جمعرات, جون 06, 2013

کیا ایک مسلمان ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کے منتر سیکھ سکتا ہے ؟

سوال: 

کیا ایک مسلمان ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کے منتر سیکھ سکتا ہے ؟ (عبداللہ ۔ کویت)
جواب:

 اگر مذہبی روادار ی کے نام پرمذہبی کتابوں کا مطالعہ کیاجائے تو ایسا کرنا جائز نہیں کیونکہ قرآن کریم کے نزول کے بعد اب کسی مذہبی کتاب کی ضرورت نہیں رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دن جب حضرت عمرفاروق رضي الله عنه  نے تورات کا ایک نسخہ لاکر رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں پڑھنا شروع کیا تو آپ کا چہرہ غصہ سے بدلنے لگا، حضرت عمر رضي الله عنه  نے حضور صلى الله عليه وسلم  کے چہرہ مبار ک کی طرف نظر دوڑائی اور فورا بول اٹھے ” ہم راضی ہیں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو اپنا دین بنا کر اور حضرت محمدا کو نبی و رسول مان کر“ ۔ اس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا : ”سنو ! اگر موسی ں زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو وہ بھی میری پیروی کرتے “۔ ( مسند دارمی)
ہاں اگر دعوت کی غرض سے ان کی مذہبی کتابوں میں پائی جانے والی توحید ،رسالت اور یوم آخرت پرمشتمل باتیں نوٹ کی جائیںتاکہ ان کے ذریعہ نقطہ اشتراک کے طورپر اسلام کے لیے ان کا ذہن ہموار کیا جاسکے تو ایسا کرنا جائز ہے  ادعُ  اِلِی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالحِکمَةِ وَالمَوعِظَةِ الحَسَنَةِ   (سورة النحل 125) ”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دو“۔

مکمل تحریر >>

اشتراکیت اورسرمایہ دارانہ نظام کے بیچ زکاة کا نہايت معقول اورمنطقى فارمولہ


ہردور اور ہرسماج میں لوگوں کا معیارزندگی ایک طرح کا نہیں رہا، کوئی امیرہے تو کوئی غریب ہے، کوئی خوشحال ہے توکوئی تنگ دست ہے، دونوں طرح کے لوگ ہردورمیں پائے گيے ہیں،تاکہ ان میں سے ایک طبقہ دوسرے طبقہ کے کام آسکے، ہرایک کی ضرورت دوسرے سے پوری ہوتی رہے ۔ سورہ انعام آیت نمبر165میں اللہ پاک نے فرمایا:
ورفع بعضکم فوق بعض درجات لیبلوکم فیما آتاکم "
 اورایک کا دوسرے پر رتبہ بڑھا یا تاکہ تم کو آزمائے ان چیزوں میں جو تم کو دی ہے ۔" فرض کریں کہ اگر سارے لوگ ایک ہی معیارکے ہوتے تو لوگوں کا زندگی گذارنا مشکل ہوتا، ایک کی مصلحت دوسرے سے قطعاً حاصل نہ ہوسکتی تھی ۔ اس طرح سماج میں فساد پیدا ہوتا  اور قوموں اورملکوں کی تباہی ہوتی ۔
لیکن معاشرے  كے کمزور اوربدحال طبقہ  کے ساتھ  معاملہ کیسا ہو،جب انسانوں نے اس نکتے پر اپنی محدودعقل سے سوچنا شروع کیا توایک نظریہ پیدا ہوا روس میں سوشلزم کے نام سے ،اس نے سوچا کہ کیوں نا سب کا معیار زندگی ایک ہی کردیا جائے، کہ پیداوار پر عوام کی مشترکہ ملکیت ہو، اورسب کو برابر کا حصہ ملے، کمائی کسی شخص کی نجی ملکیت نہ ہو ،اس نظام نے فرد سے مال کی ملکیت کا سارا اختیار چھین لیا، چوں کہ یہ ایک غیرفطری نظام تھا کہ ہرانسان اپنی کمائی کا اثر دیکھنا چاہتا ہے،ظاہر ہے کہ جب آپ کمانے والوں سے نجی ملکیت چھین لیں گے توان کے اندر سے خوداعتمادی جاتی رہے گی، ان کے اندر اپنے مال کو ترقی دینے کی فکر نہ رہے گی، ان کی زندگی کا جوش اور حوصلہ ٹھنڈا  پڑجائے گا،  اورہوا بھی یہی ؟ چند سالوں کے بعد ہی یہ نظام اپنی موت مرگیا ۔ اوردنیامیں اس کا نام ونشان بھی نہ رہا ۔  اس نظام کے مقابلہ میں ایک دوسرا نظام آیا جس کا نام دنیانے سرمایہ دارانہ نظام یعنیCapitalism  رکھا، اس نظام نے فرد کو پیداوار کا مالک کل بنا دیاجس میں دوسروں کا ذرہ برابر بھی حق نہیں رکھا گیا۔ یہی وہ نظام ہے جو پوری دنیا میں آج رائج ہے، اس نظام کی بدولت چند لوگوں کی مٹھی میں دنیا کی دولت گھوم رہی ہے، لوگ جائز وناجائز کی پرواہ کيے بغیر پیسے اکٹھا کررہے ہیں، یہاں ایک طبقہ مالدار سے مالدار تر ہوتاجارہاہے تودوسرا طبقہ غریب سے غریب تر ہوتا  جا رہا ہے۔ کیوں کہ اس میں غریبوں کا خون چوسا جارہا ہے، غریبوں کا اس میں بالکل خیال ہی نہیں رکھا گیا، چنانچہ آج دنیا اس نظام سے بھی اوب چکی ہے اوراِس کے خلاف دنیا کے کونے کونے میں آئے دن احتجاج ہورہا ہے۔
ان دونوں کے بیچ اسلام نے جو تیسرا نظام دیا وہ نہایت معقول، معتدل اورانسانی طبیعت سے ہم آہنگ نظام ہے، اسلام نے نہ تو انسان کی اپنی کمائی کو حکومت کی دولت ٹھہرایا کہ سب کواس میں برابر کا حق ملے اورنہ انسان کو اپنی کمائی پر یوں اختیا رکلی دی کہ وہ اس پر سانپ بن کر بیٹھ جائے ۔اسلام نے فطری نظام یہ دیا کہ انسان اپنی محنت سے جو کچھ کماتا ہے وہ اسی کی ملکیت ہے لیکن سماج میں معاشی اعتبار سے جولوگ پچھڑگيے ہیں، ان کوہم نظرانداز نہ کریں، ہمارے مال میں سماج کے غریبوں اورفقیروں کا بھی حق ہے، اس طرح اسلام نے غریبوں کونہ تو نظر اندازکیا اورنہ مالداروں کے مال میں انہیں برابر کا حقدار ٹھہرایا، ہاں !مالداروں کو غریبوں پر خرچ کرنے کا حکم دیا، اوران کے مالوں میں غریبوں کا واجبی حق ٹھہرایا، اللہ پاک نے فرمایا:
 وآتوھم من مال اللہ الذی آتاکم (سورة النور 33) 
"اوراللہ کے مال میں سے تم انہیں دو جو اس نے تمہیں عطا کی ہے" ۔ اگر ہمارا مال نصاب کو پہنچ جارہا ہے تونمازاور روزے کے جیسے ہم پر ضروری ہے کہ اپنے مال میں سے ایک معمولی مقدار غریبوں کے لیے بھی نکالیں …. اسی کو اسلام کی اصطلاح میں زکاة کہاجاتا ہے ۔

مکمل تحریر >>

زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ چھوٹ گیا

آج کون ایسا مسلمان ہے جو یہ دعوی نہ کرتا ہوکہ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے ،لیکن ہمیں کہنے دیاجائے کہان میں سے اكثريت كى یہ محبت ’جذباتی ‘ہے اوربس ،یہ کھوکھلا دعوی ہے جس کے پیچھے کوئی دلیل نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے میں ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اورآپ کے طریقے سے ہٹ چکے ہیں ،عقائد کی طرف دیکھیں تو و ہ پیغمبر جس نے اپنی 23 سالہ زندگی توحید کے اثبات اورشرک کی تردید میں صرف کردی آج اسی پیغمبر کی اطاعت کا دم بھرنے والے مسلمان دن رات مردوں کو مشکل کشا،حاجت روا اور غوث اعظم تصور کرتے ہیں ۔ عبادات کی طرف دیکھیں تو وہ نبی جس نے نماز ،زکاة ،روزہ اورحج کو دین کی بنیاد قرار دیا کلمہ شہادت کے اقرار کے بعد پہلا فریضہ نماز بتایا،آج ہماری اکثریت اسے پامال کرکے اپنی پہچان کھو چکی ہے ۔
اخلاقیات اورمعاملات کی طرف دیکھیں تو وہ نبی جو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجے گئے ،وہ نبی جس نے معاملات کو اصل دین قرار دیا ،آج اسی دین کے نام لیوااخلاقیات اور معاملات کی ایسی پستی میں گرچکے ہیں کہ الاماں والحفیظ ۔ دین کا کوئی ایسا گوشہ نہیں ہے جس میں ہم واقعی اپنے نبی کی تابعداری کررہے ہوں۔ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم پورا جسم زخم آلود ہے ،مرہم کہاں کہاں لگائیں “۔ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ چھوٹ گیا ہے اوراس کی جگہ پر درآمد شدہ قابل تقلیدنمونے کی حیثیت اختیار کرگیاہے ۔
مکمل تحریر >>

بچوں كا پروگرام کے اختتام پرسامعین سے اجازت چاہتے ہوئے کمرکو بالکل جھکا دینا

سوال:

 کہیں کہیں دیکھا جاتا ہے کہ بچے پروگرام کے اختتام پرسامعین سے اجازت چاہتے ہوئے کمرکو بالکل جھکا دیتے ہیں ، کیا اس کی شریعت میں اجازت ہے ؟ 

جواب:

بوقت ملاقات جھک کرسلام کرنا یاکسی پروگرام کے اختتام پر جھک کر سامعین سے اجازت چاہنا جائز نہیں ہے ،اس لیے کہ جھکنے میں عجزونیازمندی کا اظہار ہوتا ہے جو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے نہیں ہوسکتا ۔ مزید یہ کہ اس میں غیرمسلموں کے طریقوں کی مشابہت لازم آتی ہے ۔سنن ترمذی اورابن ماجہ کی صریح روایت میں آیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:
 آدمی اپنے بھائی یا دوست سے ملتا ہے تو کیا اس کے لیے جھکے ،آپ نے فرمایا: نہیں ( اس حدیث کو علامہ البانی اورترمذی نے حسن قرار دیاہے جبکہ اکثر اہل علم نے اس کی تضعیف کی ہے ۔(
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے فرمایا:
سلام کے وقت جھکنا ممنوع ہے جیسا کہ ترمذی کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے پوچھا : ایک آدمی اپنے بھائی سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے لیے جھکے ؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں ۔ (فتیا فی حکم القیام والانحناءوالالقاب لابن تیمیہ ، تحقیق: شیخ ولید بن عبدالرحمن الفریان
دائمی فتوی کمیٹی سے پوچھا گیا کہ ملاقات کے وقت مسلمان کے سرجھکانے کا کیا حکم ہے ؟ تو فتوی کمیٹی کا جواب تھا :
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ سلام کے لیے اپنا سر جھکائے ،چاہے مسلمان کے لیے ایسا کیاجائے یا غیرمسلم کے لیے ،کیونکہ یہ عجمیوںکا طریقہ ہے جو اپنے عظماءکے لیے ایسا کرتے ہیں اوراس میں رکوع سے مشابہت بھی پائی جاتی ہے ،اوررکوع عبادت ہے جو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں ۔(شیخ عبدالعزیز بن باز،شیخ عبدالرزاق عفیفی،شیخ عبداللہ بن غدیان،شیخ عبداللہ بن قعود۔ فتاوی اللجنہ الدائمة 26/116
شیخ محمدبن صالح العثیمین رحمه الله سے پوچھا گیا :بعض لوگ جب اپنے سے کسی اعلی عہدے یا منصب کے مالک سے ملاقات کرتے ہیں تواحترام میں اس کے لیے جھکتے اوراپنے سر کوجھکادیتے ہیں، اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
اس سلسلے میں میری رائے یہ ہے کہ ایسا جائز نہیں ہے، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے، کسی کے لیے جائز نہیں کہ اللہ رب العالمین کے علاوہ کسی غیر کے لیے اپنا کمر جھکائے، مخلوق کے سامنے کمر نہیں جھکا سکتے، اس سے بڑھ کر قباحت کی بات یہ ہے کہ اس کوسجدہ کیاجائے، کیونکہ کسی مخلوق کو احترام اورعجزونیازمندی سے سجدہ کرناشرک ہے جس سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اللہ پاک سے ہم عافیت کا سوال کرتے ہیں، لیکن محض جھکنا حرام ہے، شرک کے درجے تک نہیں پہنچتا ۔ (لقاءالباب المفتوح ،سوال نمبر4)
مکمل تحریر >>