پیر, نومبر 04, 2013

ہجری سال 1435 کا پیغام


  نئے عيسوى سال کے موقع پر ہر سال دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ہنستے کھیلتے، گاتے بجاتے، پٹاخے اڑاتے اور موج مستی کرتے ہیں. بلکہ ایسی رنگ ريلياں ہوتیں اور نائٹ كلب سجتے ہیں کہ جنہیں دیکھ اور سن کر ایک عام آدمى  کا سر شرم سے جھک کر رہ جاتا ہے.
0 ابھی ہم ہجری تقویم کے مطابق نئے سال میں داخل ہوچکے ہیں اورآج محرم کی  پہلى تاریخ ہے ،ایک سال کے ختم ہونے اورنئے سال کے داخل ہونے میں ایک مسلمان کے لیے مسرت کا پیغام نہیں ہوتا، خوشی کی سوغات نہیں ہوتی بلکہ احتساب کی دعوت ہوتی ہے ،محاسبہ نفس کا پیغام ہوتا ہے ، اِس میں اس بات کا ایک انسان کو درس ملتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں سوچے کہ وہ کہاں ہے ؟ کیا کررہا ہے ؟ اورکیا کرنا چاہیے تھا ؟ یہ محض ایک سال کا جانا اوردوسرے سال کا آنا نہیں بلکہ ہماری زندگی سے ایک سال کم ہوا ہے اورہم آخرت سے ایک سال قریب ہوئے ہیں ۔ایسے ہی ایک دن آئے گا کہ ہماری زندگی کی آخری گھنٹی بجے گی اورہم ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلے جائیں گے ۔
جی ہاں یہ دنیا دارفانی ہے ،پانی کا بلبلہ ہے ،ہماری زندگی محدود ہے اوریہ روزانہ برف کے جیسے پگھل رہی ہے۔عقلمند وہی ہے جواپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اورکل قیامت کے دن کی تیاری کرلیتا ہے اوربیوقوف وہ ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگا رہتا ہے اوراللہ سے امیدیں باندھے رہتا ہے۔اس لیے ضرورت ہے کہ ہم موت کی سختی کو یادکریں، قبرکی تاریکی کو یاد کریں، منکرنکیر کے سوال کویادکریں، قیامت کی ہولناکی کو یادکریں ،جنت اورجہنم کے حالات پر غورکریں:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ ﴿ 5    سوره فاطر
”اے لوگو!اللہ کا وعدہ برحق ہے ،لہذا دنیاکی زندگی تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اورنہ یہ دھوکے باز تجھے دھوکے میں ڈالنے پائے ،بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے ،اس لیے اسے اپنا دشمن ہی سمجھو "

ایک کمپنی سال گذرنے کے بعد اپنی آمدنی کا جائزہ لیتی ہے ،نفع ونقصان کا تخمینہ کرتی ہے اورپھر اسی کے تناسب سے اگلے سال کے لیے پلاننگ کرتی ہے تو پھر ہمیں بحیثیت مسلمان اورزیادہ پچھلے سال کے بارے میں غور کرنا چاہیے اوراگلے سال کے لیے پلاننگ کرنی چاہیے ۔ ابھی کچھ دیرپہلے ہم اسی موضوع پرنومسلموں کودرس دے رہے تھے، ہم نے ان کے پیچ ایک احتساب نامہ تقسیم کیا جس میں اپنے مثبت اورمنفی پہلو وں کونوٹ کرنے کی دعوت دی ۔ ہم نے خوداپنے لیے بھی ایک پیپررکھا ،پھر عرض کیا کہ آج گھر جانے کے بعد ہم سب ضروری تقاضوں سے فارغ ہونے کے بعد آدھا ایک گھنٹہ کے لیے تنہائی میں بیٹھ جائیں اور سال بھر ہم نے جو اچھے کام کئے انہیں ایک خانے میں نوٹ کریں اور جو بُرے کام کئے انہیں ایک خانے میں نوٹ کریں ،اورپھر ان کی اہمیت اور خطرناکی کے تناسب سے ترتیب دیں،اچھائیوںمیں جدت لانے کی کوشش کریں ،اس کے بعد ایک ایک خامی اوربرائی پر غورکریں ،اس کے اسباب کو نوٹ کریں اورغورکریں کہ ان سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
 اس لیے ہم اپنے قارئين سے  گذارش کریں گے کہ وہ آج کی رات اس نسخہ کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دیں ،اسی انداز سے اپنا محاسبہ کریں اورآئندہ کے لیے لائحہ عمل تیار کریں ….پھر ہمارے اندراگر یہ تصورآجائے کہ اللہ تعالی سن رہا ہے اور دیکھ رہاہے، فرشتے ہمارے ایک ایک عمل کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں ، جن اعضاءکو ہم نے لذت پہنچانے کے لیے گناہ کیاتھا وہ اعضاء وجوارح ہمارے خلاف گواہی دیں گے بلکہ یہ زمین بھی ہمارے خلاف گواہی دے گی جہاں پر ہم نے گناہ کا کام کیا تھا تو ضرور ایک انسان گناہوں سے بچنے لگے گا ۔
 اللہ ہم سب کی اصلاح فرمائے اورخاتمہ ہوتو ایمان پر خاتمہ فرمائے آمین یا رب العالمین
مکمل تحریر >>

لا الہ الا اللہ معنى ، مفهوم اور تقاضے


  حضرت نوح علیہ السلام کی وفات کا جب وقت قریب ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں۔میں تمہیں دوچیزوں کا حکم دیتا ہوں،اوردوچیزوں سے منع کرتا ہوں،میں تمہیں لا الہ الا اللہ کا حکم دیتا ہوں،اس لیے کہ ساتوں زمین اورساتوں آسمان اگرترازوکے ایک پلڑے میں رکھ دئیے جائیں اورلا الہ الا اللہ ایک پلڑے میں رکھ دیاجائے تو لا الہ الااللہ کا پلڑا بھاری ہوجائے گا ۔ اوراگر ساتوں زمین اورساتوں آسمان ایک مبہم حلقہ بن جائے تولا الہ الا اللہ انہیں توڑ دے گا اورمیں تمہیں ’سبحان اللہ وبحمدہ ‘کہنے کا حکم دیتا ہوں اس لیے کہ وہ ہرچیز کی تسبیح ہے ،اوراسی کے ذریعے مخلوق کو روزی دی جاتی ہے ۔ اورمیں تم کو شرک اورتکبر سے منع کرتا ہوں ۔    (اس حدیث کو امام بخاری نے الادب المفرد میں بیان کیاہے )

اس حدیث پر غورکیجئے کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کووفات کے وقت لا الہ الا اللہ کی وصیت کررہے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اسے معمولی مت سمجھنا ،لا الہ الا اللہ کا پوری کائنات مقابلہ نہیں کرسکتی ۔اگراسے وزن کرنے کے لیے ترازوکے ایک پلڑے میں ساتوں زمین اورساتوں آسمان رکھ دئیے جائیں اوردوسرے پلڑے میں لا الہ الا اللہ رکھ دیاجائے تو لا الہ الااللہ کا پلڑا بھاری ہوجائے گا ۔ اوراگر ساتوں زمین اورساتوں آسمان ایک مبہم حلقہ بن جائے تولا الہ الا اللہ انہیں توڑ دے گا۔
اللہ اکبر ....یہ ہے لا الہ الا اللہ کی عظمت .... اورکیوں نا ہوکہ اسی کے لیے اللہ پاک نے جن وانس کو پیدا کیا،زمین وآسمان بنایا،رسولوں کو بھیجا اورکتابیں اُتاریں ،جنت وجہنم بنایا،سارے انبیاءنے اسی کی طرف دعوت دی ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب دعوت کا آغاز کرتے ہیں تو اسی کی طرف بلاتے ہیں ،آپ کا یہی نعرہ تھا : یاایھا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا ”اے لوگو! لاالہ الا اللہ کہہ لو ، کامیاب ہوجاو ¿ گے “۔

اس یہودی لڑکے کو دیکھیں جسے موت سے کچھ دیر پہلے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لاالہ الااللہ کی تلقین کی ،ادھر لا الہ اللہ کہتا ہے ،اورادھر اس کی روح نکل جاتی ہے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکلتے ہیں تو آپ کا چہرہ خوشی سے دمک رہا ہوتا ہے اورآپ کی زبان پہ یہ الفاظ ہوتے ہیں الحمدللہ الذی انقذہ بی من النار اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے ذریعہ اسے آگ سے بچا لیا ۔کیوں؟ اس لیے کہ من کان آخرکلامہ لا الہ الا اللہ دخل الجنة جس کی آخری گفتگو لا الہ الا اللہ ہوگی وہ جنت میں داخل ہوگا ۔
 دوسری طرف ابوطالب کو دیکھیں کہ اس کی موت کا وقت ہے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم باربار اسے اس کلمہ کی تلقین کررہے ہیں لیکن اس کا اقرارنہ کرنے کی وجہ سے جہنمی ٹھہرتا ہے ۔
 تیسری طرف اسامہ کودیکھیں کہ دشمن قابومیں ہے ، تلوار اٹھا رکھی ہے ،لا الہ الا اللہ بول دیتا ہے ،سوچتے ہیں کہ یہ تلوار کے ڈر سے بولا ہے ،بالآخر اسے قتل کردیتے ہیں ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصہ ہوتے ہیں اسامہ کے اس عمل پر ....کہتے ہیں اقتلتہ بعدان قال لا الہ الا اللہ لا الہ الا اللہ کہنے کے باوجود تم نے اسے قتل کردیا ،کہتے ہیں کہ یارسول اللہ اس نے ڈر سے کلمہ پڑھا تھا :آپ کہتے ہیں :کیاتم نے اس کا دل چیرکر دیکھاتھا ،فکیف بلا الہ الا اللہ اذا جاءت یوم القیامة ،لا الہ الا اللہ کا کیاکرسکوگے جب اللہ کے دربارمیں شکوی کرے گا .... 

 یہ وہ کلمہ توحید ہے جواسلام کی پہلی بنیادہے ،جسے ایک غیرمسلم بولتا ہے تومسلمان بن جاتا ہے،پنجوقتہ نمازوں میں اسے ہرمسلم بولتا ہے ،ہر اذان میں سنتا ہے ،کیا اس لفظ میں کوئی جادوہے کہ ایک انسان کو غیرمسلم سے مسلمان بنادے رہا ہے ، کیا بات ہے اس کلمہ میں ۔ کیا اثر ہے اس لفظ کا ؟ کیاخوبی ہے اس لفظ میں ؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کلمہ توہم سب کو یاد ہے ،لیکن بہت کم لوگ ہیں جن کو اس کا صحیح معنی بھی معلوم ہوگا،توچلئے آئیے ....جانتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ کامعنی کیاہوتا ہے ؟
کلمہ لاالہ الا اللہ دولفظوں سے مل کربناہے ،یا یہ کہہ لیجئے کہ لا الہ الا اللہ کے دوپیلرس ہیں نفی اوراثبات 
پہلا پیلر نفی ہے :لا الہ نہیں ہے کوئی سچا معبود ۔ یہ ہرطرح کے شرک کا انکارکردیتا ہے،اوراللہ کے علاوہ ہر چیز کی عبادت کو باطل ٹھہراتا ہے ،
دوسرا پیلر اثبات ہے : الا اللہ یہ ثابت کرتا ہے کہ عبادت کی مستحق ذات اگر کوئی ہے تو وہ صرف اللہ ہے ۔
جیسے کوئی کہے کہ روم میں کوئی نہیں ہے سوائے احمد کے ....اس کا مطلب یہ ہوا کہ احمد کے علاوہ کوئی دوسرا روم میں ہے ہی نہیں ....اس میں کوئی شک رہ ہی نہیں جاتا ....توجب ہم کہتے ہیں لا الہ الا اللہ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عبادت کے لائق اورکوئی ہے ہی نہیں سوائے اللہ تعالی کے ۔ اس میں پہلے شرک اورکفرکی نفی ہے اس کے بعد اللہ کے لیے عبادت کو ثابت کیاگیاہے ۔ اس طرح لا الہ الا اللہ کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ لامعبودبحق الا اللہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا عبادت کے لائق نہیں ۔ گویا لا الہ الا اللہ کا مطلب یہ ہوا کہ اس بات کا عقیدہ اوراقرار کہ اللہ کے علاوہ کوئی صحیح عبادت کے لائق نہیں ہے ۔
عبادت کیاہے ؟ العبادة اسم جامع لکل مایحبہ اللہ من الاقوال والاعمال الظاہرة والباطنة عبادت نام ہے ہر اس ظاہری اورباطنی قول وعمل کا جسے اللہ تعالی پسند فرماتا ہے ۔لہذا عبادت ہروہ کام ہوا جو کسی مخصوص ہستی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیاجائے یااس کی ناراضگی کے ڈرسے کیاجائے ،اس لیے صرف نماز،روزہ ،حج ،زکاة ، ہی عبادات نہیں ہیں بلکہ کسی مخصوص ہستی سے دعا اورالتجا کرنا ،اس کے نام کی نذر ونیاز دینا ،اس کے سامنے ہاتھ بھاندھے کھڑا ہونا،اس کا طواف کرنا اوراس سے امید وخوف رکھنا وغیرہ یہ سب عبادات ہیں جن کوخالص اللہ کے لیے انجام دینا ضروری ہے ۔ہم ہررکعت میں سورہ فاتحہ کے اندر یہی اقرار کرتے ہیں کہ ایاک نعبد وایاک نستعین اے اللہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں ۔اورتشہد میں یہی دعا کرتے ہیں کہ التحیات للہ والصلوات والطیبات ”ہرقسم کی قولی ،بدنی اورمالی عبادات اللہ تعالی ہی کے لیے ہیں ۔“ 
قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لاشریک لہ وبذلک امرت وانااول المسلمین ،لاشریک لہ وبذلک أمرت وأنا أول المسلمین ۔ اے میرے نبی فرمادیجئے ! بیشک میری نماز اورمیری قربانی،اورمیری زندگی اورموت صرف اللہ کے لیے ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں ،مجھے اسی بات کا حکم دیاگیاہے اورمیں سب سے زیادہ فرمانبردارہوں۔ 

الہ کیاہے ؟ الہ کا معنی ہے وہ معبود جو عبادت کا حق رکھتا ہو ،کس بنیاد پرعبادت کا حق رکھتا ہو ....ان صفات کی بنیاد پر جس سے وہ متصف ہے ....اوریہ ذات اللہ کی ہے ،انسان سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس کے نفع اورنقصان کا مالک کون ہے ،جب وہ جان لیتا ہے کہ اللہ ہی نے اسے پیدا کیا،اس سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا،وہی روزی دیتا ہے ،وہی پالتا ہے ، وہی کائنات پر حکمرانی کررہا ہے ، وہی ہربھلائی کا اختیار رکھتا ہے، وہی ہرنقصان سے بچاسکتا ہے ،اس کا دل ، دماغ، جگر، گردہ، غرضیکہ جسم کا ہرحصہ اللہ ہی کے قبضہ وقدرت میں ہے ، جب تک وہ چاہتا ہے یہ تمام اعضاءصحیح کام کرتے ہیں اورجب وہ چاہتا ہے اس کو موت دے دیتا ہے ،عزت دینا ،ذلت دینا ،اولاد دینا سب اسی کے ہاتھ میں ہے تواس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں اللہ تعالی سے شدید محبت پیدا ہوجاتی ہے ،اس کا تعلق اللہ سے ایسا ہی ہوجاتا ہے جیسے ایک دودھ پیتے بچے کا اپنی ماں کی گود سے ۔ ٭ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا ٭ وہ اللہ پر بھروسہ اورتوکل کرتا ہے ۔ اللہ کے ہر حکم اورفیصلے پر صبر کرتا ہے ،اللہ کے عذاب سے خوف محسوس کرتا ہے ،اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ۔ عبادت کے سارے کام اللہ کے لیے انجام دینے لگتا ہے ،پریشانیوںمیں اسی سے لولگاتاہے،مشکلات میں اسی کو پکارتا ہے ،اسی کے پاس پناہ طلب کرتا ہے اوراسی کی محبت میں سکون پاتا ہے ۔ 
اوریہی ہے لا الہ الا اللہ کا تقاضا کہ اللہ کے علاوہ ہر چیز کی عبادت کو چھوڑ دیاجائے ،اورعبادت کے سارے کام اللہ کے لیے شروع کردئیے جائیں ،اب اگر کوئی لا الہ الا اللہ کہتا ہو لیکن عبادت کے کچھ کام غیروںکے لیے بھی کرتا ہو مثلاً کسی غیر کو مشکل کشا سمجھتا ہے،حاجت روا مانتاہے،کسی انسان ،پیر فقیر کی قبروںپر سجدے کرتا ہے،ان کے لیے نذریں مانناہے،ان کی قبروں پر جانورذبح کرتا ہے تو گویا اس نے لا الہ اللہ کے تقاضا کو پورا نہیں کیا ۔ 
ذلک بان اللہ ھوالحق وأن ما یدعون من دونہ ھو الباطل” یہ اس لیے کہ اللہ تعالی ہی حق ہے اور وہ اللہ کے علاوہ جس کی پوجا کرتے ہیں وہ باطل ہے ۔“

محترم قارئین ! لا الہ الا اللہ کا اقرار کب صحیح ہوگا ؟ کب مانا جائے گا کہ ایک آدمی لا الہ الا اللہ کو صحیح طریقے سے اپنا رہا ہے ،اس کی شرطیں کیا ہيں؟ اس میں چھ شرطوں کاپایاجانابہت ضروری ہے :
علم : یعنی بولنے والے کو اس کلمہ کا معنی پتہ ہو اوراس کا جو تقاضا ہے کہ ”اللہ کے علاوہ ہرایک کی عبادت ترک کردینا “ اسے وہ جانتا ہو۔ فاعلم أنہ لا الہ الا اللہ ”جان لو کہ اللہ کے علاوہ اورکوئی معبودبرحق نہیں ۔ “ 
یقین: یعنی بولنے والے کے دل میں اس کے تعلق سے ذرا برابر شک نہ ہو ،یا لا الہ الا اللہ کا جو تقاضا ہے کہ ”اللہ کے علاوہ ہرایک کی عبادت ترک کردینا ‘ اس کے تعلق سے اس کے دل میں کسی طرح کا شک نہ ہو ۔ انما المو ¿منون الذین آمنوا باللہ ورسولہ ثم لم یرتابوا (الحجرات 15) بیشک مومن وہ ہیں جو اللہ پر اوراس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں پھر اس میں کسی طرح کا شک نہیں کرتے ۔ 
 اخلاص : یعنی اللہ کی رضاچاہتے ہوں اس کلمہ کے ذریعہ ،اللہ تعالی نے فرمایا: وما ا ¿مروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین (البینة ۵) ان کو یہی حکم ملا تھا کہ دین کو خالص کرکے اس کی عبادت کریں ۔ 
 سچائی : یعنی اپنے دل کی سچائی سے اس کی گواہی دے ،اس کی زبان اس کے دل کی موافقت کر رہی ہو ۔ ومن الناس من یقول آمنا باللہ وبالیوم الآخروماھم بمؤمنین ہے ۔ (البقرة 8) لوگوںمیں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پراوریوم آخرت پر ایمان لائے ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں ۔ 
محبت : یعنی اس کلمہ سے محبت ہو ،اس کے پڑھنے والے سے محبت ہو ،اورجو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اوراہل ایمان سے بغض رکھتے ہیں ان سے بغض ہو والذین آمنوا اشد حبا للہ ایمان والے اللہ سے شدیدمحبت رکھنے والے ہوتے ہیں ۔ 
 قبول : قبول کا مطلب ہے کسی چیز کودل کی خوشی سے لے لینا، اوریہاں مراد ہے کہ کلمہ توحیداوراس کا جو تقاضا ہے اسے سراورآنکھوں سے قبول کرلینااوران میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرنا ۔ اللہ پاک نے ایسی قوم کی خبر دی ہے جس نے لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کردیا تو یہ اس کی ہلاکت کا سبب بنا: انا کذلک نفعل بالمجرمین انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون (الصافات34۔35) ہم مجرموں کو ایسا ہی بدلہ دیاکرتے ہیں ،جب ان سے کہا جاتا تھا کہ لا الہ الا اللہ کہہ لو تو تکبر کرتے تھے ۔
تابعداری اوراطاعت : یعنی لا الہ الا اللہ اوراس کے تقاضے کا ظاہری اورباطنی طورپر تابع ہوجائے ۔ مطلب یہ کہ اللہ نے جن چیزوں کا حکم دیاہے انہیں کرنے لگ جائے اورجن چیزوں سے روک دیاہے ان سے رک جائے ۔ وأنیوا الی ربکم وأسلموا لہ من قبل أن یاتیکم العذاب ثم لا تنصرون (الزمر54) اوراپنے رب کی طرف رجو ع کرواوراس کے تابعداربن جاو ¿ ،اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جاسکے ۔ 

محترم قارئین ! یہاں پر ایک بہت بڑی غلط فہمی جو پائی جاتی ہے لا الہ الا اللہ کے ترجمہ کے تعلق سے ....اسے بھی واضح کردینا بہت مناسب ہے .... کچھ لوگ لا الہ الا اللہ کا معنی کرتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا اللہ نہیں ....یا اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا مالک نہیں ....یہ غلط ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیوںغلط ہے ؟اگر ہم لا الہ الا اللہ کا ترجمہ کریں کہ اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا اللہ نہیں ،یا اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا مالک نہیں تو اس میں کیاحرج ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا کہنے سے اسلام کو دوسرے مذاہب سے کوئی امتیاز حاصل نہیں ہوگا ،اس لیے کہ دنیا کے اکثر مذاہب مانتے ہیں کہ خالق ومالک اورمدبر اوپر والا اللہ ہے ۔خودزمانہ جاہلیت کے مشرکین کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ،وہی رزق دیتا ہے ،وہی مارتا ہے ،وہی جلاتا ہے ،اوروہی کائنات کی تدبیر کررہا ہے ۔اللہ تعالی نے فرمایا: قل من یرزقکم من السماءوالا ¿رض أمن یملک السمع والأبصار ومن يخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ومن یدبر الأمرفسیقولون اللہ آپ کہہ دیجئے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اورزمین سے رزق پہنچاتا ہے یاوہ کون ہے جو آنکھوںاورکانوںپر پورا اختیار رکھتا ہے ،یاوہ کون ہے جو کانوں اورآنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ،اوروہ کون ہے جو زندے کو مردے سے نکالتا ہے اورمردے کو زندہ سے نکالتا ہے اوروہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے ؟ضرور وہ یہی کہیں گے کہ اللہ ۔ تو ان سے کہئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے ؟ ۔ یہی نہیں بلکہ وہ صدقہ بھی کرتے تھے ،حج بھی کرتے تھے ،عمرہ بھی کرتے تھے ،اوراللہ کے ڈرسے بہت سارے حرام کاموںکو ترک بھی کرتے تھے لیکن جس بنیادپر وہ مشرک اورکافر ٹھہرے وہ یہ کہ عبادت کو خالص اللہ رب العالمین کے لیے ثابت نہیں کیا ۔ کہ اللہ کے علاوہ کسی سے مددنہیں مانگی جاسکتی ،اللہ کے علاوہ کسی کومشکل کشا اورحاجت روانہیں سمجھا جاسکتا ۔ قرآن نے خود ان کے عقیدہ کو نقل کیا سورہ زمرآیت نمبر3 والذین اتخذوامن دونہ اولیاءمانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفا اورجو لوگ اس (اللہ ) کے سوا اولیاء بنا رکھے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں ۔ یہی بات سورہ یونس آیت نمبر18میں بھی کہی گئی کہ ویعبدون من دون اللہ مالایضرھم ولاینفعھم ویقولون ھولاء شفعاءنا عنداللہ وہ اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کونفع پہنچا سکیں اورنہ نقصان اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں ۔ 

کچھ لوگ نادانی کی بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی ذات بہت اونچی ہے ،اس تک ہماری بات ڈائرکٹ نہیں پہنچ سکتی ،اللہ تک پہنچنے کے لیے واسطے کی ضرورت ہے ،جیسے بادشاہ سے ملنا ہوتو پہلے اس کے مقربین سے ملنا پڑتا ہے ۔ اللہ کی ذات کے بارے میں یہ سوچ بالکل غلط ہے ،اوراسی سوچ کی بنیاد پر دنیا میں شرک پھیلا ہے ،اللہ تعالی کو اس کی کمزورمخلوق پر قیاس نہیں کیاجاسکتا ۔ مثال کے طورپر بادشاہ جہاں پر بیٹھا ہوا ہے وہاں سے نہ اپنی پوری رعایاکو دیکھ سکتا ہے اورنہ بغیر ذریعہ کے ان کی بات کو سن سکتا ہے ،اورپھر اسے اپنی حفاظت کے لیے بڈی گارڈ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ تعالی ان چیزوںسے پاک ہے اورہرحال اورہرجگہ اپنی مخلوق کو دیکھتا بھی ہے اورہرکسی کی بات کو ڈاٹرکٹ سنتا بھی ہے ،بندے اوراللہ کے بیچ میں کوئی گیپ ، کوئیDistence اورکوئی دوری نہیں ہے ،وہ تو انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ، اس لیے اللہ کی ذات کو مخلوق پر قیاس کرنا جائز نہیں فلا تضربوا للہ الأمثال ان اللہ یعلم وأنتم لاتعلمون اللہ تعالی کے لیے مثالیں مت بناؤ ،اللہ خوب جانتا ہے اورتم نہیں جانتے ۔ 

محترم قارئین ! یہ ہے کلمہ لا الہ اللہ کا مفہوم ،شرائط اورتقاضے ....اب اگر کوئی آدمی اللہ تعالی کی ذات میں یا اس کی صفات میں یا اس کی عبادت میں کسی غیرکو شریک ٹھہراتا ہے تو گویا وہ لا الہ الا اللہ کے خلاف چل رہا ہے ،اوریہی شرک ہے ۔یعنی اللہ تعالی کی ذات ،یااس کی صفات یا اس کی عبادت میں کسی غیر کو شریک ٹھہرانا ۔ اورشرک بہت بڑا ظلم ہے ،اس لیے کہ یہ اللہ تعالی کی حق تلفی ہے ،توحیدبہت بڑا عدل ہے اورشرک بہت بڑا ظلم ہے ۔ظاہر ہے کہ اللہ کا خالص حق دوسروںکودے دینا ظلم نہیں تو اورکیا ہے ۔ اللہ پاک نے فرمایا: ان الشرک لظلم عظیم شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔شرک سے سارے اعمال برباد ہوجاتے ہیں ولقداوحی الیک والی الذین من قبلک لئن أشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخاسرین (الزمر65) یقیناً تیری طرف بھی اورتجھ سے پہلے کے نبیوں کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگرتونے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہوجائے گا ۔ اور یقیناً تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔بلکہ اگر کسی شخص کی مو ت شرک کی حالت میں ہوگئی تو اس کی معافی بھی نہیں ہے اللہ تعالی نے فرمایا: ان اللہ لایغفر أن یشرک بہ ویغفرمادون ذلک لمن یشاء(سورة نساء48) بیشک اللہ تعالی اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو نہیں بخشتا اوراس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ۔ 


مکمل تحریر >>

اسلام كےمحاسن اور اس کے تئیں ہماری ذمہ داریاں

اسلام ایک آفاقی اورعالمگیر دین ہے جس کی تعلیمات کسی خاص جگہ ،کسی خاص قوم ، یاکسی خاص زمانے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کا دین ہے جو قیامت کے دن تک دنیا کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ قرآن خود اپنا تعارف کراتا ہے ھدی للناس قرآن رہنمائی ہے ساری انسانیت کے لیے ....ان ھو الا ذکر للعالمین ۔قرآن نصیحت ہے ساری دنیاوالوںکے لیے .... تبارک الذی نزل الفرقا ن علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا برکت و الی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اُتارا تاکہ یہ ساری دنیا کے لیے ڈرانے والا ہو۔ قرآن آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہتا ہے : وما أرسلناک الاکافة للناس بشیراونذیرا ولکن اکثرالناس لایعلمون (سبا28) ”ہم نے آپ کو سارے انسانوںکے لیے خوشخبری دینے والا اورڈرانے والا بناکر بھیجا ہے ....لیکن اکثرلوگ یہ بات نہیں جانتے ۔“

يہ دین way of life ہے، زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے ....مکمل نظام حیات ہے، زندگی کے ہرشعبے میں رہنمائی کرتاہے ،اس میں کسی طرح کی کمی اوربیشی کی کوئی گنجائش نہیں الیوم اکملت لکم دینکم وا ¿تممت علیکم تعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ”آج میں نے تمہارا دین مکمل کردیا،تم پر اپنی نعمت تمام کردی ،اورتمہارے لیے اسلام کوبحیثیت دین کے پسند کرلیا ۔ یہ دین اتناہی پُرا نا ہے جتنا کہ خود انسان ہے ،اسلام انبیاءورسل کا دین ہے جو پہلے انسان آدم علیہ السلام سے شروع ہوا ،ہرزمانے میں انبیاءورسل آتے رہے ،لیکن جب دنیا ساتویںصدی عیسوی میں اپنی جوانی کو پہنچ گئی تواللہ پاک نے آخری نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم پراس دین کو ختم کرکے قیامت کے دن تک کے لیے محفوظ کردیا ۔
جب اپنی پوری جوانی پہ آگئی دنیا  
جہاں کے واسطے ایک آخری پیام آیا
اس دین کی فطری تعلیم تو دیکھیں کہ یہ ہمیں اپنے خالق ومالک سے ملاتا ہے ،وہ ہماری پیشانی کی قدرکرتا ہے کہ اِسے صرف اُسی اللہ کے سامنے جھکنا چاہیے ۔جوہمارا پیدا کرنے والاہے ،ہم سے پہلے لوگوں کا پیدا کرنے والا ہے ،جس نے زمین بنایا،آسمان بنائی ،سورج چاند بنائے ،ہم پر ہرطرح کی انعامات کی توپھر عبادت بھی توصرف اُسی ایک اللہ کی ہونی چاہیے ۔فلاتجعلوا للہ انداداوا ¿نتم تعلمون 

یہ وہ دین ہے جو انسانوں کو ایک مقصد ایک ہدف اور ایک نصب العین پر جمع کرتا ہے ....جو رنگ ونسل کے فرق کو مٹاکر ساری انسانیت کو ایک کردیتا ہے ....سارے انسانوںکو ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیتا ہے ،جن کے بیچ کوئی بھیدبھاو ¿،نسلی تعصب اورامتیاز نہیں ،اِس طرح اسلام عالمی بھائی چارہ قائم کرتا ہے ۔ یاا ¿یھالناس انا خلقناکم من ذکرو أنثی وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ أتقاکم اے لوگو!ہم نے تم سب کو ایک ہی مردوعورت سے پیدا کیا ہے اورمختلف قبیلوں اورجماعتوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو ،اللہ کے نزدیک تم میں سے بہتر وہ ہے جو اللہ کا سب سے زیادہ ڈررکھنے والا ہو۔ 

یہ وہ دین ہے جس کا راستہ بالکل سیدھا،بالکل واضح اوردوٹوک ہے۔ وأن ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولاتتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے لہذا اسی پر چلواورمختلف راستوں پہ مت لگو ورنہ صحیح راستے سے ہٹ جاؤ گے ۔ترکتکم علی المجحة البیضاءلیلھا کنھارھا لایزیغ عنھا الا ھالک ہم تمہیں بالکل روشن راستے پر چھوڑے جارہے ہیں جس کی رات بھی دن کے جیسے ہے ،جو اُس سے اعراض کرے گا وہ برباد ہوجائے گا۔ 

اسلام ہمیں اعتدال اورتوازن سکھاتا ہے ،اس میں نہ افراط ہے اورنہ تفریط ہے ۔

اسلام دین فطرت ہے ،انسانی طبیعت سے میل کھانے والا دین ہے ....اسلام ترک دنیا،رہبانیت اورجوگی پن کو پسند نہیں کرتا ۔دینداری کے نام پر بیوی بچوں سے الگ ہوجانا جنگلوں میں چلے جانا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے ،اسلام ہمیں معاشرت پسند بناتاہے ، معاشرے میں رہنا اوربیوی بچوںکے حقوق ادا کرنا سکھاتا ہے ۔

اسلام بہت آسان مذہب ہے جس پر چلنا بہت ہی آسان ہے ۔ یریداللہ بکم الیسرولایریدبکم العسر اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے ۔سختی نہیں چاہتا ۔اسلام کی تعلیمات انسان کی طبیعت کی رعایت کرتی ہیں ۔

اسلام کے تمام مسئلے انسانیت کی نجات اور حفاظت کے ضامن ہیں ....اسلام دین کی حفاظت کرتا ہے ،عقل کی حفاظت کرتا ہے ،جان کی حفاظت کرتا ہے ،مال کی حفاظت کرتا ہے ، عزت کی حفاظت کرتا ہے ۔

اسلام ایک ماڈرن اورایٹوڈیٹ مذہب ہے ،ماڈرن اتنا کہ دنیاکی ساری ماڈرنیٹی اسلام کی ماڈرنیٹی کے سامنے قربان ہے ،اوراپٹوڈیٹ اتنا کہ اس کے کسی بھی قانون میںExpiry Date نہیں، زمانے اورجگہ کے فرق سے اس کی تعلیمات کبھی بدل نہیں سکتیں....عقائد ہوں،عبادات ہو، معاملات ہوں،اخلاقیات ہوں،حلال وحرام ہو،حقوق وفرائض ہو ںسب اپنی جگہ پرٹھوس ہیں ۔اِس میں کوئی لوچ نہیں۔ اوررہے بھی کیسے کہ یہ اُتارا ہواہے اس خالق کائنات کا جوانسان کی فطرت سے آگاہ ہے: ألایعلم من خلق وھو اللطیف الخبیرکیاوہی نہ جانے جس نے پیدا کیا اوروہ باریک بیں اورخبر رکھنے والا ہے ۔
   
 اسی لیے ہمارے خالق ومالک کے نزدیک اگرکوئی دین قابل اعتبار ہے تووہ دین اسلام ہے ....ان الدین عنداللہ الاسلام (سورہ آل عمران آیت نمبر19) ” بیشک دین اللہ رب العالمین کے نزدیک اسلام ہی ہے ۔“ ومن یبتغ غیرالاسلام دیناً فلن یقبل منہ وھوفی الآخرة من الخاسرین (سورہ آل عمران آیت نمبر85) ”اورجوکوئی اسلام کے علاوہ کسی اوردین کو اپنائے گا وہ اس سے قبول نہ کیاجائے گا اوروہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوںمیں سے ہوگا ۔“ اورصحیح مسلم کی روایت ہے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والذی نفسی بیدہ لایسمع بی ا ¿حد من ھذہ الا ¿مة یہودی ولانصرانی ثم یموت ولم یو ¿من بالذی ا ¿رسلت بہ الا کان من أصحاب النار قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ،اس امت کا جوکوئی چاہے یہودی ہویاعیسائی ....میری بات سنتا ہے ،اورمیرے پیغام پر ایمان لائے بغیرمرجاتا ہے تو وہ جہنمی ہوگا ۔ 

یہ ہے ہمارا دین ! جس کے ہم ماننے والے ہیں ،جس پراللہ پاک نے ہمیں پیدا فرمایاہے ،اگروہ چاہتا توہمیں کسی غیرمسلم گھرانے میں پیدا کرسکتا تھا ،ہم مورتیوںکے سامنے سرٹیکنے والے ہوتے ،لیکن اس نے ہم پر کرم فرمایا،اپنی ذات کی پہچان عطاکی،اوراتنا بہتردین دیا.

 دین کے تئیں ہماری سب سے پہلی ذمہ داری :
یادرکھیں! اس دین کے تئیں ہماری سب سے پہلی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ ہم اِسے سیکھیں،اِسے جانیں....کیوں؟ ....اس لیے کہ دین سیکھنا ہرمسلمان مردوعورت کی ذمہ داری ہے ۔ہمارے نبی کا فرمان ہے :طلب العلم فریضة علی کل مسلم ”علم کا سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے “۔اس سے مراد دین کا ضروری اوربنیادی علم ہے ۔

علم کیا ہے ؟جہالت کااپوزٹ ہے ،اورکسی جاہل کوبھی یہ بات پسند نہیں ہوتی کہ اُسے جاہل کہاجائے ،اِسی سے آپ علم کی اہمیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں ۔اللہ کی ایک صفت علیم ہے ،یعنی بہت زیادہ جاننے والا ،آدم علیہ السلام کوفرشتوںپر علم کی بدولت برتری حاصل ہوئی ،قرآن کریم میں سب سے پہلی آیت جو نازل ہوئی اس کی شروعات اقرا ¿ سے ہورہی ہے ۔اس میں پڑھنے کا حکم دیاجارہا ہے جو علم کی کنجی ہے ۔
یہ علم ہے جسے سیکھنے کے لیے آدمی نکلتا ہے تواس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیاجاتاہے ، فرشتے اس کے راستے میں پر بچھاتے ہیں ،عالم کے لیے زمین وآسمان کی ساری مخلوق یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی دعا کرتی ہیں ۔اس سے بڑھ کر عظمت ،فضیلت اوربرتری اورکیاہوگی کہ ہمارے لیے فرشتے جو نورانی مخلوق ہیں پر بچھادیں اور سمندرکی مچھلیاں بھی دعا گوہوں۔
علم کی اسی اہمیت کی بنیاد پر اللہ پاک نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اس میں اضافہ کی دعا کرتے رہیں : وقل رب زدنی علماً اورکہتے رہیں کہ اے اللہ میرے علم میں زیادتی فرما۔
 اسلام عمل کرنے سے پہلے علم سیکھنے کا حکم دیتا ہے ،امام بخاری ؒ باب باندھتے ہیں باب العلم قبل القول والعمل ،باب ہے قول اورعمل سے پہلے علم کا ....اس کے ضمن میںیہ آیت پیش کرتے ہیںفاعلم انہ لاالہ الا اللہ ۔جان لو کہ اللہ کے علاوہ اورکوئی معبود برحق نہیں ۔اس سے پتہ چلا کہ ایک مسلمان جاہل نہیں ہوسکتا ۔سب سے پہلے اُسے کلمہ لاالہ الا اللہ کوجاننے کی ضرورت پڑتی ہے،پھروہ مسلمان بنتاہے۔
علم کی یہی اہمیت تھی کہ ہمارے علماءنے دین سیکھنے اورسکھانے میں ریکارڈ قائم کردیا۔ دنیا کی تاریخ میں علماءنے جس قدرمحنت کی کسی نے نہیں کیا ،آج اسلامی کتابوںکے جو ذخیرے پائے جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے ،یہ انہیں علماءکی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ 
پھر دین سیکھنے میں عیب کیاہے ،چاہے ہماری عمر کتنی بھی ہوگئی ہو ،کوئی ضروری نہیںہے کہ آدمی علم کے لیے خود کو پورے طورپرفارغ کرلے ،کام بھی کرسکتا ہے ،اورادھر طالب علم بھی بنارہ سکتا ہے ، اوریہ بات کہنا بالکل غلط ہے کہ ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے ....دین کے لیے اگر ہم ڈائم نہیں نکال سکتے توہماری زندگی کا مقصد ہی جاتا رہا ۔ اورہاں! ٹائم ضرور نکلے گا بس پلاننگ کرنے کی ضرورت ہے ۔
 اس لیے آئیے ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے دین کو سیکھیں گے ۔اوردین سیکھنے کے لیے چارباتوںکوسامنے رکھیں گے ۔ سب سے پہلے ہمارے اندراخلاص ہوگا: ہم اللہ کی رضا کے لیے علم سیکھیں گے۔ مسلسل محنت کریں گے ،اس بات کی بالکل پرواہ نہیں ہوگی کہ ہماری عمر کیا ہے کہ یہ دین کا معاملہ ہے ۔اس سلسلے میں ہمارے اندر فولادی ارادہ ہوگا اوربلندہمتی پائی جائے گی ....اورچھوتھے نمبرپر اسلام سیکھنے میںادب اورسلیقہ کالحاظ رکھیں گے ۔

دین سیکھنے کی ترتیب :
صحابہ کرام علم کے رسیا تھے ،ان میں سے بعض لوگ ہمیشہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھاکرتے تھے ،وہ سوالات کرکے بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے علم سیکھاکرتے تھے ،صحابہ کرام کو یہ بات بھی پسند ہوتی تھی کہ دیہاتی لوگ آئیں ،آپ سے دین کے بارے میں پوچھیںاس طرح ان کوسیکھنے کا موقع ملے ،ایک دن کی بات ہے ،عادت کے مطابق صحابہ کرام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میںبیٹھے ہوئے تھے ،اچانک مجلس میں ایک اجنبی شخص آگیا،مجلس میں سے کوئی آدمی اُسے پہچان نہیں رہا ہے ،سفید لباس پہنے ہوئے ہے، بال بالکل سیاہ ہے ،اورعجیب بات یہ ہے کہ اس پر سفر کی نشانی بھی ظاہر نہیں ہورہی ہے ۔سب حیران ہیں کہ یہ کون آدمی ہے ؟ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیااورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیااوراپنی دونوںہتھیلیاں دونوںرانوںپر رکھ لیں ۔پھراُس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوکر کچھ سوالات کیے ۔ 
پہلا سوال تھا : اے محمد! مجھے بتائیے اسلام کیاہے ؟ آپ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ زبان سے تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ،اورمحمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔نمازقائم کر ،زکاة ادا کر ، رمضان کے روزے رکھ ،اوراگر تجھے طاقت ہے یعنی سواری اورزادراہ میسر ہے تو بیت اللہ کا حج کر ۔ اُس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا: 
حضرت عمرؓ کہتے ہیں ہمیں تعجب ہوا کہ یہ کیسا آدمی ہے جو پوچھ بھی رہا ہے اورپھر اُس کی تائید بھی کررہا ہے ۔کیونکہ پوچھتا تو وہ ہے جسے معلومات نہ ہو اور تائید وہ کرتا ہے جسے معلومات ہو ....دونوںایک ساتھ جمع ہو رہا تھا تو ظاہر سی بات ہے حیرانی ہوگی ہی ۔ 
اُس نے دوسرا سوال کیا : اے نبی! مجھے بتائیے ایمان کیاہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لائے ،اس کے فرشتوںکو مانے ،اُس کی کتابوںکو تسلیم کرے ، اس کے رسولوںپر تیرا ایمان ہو ،یوم آخرت پر تیرا یقین ہو اورتقدیر کے اچھا اور بُرا ہونے پر بھی تو ایمان رکھے ۔ اُس آدمی نے کہا : آپ نے سچ فرمایا: 
اُس نے تیسرا سوال کیا : اے نبی مجھے بتائیے احسان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ا ¿ن تعبداللہ کا ¿نک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک تواللہ کی عبادت یوںکرگویا تو اُسے دیکھ رہا ہے ۔ اوراگرتو اللہ کواپنی آنکھوںکے سامنے دیکھنے کا تصورنہیں کرسکتا توکم سے کم یہ تصور رہے کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے ۔ 
اُس نے چوتھا سوال کیا : اے نبی مجھے بتائیے قیامت کب آئے گی ؟آپ نے فرمایا: ماالمسﺅل عنھا با ¿علم من السائل ”جس سے سوال کیاگیاہے وہ سوال کرنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا ۔یعنی اس کے بارے میں مجھے تم سے زیادہ علم نہیں ہے ۔اُس نے عرض کیا : توپھرمجھے قیامت کی نشانیاں ہی بتادیجئے ۔آپ نے فرمایا: قیامت کی نشانی یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دینے لگے گی ، اورننگے پاو ¿ں،ننگے بدن غریب اورمفلس ،بکریوںکے چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں مقابلہ بازی شروع کردیں گے ۔
 صحابہ کرام کی اس مجلس میں اس نے یہی چار سوالات کئے کہ اسلام کیا ہے ؟ایمان کیاہے ؟احسان کیا ہے ؟اورقیامت کب آئے گی ؟پھر وہ اٹھ کر چلاگیا، سارے صحابہ مجلس میں بیٹھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ دیکھ رہے ہیں کہ کب پتہ چلے اس آدمی کا ....جو آیا،پوچھا اورچلتا بنا ۔ کچھ ہی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرفاروق ؓ سے پوچھا : اے عمر!تم جانتے ہو یہ سوال کرنے والا کون تھا ؟ عمرفاروق نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: فانہ جبریلُ أتاکم یعلمُکم دینَکم ”یہ جبریل امین تھے جو تمہیں تمہار ادین سکھانے آئے تھے “۔ 

یہ حدیث حدیث جبریل کے نام سے مشہورہے ،اس حدیث میں جبریل علیہ السلام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے ہیںاورترتیب سے دین سکھاتے ہیں ، سب سے پہلے اسلام کی بنیاد بتائی جارہی ہے ،اُس کے بعد ایمان کی بنیاد پرروشنی ڈالی جارہی ہے ،اس کے بعد احسان کی کیفیت کو واضح کیاجارہا ہے ،اوراخیرمیں قیامت کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے ۔دین سیکھنے کا یہی طریقہ سب سے بہتر طریقہ ہے ،تب ہی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اخیرمیں فرمایا فانہ جبریلُ ا ¿تاکم یعلمُکم دینَکم کہ ’یہ جبریل امین تھے جو تمہیں تمہار ادین سکھانے آئے تھے ‘۔ 

مکمل تحریر >>

نماز : اهميت، فضيلت اور فلسفہ


ایک آدمی اگرکسی کمپنی میں ملازمت اختیار کرتا ہے تواس کی ذمہ داری کیا بنتی ہے ؟ یہی نا کہ ڈیوٹی کے ٹائم میں ڈیوٹی دے ، تب ہی اس کی ملازمت برقرار رہ سکتی ہے ، آپ اپنے بچے کا داخلہ سکول میں کراتے ہیں تو بچے کو کورس دیاجاتا ہے اب اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ روزانہ کلاس میں حاضر ہو، سبق کو یاد کرے ، تب ہی وہ اسکول کا طالب علم سمجھا جائے گا۔ اورامتحان میں پاس ہوگا ۔ بالکل اُسی طرح جب ہم نے کلمہ شہادت کا اقرار کیا اوراپنے آپ کو مسلمان کہا تو گویا ہم اسلام کی عمارت میں داخل ہوگئے ، اسلام کے گھر میں داخل ہونے کے بعد ہم پر پہلی ذمہ داری یہ عائد ہوئی کہ ہم نماز ادا کریں جواس عمارت کا بنیادی پیلر ہے ، اگر پیلر گر گیا تو عمارت قائم نہیں رہ سکتی ،اُسی طرح نماز اگرضائع ہونے لگی تو اسلام کا وجود مشکل ہے، اس لیے کہ ہم نے زبان سے تو اقرار کیا کہ ایک اللہ کی عبادت کریں گے لیکن اپنے عمل سے اُس کا انکار کیا گویا ویسے ہی ہوا کہ ہم نے جاب تو حاصل کرلیا لیکن ڈیوٹی میں نہیں گئے ،یا بچے کا اڈمیشن توکرادیا لیکن اسے کبھی اسکول نہیں بھیجا ....اب آپ خود غورکیجئے کہ ایسی ملازمت اورایسے اڈمیشن کا کچھ فائدہ ہوگا ....جی نہیں ....بالکل اُسی طرح یہ نمازایک مسلمان کی پہچان ہے ،اسلام اورکفرمیں فرق اورتمیز کرنے والی چیز ہے ، ہرعاقل وبالغ مسلمان مردوعورت پرفرض ہے، اگر اسلام میں توحید کی حیثیت دل کی ہے تو نماز کی حیثیت دماغ کی ،بغیر نماز کے اسلام کا تصور اس جسم کی طرح ہے جو دماغ کی دولت سے محروم ہو ۔اِسی لیے اہل طائف جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے ،اُن کا ایک وفد اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں آیا اوراسلام قبول کیا توانہوں نے آپ سے درخواست کی کہ ہمیں نماز کی رخصت دی جائے ، کیا اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  نے ان کو نماز کی رخصت دے دی ؟ نہیں، آپ نے ان سے فرمایا: لاخیرفی دین لیس فیہ رکوع (ابوداو ¿د) ”اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں نماز نہ ہو “۔ 
جی ہاں! کلمہ شہادت کے اقرارکے بعد ہی نماز فرض ہوجاتی ہے اورجب تک جان میں جان ہے نمازکسی بھی حالت میں معاف نہیں ،یہاں تک کہ ایک بیمار کھڑا ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتا توبیٹھ کر پڑھے گا ، اگربیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھے گا ،اگر اُس سے بھی عاجز ہو تو اشارے سے پڑھے گا خلاصہ یہ کہ جب تک عقل ساتھ دے رہی ہو ترک نماز کسی بھی صورت میں جائز نہیں ۔ ہاں!ایک عذر ہے ....لیکن اللہ تعالی نے اس عذر سے مردوںکو عافیت بخشی ہے اوروہ ہے عورتوںکے مخصوص ایام یعنی حیض ونفاس کاخون ۔

نماز کی اہمیت کے پیش نظر اللہ پاک نے اس کا ذکر اپنی کتاب میں ۹۹مرتبہ کیا ہے ، اور جوچیز جتنی اہمیت رکھتی ہے اسی قدر اس کا اہتمام ہوتا ہے ،اللہ نے سارے احکام فرش پر اُتارے ،روزے کا حکم فرش پر اُتارا،زکاة کا حکم فرش پر اُتارا ،حج کا حکم فرش پر اُتارا ،پورا قرآن فرش پر اُتارا،پوری شریعت فرش پر اُتاری لیکن جب نماز کا تحفہ دینے کی باری آئی تو اللہ پاک نے اپنے نبی کو عرش پر بلایا....
غزوہ احزاب کے موقع سے جنگی مشغولیت کی وجہ سے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی نماز جاتی رہی اورآپ بروقت نماز عصر ادا نہ کرسکے تو آپ کو اِس کا اتنا افسوس ہوا کہ آپ نے اُن کے حق میں بددعا فرمائی ملأ اللہ بیوتھم وقبورھم نارا کماحبسونا وشغلونا عن الصلاة الوسطی اللہ ان کے گھروں اوران کی قبروں کوآگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر سے مشغول کردیا ، حالانکہ یہی نبی ہیں کہ اہل طائف نے لہولہان کردیاتھا پھر بھی اُن کے حق میں ہدایت کی دعا کی تھی جبکہ یہاں بد دعا کررہے ہیں ....کیوں؟ اس لیے کہ نماز آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی،آپ کو جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو نماز کی طرف جلدی کرتے تھے اوربلال ؓ سے فرماتے کہ بلال! اذان دو تاکہ نماز کے ذریعہ راحت ملے ۔ 

نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ کوئی ایسی عبادت نہیں جس کی ادائیگی کو ترک کرنے پر بچے کو مارنے کا حکم وارد ہوا ہو سوائے نماز کے ،چنانچہ پیارے نبی نے فرمایاکہ اپنے بچے کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دیں اوردس سال کی عمر میں نماز کی پابندی نہ کرنے پر ان کی پٹائی کریں ۔ 
معراج کی رات اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  کا گذر جبریل علیہ السلام کے ساتھ ایسی قوم سے ہوا جن کے سر پتھر سے توڑے جارہے تھے ،پھر وہ درست ہوجاتے ،پھر توڑے جاتے ،حضور پاک  صلى الله عليه وسلم  نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایاکہ یہ وہ لوگ ہیں جونماز میں سستی کرتے تھے ۔ 

کل قیامت کے دن سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں پوچھ گچھ ہونے والی ہے ،اگر نماز ٹھیک نکلی تو سارے اعمال ٹھیک اوراگرنماز خراب نکلی تو سارے اعمال رد کردئیے جائیں گے ۔انسان نے کتنی بھی اچھائیاں کی ہوں لیکن نماز جو ایک مسلمان کی پہچان ہے یہ نہ رہی .... تو ہمیں ٹرخا دیاجائے گا ۔ بلکہ جب جنتی جنت میں اورجہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو جنتی اپنے سامنے جہنمیوںکی چلاہٹ اورآہ وفغاں کو سن کر پوچھیں گے ماسلککم فی سقر ؟ تمہیں جہنم میں کس چیز نے داخل کیا ؟ جانتے ہیں اُن کا پہلا جواب کیا ہوگا ؟ قالوا لم نک من المصلین کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوںمیں سے نہیں تھے ۔ 
نماز کی اسی اہمیت کے پیش نظر اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  یات طیبہ کے آخری دن جبکہ آپ سخت تکلیف سے دوچار تھے ،اورلمحہ بلمحہ تکلیف بڑھتی ہی جارہی تھی ،ایسی کربناک حالت میں صحابہ کرام کو وصیت فرماتے ہیں الصلاة الصلاة وماملکیت ایمانکم نماز کی پابندی کرتے رہنا ،نماز کا خیال رکھنا اور اپنے ماتحتوںکے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ۔ 
فرض کیجئے کہ کسی اچھے انسان نے نہایت تنگی کی حالت میں آپ کی مدد کی ہو ،اُس کے تئیں آپ کا رویہ کیسا ہوگا ؟ ظاہر سی بات ہے کہ آپ کے دل میں اُس کی محبت بیٹھ جائے گی ،اورآپ کی زبان پر ہمیشہ اس کا نام رہے گا ،اب خدارا ہمیں بتائیے ! جس ذات نے انسان کو معمولی پانی کے ایک قطرہ سے بنایا،نہایت تنگ جگہ سے نکالا ،وہ ننگا بدن تھا ،ننگا پیر تھا ،خالی ہاتھ تھا ،کمزوراورنحیف تھا ،عقل وشعور سے عاری تھا ،اللہ پاک نے اس کی تربیت کی ،عقل وشعوردیا،صحت وعافیت دی ، بیوی بچے دئیے ، مال ودولت دیا، ہر طرح کی ظاہری اورباطنی نعمتوں سے مالامال کیا ، اور سب سے بڑھ کر اپنی ذات کی پہچان دی ....کیا اِن نعمتوں کا کوئی حق ادا کرسکتا ہے ....قطعا ً نہیں ....نماز دراصل اسی منعم حقیقی کے حق کا اعتراف اور اس کے احسانات کا شکریہ ہے ۔ 

 اللہ کوہماری نماز کی ضرورت نہیں ہے ، وہ ہرچیز سے بے نیاز ہے ، اگر وہ نماز کی اہمیت بتاتا ہے ،اوراسے ہماری ذمہ داری ٹھہراتا ہے تو گویا وہ ہماری مدد کررہا ہے ،ہماری بھلائی چاہتا ہے ،آئیے ذرا ہم ورزش اور جسمانی صحت کے اعتبار سے نمازکے فلسفہ پر غورکرتے ہیں : 
سنت نبوی اورجدید سائنس کے مولف حکیم محمد طارق محمود صاحب نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ : 
”نماز ایک بہترین ورزش ہے ،سستی کاہلی اور بے عملی کے اس دورمیں صرف نمازہی ایک ایسی ورزش ہے کہ اگر اس کو صحیح طرز پر پڑھاجائے تودنیا کے تمام دکھوںکا علاج بن سکتی ہے ، نماز کی ورزشین جہاںبیرونی اعضاءکی خوشنمائی کا ذریعہ ہیں وہیں اندرونی اعضاء مثلاً دل، گردے،جگر، پھیپھرے، دماغ، آنتیں، معدہ ، ریڑھ کی ہڈی ، گردن ، سینہ اورتمام قسم کے گلینڈز کی نشونما کرتی ہیں بلکہ جسم کو سڈول اورخوبصورت بناتی ہیں ۔ یہ ورزشیں ایسی ہیں جن سے عمرمیں اضافہ ہوتا ہے اورآدمی غیرمعمولی طاقت کا مالک بن جاتا ہے ۔ ایسی بھی ہیں جن سے چہرے کے نقش ونگار خوبصورت اورحسین نظر آتے ہیں ۔ “ 
حکیم محمدطارق محمودصاحب اپنی اسی کتاب میں دوسری جگہ فرماتے ہیں : ”ایک صاحب اے آرقمر اپنے یورپ کے سفرنامہ میں لکھتے ہیں کہ میں نمازپڑھ رہا تھا ،ایک انگریز مجھے کھڑا دیکھتا رہا ،جب میں نماز سے فارغ ہوا تو وہ مجھ سے کہنے لگا : ورزش کا یہ طریقہ تم نے میری کتاب سے سیکھا ہے ؟ کیونکہ میں نے بھی اسی طریقہ سے ورزش کرنے کا طریقہ بتایاہے ، جو شخص اس طریقہ سے ورزش کرے گا وہ کبھی بھی طویل ،پیچیدہ اورسنسی خیز امراض میں مبتلا نہ ہوگا ،پھر اس نے وضاحت کی کہ اگرکھڑا آدمی فوراً سجدے کی ورزش میں چلاجائے تواس سے اعصاب اوردل پر بُرا اثر ہوتا ہے ،اس لیے میں نے اپنی کتاب میں یہ بات خاص طورپر تحریر کی ہے کہ پہلے کھڑے ہوکر ورزش کی جائے جس میں ہاتھ بندھے ہوئے ہوں ،یعنی قیام ،پھر جھک کر ہاتھوںاورقمر کی ورزش کی جائے ،یعنی رکوع اورپھر سرکو زمین سے لگاکر ورزش کی جائے یعنی سجدہ ۔یہ ورزش صرف ماہرین ہی کراسکتے ہیں ۔ 
جب اُس نے یہ بات کہی تو نمازی صاحب فرمانے لگے کہ میں مسلمان ہو ںاورمیرے اسلام نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ،میں نے آپ کی کتاب ہرگز نہیں پڑھی اورایسا میں دن میں کم ازکم پانچ بار کرتا ہو ں۔ یہ بات سنتے ہی وہ انگریز ماہر حیران رہ گیا اوران سے اسلام کے بارے میں معلومات لینے لگا ۔ 
حکیم صاحب آگے لگھتے ہیں : ایک پاکستانی ڈاکٹرماجد زماں عثمانی یورپ میں فزیوتھراپی میںاعلی ڈگری کے لیے گئے ،جب وہاں ان کو بالکل نماز کی طر ح ورزش پڑھائی اورسمجھائی گئی تو یہ اُس ورزش کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہم نے تو آج تک نماز کو ایک دینی فریضہ سمجھا اورپڑھ لیا لیکن یہاں تو عجیب وغریب انکشافات ہیں ۔ 
اورایسا کیوں نا ہو کہ یہ کورس اُتا را ہوا ہے اُس ذات باری کا جوانسان کی فطرت سے آگاہ ہے ، ألا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر کیاوہی نہ جانے جس نے پیدا کیا اوروہ باریک بیں اور خبر رکھنے والا ہے ۔ 

اسلام اجتماعیت کا قائل ہے ،اس لیے مردوں کوحکم دیاگیاکہ مسجد میں جاکر نماز جماعت سے اداکریں ،تاکہ اسلام کی شان وشوکت قائم ہو ،معاشرے کے افراد کے بیچ محبت اورخیرسگالی کا ماحول بنے ،رات ودن کی پانچ بارملاقات کے ذریعہ ایسا مثالی معاشرہ وجودمیں آئے جس کا ہرفرد ایک دوسرے کا خیرخواہ ہو ۔ البتہ یہ حکم مردوں کے ساتھ خاص ہے ،عورتوںکو اس حکم سے الگ رکھا گیا ہے ،کیونکہ عورت بذات خود پردہ ہے ،اسی لیے شریعت اسلامیہ نے عورتوںکے لیے افضل ٹھہرایا کہ گھر میں نماز پڑھیں ۔ ہاں ! اگر وہ بھی مسجد جاناچاہیں تو اُن کوروکا نہیں جاسکتا لیکن گھر میں اُن کا نمازادا کرنا افضل ہے ۔ 
مردوں کے لیے نماز باجماعت کی بہت اہمیت ہے ،اللہ تعالی نے فرمایا: وارکعوا مع الراکعین (البقرة 43) یعنی نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھو۔ اورحضورپاک صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا: صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرین درجة (بخاری ) یعنی جماعت کی نماز تنہا نماز پر ستائس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔ 
ایک مرتبہ تو اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  نے جماعت سے پیچھے رہ جانے والوں پر غصہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ جو لوگ جماعت میں حاضر نہیں ہوتے ،ان کے ساتھ ان کے گھر وں کو جلاکر راکھ کردوں ۔ لیکن اس ارادے کو اس لیے نافذ نہیں کیا گیا کہ گھر میں عورتیں ہوتی ہیں اوربچے بھی ہوتے ہیں جن پر جماعت فرض نہیں ہے ۔ 
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  کی خدمت میں ایک نابینا آیا او ر اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ لیس لی قائد یقودنی الی المسجد اے اللہ کے رسول ! میرا کوئی قائد نہیں جو مجھے مسجد تک لے آیا کرے ، توآپ نے اُسے رخصت عطا فرمادی ،جب وہ جانے کے لیے پیٹھ پھیراتو آپ نے اُسے بلایا اورپوچھا : ھل تسمع النداءبالصلاة کیا تو نماز کی اذان سنتا ہے ،اس نے کہا : ہاں! تو آپ نے فرمایا: توپھر تمہارے لیے مسجد میں آنا ضروری ہے ۔
ان احادیث سے جماعت کی نماز کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں ،اِسی لیے صحابہ کرام کے زمانے میں یہ تصوربھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ مسلمان جماعت سے پیچھے رہے ، یہی حال اللہ والوں کا رہا ، امام التابعین سعیدبن مسیب ؒ فرماتے ہیں کہ پچاس سال سے میری تکبیر اولی فوت نہ ہوئی ۔ ابراہیم التیمی فرماتے ہیں: اذا رأیت الرجل یتھاون فی التکبیرة الاولی فاغسل یدک منہ (حلیہ الاولیاء4/215) جب کسی شخص کو تکبیر اولی سے سستی کرتے دیکھو تو اُس سے اپناہاتھ دھل لو ۔ 

طبقات ابن سعد میں عمربن عبدالعزیز کے بارے میں آتا ہے کہ ان کو خبرملی کہ اُن کے ایک لڑکے نے جو وطن سے کافی دور تعلیم پارہے تھے ،حجامت بنوانے میں ایسا مشغول ہوئے کہ انہوں نے فلاں دن عصر کی نماز جماعت سے ادا نہیں کی ....یہ بات سن کر خلیفہ وقت کو اتنا غصہ آیا کہ انہوںنے استاد کے نام ایک خط لکھا اورایک درہ بھیجا کہ ترک جماعت پراس کو اسی درہ سے اس قدر پیٹے کے مارتے مارتے درہ ٹوٹ جائے تاکہ آئندہ ترک جماعت کی ہمت نہ کرسکے ۔ 

اللہ اکبر ! کیسے وہ لوگ تھے ،اورکتنا خیال ہوتا تھا ان کو نمازوں کا .... اوراپنے بچوں کی تربیت کا .... اُن کے مقابلہ میں ہم اپنے دل کو ٹٹولیں اورمن سے پوچھیں کہ ہم کہا ںہیں اور وہ کہا ں.... کیاہم خود جماعت سے نمازیں ادا کرلے رہے ہیں .... اوراگر ہم واقعی نماز باجماعت کے پابند ہیں توکیا ہم نے اپنے بچوں کو اس کی تاکید کی ....؟ یاایھاالذین آمنوا قوا انفسکم وأھلیکم نارا ”اے ایمان والو! اپنے آپ کو اوراپنے گھر والوںکو جہنم کی آگ سے بچاؤ ۔ “ 

جب ایک آدمی وضوکرکے گھر سے نکلتا ہے فرض نماز کی ادائیگی کے لیے اور مسجد کی طرف قدم اٹھاتا ہے ،تو اللہ کی رحمت دیکھیں کہ اُس کے ایک قدم پرایک گناہ مٹتا اور ایک درجہ بلند ہوتا ہے ۔ صحیح مسلم کی حدیث کے الفاظ ہیں کانت خطواتہ احداھا تحط خطیئة والا ¿خری ترفع درجة یعنی اس کا ایک قدم اس کے گناہ کو مٹا تا ہے اور دوسرا قدم ایک درجہ بلند کرتا ہے ۔ پھر جب ایک نمازی مسجد میں قدم رکھتا ہے اورنماز کے انتظار میں بیٹھتا ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں اللھم صل علیہ اللھم ارحمہ اے اللہ اس پر رحمت فرما،اے اللہ ! اس پر مہربان ہوجا ۔ اوراس کا بیٹھنا بھی نماز میں شامل کرلیا جاتا ہے ۔اورمسند احمد اورطبرانی کی روایت میں اللہ کے رسول ا نے فرمایا: ویکتب من المصلین من حین یخرج من بیتہ حتی یرجع الیہ یعنی جس وقت وہ اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلتا ہے ،اس وقت سے لے کر اپنے گھر لوٹنے تک نماز کی حالت میں لکھ دیاجاتا ہے ۔ 

 پانچ وقت کی نمازوں میں کچھ نمازیں ایسی ہیں جو خاص فضیلت رکھتی ہیں جیسے عصر کی نماز ،عشاءکی نماز اور فجر کی نماز .... 
صحیح مسلم میں حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول انے فرمایا: من صلی العشاءفی جماعة فکا ¿نما قام نصف اللیل ومن صلی الصبح فی جماعة فکأنما صلی اللیل کلہ ”جس نے جماعت سے عشاءکی نماز پڑھی تو اس نے گویا آدھی رات قیام کیا اورجس نے جماعت سے صبح کی نماز ادا کی گویا اس نے ساری رات نماز پڑھی ۔ 
اورکیا آپ جانتے ہیں کہ نماز عصر اور فجر کی باجماعت ادائیگی کا ثواب کیا ہے ؟ جہنم سے نجات اورجنت میں داخلہ ص.... صحیح مسلم میں اللہ کے رسول ا نے فرمایا: من صلی البردین دخل الجنة ” جوشخص دو ٹھنڈی نمازیں یعنی عصر اور فجر پڑھتا ہے وہ جنت میں جائے گا ۔ اورصحیح مسلم کی ایک دوسری حدیث میں اللہ کے رسول ا نے فرمایا: لن یلج النار احد صلی قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازیں یعنی فجر اورعصر پڑھتا ہے وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل ....نہیں ہوگا ۔
عصر اورفجر ان دونمازوں کی پابندی خصوصی اہتمام کے بغیر ممکن نہیں ،جہاں تک عصر کا مسئلہ ہے تو اُس وقت کاروباری مصروفیات کا ہجوم ہوتا ہے ،یا انسان نیند میں گودمیں آرام کرتا ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے نماز کے لیے اٹھتا طبیعت پر گراں گذرتا ہے ۔ بخاری ومسلم کی ایک روایت میں توفرمایاگیا : الذی تفوتہ صلاة العصر فکا ¿نما وتر اھلہ ومالہ ”جس کی نماز عصر فوت ہوگئی گویا کہ وہ اپنے اہل وعیال اورمال میں گھاٹا اٹھایا ۔ 
نماز فجر کی اہمیت اس لیے کہ آدمی اللہ کی خاطر نرم بستر ،نیندکی لذت اور طبیعت کے آرام کو تج کر نماز کے لیے بیدار ہوتا ہے ۔ اس لیے وہ اللہ کی حفاظت میں آجاتا ہے ۔من صلی الصبح فھو فی ذمة اللہ ” جس نے صبح کی نماز ادا کرلی وہ اللہ کی امان میں آگیا ۔ 
سبحان اللہ !کیا مقام ہے اس بندہ مومن کا کہ دن کا آغاز اپنے رب کی نگہبانی میں کررہا ہے ، پھروہ تازہ دم ہوتا ہے ، چست اور پاکیزہ طبیعت بن جاتا ہے۔اس کے برعکس جوشخص ٹی وی کے فحش پروگراموں کا مشاہدہ کرتے کرتے نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے، نہ اللہ کا نام لیا نہ سوتے وقت کے اذکار کا اہتمام کیا‘ نتیجہ ظاہر ہے کہ شیطان اس پر قابو پا لیتاہے ، تھپکیاں دے دے کر سورج نکلنے تک سلائے رکھتاہے۔ چنانچہ جب وہ طلوع آفتاب کے بعدبیدار ہوتا ہے توفاصبح خبیث النفس کسلان خبیث طبیعت اور سست وکاہل بن جاتا ہے۔اللہ کو بھی اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اوردن بھراللہ کی امان سے محروم رہتا ہے۔
اب ہمیں اپنامحاسبہ کرنا ہے کہ ہم کس حد تک نماز فجر کی محافظت کررہے ہیں ،جس نماز سے اللہ کی امان حاصل ہوتی ہے ،طبیعت کو شادابی ملتی ہے ،جس نماز پرجنت میں داخلہ اورجہنم سے نجات موقوف ہے ، جس نماز سے دیدار الہی نصیب ہوگی،ایسی نماز سے اکثریت کی لاپرواہی المیہ نہیں تواورکیاہے....جب انسان کی پکار ہوتی ہے ،اور ڈیوٹی کا وقت آتا ہے تو ہم پوری مستعد ی کے ساتھ سڑکوںپر پر پِل پڑتے ہیںخواہ چاربجے صبح ہی کیوںنہ ہو ،تاہم جب اللہ کی پکار ہوتی ہے تو ہم بے پروا ہ خواب خرگوش میں مست رہتے ہیں ،ایسا کیوں؟
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے     
ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
ظاہر ہے کہ یہ فکرآخرت میں کمی کا نتیجہ ہے ،اللہ کی گرفت سے جب انسان مطمئن ہوجاتا ہے تو اس کے احکام کو پامال کرنے میں ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کرتا ، اس لیے سب سے پہلے اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ ہم سے بہت بڑی کوتاہی ہو رہی ہے پھر ہلکی سی عزیمت درکار ہے ،نمازِ فجر کی پابندی آسان ہوجائے گی۔سوتے وقت مسنون اذکار کا اہتمام کرلیں ،سونے سے قبل نمازفجر کے لیے بیداری کا پختہ ارادہ ہو ، رات کو سویرے سونے کی عادت ڈالیں، بیدار کرنے کے لیے الارم گھڑی کا استعمال کریں یا کسی ساتھی کو جگانے کی تاکید کردیںاور گناہوں سے دوری اختیار کریں۔
آئیے اخیر میں اللہ پاک سے ان نمازوںکی پابندی کا عہد کرتے ہوئے اُن کی ادائیگی کے لیے توفیق کا سوال کرتے ہیں : اوردعا کرتے ہیں کہ 
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل 
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے 
پیدا دل ویراں میں پھر شورش محشر کر  
اس محمل خالی کو پھر شاہد لیلی دے 
اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشاں کو 
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرمادے 
آمین یا رب العالمین ۔ صلی اللہ علی نبینا محمدوعلی آلہ صحبہ اجمعین 

مکمل تحریر >>