چڑھنے کے بعد قبلہ رخ ہوکر وہی  پڑھے جوصفا  پر پڑھی تھی، اس طرح ایک چکر مکمل ہوگیا۔پھر مروہ سے اترتے ہوئے صفا کا رخ کرےحتی کہ سات چکر مکمل کرلے۔ صفا سے مروہ تک جانا ایک چکر شمار ہوگا اور مروہ سے صفا کی طرف آنا دوسرا چکر شمار ہوگا۔ سعی کا آخری چکر مروہ پرختم ہوگا۔
اب یہاں حلق کرانا ہے، مرد مکمل سر کے بال حلق کرائے گایا چھوٹا کرالے گا اورعورت اپنی چوٹی کے  بالوں کوجمع کرکے  انگلی کے ایک پور  کے برابربال  کاٹ لے گی۔اس طرح اب عمرہ مکمل ہوگیا۔
یہ پمفلٹ مرحوم باذن اللہ جاسم محمد الخرافی کے ایصال ثواب کے لیے طبع کیا گیا ہے۔  
(مترجم : صفات عالم محمد زبیر تیمی ) 
مکمل تحریر >>

بدھ, مارچ 01, 2017

ادب کو لازم پکڑیں


ہماری شریعت ہمیں جن امور کی ترغیب دیتی ہے ان میں ایک یہ ہے کہ ہم ادب کو لازم پکڑیں، ادب تین طرح کا ہوتا ہے، اللہ کے ساتھ ادب، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادب اور مخلوق کے ساتھ ادب .
اللہ کے ساتھ ادب یہ ہے کہ اس سے حیا کیا جائے، اس نے جن کاموں کا حکم دیا ہے انہیں کیا جائے اور جن کاموں سے روک دیا ہے ان سے رک جایا جائے، اسی سے مانگا جائے اور اسی سے ڈرا جائے۔ اور جب تک تین چیزیں اس میں جمع نہ ہوجائیں اللہ کے ساتھ ادب مکمل نہیں ہوسکتا، پہلے نمبر پر اللہ تعالی کو اس کے اسماء وصفات کی روشنی میں جانا جائے، اللہ تعالی کے دین اور اس کی شریعت کی جانکاری حاصل کی جائے کہ وہ کس چیز کو پسند کرتا ہے اور کس چیز کو ناپسند کرتا ہے، اور تیسری چیز یہ کہ اپنی طبیعت کو اس بات کے لیے آمادہ کیا جائے کہ حق کو قبول کریں گے اور اس پر عمل کریں گے۔
رسول کے ساتھ ادب یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے، انکے اوامر کی تابعداری کی جائے، ان کی تعلیمات کو قبول کیا جائے اور ان کے حکم کے سامنے کسی کے قول و فعل کو کوئی اہمیت نہ دی جایے۔

اور مخلق کے ساتھ ادب یہ ہے کہ ان کے اختلاف مراتب کے ساتھ بطریق احسن ان سے معاملہ کیا جائے، والدین کے ساتھ ادب، عالم کے ساتھ ادب، اہل وعیال کے ساتھ ادب اور احباب و اخوان کے ساتھ ادب۔ اسی طرح زندگی کے آداب ہیں، کھانے کے آداب، پینے کے آداب، سواری کے آداب، گھر سے نکلنے اور داخل ہونے کے آداب، سونے کے آداب، جاگنے کے آداب، قضائے حاجت کے آداب، گفتگو کے آداب غرضیکہ پورا دین ادب کا نام ہے۔ کیونکہ دین اسلام اپنی محکم تعلیمات اور ٹھوس ارشادات میں بلند آداب پر مشتمل دین ہے۔ 
مکمل تحریر >>

ہفتہ, فروری 04, 2017

کینسر اور اسلامی تعلیمات


آج ہم ایک ایسی خطرناک بیماری کے بارے میں بات کریں گے جو انسانی سماج کی مایوس کن اور لاعلاج بیماری سمجھی جاتی ہے، یہ وہ خطرناک بیماری ہے جسے ہم کینسر کے نام سے جانتے ہیں۔ چار فروری کو پوری دنیا کینسر کا عالمی دن مناتی ہے، اس دن کینسر کے اسباب، اس کی خطرناکی اور اس سے بچنے کے وسائل پر گفتگو کی جاتی ہے، مختلف کانفرنسیز، ورکشاپس، مباحثے اور پروگرامز منعقد ہوتے اور تجاویز پاس کی جاتی ہیں۔ کینسر کیوں ہوتاہے، کینسر کے اسباب کیا ہیں، اس حوالے سے میڈیکل سائنس کی کیا پیش رفت ہے، ان نکات پر ہم گفتگو نہیں کریں گے بلکہ کچھ شرعی تعلیمات  پیش کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ جو لوگ اس بیماری سے محفوظ ہیں ان کے لیے سودمند ہوسکیں اور جو لوگ اس کے شکار ہیں ان کے لیے مشعل راہ بن سکیں۔
کینسر کے مختلف اسباب میں سے ایک سبب ہے موٹاپے پر دھیان نہ دینا اور کھانے پینے میں اعتدال کو ملحوظ نہ رکھنا، اسی لیے اسلام نے ورزش پر ابھارا اور پنجوقتہ نمازیں ورزش کا بہترین ذریعہ ہیں، اسی طرح کم خوری کی تاکید کی، سنن ترمذی کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما ملأ آدميٌّ وعاءً شرًّا من بطنٍ، بحسبِ ابنِ آدمَ أكلاتٍ يُقمنَ صُلبَهُ، فإن كان لا محالةَ : فثلُث لطعامِه، وثُلُثٌ  لشرابِه وثُلُثٌ لنفَسِه ( سنن الترمذي: 2380)
سگریٹ نوشی، نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنا بھی کینسر کا سبب بنتا ہے، اسی لیے اسلام نے نشہ لانے والی ہر شے کو بالکلیہ حرام ٹھہرایا، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے قاعدہ یہ بتایا کہ
 كلُّ مُسكِرٍ خَمرٌ . وَكُلُّ خَمرٍ حرامٌ  (صحیح مسلم: 2003)
ما يُصيبُ المُسلِمَ، مِن نَصَبٍ ولا وَصَبٍ، ولا هَمٍّ ولا حُزْنٍ ولا أذًى ولا غَمٍّ، حتى الشَّوْكَةِ يُشاكُها، إلا كَفَّرَ اللهُ بِها مِن خَطاياهُ ( صحیح البخاری: 5641)
أَبشِري يا أمَّ العلاءِ ! فإنَّ مرضَ المسلمِ يُذهِبُ اللهُ به خطاياه كما تُذهِبُ النَّارُ  خبَثَ الذَّهبِ والفضةِ .( صحیح الترغیب: 3427)
 إنَّ عِظمَ الجزاءِ مع عِظمِ البلاءِ ، وإنَّ اللهَ إذا أحبَّ قومًا ابتَلاهم ، (سنن الترمذي: 2396
 من يُرِدِ اللَّهُ بِه خيرًا يُصِبْ مِنهُ (صحیح البخاری: 5645  (
" إن شئتِ صبرتِ ولكِ الجنةُ . " ( صحیح البخاری: 5652، صحیح مسلم: 2576)
 يودُّ أَهلُ العافيةِ يومَ القيامةِ حينَ يعطى أَهلُ البلاءِ الثَّوابَ لو أنَّ جلودَهم كانت قُرِضَت في الدُّنيا بالمقاريضِ (صحيح الترمذي: 2402)
 "انسان جن برتنوں کو بھرتا ہے ان میں پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں، آدم کی اولاد کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے وہ اپنی پیٹھ سیدھی رکھ سکے، اگر کھانا ہی چاہتا ہے تو ایک تہائی میں کھانا کھائے ایک تہائی میں پانی پئیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رہنے دے"۔
 "ہر نشہ آور شے شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے"۔
غرضیکہ صحتمند اور متوازن عذا کا استعمال نہ کرنا، جسمانی ورزش (exercise) پر دھیان نہ دینا۔ ماحولیاتی آلودگی، اپنوں سے دوری اور ڈپریشن کینسر کا اہم سبب ہے ۔
البتہ جو بھائی یا بہن کینسر کے شکار ہوچکے ہیں، انہیں میڈٰکل علاج کے ساتھ شرعی علاج پر بھی دھیان دینا چاہیے، کیونکہ طبی دواؤں کا اثر کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا لیکن شرعی علاج کا فائدہ بہرحال مل کر رہتا ہے، چاہے جس انداز سے ملے۔ ذیل کے سطور میں اس حوالے سے چند باتیں پیش خدمت ہیں:
روحانی علاج:
اللہ کی ذات سے شفا کا پختہ یقین:
کیونکہ ایمان کا شفا سے گہرا تعلق ہے، ابراہیم علیہ السلام کی زبانی اللہ تعالی نے فرمایا:
وإذا مرضت فهو يشفين  (سورة الشعراء:80)
"جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے وہی شفا دیتا ہے"۔
اس آیت کریمہ میں پورے یقین واعتماد سے ساتھ ابراہیم علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ شفا دینے والی ذات صرف اللہ رب العالمین کی ہے، اس کے علاوہ دنیا کی کوئی ذات شفا نہیں دے سکتی۔ مریض کا جتنا ایمان مضبوط ہوگا اسی کے تناسب سے اس کی بیماری میں کمی آئے گی۔ بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد ہی نہیں بلکہ بیماری کا شکار ہونے سے پہلے بھی بندے کو اللہ کی ذات پر توکل رکھنا چاہیے۔
روحانی علاج میں دوسری چیز دعا ہے، اللہ سے شفا کی دعا کرنا مزمن بیماریوں سے شفایابی کا بہترین وسیلہ ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
 وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمنون : آية 60 )
"تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا"۔ اس طرح جب بندے کا ایمان مضبوط ہوتا ہے پھر دل سے دعا نکلتی ہے تو ایک بندے کو دھیرے دھیرے قوت اور صحت حاصل ہونے لگتی ہے۔
روحانی علاج میں تیسری چیز جھاڑ پھونک کا اہتمام کرنا ہے، اور جھاڑ پھونک میں تین شرطوں کا پایا جانا نہایت ناگزیرہے۔ دم عربی زبان میں ہو یا ایسے کلمات سے ہو جس کا مفہوم سمجھ میں آتا ہو، کلام الہی سے ہو، یا اللہ تعالی کے اسماء وصفات سے ہو اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ جھاڑ پھونک بذات خود اثر انداز نہیں ہوتے بلکہ شفا دینے میں محض اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے آئیڈیل ہیں جنہوں نے مختلف بیماریوں میں جھاڑ پھونک کیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس پر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب آپ مرض الموت میں تھے اور تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ کے ہاتھوں کو آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ اس نیت سے کہ آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ برکت والا تھا۔
 روحانی علاج میں تیسری چیز صدقہ وخیرات کا اہتمام کرنا ہے۔ مریض کے لیے بالخصوص ایسا مریض جس کی بیماری لاعلاج ہو صدقہ اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دَاوُوا مَرضاكُمْ بِالصَّدقة  ( صحیح الجامع: 3358)
"صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو"۔ 
اللہ والوں نے ہردور میں اپنی مصیبت اور بیماری سے نجات کے لیے صدقہ و خیرات کیا ہے اور انہیں اس کے جسمانی اور روحانی فائدے بھی حاصل ہوئے ہیں۔ اس لیےاگر آپ نے ہر طرح کے علاج کا تجربہ کرلیا ہے اورعلاج کرتے کرتے  تھک چکے ہیں تو اب صدقہ کے ذریعہ بھی علاج کا تجربہ کریں۔ آپ نے یوں تو بہت صدقہ کیا ہوگا، لیکن ابھی اس نیت سے صدقہ کریں کہ اللہ پاک ہمیں فلاں بیماری سے نجات دے یا ہمارے رشتے دار کو فلاں بیماری سے عافیت عطا فرما۔ اللہ نے چاہا تو اس کا اثر ضرور دیکھیں گے۔
علاج کی دوسری قسم نفسیاتی علاج ہے۔ مریض کی عیادت کے لیے جانا، اس کے پاس بیٹھنا اور اس کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کرنا عجیب طریقے سے بیماری میں کمی لانے کا سبب بنتا ہے۔ مریض اپنے قریبی رشتے داروں کی دیکھ ریکھ اور نگہداشت کا محتاج ہوتا ہے، اور جب لوگ اس کے پاس عیادت کے لیے جاتے اور اس کے غم میں شریک ہوتے ہیں تو اس کی بیماری ہلکی ہونے لگتی ہے۔ اور اسلام نے بیماروں کی عیادت پر ابھارا ہے اور بیمار پرسی کی بیحد اہمیت بیان کی ہے۔  اسی لیے ایک کمزور حدیث میں آتا ہے جس کا معنی صحیح ہے کہ "جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو کچھ درازیٔ زندگی کی بات کرکے اس کا غم دور کرو  کیونکہ یہ گفتگو تقدیر کو رد نہ کرے گی البتہ اس کا دل خوش ہوجائے گا". (سلسلة الأحاديث الضعيفة :184)
اخیر میں ان بھائیوں اور بہنوں کے نام میرا پیغام ہوگا جو کینسر یا اس جیسی کسی دوسری مایوس کن بیماری میں مبتلا ہیں، دنیا سے ان کی امیدیں کٹ چکی ہیں، موت کو قریب دیکھ رہے ہیں، بیماری کی شختی تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے، ایسے بھائیوں اور بہنوں سے ہم کہیں گے کہ آپ اس بیماری میں اللہ اور اس کے رسول کی بشارت قبول کیجیے، کوئی بھی بیماری ایک بندہ مومن کے لیے بھلائی ہی لاتی ہے۔ صحیح بخاري کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 "مسلمان کو کوئی بھی بیماری، تکلیف، تھکاوٹ، غم، پریشانی یا ایذا وغیرہ لاحق ہو یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھ جائے تو اس کے بدلے اللہ تعالی اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے"۔
 اور سنن ابی داؤد کی روایت ہے، ام العلاء رضي الله عنها بیان کرتی ہیں کہ  اللہ کے رسول میری بیماری کی حالت میں میری عیادت کے لیے آئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا:
 "ام علاء تمہیں بشارت ہو، کیونکہ مسلمان کی بیماری کے سبب اللہ تعالی اس کے گناہوں کو ویسے ہی ختم کردیتا ہے جیسے آگ سونا اور چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے"۔
 کینسر کا مریض تو اللہ کا محبوب ہوتا ہے کیونکہ ہمارے آقا نے فرمایا:
يعنی جتنی بڑی مصيبت ہوگی اُتنا ہی بڑا ثواب ملے گا اور اللہ تعالی بندے سے جس قدر محبت کرتا ہے اسی قدر اسے آزماتا ہے۔
اس لیے ہميں سمجھ لينا چاہيے کہ اللہ تعالی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہميں آزماکراپنا مقرب بنانا چاہتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے مصيبت ميں گرفتار کرديتا ہے۔"
 گويا کہ آپ کا مصيبت سے دوچار ہونا آپ کے لئے نيک فال ہے، حب الہی کی علامت ہے۔ بلکہ اس کے بدلے آپ کے لیے جنت کی بشارت ہے۔ کیا آپ نے اس مرگی کی شکار خاتون کا قصہ نہیں سنا جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اپنی بیماری کی شکایت کرتے ہوئے دعا کی درخواست کی تھی توآپ نے اسے فرمایا:
"اگر تم صبر کرو تو تمہارے لیے جنت ہے"۔
اور صبر کرنے والوں کو بے حساب اجروثواب دیا جائے گا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِساب۔
مریض بھائی اور بہن! اس دھرتی پر پیدا ہونے والے لوگوں میں سب سے افضل انبیاء ہیں ان کو سب سے زیادہ آزمایا گیا، کیوں؟ اس لیے کہ آزمائش کے بعد ہی مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ سنن ترمذی کی یہ حدیث سنئے: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الصالحون ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الرجل على حسب دينه فإن كان في دينه صلباً اشتد به بلاؤه وإن كان في دينه رقة ابتلي على قدر دينه فما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشي على الأرض وما عليه خطيئة۔ ( سنن الترمذی: 2398)  
فرمایا: انبیاء علیہم السلام کی، پھر جو ان سے قریب تر ہو، پھر جو ان سے قریب تر ہو، آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، لہذا اگر وہ اپنے دین میں پختہ ہو تو اس کی آزمائش بھی کڑی ہوتی ہے، اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اسے اس کے دین کی بقدر آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، اور آزمائش بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کو ایسا کرکے چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر ایسی حالت میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں رہتا۔
یاد رکھیں کہ مومن خوشی ہو یا غم ہو ہر حالت میں اپنے رب کے فیصلہ سے راضی رہتا ہے کیونکہ اس کا رب اس کے حق میں غلط فیصلہ کیسے کر سکتا ہے۔ آپ یہاں جن نعمتوں سے محروم ہیں یا جن آزمائشوں کے شکار ہیں کل قیامت کے دن ان کے بدلے ایسا اکرام دیکھیں گے کہ دنیا کے صحتمند لوگ اسے دیکھ کر ترسیں گے کہ کاش ہماری کھال بھی کیجیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 "قیامت کے دن جب مصیبت زدہ ثواب سے نوازے جائیں گے (تو یہ دیکھ کر) صحت اور آرام والے خواہش کریں گے کہ کاش! دنیا میں ان کے چمڑے قینچیوں سے کاٹ دیے جاتے (تاکہ آج وہ بھی بڑے ثواب کے حقدار ہوتے)۔ ''
اس لیے صبر سے کام لیں، بکثرت  دعائیں کریں، فرائض و نوافل کا اہتمام کریں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، اگر ممکن ہوسکتا ہو تو صدقہ و خیرات کریں اور ہر حالت میں اللہ تعالی سے حسن ظن رکھیں۔ و صل اللھم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔ 
مکمل تحریر >>