بدھ, اگست 07, 2013

عقیقہ کی مدت


سوال: 
عقیقہ کتنی عمرکا ہونے تک کیا جا سکتا ہے ؟        (علی ۔ کویت)

جواب:
عقیقہ کا تعلق بچپن سے ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل غلام مرتھن بعقیقتہ تذبح عنہ یوم سابعہ ویسمی ویحلق راسہ ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ رہین ہوتا ہے ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے ،اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر حلق کردیا جائے ۔
اس حدیث سے پتہ چلا کہ ساتویں دن عقیقہ کرنا سنت ہے ،اگر ساتویں دن نہ ہوسکے تو چودھویں دن، اگر چودھویں دن نہ ہوسکے تو اکیسویں دن اور اگر اکیسویں دن بھی عقیقہ نہ ہوسکا تو جب چاہے عقیقہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں تک کہ اگرعمردراز آدمی کی طرف سے بھی بچپن میں عقیقہ نہیں ہوا ہے تو وہ اپنی طرف سے عقیقہ کرسکتا ہے ۔ البتہ بلوغت کے بعداس کے والدین عقیقہ کرانے کے مکلف نہیں ہوں گے بلکہ اسے خودکرناہے۔
مکمل تحریر >>

تاریخ کے ایک منفرد انسان جو آخری حالت تک کامیاب رہے

0
سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس مبارک بزم میں میں اپنی بات شروع کروں گا ایک تبصرہ سے ، تبصرہ سنئیے :
آپ تاریخ کے ایک منفرد انسان ہیں جو آخری حالت تک کامیاب رہے ،مذہبی سطح پر بھی اوردنیاوی سطح پر بھی ….“

یہ تبصرہ ایک عیسائی سائنس داں کا ہے، جو مسلمان نہیں غیرمسلم ہے، جس کا نام ہے ڈاکٹر مائیکل ایچ ہارٹ ….اس نے اپنی کتاب The 100 میں انسانی زندگی پر اثر ڈالنے والے دنیا کے سو لوگوں کا ذکر کیا ہے، اوراُن میں پہلے نمبر پر جس عظیم انسان کو رکھا ہے اُنہیں کے بارے میں یہ تبصرہ ہے ۔
کون ہیں وہ ….جن کو ایک عیسائی ….دنیا کا سب سے عظیم انسان مانتا ہے….؟ ان کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے …. یہ وہ انسان ہیں جن کے جیسے زمین پر کوئی پیدا نہ ہوا، تئیس سال کی مدت میں پورے عرب کو بدل کررکھ دیا ،جن کی دعوت دنیا کے کونے کونے تک پہنچی ، پہنچ رہی ہےاورپہنچتی رہے گی ۔ آئیے ہم اس عظیم انسان کو جانتے ہیں ۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم 20 اپریل571 عیسوی میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے ، پیدا ہونے سے پہلے باپ مرچکے تھے ،چھ سال کے ہوئے تو ماں بھی چل بسیں ،آٹھ سال کے ہوئے تو داد ا کا سایہ بھی سر سے اُٹھ گیا،جس کی وجہ سے پڑھ لکھ نہ سکے ،لیکن بچپن سے ہی اچھی طبیعت کے مالک تھے ، بُرائیوں سے آپ کو نفرت تھی، اچھے کام سے پیار تھا، اِسی لیے لوگوں نے آپ کو صادق "سچا" اورامين "امانت دار" کا لقب دے رکھا تھا ۔
چالیس سال کے ہوئے تو جبریل علیہ السلام کے ذریعہ اللہ نے آپ صلى الله عليه وسلم پر قرآن اُتارا ۔ آپ نے لوگوں کو جب ایک اللہ کی طرف بلایا تو سماج والے آپ کے دشمن ہوگئے ،گالیاں دیں ، پتھرمارا، راستے میں کانٹیں بچھائیں، آپ پر ایمان لانے والوں کو ایک دن اوردو دن نہیں بلکہ لگاتار تیرہ سال تک بھیانک تکلیفیں دیں، یہاں تک کہ انہیں اپنے وطن سے نکالا، مدینہ میں پناہ لیا، پھر بھی دشمنوں کی دشمنی میں کمی نہ آئی، آٹھ سال تک اُن کے خلاف لڑائی ٹھانے رہے، لیکن آپ نے اُن سارى تکلیفوں کو برداشت کیا، حالانکہ قوم کے لوگ آپ کو اپنا بادشاہ بنا لینے کو تیار تھے، دولت کے ڈھیر اُن کے قدموں میں ڈالنے کے لیے تیار تھے، شرط یہ تھی کہ وہ لوگوں کو ایک اللہ کی طرف بُلانا چھوڑ دیں ۔
پھرایک دن وہ بھی آیا کہ آپ اپنے وطن پر قبضہ کرچکے تھے، جہاں سے آپ کو نکالا گیا تھا، سار ے دشمن آپ کے قبضہ میں تھے، اگر آپ چاہتے تو ہر ایک سے ایک ایک کرکے بدلہ لے سکتے تھے ، لیکن قربان جائیے نبی رحمت صلى الله عليه وسلم پر کہ آپ نے سب کی معافی کا عام اعلان کردیا…. جانتے ہیں اِس عام معافی کا اثر کیا ہوا ؟ لوگ سوچنے پر مجبورہوئے کہ جس انسان کو ہم نے اکیس سال تک ستایا ، ٹارچرکیا، اورجینا دوبھر کردیا….اگر مال کا لالچی ہوتا ….اگر بادشاہت کی چاہت رکھنے والا ہوتا تو کب نا ہمارا صفایا کردیا ہوتا …. وہ مفاد پرست نہیں، وہ ہماراخیرخواہ ہے ۔ اِس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مکہ فتح ہونے کے وقت مسلمانوں کی تعداد دس ہزار تھی تو دو سال کے بعد مسلمانوں کی تعداد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلتے ہیں توایک لاکھ اورچوالیس ہزار ہوجارہی ہے ۔
دوستو! بزرگو! اور ساتھیو! ہردورمیں انسان کیوں گمراہ ہوا ہے؟ اپنے گرووں اورنبیوں کے اندر کچھ خوبیوں کو دیکھ کر ….اُنہیں اللہ کا درجہ دے دیا ….بھگوان اورگاڈ بنا ڈالا…. ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ کے اشارے سے چاند دوٹکڑے ہوجاتے ہیں ۔ قرآن جیسی معجزانہ کتاب پیش کرتے ہیں حالانکہ آپ پڑھے لکھے نہیں ہیں، جو خود چیلنج دیتی ہے ساری انسانیت کو …. کہ سارے انسان اورجن مل کراُس کے جیسا ایک کلام بھی پیش نہیں کرسکتے ۔ اورتاریخ گواہ ہے کہ آج تک انسان قرآن کے اسلوب میں دوسرا کلام نہ بنا سکا ہے اورنہ صبح قيامت تک بنا سکتا ہے ۔ ذرا غورکیجئے ….ان واضح معجزات کے ہوتے ہوئے کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حق نہیں تھا کہ ان کی پوجا کی جاتی ….؟ یا وہ اپنے معبود ہونے کا دعوی کرتے؟ اگر وہ ایسا دعوی کرتے تو ….وہ دنیا جس نے رام کو ایشور بنادیا، جس نے کرشن کو بھگوان کہنے میں جھجھک محسوس نہ کیا….جس نے مہاتما بدھ کو عبادت کا حقدار مان لیا، جس نے عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مان لیا وہ ایسے عظیم انسان کو ایشور ماننے سے کبھی جھجھک محسوس نہ کرسکتے تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ایسا دعوی کیسے کر سکتے تھے جبکہ وہ اِسی کو ختم کرنے کے لیے آئے تھے، ایک اللہ کی طرف بلانے آئے تھے، آپ تو واضح لفظوں میں کہتے ہیں :
 ”اے لوگو! میں ایک انسان ہوں، تمہیں جیسا “۔
عزيز قارى ! یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو ساری انسانیت کے لیے بھیجے گئے، جن کے آنے کی گواہی ساری مذہبی کتابوں نے دی ،جنہوں نے ایک اللہ کی طرف لوگوں کو بلایا، جنہوں نے مساوات کی تعلیم دی، اوررنگ ونسل کے بھید بھاؤکو مٹایا، جنہوں نے دنيا كوزندگی گذارنے کا ایک نظام دیا ،اورجن کی تعلیم کی بنیاد پر ہرزمانے میں ایک پرسکون سماج كى تشكيل عمل میں آ سكتى ہے ۔
توآئیے اخیرمیں ہم سب عہد کرتے ہیں کہ اپنے نبی کی تعلیم کواپنی آنکھوں کا سرمہ بنائیں گے ۔اورجب تک جان میں جان باقی ہے ان کی عزت کا دفاع کرتے رہیں گے ۔
مکمل تحریر >>

شوہر کی وفات پر عدت گذارنے والی عورت کے احكام

سوال:
شوہر کی وفات پر عدت گذارنے والی عورت کے لیے کون کون سا کام کرنا جائز نہیں ہے ؟  جواب:
ایک عورت کا اگر شوہر مرجاتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ چارمہینے دس دن تک عدت گذارے ۔ اورعدت کے دوران کچھ پابندیاں آجاتی ہیں جو مندرجہ ذيل ہیں :
(1)
 شوہر کی وفات کے وقت جس گھر میں تھی اسی گھر میں رہے، یہاں تک کہ عدت ختم ہوجائے، ہاں! اگر باہر نکلنے کی ضرورت ہو جیسے ڈاکٹر کے ہاں جانا یا بازار سے کچھ خریدنا تو اس کے لیے جاسکتی ہے -
(2)  خوبصورت لباس سے پرہیز کرے،عام لباس استعمال کرے
(3)  کسی طرح کی خوشبو استعمال نہ کرے 
(4 کسی طرح کے زیورات استعمال نہ کرے
(5)  اسی طرح سرمہ اورمہندی کا استعمال نہ کرے ۔

مکمل تحریر >>

ہفتہ, اگست 03, 2013

رمضان کا خلاصہ ، عطر اور نچوڑ

ابھی ہم رمضان کے آخری عشرے سے گذررہے ہیں، جن کے محض  چند دن باقى رہ گئے ہیں،لیکن جتنے دن باقى رہ گئے ہیں وہ نہايت گرانقدر اور بيش قيمت ايام  ہیں.یہ ايام رمضان کا خلاصہ ،عطر اور نچوڑ  ہیں ۔ اللہ والے اِن ایام کے لیے دن گناکرتے تھے، ان دنوں کی ایسی اہمیت تھی اللہ والوں کے ہاں کہ ابن جریر الطبری رحمہ اللہ کہتے ہیں : سلف صالحین رمضان کے آخری دس دنوں کی ہررات غسل کرنا مستحب سمجھتے تھے، ابراہیم النخعی رحمہ اللہ عشرہ اواخرکی ہررات غسل کرتے تھے ۔
ان سب سے پہلے اپنے حبیب کو دیکھیں ! صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں : کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دخل العشر أحیا اللیل وأیقظ أھلہ وجدوشد المئزر (بخارى ومسلم) "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمضان کے آخری عشرے میں داخل ہوتے تو عبادت وریاضت کے لیے کمر کس لیتے، شب بیداری کرتے اور اپنے گھر والوں کو بیدار رکھتے تھے"-
 جی ہاں! محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اِن راتوں میں بھی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے تھے بلکہ گھروالوں کو بھی عباد ت کے لیے بیدار رکھتے تھے
جانتے ہیں کیوں؟ وہ اس متبرک اور باعظمت رات کی تلاش کرتے تھے جسے شب قدر کہا جاتا ہے ،جسے نزول قرآن کی رات کہاجاتا ہے، یہ وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے،  یہ وہ رات ہے جس میں عبادت کی توفیق مل گئی تو83 سال چارمہینے کی عبادت کا ثواب ملا ۔ یہ وہ رات ہے جس کی عبادت پچھلے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے، یہ وہ رات ہے جس میں فرشتے ان کاموں کو سرانجام دینے کے لیے اترتے ہیں جن کا فیصلہ اس سال میں فرمایا ہوتا ہے ۔ یہ رات سلامتی کی رات ہے، ریاضت ومناجات کی رات ہے، رونے اورگرگرانے کی رات ہے، یہ وہ رات ہے جس کی فضیلت میں باضابطہ اللہ پاک نے ایک سورہ نازل فرمائی:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿١﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿٢﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿٣﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ﴿٤﴾ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿٥﴾
”بیشک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اُتا را ہے ….اورآپ کو کیاپتہ کے شب قدر ہے کیاچیز ؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس رات فرشتے اور جبریل اترتے ہیں اللہ پاک کا ہر حکم لے کر، طلوع فجر تک یہ رات سلامتی ہی سلامتی ہے ۔ “
بہت افسو س ہے اس شخص پر جو اس رات کے فیض سے محروم رہ گیا ….یہ بات میری نہیں….بلکہ ہمارے حبیب کی ہے، من حرمھا فقد حرم الخیر کلہ ولایحرم خیرھا الا کل محروم جو اس رات سے محروم رہ گیا وہ ساری بھلائی سے محروم رہ گیا اور اس کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعی محروم ہو ۔
عزيز قارى ! گرچہ ہم آپ کو دیکھ نہیں رہے ہیں ،آپ کی بات سن نہیں رہے ہیں لیکن آپ کی محبت ہمارے دل میں ہے، ہم آپ سے محبت کرتے ہیں اللہ کے لیے ، اوراسی محبت کے طفیل ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ بارالہا تو ہم سب کو اپنے عر ش کے سایہ تلے جگہ نصیب فرماجس دن اللہ کے سایہ کے علاوہ کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا۔ اور رب سے دعا کرتے ہیں:
اے اللہ !اے الہ العالمین، (ساتوں) آسمانوں اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے مالک، ساری کائنات کے پروردگار….اے اللہ !تو ہم سب کارب ہے، تیرے علاوہ کوئی (سچا) معبود نہیں، تونے ہمیں پیدا فرمایا اور ہم تیرے بندہ ہیں، اور ہم اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہیں، اپنے کئے کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں، ہم اپنے اوپر تیرے انعام کا اقرار کرتے ہیں، اورہم تیرے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہیں، ہم خطا کار ہیں، گنہگارہیں، تورحیم اورغفورہے، ہمیں معاف فرمادے، ہم پر رحم فرما، ہمارے معاملات کو درست فرما دے۔ ہمارے دلوں میں الفت بھردے، بارالہا! ہم تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، اے اللہ!ہم تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، اپنے دین اور اپنی دنیا اور اپنے اہل وعیال اور اپنے مال میں، اے اللہ!ہماری پردہ والی باتوں پر پردہ ڈال دے ، ہمارے خوف وہراس کو (امن میں) بدل دے، اےاللہ!تو میری حفاظت فرما، ہمارے سامنے سے…. ہمارے پیچھے سے،….ہمارے دائیں سے ….ہمارے بائیں سے ….ہمارے اوپر سے ….اے اللہ! ہم تجھ سے نفع دینے والے علم ، پاکیزہ رزق اور قبول کیے گئے عمل کا سوال کرتے ہیں ۔اے اللہ !ہم تجھ سے عاجزی ، کاہلی ، بے ہمتی ، بخیلی اورعذاب قبر سے پناہ مانگتے ہیں۔
الہ العالمین ! دنیاکے جس کونے میں بھی مسلمان کسی طرح کی پریشانی سے دوچار ہیں اُن کی پریشانی کو دور فرمادے ، برما ، شام ، فلسطین اورکشمیرکے مسلمانوں کے حالات درست فرمادے، اُن پر رحم فرما، اُنہیں عزت دے اوران کے دشمنوں کو ذلیل کردے ،ان کے شہداءکو قبول فرمالے، ان کی بیواوں اوریتیموں پر رحم فرما، جو بھائی یابہن کسی طرح کی بیماری کے شکار ہیں بظاہر وہ بیماری مایوس کن کیوں نہ ہو ….توانہیں شفائے عاجلہ کاملہ نصیب فرما، یامولائے کریم ! جن بھائیوں کے دل ٹوٹے ہوئے ہیں ان کے دلوں کو جوڑ دے، جوبھائی اولاد کی نعمت سے محروم ہیں انہیں نیک اورصالح اولاد عطافرما، جوبہنیں غیرشادی شدہ ہیں ان کے لیے نیک اورصالح جوڑے کا انتظام فرمادے ۔
الہ العالمین ! جو لوگ اس دنیا سے جاچکے ہیں ،اُن کے گناہوں کو معاف فرمادے ،ان کی قبروں کو نورسے بھر دے، اورانہیں جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرما۔ اورجو باحیات ہیں انہیں نیکیوں کی توفیق عطا فرما، اورہمارا خاتمہ ہو تو ایمان پر خاتمہ فرما۔
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم
مکمل تحریر >>