بدھ, ستمبر 04, 2013

بسم اللہ کی جگہ پر 786 لکھنا

سوال: بسم اللہ کی جگہ پر 786 لکھنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب:

اسلامی آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ مسلمان اپنے ہرکام میں اللہ کا نام لے ، احادیث میں ہراہم کام کو بسم اللہ سے شروع کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ خطوط وغیرہ میں بھی پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی تھی کہ اسے "بسم اللہ الرحمن الرحیم" سے شروع کیا جائے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف شاہانِ مملکت کے نام جو مکتوبات ارسال کیے ان میں "بسم اللہ الرحمن الرحیم" لکھی گئی ۔ ہمارے برصغیر پاک وہند میں بسم اللہ کی جگہ پر 786 کا ہندسہ لکھنے کا رواج پا چکا ہے حالانکہ شریعت میں اعداد الفاظ کا بدل قطعاً نہیں بن سکتے اسی لیے اگر کوئی 786 لکھتا ہے تو اسے کوئی اجروثواب ملنے والا نہیں ہے ۔
اگر کوئی کہے کہ بے ادبی سے بچنے کے لیے لکھتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اندیشہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی تھا پھر بھی آپ نے بسم اللہ سے ہی اپنے رسائل کی شروعات فرمائی حالانکہ مخاطب کفار ومشرکین تھے۔ اوراگر ایسا کچھ اندیشہ پایا ہی جا رہا ہو توعدد لکھنے کی کیاضرورت ہے مکتوب لکھتے وقت زبان سے بسم اللہ کہہ لینا کافی ہے ۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ حروف اور اعداد کو ایک دوسرے کا بدل قرار دینے کا تصور یہودیوں کی طرف سے آیا ہے.
 پھرمسلمانوں کی روزمرہ کی زندگی میں بھی اعداد کو الفاظ کا بدل سمجھنے کا تصور نہیں پایا جاتا کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر کسی کا نام انور ہے تو اس کو257صاحب کہہ کرنہیں بلایا جاتا ،اگر کسی کو مولانا صاحب کی بجائے 128صاحب کہہ کر بلایا جائے تو یقیناً وہ ناراض ہوجائیں گے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ پاک کے مقدس نام کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے ۔

پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ786 جسے بسم اللہ کا بدل قرار دیا جاتا ہے ہندوؤں کے معبود کرشن کے نام کا نعرہ ”ہرے کرشنا“ کے اعداد کا مجموعہ بھی ہے تو آخر ایسے عدد کا استعمال کیوں کیا جائے جس میں دوسروں کے معبودوں کا بھی عدد آرہا ہو ۔
مکمل تحریر >>

ہدایت نئی زندگی ہے


  أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ             ﴿الأنعام: 122                   
ترجمہ:
”کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح ان سے نہ نکلتا ہو؟ کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں“ ۔
تشریح: 
زیر نظر آیت کریمہ میں اللہ پاک نے کافراورمومن کی مثال بیان کرتے ہوئے کافرکومردہ اورمومن کو زندہ قراردیاہے ۔ جو اللہ کی ذات کا عرفان نہیں رکھتے ، توحید کی نعمت سے محروم ہیں ایسے لوگ گو زمین پر چلتے پھرتے ہیں،کھاتے پیتے ہیں ، ہنستے کھیلتے ہیں، دنیا کے ظاہری امورکا گہرا علم رکھتے ہیں ، چاندستاروں تک کی تسخیر کررہے ہیں‘ لیکن اس کے باوجود ان کے پاس زندگی نہیں ہے، وہ زندگی کی نعمت سے محروم ہیں،ان کی زندگی چوپایوں کی سی ہے بلکہ چوپايوں سے بھی بدتر ہیں۔ (الفرقان 44) ایک انسان زندگی اسی وقت حاصل کرسکتا ہے جب وہ اللہ کی ذات کا عرفان حاصل کرلے اورخالص ایک اللہ کے سامنے اپنی پیشانی خم کردے ۔گویاکہ اللہ اوراس کے رسول کی صحیح معرفت ہی اصل زندگی ہے ۔اللہ پاک نے فرمایا:
” اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے“۔ (الانفال 24) ۔
اسی لیے اللہ پاک نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر وحی کو روح سے تعبیر کیا ہے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا:
” اور اسی طرح (اے محمد ) ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے(جوقرآن ہے ) “۔(سورة الشوری 52)
 اللہ پاک نے اس آیت میں وحی کو روح کا نام دیاہے کیونکہ اسی کے ذریعہ زندگی ملتی ہے۔آج اس دنیا میں کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس قابلیت ہے، دولت اورشہرت ہے لیکن وہ زندہ ہوکر بھی مردہ ہیں کہ وہ اسلام کی نعمت سے محروم ہیں جو اصل زندگی ہے ۔ اسی لیے جن لوگوں کو اللہ پاک ہدایت نصیب فرماتا ہے اصل میں انہیں نئی زندگی ملتی ہے ۔اورجن کویہ نئی زندگی مل گئی ان کی خوش نصیبی کا کیا کہنا کہ وہ مردوں کی صفوں سے نکل گئے ، اب انہیں اسلام کاایساچمکتا ہوا نور مل چکا ہے جس کی روشنی میں وہ زندگی کی راہ طے کرتے ہیں ۔آخر ایسے لوگوں کا مقابلہ ان گم گشتہ راہوں سے کیسے ہوسکتا ہے جو جہالت وضلالت کی تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ پاک نے فرمایا:
 ”اِن دونوں فریقوں(مومن وکافر) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی اندھا بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا ہو ، کیا یہ دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تم (اِس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے؟“ (سورة ھود : 24)
جی ہاں! جس طرح اندھا بہرا دیکھنے اورسننے والے کے جیسے نہیں ہوسکتا اسی طرح جسے اللہ پاک نے ہدایت نصیب فرمادی، اسے شعوری زندگی مل ہوچکی ہے ، اب ایسا مومن ضلالت وگمراہی کی تاریکیوںمیں ٹامک ٹوئیے مارنے والوں کے جیسے کیسے ہوسکتا ہے ؟ ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ شیطان نے کفارومشرکین کے اعمال کو ان کے سامنے خوشنما بنادیاہے جس کی وجہ سے وہ اس وہم میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ ہمارے اعمال اہل ایمان سے اچھے ہیں ۔


مکمل تحریر >>

تاریخ وفات پر ہرسال دعوت كا اهتمام

0
سوال:
کسی کے مرنے کی تاریخ پر ہرسال دعوت کی جائے تو کیا یہ جائز ہے ۔ اور اللہ تعالی کہاں ہے ؟ (شاہد – شویخ، كويت)
جواب:
کسی کے مرنے کی تاریخ پر ہرسال دعوت دے کر کھلانا پیارے نبی صلى الله عليه وسلم اور آپ کے پیارے اصحاب رضوان الله عليهم اجمعين سے ثابت نہیں ۔ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کے کتنے رشتے دار آپ کی زندگی میں فوت پا گئے لیکن آپ نے ان کا یوم وفات نہیں منایا ۔
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَاللَّـهَ كَثِيرًا ﴿الأحزاب:21 ﴾
"در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے ، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے "

 اگر ہم وہ کام کریں جسے پیارے حبیب نے نہیں کیا یا کرنے کا حکم نہیں دیا تو وہ مردود ہوگا ۔ اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد. (بخاری ومسلم )
"جس نے دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جو دین میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے" ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے :
من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھو رد۔ (مسلم)
"جس نے کوئی ایسا کام کیا جوہماری شریعت کے مطابق نہیں وہ مردود ہے" ۔
 ہاں مردے کو ثواب پہنچانا ہے تو ان کے لیے صدقہ وخیرات جتنا چاہیں کریں لیکن کوئی دن یا کوئی وقت خاص کرکے نہیں ۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ ان کے لیے دعائیں بھی کریں ۔

مکمل تحریر >>

منگل, ستمبر 03, 2013

بچوں کو دودھ پلانے کی مدت

سوال:

کیا بچے کو دو سال سے زیادہ دودھ پلاسکتے ہیں ؟

جواب:

 اللہ پاک نے بچے کو دودھ پلانے کی مدت دو سال طے کی ہے ،اللہ تعالی نے فرمایا: 
وَالوَالِدَاتُ یُر ضِعنَ أولاَدَہُنَّ حَو لَینِ کَامِلَینِ لِمَن  أرَادَ أن یُتِمَّ الرَّضَاعَةَ  (البقرة233 ) 
”اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اُس شخص کےلئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے“۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ رضاعت کی مدت دوسال مقرر کی گئی ہے البتہ دوسال مکمل کرنا نہ ضروری ہے اور نہ ہی دوسال سے زائد دودھ پلانے میں ممانعت ہے ،بچے کی مصلحت کودیکھتے ہوئے مدت میں کمی اور بیشی بھی کی جاسکتی ہے ۔ کیونکہ آیت میں مدت کی تحدید استحبابی ہے واجبی نہیں ۔

شادی کے بغیرجسمانی تعلقات
 سوال : ایک غیرمسلم لڑکی کو مسلمان بناکر اس کے ساتھ رہ رہا ہوں،کورٹ میں شادی کرنے کے لیے گیا تو قاضی نے کاغذات کا مطالبہ کیا،اب مجھے کیا کرنا چاہیے ؟
جواب: یہ بہت بڑا جرم ہے جس کا آپ ارتکاب کررہے ہیں، غیرمسلم لڑکی جسے اللہ پاک نے ہدایت دی تھی اسے زنا میں ملوث کررکھاہے اور خود زنا میں پڑکر اللہ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں ۔ اسلام میں زناکارمرد وعورت کی سزا اگر شادی شدہ ہے تو سنگسار ہے،اور اگر شادی شدہ نہیں تو سوکوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔
پھرایک مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ زانیہ سے شادی کرے اور نہ کسی مومنہ کے لیے جائز ہے کہ وہ زانی سے شادی کرے ۔ (سورة النور 3)
لہذا پہلی فرصت میں آپ دونوں پر لازم ہے کہ اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں،اپنے عمل پر نادم ہوں،اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پختہ عزم کریں ۔سچی توبہ کے بعد دونوں علیٰحدہ ہوجائیں اور ایک مہینہ تک علیٰحدہ رہیں ، اس بیچ کویت کے نظام کے مطابق اپنے ملک سے لڑکی کے غیر شادی شدہ ہونے کا سرٹیفکٹ منگوالیں، پھر کورٹ میں جاکر شرعی شادی کرکے جائز طریقے سے شہوت کی تکمیل کریں اور خوشگوار ازدواجی زندگی گذاریں ۔

خطہ برصغیر میں اسلام کی آمد
سوال : ہندوستان میں سب سے پہلے اسلام کی دعوت کس نے دی ؟
جواب : وفات نبوی کے چار سال بعد حضرت عمرفاروق رضي الله عنه کے زمانہ  خلافت میں سن 15 ہجری میں اسلام ہندوستان پہنچ گیا تھاجبکہ امیرالمو ¿منین عمرفاروق  نے حضرت عثمان بن ابوالعاص رضي الله عنه کو بحرین اور عمان کا والی مقرر کرکے بھیجا تو حضرت عثمان بن ابوالعاص رضي الله عنه  نے اپنے بھائی حکم بن ابوالعا ص کو ہندوستان کی ایک بندرگاہ ”تھانہ کی طرف روانہ کیا۔ اور موجودہ جغرافیائی اعتبار سے یہ بندرگاہ بمبئی کے قریب واقع ہے۔ عصرحاضر کے مشہور مؤرخ محمداسحاق بھٹی صاحب کے مطابق خطہ ¿ برصغیر میں پچیس صحابہ  کرام تشریف لائے ، ظاہر ہے کہ جب انہوں نے ہندوستان میں قدم رکھا تو اسلام کی طرف اپنے قول وفعل سے دعوت بھی دی ۔ گویا ہندوستان میں سب سے پہلے دعوت دینے والے صحابہ  کرام ٹھہرتے ہیں ۔ البتہ پوری قوت کے ساتھ اسلام اس سرزمین پر سن 93 میں آیا جس وقت محمد بن قاسم  نے سندھ پر حملہ کیا ۔

خودسوزی کا حکم
سوال :جمہوری ممالک میں غم وغصہ کے اظہار اور مظلوموںکے حقوق کی بازیابی کے لیے خودسوزی یا بھوک ہڑتال کا کیا حکم ہے؟
جواب: یہ بات بالکل مسلم ہے کہ دنیا میں انسانوں پر بڑی زیادتیاں ہورہی ہیں جن پر سکوت اختیار کرنا جائز نہیں، بلکہ انفرادی واجتماعی طورپر اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے ۔ تاہم اس کے لیے خودسوزی کرنا یا بھوک ہڑتال کرنا قطعاً مناسب نہیں ،ایشیائی ممالک میں اس قبیل کی خودسوزی کی جو کوششیں ہورہی ہیں یہ قطعاً جائز نہیں اور کتاب وسنت کی روشنی میں کبیرہ گناہ ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے ﴾ وَلاَ تَقتُلُوا  ا نفُسَکُم ان َّ اللّہَ کَانَ بِکُم   رَحِیماً﴿(سورة النساء29) ” اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے“ ۔
ارشاد ربانی ہے  وَلاَ تُلقُوا بِا یدِیکُم اِلَی التَّہلُکَةِ ﴿ (سورة البقرة 195) ”اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو “۔ کیونکہ اپنے نفس کا مالک وہ نہیں ہے بلکہ اسے یہ نفس بطور امانت ملی ہوئی ہے جس کے تئیں اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ موت تک اس کی حفاظت کرتا رہے اور شرعی قاعدہ ہے الغَایَةُ الشَّر عِیَّةُ لاتُبَرِّرُالوَسِیلَةَ المُحَرَّمَةَ شرعی مقصد کے حصول کے لیے حرام وسیلہ اختیار کرنا جائز نہیں۔
اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم خودکشی کرنے والے کے جنازے کی نماز نہیں پڑھتے تھے جیساکہ صحیح حدیث میں حضرت جابربن عبداللہ   سے روایت ہے کہ ا ُتِیَ النَّبِیَ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفسَہ بِمَشَاقِصَ فَلَم  یُصَلِّ عَلَیہِ (مسلم)
”اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کے پاس ایک ایسے آدمی کو لایاگیا جس نے خود کو چھری سے قتل کرلیا تھا ‘آپ نے اس کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی “۔
مکمل تحریر >>