جمعرات, جنوری 02, 2014

جمعہ کے دن کا جمعہ نام کیسے پڑا ؟

سوال: 

جمعہ کے دن کا جمعہ نام کیسے پڑا   اور جمعہ کے دن کی اہمیت کیا ہے ؟  (ایوب پٹیل -  فروانیہ)

جواب: 

جمعہ کا نام جمعہ کیسے پڑا،  اس سلسلے میں متعدداقوال ہیں ۔جمعہ کے لغوی معنی اکٹھا ہونے کے ہیں ،بعض کہتے ہیں کہ چونکہ زمانہ جاہلیت میں جمعہ کے دن کو عروبہ کہتے تھے ۔جب جمعہ کی فرضیت ہوئی اور صحابہ کرام نماز جمعہ کے لیے اکٹھا ہوئے تو لوگوں نے  اس  دن کو جمعہ کے نام سے موسوم کردیا ۔ بعض کہتے ہیں کہ جمعہ کو جمعہ اس لیے کہتے ہیں کہ لوگ اس دن نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں ۔
اسلام میں جمعہ کے دن کی بہت فضیلت ہے ۔اور جمعہ عیدیں سے بھی افضل ہے ۔ اللہ کے رسول نے فرمایا : خیریوم طلعت فیہ الشمس یوم الجمعة  "سب سے بہتر دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں بتایا گیا ہے:
" جمعہ کا دن سارے دنوں کا  سردار اور اللہ کے نزدیک عظیم دن ہے ۔یہ دن اللہ کے نزدیک عیداور بقرہ عید کے دن سے بھی افضل ہے ۔اس میں پانچ خصلتیں پائی جاتی ہیں ،اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے ، اسی دن زمین پر اتارے گئے ،اسی دن آدم علیہ السلام وفات پائے ، اور اس دن ایک ایسی ساعت ہے جس میں ایک آدمی حرام کے علاوہ جو کچھ مانگتا ہے اللہ پاک اسے عطا کرتے ہیں ۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی ....حدیث کے اخیر میں ہے:
ما من ملک مقرب و لا أرض ولا ریاح و لا بحر و لا شجر ، إلا وھن یشفقن من یوم الجمعة
 " جمعہ کے دن کی ہیبت سے مقرب فرشتے، زمین ، ہوائیں ،سمندر ، پہاڑ، اور درخت سب کے سب کانپتے ہیں" ۔ 
(علامہ البانى رحمہ الله نے اسے صحيح الترغيب 695، صحيح سنن ابن ماجہ اور  صحيح الجامع 4043، میں  حسن قرار  ديا  تها پهر  رجوع  كرليا  اور "السلسلة الضعيفة" نمبر 3726 اور  ضعيف الترغيب 424 میں اسے ضعيف قرار ديا  ہے ۔)
مکمل تحریر >>

رضاعی بھائی بہن کی آپس میں شادی حرام ہے

 سوال:

 ایک لڑکا اور لڑکی نے كسى عورت کا دودھ پیا ہے ،کیا  وہ  دونوں  اب آپس میں شادی کے رشتے سے منسلک ہوسکتے ہیں جبکہ  عورت دونوں کی حقیقی ماں نہیں ہے ۔ (وقاص- كويت )

جواب :

حرمت جس طرح نسب اور مصاہرت سے  ثابت ہوتی ہے، اسی طرح رضاعت (دود ھ پینے ) سے بھی ثابت ہوتی ہے ، چونکہ دونوں  نے ایک ہی عورت کا دودھ پیا ہے اس ليے دونوں رضاعی بھائی بہن ثابت ہوئے اور اللہ تعالی نے محرمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: 
 وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ  ( سورة النساء 23)
 یعنی دودھ شریک بہنیں تم پر حرام ہیں یعنی ان سے شادی نہیں کرسکتے ۔ اور پیارے نبی نے فرمایا
يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة (بخارى ومسلم)  
جو حرمت نسب سے ثابت ہوتی ہے وہی رضاعت سے بھی ثابت ہوتی ہے ۔ لہذا دونوں کی آپس میں قطعاً شادی نہیں ہوسکتی ۔ 
مکمل تحریر >>

بدھ, جنوری 01, 2014

فوت شدگان كى طرف سے فاتحہ یا چالیسواں ،یا دسواں یا ساتواں كر نے كا كيا حكم ہے؟

سوال: 

فوت شدگان كى طرف سے  فاتحہ یا چالیسواں ،یا دسواں یا ساتواں كر نے كا كيا حكم ہے؟

 جواب:

اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں آپ کے کتنے عزیز کی وفات ہوئی، آپ کی ہردلعزیز بیوی خدیجہ رضى الله عنها بھی فوت پائیں ۔ لیکن آپ نے ان کا فاتحہ یا چالیسواں ،یا دسواں یا ساتواں نہیں کیا ۔ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے زندگی کے سارے شعبے میں ہماری رہنمائی کردی ۔لیکن اِس سلسلے میں ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے ۔ اب بتائیں کہ کیا یہ چیزیں اِتنی بڑی تھیں کہ قرآن وحدیث میں نہیں آسکتی تھیں ؟ اس لیے اصولی بات یہی ہے کہ 
من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد (متفق عليه)
 " جس نے میری شریعت میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے" ۔ یہ بخاری ومسلم کی روایت ہے اور صحیح مسلم میں یوں ہے: 
من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھو رد (رواه مسلم)
"جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہماری شریعت کے مطابق نہیں وہ مردود ہے" ۔ اس لیے ہمیں وہی کرنا چاہیے جو پیارے نبی صلى الله عليه وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے کیا ہے
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ  يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَاللَّـهَ كَثِيرًا  ( الأحزاب: 21)  
" در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے ."
مکمل تحریر >>

میرے والد مجھ سے زیادہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں

سوال:  

میری تنخواہ  کم  ہے لیکن میرے والد مجھ سے زیادہ  رقم  کا مطالبہ کرتے ہیں ،میں کیا  کروں؟  (تبریز احمد اعظمی)

جواب:  

ماں باپ کا ہم پر بہت بڑا حق ہے ،اللہ کے نبی نے ایک شخص سے تو یہاں تک کہا تھا کہ:
 أنت ومالک لأبیک (رواه ابن ماجه واحمد )
 "تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کاہے "۔ لیکن یہ اس بات سے مانع نہیں کہ آپ جو کچھ کمارہے ہیں اس میں سے کچھ اپنے پاس بھی رکھیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کی ضروریا ت کا بھی خیال کریں ۔ آپ یہاں کیسی پریشانیاں جھیل کر کمارہے ہیں والدصاحب کو اس  کا  احساس دلائیں اور پیار  سے ان کو سمجھائیں ،کبھی کبھی غلط فہمیاں ہوتی ہیں ،جب دورہوجائیں گی تو زیادہ پیسے کا مطالبہ نہ کریں گے ،لیکن ہرحالت میں ان کے جذبات کا خیال کریں ، ان کا دل نہ ٹوٹنے پائے ۔ 
مکمل تحریر >>