بدھ, دسمبر 04, 2013

سیلنگ اور ڈائیونگ سے قبل سلامتی سے متعلقہ رہنمائی اور تجاویز

سیلنگ سے قبل سلامتی سے متعلقہ رہنمائی اورتجاویز


٭  سیلنگ سے پہلے کشتی کی سلامتی اور انجن کی صحت کے حوالے سے یقین حاصل کرلیں ۔
٭  سمندری سلامتی کے سامان کے پائے جانے کا یقین حاصل کرلیں ، بالخصوص  لائف جیکٹس ، بجلی وائر ، موبائل ، Equipment distress  ، FIRE EXTINGUISHER ، فاسٹ ایڈبکس ، مخاطف ، حبال،  ٹارچ اور صفائی کے سامان ۔
٭  نیویگیشن کے آلات ، نیو یگیشن کی لائٹ ، اور الارم سگنل کی دستیابی اور ان کے صحیح سلامت ہونے کا یقین حاصل کرلیں ۔
٭  سیلنگ سے پہلے موسم کے حالات اور سمندر کی صورتحال کی معلومات حاصل کرلیں ۔
٭ FIRE EXTINGUISHER والوں کو یا کوسٹ گارڈ کو سیلنگ سے قبل مطلع کردیں ،اسی طرح سیلنگ کرکے پہنچنے کی جگہ ، نکلنے اور لوٹنے کا وقت ، سواریوں کی تعداد ، موبائل نمبر ، کینو کا نام وغیرہ سے باخبر کردیں ۔ اورلوٹنے کی بھی ان کو جانکاری فراہم کردیں ۔
 ٭  روانگی اورواپسی کے لیے اتنی مقدارمیں ایندھن اپنے پاس رکھ لیں جو کافی ہوسکے ۔
٭  خوردونوش کی اشیاءبھی اتنی مقدار میں رکھ لیں جو کافی ہوسکیں ۔
٭  دورکے مقامات کی طرف سیلنگ کرتے وقت بہتر ہے کہ اپنے ہمراہ دوسرے کینو کو رکھ لیں ۔
٭  ممنوعہ علاقوں، پورٹس اور سمندری انیکرز کے رکنے اورنکلنے کے مقامات پر سیلنگ کرنے سے اجتناب کریں ۔
٭  سیلنگ کے درمیان لائف جیکٹ زیب تن کرنا ضروری ہے بالخصوص بچوں کے لیے ۔

ڈائیونگ سے قبل سلامتی سے متعلقہ تجاویز اورہدایات


٭  ضروری ہے کہ قابل اعتماد اداروں سے ڈائیونگ کی لائسنس حاصل کرنے کے بعد ہی ڈائیونگ کریں ۔
٭  ضروری ہے کہ ڈائیونگ سے متعلقہ طبی امتحان پاس کرنے کے بعد ہی ڈائیونگ کریں ۔
٭  ضروری ہے کہ آپ ساتھی کے ساتھ ڈائیونگ کریں اور ساتھی کے ساتھ ڈائیونگ کے نظام کی پابندی کریں ۔
٭  شیڈول ، وقت اور ڈائیونگ کی گہرائی کی پابندی کریں ۔
٭  دو  ڈائیونگ کے درمیان آرام کے وقت کا التزام کریں ۔
٭  ڈائیونگ کا سامان اعلی درجے کا استعمال کریں ۔
٭  کسی دوسرے کو ڈائیونگ کے سامان عاریت میں نہ دیئے جائیں ۔
٭  ڈائیونگ کے کمپیوٹرکو ڈائیونگ کے نظام الاوقات میں ہی استعمال کریں ۔
٭  آخری ڈائیونگ کے چوبیس گھنٹہ کے بعد ہی بری اور فضائی سفر کیاجائے ۔
٭  آخری گہری ڈائیونگ کے بعد سخت محنت کا کام نہ کیا جائے ۔
٭  ہنگامی حالات کے لیے قریبی چیمبر روم کی جانکاری ضروری ہے ۔
٭  پانچ میٹر کی گہرائی میں چھلانگ لگانے کے بعد تین منٹ کے لیے  وقفہ لینا ضروری ہے ۔
٭  اگر ڈائیونگ کرنے والے نے اپنا طے شدہ وقت پار کرلیا یا جو گہرائی اس کے لیے طے کی گئی تھی اس کو تجاوز کرگیا تو اس کے لیے ضروری ہے کہ چیمبر کے  اشارے کی پابندی کرتے ہوئے رک جائے ۔
٭  ڈائیونگ کے لیے زیادہ تیزی سے نکلنا بہتر نہیں ہے ،ضروری ہے کہ ڈائیونگ کے قوانین کی پابندی کریں ۔
٭  پٹرولیم ، پورٹس اور فوجی مقامات پر ڈائیونگ نہیں کی جاسکتی ۔
٭  ڈائیونگ کرنے والوں کی سلامتی کی خاطر ڈائیونگ کی جگہوں کے تئیں رہنمائی اور تجاویز حاصل کرلینا  ضروری ہے ۔


مکمل تحریر >>

منگل, دسمبر 03, 2013

ہم اپنے بچوں كو بلند ہمت کیسے بنائیں ؟

بچے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں ،بچوں کی اہمیت کیا ہے ان سے پوچھئے جو اولاد کی نعمت سے محروم ہیں، ہم عام طورپر اپنے بچوں کی طرف دھیان نہیں دے پاتے، ان کی جس انداز میں تربیت ہونی چاہیے تھی نہیں کرپاتے ۔ حالانکہ بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں، انہیں کے لیے ہم نے پردیسی زندگی اختیار کی ہے ۔ کبھی آپ نے غورکیا کہ ایک ہی اسکول اورمدرسے میں تعلیم پانے والے بچوں میں سے کوئی ڈاکٹر بنتا ہے، کوئی انجنئر بنتا ہے، کوئی افسربنتاہے، کوئی ملک کے کسی اعلی عہدے پر فائز ہوتا ہے اورکوئی قوم کا قائد اوررہبر بنتا ہے جبکہ کچھ بچے پڑھنے لکھنے کے باوجود بیکار بیٹھے رہتے ہیں، وہ کوئی کام نہیں کرپاتے چہ جائیکہ معاشرے کی خدمت کرسکیں ۔ وجہ، جانتے ہیں کیا ہے ؟ہم اپنے بچوں کے اندر بچپن سے ہی بلند ہمتی کی روح نہیں پهونك  پاتے، ان کو بات بات پر کوستے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں، ان کے جذبات کو کچلتے ہیں، اس طرح ہمارے بچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے بچے بلند ہمت کیسے بنیں ؟ ہم اپنے بچوں کے اندر اونچی سوچ کیسے پیدا کریں …. ہم کیا کریں کہ ہمارے بچے پختہ ارادہ کے مالک بنیں،  آج  اس سلسلے میں ہم چند گذارشات پیش کررہے ہیں امید کہ وہ ہمارے لیے معاون بنیں گیں:

 (1)اللہ پاک سے مددکی طلب اوردعا کا اہتمام کریں:

 ہم جس قدربھی پلاننگ کرلیں اوراونچا سے اونچا خواب دیکھ لیں، اگراللہ کی توفیق حاصل نہ ہوسکی تو ہم نا کام ہیں۔ کیوں کہ دلوں کا مالک اللہ ہے وہ جیسے چاہتا ہے ہمارے دلوں کو پھیرتا رہتا ہے۔ اس لیے اپنے بچوں کے تابناک مستقبل کے لیے دعا کا اہتمام بہت ضروری ہے ۔

(2)  بچوں کو نیک صحبت فراہم کریں:


 کوئی بھی مثبت نتیجہ نیک صحبت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ نیک صحبت کا فائدہ ہ ہوتا ہے کہ بھولنے پر یاد دہانی کی جاتی ہے، پیش قدمی کرنے پرہمت افزائی کی جاتی ہے، ارادہ کرنے پر مدد کی جاتی ہے۔ اوریاد رکھیں کہ نیک صحبت کوئی قسمت کا معاملہ نہیں ہے کہ خودبخود انسان کے اندر پیدا ہوجائے بلکہ اس کے لیے مربی کو چندوسائل اپنانے ہوں گے :مثلاً بچپن سے بچے کو اچھا ماحول فراہم کرنا اورمسجد سے اس کا تعلق جوڑنا، اس کے اندرنیک لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کی خواہش پیدا کرنا، بچوں کے دوست واحباب پركڑى نظر رکھنا کہ مبادا بری صحبت کے شكار  ہوجائیں، اس سلسلے میں انہیں نصیحت کرنا، دوست کے انتخاب کرنے کا فن سکھانا، قریب سے ان کے دوستوں کو پہچاننا اوران کے بارے میں معلومات رکھنا اور اس تعلق سے بالکل سستی نہ کرنا۔ اور ان کے بعض پروگراموں میں خود شریک ہونا۔یہ وہ وسائل ہیں جن کو اپنانے سے بچے بہت حد تک انحراف سے بچے رہیں گے ۔

(3)  نفس کا مجاہدہ اورمحاسبہ کرنا سکھائیں :


 انہیں بتائیں کہ بغیر محنت کے بلندیا ں حاصل نہیں ہوتیں  ، بڑے لوگوں کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ انہوں نے بچپن سے ہی محنت کی اور وقت لگایا، بلندیاں محنت وریاضت کی دین ہیں۔ کہتے ہیں :
 لولا المشقة ساد الناس کلھم۔
"اگر مشقت نہ ہوتی تو ہر آدمی حاکم بن جاتا" ۔

امام ابن قیم رحمہ الله فرماتے ہیں:
"ہرامت کے دانشمندوں کا اتفاق ہے کہ نعمتیں نعمتوں میں رہ کر حاصل نہیں کی جاسکتیں، اور جس نے راحت کو ترجیح دی وہ راحت سے محروم ہوگیا"۔

امام مسلم رحمہ اللہ  نے صحیح میں یحییٰ بن کثیر کا یہ قول نقل کیا ہے :
 لاینال العلم براحة الجسد۔
"جسمانی راحت سے علم حاصل نہیں کیا جا سکتا" ۔چنانچہ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ وہ اپنے روزانہ کے پروگراموں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کہاں ان سے کیا کوتا ہی ہوئی ہے اور اس کی تلافی کیوں کر ممکن ہے۔ ان کے اندر یہ جذبہ پیدا کریں کہ مشکل سے مشکل کام کو کرنے کے لیے نفس کو تیار کریں ۔ اگر بچے کا کوئی عزم ہے، اونچی سوچ ہے تو اس کو جلا بخشیں، اس کی تعریف کریں اوراس کو حاصل کرنے کے وسائل فراہم کرنے میں لگ جائیں.
بلندہمت لوگ اگرنادم ہوتے ہیں تو اس بات پر کہ ایک لمحہ ایسا گذرا جب وہ اللہ کا ذکر نہ کرسکے ۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نمازجنازہ پڑھ کر لوٹ آتے تھے ۔ جب انہیں یہ حدیث پہنچی کہ جس نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے کسی جنازے میں شرکت کی تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے اورجو دفن تک رہا اسے دو قیراط کا ثواب ملتا ہے ۔ یوچھاگیا کہ دوقیراط سے کیامراد ہے ؟ آپ نے فرمایا: دو پہاڑوں کے مانند ۔ یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے ”لقد فرطنا فی قراریط کثیرة “۔
اورخالد بن ولید رضی اللہ عنہ بستر پر موت واقع ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں: ”میں فلاں فلاں جنگ میں شریک رہا، میرے جسم کا شاید کوئی ایساحصہ نہ ہوگا جس پر تلوارکی چوٹ نہ لگی ہویا تیرنہ لگا ہو:
 ثم ھا أنا أموت علی فراشی کما یموت البعیر، فلانامت أعین الجبنا۔ 

"  پھر میں اپنے بستر پر مررہا  ہوںجس طرح اونٹ كى موت ہوتى ہے بزدلوں كى آنكهوں ميں نيند نہ آئے"-

(4)  گھٹیا کاموں سے دور رہنے کی عادت ڈالیں :


 انہیں بتائیں کہ جو لوگ اعلی مقاصد رکھتے ہیں وہ گھٹیا اور معمولی کاموں میں نہیں لگتے بلکہ ان کی سوچ نہایت اعلی ہوتی ہے۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 إن اللہ یحب معالی الأمور وأشرافھا ویکرہ سفسافھا(صحیح الجامع الصغیر)
”اللہ تعالی بلند اور اشرف کاموں کو پسند کرتا ہے اور گھٹیا کاموں کو ناپسند کرتا ہے۔ “اس لیے انہیں اعلی مقاصد پر مبنی کاموں میں مشغول رکھیں اور گھٹیا کاموں سے دور رکھیں۔ انہیں کمال کی زندگی سے بے نیازرکھیں، ان کے اندر ہمیشہ اونچی سوچ پیدا کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ اگران میں اونچی سوچ پیدانہ ہوگی تو گھٹیا سوچ خود بخود پیدا ہونے لگے گی ۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ نے بڑی پتے کی بات کہی ہے :
 اذا لم تشغل نفسک بالحق شغلتک بالباطل
 " اگر تم اپنے نفس کو حق میں مشغول نہیں کرتے تو باطل میں خودبخود مشغول ہوجائے گا۔"

 (5) پلاننگ کرنے میں ان کی مدد کریں :

 بہترین پلاننگ کا بہترین نتیجہ نکلتا ہے، اور ایک تجربہ کارمربی اس سلسلے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خودپلاننگ کریں اورانہيں پلاننگ کرنے کا گر سکھائیں۔ انہيں بتائیں کہ اپنی زندگی کے ہرمرحلہ کے لیے پلاننگ کريں ،بلکہ ان کے پاس 24 گھنٹے کے کاموں کی پہلے سے لسٹ ہو۔ لمبی چھٹیاں آرہی ہوں تو ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے خاص پلاننگ کریں۔ پلاننگ کرنے میں ان کا ساتھ دیں اور کچھ کاموں میں خود ان کے ساتھ شریک رہیں۔

(6)  خاندان کے مسائل میں انہیں شریک کریں :


 بچوں کے اندر ہمت پیدا کرنے کے لیے خاندانى مسائل  میں انہيں شریک كرنا چاہيے تاکہ ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ وہ  بهى خاندان کےا فرادمیں شامل ہیں،  اور ان کی رائے اور مشورے کی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ گھر میں وقفہ وقفہ کے ساتھ خاندان کے مسائل پر گفتگو کی جائے، خاندان میں پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے بچوں سے مشورہ کریں اور اس کو اہمیت دیں۔ اوراس سلسلے میں بچے جو بھی رول ادا کرسکتے ہوں بلا جھجھک ادا کرنے کی سہولت فراہم کریں۔

(7)  ان کے ساتھ بیٹھ کر اولوالعزموں اور بلند ہمت لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں:


 بلندہمت لوگوں کی سیرت کا مطالعہ کرنے پر ابھاریں ، بسا اوقات ایسی کتابیں ان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھیں ،کھانے اورسونے کے اوقات کو امت کے سورماؤں کے قصے اور واقعات بیان کرنے میں کام میں لائیں۔ سیرت نبوی ،انبیاء کے قصے، اور صحابہ وتابعین کے قصوں کا مطالعہ کرنے پر ابھاریں۔ سورماوں کی زندگی پر بنائی گئی فلموں، ڈراموں اورسیریز بھی اپنے گھر میں لائیں اور بسااوقات انہیں بچوں کودکھائیں، اوربچوں کو ترغیب دلائیں کہ ان میں سے جن کو چاہیں اپنے لیے نمونہ بنائیں تاکہ ان کے جیسے خود کو ڈھال سکیں۔

(8)  بچوں کے اندرمقابلے کا جذبہ پیدا کریں:


 اعلی مقاصد کے حصول کے لیے بچوں کے اندر مقابلے کا جذبہ پروان چڑھانا نہایت ضروری ہے۔ اپنے بچوں اور اپنے آس پاس کے بچوں کے اندر مسابقت کی روح پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے اندر یہ جذبہ پیدا کریں کہ وہ اپنے سے اونچے کے ساتھ مسابقے میں حصہ لیں ،چھوٹے بڑے ہرطرح کے مقابلوں میں شریک ہوں، ان کے اندرچیلنجز کو قبول کرنے کا  جذبہ پیداکریں چاہے بظاہر مشکل نظر آرہے ہوں۔ اس کام کے لیے کچھ مادی ومعنوی انعامات رکھیں تاکہ بچے اس کے لیے خودکوتیار کرسکیں۔

(9)  اپنی خفتہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا طریقہ سکھائیں :


ہر انسان کے پاس ممکنہ صلاحیتیں ہوتی ہیں جو چھپی رہتی ہیں، جس تک خود اس کی پہنچ نہیں ہوتی۔ اس لیے اپنے بچوں کو پورا موقع فراہم کریں کہ وہ اپنے ذاتی خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی ہرممکنہ کوشش کریں۔ خطرے کے باوجود چیلنجزکوقبول کرنے کی عادت ڈالیں اورانہیں بتائیں کہ اپنے بارے میں جیسا خیال کروگے ویسا ہی بنوگے۔ اس لیے روزانہ اپنے کاموں کا جائزہ لینے کی تاکید کریں، واقعہ یہ ہے کہ ہرانسان روزانہ اپنی طاقت سے کم ہی کوشش کرتا ہے، اس لیے روزانہ اپنے نفس کو چست اور نشیط رکھنے کی ضرورت ہے۔

 (10) تاخیراورٹال مٹول پرقابو پانے میں ان کی مددکریں :


ٹال مٹول مقاصد کے حصول کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، لہذا اپنے بچے کو وقت کی پابندی کا گر سکھائیں ،انہیں بتائیں کہ ہرکام کو ختم کرنے کا وقت خاص کرلیں ، انہیں سکھائیں کہ وہ اپنے آپ سے عہد کریں کہ ہرگز ٹال مٹول نہ کریں گے۔ انہیں سکھائیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو ہمیشہ ذہن نشین رکھیں اور انہیں نوٹ کرلیا کریں تاکہ انہیں مکمل کرسکیں۔ انہیں سکھائیں کہ کسی بھی کا م کے کرنے میں تردد نہ کریں اور فوراً ہاں یا نا کا فیصلہ لیں۔

یہ چند وسائل ہیں جن کو اگر ہم نے اپنایا اوران خطوط کی روشنی میں بچوں کی تربیت شروع کی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے بچے اپنی زندگی میں اعلی سے اعلی کام انجام دینے کے اہل بن سکیں ۔ ہماری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ اورآپ کے بچوں کے ساتھ ہیں ۔
مکمل تحریر >>

برادرعزیز ثناء اللہ محمد صادق تیمی کے نام

برادرعزیزشيخ ثناءاللہ محمدصادق تیمی حفظہ اللہ
 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 
ہم بخیر ہيں اور امید کہ آپ کے حالات بهى شگفتہ ہوں گے ۔
ہر انسان کے پاس مثبت يا منفى  جذبات ہوتے ہیں جنہیں اگلنے میں ہی وہ عافیت سمجھتا ہے، آج اچانک آپ کی یاد آئی سوچا کہ اپنے جذبات آپ سے بھی شیئر کرلوں،آج دینی مدارس کے طلبہ جب عصری درسگاہوںمیں داخلہ لیتے ہیں تو مرعوبیت کا شکار ہوکر خود کو سیکولر باور کرانا چاہتے ہیں، اس طرح اپنی شناخت تک کھو بیٹھتے ہیں،آپ جے این یو کے آزادانہ ماحول میں رہ کر اپنے اسلامی شعار کو برقرا رکھے ہوئے ہیں،اوردعوتی کاموںمیں بھی سرگرم رہتے ہیں جس کی رپورٹ روزناموںمیں پڑھنے کو ملتی رہتی ہے، اس کے لیے دل کی گہرائی سے آپ کومبارکباد پیش کرتے ہیں، اللہ پاک آپ کو دین پر ثابت قدمی عطا فرمائے اوردینی مزاج بحال رکھے۔آمين
اللہ پاک نے آپ کوتخلیقی صلاحیت سے نواز رکھاہے ،کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں ،عربی اورانگریزی میں مہارت رکھنے کے ساتھ آپ کی اردو ادب میں منثور اورمنظوم تخلیقات کلاسیکی حیثیت رکھتی ہیں،جن لوگوں کی تخلیقات میں دلچسپی سے پڑھتا ہوں ان میں سرفہرست آپ ہیں،ظاہر ہے کہ یہ آپ کی وسعت مطالعہ ، لگن،تندہی اورجہدمسلسل کا نتیجہ ہے، ایسی نعمتیں سب کو نہیں ملا کرتیں ،اورجن کو ملتی ہیں بسااوقات صحیح رہنمائی نہ ملنے یا معاون وسائل کے فقدان کی وجہ سے وہ قوم کوکچھ دینے سے عاجز رہ جاتے ہیں ، میں اس بات کا قائل ہوں کہ ہمارے جو بچے باصلاحیت ہیں ان کی صلاحیت سے قوم کو فائدہ ہو،ان کی صلاحیت مثبت رخ اختیار کرے ،آج قحط الرجال کا دورہے ایسے حالات میں آپ جیسے نوجوانوں کو دیکھ کر آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلکتے ہیں۔بہرکیف اپنے ذوق اوررجحان کے مطابق منظم پلاننگ کے ساتھ کام کریں ،آج ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ کتنے لوگوں کی صلاحیتوں کا استحصال ہورہا ہے ،ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنے کی بیحد ضرورت ہے ۔ بات سے بات نکلتی ہے:

  •  دعوتی میدان میں اگر آپ اصلاحی کتابوں کا جائزہ لیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اب تک جوکتابیں اردو میں شائع ہوئی ہیں وہ معلوماتی کہی جاسکتی ہیں دعوتی نہیں ، یا اگر انہیں دعوتی مقصد کے تحت تیار کیابھی گیا ہے تواس میں مدعو کی نفسیات کا لحاظ نہیں ركها گیا، اکثرکتابوں کا آغاز منفی اسلوب میں ہوتا ہے،جارحانہ انداز ہوتا ہے،آخرانہیں ہم دعوتی مواد میں شمار کیسے کرسکتے ہیں، ہم نے جن عربی کتابوں کا اردومیں ترجمہ کیا ہے ان میں جارحانہ مقدمہ کا اضافہ کرکے کتاب کی افادیت کو کم کردی ہے ، بلکہ ہم نے اب تک چند فروعی مسائل کو ہی اصل دین سمجھ رکھا ہے اور اپنے مخالف سے انہیں مسائل کو چھیڑکر بحث شروع کرتے ہیں،  حالانکہ مثبت انداز میں عقائد کی اصلاح پر دھیان دینے کی ضرورت تھی، اصلاح معاشرہ سے متعلق کتابچے ،لٹریچرز، آڈیوز اور ویڈیوز تیار کرنے کی ضرورت تھی ، اگرعقائد اوراعمال کی اصلاح کے لیے چھوٹے چھوٹے فولڈرس بھی تیار کیے گئے ہوتے تو بہت حدتک اصلاح ہوسکتی تھی.
  • نوبت بایں جا رسید کہ ہم اپنے منصب کو بھلا کر آپسی خانہ جنگی کے شکار ہو چکے ہیں  اور وہ جن کو علمی قیادت کرنی تھی آج کرسی اور منصب کے بھوکے بن کر اپنی صلاحیت کا استحصال کر رہے ہیں نتیجہ ظاہر ہے کہ پہلے دوسرے ہماری صرف سیاسی نمایندگى کر تے تھے اب علمی نمائندگی بھی کر نے لگے ہیں.حالاں کہ ہمارے بیچ ایسے ماہر علماء اور دعاة کی ضرورت تھی جو عالمی سطح پر برصغیر کی نمایندگی کر سکیں، ظاہر ہے اس کے ليے افراد سازی کی ضرورت تھی، جن کا جو تخصص ہے ان كے تخصص کے مطابق ان کو فارغ کرنے کی ضرورت تھی، ان کو پرسکون ماحول فراہم کرنے کی ضرورت تھی... واللہ بہت افسوس ہوتا ہے اپنی قوم پر-
  •  کیا ہمیں اس بات کا احساس نہیں کہ اس قدر تقریریں ہورہی ہیں، کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں لیکن ان کے نتائج خاطرخواہ حاصل نہیں ہو رہے ہیں، ہم کانفرنسوں کے مقاصدطے نہیں کرتے یا ان کے نتائج پر ہمارا دھیان نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اتنے سارے اخراجات کے باوجود عوام پر اس کا کوئی گہرا اثر دکھائی نہیں دیتا ہے، اگر ان کے اہداف طے کئے گئے ہوتے اورانہیں حاصل کرنے کی پہلے سے پلاننگ کی گئی ہوتی تو کم ازکم حاضرین تک اپنا مثبت پیغام پہنچانے میں ضرورکامیاب ہوسکتے تھے ۔
  • اللہ پاک نے معروف کی طرف بلانے اورمنکر سے روکنے کا حکم یکساں طورپردیا ہے ،اگر ایک حصے کو اپنائیں اوردوسرے حصے کو نظر انداز کردیں تو یہ عمل حکمت دعوت کے منافی ہوگا ، آج عجیب صورت حال ہے کہ کچھ لوگ معروف کا حکم دینے پر اکتفا کرتے ہیں اور کچھ لوگ منکر کے ازالے میں اپنی پوری کوششیں صرف کررہے ہیں یہاں تک کہ دونوں فریق کی اسی سے پہچان ہونے لگی ہے ، اگرمعروف کی دعوت دی بھی جاتی ہے تو اسلوب جارحانہ اورمنفی ہوتا ہے ۔ معروف کا حکم اورمنکر کی تردیدمثبت اندازمیں ایک ساتھ ہوتی رہنی چاہیے ،یہ المیہ ہے کہ آج ہم اسلام کا تعارف کم کراتے ہیں ، صحیح عقیدے کو مثبت انداز میں کم پیش کرتے ہیں بلکہ صحیح عقیدے کوپیش کرتے وقت حکمت کوملحوظ رکھتے ہی نہیں ،ہاں! اعتراض زیادہ کرتے ہیں ۔ ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہم داعی ہیں مدعو نہیں ۔ ہمارے اکثر اوقات مخالفین کی تردید میں گذر رہے ہیں ،اگر آپ صحیح منہج کا حکمت کے ساتھ تعارف نہ کرائیں گے اورگمراہ جماعتوں کی تردیدمیں لگے رہیں گے تو مخالفین کا ہمارے تئیں کیا نظریہ بنے ہوگا اس کا اندازہ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر اچھی طرح لگایاجاسکتا ہے ۔ ہم اپنے احباب سے مودبانہ گذارش کریں گے کہ گمراہ فرقے اگرباطل کے پرچار میں سرگرم ہیں توہم حق کے پرچارمیں سرگرم بنیں ۔انداز میں نرمی ہو ، جذبات خیرخواہانہ ہوں اوراسلوب سنجیدہ اوردل کو اپیل کرنے والا ہو۔ہمیں ایک ساتھ مل بیٹھ کر سنجیدگی سے مسئلے کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا ، مدعوکو دینے کے لیے ہمارے پاس موا د کم پائے جاتے ہیں ان کے عقائد کا پوسٹ مارٹم کرنے والے موادبہت زیادہ ہیں ۔ 
  • آج لوگ حق کے پیاسے ہیں، دین کے بازارمیں کھوٹے سکوں کوفروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہیں،ہمیں اپنی ذمہ داری کوسمجھنا ہوگا ،اپنے اندر زیاں کا حساس پیدا کرنا ہوگا اورمنظم پلاننگ کے ساتھ کام شروع کرنا ہوگا۔
بات ذرا طول کھینچ گئی ،ہم عرض یہ کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کی صلاحیت سے قوم کو فائدہ ہونا چاہیے، آپ سے ہماری بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں، کوئی بھی کام کریں،ترجیحات کو سامنے رکھ کر پلاننگ کے ساتھ کریں،چاہے کام نثر كى شكل  میں ہو يا نظم كى شكل میں، ۔دعاؤں میں یاد رکھیں گے -
اللہ آپ کو اچھا بدلہ عنایت کرے،اور اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔

والسلام
مکمل تحریر >>

معذورافراد اسلامى تعليمات کی روشنى میں

 جس کے جسم یا عقل میں کسی قسم کی کمی پائی جاتی ہو اسے معذور کہتے ہیں . جیسے اندھا ، بہرا ، لنگڑا ، كانا ، ناٹا وغیرہ . دنیا میں تقریبا 10 فیصد لوگ کسی نہ کسی طرح سے معذور ہیں،معذور افراد کے عالمی دن کى مناسبت سے سوال يہ پيداہوتا ہے كہ اسلام كى فطرى تعليمات   ایسے لوگوں کے بارے میں كيا كہتى  ہيں، اوراسلامى معاشرے ميں معذوروں  كے تئيں ہمارا كيسا رويہ ہونا چاہيے اس مضمون میں اسی نکتے کى وضاحت کی گئی ہے .

اصلی معذور غیر مسلم ہے:

كافرومشرك اور اللہ کا  انکار کرنے والا سب سے بڑا معذور ہے ، کہ اللہ نے اسے آنکھ ، کان اور دل دیا تاکہ ان سے کام لے کر اپنے پیدا کرنے والے کوپہچانے اور اس کے مطابق  زندگی گزارے لیکن اس نے ان اعضاء کو پا کر بھی ناشكرى کا راستہ اپنایا اور اللہ کی نافرمانی کرتا رہا . اللہ نے فرمایا:
لهم قلوب لا يفقهون بها ولهم أعين لا يبصرون بها ولهم آذان لا يسمعون بها أولئك كالأنعام بل هم أضل أولئك هم الغافلون  ( سورة الأعراف 179 )
" ان کے پاس دل ہے جن سے وہ سمجھتے نہیں ، ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں. ان کے پاس کان ہے جن سے وہ سنتے نہیں . وہ جانوروں کی طرح ہیں ، بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں . وہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں . " ( سور اعراف 179 )
اسی طرح وہ شخص بھی معذور کی طرح ہے جو جسم كےکسی حصہ سے محروم تو نہیں ہے ، مگر ان کا استعمال اللہ کی نافرمانی میں کرتا ہے .

اللہ نے ہر مخلوق کو بہترین صورت میں پیدا کیا:

اللہ نے اپنی مخلوق کو بہترین صورت میں پیدا کیا  ہے ، اللہ تعالی نے فرمایا کہ: 
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ﴿التين:4 ﴾ 
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا-   اور ارشاد ربانى ہے:
الذي أحسن كل شيء خلقه  ( السجدة 7 )  
جس نے ہر ایک چیز ، جو بنائی خوب ہی بنائی (امام - سجدہ 7 )
 دوسرے مقام فرمایا : 
 ولقد كرمنا بني آدم  ( سورة الإسراء 70)
  ہم نے آدم کی اولاد کو برتری فراہم کی (امام - اسرا 70 )

اللہ نے معذورافراد كو کیوں پیدا کیا؟:

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے کچھ لوگوں کو معذور کیوں بنایا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے اپنی کچھ مخلوق  میں کمی بہت بڑی حکمت کے تحت رکھی ہے . اللہ نے اپنی حكمت سے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کے مخالف کو بھی پیدا کیا ہے ، جیسے فرشتہ اور شیطان . رات اور دن ، اچھا اور برا ، خوبصورت اور بد صورت . اسی طرح بندوں کے جسم ، عقل اور طاقت کے درمیان بھی فرق رکھا ، ان میں سے کسی کو غریب اور کسی کو امیر ، کسی کو صحتمند اور کسی کو بیمار ، کسی کو دانا اور کسی کو ناسمجھ بنایا . اللہ کا ارشاد ہے :
الذي خلق الموت والحياة ليبلوكم أيكم أحسن عملا ( سورة الملك 2 )
" جس نے پیدا کیا موت اور زندگی کو تاکہ تمہارا امتحان کرے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون سب سے بہتر ہے . " ( سور القاعدہ - ملک 2 )
ایک دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا:
ورفع بعضكم فوق بعض درجات ليبلوكم في ما آتاكم ( سورة الأنعام 165 )
 اور تم میں سے کچھ لوگوں کے درجے کچھ لوگوں کی توقع سے اونچا رکھا ، تاکہ جو کچھ اس نے تم کو دیا ہے اس میں وہ تمہارا امتحان لے .
اب  ذیل میں ان حكم ومصالح  میں سے کچھ کا ذکر کیا جا رہا ہے:
گناہوں کی سزا : اللہ کبھی کسی شخص کو اس کے گناہوں کی وجہ سے کسی قسم سے معذور کر دیتا ہے ، اللہ نے فرمایا:
ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي الناس ليذيقهم بعض الذي عملوا لعلهم يرجعون  (سورة الروم 41 )
" سمندر اور خشكى میں بگاڑ پھیل گیا خود لوگوں ہی کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ، تاکہ وہ انہیں ان کی کچھ کرتوتوں کا مزا چكھاے ، تاكہ وہ ان سے باز آ جائیں " (امام - روم 41 )
انسان کو اللہ کی طاقت کا اندازہ ہو سکے کہ وہی اس کے فائدہ یا نقصان کا مالک ہے:
اللہ نے فرمایا:
ما يفتح الله للناس من رحمة فلا ممسك لها وما يمسك فلا مرسل له من بعده وهو العزيز الحكيم ( سورة الفاطر 2 )
 " اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے واﻻ نہیں اور جس کو بند کردے سو اس کے بعد اس کا کوئی جاری کرنے واﻻ نہیں اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے  "
انسان کو اس بات کا صحيح اندازہ ہو سکے کہ اللہ نے اچھائى اور برائى دونوں کو پیدا کیا ہے: اسی نے جنت بنایا تو اسی نے جہنم بھی بنایا تاکہ اچھا عمل کرنے والوں کو جنت میں اور برا عمل کرنے والوں کو جہنم میں رکھا جا سکے .
جسے اللہ نے صحت مند رکھا ہے وہ اللہ کے احسانات کو پہچان سكے: کیوں کہ نعمت کى صحیح اہمیت نعمت سے محروم ہونے کے بعد ہی سمجھ میں آتى ہے ، آنکھ کی اہمیت اندھے کو دیکھ کر سمجھ میں آتى ہے ، کان کی اہمیت بہرے کو دیکھ کرسمجھ میں آتى ہے ، زبان کی اہمیت گونگے کو دیکھ کر سمجھ میں آتى ہے ، پیر کى اہمیت پیر کٹے کو دیکھ کر سمجھ میں آتى ہے .
 کہتے ہیں کہ شیخ سعدی رحمه الله عليه پر ایک وقت ایسا گزرا جب کہ ان کے پيرمیں جوتے نہیں تھے ، خالی پیر چل رہے تھے جس کا  ان کو  بہت احساس تھا لیکن اسی وقت ایک پير کٹے کو دیکھا تو فوری طور پر ان کو اللہ کى نعمت  کا  احساس ہوا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اے اللہ اگر میں جوتے سے محروم ہوں تو کم سے کم تو نے مجھے پاؤں تو دے رکھا ہے جس سے چل سکتا ہوں جب کہ یہ شخص پیر سے بھی محروم ہے .
جسے اللہ نے کسی نعمت سے محروم کیا ہے اس کا گناہ معاف کر دیا جائے اور آخرت میں اس کا مقام بلند ہو:  اگر دنیا میں اللہ نے کسی کو کسی نعمت سے محروم رکھا ہے تو یہ اس کے حق میں برا نہیں بلکہ بہتر ہے ، وہ اللہ جو اپنے بندے سے اتنا محبت کرتا ہے جتنا ایک ماں بھی اپنے بچے سے نہیں کرتی ، آخر وہ اسے کس طرح چھوڑ دے گا ، لیکن وہ اسے کسی تکلیف میں ڈالتا ہے تو سچی بات یہ ہے کہ اسی میں اس کا مفاد چھپا ہوتا ہے . اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: 
من يُرد الله به خيرًا، يُصب منه ؛ رواه البخاري.  
" اللہ اپنے بندے کے ساتھ کسی قسم کااچھا معاملہ کرنا چاہتا ہے تو اسے کسی تکلیف میں ڈال دیتا ہے . " ( بخارى) اور بندے کو جو مشکل پہنچتی ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ اس کی طرف سے اس کے گناہوں کو معاف  کرديتا ہے ( بخاری ، مسلم ) گویا نیک بندوں کے لئے دنیاوی تکلیف تحفہ کی طرح ہے تب ہی تو سب سے زیادہ تکلیف برداشت کرنے والے لوگوں کی فہرست میں سب سے اول مقام پرا نبیاء آتے ہیں ، پھر ان کے بعد صالحين پھر ان کے بعد کے بہترین لوگ . ( ترمذي ) اسی لئے اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: 
 إن الله قال : إذا ابتليت عبدي بحبيبتيه فصبر عوضته منهما الجنة ( رواه البخاري )
" اللہ تعالی فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے کو اس کی دو پیاری چیز کے تعلق سےآزماتا ہوں ( یعنی دونوں آنكهوں سے محروم کرتا ہوں ) اور اس پر بندہ صبر کرتا ہے تو اس کے بدلے اسے جنت فراہم کروں گا . " ( بخاری )
خلاصہ یہ کہ ایک شخص جب اپنے معاشرے میں معذورافراد کو دیکھے گا تو اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو بھلےطورپرپہچان  سکے گا ، اللہ کے فضل کا شکر ادا کرے گا، اس سے بھلائی کا سوال کرے گا اور اسے یہ یقین ہوگا کہ اللہ ہر چیز پر طاقت رکھتا ہے . اسی طرح اگر معذور کمزوری کی حالت میں ہے تو اس کا اللہ سے اچھا رابطہ ہو سکتا ہے کیوں کہ ایک انسان جب ہر طرح سے خوش ہوتا ہے تو اس کے اندر سرکشی آ جاتی ہے . اسی لئے اللہ نے فرمایا:
كلا إن الإنسان ليطغى أن رآه استغنى  ( سورة العلق 6-7 )
ہرگز نہیں ، انسان سرکشی کرتا ہے ،  اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو خود کفیل دیکھتا ہے .

معذوروں کے تئیں اسلامی تعليمات :

( 1 ) یہ سمجھنا چاہئے کہ ایسا ہونا اس کی قسمت میں لکھا تھا اسی  بنیاد پر ہوا ہے . اللہ نے فرمایا:
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ  ( سورة الحديد 22 )
نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وه ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے 
( 2 ) اس بات پر یقین رکھے کہ اللہ جب کسی مومن کو کسی پريشانى میں مبتلا کرتا ہے تو  اصل میں وہ اس سے محبت کرتا ہے . اسی ليے انبيائے كرام  سب سے زیادہ تكاليف وشدائد کو برداشت کرنے والے ثابت ہوئے ہیں. اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:  
سب سے زیادہ پریشانی نبیوں کو جھیلنی پڑی ہے ... ( ترمذى )
( 3 ) معذور کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالى دنیا وى  پریشانیوں کے بدلے انسان کو بہت ہی فضیلت فراہم کرتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے: ( بخاری ، مسلم )
( 4 ) معذور کو چاہئے کہ اپنی مجبوری کا رونا رونے کی بجائے جتنا ممکن ہو خود سے سماج اور انسانوں کو فائدہ پہنچائے . اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا: 
 طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر ہے ... ( مسلم )

معذوروں کے تئیں صحت مند وں کی ذمہ دارياں:

( 1 ) اللہ کا شکر بجا لائے کہ اللہ نے اسے اس تباہی سے بچا لیا .
( 2 ) اگر معذور نیک ہے تو اس کے لئے اللہ سے دعا کرے .
( 3 ) معذور پر رحم کهائے کہ وہ اللہ سے زياده قریب ہے اور صحت مند لوگوں سے بہترہے .
( 4 ) معذور کی مدد کرے اور اس کو فائدہ پہنچانے کی ممکنہ کوشش کرے .
( 5 ) معذور کا مذاق نہ اڑائے اور نہ ہی اس کی طرف برے الفاظ سے اشارہ کرے .

معذوروں کے تئیں كمیونٹی اور قوم کے فرائض:

( 1 ) ان کے ساتھ ہمدردى  كا معاملہ ہونا چاہئے ، ان کو صبر وشكيبائى  سے کام لینے کی تاکید کرنی چاہئے اور ان کی پریشانی کو ہلکا کرنے میں ان کا ساتھ دینا چاہئے .
( 2 ) معذور کو ایسی تعلیم فراہم کرنی چاہئے جس کے ذریعہ وہ اپنے باقی اعضاء سے سماج اور کمیونٹی کے لئے کچھ کر سکے ویسے بھی ایک انسان کسی ایک نعمت  سے محروم ہوتا ہے تو دوسرے میدان میں اچھی سے اچھی کاركردگی كا مظاہره کر سکتا ہے .
( 3 ) معذوروں کو سماج اور لوگوں سے دور نہ رکھا جائے، بلکہ ان كو عوامی زندگی میں شریک کیا جائے جیسے نماز  باجماعت، خوشی اور غم کے مواقع ، لوگوں کی میٹنگ وغیرہ .

 معذور کا وجود برکت ، مدد اور بھلائی کا سبب ہے:

اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی صورت میں پیدا کر دیتا لیکن اس سے مخلوق کا اہم مقصد حاصل نہ ہو سکتا تھا . کہ مالداروں کے درمیان غريبوں کا وجود خود مالداروں کے لئے خيرو بھلائی کا ذریعہ ہے . اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:  
تمہارے کمزوروں کی طرف سے ہی تمہیں روزی دی جاتی ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے . ( ابوداؤد ، علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے )

معذوروں کى بحالی کے لئے مغرب کا نظريہ:

مغربی ممالک نے معذوروں کى دل لگى كے لئے موسيقى، نغموں ، فلموں اور حرام ذرائع کو ان کے درمیان رائج کیا اور آج تک کرتے آ رہے ہیں ، ایسا وہ اپنے اس خیال کی بنیاد پر کرتے ہیں کہ دنیا بھوگ ولاس کا مقام ہے جتنا ممکن ہو اس سے معذوروں کو بھی مستفید ہو لینا چاہئے ، جب کہ اسلامی نقطہ نظر اس خیال کی تردید کرتا ہے . اس لئے قرآن کی تلاوت ، اچھی کتابوں کا مطالعہ ، سماجی خدمات میں حصہ لینا جیسے کاموں کو معذوروں کے درمیان رائج کرنے کی کوشش کرنى چاہئے ، ہم اسلامی تاریخ میں ایسے معذوروں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے اپنے میدان میں ناقابل فراموش کردار اداکیا ہے .

معذورافرادکے تئيں کچھ فقہی مسائل:

( 1 ) اللہ کسی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا ( سور بقره 286 ) اس لئے جس شخص کو کسی وجہ سے کسی حکم پرعمل كرنے کی طاقت حاصل نہ ہو اس حکم سے اسے چھوٹ ملے گی .
( 2 ) عقل ہی مکلف ہونے کا اصل بنیاد ہے ، اس لئے اگر کوئی شخص عقل سے محروم ہو تو وہ شریعت کے کسی حکم کا مکلف نہیں ہوگا .
( 3 ) جسم کے کچھ اعضاء سے محروم ہونے کی وجہ سے کسی کو شریعت کے عمل میں چھوٹ نہیں ملے گی بلکہ اسے چاہئے کہ اپنی طاقت کے مطابق شریعت کے احکام پر عمل کرے .
• جیسے فرض نمازوں کی ادائیگی ضروری ہے ، اگر کھڑے ہو کر نماز ادا نہیں کر سکتا تو بیٹھ کر پڑھے ، اگر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا تو سو کر یا لیٹ کر جیسے ممکن ہو پڑھے ، اگر ایسے بھی ممکن نہ ہو تو اشارے سے پڑھ لے .
• اگر مکمل طور پر وضو نہیں کر سکتا تو جس حد تک ہو سکتا ہو کر لے ، اگر بالکل وضو کر ہی نہیں سکتا تو تیمم کر لے ، اگر تیمم کرنے کى بھی طاقت  نہ ہو تو بغیر وضو اور تیمم کے اسی حالت میں نماز پڑھ لے . البتہ معذور کی دیکھ بھال کرنے والوں کا فرض بنتا ہے کہ نماز اور وضو میں اس کی مدد کریں.
• اگر معذور اپنے جسم سے گندگی کو دور کر سکتا ہو تو کرنا لازمی ہے ، اگر اسے دور کرنے کی طاقت نہیں ہے اور کوئی دور کرنے والا پایا نہیں جاتا تو اسی حالت میں وہ نماز پڑھ لے گا اور اس کی نماز صحیح ہوگی ، پھر اسے لوٹانے کی ضرورت بھی نہیں ہے.
• اگر معذور کو روزہ رکھنے کی طاقت ہے تو اس کے لیے روزہ رکھنا لازمی ہوگا لیکن اگر روزہ نہیں رکھ سکتا اور اس کی بیماری ٹھیک ہونے والی نہیں ہے تو وہ روزہ نہیں رکھے گا اور اس کے لئے ہر روزے کے بدلے کسی غریب کو ایک دن کا کھانا دے دینا ضروری ہوگا .
• اگر معذور کو حج کرنے کى مالى  اور جسمانی طاقت حاصل ہے تو اس کے لئے حج کرنا لازمی ہوگا ، اور اگر مالی قدرت تو حاصل ہو لیکن جسمانی قدرت حاصل نہیں ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی طرف سے کسی ایسے شخص کو حج کے لئے بھیجے جس نے اپنی طرف سے پہلے حج کر لیا ہو .
معذور افرادکے تئين  اسلامی احکام کے بیان کے بعد واضح طور پر اسلام کی عظمت سمجھ میں آتی ہے کہ یہ دين اصل میں اللہ کا نازل شده ہے جو زندگی کے ہر حصہ میں اور ہر شخص کا مکمل طور پر رہنمائی کرتا ہے چاہے وہ کسی بھی حالت میں ہو . آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اندر معذور افرادکے تئين بيدارى  پیدا فرمائے اور وہ احساس پیدا کرے کہ ہم الله کے مختلف احسانات كا ہمیشہ شکر ادا کرتے رہیں . آمین

( اس مضمون كى تيارى میں شيخ عبدالرحمن عبدالخالق كى كتاب المشوق فى احكام المعوق سے استفاده كيا گيا ہے)


مکمل تحریر >>