بدھ, جولائی 03, 2013

غیرمسلم کا مسجد کے لیے مالی تعاون دینا


سوال:

اگر غیرمسلم مسجد کی تعمیر میں رقم دینا چاہے تو کیا اس کی رقم مسجد میں لگائی جا سکتی ہے ۔اسی طرح اگر وہ عمرہ کے لیے رقم دے تو کیا اس رقم سے عمرہ کیا جاسکتا ہے ؟  (شان میاں ۔ کویت)

جواب:

غیرمسلم کے تعاون کی دو نوعیت ہوسکتی ہے ، غیرمسلم حکومت کا تعاون اور غیرمسلم کا انفرادی تعاون ۔

اگر غیر مسلم حکومت مسجد بنانے کے لیے تعاون دے رہی ہے تو بالاتفاق یہ جائز ہے کیوںکہ جمہوری ملکوں میں حکومت تن تنہا غیرمسلموں کی نہیں ہوتی بلکہ اس میں مسلم اور غیرمسلم دونوں شریک ہوتے ہیںاس لیے یہ مسلمانوں کے قومی حقوق میں سے ایک حق ہوگا ۔

رہا غیرمسلم کے انفرادی تعاون کا مسئلہ تو اس سلسلے میں فقہاءکے دو اقوال ہيں ایک جواز کادوسرے عدم جواز کا ۔البتہ جواز کے قول کو ہی ترجیح حاصل ہے، البتہ اس کے لیے چند شروط رکھے گئے ہیں:

٭ اسے وہ اپنے عقیدہ کے مطابق کارخیرتصور کرتا ہو۔

٭یہ اندیشہ نہ ہو کہ وہ اپنی عبادت گاہ یا مشرکانہ تہوار کے لیے بھی ہم سے تعاون طلب کریں گے ۔

٭ مال کی آمدنی کا ذریعہ حلال ہو حرام نہ ہو ۔

یہی حال حج وعمرہ کا بھی ہے کہ اگر غیرمسلم حج وعمرہ کے لیے رقم پیش کرے اوروہ مذکورہ بالا شرائط پر پورا اُتر رہا ہوتو اس کی رقم سے حج وعمرہ کرنا جائز ہے ۔ جواز کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ ہدیہ کی شکل ہے اور اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے مشرکین کے ہدیے مختلف مناسبت سے قبول فرمائے ہیں ۔


مکمل تحریر >>

نمازفجرکے ليے بيدار ہونے كا پریکٹیکل تجربہ

 ایک صہیونی فوج کے قائد نے نمازفجر کی بابت کہا تھا:”مسلمان ہم پر اس وقت فتح حاصل کرسکتے ہیں جب ان کی تعداد فجر کی نمازمیں اس قدر ہوجائے جس قدرجمعہ کی نماز میں ہوتی ہے “۔
جی ہاں! کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جمعہ کے دن ہماری مسجدیں تنگ دامنی کا شکوہ کرتی ہیں ،لوگ سڑکوں پرجمعہ کی نمازیں ادا کرتے ہیں لیکن پانچ وقت کی نمازوںخاص کر فجر کی نماز میں ہماری تعداد گنتی کے برابر ہوتی ہے ۔ یہ معاملہ کوئی معمولی نہیں ہے کہ اِسے یوںہی نظر انداز کردیاجائے ،بلکہ یہ ہے ہماری کمزوری کا راز …. جسے ہم سمجھنے سے قاصر ہیں لیکن صہیونی فوج کا اعلی کمانڈر سمجھ لے رہا ہے ۔آج ہم اس سلسلے میں بات نہیں کریں گے کہ فجر کی نماز کی اہمیت کیا ہے ، اِسے تو ہم جانتے ہی ہیں ….اورنہ ہی ہم نمازفجر کی ادائیگی کے روایتی طریقہ کار پر روشنی ڈالیں گے کہ تقریباً ہم انہیں جانتے ہوئے بھی عملی زندگی میں جگہ نہیں دے پاتے،عام طورپر نمازفجر کی پابندی کے لیے جو طریقے بتائے جاتے ہیں کہ سویرے سوئیں،کسی کوجگانے کے لیے بول دیں ،الارم کا استعمال کریں ….یہ ایسے وسائل ہیں کہ سب لوگ انہیں اپنا نہیں پاتے ….اس طرح خواہش کے باوجود نماز فجرقضا ہوتی رہتی ہے ۔ یہ خواہش بر نہیں آتی تو صبح اٹھنے کے بعد ان کو بیحدملال ہوتا ہے ۔
گذشتہ کل راقم سطور انٹرنیٹ پر سرچنگ کے دوران ایک لنک تک پہنچا کہ نمازفجر کے ليے بيدار ہونے كا پریکٹیکل تجربہ  “۔ موضوع بہت پسند آیا، ڈاون لوڈ کیا اورایک ہی مجلس میں پوری کتاب پڑھ گیا ، یہ کتاب دراصل شیخ مرید الکلاب کے خطاب سے عبارت تھی جسے کتابی شکل میں اپلوڈ کیا گیاتھا ، 39 صفحات پر مشتمل یہ کتاب محض دونکات پر مشتمل ہے جسے پریکٹیکل انداز میں بیان کیا گیا ہے ، جولوگ نمازفجر باجماعت ادانہیں کرپاتے ان کے لیے پریکٹیکل اور نفسیاتی انداز میں ترتیب دی گئی کتاب بہت مفید ہے ۔ مذکورہ کتاب کے دو نکات ہم ذیل میں بیان کررہے ہیں تاکہ انہیں پیش نظر رکھ کر ہم خود کو باجماعت نمازفجر کا پابند بناسکیں :
سب سے پہلے شیخ مرید نے نفسیاتی طورپر ایسے بھائیوں اوربہنوں کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کبھی یہ نہ سوچیں کہ بروقت نمازفجر کی ادائیگی میری استطاعت سے باہر ہے،بلکہ ان کوچاہیے کہ سوفیصد یقین رکھیں کہ وہ وقت پرنمازفجر کی ادائیگی ضرورکرسکیں گے ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کے لیے دونکتہ بیان کیا ہے ۔
پہلا نکتہ : آپ اپنا ہدف بنائیں کہ ”میں فجر کی نماز مسجد میں باجماعت ادا کروں گا اوراس ہدف کو کاغذ اور قلم لے کر14 دن تک لگاتار21مرتبہ لکھیں یا اکیس دن تک چودہ مرتبہ لکھیں ۔ ہربارلکھتے وقت پیغام پر غورکریں کہ آپ کیا لکھ رہے ہیں ،
دوسرا نکتہ : الارم گھڑی کی بجائے بیولوجی گھڑی کا استعمال کریں : الارم گھڑی کا آپ نے بارہا تجربہ کیا ہے، پھربھی وقت پربیدار نہ ہوسکے ہیں کہ آواز سنتے ہی گھڑی کو بند کردی ہے اور پھر نیند کی آغوش میں چلے گئے ہیں ، اس لیے الارم گھڑی کی بجائے بیولوجی گھڑی جو آپ کی اندرونی گھڑی ہے کا استعمال کریں جس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ خیال کریں کہ آپ گھڑی کی سوئیاں گن رہے ہیں اور ایک ایک سیکنڈ کو شمار کررہے ہیں ۔اس کے بعد یکسوئی کے ساتھ تنہائی میں بیٹھ جائیں اورسوچیں کہ کل صبح نمازفجر سے پہلے بیدار ہونا ہے ، وضوکرنا ہے ، مسجد جاکر نمازباجماعت ادا کرنی ہے ، نماز کے بعد تلاوت قرآن کرنی ہے، صبح کے اذکارکا اہتمام کرناہے ، پھر یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے ….اپنی سوچ میں بیٹھے ہوئے اس منظر کاخود سے مشاہدہ کریں ، اس پردھیان دیں گویا کان لگا کر سن رہے ہوں، اورخود میں اس کا احساس پیدا کریں ۔
نمازفجر کی پابندی کے لیے ایک تیسرا طریقہ بھی بہت اہمیت کاحامل ہے جسے نیٹ پر کہیں ہم نے پڑھا تھا ،اس کا موضوع تھا” کیف تجعل الشیطان یوقظک لصلاة الفجر“ کیاکروگے کہ شیطان تجھے فجر کی نماز کے لیے بیدار کرنے لگے….؟۔ اس نسخہ میں یہ بتایا گیاہے کہ سوتے وقت یہ عزم کرکے سوئیں کہ اگر میں فجر کی نماز کے لیے نہ بیدار ہوسکا تو کل 1 دینار صدقہ دوں گا ۔ اپنی حیثیت کے حساب سے کم یا زیادہ خودپر لازم کرسکتے ہیں ۔ اگر ایسا کریں گے تو شیطان ضرور فجر کی نماز کے لیے جگا دے گا کہ ایسا نہ ہو کہ یہ بندہ مزید نیکی کا کام کرلے ۔ اس لیے وہ ضرور جگائے گا۔ تجربہ کرکے دیکھیں
عزیزقاری ! ہمیں امید ہے کہ اگر آپ نمازفجر کی وقت پر پابندی نہیں کر پا رہے ہیں تو ضرور اس نکتے کو آزمائیں گے ۔ اللہ ہم سب کو نمازفجر کا پابند بنائے ۔ آمين


مکمل تحریر >>

ماہ شعبان میں زیادہ سے زیادہ روزہ رکھنے کا عہد کریں


ابھی ہم ماہ شعبان سے گذررہے ہیں جو ہجری تقویم کے اعتبار سے آٹھواں مہینہ ہے ،چونکہ یہ مہینہ رمضان کی تمہید ہے اس کے بعد رمضان کا مہینہ آتا ہے تو زیادہ مناسب تھا کہ اس مہینے میں روزہ جیسی عبادت کا اہتمام ہو ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے رول ماڈل ہیں،آپ کا اسوہ شعبان میں یہ تھا کہ آپ زیادہ سے زیادہ اس مہینے میں روزے کا اہتمام کرتے تھے ۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم سمجھتے کہ آپ روزہ رکھنا نہ چھوڑیں گے اورآپ روزہ چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم سمجھتے کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے ومارأیتہ استکمل صیام شھر الا رمضان وما رأ یتہ اکثر صیاما منہ فی شعبان میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ رمضان کے سوا کسی مہینے کا مکمل روزہ رکھا ہو ،اورمیں نے آپ کو شعبان کے مقابلہ میں زیادہ روزہ رکھتے کسی مہینے میں نہیں دیکھا ۔
 اورمسنداحمد کی ایک طویل حدیث میں حضرت انس رضى الله عنه سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کان أحب الصوم الیہ فی شعبان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزہ رکھنا زیادہ پسندیدہ تھا ۔ بلکہ حضرت انس ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں : ماکان صلی اللہ علیہ وسلم یحرص علی صیام قط مثل حرصہ علی صیام رمضان یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر شعبان کے روزوںکا اہتمام فرماتے تھے اس قدر دوسرے روزوںکا اہتمام نہیں کرتے تھے ۔
ان احادیث سے پتہ یہ چلتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے اکثر دنوں کا روزہ رکھتے تھے ،اوراس کے روزے کا بہت اہتمام کرتے تھے ۔ سوال یہ ہے کہ شعبان کے روزے کاآپ اس قدر جو اہتمام فرماتے تھے اس کی بنیادی حکمت کیا تھی ….؟ اس نکتے کو بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کردیاہے ۔
امام نسائی اورابوداود نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ،وہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو نہیں دیکھتا کہ آپ کسی بھی مہینہ میں اِتنا زیادہ روزہ رکھتے ہوں جتنا آپ شعبان میں رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذاک شھر یغفل الناس عنہ بین رجب ورمضان وھو شہر ترفع فیہ الاعمال الی رب العالمین فأحب أن یرفع عملی وأنا صائم ”یہ رجب اوررمضان کے بیچ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت کا شکار ہیں ،یہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ کے پاس اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، لہذا میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جب میرا عمل اللہ کے پاس پیش کیا جائے تو میں روزے سے ہوں ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں زیادہ سے زیادہ روزہ رکھتے تھے اس کی دو حکمت تھی
پہلی حکمت یہ کہ اس مہینے میں لوگ غفلت کے شکارہوتے ہیں ،اوریہ بات واضح ہے کہ جس وقت لوگ غفلت میں ہوں اس وقت کی عبادت کا اجروثواب زیادہ ہوتا ہے ۔ اسی لیے تہجد کی نماز کی اہمیت ہے کہ اس وقت لوگ غفلت میں ہوتے ہیں ۔ اورغفلت میں کسی عمل کا کرنا طبیعت پر شاق گذرتا ہے ،کیونکہ کسی کام کے کرنے والے اگر زیادہ ہوں تو ان کی ادائیگی آسان ہوجاتی ہے جبکہ اگر اس کام کے کرنے والے کم ہوں تو اس کی ادائیگی میں پریشانی ہوتی ہے ۔ چنانچہ اجروثواب بھی اسی کے تناسب سے رکھا گیا ۔ اس مہینے میں غفلت کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ کچھ لوگ رجب میں بدعات وخرافات میں لگ جاتے ہیں ،اورجب شعبان آتا ہے تو سست پڑجاتے ہیں ۔
دوسری حکمت یہ کہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ کے پاس پیش کیے جاتے ہیں اور اللہ کی رضامندی حاصل کرنے اور عمل کے قبول ہونے میں روزہ کی بہت اہمیت ہے ۔ کیونکہ اس میں تواضع ہوتا ہے ،انکساری ہوتی ہے اور فروتنی پائی جاتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھتے تھے اور لوگوں کی غفلت کا فائدہ اٹھاتے تھے حالانکہ آپ وہ نبی ہیں جن کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے گئے تھے ۔اب آپ تصور کرسکتے ہیں کہ شعبان کے اس مہینے میں ہمیں اللہ کے نبی کو اسوہ بنانے کی کس قدر ضرورت ہے ۔
اس لیے آئیے ہم سب ماہ شعبان کی قدر کریں اوراس میں زیادہ سے زیادہ روزہ رکھنے کا عہد کریں ۔


مکمل تحریر >>

رمضان كا استقبال كيسے كریں ؟


چند دنوں کے بعد ہمارے سروں پرنہایت عظیم الشان مہینہ سایہ فگن ہونے والاہے ، جس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، سرکش شیاطین جکڑدئیے جاتے ہیں، نیکیوں کا اجروثواب بڑھا دیا جاتا ہے، جس کی ہررات اعلان ہوتا ہے”اے خیر کے متلاشی !آگے بڑھ اور اے شرکے طلبگار ! پیچھے ہٹ“۔ جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے ، جواس کے خیر سے محروم رہا وہ واقعی محروم ہے ۔ روزہ ، تلاوتقرآن، صدقات وخیرات ، قیام اوردعا واستغفار پر مشتمل نیکیوں کے اس موسم بہار کی آمد آمد ہے۔
جب ہمارے گھروں میں کسی ہردلعزیز مہمان کی آمد ہوتی ہے تواپنے گھروں کو سجاتے ہیں، اس کی زینت وزیبائش کرتے ہیں، چہرے پر خوشیاں مچل رہی ہوتی ہیں،دل باغ باغ ہوتاہے اورمہمان کے لیے اپنی آنکھیں فرش راہ کیے ہوتے ہیں۔ کیا رمضان کی آمد پر ہم اپنے دل میں یہ کیفیت پارہے ہیں؟….
اللہ والے رمضان المبارک کاچھ مہینہ پہلے سے انتظار کرتے تھے ، مشہور تابعی معلی بن فضل  رمضان المبارک کے بارے میں صحابہ کرام کے اشتیاق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ چھ ماہ پہلے سے یہ دعا کرتے تھے کہ ”اے اللہ ! ہمیں ماہِ رمضان کی سعادت نصیب فرما“ ۔ پھر جب رمضان کا مہینہ گذرجاتا تو بقیہ چھ ماہ دعا کرتے ”اے اللہ!جن اعمال کی تونے توفیق دی وہ قبول بھی فرمالے “۔
کتنے لوگ جو گذشتہ سال ہمارے ساتھ روزے میں شریک تھے آج قبرمیں مدفون ہیں،کتنے چہرے جنہیں ہم نے گذشتہ سال رمضان میں صحیح سلامت دیکھاتھا‘آج بسترِ مرگ پر پڑے موت وحیات کے بیچ ہچکولے کھارہے ہیں ۔ کیا خبرکہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو ، اس لیے آنے والے مہینے کا خیروخوبی سے استقبال کریں،ہمارے اوپر طلوع ہونے والارمضان کا چاند خیروبرکت کاچاند ہو،اسے دیکھ کر ہمارا دل جذبہ اشتیاق سے امڈ آئے، ہماری زبان گویاہو: اللھم ا ھلہ علینا بالا من والایمان والسلامة والاسلام ربی وربک اللہ ”اے اللہ! تو یہ چاند ہم پر امن وایمان اورسلامتی واسلام کے ساتھ طلوع کرنا،اے چاند میرا اورتیرا رب اللہ ہے “۔
٭ماہ مبارک کی آمد سے پہلے اس کے مقام ،اس کی عظمت، اس کی فضیلت،اس کے مقصد اوراس کے پیغام کو اپنے ذہن میں تازہ کریں تاکہ اس کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں اوراس بات کا پختہ ارادہ کریں کہ ہم اس ماہ مبارک میں اپنے اندر تقوی کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو روزہ کا ماحصل ہے ۔
٭ان معمولات کی تحدید کرلیں جو حقوق اللہ سے متعلق ہیں ،ان معمولات کی بھی تحدید کرلیں جو حقوق العباد سے متعلق ہیں،پھر ان معمولات کی بھی فہرست بنالیں جنہیں رمضان المبارک میں ادا کرنے ہیں، اگر آپ کے ساتھ ڈیوٹی کے تقاضے ہیں اورعبادت کے لیے خود کو بالکلیہ فارغ نہیں کرسکتے تو پھر یہ دیکھیں کہ کن کن کاموں کو رمضان کی خاطر چھوڑ سکتے ہیں اور کن کن مصروفیات کو مؤ خرکر سکتے ہیں۔
 ٭اس ماہ مبارک میں ہم اپنی زندگی ،صحت اورجوانی میں فرصت کو غنیمت جانیں،اپنے سارے گناہوں سے سچی توبہ کریں، واجبات ومستحبات کی ادائیگی اورمنہیات ومکروہات سے اجتناب کرنے کا خود کو عادی بنائیں۔
٭ پنجوقتہ نمازوں بالخصوص نمازِفجر کی باجماعت ادائیگی کو اپنے اوپر لازم کرلیں۔جن پر زکاة اورحج فرض ہے اور اس کی ادائیگی میں غفلت برت رہے ہیں، وہ یہ فیصلہ کریں کہ پہلی فرصت میں حج ادا کریں گے اور اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے غریبوں اور مسکینوں کا حق ادا کریں گے ۔
٭جو لوگ محرمات کا ارتکاب کرکے اللہ کی غیرت کو چیلنج کر رہے ہیں،بدکاری،شراب نوشی،ناجائزکاروبار، سودی لین دین جیسے جرائم میں ملوث ہیں وہ توبہ کرکے عزم کریں کہ وہ ان جرائم سے بالکل دور ہوجائیں گے اور پھر عمر بھر ان کے قریب نہ ہوں گے ۔
٭قرآن کریم کی تلاوت کا ایک چارٹ بنائیں،ہرفرض نماز کے بعد چند آیات کی تلاوت مع ترجمہ کا معمول بنالیں کہ آنے والا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے جس کے لیے ابھی سے تیاری کرنی ہے ۔
٭معتبرکتابوں اورکیسٹس کی مدد سے روزہ کے احکام ومسائل کی جانکاری حاصل کرلیں ۔
٭معاشرتی روابط اورحقوق پر خاص طورسے دھیان دیں ،کسی کا کوئی قرض یا دعوی ہے تو اسے فوراً چکادیں اور معاملے کا تصفیہ کرلیں،بروزقیامت وہ شخص بڑا بدنصیب اور مفلس ہوگا جو نماز روزے اور زکاة کے ساتھ آئے گا لیکن اس کے اوپر لوگوں کی طرف سے دعوؤں کا ایک انبار ہوگا ،کسی کو مارا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی،کسی کی بے عزتی کی ہوگی،لہذا اس کی ایک ایک نیکیاں لے لے کر دعویداروں کو دے دی جائیں گی ، جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اوردعویدار باقی رہ جائیں گے تو دعویداروں کے گناہ ان کے سروں پر تھوپ دئیے جائیں گے پھر انہیں جہنم رسید کردیاجائے گا ۔
اس لیے رمضان کی آمد سے قبل معاشرتی روابط کو مستحکم کرلیں، اوریہ عزم مصمم کرلیں کہ آپ اپنی زبان کی حفاظت کریں گے ،گالي گلوچ ،بدکلامی اورچغل خوری سے دور رہیں گے ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں پیش پیش رہیں گے اورکسی انسان کو ایذا نہ پہنچائیں گے ۔
٭ رات کے سہہ پہر میں قیام اللیل کی عادت ڈالیں، کیونکہ یہ رات کا وہ حصہ ہے جس میں اللہ تعالی سمائے دنیا پر (اپنے شایانِ شان) نزول فرما کر اعلان کرتے ہیں: ”ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں ،ہے کوئی سوال کرنے والا کہ ہم اس کے سوال کو پورا کریں، ہے کوئی اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے والا کہ ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں ۔ “ (بخاری ومسلم)۔
 واقعہ یہ ہے کہ شب دیجور میں اللہ کے خوف سے آنسوو ں کا ٹپکنا اوربدن پر لرزہ طاری ہوجانا ایک طرف خوشنودی رب کا بہترین ذریعہ ہے تو دوسری طرف کمال شخصیت کا راز بھی ہے ،آہ سحرگاہی کے بغیر نہ کبھی شخصیتیں بنی ہیںنہ بنیں گی، علامہ اقبال نے کہاتھا 
عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو     
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحرگاہی
٭ اس ماہ مبارک میں اپنے سلوک او رکردار پر دھیان دیں،اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پیکر بنائیں، رذائل اخلاق سے دوری اختیار کریں،اخلاق وآداب پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کریں اوراچھے اخلاق کے حامل لوگوں کے پاس بیٹھ کر ان کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
٭ اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عادی بنائیں کہ رمضان مواسات وغم خواری کا مہینہ ہے ،ہمارے حبیب صلى الله عليه وسلم  یوں بھی سخی تھے تاہم رمضان المبارک میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی اور فیاض بن جاتے تھے۔ اس لیے اللہ پاک نے جس قدر بھی دے رکھا ہے اس میں سے غرباء و مساکین کے لیے ضرور نکالیں، اورحسب استطاعت روزہ داروں کو افطار بھی کرائیں کہ اس کا اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا خود روزہ رکھنے کا (ترمذی ) ۔
٭ اس ماہ مبارک میں دعوت الی اللہ کے لیے خود کو تیار کریں،اس مقصد کے لیے ممکنہ وسائل کو کام میں لائیں،کیونکہ اس ماہ مبارک میں انسانی طبیعت میں فطری طور پر قبول حق کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ،جن غیر مسلموں سے آپ متعارف ہیں کم ازکم ان تک اسلام کا پیغام ضرور پہنچائیں،انہیں تعارف اسلام پر مبنی دعوتی لٹریچرز لاکر دیں، اوراپنے بھائیوں اور نیز اہل خانہ کی اصلاح اور ان کی روحانی تربیت کی طرف پوری توجہ مبذول کریں ۔
اوریہ جذبہ پیدا کرنے کے لیے بہت مفیدہوگا کہ رمضان کی آمد سے پہلے ایک دن تنہائی میں یکسوئی کے ساتھ بیٹھ کر اپنے نفس کا محاسبہ کریں،کہ ہم نے سال بھر کیا کھویا اور کیا پایا،اس دن کو یاد کریں جس دن اچانک موت کا فرشتہ بے دردی کے ساتھ روح نکال لے گا،لوگ غسل دیں گے ، کفن پہنائیں گے، تنگ وتاریک گھروندے میں اتار دیں گے،منوں مٹی تلے دبادیں گے، وہاں دردناک اژدہے نکلیں گے،وہاں جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہوگی ، لاکھ چلائیں، آہیں بھریں، رحمت کے طلبگار ہوں لیکن کوئی سننے والا نہ ہوگا۔ یہ احساس خود میں پیدا کرکے روئیں، گڑگڑائیں ، پھرنئے عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنے رب کی مرضیات کے لیے کمرکس لیں اور اللہ تعالی سے دعا بھی کریں کہ وہ ہمیں برکات رمضان کو سمیٹنے کی توفیق دے۔
٭ رمضان کے فیوض وبرکات سے خاطرخواہ مستفید ہونے کے لیے چوبیس گھنٹے کے اوقات کا ایک چارٹ بنالیں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی عبادت میں صرف ہو اور اسے پورے نظم وضبط اور پابندی سے بجالانے کی کوشش کریں۔ ذیل کے سطورمیں ایک مختصر چارٹ پیش خدمت ہے :
 تکبیرات احرام کی محافظت ۔(150بار)
دلیل : ”جس نے تکبیراولی کے ساتھ چالیس دن تک باجماعت نماز ادا کی اس کے لیے دو براءت لکھ دی جاتی ہے،جہنم سے براءت اور نفاق سے براءت“ (ترمذی)
  ختم قرآن کریم (کم ازکم دو مرتبہ)
دلیل :”قرآن پڑھاکرو کہ یہ اپنے پڑھنے والے کے لیے بروزقیامت سفارش بن کرآئے گا “۔ (مسلم)
  نمازتراویح کی محافظت (29دن )
دلیل :”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں “ ۔(بخاری ومسلم)
  صلہ رحمی کا اہتمام ،رشتے داروں کی زیارت اور ان سے رابطہ(کم ازکم ہفتہ میں ایک دن )
دلیل : ”رحم عرش سے لٹکاہواہے ،اورکہتا ہے : جس نے مجھے ملایااللہ اسے ملائے اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اسے کاٹے “ ۔(مسلم)
 صدقات وخیرات (کم ازکم ہفتہ میں ایک بار)
دلیل :”اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نہایت سخی اور فیاض تھے اور رمضان میں آپ کی سخاوت وفیاضی مزید بڑھ جاتی تھی “         (بخاری)
 روزے دار کو افطار کرانا (روزانہ )
دلیل :”جس نے روزے دار کو افطار کرایا اسے روزے دار کے برابر ثواب ملتا ہے اورروزے دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی “۔ (ترمذی )
 جنازے کی نماز میں شرکت (کم ازکم ایک بار)
دلیل :“ جوشخص کسی جنازے پر نماز پڑھے اسکو ایک قیراط ملے گا ،اور جو اس کے پیچھے جائے، یہاں تک کہ اس کی تدفین مکمل ہوجائے تو اسکو دو قیراط ملیں گے جن میں سے ایک قیراط ا  حد پہاڑ کے برابر ہو گا “( ترمذی)
 عمرہ کی ادائیگی (ایک بار)
دلیل :”رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے “(بخاری )
  ہفتہ میں ایک اسلامی کیسٹ سننا (4 کیسٹس )
 دینی کتابوں کا مطالعہ (روزانہ آدھا گھنٹہ )
  دعوت کے کام میں شرکت اورکم ازکم ایک شخص کی ہدایت کی فکرمند ی۔
دلیل :”اگر اللہ تعالی تیرے ذریعہ ایک شخص کو  راہِ راست پر لادے تو تمہارے لیے (عرب کے ) سرخ اونٹ سے بہتر ہے “۔(مسلم)
 نمازفجرکے بعد مسجدمیں اعتکاف اور طلوع آفتاب کے بعد دو رکعت کی ادائیگی ( کم ازکم چار بار )
دلیل : ”جس شخص نے نماز فجر باجماعت ادا کی،پھر اپنی جگہ بیٹھا ذکر میں لگارہا،یہاںتک کہ آفتاب طلوع ہوگیا ، پھر دو رکعت نماز پڑھی تو اسے ایک حج اور ایک عمرہ کا مکمل ثواب ملتا ہے “۔(ترمذی)
  نماز وتر کی محافظت (30بار)
دلیل : ابوہریرہ رضي الله عنه  کہتے ہیں : نبی صلى الله عليه وسلم  نے مجھے سونے سے قبل وترپڑھ لینے کی وصیت کی “(ترمذی )
 پنجوقتہ نمازوں کے بعد ذکر کا اہتمام (150بار)
دلیل : اللہ تعالی نے فرمایا: ”بکثرت اللہ کا ذکرکرنے والے اورذکر کرنے والیاں ا ن(سب )کے لیے اللہ تعالی نے (وسیع) مغفرت اوربڑا ثواب تیار کررکھاہے “۔        (احزاب 35)
 روزانہ دعا کا اہتمام ( 30بار)
دلیل :اللہ تعالی نے فرمایا: ”مجھ سے دعاکرو،میں تمہاری دعاوں کو قبول کروں گا“ (سورہ المو من 60)
 زکاة کی ادائیگی (ایک بار)
دلیل :”اورنمازکو قائم کرو، اورزکاة دو اوررکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو“۔(سورہ البقرة 43)
 شب بیداری (9 راتیں )
دلیل :”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں “(بخاری ومسلم)
 عشرہ  اواخرمیں اعتکاف (10دن )
دلیل :”اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  رمضان کے عشرہ  اواخر کا اعتکاف کیا کرتے تھے“ ۔(بخاری)
 شب قدرکی تلاش (5 راتیں )
دلیل :”رمضان کے عشرہ اواخرکی طاق راتوںمیں شب قدر  تلاش کرو“۔(بخاری)
  زکاة الفطرکی ادائیگی (ایک بار)
دلیل : ابن عمر کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے زکاة الفطر فر ض کیا….(بخاری ومسلم)

(مذکورہ چارٹ ماہنامہ مصباح کے نگراں محترم خالد عبداللہ السبع کے پمفلٹ "خطتی فی رمضان" کی ترجمانی ہے )
مکمل تحریر >>