اتوار, دسمبر 08, 2013

اے الله! ان کے حق میں میری دعا قبول کر لے

 اے الله! ان کے حق میں میری دعا قبول کر لے 
اس دنیا میں کوئی انسان  ہمیشہ رہنے کے ليے نہیں آیا، آج  اچانک یاد آنے لگی اپنے گزرے ہوئے رشتے داروں کى،  دادی صاحبہ كى... جو ميرى  پیدائش سے پہلے ہی وفات پا گئیں،  دادا  اور نانا  صاحبان كى جنهوں نے میرے بچپنے میں جان جان آفريں کے سپرد کردیں ،   نانی جان كى... جن کا میری تربیت میں کلیدی رول رہا،  اور والدمحترم كى جن کی وفات کو چار سال ہو گيے ، دو پھوپھيوں ، دو چهوٹی بہنوں كى جوبہت پہلےآخرت سدهار گئیں  اورمنجهلى  بہن رحمت باجی كى... جو اپنی جوانی کے ایام میں ہی ایک بیٹی " افسانہ"  كو چھوڑ کرداغ مفار قت دے گئیں...رشتے داروں کى فہرست میں سب سے چهوٹے دادا محمد یاسین صاحب   اور ماسٹر وصی اختر چچا كى بهى ياد آئى جن میں اول الذکر تین ماہ قبل اور ثانى الذكر دو سال پہلے اچانک وفات پاگيے  
اپنے گزرے ہوئےاساتذه كرام كى بهى ياد ستانےلگی، محترم شیخ کفایت اللہ کیفی مدنى ، شیخ مطيع الرحمن  مدنی اور شیخ صدرعالم سلفی ...رحمة الله عليهم اجمعين جن کے خوان علم سےراقم سطور ایک عرصہ تک خوشہ چینی کرتا رہا. ان سب کی ایک ایک کر کے یاد آنے لگی، ہر ایک کی خوبیاں دل کے پردے پر مرتسم ہونے لگیں، لیکن اب وہ اپنے رب کے پاس پہنچ چکے ہیں.... ان سب کو اگر ہم کوئی تحفہ دے سکتے ہیں تو دعا کا تحفہ ہے ، ان سب کے ليے الله رحمن ورحيم اور رب غفور سے دعا کرتے ہیں کہ
 اے اللہ! ان سب کی مغفرت فرما، ان پر رحم فرما، ان کونعمتوں بھری جنت میں داخل فرمادے، بارالہا ! تو شفقت کرنے والا، احسان کرنے والا اوروسیع مغفرت کرنے والا ہے، ان کو بخش دے، ان پر رحم فرما، ان کو معاف فرما، ان کو عافیت دے ، ان کی مہمانی عزت کے ساتھ کر، ان کی قبر کو کشادہ کردے، ان کے گناہ کو پانی، برف اوراولے سے دھل دے، ان کو گناہوں سے اس طرح صاف کردے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیاجاتا ہے۔ اے اللہ ! ان کو جنت میں داخل کردے اوران کو عذاب قبر اورعذاب جہنم سے بچا ۔ اے اللہ ! ان کے احسان کا بدلہ احسان سے دے، اوران کی برائی کا بدلہ عفوودرگذر سے عطا فرما ۔ اے اللہ ! ان کی تنہائی میں توان کی دلجوئی فرما، اوران کی وحشت دور کردے، ا ے اللہ ! ان کا استقبال مبارک طریقے سے فرما، تو بہتر استقبال کرنے والا ہے ۔ اے اللہ ! ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں عطا فرما، ان کا حساب آسان کردے، ان کے نامہ اعمال کو نیکیوں سے بھاری کردے، پل صراط پر ان کوثابت قدم رکھ ، اور جنت کے اعلی درجات میں اپنے نبی محمد صلى الله عليه وسلم کے جوار میں ان کو جگہ نصیب فرما۔ آمین


مکمل تحریر >>

جمعرات, دسمبر 05, 2013

رسوئی گیس سلینڈر اور FIRE EXTINGUISHER کا استعمال


رسوئی گیس سلینڈر پٹرول کے مائع گیس پر مشتمل ایسا مادہ ہوتا ہے جو گھریلو استعمال کے لیے توانائی کابنیادی ذریعہ ہے،اس لیے اس کی ذخیرہ اندوزی اوراس کے استعمال کرنے کے طریقے نيز گیس سلينڈر اورچولہے اور اس سے متعلقہ وائر کی صفائی میں احتیاط برتنا بہت ضروری ہے ۔
اس ضمن میں مندرجہ ذیل امور کالحاظ رکھنا نہایت ناگزیر ہے :
(1) چولہے اورگیس ریگولیٹر کو ہمیشہ کھلا چھوڑے رکھنے سے گیس پھیل سکتا ہے جس کے سبب سے آتشزدگی کے واردات ہوسکتے ہیں ۔
(2) سلینڈر کو چولہے سے قریب رکھنے سے بسااوقات سلینڈر کا درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے اوراس کے نتیجہ میں سلینڈر میں گیس پھیلنے کا امکان ہے پھر گیس باہر کی طرف پھینک سکتا ہے ۔
(3) چولہے کی صفائی میں سستی برتنا  اوراسےمسلسل صاف  نہ كرنا چکنائی اور تیل کے جمع ہونے سے رسوئی خانہ میں آتش زدگی کا سبب بن سکتا ہے ۔
 (4)  بچوں کا بغیر نگرانی کے رسوئی خانہ میں موجود ہونا اورچولہے کو چھیڑ چھاڑ کرنا حادثے کا سبب بن سکتا ہے ،لہذا ان کو رسوئی گھر میں داخل ہونے سے منع کرنا  ضروری ہے ۔
 (5)  گیس سلینڈر کے غلط استعمال میں یہ داخل ہے کہ گیس سلینڈر کو زمین پر لٹا کر استعمال کیاجائے ۔ اس سے سلينڈر کی مضبوطی اورسلامتی میں کمی آتی ہے ۔
(6) سلینڈرکے منہ کے سرے پر ٹیشو پیپر  یا  لوہے کے ٹکڑے رکھنا بہت بڑی غلطی ہے جس سے گیس نکلنے اور سلینڈر کے سرے کے تلف ہونے کا اندیشہ ہے ۔
گھرمیں گیس پھیلنے کی حالت میں گھرکی سلامتی کی خاطر چندامور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے :
(7) بجلی کی کسی بھی لائٹ کو آن نہ کریں ، تاکہ کسی طرح کی شعلہ زنی یا حرارت پیدا نہ ہو جو گیس کے پھٹنے کا سبب بنے ۔
(8)   دروازوں اور کھڑکیوں کوکھول کر ہوا کو نکالنے کی کوشش کریں تاکہ گیس سے نجات مل سکے ۔
(9)  گیس ریگولیٹر اوربرنر کا لاک اچھی طرح بند کردیں ۔
(10) جہاں گیس پھیلا ہے وہاں کا سامان ہٹا کر جگہ خالی کردیں ۔
  (11)  گیس کو استعمال کرنے کے بعد ا ور گھر سے نکلتے وقت گیس کے ریگولیٹر کو بند کردیں ۔
(12)  چولہے ،برنر ، گیس پائپ لائن ، اور ہوزیز کی صفائی ستھرائی کا ہمیشہ اہتمام کریں۔
(13)  گیس سے باخبر کرنے والا آلہ رسوئی گھر میں رکھنا چاہیے تاکہ گیس پھیلتے ہی وہ باخبر کرسکے ۔
(14) سلینڈر کو سیدھاکھڑا کرکے استعمال کریں کہ ریگولیٹر اوپر کی جانب ہو ،کیونکہ ایسی حالت میں اگر گیس میں بھاپ وغیرہ پیدا ہوا تو خطرے سے بچاجاسکتا ہے ۔ اگر سلینڈر کو زمین کی سطح پر کردیاجائے تو اس سے گیس نکلنے کے سبب خطر ے کا اندیشہ ہے ،کیونکہ ایسی حالت میں چولہے سے چنگاری نکل کر آتشزدگی کا حادثہ ہوسکتا ہے ۔
(15) سلینڈر کو صحیح طریقے سے اٹھائیں اور بھریں، غلط انداز میں اٹھانے اوربھرنے سے پرہیزکریں تاکہ خطرے سے  بچا  جاسکے اور سلینڈر حاصل کرنے سے پہلے اس کے صحیح سلامت ہونے کا یقین حاصل کرلیں ۔


 آگ بجھانے کے آلہ (FIRE EXTINGUISHER) کا استعمال

ہدایات اورتجاویز

(1)FIRE EXTINGUISHER کی قابلیت اور پاور کے تئیں معلومات رکھنا ضروری ہے ،کیونکہ اگر آتشزدگی کا حادثہ پیش آجائے تو اللہ کی اجاز ت سے اس سے بچاؤ حاصل کرنے کا واحد ذریعہ یہی ہے۔
(2) FIRE EXTINGUISHER پر موجوداشارہ پر نظر رکھیں ،اسی طرح اس کا وزن بھی دیکھتے رہیں ۔
(3) FIRE EXTINGUISHER پر درج حفاظتی تاریخ پر دھیان رکھیں ۔
(4) FIRE EXTINGUISHER کی حفاظتی کاروائی اور اس کے بچاؤکے لیے ہر چھ ماہ پر اس سے متعلقہ کمپنی کو فون کریں ۔

آتش زدگی کے جائے حادثہ پر موجود لوگوں کے لیے آگ بجھانے اوراس کو کنٹرول میں کرنے کے لیے  FIRE EXTINGUISHERپہلی دفاعی لائن ہے ، جس کے ذریعہ آگ کے پھیلنے اوراس میں اشتعال پیدا ہونے سے پہلے تک آگ پر قابو پایاجاسکتا ہے ۔ اس لیے کوئی بھی جگہ مناسب FIRE EXTINGUISHER سے خالی نہیں ہونی چاہیے ، کیونکہ یہ آتشزدگی کے آغاز میں اللہ کی مشیت سے آگ پر کنٹرول رکھنے میں بے انتہا اہمیت کاحامل  ہے ۔

 FIRE EXTINGUISHER کے استعمال کا طریقہ :

(1) FIRE EXTINGUISHER پر درج رہنمائی اور تجاویز کو پہلے پڑھ لیں اور مناسب FIRE EXTINGUISHER اختیار کریں۔
(2) آگ سے مناسب دوری پر کھڑے ہوجائیں اور ہمیشہ ہوا کی سمت میں رہیں ۔
(3) FIRE EXTINGUISHER سے سیفٹی والو کی کیل کو کھینچیں ۔
(4) نوزل کو دہکتی ہوئی آگ کی سمت میں کردیں ۔
(5) آپریٹنگ بٹن کو دبائیں ۔
(6) آگ کو بجھانے کے لیے نوزل کو دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کی طرف گھمائیں ۔
(7) دہکتی ہوئى آگ کو بجھانے کے بعد آگ کی طرف چہرہ کئے ہوئے تین قدم پیچھے کی طرف لوٹیں اور کچھ دیر تک انتظار کریں تاکہ لوٹنے سے پہلے آگ کے بجھنے کا یقین حاصل ہوجائے ۔
مکمل تحریر >>

بدھ, دسمبر 04, 2013

خود ميں استعداد پيد ا کریں لوگ آپ کو اپنی آنکھوں کا تارہ بنائيں گے

ہرانسان کو اپنے اپنے میدان میں سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ،کتنے لوگ اپنے کام کو غلط طریقے سے دس گھنٹے میں کرتے ہیں حالانکہ اسے سیکھنے کے بعد صحيح طریقے سے ایک گھنٹے ميں کرسکتے تھے، ایک ملازم کو اپنی ملازمت میں معاون معلومات کی ضرورت ہوتی ہے ، ملازمت سے محروم انسان کو خود میں استعداد پیدا کرنے اور تجربہ حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اگر آپ ملازم ہيں تو کب تک  كام کو ایسے تيسے  کرتے رہیں گے، اور اگر آپ ملازمت سے محروم ہیں تو کب تک گارجين، قوم اورملک کے سر الزام ڈالتے رہيں گے ، سيکھنے  کی کوشش کریں ،کمی کی تلافی کریں ، خود ميں  استعداد پيد ا کریں، پھردیكهيں کيسےلوگآپ کو اپنی آنکھوں کا تارہ بناتے ہيں ۔
مکمل تحریر >>

سیرت طیبہ کا مطالعہ کیوں كريں؟


وقت کا سب سے بہتر استعمال یہ ہے کہ ہم انسانی تاریخ کی سب سے عظیم ہستی اور اپنے حبیب کے بارے میں جانیں جو کل قیامت کے دن ہمارے سفارشی ہیں، جو ہمارے نزدیک ہمارے ماں باپ اورہماری اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں ،بلکہ ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔
 وہ ہمارے آقا ہیں ،اگر وہ نہ ہوتے توآج ہم پتھروں کی پوجا کرتے ہوتے ،ان کے بارے میں گفتگو دل لگی کے لیے نہیں بلکہ اطاعت اور اقتداءکرنے کے لیے ہے کہ ان کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے ، ان کی اطاعت دخول جنت کا سبب ہے ، اوران کی نافرمانی جہنم میں داخلے کا موجب ہے۔
 ان کے بارے میں کیوں نہ جانیں کہ سارا دین انہیں تک پہنچتا ہے،قرآن اگر پیغام ہے توہمارے حبیب کی زندگی اس کی عملی تطبیق ہے ، قرآن اگر تھیوری ہے تو ہمارے حبیب کی زندگی ایک پریکٹیکل نمونہ ہے۔تب ہی تو مائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہاتھا :
 کان خلقہ القرآن (مسلم)
”آپ کا اخلاق سراسر قرآن تھا“۔یعنی آپ قرآن کے چلتا پھرتا نمونہ تھے۔گویاقرآن کو سمجھنے کے لیے سیرت کو سمجھنا بیحدضروری ہے۔
ان کے بارے میں کیوں نہ جانیں کہ ان کی ساری زندگی ہمارے لیے اسوہ اورنمونہ ہے:
 لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللَّہِ اُسوَةحَسَنَة )سورة الاحزاب 21)
 ” تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
جی ہاں! ہرانسان اس دنیا میں اپنے لیے ایک آئیڈیل کا ضرورت مند ہوتا ہے اورہمارے حبیب کی زندگی سے بہترآئیڈیل نہ دنیامیں ہے اورنہ ہوسکتا ہے۔ آپ دولت مند ہوں،یا غریب ہوں، بادشاہ ہوں یا رعایا ہوں،استاذہوںیاشاگردہوں، داعی ہوں یا تاجر ہوں، باپ ہوں یا شوہر ہوں، صاحب اولاد ہوں یا بے اولاد ہوں غرضیکہ آپ جو بھی ہوںآپ کے لیے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین آئیڈیل اورنمونہ ہے۔
پھر جب ہم سیرت کا مطالعہ کررہے ہوں تو اس کے ایک ایک نکتہ پر غور کریں اور اس سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں کہ یہی ہمارے لیے مشعل را ہ ہے۔

عالمگیر نبی اور ہمہ گیر دعوت:

جس عظیم انسان کی سیرت طیبہ ہم بیان کریں گے وہ صرف مسلمانوں کے پیغمبر نہیںبلکہ ساری انسانیت کے لیے رہنمااورقائد ہیں ،یہ الگ بات ہے کہ لوگ ان کو پہچان نہیں رہے ہیں، آپ خودغورکیجئے کہ اِس دنیا میں جتنے بھی مذاہب کے پیشوا گذرے ہیں ان کی تعلیم اور ان کی سیرت ہم تک قابل اعتماد اور مستندذرائع سے نہیں پہنچی۔ پچھلے انبیاءکی سیرت کو ہی لے لیجئے،اس کی معلومات ہمیں بائبل سے مل سکتی تھی،لیکن تورات ہو ،یا زبور ہو یا انجیل آج اپنی اصلی شکل میں باقی نہیں، ان کے علاوہ دوسرے مذاہب کی طرف جھانک کر دیکھیں تو ان کی تعلیمات خود اپنی بنائی ہوئی ہیں اوران کے پاس بھی کوئی ایسا پیشوا نہیں ہے جس کی زندگی مستندشکل میں ہم تک پہنچی ہو اورجو سارے انسانوں کے لیے آئیڈیل بن سکتے ہوں۔لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں چارایسی امتیازی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی بنیاد پر ہم انہیں عالمی قائد ماننے پر مجبورہوتے ہیں:

پہلی خصوصیت :

انہوں نے ایک محفوظ کتاب چھوڑی ، جس کے ایک حرف میں بھی الٹ پھیر نہ ہوسکا ہے ،آج یہ کتاب اپنی اصلی زبان اور اصلی الفاظ میں ہو بہو محفوظ ہے۔

دوسری خصوصیت:

 آپ کی لائی ہوئی کتاب کی طرح آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ بھی محفوظ ہے ، آپ کی پیدائش سے لے کر موت تک آپ کی ایک ایک بات ، آپ کی ایک ایک حرکت مستند طریقے سے ہم تک پہنچی ہے۔ جن لوگوں نے آپ کی باتیں بیان کی ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچتی ہے،جن کی زندگیاں آج اسماءالرجال کی کتابوںمیں محفوظ ہیں۔وہ بیان کرتے وقت کہتے ہیں کہ مجھ سے فلاں نے بیان کیا اورفلاں سے فلاں نے بیان کیا،اورفلاںسے فلاں نے بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایاہے: اس طرح وہ باتیں ہم تک مستنداورقابل اعتماد طریقے سے پہنچتی ہیں۔پھر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرنے والے ہیں ان میں اگر یادداشت کی کمی پائی گئی یا عام معاملات میں معمولی اخلاقی کمزوری پائی گئی تو ایسے لوگوں کی روایتیں رد کردی گئیں ۔
غرضیکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ کی سیرت اس سرزمین پر جس قدر احتیاط اور صحت کے ساتھ ہمارے پاس پہنچی ہے کسی بھی انسان کی زندگی اس قدرصحت اوراحتیاط کے ساتھ نہیں پہنچ سکی، چاہے وہ کوئی نبی ہو یاکوئی مصلح۔

 تیسری خصوصیت:

آپ کی زندگی کے ہر پہلو کی اتنی تفصیلات ملتی ہیں جو تاریخ کے کسی دوسرے شخص کی زندگی کے بارے میں نہیں ملتی۔ آپ کا خاندان کیسا تھا ، آپ کی نبوت سے پہلے کی زندگی کیسی تھی ، آپ کو نبوت کس طرح ملی ،آپ پر وحی کیسے اترتی تھی ،آپ نے اسلام کی دعوت کس طرح پھیلائی ،مخالفتوں کا سامنا کیسے کیا، اپنے ساتھیوں کی تربیت کیسے کی ، آپ کیسے کھڑے ہوتے تھے ، کیسے بیٹھتے تھے ،کیسے چلتے تھے ،کیسے ہنستے تھے ،کیسے غسل کرتے تھے ،کیسے وضوکرتے تھے ، کیسے نماز پڑھتے تھے ، کیسے کھاتے پیتے تھے ،کیسے گفتگو کرتے تھے ،آپ کی خانگی زندگی کیسی تھی ، آپ کے معاملات کیسے تھے ،آپ نے کس چیز کا حکم دیا،اورکس چیزسے منع کیا۔آپ کا حلیہ کیسا تھا اورجسمانی ساخت کیسی تھی ،یہ سب کچھ تفصیل کے ساتھ حدیث اورسیرت کی کتابوںمیں موجود ہے۔

چوتھی خصوصیت:

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں خود آفاقی نقوش جھلکتے ہیں:
٭آپ کی پہلی دعوت توحید کی دعوت تھی ، آپ نے انسانوں کو اس اللہ کی عبادت اور بندگی کی طرف بلایا جو سارے انسانوںکا رب ہے ،اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بندگی کا حکم دیاہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عربوں کے پیغمبرہیں۔
٭ آپ نے رنگ ونسل اور زبان ووطن کے سارے امتیازات کو مٹاکر سارے انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد قراردیا اورہر طرح کے چھوت چھات ،اونچ نیچ اور بھید بھاؤکو مٹایا۔
٭ آپ نے ایساآئیڈیل نظام حیات پیش کیا جوزندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی کرتا ہے اوراس میںحذف واضافہ کی قطعاًگنجائش نہیں ہے۔ 
٭ اس تعلیم کی بنیادپر ہردورمیں پرامن اورخوشحال ملک ومعاشرے کی تشکیل عمل میں آسکتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہر انسان کے لیے آئیڈیل اورنمونہ ہے چاہے وہ کسی بھی خاندان ،کسی بھی ملک اور کسی بھی سماج سے تعلق رکھتا ہو۔
مکمل تحریر >>