سوال:
کہیں کہیں پر
دیکھنے میں آتا ہے کہ جماعت کے دوران کچھ لوگ بعض آیات کے اختتام پر ان کا جواب
بلند آواز سے دیتے ہیں ۔ کیا اس کی کوئی شرعی حیثیت ہے ؟
جواب:
امام جب بعض آیتیں تلاوت کرتا ہے تو مقتدی حضرات ان آیات
کا جواب دیتے ہیں جیسے سبح اسم ربک الأعلی کے جواب میں سبحان ربی الاعلی، ألیس
اللہ باحکم الحاکمین کے جواب میں بلی وأنا ذلک من الشاھدین کہنا، اسی طرح سورة
غاشیہ کے اختتام پر اللھم حاسبنی حسابا یسیرا کہنا ۔
اس مسئلے سے متعلق تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ سبح اسم ربک
الأعلی کی تلاوت کے وقت صرف امام سبحان ربی الأعلی کہہ سکتا ہے، لیکن مقتدی کے لیےا
س کا جواب دینا ثابت نہیں ہے ۔ باقی دوسری
آیات بعد يا ان كى تلاوت سن کر جواب دینا ثابت نہیں ہے چاہے امام جواب دے یا مقتدی دونوں میں
سے کسی کا جواب دینا صحیح نہیں ہے….کیو ں کہ اس سلسلے میں وا رد شده جملہ روایات کمزور اور ضعیف ہیں ۔ اس لیے ان آیات کی تلاوت
کے وقت زور سے جواب دینا محل نظر ہے۔